Hijab Novel By Amina Khan – Episode 8

0
حجاب از آمنہ خان – قسط نمبر 8

–**–**–

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حجاب سے شروع ہونے والی محبت کی ایک عجیب داستان
ایسی داستان جو کہیں سنی نا هو
ایک لڑکا جو سید خاندان سے ہے
اور ایک لڑکی جو پٹھان ہے
حقیقت پر منبی کم عمر محبت کی خوبصورت داستان
آمنہ خان کے قلم سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“زرمینہ خان آپ کے نام میں ایسا کیا جادو ہے جو سر آپ کے نام پہ آ کے روک گے “
ہانیہ نے کلاس میں کھڑے ہو کے سب کے سامنے زرمینہ کو کہا ۔ وہ سید وجدان سے بہت زیادہ متاثر ہوئی تھی. تو وہ کیسے برداشت کر سکتی تھی وجدان کسی اور کی طرف متوجہ ہو ۔سب ایک دم ہانیہ کی طرف متوجہ ہوئے جو زرمینہ سے چبنے والے انداز میں پوچھ رہی تھی۔
۔
زرمینہ نے ایک دم سے چونک کے اُس کی طرف دیکھا , جیسے اُس کو یقین ہی نہیں ہوا وہ اُس کو کہے رہی ہے ۔اُس کا اس معاملے سے کیا تعلق تھا۔
یہ بات تو کلاس میں بیٹھے سب نے ہی بہت اچھے سے نوٹ کی تھی کہ زرمینہ کے نام پہ آتے ہی سر روک گے تھے ۔اور اُس کے بعد اُن کے چہرے کے بدلتے تاثر ۔۔۔۔۔ سب نے ہی دیکھا تھا ۔۔۔
“کیوں زرمینہ کے نام کے ساتھ کل کے سر کے بہویور کا کیا تعلق”
زرمینہ کے پاس بیٹھی فضہ ایک دم بولی تھی !!
اُس کا انداز ایسا تھا جیسے اُس کو کہے رہی ہو اپنی بکواس کہیں اور جا کے کرو ۔
۔
“فضہ آپ کو کیا مسئلہ ہے ؟”
“میں زرمینہ سے بات کر رہی ہوں آپ سے تو نہیں کر رہی جو آپ کو اتنی تکلیف ہو رہی ہے “
“بہن آپ مجھ سے بات کر بھی نہیں سکتی ہیں , لہٰذا آپ یہاں سے تشریف لے کے جائیں اور جب سر آ جائیں کلاس میں تو اُن سے پوچھ لیجیے گا خود”
“فضہ چھوڑو نا کیوں بحث کرتی ہو ایسی لڑکیوں سے “
زرمینہ نے فضہ کو کہتے ہوئے بہت غور سے پاس کھڑی ہانیہ کی طرف دیکھا ۔۔
What ?
“What do you mean by this miss zarmeena Khan Swati sahaiba ? “
“مطلب کیا ہے تمہارا اس بات سے کہ ایسی لڑکیاں”؟
اب کی بار ہانیہ اتنے زور سے چلائی تھی جو نہیں بھی اُن کی طرف متوجہ تھا وہ بھی اُن لوگوں کو دیکھنے لگا !!!!!!
“اپنی آواز نیچے کر کے بات کریں ہانیہ “
اس سے پہلے کہ فضہ کچھ کہتی پچھلی کرسی پہ بیٹھی ماہ نور ایک دم سے بول گی ۔۔۔
“کتنا پے کرتی ہے زرمینہ آپ لوگوں کو اس کی جگہ بولنے کا ؟”
ارم نے عجیب سے انداز میں مسکراتے ہوئے ماہ نور کو دیکھا ۔۔۔
ویسے تو وہ کسی سے نہیں بولتی تھی آج کیسے وہ اس زرمینہ کے لیے بولی ہے ۔
اُس نے دل ہی دل میں کہا اور ماہ نور کو ایسے انداز میں دیکھنے لگی جیسے اُس کو کہے رہی ہو میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں ۔۔۔
۔
“یار کیوں کلاس کا ماحول خراب کر رہے ہو آپ لوگ “
سامنے بیٹھا مدثر کافی ٹائم سے اُن لوگوں کو سن رہا تھا اور بولے بغیر نا رہے سکا !!!!!!
“کل کل تو ائے ہیں ہم لوگ اور آج لڑائیاں شروع کر دیں ،یہ لڑکیاں بھی نا توبہ “
“آپ لوگوں کو جو بھی مسئلہ ہے آپ سر وجدان کی کلاس میں ہی ڈسکس کیجے گا ۔صبح سے میم ناتشا نے کافی دماغ کی دہی بنا رکھی ہے “
“مدثر آپ سے کسی نے بات نہیں کی آپ اپنے کام سے کام رکھیں “
“ہنیہ صاحبہ آپ پھر باہر جا کے تو تو میں میں کریں پلیز “
“باتمیز انسان پتا نہیں کیسے کیسے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کے پڑھنا پڑھے گا “
!!!
“ہم جیسے خوبصورت اور ہینڈسم لوگوں کے ساتھ پڑھنے کا شرف مل رہا ہے آپ کو ہانیہ صاحبہ “
مدثر نے شوخے سے انداز میں اُس کو دیکھتے ہوئے کہا !!!!!
“Huh handsome my foot “
“کچھ زیادہ ہی خوش فہیاں پال رکھی ہیں آپ نے ” ۔
اب وہ زرمینہ کو بھول کے مدثر پہ برس رہی تھی اور وہ بھی مسکراتا ہوا سن رہا تھا۔
“خوش فہیاں تو لڑکیوں کو ہوتی ہیں ، جیسے کے آپ کو “
“میرے منہ نا لگنا پلیز ورنہ منہ کی کھانی پڑے گی”
اُس نے غصے سے لال ہوتے ہوئے مدثر کو اپنی انگلی کے اشارے سے کہا۔
“ہائے آپ کھلائیں گی تو شوق سے کھا لیں گے ہم “
اُس نے پھر سے شوخے سے انداز میں اپنے دل پہ ہاتھ رکھتے ہوئے اُس کو کہا !!!!!
اب کی بار ہانیہ کی برداشت جواب دے گئی تھی !
اُس نے مزید بحث کرنے کے بجائے اپنا بیگ اٹھایا اور ارم کو ساتھ لیے باہر چلی گئی۔
“۔شرما گئی پگلی”
مدثر نے اُس کو جاتے ہوئے دیکھا اور مسکراتا ہوا بولا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جس کلاس میں بھی آج جاتا سب کو حیران کرتا ۔ہر کوئی اُس کی بات کر رہا ہوتا کیا ہو گیا ہے سر کو۔
“آج وہ بس یہی سوچتا رہا وہ کیسے لے گا وہ کلاس وہ کیسے دیکھے گا اُس لڑکی کو , وہ اُس کو اپنے سامنے بیٹھے دیکھ کے کیا وہ کچھ بول سکے گا ۔۔؟”
“یا اللہ میں بس تُجھ سے رحم کی دعا مانگتا ہوں “
اُس نے فورتھ سیمسٹر کے سٹوڈنٹس کی کلاس میں کھڑے ہوتے ہوئے اللہ سے رحم مانگا تھا۔
آج سارے سٹوڈنٹس اُس کو دیکھ رہے تھے اور پھر آپس میں ایک دوسرے کو دیکھتے اور آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارے کرتے !!! “کیا ہوا ہے آج شاہ صاحب کو “
اکثر سٹوڈنٹس اُس کو شاہ صاحب کہے کر بلاتے تھے !!!!
“آج تو سر نے اپنا ریکارڈ خود ہی بریک کر دیا “
“دو سالوں میں پہلی دفعہ ایسا ہوا ہے جناب کے چہرے پہ مسکراہٹ غائب ہے ، ورنہ ایسا تو کبھی نہیں ہوا سر مسکرائے نا ہوں”
۔
مریم اور نمرہ آپس میں سر کو دیکھ کے باتیں کرنے لگیں ۔۔۔خیر آج بات تو ہر طرف اُس ہی کی ہو رہی تھی ۔۔۔
ہر طرف سید وجدان حسین شاہ کے ہی تبصرے تھے ، چاہے وہ کینٹین ہو لائبریری ہو گراؤنڈ ہو یا کوئی کلاس !!!!؛
جن جن کلاسوں کو وہ پڑھاتا تھا آج سب کو اس نے باتوں کے لیے ایک موضوع دے دیا تھا ۔۔۔خیر بات تو ہمیشہ اُس پہ ہوتی تھی ، ہر لڑکی دوسری لڑکی سے وجدان حسین شاہ کو ڈسکس کر رہی ہوتی تھی ۔کبھی اُس کے کپڑے ،اُس کو ہیئر اسٹائل ، وہ کسی لڑکی کے ساتھ کھڑا ہو جاتا اُس کو ڈسکس ۔۔۔۔۔۔۔
مگر آج موضوع الگ تھا ۔۔۔۔ آج سب کو یہ پریشانی تھی آخر ایک دن میں کیا ہوا ہے جو سر وجدان مسکرانا بھول گئے ہیں ۔
………………………………….
“یار ہماری کلاس کا ماحول مجھے بلکل نہیں اچھا لگتا “
کیوں نہیں اچھا لگتا؟
اُس لڑکی کی وجہ سے کہے رہی ہو نا تم؟
یار وہ لڑکی کیا چیز ہے اُس نے کیسے سب کے سامنے مجھے پوائنٹ آؤٹ کیا۔ میرا کیا لینا دینا سر کی مسکراہٹ سے یا اُن کے رونے سے ۔
زرمینہ شدید غصے کی حالت میں بولی جا رہی تھی۔ کلاس میں بس وہ خود کو ظاہر نہیں کرنا چاہتی تب ہی خاموش رہی تھی ۔ مگر باہر آ کے اب وہ اپنے دل کی بھڑاس نکال رہی تھی جو کے بڑے شرافت سے فضہ سن رہی تھی۔
۔
“سر قمر کو دیکھو ذرا ۔ اُن کی کلاس میں تو ڈسپلن نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی ۔اگر کوئی لڑکی بات کرتی ہے تو لڑکا جواب دینا اپنا فرض سمجھتا ہے , فضہ میں تنگ ہوتی ہوں بہت بس”
“بہن اب تو آپ کو برداشت کرنا ہی پڑھے گا نا اب ہم سب کی زبانیں تو نہیں کاٹ سکتے نا زمینہ گل صاحبہ کے لیے “
۔
“اور اُس لڑکی کے سامنے محترمہ کی زبان نہیں کھول رہی تھی اور یہاں میرے سامنے زبان بند نہیں ہو رہی”
۔
“فضہ مر جاؤ تم بس “
اس نے اُس کا ہاتھ چھوڑا اور اُس کے آگے چلنے لگی ۔
وہ ہمیشہ ہی کلاس لینے کے بعد باہر ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے چلا کرتی تھیں ۔اور ادھر اُدھر کے لوگوں پے بات بھی کر لیا کرتی تھیں۔ اور پھر اچانک یاد آتا تو کانوں کو ہاتھ لگتی اللہ جی سوری ہم تو بس ایسے ہی بات کر رہے تھے ۔just for time pas
اور پھر خود ہی مسکرا دیا کرتی تھیں !!!!
۔
“ویسے زری بات تو وہ ہانیہ نے ٹھیک کہی ہے ۔۔کل خان صاحب آپ کو دیکھ کے کیسے چپ ہو گے تھے “
“کہیں آپ کی نشیلی آنکھوں پے فدا تو نہیں ہو گے ۔۔۔”
اُس نے زرمینہ کو غصے میں دیکھ کے تنگ کرنے والے انداز میں کہا ۔۔
“فضہ مار نا کھا لینا اب تم مجھ سے اچھا “
اُس کا چہرہ بلکل سرخ ہونے لگا اور آنکھوں میں عجیب سی بےچینی صاف صاف دکھائی دینے لگی !!!!
ارے بابا مذاق کر رہی ہوں تم تو سیریز ہی ہو گئی ۔
“دفاع ہو جاؤ تم ، یہ کوئی مذاق والی بات تھی ؟ “
“ہاں تو اور کون سی بات تھی”
“شرم کر لیا کرو تھوڑی سی”
اُس نے فضہ کو ناراضگی سے دیکھتے ہوئے کہا !!!!
شرم؟
وہ کیا ہوتی ہے؟
فضہ !!!!!!
اُس نے فضہ کو پھر سے غصے سے دیکھا ۔
ہاں تو صحیح کہے رہی ہوں نا تم شرم کو ڈیفائن کرو ،شرم کرنے کا کام آگے میرا ہے پھر!!
فضہ نے مسکراتے ہوئے کہا ۔اُس کو پتا تھا وہ تنگ ہو رہی ہے۔ اور ایسا کیسے ہو سکتا تھا کے فضہ صاحبہ ایسا سہنری موقع ہاتھ سے جانیں دیں ۔۔۔
“بس بات نا کرنا مجھ سے تم”
۔اُس نے ناراض ہوتے ہوئے کہا اور آگے آگے چلنے لگی ۔۔
۔
زری سنو نا!!!!!!!
چلو خان صاحب کی کلاس کا ٹائم ہونے والا ہے ۔یہ نہ ہو کلاس میں اندر چھوڑنے کے بجائے باہر ہی کھڑا کروا دیں آپ کے خان صاحب ۔۔۔
موت پڑے تم پے فضہ !!!!!!!😠
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔
امی آپ نے نوٹ کیا ہے وجی کل سے کچھ پریشان سا ہے۔ صبح ناشتہ بھی صحیح سے نہیں کیا۔ اور آنکھیں بھی سوجی ہوئی تھیں ۔جیسے پوری رات ایک سیکنڈ بھی نا سویا ہو ۔۔۔ایسا کیا ہوا ہے امی جو ہمارا بھائی مسکرانا ہی بھول گیا ہے۔ ۔۔۔
وہ تو اتنی باتیں کرتا تھا صبح آٹھ کے ایک ہی دن میں اتنا کوئی کیسے بدل سکتا ہے۔
“فاطمہ نے ماں سے بڑی حیرت والے انداز میں پوچھا “
وہ اور زینب گھر پہ ہی ہوتی تھیں جب کے چھوٹی تین بہنیں اسکول کالج جایا کرتی تھیں ۔۔
زہرہ اور مریم second year میں پڑھتی تھیں ۔اور خدیجہ ابھی میٹرک میں ہوئی تھی ۔
وہ برتن دھونے کے بعد ماں کے پاس آئی تھی اور بہت پریشان تھی ۔اُس نے پہلی بار اپنی بھائی کو ایسے دیکھا تھا ۔
“پوچھا تھا میں نے فاطمہ “
“وہ کہے رہا تھا کام بہت تھا تو پوری رات سو نہیں سکا “
ماں نے بیٹی کو تسلی دیتے ہوئے کہا ۔جب کے اُن کو بھی اچھے سے پتا تھا بات یہ نہیں ہے۔
ماں باپ تو اپنی اولاد کے ڈاکٹر ہوتے ہیں۔ انکو کیسے نہیں پتہ چلے گا کے کب اُن کی اولاد اُن سے جھوٹ بول رہی ہے !!!!!
“لیکن اماں ۔۔۔۔۔۔۔”
“میں کہے رہی ہوں نا ایسی کوئی بات نہیں ہے نا پریشان ہو “
انھوں نے بیٹی کی بات سنے بغیر ہی اُس کو چپ کروا دیا ۔وُہ اُس کو نہیں بلکہ خود کو تسلی دے رہی تھیں ۔وُہ نہیں چاہتی تھیں وہ کوئی اور بات کرے اور پھر وہ مزید پریشان ہوں !!!!!
اچھا جاؤ ابو کو چائے دے کے آئو ابھی مانگ رہے تھے ۔زینب صاحبہ تو ناول لے کے بیٹھ گئی ہوں گی کسی کونے میں ۔اُس کو بھی اپنے ساتھ کام کاج پہ لگایا کرو۔ بس کتابیں لیے بیٹھی ہوتی ہے ہر وقت۔۔۔۔۔
“جی امی “
وہ یہ کہتے ہوئے پریشانی کے عالم میں کچن میں گئی ۔۔
“اللہ جی میرے وجی کی جو بھی پریشانی ہے اُس کو حل فرما”
وہ سب سے بڑی بہن تھی اور وجدان کے ساتھ اپنی اولاد کی طرح محبت کرتی تھی.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رقیہ زرمینہ کو بہت سمجھانا یونیورسٹیوں کا ماحول اچھا نہیں ہوتا ۔ وہ اُن کے رنگ میں نا رنگ جائے کہیں۔ مجھے تو ہر وقت ڈر ہی لگا رہتا ہے ویسے تو ہماری بچی جیسا کوئی پورے خاندان میں نہیں ہے ۔مگر پھر بھی لوگ دوسروں کو خراب کرتے نہیں چھوڑتے ۔۔۔۔اور یونیورسٹی کی لڑکیاں تو توبہ خدا معاف کرے ۔۔گھر میں کھانے کے لئے کچھ نا ہو مگر انھوں نے پورا میکپ کر کے باہر نکلنا ہے ۔اور یہ ڈراموں میں نہیں دیکھتی کیسے بے پردگی سے جاتی ہیں اور اُدھر ہی لڑکے پسند کر لیتی ہیں ۔توبہ توبہ
دادی اماں نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا ۔۔۔
۔
اماں جی میں بہت سمجھاتی ہوں زری کو۔ اُس کو خود بھی بہت اچھے سے پتا ہے اپنے بھائیوں کا اور بابا جان کا۔ شہاب تو ابھی تک خفا ہے ان کے یونیورسٹی والے فیصلے پہ ۔۔۔مگر اپنے بابا جان کے سامنے نہیں بولا ۔۔
زرمینہ ما شاء اللہ خود بھی سمجھدار ہے سمجھتی ہے اپنے گھر کے ماحول کو ۔
انھوں نے اماں کے پاس دھوپ پہ کرسی رکھ کے بیٹھتے ہوئے کہا۔ اور ساتھ گھوبی کاٹنے لگی جو اُن کو دن کے کھانے کے لیے بنانی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” يار شکر ہے کوئی ایک کلاس ایسی ہوتی ہے جس میں ہم خوشی سے پڑھ سکیں ۔۔۔۔ورنہ تو سارے ہی ٹیچرز ۔۔۔۔۔”
ہانیہ نے ارم کو دیکھتے ہوئے کہا!!!!!!
۔
ہانیہ اور ارم آپس میں کافی عرصے سے ساتھ تھیں دونوں نے کالج ساتھ ہی پڑھا تھا ۔
۔
“تم کچھ زیادہ ہی ایمپریس نہیں ہو گئی وجدان سر سے ؟ ” “صبح سے تم نے ۱۰۰ دفعہ وجدان سر کا نام لے لیا ہے “
ارم نے اُس کا چہرہ غور سے دیکھتے ہوئے کہا !!!!!!
“میں نے اپنی زندگی میں آج سے پہلے ایسا انسان نہیں دیکھا ،ہائے یہ سید وجدان حسین شاہ”
“ششّ آرام سے بولو کسی نے سن لیا نا تو کل یونیورسٹی میں سب کے منہ پہ وجدان سر اور ہانیہ ہی ہوں گے “
“ہائے کاش ایسا ہو جائے “۔
اُس نے اپنی ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھتے ہوئے کہا اور تھوڑی آگے ہو کے بیٹھی اور ایک حسرت بھری آه لی۔۔۔۔
۔
“سر آ رہے ہیں وہ دیکھو”
“ارم نے وجدان کو کلاس میں انٹر ہوتے ہوئے دیکھا اور پاس بیٹھی ہانیہ کو کہا ,جو کب سے انتظار کر رہی تھی کب وہ اندر آئے گا اور کب وہ اُس کو دیکھے گی “
۔
آج وہ اپنے مخصوص انداز میں بھاگتا ہوا نہیں آیا تھا بلکہ آرام سے چلتا ہوا نظریں جھکائے آ رہا تھا۔
اُس نے آج شوار قمیض پہن رکھی تھی ، وہ جو بھی پہنے اُس کے ساتھ ہر چیز جہجتی تھی مگر شلوار قمیض میں وُہ انتہاء کا پیارا لگتا تھا۔ وہ اتنا پرکشش تھا کے ہر لڑکی اُس کو ایک دفعہ ضرور موڑ کے دیکھا کرتی تھی۔
اُس نے کریم سے رنگ کا قرتا پہنا ہوا تھا اور ساتھ شوز پہنے تھے ۔اُس کی عادت تھی وہ شوز کے تسمے بند نہیں کرتا تھا بس ڈیلے
سے کرکے کھلے چھوڑ دیتا تھا ۔۔۔وہ جو بھی کرتا اُس کی وجہ سے وہ چیز فیشن میں آ جاتی ۔اور اُس کے سٹوڈنٹس پھر اُس کو فالو کرتے ۔اُس کو دیکھ کے اُس کے بہت سارے سٹوڈنٹ نے داڑھی رکھی تھی ۔ ہاتھ پہ نیلے نگ کی انگوٹھی پہنی تھی ۔اور بہت سارے اُس کا بولنے کا انداز کاپی کرتے تھے۔ تاکہ لڑکیاں سر کا پیچھا چھوڑ کے تھوڑی سی لیفٹ اُن کو بھی دے دیں ۔۔۔۔
۔
آج وہ کلاس میں آیا سب سٹوڈنٹس بہت خوش تھے شکر ہے سر وجی کلاس میں آئیں گے اُس کے اکثر سٹوڈنٹس اُس کو وجی سر کہے کر بلاتے تھے ۔
۔
“اسلام علیکم سر “
وہ کلاس میں جیسے ہی آیا سب نے اُس کو دیکھ کے خوشی سے سلام کیا !!!!
اُس نے سرسری سا وعلیکم سلام کہا اور پھر اپنی مخصوص جگہ پہ کھڑا ہو گیا جدھر وُہ کھڑا ہوتا تھا روسٹر کے پیچھے۔
آج بھی اُس کے ہاتھ میں موبائل اور پیپر تھے مگر آج ایک چیز نہیں تھی اور وہ تھی اُس کی مسکراہٹ ۔
وہ بلکل سنجیدہ سا کھڑا تھا سب اُس کو حیرت سے دیکھنے لگے کل کے اور آج کے وجدان سر میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ کل کا وجدان تو کوئی اور تھا آج کا وجدان بلکل الگ تھا!!!!!
۔
“آپ لوگوں کو میں کچھ ٹاپک دوں گا اُس پے آپ لوگوں نے پریزنٹیشن تیار کرنی ہو گی اور روز تین سٹوڈنٹس اُس پہ پزنٹ کریں گے “
“میں ایک دفعہ میں جو بول لوں تو کوشش کیجے گا میں دوبارہ اُس کو رپیٹ نا کروں”
وہ بلکل سنجیدہ بغیر چہرے پے کوئی تاثر دیے بس بولتا گیا ۔
اور سٹوڈنٹس اُس کو دیکھتے رہے۔ اُنھوں نے کیا سوچا تھا اور یہ کیا ہو رہا ہے۔ کیا صبح سے وہ اس وجدان سر کا انتظار کر رہے تھے !!!!!
اُس نے اٹینڈنس بولنی شروع کی۔ آج وہ کل کی طرح نہ تو نام بول رہا تھا اور نہ ہی کسی کو دیکھ رہا تھا۔اور نہ ہی بات بات پہ مسکرا رہا تھا ۔ بس وہ بولے چلے جا رہا تھا ۔۔۔
۔
اُس نے خود کو سمجھایا تھا وہ اُس لڑکی کا خیال بھی نہیں لائے گا ذہن میں اُس کو ایک نظر بھی نہیں دیکھے گا وہ اُس کے لیے صرف سٹوڈنٹ ہے، سٹوڈنٹ کے علاوہ وہ اُس کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ اُس نے بس ہر حال میں خود کو نارمل رکھنا ہے۔یونیورسٹی کی ہزاروں لڑکیاں اُس پہ جان دیتی ہیں ۔وہ ایک لڑکی کے حجاب پے نہیں ہار سکتا ۔اُس کی آنکھیں اُس کو اپنے قابو میں نہیں کر سکتیں ۔
“وہ سید وجدان حسین شاہ ہے کوئی عام لڑکا نہیں “

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: