Hijab Novel By Amina Khan – Episode 6

0
حجاب از آمنہ خان – قسط نمبر 6

–**–**–

ایک لڑکا ہے مہرباں سا
لوگوں کی بھیڑ میں انجاں سا
پھولوں میں گلاب سا
ساون میں گھٹا سا
محمّد کا پیروکار سا
حسین ابنِ علی کا لجپال سا
پنج تن کا غلام سا !
اذان کی آواز اس کے کانوں میں پڑی وہ اٹھ کر بیٹھا اور کلمہ پڑھا
کھڑی کھول کر پردے سائیڈ پر کیے اور چلتا ہوا بلکونی میں آیا ٹھنڈی ہوا میں سانس لی
ہاف ٹی شرٹ اور ٹراؤزر میں اسکی رنگت اس وقت اور بھی نکھری ہوئی تھی
اس نے آنکھ بند کی تو اچانک سے دو بڑی بڑی کالی آنکھیں پردے میں لپٹا چہرہ ایک دم آنکھوں کی پیچھے آیا
وہ جھٹکے سے آنکھ کھول کے یہاں وہاں دیکھنے لگا
کل جب وہ یونی میں اپنے پیپرز جمع کروا کے نکلا تھا تبھی اسکی نظر دو لڑکیوں پر پڑی تھی جس میں ایک مکمل حجاب اور دوسری با پردہ تھی
نا جانے اس میں ایسی کیا کشش تھی کے وہ جو لڑکیوں کو دیکھتا تک نہیں تھا اس کی طرف کھنچا چلا جا رہا تھا
الارم کی آواز پر وہ اندر آیا اور موبائل کو بند کیا واشروم میں گھس کر باتھ لیا اور مسجد کے لئے نکل آیا
گھر سے کچھ ہی فاصلے پر مسجد حسین تھی
کیوں کے وہ ایک سید خاندان سے تھا تو اہل بیت سے محبت اسکی اور خاندان کی نرالی تھی
اس پورے علاقے میں انکی مسجد مشہور تھی
وہ آگے کی صف میں کھڑا ہوا اور نماز ادا کر کے کونے میں بیٹھ کر قرآن کھول لیا
اِنَّمَا التَّوۡبَۃُ عَلَی اللّٰہِ لِلَّذِیۡنَ یَعۡمَلُوۡنَ السُّوۡٓءَ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ یَتُوۡبُوۡنَ مِنۡ قَرِیۡبٍ فَاُولٰٓئِکَ یَتُوۡبُ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿۱۷﴾
اللہ تعالٰی صرف انہی لوگوں کی توبہ قبول فرماتا ہے جو بوجہ نادانی کوئی بُرائی کر گُزریں پھر جلد اس سے باز آجائیں اور توبہ کریں تو اللہ تعالٰی بھی اس کی توبہ قبول کرتا ہے ، اللہ تعالٰی بڑے علم والا حکمت والا ہے ۔
اسکی تلاوت نے ایک سحر باندھ دیا تھا وہاں موجود چند لوگ محصور هو گئے تھے تھے اسکی آواز سے
وہ اس آیت میں اللہ‎ کی اپنے بندے سو محبت دیکھ کر مسکرایا
اللہ‎ کتنا مہربان اور خوبصورت ہے
اسکی آنکھ کا کونہ نم ہوا وہ وہ روز کی ایک آیت پڑھتا اور سمجھتا تھا کے اللہ‎ کیا کہنا چاہتا ہے اپنے بندے سے وہ دوسروں کو بھی یہی کہتا تھا
اکثر بات سنتے اور اکثر ہنس کے ٹال دیتے تھے
سورج نکل آیا تھا وہ قرآن پاک رکھ کر گھر کی طرف چل دیا
راستے میں نظر آتے کچھ مانگنے والوں کو دیکھا کر مسکرا کر چپ چاپ انکا ہاتھ بھر کے وہ گھر کے اندر داخل ہوا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کل کا یونیورسٹی کا دِن گھومنے پھرنے میں ہی گزرا تھا ۔
کبھی ایک کلاس میں اور کبھی دوسری میں ۔کبھی ایک ڈیپارٹمنٹ اور کبھی دوسرا ۔ سٹوڈنٹس بلکل نئے تھے اور کالج سے یونیورسٹی میں آئے تھے ۔تو اُنکو سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہاں جانا ہے ۔۔۔۔
ایسے بھی اُنکو یونیورسٹی کا ماحول کالج کے مقابلے میں بہت عجیب لگ رہا تھا ۔۔۔جدھر دیکھتے دو لڑکا لڑکی بیٹھے ہوتے يا گروپ کی صورتِ میں بہت سے لڑکیاں لڑکے آپس میں بیٹھے کچھ پڑھ رہے ہوتے یا بلند آواز میں ققہے لگا رہے ہوتے ۔۔۔۔
زرمینہ کو یہ سب دیکھ لے بہت عجیب لگا ۔۔وہ تو کبھی گھر سے باہر ہی نہیں نکلی تھی ۔اور اچانک سے ایک نئی دنیا ۔اُس کو یہ سب بلکل سمجھ نہیں آ رہا تھا آخر یہ سب ہو کیا رہا ہے ۔۔۔۔
بس وہ فضہ کے ساتھ اِدھر اُدھر چلتی رہی جدھر وہ لے کے جاتی وہ بھی ساتھ ہو لیتی۔ اور نظریں جھکائے بس چلتی رہتی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اسلام علیکم ماں جی”
وہ نماز پڑھ کے سیدھا ماں کے پاس آیا کرتا تھا جو قرآن پاک کھولے اونچی آواز سے تلاوت کر رہی ہوتیں تھیں ۔
ماں جی نے سر ہلاتے ہوئے مسکرا کے آنکھوں سے جواب دیا !!
وہ ابھی تلاوت ہی کر رہی تھیں اور وہ انکے پاس اُن کے پیروں میں زمین میں بیٹھا بڑے پیار سے ماں کی آواز میں تلاوت سن رہا تھا ۔ اُس کو اُس کی ماں سے زیادہ کسی کے منہ سے تلاوت نہیں اچھی لگی تھی ۔۔۔
ماں نے تلاوت مکمل کی قرآن پاک بند کیا دونوں آنکھوں سے باری باری لگایا اور چومتے ہوئے رکھنے لگی ۔۔
“ماں جی مجھے دیں میں رکھتا ہوں قرآن پاک آپ آرام سے یہی بیٹھی رہیں “
وہ جلدی جلدی اٹھا اور قرآن پاک وہی پاس پڑی الماری پہ رکھا اور پھر ماں کے پاس آ کے بیٹھ گیا ۔۔
اب وہ تسبی پہ کچھ پڑھ رہی تھیں ۔ انھوں نے تسبی کو چوما اور پھر بیٹے کے سر پے باری باری پھونکا اور مسکرانے لگی۔ ۔۔
“وجی دیکھو کتنا کمزور ہو گے ہو تم اپنا خیال رکھا کرو ، اتنا کام نہ کیا کرو کہ اپنی صحت ہی بھول جاؤ “
وہ بیٹے کے سر پہ ہاتھ پھیرتے
ہوئے فکر مندی سے کہے جا رہی تھیں !!!!!
توبہ توبہ ماں جی یہ دیکھیں زرا آپ میں کمزور ہو گیا ہوں؟ آپ تو چاہتی ہیں میں بلکل جان سینا بن جاؤں۔ اپنے بازو ماں کو دیکھاتے ہوئے ہسنے لگا۔ ۔۔۔۔وہ ویسے بھی بات بات پہ مسکراتا اور ہستا تھا ۔ اُس کی عادت ہی ایسی تھی۔ ہمیشہ ہسنا اور مسکرانا ۔۔۔اور جب غصّہ آئے تو خود پہ نکال لیا کرتا۔یا اگلے بندے پہ زور دے چیخا کرتا۔۔۔۔
“فاطمہ بیٹا جلدی سے ناشتہ لے آئو بھائی کو یونیورسٹی بھی جانا ہے “
وہ پانچ بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا ۔ ۲ اُس سے بڑی بہنیں تھیں اور ۳ اُس سے چھوٹی ۔۔۔
ساری بہنیں گھر پہ ہی تھیں۔ کسی کی شادی نہیں ہوئی تھی۔ وہ سیدوں سے باہر شادی کر نہیں سکتے تھے۔ اور خاندان میں والد صاحب کسی کو دیتے نہیں تھے۔ اُس کی اکثر بہنوں کی وجہ سے والد صاحب سے بحث ہو جاتی تھی۔ وہ ہمیشہ یہی کہتا تھا بہنوں کی عمر چلی گی تو پھر کون کرے گا اُن سے شادی؟ ۔
وہ لاہور کے رہنے والے تھے ۔ خاندان والوں سے اُن کی بنتی نہیں تھی تو وہ پچھلے ۵ سال سے مانسہرہ آئے تھے اور دھوڑھال میں رہائش پزیر تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج یونیورسٹی کا دوسرا دن تھا آخر کار چل چل کے برا حال ہونے کے بعد اُن کو اپنا ڈیپارٹمنٹ میل ہی گیا تھا ۔۔۔
کلاس شروع ہو چکی تھی ۔
زرمینہ اور فضہ سب سے فرنٹ والی سیٹ پہ کونے میں بیٹھے بیٹھے ۔
“یارا مجھ سے تو نہیں بیٹھے ہوتا پیچھے “
فضہ نے کرسی پہ بیگ رکھتے ہوئے کہا ۔۔
“ہاں آگے بیٹھ کے جو تیر مار لیں گی نا آپ وہ بھی میں دیکھ لوں گی “
انھوں نے سرگوشی والے لہجے میں ایک دوسرے کو کہا ۔۔
کیوں کے مم کلاس میں موجود تھی اور ہاتھ بھاندے سخت انداز میں کھڑی انتظار کر رہی تھیں کے سٹوڈنٹس پورے ہوں اور وہ کلاس شروع کریں ۔۔۔
” Excuse me “
“Can i sit here?”
ان دونوں کے ساتھ والی کرسی خالی تھی ۔
ایک دُبلی پتلی سی لڑکی نے ان دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے کرسی کی طرف اِشارہ کیا ۔
“Yes”
“Sure”
فضہ نے مسکراتے ہوئے بیٹھنے کا کہا ۔۔اور پھر زرمینہ کے کان میں سرگوشی کرنے لگی ۔
“یہ تو ایسے پوچھ رہی ہیں بیٹھنے کے لیے جیسے ہمارے ابا حضور کی یونی ہے “
چپ ہو جاؤ میم ہمیں ہی دیکھ رہی ہیں عینکوں کے نیچے سے ۔۔
So ,
“Students first of all your most welcome in Hazara university”
“Then i want to introduce my self that you people have to know about your subject teacher “
“My name is mam samia”
“I did my matric in MPS”
“Fsc in degree college”
“Then bs in post graduate”
“یار انھوں نے تو آتے ہی پکانا شروع کر لیا ہے ، اردو نہیں آتی ان کو جو نون اسٹاپ انگریزی میں لگی ہوئی ہیں۔ نہیں جاننا ہمیں آپ کے بارے میں یہ لیں ہاتھ جوڑتی ہوں چپ ہو جائیں “
فضہ نے اپنے گود میں رکھے ہاتھوں کو جوڑتے ہوئے اتنے آرام سے کہا کہ زرمینہ کے علاوہ کسی کو آواز نہیں آئی۔۔۔
“فضہ مر جاؤ تم چپ ہو جاؤ میم نے دیکھ لیا تو سچ میں ہاتھ جوڑنے پڑھ جائیں گے “
زرمینہ نے میم کی طرف دیکھتے ہوئے اتنے مہارت سے اُس کو کہا جیسے یہ میں کی بات بہت دیاں سے سن رہی ہے !!!!
“تم تو دفاع ہے ہی ہو جاؤ “
فضہ زرمینہ کو دفاع کر کے اب ساتھ کرسی والی لڑکی کی طرف ہوئی تھی ۔
۔۔۔ چونکہ انہوں نے نقاب لیے ہوئے تھے تو میم کو اندازہ نہیں ہو رہا تھا کے فضہ صاحبہ بول رہی ہیں ۔۔۔
کیا نام ہے آپ کا؟
جی میرا؟
اُس نے اچانک فضہ کی طرف مڑتے ہوئے کہا جو بڑے دہان سے میم کا نا ختم ہونے والا انٹروڈکشن سن رہی تھی ۔۔۔
“My name is tooba “
یہ کہے کر پھر وہ میم کی طرف مڑ گی اور بڑے دھیان سے اُن کی بات سننے لگی ۔۔۔
یہ انٹرو سن کے ہی زولوجسٹ بن جائیں گی اُس نے منہ بناتے ہوئے دل میں کہا اور اپنی کرسی کے ساتھ ٹیک لگا کے پیچھے ہو کے بیٹھ گی ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
وہ دو کلاسز لینے کے بعد بلکل پک چُکے تھے ۔اب اُن کا فری لیسن تھا ۔۔۔وہ ڈیپارٹمنٹ کے باہر گارڈن میں آ کے بیٹھی جدھر وہ دھبلی پتلی سی لڑکی اکلي بیٹھی تھی ۔۔
“یہ تو وہی ہے جو ہمارے ساتھ کلاس میں بیٹھی تھی نا”
ہاں وہی ہے فضہ نے برا سا منہ بنا کے کہا ۔۔۔
وہ دونوں اُس کے پاس گئیں۔۔”آپ یہاں اکیلی کیوں بیٹھی ہیں”
زرمینہ نے بڑے پیار سے اُس کو کہا ۔
جی مجھے اكیلے بیٹھنے کا شوق ہے اُس نے مسکراتے ہوئے کہا اور نیچے دیکھنے لگ گئی ۔۔۔۔
وہ دونوں اُس نے تھوڑا سا دور ہو کے وہی زمین پہ بیٹھ گئیں ۔۔
“کیا ضرورت تھی تمھیں اُس سے بات کرنے کی؟” اُس نے منہ بھی نہیں لگایا نا آگے سے ۔
فضہ نے منہ بناتے ہوئے زرمینہ کو کہا۔ ۔۔۔
” کوئی بات نہیں افت کی پڑیا کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے ہے اکیلے رہنے کی”
“ہوں ہوتی ہو گی”
یار قسم سے کتنے بور ٹیچر ہیں ادھر کے میں تو ایڈمیشن لے کے رو رہی ۔۔۔۔سب نے کتنا پکایا ہے ۔۔۔ابھی ایک کلاس رہتی ہے ۔میں نے سنا ہے کوئی میل ٹیچر ہیں ۔۔۔۔۔یار بس دعا کر زری کمذکم وُہ بندہ کچھ اچھا ہو ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“یہ سر آ کیوں نہیں رہے یارا جی “
کیوں زری صاحبہ تنگ ہو گئی ہیں؟
“یارا پانچ منٹ ہو گئے ابھی بھی نہیں آئے ہیں سر۔میرا دل ایسے ہی بس تنگ ہو رہا ہے عجیب سی بیچینی ہو ہو رہی ہے “
“کیا ہوا زری طبیعت تو ٹھیک ہے نا”
“ہاں یار ٹھیک ہوں چلو نا فضہ کلاس نہیں لیتے “
“کیا کہے رہی ہو تم ؟”
بس یہ لاسٹ کلاس ہے اس کے بعد گھر زری بس تھوڑا سا اور یار ۔آج پہلی ہی کلاس بنک نہیں کر سکتے نا ۔۔۔
“اوئے زری وہ دیکھ “
کیا ہوا؟
اُس نے آنکھیں اور منہ کھولے ہوئے فضہ کو دیکھا ۔جو اُس کو اشارہ کر کے بتا رہی تھی ۔۔۔
اُس نے دروازے سے دوڑ کے آتے ہوئے اُس لڑکے کو دیکھا ۔ جس نے ہاتھ میں موبائل اور دو تین کاغذ پکڑے ہوئے تھے ۔
اُس نے بلیو جینز اور بلیک کوٹ پہنا ہوا تھا ۔اور مسکراتا ہوا کلاس میں آ رہا تھا۔ ۔۔وہ بلیو جینز اور بلیک کوٹ میں انتہاء کا پر کشش لگ رہا تھا ۔اُس کے چہرے پہ چھوٹی چھوٹی داڑھی بہت جج رہی تھی ۔جب بھی وہ مسکراتا تو اُس کا چہرہ کھلکھلا سا جاتا اور داڑھی اور بھی خوبصورت لگتی ۔۔۔۔
“خان صاحب”
زرمینہ نے اُس کو دیکھا اور بے اختیار اُس کے منہ سے نکلا خان صاحب !!!!!!
یارا یہ یہاں کیوں آیا ہے؟
یار جو کل میں نے جو باتیں سنائی تھیں شاید اُس کا بدلہ لینے آیا ہے ۔اور اُس کا وُہ کاغذ یار اففف وُہ بھی تو میں گھر چھوڑ آئی ہُوں ۔۔۔یار میں مری اب بس ۔۔۔
“لیکن فضہ یہ تو دیکھو روسٹر پہ جا رہے ہیں شاید کوئی سینئر ہیں ہمارے کچھ بتانے آئے ہوں گے تم بس چپ کرو اور نیچے دیکھو, کچھ نہیں ہوتا خدا خیر کرے گا”
“اسلام علیکم “
اُس نے ایک نظر سب پہ ڈالی اور مسکراتے ہوئے سلام کیا ۔۔۔اُن کی کلاس میں ۲۰ لڑکیاں اور ۱۵ لڑکے تھے سب نے سوئے ہوئے انداز میں سلام کا جواب دیا ۔۔۔۔لیکن لڑکیاں سامنے کھڑے پر کشش انسان کو دیکھ کے پلک جپکنا بھول گئی تھیں جیسے۔ ۔۔۔
” لگتا ہے آج سب نے آپ لوگوں کو صحیح پکایا ہے ۔ میں بلکل بھی ایسا نہیں کروں گا “
اُس نے ہستے ہوئے اپنا موبائل دیکھا اور کلاس کو کہنے لگا ۔۔۔
بئ مجھے اُتنی ہی انگلش آتی ہے جتنی آپ کو wild life آتی ہے ۔وائلڈ لائف آپ کو کتنی آتی ہے؟
اُس نے سب کو دیکھ کے پوچھا !!!
“کلاس کے کچھ لڑکوں نے جواب دیا جناب تھوڑی سی “
“مجھے بھی انگلش تھوڑی سی ہی آتی ہے جتنی آپ کو wild life “
اُس نے مسکراتے ہوئے اُنکو دیکھ کے کہا ۔۔۔
ابھی بھی کوئی نہیں سمجھا تھا وہ آخر ہے کون ۔۔۔۔
جی تو سٹوڈنٹس آپ سب کو سید وجدان حسین شاہ کی طرف سے خوش آمدید ، مولا آپ سب کو خوش رکھے یہاں اور میرے سبجیکٹ میں پاس ہونے کی توفیق دے “
“میں ہوں آپ کا وائلڈ لائف کا سبجیکٹ ٹیچر سید وجدان حسین شاہ”
آپ لوگ مجھے کسی بھی نام سے پکار سکتے ہیں ۔ لڑکیاں مجھے بہت نام دیتی رہتی ہیں ۔۔۔آپ کو بتاؤں گا جو بھی آپ کو اچھا لگے آپ وہی کہے دینا ۔اُس نے شرارتی سے انداز میں مسکراتے ہوئے کہا ۔۔۔
“اور پھر خود ہی بولا یہ مذاق تھا اچھا سیریز نہیں ہونا”
“ٹیچر “
کلاس میں سے ایک لڑکی فوراً سے بول پڑی جیسے سب کو بہت حیرت ہوئی اُس کو کچھ زیادہ ہی ہوئی تھی ۔۔
“جی جی ٹیچر”
“نہیں لگتا نا میں ٹیچر”
“چھوٹا سا ہوں نا”
اُس نے مسکراتے ہوئے ایک ہے دفع میں اتنے سوال اُس لڑکی سے پوچھ لیے !!!
۔
“وہ ایسا ہی تھا سٹوڈنٹس میں کھڑا ہوتا ہوا سٹوڈنٹ ہی لگتا “بلکہ بعض اوقات سٹوڈنٹس اُس سے بڑے لگتے ۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: