Hijab Novel By Amina Khan – Episode 9

0
حجاب از آمنہ خان – قسط نمبر 9

–**–**–

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حجاب سے شروع ہونے والی محبت کی ایک عجیب داستان
ایسی داستان جو کہیں سنی نا هو
ایک لڑکا جو سید خاندان سے ہے
اور ایک لڑکی جو پٹھان ہے
حقیقت پر منبی کم عمر محبت کی خوبصورت داستان
آمنہ خان کے قلم سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“وجی کیا ہوا ہے تمہیں “
“کوئی پریشانی ہے ؟”
“کوئی مسئلہ ہے تو مجھے بتاؤ؟ تم کب سے اپنی بہن سے باتیں چھپانے لگے ہو ۔تم جانتے ہو نا وجی ہم بہن بھائی سے زیادہ اچھے دوست ہیں۔ تو پھر ایسا کیا ہو گیا ہے جو تم مجھے بھی نہیں بتا سکتے ۔۔۔۔ایسا کیا ہوا ہے وجی جس نے تمهاری آنکھوں کی چمک ، تمھارے چہرے کی ہسی چھین لی “
فاطمہ رات کو دودھ کا گلاس لے کے وجدان کے کمرے میں آئی تھی ، وہ لپٹوپ لیے کچھ کام کر رہا تھا ۔بہن کے آتے ہی سب کچھ چھوڑ دیا اور ہلکا سا مسکرایا ۔وُہ اپنی ہر بات فاطمہ سے کیا کرتا تھا ۔۔۔وجی کی زندگی کا ہر راز اسے پتا تھا ۔۔۔و اُس کی بہن سے زیادہ اُس کی راز دار تھی ۔۔۔۔
۔
آج وہ بےحد فکرمند تھی صبح سے سوچ رہی تھی کب رات ہو گی اور کب وہ اُس سے پوچھے گی ۔۔۔اُس کی پریشانی مزید اُس وقت ہوئی تھی جب دن کے کھانے پے اُس نے نظریں اٹھا کے کسی کو نہیں دیکھا تھا ۔امی کے اتنے پوچھنے پہ بھی بس یہی جواب دیا تھا کہ یونیورسٹی میں بہت کام تھا تھک گیا ہوں۔
“وجی “
“کیا سوچ رہے ہو تم “
اُس نے اُس کے ماتھے پہ پیار سے ہاتھ رکھا وہ بڑی بہن سے زیادہ اُس کے لیے ماں کا درجہ رکھتی تھیں
۔
وہ بے بسی سے بہن کی طرف دیکھنے لگا ۔اور پھر ایک دم سے نظریں جُھکا لیں ۔
لوگوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بات کرنے والا سید وجدان حسین شاہ اب نظریں جھکا کے بات کرنے لگا تھا۔ ۔وُہ یہی سوچتا تھا وہ نظر اُٹھا کے بات کرے گا تو کوئی اُس حجابِ والی صورت کو اُس کی آنکھوں میں نا دیکھ لے ۔۔۔۔
“آپی آپ میرے لیے دعا کرتی ہوتی ہیں نا؟”
اتنے وقت کے بعد وہ بہن سے بس یہی بول سکا تھا۔
۔۔
فاطمہ نے اُس کا چہرہ بہت غور سے دیکھا اُس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا ، اُس نے نظریں اٹھائی۔ ۔۔
اُس کی تو آنکھوں کی دنیا اُجر گی تھی ۔۔۔بہن کو لگا جیسے اُس کا کلیجہ کسی نے نکال لیا ہو۔ اُس کے پیٹ میں بل پڑھے ۔جیسے اُس کے اندر سے اُس کو شدید درد ہو رہا ہو ۔
اُس نے اُس کا چہرہ اوپر کیا اور اُس کو دُکھ کے ساتھ دیکھتی رہی ۔جیسے دیکھ رہی ہو اُس کے بھائی کے اندر کیا ٹوٹا ہے ۔
۔
اُس نے فوراً سے نظریں جُھکا لیں، بہن نے ایک بار پھر اُس کا چہرہ اوپر کیا۔
“وجدان میری طرف دیکھو”
وہ اُس کو ہمیشہ وجی کہتی تھی آج وجدان کہا تھا !!!!
اُس کو لگا اُس کی بہن نے اُس کی آنکھوں میں اُس لڑکی کو دیکھ لیا ہے۔
اُس کی آنکھوں میں اُس لڑکی کی آنکھیں دیکھ لی ہیں ۔
وہ ایک دم سے ڈرا۔
ایک دم سے آنکھیں نیچے کیں۔
“کیا ہو گیا ہے آپی آپ کو “
بلکل ٹھیک تو ہوں میں ، آپ بھی نا بس ایسے ہی پریشان ہوتی رہتی ہیں “
اُس نے اوپر اوپر سے مسکراتے ہوئے بہن کے ہاتھ آرام سے نیچے کیا اور laptop کھول لیا ۔جیسے وہ بہن کے سوالوں سے بچنا چاہتا ہو۔اُس کی نگاہیں اُس کو بیچین کر رہی تھیں ۔
“وجدان تمھیں محبت ہو گئی ہے “
بہن نے بغیر کوئی چہرے پہ تاثر دیئے اُس کی طرف بہت غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔ جیسے اُس نے سچ میں اُس کی آنکھوں میں اُس لڑکی دیکھ لیا ہو۔ جیسے وہ اس بات کی تصدیق چاہتی ہوں ۔۔۔۔
۔
۔
اُس نے بہن کی بات سنتے ہی لیپٹپ سے نظریں اوپر کیں ۔۔۔انگلیوں نے ایک دم حرکت روک دی۔۔۔ دل کی دھڑکن ایک دم تیز ہو گی۔ اُس کو لگا جیسے وہ ۔اُس کا بہت بڑا جرم پکڑا گیا ہے۔اُس نے بہن کی طرف دیکھا۔۔۔
۔
اُس کو تو خود نہیں پتا تھا ، محبت ایسے ہوتی ہے۔ وہ تو بس یہ سمجھتا تھا وہ لڑکی اُس کے خیالوں میں آتی ہے۔ وہ اُس سے محبت کیسے کر سکتا ہے۔کیا اسے کہتے ہیں محبت ۔۔۔۔
اُس نے تو بہت ساری لڑکیوں سے باتیں کی ہیں ۔جانے کتنی لڑکیوں سے محبت کا اظہار بھی کیا ہو۔ ۔۔۔۔
اگر محبت ایسی ہوتی ہے تو وہ کیا تھا جو وہ کرتا آیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
“وجدان “
“میں تم سے پوچھ رہی ہوں کیا تمہیں کسی لڑکی سے محبت ہو گی ہے “
وہ ایک دم ہوش کی دنیا میں آیا ۔۔۔اُس نے پکڑے جانے پہ خود کو بچانے کی ناکام کوشش کی۔
“آپی آپ اپنے بھائی کو نہیں جانتی اُس نے ایک زور دار قہقہہ لگایا۔”
۔
“آپ کے بھائی کے لیے تو لڑکیاں دیوانی ہیں آپ کا بھائی کیوں کسی سے محبت کرے گا “
اُس نے اس انداز میں کہا کہ بہن مطمئن ہو جائے۔ ۔یا شاید وہ بہن سے زیادہ خود کو مطمئن کرنا چاہتا تھا ۔
“پکا نا وجی ایسی کوئی بات نہیں ہے “
اُس نے اُن کے چہرے کو ، اُس کی آنکھوں میں چھپے درد کو بہت غور سے دیکھا تھا ۔
“وہ مطمئن تو کسی صورت نہیں ہوئی تھیں ۔مگر پھر بھی بھائی کی بات مان لی تھی۔ کیوں کے وہ جانتی تھی کچھ بھی ہو وُہ اُسے ضرور بتائے گا”
تب تک وہ وجی سے کچھ نہیں پوچھیں گی۔ اُس کو مزید دُکھ نہیں دیں گی۔
“اچھا اب سو جاؤ وجی , بہت رات ہو گئی ہے تم کل بھی نہیں سوئے”
“جی آپی بس سوتا ہوں آپ سو جائیں “
بہن نے اُس کا ماتھا چُوما اور فکرمندی کے عالم میں وہاں سے نکل گئی۔
اور وہ بہن کو جاتے ہوئے دیکھنے لگا!!!!!!!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“آج چائے کس نے بنائی ہے “
“میں نے اپنے ان کومل کومل ہاتھوں سے “
سلطان نے چائے کا ایک سیپ لیتے ہوئے پوچھا اور زرمینہ نے بہت فخر سے بتایا !!!!!
بابا جان لاہور کسی کام سے گے ہوئے تھے اور وہ سب بہن بھائی دادی اماں کے کمرے میں بیٹھے تھے ۔۔۔۔
“تب ہی پینے کے قابل نہیں “
اُس نے برا سا منہ بنایا !!!
“ہاں تو نہ پئیں نا “
“لائیں مجھے دیں اپنا کپ”
“ارے نہیں نہیں اب میری بہن اتنے پیار سے اپنے کومل ہاتھوں سے بنا کے لائی ہے تو میں واپس کر دوں ایسا کیسے ہو سکتا ہے “
“دادی اماں میں نے چائے اچھی نہیں بنائی؟ “
وہ اُس سے منہ بنا کے دادی اماں کی طرف موڑی ، اُس کو پتا تھا کوئی اُس کی سائڈ لے نا لے دادی اماں نے ضرور اُس کا ساتھ دینا ہے !!!!
“مڑا مجھے تو تمہارے ہاتھ کا زہر بھی میٹھا لگے گا یہ تو صرف چائے ہے “
“ہائے میرے دادا ابا کی شہزادی”
اُس نے شوخے سے انداز میں کہا !!!!!
“چپ شیطان”
“دادی اماں اُس کی اس بات پہ اکثر شرما جایا کرتی تھیں “
۔
“دادی اماں یہ تو نا انصافی ہے نا “
“سو میں سے بس دس نمبر کی حقدار ہے یہ چائے دس بھی تب ہی دے رہا ہوں کیوں کے بہن ہو ورنہ تو ایک نمبر بھی نہ تھا، کیوں لالا گل؟”
“اُس نے شہاب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور ساتھ آنکھ مار کے سمجھایا اُس کو کیا کرنا ہے “
“اب سلطان میں کیا بولوں زری خفا ہو جائے گی”
“اُس نے مسکراہٹ کو چھپاتے ہوئے چہرے پہ مصنوئی سی اُداسی لائی اور چائے کا کپ دیکھتے ہوئے کہا”
ہاں ہاں لالا گل آپ بھی ساتھ ہو جائیں انکے جب آپ دونوں کی بیگمات چائے بنا کے لائیں گی نا تب میں بھی ایسے ہے نمبر دیا کروں گی اور اُس وقت آپ پتا ہے کیا بولیں گے واہ بیگم آج تو آپ نے کمال کی چائے بنائی ہے بلکل شیدہ چائے والے کے ہوٹل کی طرح”
وہ جو کب سے ہسی دوبا کے بیٹھے تھے ایک دم ہسنے لگے ۔۔
اماں اب دیکھ لیں آپ کے بیٹے بیگم کے ذکر پہ کیسا کھلکھلا کے ہستے ہیں ۔۔۔۔اُس نے منہ بنیا اور دادی اماں کے کندھے پے سر رکھ کے بیٹھ گئی “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“وجدان تمھیں محبت ہو گئی ہے”
آپی کیا کہے گی ہیں ؟ کیا یہ محبت ہے ؟ کیا اُس کو محبت کہتے ہیں ؟
نہیں نہیں یہ کوئی محبت نہیں ہے ۔۔۔میں نے اتنی لڑکیوں سے بات کی ہے ۔اتنی لڑکیاں مجھ سے بات کرنے کے لیے مرتی ہیں ۔۔۔۔مجھے ان سے تو محبت نہیں ہوئی کبھی ۔۔۔۔اتنی لڑکیوں کے ساتھ وقت گزارا ہے میں نے مجھے تو کبھی وہ خیالوں میں نہیں آئی ۔یونیورسٹی میں اتنی لڑکیاں میرے ارد گرد ہوتی ہیں ۔۔۔۔مجھے اُن سے تو کبھی محبت نہیں ہوئی ۔
اور یہ لڑکی جس کو میں نے ایک بار بھی نظر اُٹھا کے صحیح سے نہیں دیکھا ۔ جو حجاب اور چادر میں لپٹی ہوتی ہے۔ ۔۔۔جس کو میں نے دیکھا ہی نہیں مجھے اُس سے کیسے محبت ہو سکتی ہے۔۔۔۔۔ میں کیوں اُس کے سامنے کھڑے ہو کے اپنے ہوش کھو بیٹھتا ہوں ۔۔۔اُس کی آنکھیں ۔۔۔۔میں نے تو اتنی خوبصورت آنکھوں والی لڑکیاں دیکھی ہیں پھر وہ میرے خیالوں میں کیوں نہیں آئیں۔۔۔۔۔۔ یہ لڑکی ہی کیوں؟ کون ہے یہ لڑکی جو مجھے راتوں کو سونے نہیں دیتی۔ ۔کون ہے یہ جو میرے ذہن سے نہیں اتر رہی۔
“آپی کی بات سن کے مجھے عجیب سا ڈر کیوں لگا تھا “کیوں میرے دل کی دھڑکن بے قابو ہو گئی تھی ۔۔۔۔کیوں مجھے لگ رہا تھا جیسے میری چوری پکڑی گی ہو ۔۔۔۔۔کیوں میں مجرم نا ہوتے ہوئے بھی مجرم بن رہا تھا۔ آخر کیوں؟
کیا مجھے واقعی اُس سے ۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں نہیں مجھے اُس سے محبت نہیں ہو سکتی ۔مجھے اتنی پاکیزہ لڑکی سے محبت ہو ہی نہیں سکتی۔
“میں نے زندگی میں کوئی اچھا کام نہیں کیا جو مجھے ایسی لڑکی ملے مجھے ایسی لڑکی سے محبت ہو “
اُس کو عجیب سی وحشت ہونے لگی ۔۔اُس کو لگا اُس کے دماغ کی رگیں اب تھوڑی دیر میں پٹھنے لگیں گی ۔۔۔۔وہ پاگل ہو جائے گا !!!!!!!
“وجدان کیا ہو گیا ہے تُجھے”
اُس کے اندر سے آواز آئی ،
وہ زمین پے بے بس پڑھا تھا آنسوں اُس کی آنکھوں سے ہوتے ہوئے زمین پہ گر رہے تھے !!
“مجھے کچھ نہیں ہوا”
وہ یوں ہی لیٹا لیٹا بولا !!!
“مان جا وجدان تجھے اُس سے محبت ہو گئی ہے”
ایک بار پھر آواز آئی!!!!! ۔
“نہیں مجھے اس سے محبت نہیں ہو سکتی “
“کیوں ، کیوں نہیں ہو سکتی تجھے محبت “
اُس کا ضمیر اُس کو جھنجھوڑنے لگا ۔اُس کو قبول کروانے لگا کے بول ہو گئی ہے محبت تُجھے!!!!!!
“میں اُس کے قابل نہیں ہوں”
اُس نے زمین کی طرف منہ کیا اور روتے روتے اُلٹا ہو گیا ۔جیسے اپنا آپ چپھا رہا ہو کسی سے !!
“میں نہیں ہوں اُس کے قابل “
وہ لرزتی آواز کے ساتھ آنکھوں میں آنسوں لیے بس یہی بولتا رہا
” نہیں ہوں اُس کے قابل”
جس لڑکی کی طرف میں ایک لمحے کو نہیں دیکھ سکتا میں اُس سے محبت کیسے کر سکتا ہوں!!!
یا اللہ میں اس قرب سے کیسے نکلوں گا۔ کیا میں پوری زندگی یوں ہی روتے ہوئے راتوں کو جاگتے ہوئے گزاروں گا ۔۔
کیا میں ایسے ہی مر جاؤں گا
۔۔
“سنو تم نے مجھے مار دیا ہے “
۔
زرمینہ کا عکس اُس کی آنکھوں کے آگے آیا اور اُس نے اپنی بھیگتی آنکھوں کے آگے بازو رکھتے ہوئے کہا !!!!!
وہ پوری رات جاگتا رہا ۔۔۔وہ اُس کو بس بھولنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔
مگر اُس کا عکس ایک سیکنڈ بھی اُس کے سامنے سے نہیں ہٹتا تھا۔۔ اب وہ اُس کو سوچنے لگا تھا۔ وہ جب بھی اُس کو سوچتا پر سکون ہو جاتا !!!!!
زمین پے پڑے پڑے کب اُس کی آنکھ لگی اُس کو پتا ہی نہیں چلا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ نماز پڑھنے کے بعد ہمیشہ قرآن پاک کا سبق پڑھا کرتی تھی ۔۔۔۔
اُس کو لگتا تھا جب وہ نماز کے بعد دعا مانگتی ہے تو وہ اللہ سے باتیں کرتی ہے ، اور جب وہ قرآن پاک پڑھتی ہے تو اللہ اُس سے بات کرتا ہے !!!
قرآن پاک پڑھنے کے بعد اُس کا آخری کام جو ہوتا تھا وہ اللہ جی کو لکھ کے اپنی باتیں بتانی ہوتی ۔۔۔
وہ دن بھر کے سارے قصے لکھا کرتی تھی۔ اور اللہ جی کو مخاطب کرتی تھی ۔جیسے وہ اُس کے پاس ہوں اور اُس کی باتیں سن رہے ہوں!!!!!
۔
اللہ جی آپ کو پتہ ہے آج میں نے اور فضہ نے کینٹین سے برگر کھایا۔ اتنا برا تھا یقین مانیں ۔۔۔۔فضہ کو تو صحیح غصّہ آیا مجھ پہ ۔۔۔برگر کھانے کی ضد جو میں نے کی تھی۔
وہ تو یہ اچھا ہوا کینٹین میں سب بیٹھے تھے وہ مجھے اُن کے سامنے کچھ کہے نہیں سکتی تھی ۔مگر آنکھوں آنکھوں میں اُس نے مجھے صحیح سنائی”
آپ کو پتا ہے اللہ جی میں بھی اُس کو دیکھ دیکھ کے ڈیتھ بن کے کھاتی رہی ۔اب ستر روپیہ میں یوں ہی ضائع کر آتی ۔بابا جان کا میں ایک روپیہ نہ ضائع کروں تو یہ تو پھر ستر روپیہ تھا ۔۔۔
۔
۔
وہ اپنی چھوٹی سی چھوٹی بات لکھا کرتی تھی۔ اُس کی ڈائری میں فضہ اور فضہ کے ہی قصے ہوتے تھے ۔اُس نے فضہ کو بھی نہیں بتایا تھا کے وہ ڈائری لکھتی ہے۔ یہ تو اللہ جی کا اور اُس کا سیکریٹ تھا ۔
وہ کسی کی محبت کسی سے شیئر نہیں کرتی تھی۔ چاہے وہ اللہ سے اُسکی محبت ہو۔ اُس کو نہیں اچھا لگتا تھا اُس کے اور اللہ پاک کی باتوں کو کوئی پڑھے کوئی سنے ۔۔۔
اُس کی محبت کا انداز ہی ایسا تھا وہ اپنی محبت کو اپنے اندر چھپا کے رکھتی تھی ۔۔۔۔جس سے وہ محبت کرتی ، بس اُسی کو پتا ہوتا۔۔۔۔
فضہ سے بھی اُس کی محبت ایسی تھی وہ اُس سے شدید محبت کرتی تھی یہ بات اُس کو وہ ہر موقع پہ بتاتی تھی مگر کسی کے سامنے دیکھا دیکھا کے اُس سے محبت نہیں کرتی تھی ۔۔
آج بھی وہ لکھ رہی تھی ۔ وہ آج کا سارا دیں لکھ رہی تھی ۔۔۔کیسے وہ اور فضہ ہاتھ میں ہاتھ ڈالے چل رہے تھے۔ آج اُن دونوں نے کس کس کی بات کی تھی۔ کیسے ہانیہ نے اُس کو پوری کلاس کے سامنے سنائی تھی ۔۔۔۔
اللہ جی میں بس چپ ہو گئی آپ کو پتا ہے نا میں غلط بات برداشت نہیں کرتی۔ ۔اُس نے کتنا غلط بولا ۔۔۔اب میں آپ کو بتا بھی نہیں سکتی کہ اُس نے مجھے کیا بولا تھا ۔۔۔۔مجھے تو آپ کو بتاتے ہوئے بھی شرم آتی ہے ۔۔۔۔۔۔یہ ہانیہ مجھے نا بلکل نہیں پسند
۔
وہ سب کچھ لکھ رہی تھی آج جو جو بھی ہوا تھا۔ ۔۔۔۔
اچانک اُس نے لکھتے لکھتے ہاتھ روک لیا ۔
“اُس کو خود بھی نہیں پتا چلا اُس نے کیا لکھ لیا تھا “
اُس کا دل ایک دم سے زور سے دھڑکا ، آنکھیں ایک دم جُھکی ۔۔۔
“کہیں آپ کی نشیلی آنکھوں پہ فدا تو نہیں ہو گے سید وجدان حسین شاہ “
۔
وہ تو اللہ پاک سے باتیں کر رہی تھی وہاں وہ وجدان سر کا کیسے لکھ سکتی ہے۔۔۔۔۔اُس کو تو شرم آتی ہے اللہ پاک سے ایسی باتیں کرتے ہوئے پھر اُس نے کیوں۔۔۔۔۔۔۔؟
اُس نے اپنے ہاتھوں سے اُنکا نام لکھا تھا ۔
اُس کو کچھ عجیب سا خوف آنے لگا۔۔۔۔اُس کو لگا جیسے اُس کا دل کانپ رہا ہو ۔ اُس نے اُس نام کو غور سے دیکھا ۔اُس کو لگ رہا تھا جیسے وہ نام چمک رہا ہے ۔اور اُس کی آنکھوں کو روشن کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔
۔ اُس کی آنکھوں میں وہ نام قید ہو رہا تھا ۔اُس کو پتا ہی نہیں تھا پیچھے ایک گھنٹے سے خالی ذہن کے ساتھ وہ “سید وجدان حسین شاہ ” لکھا ہوا ہی دیکھ رہی ہے ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: