Hijaz Ki Aandhi by Inayatullah Altamash – Episode 8

0
حجاز کی آندھی از عنایت اللہ التمش – قسط نمبر 8

–**–**–

سعد ؓبن ابی وقاص نے مجاہدین کی ایک جماعت الگ کر کے اسے ساتھ لیا اور وہاں لے گئے جاں عورتیں اور بچے تھے۔ جماعت کا امیر مقرر کیا اور اسے بتایا کہ وہ اپنی جماعت کے ساتھ عورتو ں اور بچوں کی حفاظت کیلئے یہیں رہے گا۔عورتوں نے سعدؓ کو اپنے گھوڑے بلقاء پر سوار آتے دیکھا تو انہوں نے مسرت و شادمانی کا ہنگامہ بپا کر دیا۔ انہوں نے تو سنا تھا کہ سعد ؓبالا خانے میں معذور پڑے ہیں ۔سلمیٰ عورتوں میں جاتی رہتی اور انہیں ہر بار یہی بتاتی تھی کہ سعدؓ روز بروز زیادہ ہی معذور ہوتے جارہے ہیں مگر سعدؓ کو عورتیں گھوڑے پر آتا دیکھ رہی تھیں ۔وہ سب باہر آگئیں۔ تفصیل سے پڑھئے

’’خدا کی قسم!سلمیٰ جھوٹ نہیں بول سکتی۔‘‘ ایک ادھیڑ عمر عورت نے آگے آکے بلند آواز سے کہا۔’’ لیکن یہ سعد ہے۔ خدا کی قسم‘ یہ سعد بیمار نہیں۔‘‘

’’ہم نے راتوں کو اﷲ سے اس کی صحت کی دعائیں کی ہیں۔‘‘

’’اﷲ سنتا ہے……اﷲ نے ہماری دعائیں قبول کر لی ہیں۔‘‘

’’مجاہدین نے آگ کے پجاریوں پر فتح پائی ہے۔ سعد نے بیماری کو شکست دی ہے۔‘‘

’’یہ معجزہ ہے……یہ معجزہ ہے۔‘‘

اور ایسی بہت سی آوازیں تھیں جو عورتوں کے ہجوم سے نعروں کی طرح اٹھ رہی تھیں۔ عورتوں کو جب پتا چلاکہ انہیں پیچھے چھوڑ کر ان کی حفاظت کیلئے مجاہدین کا چھوٹا سا ایک دستہ ان پر مقرر کیا گیا ہے تو عورتوں نے ایک بار پھر ہنگامہ بپا کر دیا ۔صرف اتنا پتا چل رہا تھاکہ وہ پیچھے نہیں رہنا چاہتیں۔ سعد ؓنے انہیں خاموش کرواکے کہا کہ کوئی ایک عورت بات کرے کہ و ہ کیا چاہتی ہیں؟

’’ہم اپے لشکر کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں۔ ‘‘ایک ذرا زیادہ عمر کی عورت نے آگے آکر کہا۔’’ وجہ یہ نہیں کہ ہمیں اکیلے ڈر لگتا ہے۔ بلکہ وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے مردوں کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتیں ۔کیا آپ نے خود ہمیں حکم نہیں دیا تھا کہ لڑائی ایسی صورت اختیار کر گئی ہے کہ عورتیں بھی لڑنے کیلئے تیار رہیں؟ہم اس وقت بھی لڑنے کیلئے تیار تھیں۔ اب بھی تیارہیں۔‘‘

’’ہم یہ بھی دیکھ رہی ہیں کہ آپ کی تعداد پہلے سے بھی کم رہ گئی ہے۔‘‘ ایک اور عورت بولی۔ ’’مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ کفار کئی جگہوں پر بکھر گئے ہیں ۔ان کے پیچھے ہمارے مرد بھی تقسیم ہو گئے ہیں۔ کون کہتا ہے کہ یہ صورت خطرناک نہیں؟ہم مردوں کی کمی پوری کر سکتی ہیں۔‘‘

’’یہ بھی سوچیں سپہ سالار!‘‘ایک جواں سال عورت نے کہا۔’’ اگرلڑنے کیلئے نہیں تو زخمیوں کو سنبھالنے کیلئے ہمیں ساتھ ہونا چاہیے۔ آپ کفار کے تعاقب میں جا رہے ہیں۔ نہ جانے کہاں کہاں لڑائیاں ہوں گی، اور ہمارے مجاہدین زخمی ہوں گے اور کہاں کہاں گریں گے ۔انہیں کون اٹھائے گا؟……یہ کام ہمارے سپرد کر دیں۔‘‘

’’زخمی تمہارے ہی پاس آئیں گے۔‘‘ سعدؓ نے کہا۔’’ لیکن ہم عورتوں اور بچوں کو ساتھ نہیں لے جائیں گے۔ کفار کسی سے شکست کھاتے ہیں تو فاتح کو خوش کرنے کیلئے اسے اپنی بیٹیاں بھی دے دیا کرتے ہیں۔ دشمن کو گمراہ اور کمزور کرنے کیلئے اپنی لڑکیوں کو استعمال کرتے ہیں۔ لیکن ایک بھی مسلمان عورت کفار کے ہاتھ آجائے تو مسلمان اس ملک کو فتح کرنے سے پہلے اپنی عورت آزاد کرانے پر اپنی طاقت مرکوزکر دیتے ہیں ۔کوئی باوقارقوم کبھی اپنی عصمت سے دستبردار نہیں ہوا کرتی ……ہمیں جب بھی اور جہاں بھی تمہاری ضرورت محسوس ہوئی، ہم تمہیں بلا لیں گے۔‘‘

’’کیا اپنی بیوی کو آپ اپنے ساتھ رکھیں گے ؟‘‘ ایک عورت نے پوچھا۔

’’نہیں!‘‘سعدؓ بن ابی وقاص نے جواب دیا۔’’میں بیمار تھا تو مجھے ہر وقت سلمیٰ کی ضرورت رہتی تھی۔ اب یہ تمہارے ساتھ رہے گی……یہ بھی سن لو کہ میں تمہیں اپنے حکم سے یہاں نہیں چھوڑ رہا۔ یہ امیر المومنین کا حکم ہے اور امیر المومنین کے حکم کی تعمیل ہم پر فرض ہے۔‘‘

’’یہ بھی سوچیں سپہ سالار!‘‘ایک جواں سال عورت نے کہا۔’’ اگرلڑنے کیلئے نہیں تو زخمیوں کو سنبھالنے کیلئے ہمیں ساتھ ہونا چاہیے۔ آپ کفار کے تعاقب میں جا رہے ہیں۔ نہ جانے کہاں کہاں لڑائیاں ہوں گی، اور ہمارے مجاہدین زخمی ہوں گے اور کہاں کہاں گریں گے ۔انہیں کون اٹھائے گا؟……یہ کام ہمارے سپرد کر دیں۔‘‘

’’زخمی تمہارے ہی پاس آئیں گے۔‘‘ سعدؓ نے کہا۔’’ لیکن ہم عورتوں اور بچوں کو ساتھ نہیں لے جائیں گے۔ کفار کسی سے شکست کھاتے ہیں تو فاتح کو خوش کرنے کیلئے اسے اپنی بیٹیاں بھی دے دیا کرتے ہیں۔ دشمن کو گمراہ اور کمزور کرنے کیلئے اپنی لڑکیوں کو استعمال کرتے ہیں۔ لیکن ایک بھی مسلمان عورت کفار کے ہاتھ آجائے تو مسلمان اس ملک کو فتح کرنے سے پہلے اپنی عورت آزاد کرانے پر اپنی طاقت مرکوزکر دیتے ہیں ۔کوئی باوقارقوم کبھی اپنی عصمت سے دستبردار نہیں ہوا کرتی ……ہمیں جب بھی اور جہاں بھی تمہاری ضرورت محسوس ہوئی، ہم تمہیں بلا لیں گے۔‘‘

’’کیا اپنی بیوی کو آپ اپنے ساتھ رکھیں گے ؟‘‘ ایک عورت نے پوچھا۔

’’نہیں!‘‘سعدؓ بن ابی وقاص نے جواب دیا۔’’میں بیمار تھا تو مجھے ہر وقت سلمیٰ کی ضرورت رہتی تھی۔ اب یہ تمہارے ساتھ رہے گی……یہ بھی سن لو کہ میں تمہیں اپنے حکم سے یہاں نہیں چھوڑ رہا۔ یہ امیر المومنین کا حکم ہے اور امیر المومنین کے حکم کی تعمیل ہم پر فرض ہے۔‘‘

٭

یہ تھا اس وقت کا جذبہ جو لڑنے والے مجاہدین میں ہی نہیں بلکہ عورتوں اور بچوں میں بھی پوری طرح موجود تھا۔ اسے جذبہ نہیں ایمان کہا جاتا تھا۔ مؤرخوں نے اس جذبے کا ذکر ذرا تفصیل سے کیا ہے لیکن انہوں نے سعد ؓبن ابی وقاص کی اچانک صحت یابی پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔ مسلمان تاریخ نویسوں نے تو اسے معجزہ ہی کہنا ہے۔ انیسویں صدی کے ایک یورپی تاریخ نویس اور تجزیہ نگار این ڈی ہیرنگٹن نے تاریخ کے چند معجزے کے نام سے ایک کتاب لکھی تھی جس میں اس نے سعدؓ بن ابی وقاص کے اس مرض کا اور مرض کے اچانک رفع ہو جانے کا مختصر کا ذکر کیا ہے۔ اس مرض کو اس نے عرق النساء بھی لکھا ہے اور گنٹھیا بھی۔

اس یورپی تجزیہ نگار نے لکھا ہے کہ عرب کا یہ سپہ سالار پیغمبر نہیں تھا کہ خدا اسے معجزہ کرکے اس مرض سے نجات دلا دیتا۔ یہ عقیدے کی شدت کا اور مقدس جنگ)جہاد(کو جزوِ ایمان سمجھنے کا اثر تھا۔ سعدؓ کو ایک ایسی جنگ میں فتح حاصل ہو گئی تھی جو ہر لحاظ سے مسلمانوں کے خلاف جا رہی تھی۔ یہ اس کا ذہنی یا روحانی ردِ عمل تھا جو ایک اچانک اور شدید جھٹکا یا دھچکاتھا کہ اس سے جسم میں ایسا تغیر آیا کہ مرض سے نجات مل گئی۔

مسلمان کی حیثیت سے ہم یقین رکھتے ہیں کہ یہ قوتِ ایمانی کا کرشمہ تھا اور یہ قوتِ ارادی کا کمال بھی تھا ۔مردانِ حُر کی زندگیوں میں ایسے معجزے کوئی انوکھا واقعہ نہیں۔

سعدؓ بن ابی وقاص عورتوں کو الوداع کہہ کر واپس آرہے تھے کہ ایک مجاہد آگیا۔یہ ان چند ایک مجاہدین میں سے تھا جنہیں دیکھ بھال اور سعدؓ تک اطلاعات پہنچاتے رہنے کا فرض سونپا گیا تھا ۔اس پارٹی میں تین چار مقامی آدمی بھی تھے جو آگے جا کر مخبری اور جاسوسی کرتے تھے۔

’’کیا میں امید رکھوں کہ تم کوئی بری خبر نہیں لائے؟‘‘سعدؓ نے خوشگوار لہجے میں کہا۔

’’اﷲ آپ کو بری خبر سے محفوظ رکھے سپہ سالار!‘‘مجاہدنے کہا۔’’ آتش پرستوں کے قدم کہیں نہیں جم سکے، وہ یکجا ہونے کی کوشش کرتے ہیں لیکن مجاہدین بر وقت پہنچ جاتے ہیں اور انہیں بکھیر دیتے ہیں۔ آتش پرست کہیں بھی جم کر نہیں لڑتے ،بھاگ جاتے ہیں ۔ان کا رخ مدائن کی طرف کم اور بابل کے کھنڈروں کی طرف زیادہ ہے۔ میرا ایک مقامی ساتھی لڑائی سے بھاگا ہوا کسان بن کر آگے چلا گیا تھا۔ اس نے آکر بتایا کہ فارسی بابل میں اکٹھے ہو رہے ہیں اور ان کے جرنیل انہیں ہمارے مقابلے کیلئے منظم کر رہے ہیں۔‘‘

سعد ؓبن ابی وقاص نے حکم دیا تھا کہ بھاگتے ہوئے فارسیوں کا تعاقب کیاجائے تاکہ وہ اکٹھے نہ ہو سکیں ۔اس حکم پر مجاہدین اندھا دھند دشمن کے پیچھے دوڑنہیں پڑے تھے بلکہ سعد ؓنے انہیں باقاعدہ دستوں میں منظم کر کے انہیں سمتیں اور علاقے بتا دیئے تھے ۔ان سب کی منزل مدائن تھی لیکن انہوں نے مختلف راستوں اور علاقوں سے مدائن تک پہنچنا تھا۔

زہرہ بن حویہ کو سعدؓ نے عراق کے ایک مشہور اور اہم مقام حیرہ بھیج دیا تھا۔ حیرہ مسلمانوں کے قبضے میں تھا ۔دو اور سالاروں عبداﷲ بن معتم اور شرحبیل بن سمط کو دوسرے راستوں سے آگے بھیجا۔ ان دونوں کے دستے فارسیوں کے تعاقب میں مختلف علاقوں سے گزرتے حیرہ تک پہنچ گئے۔ سعدؓ نے انہیں پہلے ہی بتا رکھا تھا کہ حیرہ میں اکٹھے ہو کر کسے کہاں جانا ہے؟

’’اب یہ بتا۔‘‘سعدؓ نے اس مجاہد سے پوچھاجو آگے کی رپورٹیں لے کر آیا تھا۔’’ زہرہ، عبداﷲ اور شرحبیل کہاں کہاں ہیں اور کیا ان کا جانی نقصان زیادہ تو نہیں ہوا؟‘‘

’’بہت کم نقصان ہوا ہے امیرِ لشکر!‘‘مجاہد نے جواب دیا۔’’ اپنے کچھ آدمی زخمی ہوئے ہیں۔ زہرہ بن حویہ حیرہ پہنچ گئے تھے۔ ایک ہی دن بعد سالار عبداﷲ بن معتم اور سالار شرحبیل بن سمط اپنے دستوں کے ساتھ حیرہ پہنچ گئے اور سالار زہرہ بن حویہ اپنے دستے ساتھ لے کر مدائن کی طرف روانہ ہوگئے۔ میں اپنے ایک مقامی ساتھی کے ساتھ اسی علاقے میں تھا……

بُرس کے مقام پر فارسیوں کی اچھی خاصی نفری اکٹھی ہو گئی تھی۔ اپنے مجاہدین کی تعداد بہت ہی کم تھی۔ فارسی مقابلے پر ڈٹ گئے لیکن مجاہدین نے آمنے سامنے کی ٹکر لینے کے بجائے دائیں اور بائیں سے اس طرح حملے کیے کہ کچھ دیر لڑ کر پیچھے ہٹ آتے یا اِدھر اُدھر ہو جاتے ۔ اس طرح انہوں نے فارسیوں کو بکھیر دیا ۔ہمارے آدمیوں نے انہیں چن چن کر مارنا شروع کر دیا……

میرے مقامی ساتھی نے مجھے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ قادسیہ سے بھاگے ہوئے یہ فوجی لڑنے کا حوصلہ ختم کر بیٹھے ہیں۔ جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان پر عربی مسلمانوں کی دہشت طاری ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ یزدگرد اور رستم نے فارس کی جو نئی فوج تیار کی تھی اس میں کئی ایک آدمیوں کو جبراً فوج میں گھسیٹا گیا تھا ۔باقی جو تھے انہیں زیادہ تنخواہ ، انعامات اور بڑے قیمتی مالِ غنیمت کا لالچ دیا گیا تھا ۔انہیں بتایا گیا تھا کہ مسلمانوں کا لشکر بہت تھوڑا ہے اور اسے اپنی اتنی بڑی فوج سے کاٹ کر عرب جانا ہے اور عرب زرو جواہرات سے مالامال ہے لیکن ان کے ساتھ جو ہوا وہ ہمارے سامنے ہے۔‘‘

’’مجھے وہ سناؤ جو تم نے دیکھا ہے۔‘‘سعدؓ بن ابی وقاص نے کہا۔’’ اور خیال رکھو کہ اپنے دشمن کو حقیر یا کمزور نہیں سمجھنا۔ زخمی بلّی شیر پر بھی حملہ کر دیا کرتی ہے۔ یہ بھی مت سمجھو کہ دشمن بھاگ رہا ہے تو فتح تمہاری ہو گی۔‘‘

’’کیا شک ہو سکتا ہے اس بات میں جو امیرِ لشکر نے کہی ہے۔‘‘ مجاہد نے کہا۔’’ میں وہ کہہ رہا ہوں جو میں نے دیکھا ہے اور وہ بھی جو میں نے سنا ہے۔ میرا فرض ہے کہ ہر بات سے امیرِ لشکر کو آگاہ کروں۔ اس وقت دشمن کی کیفیت یہ ہے کہ وہ ڈری ہوئی بھیڑوں اور بکریوں کی طرح بھاگ رہا ہے……میں کہہ رہا تھا کہ بُرس کے مقام پر فارسیوں نے مقابلہ کیا مگر سالار زہر بن حویہ کے آدمیوں نے انہیں جانی نقصان پہنچایا اور باقی فارسی بابل کی طرف بھاگ گئے ۔میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ فارسی بابل میں اکٹھے ہو رہے ہیں۔ ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ فارس کے پانچ جرنیل فیروزان، ہرمزان، خیرجان، مہران اور بصیری بابل کے کھنڈرات میں پہنچ گئے ہیں اور مقابلے کی تیاری کر رہے ہیں۔‘‘

٭

مجاہدینِ اسلام اس علاقے میں کفار پراﷲ کا عتاب بن کر گرج اور برس رہے تھے۔ جو سزا اور جزا کی کہانیاں بزبان خاموشی سناتا تھا۔ اس علاقے میں انسانیت گناہوں میں ڈوبی ہوئی تھی۔ اﷲ نے اپنے گمراہ بندوں کو صراطِ مستقیم دکھانے کیلئے کتنے ہی پیغمبر اتارے تھے۔

بُرس وہ مقام تھا جہاں حضرت ابراہیم ؑنے نمرود کو قید میں ڈالا تھا۔ بُرس سے آگے کوثیٰ ایک مقام ہوا کرتا تھا۔ اس قید خانے کی زمین آج تک ویسی ہی ہے جیسی حضرت ابراہیمؑ کے زمانے میں تھی۔ کھنڈرات تو نہیں ہیں ۔لیکن دیواروں کی بنیادیں موجود ہیں اور صاف نظر آتی ہیں ۔کہیں کہیں کوئی دیوار ایک آدھ فٹ اوپر کو اٹھی ہوئی ہے۔ یہ علاقہ اس زمانے سے بنجر اور ویران چلا آرہا ہے ۔اس مقام کو بئرالنمرود کہا جاتا تھا ۔ا س سے کچھ دور بابل آباد تھا۔ بئرالنمرود بُرس اور کوثیٰ کے درمیان بنایا گیا تھا۔

علامہ شبلی نعمانی نے علامہ بلاذری ا حمد بن کوفی کے حوالے سے لکھا ہے کہ نمرود کا محل بابل میں تھا جو قصرِ نمرود کہلاتا تھا۔ اس سے کچھ دور ویران علاقے میں ایک بہت وسیع اور گہرا گڑھا آج بھی موجود ہے۔ اس کے متعلق مشہور ہے کہ نمرود کا محل تعمیر کرنے کیلئے یہاں سے مٹی کھود کھود کر استعمال کی گئی تھی۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ نمرود اس قدر سفاک اور گناہگارتھا کہ اس کی ساری رعایا گناہوں میں ڈوب گئی تھی۔ اﷲ تبارک و تعالیٰ نے جب ان لوگوں پر تباہی نازل کی تو یہاں سے زمین دھنس گئی تھی اور اس پر نمرود کی جو تعمیرات تھیں انہیں زمین نے نگل لیا تھا۔

سعد ؓبن ابی وقاص کو جب اس علاقے اور مجاہدین کے حالات معلوم ہوئے تو وہ بابل کی طرف چل پڑے ۔ان کے ساتھ مجاہدین کے دو تین ددستے تھے ۔راستے میں ان کی ٹکر فارس کی فوج کے چند ایک دستوں کے ساتھ ہو گئی۔

فارس کے فوجیوں میں لڑنے کا جذبہ تقریباً ختم ہو چکا تھا۔ یہ جو دستے سعدؓ بن ابی وقاص کے راستے میں حائل ہو گئے تھے ۔وہ اس لئے مقابلے میں آگئے تھے کہ ان کے ساتھ فارس کا ایک مشہور جرنیل فیروزان تھا۔ فیروزان چاہتا تھا کہ شکست خوردہ حالت میں مدائن نہ جائے اور کچھ کرکے دکھائے تاکہ مدائن جا کر فخر سے کہہ سکے کہ وہ شکست خوردہ نہیں اور شکست و پسپائی کے ذمہ دار دودسرے جرنیل ہیں ۔وہ یہ دیکھ کر مقابلے میں آگیا کہ اس کے ساتھ جو فوج ہے اس کی تعداد مسلمانوں کی نسبت بہت زیادہ ہے لیکن وہ یہ بھول گیا تھا کہ اس کے سپاہیوں میں لڑنے کا جذبہ رہا ہی نہیں۔

ادھر سعدؓ بن ابی وقاص بڑی ہی لمبی بیماری سے اٹھے تھے ۔ان پر یہ الزام بھی لگ گیاتھا کہ وہ بیماری کا بہانہ بنا کر لیٹ گئے ہیں ۔انہوں نے اپنے لشکر کے دلوں سے یہ الزام صاف کر دیا تھا لیکن ایک خلش سی تھی جو حضرت سعد ؓکے دل سے نہیں نکلی تھی۔ اس وجہ سے وہ کوئی مافوق الفطرت کارنامہ کرنے کا تہیہ کیے ہوئے تھے ۔قادسیہ کی جنگ میں شامل نہ ہونے کا جو صدمہ انہیں تھا، اسے بھی دل سے اتارنا ضروری تھا۔ جس کا ایک ہی طریقہ تھا کہ وہ تھوڑی سی تعداد کے ساتھ بہت بڑی تعداد پر غالب آجائیں۔

سعد ؓنے اپنی قلیل تعداد کو اس طرح منظم کیا کہ دشمن کا مقابلہ بھی کر سکیں اور مجاہدین ان کے کنٹرول میں بھی رہیں۔ انہوں نے وہی طریقہ اختیار کیا کہ آمنے سامنے ٹکر لینے کے بجائے دائیں بائیں سے حملے شروع کر دیئے۔ انہوں نے ضرب لگاؤ اور بھاگو کے اصول پر لڑتے ہوئے فارسی فوج کا یہ حال کر دیا کہ وہ بکھر گئی اور وہ فیروزان کے قبضے سے نکل گئی۔ بکھرتے بکھرتے فارس کے یہ فوجی دور دور تک ایک دوسرے سے الگ ہو گئے اور مجاہدین نے انہیں بہت جانی نقصان پہنچایا۔

فیروزان کا پرچم جب تک نظر آتا رہا اس وقت تک فارسی مقابلہ کرتے رہے ۔ان کے مقابلے کا انداز جارحانہ نہیں بلکہ دفاعی تھا۔ وہ جانیں بچانے کیلئے لڑ رہے تھے ،اچانک فیروزان کا پرچم غائب ہو گیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ فیروزا ن مارا گیا ہے لیکن جلد ہی پتا چل گیا کہ وہ بھاگ گیا ہے۔ پھر یہ بھی پتا چلا کہ اس نے نہاوند میں جا پناہ لی ہے۔ اس کے فوجیوں نے جو مجاہدین کی تلواروں اور برچھیوں سے بچ گئے تھے، ہتھیار ڈال دیئے۔

سعد ؓبن ابی وقاص وہاں سے حیرہ چلے گئے۔

٭

بُرس شہر سے کچھ دور زہرہ بن حویہ نے فارسیوں کے کچھ دستوں کو بہت بری شکست دی تو ان بچے کھچے فارسیوں میں سے زیادہ تو بابل کی طرف چلے گئے اور کچھ بُرس شہر میں جا پہنچے۔ ادھر سعدؓ بن ابی وقاص نے فیروان کو پسپا کیاتو فارس کی فوج کے دستوں میں سے بھی زیادہ تر بابل کو بھاگ گئے اور کچھ بُرس شہر میں چلے گئے۔ بُرس کے شہریوں کو پہلے ہی پتا چل گیا تھا کہ ان کی فوج قادسیہ کی جنگ ہار کر بری طرح ماری گئی ہے اور ہزار ہا سپاہی دریائے عتیق میں ڈوب گئے ہیں اور ہاتھی بھی مسلمانوں کی تلواروں سے زخمی ہو کر دریا میں کود گئے ہیں تو ان شہریوں پر خوف وہراس طاری ہو گیا۔ اب ان کے فوجی بُرس میں جا پہنچے ۔ان میں کچھ زخمی بھی تھے۔ انسانی فطرت کے عین مطابق انہوں نے یہ ظاہر نہ ہونا دیا کہ وہ بزدل اور بے حوصلہ ہو کر بھاگ آئے ہیں۔ بلکہ شہریوں کو یہ بتایا کہ مسلمانوں کی تعداد بھی زیادہ ہے اور وہ وحشی اور خونخوار بھی ہیں۔

اس شہر کا رئیس یا امیر بسطام تھا۔ یہ آتش پرست اتنا زیادہ امیر کبیر تھا کہ کہ اس کے گھر میں اچھا خاصا خزانہ دفن تھا۔ اس کی دو جوان بیٹیاں بھی تھیں۔ اسے احساس تھا کہ وہ مسلمانوں کے مقابلے میں نہیں ٹھہر سکتا۔ مقابلے میں آنے کے لئے اس کے پاس تھا ہی کیا!فارس کی تمام فوج باہر تھی اور باہر جس کیفیت میں تھی وہ بیا ن ہو چکی ہے ۔بھاگتی ہوئی یہ فوج اپنے کسی شہر کو مسلمانوں سے نہیں بچا سکتی تھی۔ اسے یہ بھی معلوم تھا کہ اس نے مقابلہ کیا تو اس کا نتیجہ یہی ہو گا کہ مسلمان اس کا سارا مال و دولت مالِ غنیمت میں لے لیں گے اور اس کی بیٹیوں کو کنیزیں بنا لیں گے۔

وہ اپنے گھر میں بیٹھا یہی سوچ رہا تھا کہ وہ کیا کرے کہ اسے باہر شوروغل سنائی دیا۔ وہ اس طرح ڈرتے ڈرتے باہر نکلاجیسے مسلمان شہر میں داخل ہو گئے ہوں۔ لیکن باہر شہر کے لوگ ہجوم کرکے آگئے تھے اور وہ بازو لہرا لہرا کر واویلا بپا کر رہے تھے۔

’’شہر مسلمانوں کے حوالے کر دو۔‘‘

’’مسلمانوں کا استقبال کرو۔‘‘

’’انہیں شہر میں آنے دو۔‘‘

’’ہماری عزتیں اور جان و مال بچاؤ۔‘‘

’’ہماری فوج ہمارے جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت نہیں کرسکتی۔‘‘

شہریوں کے یہ مطالبے ، یہ نعرے اور یہ واویلا بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ عورتیں مردوں سے آگے آکر بسطام سے کہہ رہی تھیں ہمیں کہاں چھپاؤ گے؟کیا ہمیں عربو کے حوالے کر دو گے؟

’’نہیں!‘‘بسطام نے اتنی زور سے گرج کر کہا کہ ہجوم خاموش ہو گیا۔ بسطام کہہ رہا تھا۔’’ میں تمہارے فیصلے کا منتظر تھا ۔تمہاری طرح میں نے بھی دیکھ لیا ہے کہ ہماری اتنی بڑی فوج عربوں سے شکست کھا کر کٹ گئی ہے اور جو بچ گئی ہے وہ ڈرے ہوئے مویشیوں کی طرح سارے علاقے میں بھاگی بھاگی پھر رہی ہے۔ ہمارا بادشاہ محل میں بیٹھا عیش کر رہا ہے۔ تم لوگ میرا ساتھ دو۔ میں عربو ں کے ساتھ سمجھوتا کر لوں گا۔ پھر تمہیں وہ سب کچھ کرنا پڑے گا جو میں تمہیں بتاؤں گا۔‘‘

٭

سعدؓ بن ابی وقاص اسی علاقے میں جا رہے تھے۔ تاریخ میں یہ واضح نہیں کہ اس وقت وہ کس مقام پر تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ ایک بڑے ہی شاندار گھوڑے پر شاہانہ لباس میں ملبوس ایک شخص ان کی طرف آرہا ہے ۔وہ کوئی معمولی آدمی معلوم نہیں ہو تا تھا۔ اس کے پیچھے چھ گھوڑ سوار تھے اور ان کے پیچھے چار پانچ خچر تھے ۔جن پر کچھ سامان لدا ہوا تھا۔‘‘

سعد ؓبن ابی وقاص کے قریب آکر وہ شخص گھوڑے سے اترا ۔اس کے ساتھی بھی گھوڑوں سے اتر آئے ۔شاہانہ لباس میں ملبوس اس شخص نے سعدؓ کے قریب آکر اس طرح سلام کیا کہ اس کا ایک گھُٹنہ زمین پر تھا اوراس نے ہاتھ اپنے سینے پر رکھا اور سر جھکا لیا۔

’’خدا کی قسم!یہ شخص میرے دین کی توہین کر رہاہے ۔‘‘ سعد ؓنے اپنے ترجمان سے کہا۔’’ اسے کہو کھڑا ہو جائے۔ میں فارس کا بادشاہ نہیں ہوں کہ لوگ میرے سامنے جھک کر اس طرح آداب بجا لائیں ۔اسے بتاؤ کہ ہم جو مذہب تمہارے لیے اپنے ساتھ لائے ہیں اس میں اﷲ کا کوئی بندہ اﷲ کے کسی بندے کو اپنے آگے جھکا نہیں سکتا……اور اس سے پوچھو کہ یہ کیوں آیا ہے؟‘‘

ترجمان نے اس شخص کو یہ ساری بات جو سعدؓ نے کہی تھی اس کی زبان میں سمجھائی۔ اس شخص نے ترجمان کے ذریعے اپنا تعارف کرایا اور آنے کا مدعا بیان کیا۔

’’میرا نام بسطام ہے۔‘‘ اس نے کہا۔’’ میں بُرس کا امیر ہوں اور میں صلح کرنے کے ارادے سے آیا ہوں۔ میرے شہر کے لوگ بھی صلح چاہتے ہیں ۔میں کچھ تحفے لایا ہوں اور صرف یہ شرط پیش کرتا ہوں کہ ہماری عزتیں اور جان و مال محفوظ رہیں۔ میں اس کے عوض آپ کی پیش قدمی کو بہت ہی آسان بنا دوں گا۔ شہر کے لوگ آپ کی پوری پوری مدد کریں گے۔‘‘

’’ہم تحفے نہیں لیا کرتے۔‘‘ سعدؓ بن ابی وقاص نے کہا۔’’ ہم جانتے ہیں کہ اس شہر کے لوگوں کی حفاظت کیلئے فوج موجود نہیں۔ تم نے ہم سے پناہ مانگی ہے تو ہم تمہیں اور تمہارے لوگوں کو پناہ دیں گے۔ واپس جاؤ اور لوگوں سے کہو کہ وہ امن اور اطمینان سے رہیں۔‘‘

بسطام اپنے تحفے لے کر چلا گیا ۔وہ علاقہ جس میں مسلمان مختلف سمتوں سے مدائن کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے، سر سبز و شاداب علاقہ تھا لیکن خاصا علاقہ بنجر، ویران اور سطح مرتفع تھا۔ندی نالے بھی تھے اور گہرے نشیب بھی تھے۔ کھڈ اور کھائیاں بھی تھیں ۔ایسی زمین پر پیش قدمی کے راستے لمبے ہو جاتے تھے ۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ بسطام شہر کے لوگوں کو باہر لے آیا اور ا س نے بڑی تیزی سے ندی نالوں پر لکڑی کے پُل بنا دیئے اور کئی قدرتی رکاوٹیں ہٹا دیں ۔مسلمانوں کو اپنے گائیڈ بھی دیئے اور ان کی دیگر ضروریات بھی پوری کیں۔

ان انتظامات نے مجاہدین کی پیش قدمی آسان کر دی۔

٭

زہرہ بن حویہ ایک اور سمت سے پیش قدمی کر رہے تھے۔ ان کے راستے میں کوثیٰ نام کا ایک شہر آتا تھا ۔بسطام کے دیئے ہوئے رہنماؤں نے زہرہ بن حویہ کو بتایا کہ کوثیٰ میں کچھ فوج موجود ہے اور بہت سے بھاگے ہوئے فوجی بھی وہاں جمع ہو گئے ہیں۔ اس مخبر نے یہ بھی بتایا کہ اس شہرکا رئیس شہریار ہے جو فوج کا جرنیل بھی ہے اور وہ جذبے والا بھی ہے۔

’’کیا شہریار ہمارا راستہ روکے گا؟‘‘ زہرہ نے پوچھا۔

’’ضرور روکے گا۔‘‘ گائیڈ نے جواب دیا۔’’ میں اپنے ایک ساتھی کے ساتھ کوثیٰ سے آیا ہوں۔ اس نے فوج کو اور شہریوں کو بھی لڑائی کیلئے تیار کر لیا ہے اور ا س کی تیاریوں کا انداز بتاتا ہے کہ وہ شہر سے باہر آکر لڑے گا ۔اس نے فوجیوں اور شہریوں کو بہت گرمایا ہے اور کہا ہے کہ مسلمانوں کی تعداد بہت تھوڑی ہے اور وہ چار دنوں کی لڑائی اور تعاقب سے اتنے زیادہ تھکے ہوئے ہیں کہ ان میں لڑنے کی ہمت نہیں رہی……وہ یہی سمجھتا ہے کہ آپ کے آدمی بہت تھک گئے ہیں ۔اس لیے وہ باہر کھلے میدان کی لڑائی کی تیاری مکمل کر چکا ہے۔‘‘

زہرہ بن حویہ نے اپنے مجاہدین کو بتا دیا کہ کوثیٰ کے قریب دو بدو لڑائی کا خطرہ ہے۔ ا س نے مجاہدین کو ترتیب میں کر لیا اور بڑھتے چلے گئے۔ کوثیٰ سے ابھی کچھ دور ہی تھے تو زہر ہ نے دیکھا کہ شہر کے باہر کھلے میدان میں فارس کی فوج لڑائی کی ترتیب میں کھڑی ہے۔ فوج کی تعداد بہت تھوڑی تھی اور مجاہدین میں بہرحال یہ کمزوری بھی تھی کہ وہ تھکے ہوئے تھے ۔وہ تو اب ایمان اور جذبے کی قوت پر بھروسہ کیے ہوئے تھے۔

دونوں فریق آمنے سامنے آگئے۔ شہر یار اپنے لشکر کے آگے گھوڑے پر سوار تھا۔ اس کی جسامت اس زمانے کے پہلوانوں جیسی تھی۔ وہ قوی ہیکل آدمی تھا۔ صاف پتا چلتا تھا کہ وہ کسی ہتھیار کے بغیر بھی لڑے تو اپنے حریف کو گرا سکتا ہے۔

’’عرب کے بد بختو! ‘‘شہریار نے للکار کر کہا۔’’ تمہیں موت عجم کے مقابلے میں کہاں لے آئی ہے۔ رستم بزدل تھا جو مارا گیا۔ یہاں سے تم آگے نہیں بڑھ سکو گے۔ کیا تمہارے لیے یہ اچھا نہیں ہو گا کہ اپنی جانیں صحیح سلامت لے کر واپس چلے جاؤ؟‘‘

’’اس کا فیصلہ تلوار کرے گی۔‘‘ زہرہ بن حویہ نے شہریار کی للکار کا جواب دیا۔’’ کون اپنی جان لے کر یا گنوا کر یہاں سے جاتا ہے ۔اس کا فیصلہ اﷲ کے ہاتھ میں ہے۔ جس کے دین کو ہم اپنے سینوں میں لے کر تمہارے ملک میں آئے ہیں۔‘‘

’’اس کا فیصلہ میرے ہاتھ میں ہے ۔‘‘شہریار نے بڑی بلند اور رعونت آمیز آواز میں کہا۔’’ تیرے اﷲ کو یہاں کون پہچانتا ہے ؟تم سب کو لاشوں میں تبدیل کرنے سے پہلے میں تمہارے ساتھ کچھ کھیل تماشہ کرناچاہتا ہوں……کیا تم میں کوئی ایسا بہادر ہے جو میرے مقابلے میں آئے؟‘‘

’’تیرے مقابلے کیلئے میں نے خود آگے ہونا تھا۔‘‘ زہرہ بن حویہ نے کہا۔’’ لیکن اے بد قسمت آتش پرست!تو نے میرے اﷲ کو للکارا ہے۔ میں تیرے مقابلے میں ایک غلام کو آگے کرتا ہوں۔‘‘

علامہ شبلی نعمانی نے تاریخِ طبری اور علامہ بلاذری کے حوالے سے لکھا ہے کہ زہرہ بن حویہ نے ایک خطرہ مول لیا تھا کہ شہریار جیسے دیو ہیکل پہلوان کے مقابلے میں جس مجاہد کو آگے بھیجا وہ ایک دبلا پتلا اور بظاہر کمزور سا آدمی تھا۔ وہ بنو تمیم کا ایک غلام تھا۔ جس کا نام نابل تھا۔ نابل گھوڑے پر سوار شہر یار کی طرف بڑھا تو شہریار نے بڑی زور سے قہقہہ لگایا ۔ زہرہ بن حویہ کو نابل پرنہیں بلکہ اﷲ پر بھروسہ تھا اور یہ اس کاعقیدہ اور یقین تھا کہ اﷲ اس کمزور سے آدمی کی مدد کوآئے گا۔ لیکن ظاہری طور پر اس مقابلے کا انجام صاف طور پر نظر آرہا تھا اور فارس کی فوج سے قہقہے بلند ہو رہے تھے۔

شہریار نے جب نابل کو دیکھا تو وہ یہی سمجھا ہو گا کہ مسلمانوں نے اس کے ساتھ مذاق کیا ہے۔ وہ گھوڑے سے اترا ۔اس کے ہاتھ میں برچھی تھی جو اس نے پھینک دی۔ نہتہ ہو کر لڑنے سے وہ یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ اس کمزور سے آدمی کو تو وہ خالی ہاتھ مار ڈالے گا۔

نابل بھی گھوڑے سے اتر آیا۔ اس کے پاس تلوا رتھی۔ شہریار نے اپنی برچھی الگ پھینک دی تو نابل نے بھی اپنی تلوار پھینک دی۔ اچانک شہریار نابل پر جھپٹا اور اسے اٹھا کر زمین پر پٹخ دیا ۔نابل پیٹھ کے بل گرا۔ ابھی اٹھنے ہی لگا تھا کہ شہریار اس کے سینے پر بیٹھ گیا ۔کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اتنا کمزور آدمی ایسے قوی ہیکل آدمی کے وزن کے نیچے سے نکل آئے گا، لیکن شہریار کا ایک ہاتھ نابل کے منہ کی طرف چلا گیا۔نابل نے اس کا انگوٹھااپنے منہ میں لے کر اتنی زیادہ زور سے کاٹاکہ شہریار تلملا اٹھا اور اپنا انگوٹھا چھڑانے کیلئے ایک پہلو پر کچھ زیادہ ہی جھک گیا ۔نابل نے جسم کی پوری طاقت صرف کر کے شہریار کو اسی پہلو پر گرا دیا اور اس کا انگوٹھا دانتوں میں دبائے رکھا۔ نابل کی تلوار قریب ہی زمین پر پڑی تھی۔ اس نے ٹانگ لمبی کر کے تلوار پاؤں سے اپنی طرف کر لی اور بڑی تیزی سے تلوار اٹھا کر شہریار کے پیٹ اور سینے کے درمیان برچھی کی طرح اتار دی اور اٹھ کھڑا ہوا۔ تلوار کھینچ کر اسی تیزی سے تلوار کا وار کیا اور شہریار کا پیٹ چاک کر دیا۔ ا س کے بعد شہر یار تڑپنے کے سوا اور کچھ نہ کر سکا۔

مسلمانوں کی طرف سے دادو تحسین کے نعرے اور تکبیرکے نعرے بلند ہو نے لگے۔ فارس کی فوج اور شہریوں پر سناٹاطاری ہو گیا ۔نابل شہریار کو تڑپتا اور پھر مرتے دیکھتا رہا۔ جب شہریار مر گیا تو نابل نے اس کی کمر سے بندھی ہوئی تلوار اور نیام کھولی ۔یہ بڑی ہی قیمتی تلوا رتھی۔ اس کے دستے میں ہیرے اور بڑے قیمتی پتھر جڑے ہوئے تھے۔ شہریار کا لباس جو شاہانہ تھا ،بہت ہی قیمتی کپڑے کا تھا۔ اس کی خود بھی قیمتی تھی۔ نابل نے اس کے کپڑے اتار لیے اور اس کی ہر چیز ہتھیار اور اس نے جو برچھی پھینکی تھی وہ بھی اور یہ ساری چیزیں اسی کے گھوڑے پر رکھ کر اس کے گھوڑے پر پکڑ لایا اور یہ تمام تر مالِ غنیمت اپنے سالار زہرہ بن حویہ کے آگے پیش کر دیا۔

شہر یار کے لشکر نے جب یہ دیکھا کہ اتنے دبلے پتلے اور کمزور سے آدمی نے ان کے قوی ہیکل جرنیل کو کتنی آسانی سے قتل کر دیا ہے تو ان میں بے چینی پیدا ہو گئی ۔ا س لشکر میں قادسیہ سے بھاگے ہوئے فوجی بھی تھے ۔وہ ایک بار پھر بھاگ اٹھے لیکن جو ذرا عقل والے تھے انہوں نے آگے آکر ہتھیار ڈال دیئے۔

کوثیٰ شہر کے لوگوں نے جب یہ صورتِ حال دیکھی تو انہوں نے شہر کے بڑے آدمیوں کا ایک وفد زہرہ بن حویہ کے پاس بھیجا ۔اس وفد نے کہا کہ مسلمان شہر میں آکر قبضہ کرلیں اور شہر کے لوگ جزیہ دیں گے۔ محمد حسنین ہیکل نے لکھا ہے کہ شہر کے کئی لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔

زہرہ بن حویہ کو معلوم تھاکہ اس وقت سعدؓ بن ابی وقاص کہاں ہیں۔ اس نے سعدؓکو پیغام بھیجا کہ کوثیٰ ان کے قبضے میں آگیا ہے۔ شہریار اورنابل کے مقابلے کی تفصیل بھی انہوں نے لکھی اورپوچھا کہ نابل نے شہریار کی لاش سے جو اشیاء اٹھائی ہیں ا ن کاکیا کیا جائے ؟سعدؓ بن ابی وقاص نے یہ جواب بھیجا کہ وہ اشیاء خواہ کتنی ہی قیمتی کیوں نہ ہوں، وہ سب نابل کو دے دی جائیں۔ یہ سب نابل کا حق ہے۔ اس کے علاوہ سعد ؓنے زہرہ کو یہ حکم بھیجا کہ وہ ہاشم بن عتبہ کو ساتھ لے کر مدائن کی طرف پیش قدمی کریں۔

٭

زہرہ بن حویہ اور ہاشم بن عتبہ اپنے تھکے ماندے مجاہدین کو ساتھ لے کر مدائن کی طرف بڑھے۔ مدائن سے پہلے ایک بڑا شہر ساباط آتا تھا ۔ساباط کے بالکل قریب ایک اور مقام تھا جس کا نام بہرشیر تھا۔ ساباط میں وہ شاہی رسالہ تھا جس کا ذکر پوران نے یزدگرد سے کیا تھا۔ پچھلے با ب میں اس رسالے کا بھی ذکر آچکا ہے۔ یہ دو ہزار گھوڑ سواروں کا رسالہ تھا۔ جسے شاہی رسالہ بھی کہا جاتا تھا اور پوران بنتِ کسریٰ کا رسالہ بھی کہا جاتا تھا۔ اس رسالے کے سوار ہر صبح اکٹھے ہو کر بلند آواز سے یہ عہد کرتے تھے کہ جب تک یہ رسالہ موجود ہے فارس کی سلطنت کو زوال نہیں آنے دے گا اور فارس کی عظمت کو ہمیشہ زندہ ق تابندہ رکھے گا۔ اس رسالے کے ساتھ ایک شیر بھی تھا جو رسالے کے ہر سوار کے ساتھ تو مانوس تھا لیکن دشمن کیلئے وہ ویسا ہی شیر تھا جیسے جنگل کا شیر ہوتا ہے۔ بعض مؤرخوں نے لکھا ہے کہ اس شیر کی مناسبت سے ہی اس مقام کو بہرشیر کہا جاتا تھا۔

مجاہدین جب ساباط کے قریب پہنچے تو اس جانباز رسالے کو اپنے مقابلے کیلئے تیار پایا۔ جب مجاہدین قریب پہنچے تو آتش پرستوں نے شیر کا منہ مجاہدین کی طرف کر کے چھوڑ دیا۔

مجاہدین کیلئے لڑائی میں شیر کا شامل ہونا انوکھی سی بات تھی اور بہت ہی خطرناک۔ شیر سے انسان تو ڈرتاہی ہے لیکن گھوڑا شیر کو دیکھ کر اتنا خوفزدہ ہو جاتا ہے کہ سوار کے قابو سے نکل جاتا ہے اور ہر طرف بھاگتا پھرتا ہے۔ اس شیر کو اپنی طرف آتا دیکھ کر مسلمانوں کے گھوڑے خوف سے ہنہنانے لگے اور ان میں بے چینی پیدا ہو گئی۔ فارسیوں کے گھوڑے اس شیر سے مانوس تھے، صرف ایک شیر کی وجہ سے مسلمانوں کا پسپا ہونا قدرتی امر تھا لیکن ہاشم بن عتبہ نے جان کی بازی لگا دی اور اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی ۔اُس کا رُخ شیر کی طرف تھا۔

شیر گھوڑے کو دیکھ کر رُک گیا اور گھوڑے پر حملہ کرنے کیلئے اپنے جسم کو سکیڑنے لگا۔ ہاشم کا گھوڑا ڈرنے لگا اور اس نے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا۔ ہاشم گھوڑے سے کود کر اترا اور گھوڑے کو وہاں سے بھگا دیا ۔خود تلوار نکال کر شیرکے سامنے چلا گیا ۔شیر جست لگا کر اس پر جھپٹا ۔ہاشم نے بڑی تیزی سے ایک طرف ہو کر اپنے آپ کو گرا دیا۔ شیر دووسرے حملے کیلئے پیچھے مُڑا۔ اتنے میں ہاشم اٹھ کر تیار ہو چکا تھا ۔اب شیر نے اس پر پہلے سے زیادہ شدت سے جست لگائی ۔ہاشم نے بڑی پھرتی سے ایک طرف ہو کر تلوار کا وار کیا جو شیر کی اگلی ٹانگوں پر سینے کے قریب پڑا۔ اس سے شیر اتنا زخمی ہو گیا کہ جب اس کے پاؤں زمین پر لگے تو وہ سنبھل نہ سکا اور لڑھکنے لگا۔ زخمی شیر بہت ہی زیادہ خطرناک ہو تا ہے۔ وہ اٹھ ہی رہا تھا کہ ہاشم نے دوڑ کر اس کی گردن پر تلوار ماری۔ گردن پوری تو نہ کٹی لیکن اس کا سر ڈھلک گیا ۔شیر ایک بار پھر گرا۔ ہاشم نے تلوار سے اس کا پیٹ چاک کر دیا اور پھر شیر اٹھنے کے قابل نہ رہا۔

اس شاہی رسالے کے سواروں کو توقع نہیں تھی کہ کوئی مسلمان اس قدر دلیر ہو سکتا ہے کہ شیر کے سامنے آکر اسے تلوار سے مار ڈالے ۔ یہ نظارہ انہوں نے دیکھا تو اس سے ان کے لڑنے کے جذبے پر چوٹ پڑی۔ بیشک یہ رسالہ ہر روز اپنی جانبازی اور فارس کی سلامتی کا عہد کرتا تھا ،لیکن اس کے سوار بھی دیکھ رہے تھے کہ اتنی بڑی فوج اتنی کم تعداد کے مسلمانوں سے آگے کس طرح بھاگی آرہی ہے۔ اس کا مطلب یہی ہو سکتا تھا کہ مسلمانوں میں کوئی سمجھ نہ آنے والی طاقت موجود ہے جومسلسل لڑتے اور تعاقب میں آتے جا رہے ہیں۔ ان میں تھکن کے ذرا سے بھی آثار نہیں پائے جاتے ۔اب انہوں نے اپنے اس خونخوار شیرکو ایک مسلمان کے ہاتھوں مرتے دیکھا تو ان کے دلوں پر مسلمانوں کا جو خوف سوار تھا وہ کئی گنا بڑھ گیا۔

زہرہ بن حویہ کو توقع تھی کہ یہ رسالہ تازہ دم ہے اور اس کے سوار بھی تجربہ کار ہیں، اس لیے یہ بڑا ہی شدید حملہ کرے گا ،لیکن رسالے میں کوئی ایسی حرکت نہ ہوئی۔ زہرہ بن حویہ نے جب یہ دیکھا تو اس نے اپنے سواروں کو حملے کا حکم دے دیا۔ فارسی سواروں کی اگلی صف حملہ روکنے کیلئے تیار ہو گئی۔ لیکن ان کے ایک پہلو سے کچھ سواروں نے گھبرا کر بہرشیر کا رخ کیا اور گھوڑے دوڑا دیئے۔ ان کی دیکھا دیکھی پچھلی صف کے سوار بھی بھاگ اٹھے۔ پھر یہ بھیڑ چال بن گئی اور پورے کا پورا رسالہ بھاگ اٹھا اور بہر شیر میں داخل ہو کر شہر کے دروازے بند کر دیئے ۔بہرشیر بالکل قریب تھا۔

زہرہ بن حویہ نے آگے بڑھ کر شہر کا محاصرہ کر لیا۔

٭

اس شاہی رسالے کے سواروں کو توقع نہیں تھی کہ کوئی مسلمان اس قدر دلیر ہو سکتا ہے کہ شیر کے سامنے آکر اسے تلوار سے مار ڈالے ۔ یہ نظارہ انہوں نے دیکھا تو اس سے ان کے لڑنے کے جذبے پر چوٹ پڑی۔ بیشک یہ رسالہ ہر روز اپنی جانبازی اور فارس کی سلامتی کا عہد کرتا تھا ،لیکن اس کے سوار بھی دیکھ رہے تھے کہ اتنی بڑی فوج اتنی کم تعداد کے مسلمانوں سے آگے کس طرح بھاگی آرہی ہے۔ اس کا مطلب یہی ہو سکتا تھا کہ مسلمانوں میں کوئی سمجھ نہ آنے والی طاقت موجود ہے جومسلسل لڑتے اور تعاقب میں آتے جا رہے ہیں۔ ان میں تھکن کے ذرا سے بھی آثار نہیں پائے جاتے ۔اب انہوں نے اپنے اس خونخوار شیرکو ایک مسلمان کے ہاتھوں مرتے دیکھا تو ان کے دلوں پر مسلمانوں کا جو خوف سوار تھا وہ کئی گنا بڑھ گیا۔

زہرہ بن حویہ کو توقع تھی کہ یہ رسالہ تازہ دم ہے اور اس کے سوار بھی تجربہ کار ہیں، اس لیے یہ بڑا ہی شدید حملہ کرے گا ،لیکن رسالے میں کوئی ایسی حرکت نہ ہوئی۔ زہرہ بن حویہ نے جب یہ دیکھا تو اس نے اپنے سواروں کو حملے کا حکم دے دیا۔ فارسی سواروں کی اگلی صف حملہ روکنے کیلئے تیار ہو گئی۔ لیکن ان کے ایک پہلو سے کچھ سواروں نے گھبرا کر بہرشیر کا رخ کیا اور گھوڑے دوڑا دیئے۔ ان کی دیکھا دیکھی پچھلی صف کے سوار بھی بھاگ اٹھے۔ پھر یہ بھیڑ چال بن گئی اور پورے کا پورا رسالہ بھاگ اٹھا اور بہر شیر میں داخل ہو کر شہر کے دروازے بند کر دیئے ۔بہرشیر بالکل قریب تھا۔

زہرہ بن حویہ نے آگے بڑھ کر شہر کا محاصرہ کر لیا۔

٭

سعدؓ بن ابی وقاص بابل کی طرف چلے گئے۔ امیر بُرس بسطام نے مجاہدین کی پیش قدمی کے راستوں سے قدرتی رکاوٹیں ہٹادی تھیں۔ اس سے پیش قدمی آسان ہو گئی تھی اور تیز بھی۔ اطلاع کے مطابق قادسیہ کے بھگوڑے فارسی بابل کے کھنڈروں میں اکٹھے ہو رہے تھے۔ اس لیے سعدؓ نے مجاہدین کے دستوں کو جو ان کے ساتھ تھے محاصرے کی ترتیب میں کر لیا اور ان سے کہا کہ محاصرے کا اشارے پر ہلّہ بول دینا ہے۔

مجاہدین احتیاط سے آگے بڑھنے لگے۔

’’جتنے آدمی اندر ہیں سب باہر آجائیں۔ ‘‘قریب جا کر سعد ؓبن ابی وقاص نے اعلان کرایا۔’’ لڑو گے تو کسی ایک کو بھی زندہ نہیں چھوڑا جائے گا۔ باہر آکر ہتھیارڈال دو گے، تو تمہاری حیثیت اور عزت برقرار رہے گی۔‘‘

بابل کے کھنڈرات وسیع و عریض علاقے پر پھیلے ہوئے تھے۔ ہر طرف سے اعلان کیے گئے لیکن کوئی جواب نہ آیا۔ آخر ایک ضعیف العمر دودھ کی مانند سفید داڑھی ،سیاہ چغے میں ملبوس جھکا جھکا اپنے قد سے لمبے عصا کے سہارے باہر آیا۔ سعدؓبن ابی وقاص نے اسے دیکھ لیا اور اپنے ایک محافظ سے کہا کہ اس بزرگ کو ان کے پاس لے آئے۔

وہ بوڑھا قریب آیا تو سعدؓ گھوڑے سے اُتر کر اس سے ملے۔

’’اے عربی سالار!‘‘سفید ریش بزرگ نے کہا۔ ’’کسے پکار رہے ہو؟ وہ سب بھاگ گئے ہیں۔ جس فوج کے افسر بھاگ اٹھیں، اس فوج کے سپاہی میدان میں کیسے ٹھہر سکتے ہیں……ان کھنڈروں میں گھوم پھر کر دیکھ لو۔ کچھ زخمی سپاہی پڑے کراہ رہے ہیں اور اپنے ان ساتھیوں اور افسروں کو کوس رہے ہیں جو انہیں اس حالت میں چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔ اس کے علاوہ چار نوجوان لڑکیاں ہیں جو اپنی ہی فوج کے آدمیوں کی درندگی کا شکار ہو کر ادھر اُدھر پڑی ہیں۔‘‘

سعدؓ بن ابی وقاص آگے بڑھے ۔علامہ شبلی نعمانی نے تاریخِ طبری اور فتوح البلدان کے حوالے سے لکھا ہے کہ سعدؓ نے سب سے پہلے اس قید خانے کے کھنڈرات دیکھے جس میں ابراہیمؑ نے نمرود کر قید کیا تھا ۔فرطِ جذبات سے سعدؓ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور بے اختیار انہوں نے یہ آیت پڑھی۔’’اور ہم یہ دن لوگوں میں باری باری بدلتے رہتے ہیں۔‘‘

پھر سعد ؓبابل کے کھنڈرات میں گئے۔ شاہی محل کے کھنڈرات عبرت کا نشان بنے ہوئے تھے۔

’’کیا تم جانتے ہو کہ یہ کس شہر کے کھنڈر ہیں؟‘‘سعدؓ بن ابی وقاص نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا اور جواب کا انتظار کیے بغیر کہا۔’’ یہ وہ شہر ہے جس میں اﷲ نے دو فرشتوں ہاروت اور ماروت اتارے تھے اور ان فرشتوں کو جادو کا علم دیا تھا۔ انہوں نے لوگوں سے کہا تھا کہ کہ یہ جادو جائز نہیں لیکن اس وقت کے لوگوں نے یہ جادو سیکھنا بھی، سکھانا بھی اور چلانا بھی شروع کر دیا ……آج دیکھ لو‘ اﷲ نے آج اس جگہ کو کس قدر عبرتناک بنا دیا ہے۔ اگر آتش پرست بادشاہ عبرت حاصل کرتے تو آج انہیں یہ دن نہیں دیکھنا پڑتا کہ ان کے محل تکبیر کے نعروں سے لرز رہے ہیں اور جس فوج پر انہیں بھروسہ تھا کہ ان کی شہنشاہی کو بچا لے گی۔ وہ فوج اﷲ کے مٹھی بھر سپاہیوں کے آگے آگے بکھر بکھر کر بھاگی جا رہی ہے۔ کسریٰ پرویز نے ہمارے رسولﷺ کا پیغامِ حق پھاڑ کر اس کے پُرزے اڑا دیئے تھے۔ آج اس کی شہنشاہی کے پُرزے اُڑ رہے ہیں۔ ‘‘سعدؓ نے سفید ریش بوڑھے کی طرف دیکھا اور پوچھا۔’’ تم یہاں کیا کر رہے تھے؟‘‘

’’میری تو عمر یہیں گزر گئی ہے۔‘‘ بوڑھے نے جواب دیا۔’’ میرا خاندان مذہب پرست تھا۔ مجھے کچھ یاد نہیں کہ میں کب یہاں آیا۔ باپ دادا کابسیرا انہیں کھنڈروں میں تھا۔ ایک ایک کر کے سب مر گئے ہیں۔ میری عمر ایک سو سال سے کچھ زیادہ ہے۔‘‘

’’مذہب کیا ہے تمہارا؟‘‘

’’میرے مذہب کا کوئی نام نہیں۔‘‘ بوڑھے نے جواب دیا۔’’ باپ داد ا سورج کو پوجتے تھے ،کبھی آگ جلا کر عبادت کرتے تھے، وہ دنیا سے اٹھ گئے تو میں نے سب عبادتیں چھوڑ دیں اور اُس خداکو ڈھونڈنے لگا جسے کوئی سورج میں ڈھونڈتا ہے ۔کوئی اسے آگ میں اور کوئی پانی میں ،کوئی آسمانی بجلیوں اور طوفانوں میں تلاش کرتاہے۔میں نے عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ محسوس کرنا شروع کر دیا کہ خدا میرے اپنے وجود میں موجود ہے اور کبھی یہ وہم سا بھی ہوتا کہ میں خود اپنا خدا ہوں……اور جب میں عمر کے اس حصے میں پہنچا جہاں بال سفید ہونے لگتے ہیں تو مجھ پر یہ راز کھلا کہ خدا انہیں ملتا ہے جن کے دلوں میں اس کے بندوں کی محبت ہوتی ہے۔‘‘

سعدؓ بن ابی وقاص اور ان کے ساتھی اس بزرگ کی باتیں بڑے غور سے سن رہے تھے اور ان پر ایسی کیفیت طاری ہوتی جا رہی تھی جیسے اس بوڑھے کی باتوں سے مسحور ہو رہے ہوں۔

’’میں مدائن جاتا رہتا ہوں۔‘‘ بوڑھے نے کہا۔’’ شاہی محلات کو دیکھتا ہو ں۔ بادشاہوں کی شان و شوکت بھی دیکھتا ہوں ،اس شراب کی بو بھی سونگھی ہے جس کا نشہ بادشاہوں کو خدا بنا دیتا ہے ،اور ان حسین و جمیل دوشیزاؤں کو بھی دیکھا ہے جن سے وہ لذت اور سکون حاصل کرتے ہیں۔ پھر میں بابل کے ان کھنڈروں کو دیکھتا ہوں اور سوچتا ہو کہ انسان اپنے آپ کو کیا دھوکے اور فریب دیتا ہے کہ اسے اپنے انجام کا خیال ہی نہیں آتا ……میں تم سے پوچھے بغیر بتا سکتا ہوں کہ تم عرب کے سپہ سالار ہو۔ تمہیں شاید معلوم ہو گا کہ تم کہاں کھڑے ہو……یہ بابل ہے۔ یہ عظیم الشان عبادت گاہوں کا شہر ہوا کرتا تھا ۔تم نے شاید یہ سنا ہو گا کہ اس وسیع و عریض شہر میں معلق باغات ہوا کرتے تھے۔ آج کا انسان سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ باغ کس طرح بنائے گئے تھے جو زمین پر تھے نہ آسمان پر۔ کہتے ہیں کہ ان باغوں میں آکر انسان یہی سمجھتا تھا کہ جنت ہے تو یہی ہے۔

کہاں ہیں وہ باغ؟ان کا نام و نشان نہیں رہا۔ یہاں کے بادشاہوں کے محلات اتنے خوبصورت اور عالی شان تھے کہ ایسی شان و شوکت اور تعمیرات کا ایسا حسن ایک عام آدمی کے تصور میں بھی نہیں آسکتا۔ اس شہر میں حوروں جیسی خوبصورت دوشیزائیں یوں گھومتی پھرتی تھیں جیسی رنگ برنگی چڑیاں معلق باغوں کے پیڑ پودوں پر اُڑتی اور چہچہاتی پھرتی تھیں ۔یہ شہر اشوریوں کی تہذیب و تمدن اور عقیدوں کا مرکز رہا ہے۔ یہاں کئی فاتحین آئے ۔ہر ایک نے اس شہر کی فصیلیں مضبوط کیں اور خوشنما میناروں جیسے برج بنائے ۔ہر فاتح یہاں اپنے تہذیب و تمدن کے آثار چھوڑتا گیا اور اس طرح بابل مختلف تہذیبوں کا گہوارہ بن گیا اور ان تمام تہذیبوں کا بڑا ہی حسین امتزاج تھا لیکن یہاں کے بادشاہ لوگوں کے خدا بن گئے تھے۔ مصر میں فرعون تھے اور یہاں کے بادشاہ فرعونوں سے کم نہ تھے……کیا تم جانتے ہو؟‘‘

’’ہاں میرے بزرگ!‘‘سعدؓ بن ابی وقاص نے کہا۔’’ میں یہ سب جانتا ہوں ۔اس شہر کا ذکر ہماری اس مقدس کتاب میں بھی ہے جو اﷲ تعالیٰ نے ہمارے رسول ﷺ پر نازل کی ہے۔ اسے ہم قرآن کہتے ہیں۔ اﷲ نے ہمیں ان ہی بادشاہوں کے انجام سے خبردار کیا ہے۔ ہماری اس مقدس کتاب میں یہ ذکر یوں آیاہے ’’اور سلیمان کی بادشاہی کے وقت وہ اس علم کو پڑھتے تھے جو شیطان کا علم تھا، یہ کفر سلیمان نے نہیں کیا بلکہ شیطانوں نے کیا کہ وہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور لوگ اس علم کے پیچھے ہو گئے جو شہر بابل میں ہاروت اور ماروت نام کے دو فرشتوں پر اترا تھا یہ دنوں فرشتے جب انسانوں کو یہ جادو بتاتے تو ساتھ کہہ دیتے تھے کہ ہم تو آزمائش کیلئے آئے ہیں لہٰذا تم یہ کفر نہ کرنالیکن لوگ یہ جادو سیکھتے تھے جو مرد اور اس کی عورت کے درمیان جدائی ڈالتا ہے۔ اﷲ کے حکم کے بغیر وہ اس سے سوائے اپنا اور کسی کا نقصان نہیں کر سکتا جس نے جادو کو اختیار کیا اس کیلئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ۔ اگر ان کو سمجھ ہوتی تو وہ اتنی بری چیز کے بدلے اپنی آخرت کو نہ بیچتے۔)سورہ ابقرہ:۱۰۲(

’’تم جادو کی بات کرتے ہو سپہ سالار!‘‘بوڑھے نے کہا۔’’ وہ جادو اب بھی چلایا جا رہا ہے۔ مدائن میں یہودی راہب بھی ہیں ۔وہ اس جادو کے ماہر تسلیم کیے جاتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ مدائن کا بادشاہ ان سے جادو کے ذریعے مدد لے رہا ہے۔ میں نے ایک روز ایک یہودی راہب کو شاہِ فارس کے محل سے نکلتے دیکھا تھا جس سے مجھے شک ہوا کہ بادشاہ ان لوگوں کا سہارا لے رہا ہے……مجھے نظر آرہا ہے کہ فتح تمہاری ہو گی اور سلطنتِ فارس کا تخت تمہارے قدموں تلے ہو گا۔‘‘

’’سب اﷲ کے اختیار میں ہے۔ ‘‘سعدؓ بن ابی وقاص نے کہا۔’’ ہمارے پاس اتنی فوج نہیں جس پر ہم تکبر کریں۔ ہم اﷲ کا حکم لے کر آئے ہیں اور اسی کی پیروی کرتے ہیں،اور پھر انجام اسی کی ذاتِ باری پر چھوڑ دیتے ہیں۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ فتح ہماری ہوگی ۔کون جانے اﷲ کو کیا منظو رہو گا۔‘‘

’’میں تمہاری فتح کی پیش گوئی اس لئے نہیں کر رہا کہ فارس کی فوجیں کٹ چکی ہیں اور جو بچ گئی ہیں وہ بندہ بندہ ہو کر بھاگی جا رہی ہیں۔‘‘ بوڑھے نے کہا۔’’ بلکہ میں کچھ اور دیکھ رہا ہوں۔ انسان اپنے آپ کو خود شکست دیا کرتا ہے ۔فارس کے جرنیل میدانِ جنگ سے بھاگ کر ان کھنڈروں میں پہنچے، سپاہی بھی آئے اور ان کے ساتھ وہ لڑکیاں بھی آئیں جو جرنیلوں اور دوسرے افسروں نے اپنے ساتھ رکھی ہوئی تھیں۔ میرا خیال تھا کہ یہ لوگ یہیں اکٹھے ہو کر انہی کھنڈروں کو مورچہ یا قلعہ بنا کر تمہارا مقابلہ کریں گے لیکن یہاں آکر انہوں نے خوب شراب پی اور پھر ان لڑکیوں پر ان کی آپس میں لڑائیاں ہوئیں، پھر میں نے جرنیلوں اور افسروں کو یہاں سے بھاگتے دیکھا ۔انہیں اطلاع ملی تھی کہ عرب کا لشکر بڑی تیزی سے چلا آرہا ہے اور جو شہر اس لشکر کے راستے میں آتا ہے اس کے رئیس ور دوسرے لوگ عربوں کی اطاعت قبول کر لیتے ہیں اور انہیں ہر طرح کی مدد بھی دیتے ہیں۔ جرنیلوں اور افسروں کے بھاگنے کے بعد فارس کے عہدے داروں اور سپاہیوں نے ان لڑکیوں کو خراب کرنا شروع کر دیا اور ان پر بعض نے تلواروں سے ایک دوسرے کا خون بہانے سے بھی دریغ نہیں کیا……

جس فوج کی نظر میدانِ جنگ میں بھی عورت اور شراب پر لگی ہوئی ہو ،اس کی تعداد اپنے دشمن کے مقابلے میں دس بارہ گنا زیادہ ہی کیوں نہ ہو ،وہ میدان میں نہیں ٹھہر سکتی۔ بابل کی تباہی کے پسِ منظر میں بھی عورت، شراب ،عیش و عشرت اور بادشاہوں کا فرعونوں جیسا تکبر تھا……تم نے نمرود کا نام سنا ہو گا اور تم نے فرعونوں کی باتیں سنی ہوں گی ۔جس طرح فرعون مصر کے خدا بنے ہوئے تھے اسی طرح نمرود اس خطے کا خدا تھا۔ لیکن اس شخص کو موت آئی تو قید خانے میں آئی۔‘‘

’’ہاں میرے بزرگ!‘‘سعدؓ بن ابی وقاص نے کہا۔’’ میں مصر کے فرعونوں کے متعلق بھی جانتا ہوں اور نمرود کے متعلق بھی ۔ اس نمرود کا ذکر بھی ہماری مقدس کتاب میں آیا ہے جسے ہم قرآن کہتے ہیں ۔یہ اﷲ کا کلام ہے ۔شاید تم جانتے ہو گے کہ نمرود کو ہمارے پیغمبر ابراہیمؑ نے قید خانے میں ڈالا تھا۔ ابراہیمؑ کیا تھے……اﷲ کے بندے تھے جنہیں اﷲ نے بنی نوع انسان کی بھلائی و رہنمائی کیلئے پیغمبری عطا کی……نمرود نے کہا کہ میں کیسے مان لوں کہ رعایا کے ایک عام بندے کو اتنا بڑا اعزاز مل جائے ۔اس نے ابراہیمؑ کو گرفتار کیا اور حکم دیا کہ آگ جلائی جائے اور اس شخص کو زندہ آگ میں پھینک دیا جائے ۔آگ جلائی گئی اور جب ابراہیمؑ کو اس میں پھینکنے لگے تو انہوں نے ذرا سا بھی خوف کا یا گھبراہٹ کا اظہار نہ کیا۔ وہ یوں آگ کی طرف چل پڑے جیسے وہ آگ تھی ہی نہیں۔ اُس وقت اﷲ نے آگ کو حکم دیا ……اے آگ سرد ہو جا۔ اتنی سرد بھی نہ ہو کہ اس شخص کو سردی سے بھی تکلیف پہنچے……ابراہیمؑ آگ میں جا کھڑے ہوئے اور آگ سرد ہو گئی ۔بعد میں یہی نمرود ابرایہمؑ کا قیدی بنا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: