Hijab Novel By Amina Khan – Last Episode 45

0
حجاب از آمنہ خان – آخری قسط نمبر 45

–**–**–

“زرمینہ سواتی والد ابراہیم خان سواتی آپکا نکاح سید وجدان حسین شاہ ولد عبد الرحمن شاہ کے ساتھ وکیل کی وکالت سے گواہوں کی موجودگی میں اللہ سبحان و تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کے ۔۔حضورِ اقدس کی سنت کی پیروی کرتے ہوئے
شہریت مطہرات کے مطابق حق مہر دو لاکھ روپیے سقہ راج الوقت تہہ پایا ہے آپ کو قبول ہے ؟ “
یہ تیسری بار تھی جو مولوی صاحب اتنے لوگوں کی موجودگی میں با آواز بلند اُس سے پوچھ رہے تھے ۔۔۔وہ سر کو ہلاتے ہوئے تیسری بار اُس کو قبول کر رہی تھی ۔۔۔۔۔آج وہ سید وجدان حسین شاہ کو قبول نہیں کر رہی تھی ۔۔اپنی خوشیوں کو قبول کر رہی تھی ۔۔۔۔اپنے حصے کی پوری دنیا کو قبول کر رہی تھی ۔۔۔۔
وہ آسمان کی طرف رُخ موڑے آنکھیں بند کئے ایک ہی لفظ سن رہا تھا ۔وہ زرمینہ گُل کے منہ سے “قبول ہے ” سن رہا تھا ۔۔۔۔اِس ایک لفظ کے ادا ہونے کے بعد بار بار اللہ کا شکر ادا کرتا ۔۔۔۔اِس دوران ایسا کوئی لمحہ نہیں گزرا تھا جب اُس کی آنکھوں سے آنسوں نہ نکلے ہوں ۔۔۔۔آنسوں تو ہر رات اُس کی آنکھوں سے نکلتے تھے ایسا کوئی دن نہیں ہوتا تھا جب وہ رات کو روئے بغیر سوئے۔ وہ ہر رات اُس کو مانگ کے سوتا تھا ۔۔۔آج اُس کے دعا سن لی گئی تھی۔ اُس کی جھولی بھر دی گئی تھی۔
۔
زرمینہ کے بعد مولوی صاحب نے اپنا رُخ اُس کی طرف کیا ۔۔۔۔اُس سے نکاح کی قبولیت مانگی ۔ اُس نے تو عرصہ پہلے اُس کو قبول کر لیا تھا ۔۔۔اپنے دل میں اپنی روح میں ۔۔۔۔۔آج وہ اُس کے زندگی میں آنے کی قبولیت مانگ رہے تھے ۔۔۔۔وہ دل پہ ہاتھ رکھے اُس کو قبول کر رہا تھا ۔۔۔
۔
اُس کے تین بار قبول ہے کہنے پہ کمرے سے باہر ایک شور کی آواز آئی ۔۔۔۔۔وہاں کھڑے ہر شخص کی آنکھ نم تھی ۔۔۔آج کوئی یہ نہیں دیکھ رہا تھا ایک سواتی کا نکاح ایک سید سے ہوا ہے ۔۔۔۔۔آج سب محبت کے ملن پہ خوش تھے ۔۔۔۔۔وہاں کھڑا ہر شخص ایک دوسرے کو گلے سے لگا رہا تھا ۔مبارک باد دے رہا تھا ۔۔۔۔۔کمرے سے باہر سب ایسے گلے مل رہے تھے جیسے اُن کی زندگی میں آج کوئی بڑا جشن آیا ہو ۔۔جس کو وہ اُچھل اُچھل کے منا رہے تھے ۔۔۔۔۔ہر کوئی خوش تھا ۔۔۔۔ہر کوئی اُن سے ملنا چاہتا تھا۔ ۔۔۔۔اُن کو مبارک باد دینا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔
۔
“مبارک ہو مسز وجدان حسین شاہ “
فضّہ اُس کے قدموں میں بیٹھی اُس کا گھونگٹ تھوڑا سا اوپر کیا ۔۔۔۔اُس کے دونوں ہاتھ پکڑے ۔۔۔نم آنکھوں سے اُس کو دیکھا جس کا بس نہیں چل رہا تھا ۔وہ وہیں کھڑی ہو جائے اُس کو اپنے دل سے لگا لے ۔۔۔
۔
“تم کب آئیں ؟”
یہ اُس کی زندگی کی دوسری بڑی خوشی تھی ۔فضہ اُس کے پاس تھی ۔۔اُس کے نکاح میں شریک تھی ۔۔۔۔
“کب سے آئے ہوئے ہیں ہم آپ کے دیدار کے منتظر باہر کھڑے تھے “
فضہ وہیں بیٹھے گھونگٹ اٹھائے اُس سے سرگوشی میں باتیں کر رہی تھی ۔۔۔۔
۔
“یہیں ہونا میرے پاس “
فضہ کے چہرے پہ پیار سے ہاتھ رکھتے ہوئے اُس نے کہا ۔۔
۔
“اب ہماری کیا ضرورت آپکو بھئی “
اُس نے شرارتی سے انداز میں آنکھ مارتے ہوئے کہا ۔۔۔۔وہ سمجھ گئی تھی وہ کیا کہے رہی ہے ۔۔۔۔۔
“دفع ہو جاؤ “
اُس نے نظریں جھکاتے ہوئے سُرخ چہرے کے ساتھ کہا ۔۔۔
۔
“ارے ارے مٹھائی کھائیں سب “
مدثر ہاتھ میں مٹھائی کی ٹوکری پکڑے اِدھر اُدھر گھوم رہا تھا سب کا منہ اپنے ہاتھ سے میٹھا کروا رہا تھا ۔۔۔
۔
“ہانیہ آپ بھی لیں “
ہانیہ کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے اُس نے نظریں جھکائے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔
“اتنے معصوم نہ بنیں آپ مدثر ۔۔میں بہت خوش ہوں”
اُس نے مسکراتے ہوئے مٹھائی کا ٹکڑا ہاتھ میں پکڑتے ہوئے کہا ۔۔
۔
“سر آپ کے لیے ہم نے ایک سرپرائز پلین کیا ہے ۔آپ کو اور بھابھی کو ہمارے ساتھ چلنا ہے “
وہاں کھڑے ایک سٹوڈنٹ نے خوشی سے آتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
“کیسا سرپرائز بچو ؟”
پرنسپل صاحب نے اُن کی طرف دیکھتے ہوئے حیرت بھری مسکراہٹ سے پوچھا ۔۔۔۔۔
۔
“سر وہ تو سر وجی کے لیے ہے آپکا وقت گزر چکا ہے “
اُس کی بات پہ سب کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی ۔۔۔۔۔آج ہر کوئی مسکرا رہا تھا ۔۔ہر کوئی خوشی سے جھوم رہا تھا ۔۔۔
۔
“ڈاکٹر صاحب ہم ان دونوں کو لے جائیں نا “
ڈاکٹر شاہ کو اُن کے پلان کا پہلے سے ہی پتا تھا ۔۔۔۔انہوں نے ان دونوں کا دوسرے کمرے میں جانے کا بندوبست کر رکھا تھا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کمرے میں پہلے لایا گیا تھا ۔۔۔۔وہ ہاسپٹل کی بیڈ پہ آنکھیں بند کیے لیٹا تھا ۔۔۔عموماً ایسا ہوتا ہے کمرے میں دلہن پہلے لائی جاتی ہے ۔۔۔مگر یہاں شادی وجدان شاہ اور زرمینہ گُل کی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔یہاں دولہا پہلے لایا گیا تھا ۔۔۔۔۔یہ انوکھی شادی تھی جو ہسپتال میں ہوئی تھی۔ اتنے لوگوں کی موجودگی میں ہوئی تھی ۔
“آرام سے چلو زرمینہ گُل۔۔اتنی جلدی بھی کیا ہے “
فضہ نے بازو سے پکڑے ہوئے اُس کو شرارت سے کہا ۔
وہ ایک ایک قدم آگے آ رہی تھی دروازہ کھولتے ہی اُسے لگا جیسے وہ کسی باغ میں آئی ہو ہر طرف موتیے کے پھولوں کی خوشبو بکھری ہوئی تھی ۔۔۔سارا کمرہ موتیے سے سفید ہوا تھا ۔۔۔۔فضہ جانتی تھی اسے موتیے کے پھول اور اُن کی خوشبو کتنی پسند ہے ۔۔۔۔کمرے میں قدم رکھتے ہی اُس نے ایک گہری سانس لی ۔۔جیسے وہ خوشبو اُس کو مدہوش کر رہی ہو ۔اپنے سحر میں لے رہی ہو ۔۔۔فرش میں سُرخ گلاب کی پتیاں ایسے پڑی تھیں جیسے وہاں فرش تھا ہی نہیں پھول ہی پھول تھے ۔۔۔۔
۔
“اچھا زمینہ ہم چلتے ہیں اب “
فاطمہ نے اُس کا ماتھا چومتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
۔
کمرے کا دروازہ بند ہوتے ہی وہ تھوڑا آگے گئی ۔۔۔جہاں وہ لیٹا تھا ۔۔۔۔۔بہنوں کے جاتے ہی اُس نے اپنا رُخ اُسکی طرف کیا ۔۔۔۔جیسے اُس نے آج سے پہلے اتنی خوبصورت لڑکی نہ دیکھی ہو ۔۔۔۔۔کوئی حور ہو جو آسمان سے بس اُس کے لیے ہی اُتری ہو ۔۔۔۔
۔اُس کے پاس جانے سے پہلے وہ واشروم گئی ۔۔وضو بنایا ۔۔۔۔اور باہر نکلی ۔۔۔۔۔باہر آتے ہی اُس نے جائے نماز بچھائی اُس پہ بیٹھی ۔۔۔اور بیٹھے ہوئے ہی دو رکعت نفل شکرانے کے ادا کرنے لگی ۔۔۔۔۔اُس نے پہلے سے سوچا تھا جب بھی وہ اُسکا ہو گا ۔۔۔۔وہ دونوں شادی کی رات ایک ساتھ شکرانے کے نوافل پڑھیں گے ۔۔۔۔۔اُس نے ایک دفعہ شکرانے کے نوافل پڑھے پھر دوسری دفعہ نیت کی ۔۔۔۔اب کی بار وہ نیت سامنے لیٹے وجدان کی طرف سے تھی ۔۔۔۔جو مُسلسل اس کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔اُس کے کمرے میں۔ آنے کے بعد ایسا کوئی لمحہ نہیں تھا کہ اس نے اُس پر سے نظریں ہٹائی ہوں ۔۔۔۔اُس نے آنکھوں سے محبت کا سفر نکاح تک تہہ کیا تھا ۔وہ محبوبہ سے آج اُس کی بیوی بنی تھی ۔۔۔۔۔وہ جو ایک نظر اٹھا کے جس کو نہیں دیکھتا تھا ۔آج اُس کو ایسے دیکھ رہا تھا جیسے آج سے پہلے اُس نے اسے کبھی نہیں دیکھا ہو ۔۔۔۔۔۔
نماز کے بعد اُس نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے ۔۔۔۔آج ساری دعائیں قبول ہو گئیں تھیں ۔۔۔۔۔آج اُس کے پاس مانگنے کو کچھ نہیں تھا ۔۔۔۔۔اُس نے آنکھیں بند کیں ۔۔۔۔دل میں اللہ کا شکر ادا کرنے لگی۔
“اللہ جی آپکا بہت بہت شکریہ…..مجھے میری منزل دینے پہ شکریہ۔ ۔۔مجھے میرا وجدان دینے پہ شکریہ “
۔
نماز سے وہ مسکراتے ہوئے اٹھی ۔۔۔۔کمر پہ ہاتھ رکھے وہ اُس بیڈ پہ آئی جہاں وہ لیٹا تھا ۔۔۔۔آج پہلی دفعہ اُس نے اُس کے چہرے پہ ایسی مسکراہٹ دیکھی تھی ۔۔۔۔ایسا سکون دیکھا تھا ۔۔وہ خوش تھا آج بہت خوش ۔
۔
“ملکہ دیکھو نا آج میرے پاس تمہیں دینے کے لیے کچھ نہیں ہے “
اُس نے اسکا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔وہ اُس کے قریب ہوئی ۔۔۔اتنے قریب کے ہوا کا گزر بھی درمیان سے نہ ہو ۔۔۔۔اُس نے اسکے دل پہ سر رکھا ۔۔۔مجھے یہ ساتھ چاہیے تھا خان صاحب ۔۔۔مجھے اور کچھ نہیں چاہیے ۔۔۔۔آپ سے بڑا تحفہ بھی کوئی ہو سکتا ہے میرے لیے؟ میری ساری خوشیاں آپ سے ہیں فقط آپ سے ۔۔۔آپ مل گے ہیں نا مجھے سارا جہاں مل گیا ہے “
۔
وہ اُس کے سینے پہ سر رکھے اُس سے باتیں کر رہی تھی ۔۔۔۔اُس کو اپنی خوشی بتا رہی تھی ۔۔۔جو سکون اُس کو اُس وقت مل رہا تھا ۔۔۔اِس سے پہلے اسے ایسا سکون کبھی نہیں ملا تھا ۔۔
۔
ملکہ پتا ہے کیا سوچا تھا میں نے ہماری شادی ہوئی میں تمہیں زیارت کروانے لے جاؤں گا ۔۔۔پتا ہے کس کی زیارت ؟ آقا کے گھر کی زیارت ….میں وہاں اللہ کا شکر ادا کروں گا ۔اُس نے مجھے پاکیزہ عورتوں میں سے ایک پاکیزہ عورت دی ہے ۔۔۔۔۔میں اپنا سر سجدے سے اٹھاؤں گا ہی نہیں ۔۔۔۔تم میرے پاس ہو گئی ۔۔۔۔۔آقا کے سامنے تمہیں اپنے دل سے لگاؤں گا ۔۔۔اُن سے وعدہ کروں گا جیسی محبت آپ نے اماں عائشہ جان سے کی ہے ۔۔۔۔میں ویسی محبت اپنی زرمینہ گُل سے کروں گا ۔۔۔۔مگر ۔۔۔۔۔
وہ خوشی خوشی اُس کو بتا رہا تھا ۔۔۔۔پیار سے اُس کے بالوں میں اپنی انگلیاں چلا رہا تھا ۔۔۔کہ وہ اچانک چپ ہوا جیسے اُس کا یہ خواب اب خواب ہی ہے ۔۔۔۔
۔
“مگر کیا …….؟”
اُس نے چونک کے اُس کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔جیسے وہ مگر کے آگے کا جملہ بھی سننا چاہتی ہو ۔۔۔۔۔
۔
“مگر اب ایسا کچھ بھی ممکن نہیں ہے “
اُس نے آنکھیں بند کرتے ہوئے دُکھ سے تکلیف سے کہا ۔۔۔
“ایسا کیوں ممکن نہیں ہے؟ آپ جب ٹھیک ہو جائیں گے نا ہم اسی مہینے وہاں چلیں گے ۔۔مجھے یقین ہے آپ بلکل ٹھیک ہو جائیں گے “
اُس نے اُس کی دونوں آنکھوں کو باری باری چومتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
۔
“ملکہ پتا ہے میرا کیا دل چاہتا ہے ہماری پہلی بیٹی ہو جو بلکل تمہارے جیسی ہو ۔۔۔۔معصوم،پاکیزہ “
اُس نے محبت سے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو اُس کو دیکھ کے مسکرا رہی تھی ۔۔۔
۔
“لیکن ایک بات سن لیں بچوں کے نام میں ہی رکھوں گی “
اُس نے ایک بار پھر اُس کے دل پہ سر رکھتے ہوئے معصومیت سے کہا ۔۔۔
۔
“جی وجدان کے دل کی ملکہ آپ ہی رکھنا ۔۔۔۔۔ویسے کیا نام رکھیں گی آپ ؟”
اُس نے اُس کے چہرے سے بال پیچھے کرتے ہوئے کہا ۔یہ پہلا دن تھا جب اُس نے اسکے بال دیکھے تھے ۔۔۔اُس کے چہرے پہ پڑتا خوبصورت ڈمپل دیکھا تھا ۔۔۔۔
“بیٹی کا نام نور العین رکھیں گے اور بیٹے کا احمد رکھیں گے “
۔
“بس دو ہی بچے ؟”
اُس نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے حیرت سے پوچھا ۔۔۔
“تو اور کتنے ؟ “
وہ ہلکا سا اوپر ہوئی اُس کے چہرے کی مسکراہٹ کو دیکھا جو مُسلسل مسکرا رہا تھا ۔۔۔
“کم از کم دس “
اُس نے مسکراتے ہوئے شرارتی سے انداز میں کہا ۔۔۔۔۔
۔
“وئ وئ دس بچے ؟”نہ مڑہ کوئی دس بچے نہیں “
اُس نے مصنوئی سی ناراضگی دیکھاتے ہوئے کہا ۔۔۔
۔
“جو میری ملکہ کہے گی وہی ہو گا ۔۔۔جیسا آپ چاہیں گی ویسا ہی ہو گا ملکہ ۔۔۔بس وجدان سے کبھی دور نہ ہونا ۔اُس کی آخری سانس تک اُس کی شریکِ حیات رہنا ۔۔۔۔اُس کی دنیا سے کبھی نہ جانا “
اُس نے اُس کے ماتھے کو پیار سے چُما ۔۔۔۔اُس کو کو اپنے دل سے لگایا ۔ اُس کو اپنے اور قریب کیا ۔۔۔اور کھڑکی سے باہر اُس چاند کو دیکھنے لگا ۔۔۔جو اُن کے آنسوؤں سے لے کر اُن کے ملن تک کا گواہ تھا ۔۔۔۔
وہ چاند بہت خوش تھا آج۔۔۔ اُن دونوں کو مبارک باد دینے آیا تھا ۔۔۔۔۔محبت کی پاکیزہ مثال بننے کی مبارک باد ۔۔۔۔اُس پاکیزہ محبت پہ ملن کی مبارک باد ۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: