Hijab Novel By Amina Khan – Episode 7

0
حجاب از آمنہ خان – قسط نمبر 7

–**–**–

اُس نے کلاس میں آتے ہی ایک پر سُرور سا ماحول بنا دیا تھا ۔صبح سے جو سارے سٹوڈنٹس تنگ ہو رہے تھے ایک دم سے فریش ہو گے ۔۔۔۔
وہ کلاس میں کھڑا ہوا ٹیچر لگ ہی نہیں رہا تھا ۔۔۔ وہ تو دوستوں کی طرح باتیں کر رہا تھا ، ہسی مذاق ، خود ہسنا دوسروں کو ہسنا ۔
“اگر اُس کو کوئی محفل کی جان کہتا تو کون سا غلط کہتا؟ “
کلاس روم کا ماحول اُس نے اپنی موجودگی سے اتنا خوشگوار بنا دیا تھا کے سب اُس کو ہی دیکھتے رہے ۔۔۔۔وہ ابھی تک روسٹر سے ہٹا نہیں تھا۔ اُس کی کچھ عادت تھی وہ کلاس سے بات کرتے وقت اپنا موبائل دیکھا کرتا۔ ابھی تک اُس نے کلاس میں سب سٹوڈنٹس کو پوری طرح نہیں دیکھا تھا ۔۔۔
“اچھا تو پڑھنا شروع کریں”
“یا گپ شپ ہی ……”
اُس نے بات آدھی چھوڑی اور سب پہ سرسری سی ایک نظر ڈالی ۔ اُس کا انداز ایسا تھا کہ کوئی یہ نہیں کہے سکتا تھا نہیں سر آج بس گپ شپ کرتے ہیں ۔۔ وہ ایک دم سے سنجیدہ ہوا تھا۔ جیسے اُس نے ہسی مذاق بس سٹوڈنٹس کو جاگنے کے لیے ہی کیا ہو۔
“ایک بات میری یاد رکھیے گا “
“میں اسٹڈیز میں کوئی کمپرومائز نہیں کرتا کسی قِسم کا بھی۔ اگر آپ سب نے پاس ہونا ہے تو پڑھنا پڑے گا ۔اور پڑھنے کے لیے کلاس میں سیریز ہونا پڑے گا۔ ہاں گپ شپ ہم ساتھ ساتھ لگاتے ہی رہیں گے “
“اُس کے سنجیدہ ہوتے ہوئے چہرے پہ ایک بار پھر سے مسکراہٹ آئی اور وہ مسکراتے چہرے کے ساتھ بولتا رہا۔ سٹوڈنٹس کو پتا چل ہی گیا تھا۔ سید وجدان حسین شاہ کے مسکراتے چہرے پہ جائیں گے تو بہت بڑا نقصان اٹھائیں گے۔ ۔۔اُن کو پڑھنا پڑے گا۔ اور دوسرے سبجکٹس کے مقابلے میں زیادہ پڑھنا پڑھے گا ۔۔۔
آدھا وقت تو آپ لوگوں کی باتوں میں ہی گزر گیا ہے۔ تھوڑا بولا کرو یار۔ اُس نے شرارتی سے انداز میں ہاتھوں میں پکڑے کاغذ اوپر نیچے کی۔ ۔۔۔۔
“جی تو سٹوڈنٹس اب اٹنڈنس لگوا لیں”
“جس کا بھی میں نام بولوں وُہ اپنا ہاتھ اوپر کرے گا “
“ٹھیک ہے نا”
“نہیں ٹھیک اللہ جی نہیں ٹھیک “
فضہ نے نظریں نیچے کر کے خوفزدہ سے آرام سے بولا ۔۔۔۔
“تمھیں کس نے بولا تھا تم پنگے لو ۔ اب دیکھنا ہمیں پورا سیمسٹر بکتنا پڑے گا “
زرمینہ نے فضہ کو دیکھتے ہوئے خود بھی کافی پریشانی کے عالم میں اُس کو کہا ۔۔
“مجھے کیا پتہ تھا یہ سید وجدان حسین شاہ ہمارا ٹیچر ہو گا “
” اللہ جی بس آج بچا لینا پلیز”
رول نمبر ون “مدثر” :
Present sir
رول نمبر ۲ ” وجیہہ”
“Present sir”
وہ باری باری سب سٹوڈنٹس کے نام اور رول نمبر بولتا ہوا اُنکو دیکھ رہا تھا۔ اُس کا حافظہ بہت کمال کا تھا ایک نام جب ایک دفعہ سن لے تو کبھی نہیں بھولتا تھا۔ تب ہی وہ ساتھ ساتھ سٹوڈنٹس کو دیکھ رہا تھا تاکہ وہ اُس کو یاد رہیں ۔۔۔
“رول نمبر ۱۲ “
اُس نے مسکراتے ہوئے رول نومبر کے بعد نظریں اوپر کیں وہ نام لینے ہی والا تھا کہ زرمینہ نے اپنا ہاتھ اوپر کیا ۔اور جھکی ہوئی نظروں سے پرسنٹ سر بولا”
وہ حجاب میں لڑکی ، وہی سفید چادر کیے ہوئے. اُس کے بلکل سامنے تھی جس کا عکس اُس کو کل سے ہر جگہ نظر آ رہا تھا ۔۔۔وہی خوبصورت آنکھیں جس کو اُس نے بس ایک لمحے کو دیکھا تھا ۔وُہ شاید اُن آنکھوں کو دوسری نظر کبھی دیکھ بھی نہیں سکتا۔
۔۔اُس نے بس ایک لمحہ صرف ایک لمحہ اُس کو دیکھا ، اُس کو لگا وہ سانس لینا بھول جائے گا ۔یہ تو وہ بھول ہی گیا تھا وہ کدھر کھڑا ہے۔
اُس کے ہاتھ سے بے اختیار پین نیچے گرا اور وہ اچانک سے چونکا۔۔۔
“یا اللہ یہ کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ مجھ پہ رحم کر میرے مالک”
اُس نے ایک لمحے کو اپنی آنکھیں بند کی اور دل ہی دل میں دعا مانگی۔
اُس کو لگ رہا تھا وہ اب مزید وہاں نہیں روک سکے گا۔ مزید کچھ بول نہیں سکے گا ۔اُس کے دل کی دھڑکن روکنے لگی تھی ۔۔۔ماتھے پہ پسینہ سامنے نظر آ رہا تھا۔ اُس کو لگا جیسے اُس کے دل کو کسی نے پکڑ کے زور سے دبایا ہے ۔کسی نے اُس کے دل کو اپنی مٹھی میں زور سے پکڑ لیا ہے اُس کی گرفت اتنے مضبوط ہے کے وہ چاہ کے بھی اب کچھ نہیں کر سکے گا۔وہ چاہ کے بھی خود کو آزاد نہیں کر سکے گا ۔
۔ سٹوڈنٹس آپس میں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے یہ اچانک سر کو کیا ہو گیا ہے ۔
۔اُس کا رنگ بلکل بلکل اُڈ چکا تھا ۔ کچھ دیر پہلے کا کھلکھلا تا چہرہ بلکل بھوج چکا تھا ۔۔۔مسکراہٹ کی جگہ چہرے پہ پسینہ نے گھر کر لیا تھا ۔۔
Sir are you allright ?
مدثر نے اُس کی حالت دیکھتے ہوئے اُس سے کھڑے ہو کے پوچھا ۔۔
اُس کی آواز پہ وہ ایک دم سے اُس خسار سے باہر آیا ۔۔۔۔
“Yes I am allright”
ان کچھ لمحوں کا تسلسل ٹوٹا وہ ہوش کی دنیا میں آیا ۔۔
خود کو سمبلانے کی کوشش کی
خود کو نارمل کیا
اُس نے پھر سے ایک دفعہ رول نمبر ۱۲ بولا ۔
۔اُس نے رول نمر ۱۲ تو بولا تھا مگر اُس کے آگے نام بولنے کی اُس کی ہمت نہیں ہوئی۔
بغیر اُس کا نام بولے وہ رول نمبر ۱۳ پہ گیا اور بغیر کسی کو دیکھے اتنڈنس لگاتا رہا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر آتے ہی وہ اپنے کمرے میں گیا ، لپٹوپ کا بیگ چھوڑا ، ہاتھ سے گھڑی اُتاری ۔ بیڈ پہ بیٹھ کے جوتے اُتارے اور وہیں پہ خود کو پیچھے کیا ٹانگیں بیڈ سے نیچے کر کے لیٹ گیا ۔
اُس کو لگا جیسے آج وہ بہت تھکا ہے ، اُس نے بہت زیادہ کام کیا ہے۔۔اُس نے اپنی آنکھیں بند کیں ۔بازوں آنکھوں پہ رکھا ۔۔۔
آنکھیں بند کرتے ہی حجاب والی صورت کا سراپا اُس کے سامنے گھوما !!!!
وہ فوراً اٹھ کے بیٹھا !!
“یا اللہ یہ کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ”
“میں نے زندگی میں اتنی لڑکیوں سے بات کی ہے کیسی کی صورت میرے سامنے نہیں آئی ، پھر یہی لڑکی کیوں ؟ آخر کیا تعلق ہے میرا اس سے ؟ کون ہے یہ لڑکی ؟ یا خدا مجھ پہ رحم کر ۔میں نہیں چاہتا کہ وہ لڑکی میرے ذہن پہ سوار ہو جائے”
وہ اٹھا اور جلدی جلدی وضو کیا ۔ نماز پڑھنے کھڑا ہوا ۔بار بار اُس لڑکی کا نقاب والا چہرہ اُس کے سامنے آتا۔ بار بار نماز توڑتا اور پھر پڑتا۔
اتنی کوششوں کے بعد بھی وہ آنکھیں اُس کے سامنے سے نہیں ہٹیں ۔۔۔
“کون ہو تم آخر کون ہو تم جو اب میری نمازوں میں بھی آنے لگی ہو ؟” ۔
“اُس نے جنجلاتے ہوئے کہا ۔۔۔
ایسا کیسے ہو سکتا ہے صرف ایک بار دیکھنے سے فقط ایک لمحے کی ملاقات سے کوئی کسی کے ذہن پہ کیسے سوار ہو سکتا ہے . جب کے وہ لڑکی میری سٹوڈنٹ ہے “
“یا اللہ میں کیا کروں گا ؟ یہ کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ”
نماز میں ناکامی کے بعد اُس نے قرآن پاک کھولا اُس نے سوچا وہ قرآن پاک میں مگن ہو گا تو شاید وہ لڑکی اُس کے ذہن سے ہٹ جائے ،
اُس نے قرآن پاک کھولا اور پڑھنا شروع کیا۔
وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ وَاَنَّ اللّٰهَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ ۞
ترجمہ:
اگر اللہ کا فضل اور اس کا رحم و کرم تم پر نہ ہوتا اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بڑا شفیق و رحیم ہے (تو یہ چیز جو ابھی تمہارے اندر پھیلائی گئی تھی بدترین نتائج دکھا دیتی)
القرآن – سورۃ نمبر 24 النور – آیت نمبر 20
، وہ ہمیشہ قرآن پاک سمجھ کے پڑھتا تھا ۔آج اُس نے آیت پڑھی پھر ترجمہ پڑھا ۔۔۔
اور آنکھیں بند کر لی۔ جیسے وہ اس آیت کا مطلب سمجھ رہا ہو ، وہ سمجھنا چاہتا ہو خدا نے کیا کہا ہے ۔
۔جیسے ہی اُس نے آنکھیں بند کیں وہ حجاب والی صورت پھر سے اُس کے سامنے آئی۔ وہ فوراً آگے ہوا آنکھیں کھولی ۔اور پھر سے پڑھنے لگا۔
ایک بار پھر ایسا ہوا !!!! ۔
اس وقت وہ بری طرح سے ہار گیا تھا ۔۔۔
“یا اللہ مجھ پہ رحم فرما “
اُس نے اوپر دیکھا اور اپنی کپکپاتی آواز سے آنسوں لیے دعا کرتا رہا۔ ۔
“یا اللہ مجھ پہ رحم فرما “
“میرے دل سے یہ بوجھ ہٹا لے ، میں تیرا کمزور سا بندہ اتنا بھوج اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتا ،میں ایک پاکیزہ لڑکی کو اپنی آنکھوں میں نہیں رکھنا چاہتا ،وہ میرے خیالوں میں کیوں آتی ہے۔ اُس کا حجاب میں لپٹا چہرہ مجھے کیوں پریشان کرتا ہے ۔۔
یا خدا میں اُس قابل نہیں ہوں وہ مجھے دکھائی دے ۔ مجھ پہ اپنا رحم کر ۔۔”
اب وہ باقاعدہ بچوں کی طرح روتے ہوئے اللہ کے سامنے گھڑگھڑانے لگا ۔اور وہیں زمین پہ لیٹ گیا ۔جیسے کوئی روگ لگا ہو ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔
“زرمینہ گل پڑھائی کیسی جا رہی ہے تھماری “
کھانے کے دستر خوان پے بابا جان نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا !!!!!
وہ سب کھانا ساتھ ایک دستر خوان پہ کھاتے تھے۔ اگر ایک بندہ بھی لیٹ ہو جائے تو اُس کا بھی انتظار ہوتا تھا ۔
امی اور زرمینہ ایک پلیٹ میں کھاتے ، دونوں بھائی ایک پلیٹ میں اور بابا جان کے لیے الگ پلیٹ میں۔ اور دادی اماں اپنے تخت پوش پہ ہی کھاتی تھیں ۔۔
“جی بابا جان پڑھائی اچھی جا رہی ہے میری “
یہی وقت ہوتا تھا جب سارے بچے اپنے باپ کے سامنے بیٹھتے تھے ۔ورنہ تو وہ اُن کے سامنے بھی نہیں آتے تھے۔ ۔۔یہ نہیں ہے کے ابراہیم صاحب بہت سخت تھے ۔۔۔بس بچوں میں اور اُن میں لحاظ کی ایک بہت بڑی دیوار تھی ۔اُن کو بہت برے لگتی تھیں وہ اولادیں جن کو پتا ہی نہ ہو یہ جو سامنے بیٹھا ہے یہ ہمارا باپ ہے ۔
اُن کو شدید نفرت تھی اُن بچوں سے جن کے سامنے ماں باپ بیٹھے ہوں اور وہ مسلسل موبائل میں لگے ہوں ۔۔۔۔
تب ہی وہ اپنی اولاد کو اتنا سر پہ نہیں چھڑاتے کہ اُنکو پتا ہو سامنے بیٹھا شخص ہمارا باپ ہے ۔
“سلطان بہن کو تم ہی لے کے جاتے ہو نا؟”
اب وہ بیٹے سے مخاطب ہوئے تھے !!!!
“جی بابا جان لے کے بھی جاتا ہوں اور واپسی پہ لے کے بھی میں ہی آتا ہوں”
“ٹھیک ہے “
“رقیہ بیگم آج کھانے کے بعد حلوہ بنانا ہے “
بیوی کو بول کے وہ اٹھ کے چلے گئے ۔۔۔
اور اس کے بعد سب اُٹھتے گے۔ اُن کا اصول تھا جب تک باپ دستر خوان پہ موجود ہے کوئی دوسرا پہلے نہیں اٹھے گا !!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آج پوری رات نہیں سویا تھا ، رات اُس کی یوں ہی جاگتے ہوئے گزری ۔اُس کو لگا وہ اگر ایک دفعہ اور اُس لڑکی کو دیکھے گا تو پاگل ہو جائے گا ۔
وہ کبھی بیٹھ جاتا کبھی ٹہلنے لگتا۔ ۔اور کبھی کھڑکی کے پاس جا کے کھڑا ہو جاتا۔
اب کی بار وہ بیڈ پہ لیٹا اور پکا ارادہ کیا اب بس وہ سوئے گا ۔۔۔
اُس نے آنکھیں بند کیں ۔اُس لڑکی کا سراپا پھر آنکھوں کے سامنے گھوما ۔مگر اُس نے آنکھیں نہیں کھولیں ۔
اب کی بار وہ اسکو خود سوچنے لگا تھا !!!
اُس کی خوبصورت آنکھیں اب اُس کو پریشان نہیں کر رہی تھیں ۔ اُس کا ذہن پر سکون ہوا تھا ۔
ایک لڑکی کے پیچھے کھڑی ہوئی وی ، چہرے پہ نقاب لیا ہوا ۔حجاب ایسے لیا ہوا کے بس آنکھیں ہی نظر آئیں ۔کندھوں پہ سفید چادر ۔مسلسل دوسری کا بازوں دباتے ہوئے ۔ڈری ہوئی آنکھیں ۔ جُھکی ہوئی نظریں۔
وہ کیسی آنکھیں تھیں۔ جو مجھے ایک لمحہ میں اپنا اسیر کر گئیں۔
اُس کو لگا وہ شہزادی ہے کوئی ۔وہ اس دنیا کی ہے ہی نہیں ۔ اُس نے اتنی خوبصورت اتنی حسین لڑکیاں دیکھی ہیں ۔۔مگر حجاب والی سے حسین آج تک اُس نے کوئی لڑکی نہیں دیکھی۔ ۔۔
“یہ کیا سوچ رہا ہے تو وجدان “
وہ اٹھ کے اچانک سے بیٹھا ۔
“تو ایک پاکیزہ لڑکی کو سوچ بھی کیسے سکتا ہے “
“تو اس قابل ہے کے تو اُس کو سوچے تیرا ماضی۔۔۔۔۔۔۔”
“خود کو اُس کی پاکیزگی سے دور رکھ ۔۔۔۔مت سوچ اُس کو” ۔اُس کا ضمیر اُس کو جنجوڑنے لگا ۔ وُہ ایک دم اٹھا ۔۔۔اُس کو لگا وہ مزید ایسے ہی بیٹھا تو پاگل ہو جائے گا ۔۔۔۔
“میں نہیں سوچنا چاہتا تمھیں مت ائو میرے خالیوں میں مت تنگ کرو مجھے۔ بخش دو مجھے “
اُس نے اپنا سر اپنی ہتھیلیوں پے رکھا اور خود سے باتیں کرنے لگا ۔
اُس نے گھڑی پہ ٹائم دیکھا ۔
۲:۳۴ منٹ ہوئے تھے ۔۔۔وہ اٹھا لپتوپ کھولا اور کام کرنے لگ گیا ۔ وہ خود کو مصروف رکھنا چاہتا تھا تا کے وہ لڑکی اب اُس کے خیالوں میں نہ آے۔
اُس نے سوچ لیا تھا کل اُس نے کیا کرنا ہے کیسے اُس لڑکی کے خیالوں سے پیچھا چھڑانا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“Excuse me sir”
Can I enter”
وہ آج اپنے معمول سے جلدی یونیورسٹی آیا تھا ۔ اور سیدھا پرنسپل کے آفس آیا ۔۔
“جی جی وجدان تشریف لائے”
“خیریت تو ہے نا آج صبح صبح میرے آفس آپ “
“جی سر سب خیریت ہے “
وہی مخصوص انداز میں مسکرا کے اُس نے پرنسپل کی خیرت کا جواب دیا ۔۔۔مگر اب وجدان حسین شاہ کی آنکھیں اُس کی مسکراہٹ کا ساتھ نہیں دیتی تھیں ۔۔۔۔وہ پوری رات نہیں سویا تھا ۔اُس نے سوچ لیا تھا صبح ہوتے ہی وہ پرنسپل کے پاس جائے گا ۔۔۔۔
“سر مجھے ایک ریکویسٹ کرنی ہے آپ سے “
“جی وجدان بولیے “
“سر اکچلّی میں فرسٹ سیمسٹر زولوجی کے سٹوڈنٹس کی کلاس نہیں لینا چاہتا “
“کیوں وجدان کیا ہوا ہے کیوں نہیں لینا چاہتے آپ”
اُن کو دوسری بار وہ حیران کر رہا تھا ۔ایک بار صبح صبح اُن کے آفس آ کے اور ایک بار اب ۔
“آپ تو بہت شوق سے نیو سٹوڈنٹس کی کلاس لیتے تھے اور سٹوڈنٹس بھی ہمیشہ آپ سے ہی اٹیچڑ رہے ہیں ۔ تو اب پھر کیا ہوا کے آپ کلاس نہیں لینا چاہتے”
“وہ اب اُن کو کیا بتاتا وہ کیوں کلاس نہیں لینا چاہتا ، وہ خود کو کیوں دور رکھنا چاہتا ہے ۔ وہ کس اذیت میں ہے “
وہ اب اپنی نظریں جُھکا کے بات کرتا تھا اُس کو ڈر تھا کہیں اُس کی آنکھوں میں وہ حجاب والا چہرہ کوئی دیکھ نا لے!!!!!!
آج وہ وجدان کا ایک الگ روپ دیکھ رہے تھے جیسے اُس کا چہرہ پڑھنے کی کوشش کر رہے ہوں ۔یہ وہ وجدان تو ہے ہی نہیں جو کل تک تھا !!!!
انھوں نے غور سے اُس کو دیکھا جیسے وہ ڈر رہا ہو جیسے بہت بڑی پریشانی میں ایک دم آ گیا ہو۔
وجدان آپ کو پتہ ہے میں آپ کو اپنی فیکلٹی کے ممبر کی حثیت سے نہیں لیتا۔ آپ مجھے میرے بیٹوں کی طرح عزیز ہیں۔ آپ کی کوئی بات میں نہیں ٹّال سکتا۔
مگر آپ خود سوچیں ابھی ہی سٹوڈنٹس آئے ہیں اور ہم اُن کو ایک دم سے نیو ٹیچر کیسے دے سکتے ہیں۔ فرسٹ سیمسٹر میں آپ کی کلاس رکھنے کا مقصد ہی یہ ہے کہ سٹوڈنٹس ایک دم آپ سے اتیچڑ ہو جاتے ہیں اور ہمیں آگے چل کے سٹوڈنٹس کی طرف سے جو بھی مسئلہ ہو۔ آپ باسانی اُس کو حل کر لیتے ہے۔ کیوں کے سٹوڈنٹس آپ کی عزت ہی اتنی کرتے ہیں۔ جہاں پے آپ سٹوڈنٹس کو سمجھتے ہیں وہاں کوئی نیو ٹیچر نہیں سمجھے گا۔ مجھے پتا ہے ایک کلاس لینے سے ہی آپ نے سٹوڈنٹس کے دل میں اپنے لیے ایک خاص جگہ بنا لی ہو گی۔ ۔۔
“آپ بس ایک مہینہ میرے کہنے پے کلاس لے لیں پھر بیشک چھوڑ دیں”
یہ آخری بات بس انھوں نے اُس کو ٹالنے کے لیے کہی تھی اُن کو پتا تھا وہ ایک مہینے بعد خود ہی اپنے سٹوڈنٹس سے اتنا اٹیچید ہو جائے گا کے میرے کہنے پہ بھی کلاس نہیں چھوڑے گا اور نہ ہی اُس کے سٹوڈنٹس اُس کو کلاس چھوڑنے دیں گے۔!!!!!!!
وہ خاموشی سے نظریں جھکائے اُن کی باتیں سنتا رہا۔ اور پھر اٹھ کے باہر آ گیا ۔اُس کے دل پہ اب پہلے سے زیادہ بوجھ ہونے لگا تھا۔ اُن نے تو سوچا تھا وہ دور رہے گا اُس لڑکی سے تو وہ اُس کے خیالوں میں بھی بھی ائے گی مگر اب۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: