Hijaz Ki Aandhi by Inayatullah Altamash – Episode 9

0
حجاز کی آندھی از عنایت اللہ التمش – قسط نمبر 9

–**–**–

عبرت پھر بھی کسی نے حاصل نہ کی۔‘‘ سفید ریش بزرگ نے کہا۔ ’’جس نے انسانیت کو اپنا غلام بنایا اس کا انجام یہی ہوا……انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ گزرے ہوئے وقت کی لغزشوں اور نادانیوں کو بھول کر گزرے ہوئے وقت کو ہی سب کچھ سمجھتا ہے ۔ماضی سے عبرت حاصل نہ کرنے والوں کا یہی حشر ہوتا ہے۔ عیش و عشرت میں جو پڑ جاتے ہیں وہ چڑھتے سورج کے پجاری ہوتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ یہ سورج ڈوب بھی جایا کرتا ہے ……تم ان کھنڈروں کے اندر آؤ‘ تمہیں فارس کی بادشای کے محافظ سِسکتے اور کراہتے نظر آئیں گے۔‘‘ تفصیل سے پڑھئے

سعدؓ بن ابی وقاص اس کے ساتھ کھنڈروں کی طرف چل پڑے۔

اتنے عظیم الشام محلات اور اتنے حسین شہر کے کھنڈرات بڑے ہی ڈراؤنے تھے۔ زیادہ تر مکانات تو بالکل ہی ملبے کا ڈھیر بن گئے تھے ۔بعض عمارتوں کے ستون کھڑے تھے یا ادھوری ادھوری سی ایک ایک دو دو دیواریں کھڑی تھیں۔ محلات کی چھتیں غائب تھیں ۔دیواریں کھڑی تھیں ۔ کچھ عمارتوں کی چھتیں جھک آئی تھیں۔ان میں سانپوں ،اُلوؤں اور چیلوں جتنے بڑے بڑے چمگادڑ وں نے بسیرا کیا ہوا تھا۔

سعدؓ بن ابی وقاص نے مجاہدین کو دور دور تک پھیلے ہوئے کھنڈرات کی تلاشی لینے کیلئے بھیج دیا اور خود قصرِ نمرود کو دیکھنے چلے گئے ۔ان میں حشرات الارض رینگ رہے تھے۔

’’آہ انسان!‘‘سعد ؓنے کہا اور سورہ ہود کی دو آیات پڑھیں۔’’ اور جب تمہارے رب کا حکم آیا تو ان قوموں کو ہلاکت کے سوا کچھ نہ ملا۔ ایسی ہی پکڑ ہے تمہارے رب کی جس بستیوں کو پکڑتا ہے ان کے گناہوں پر بیشک اﷲ کی پکڑ بڑی ہی شدید ہے۔‘‘

اب ایک اور قوم کو ربِ باری تعالیٰ نے پکڑ لیا تھا جو سورج اور آگ کی عبادت کرتی تھی اور جس کے بادشاہوں کے آگے لوگ سجدے کرتے تھے۔ ان بادشاہوں کی جنگی قوت جس نے ہر قوم پر ہیبت طاری کر رکھی تھی ۔ بابل کے کھنڈروں میں پڑی کراہ رہی تھی۔ اپنے زخم چاٹ رہی تھی۔

فارس کے ان زخمی فوجیوں کی تعداد دو ہزار کے قریب تھی ۔ان میں جو اُٹھ سکتے تھے وہ کھنڈروں سے باہر آگئے اور جنہیں زخموں نے نڈھال کر رکھا تھا وہ کراہ رہے تھے۔ ان تمام زخمیوں کی جذباتی کیفیت یہ تھی کہ وہ روتے تھے ۔اپنے افسروں کو کوستے اور اپنے بادشاہوں کو گالیاں دیتے تھے۔

’’سپہ سالار!‘‘سعدؓ بن ابی وقاص کو بنو تمیم کے ایک سردار نے آکر کہا۔’’ زخمیوں کی تعداد کچھ کم نہیں، وہ اپنے سالاروں اور بادشاہوں کی جانوں کو رو رہے ہیں۔ ان میں سے کئی ایک نے کہا ہے کہ وہ اسلام قبول کرنا چاہتے ہیں ۔بعض نے کہا ہے کہ وہ اپنے پورے پورے خاندان سمیت مسلمان ہو جائیں گے۔‘‘

’’نہیں! ‘‘سعدؓ بن ابی وقاص نے کہا۔’’ وہ اپنی جانوں کے خو ف سے اسلام قبول کر رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم انہیں اسی حالت میں پڑا رہنے دیں گے اور یہ زخموں سے خون بہہ جانے سے مر جائیں گے۔ اگر اس حالت میں ہم نے انہیں مسلمان کر لیا تویہ جبر ہوگا اور یہ لوگ دل سے مسلمان نہیں ہو ں گے۔ ان کی مرہم پٹی کا انتظام کرو۔ انہیں پانی پلاؤ۔ یہ بھوکے ہوں گے انہیں کھانا دو اور انہیں بتاؤ کہ تم ہماری پناہ میں ہو اور تم پر کوئی جبر اور تشدد نہیں ہوگا……ان سے ہتھیار لے لو اور ان سے گھوڑے بھی لے لو۔‘‘

فوراً ہی سپہ سالار کی حکم کی تعمیل شروع ہو گئی۔

پھر چار پانچ لڑکیوں کو سعدؓ بن ابی وقاص کے سامنے لایا گیا۔ وہ نو خیز دوشیزائیں تھیں ۔ایک سے بڑھ کر ایک دل کش اور حسین تھی لیکن ان کی جسمانی حالت اتنی بری تھی کہ ان سے چلا نہیں جاتا تھا ۔وہ اس خوف سے چلّا رہی تھیں کہ مسلمان بھی ان کے ساتھ وہی سلوک کریں گے جو ان کھنڈروں میں ان کے اپنے فوجی افسر اور عہدیدار میدانِ جنگ سے بھاگ کر کرتے رہے تھے۔

سعدؓ بن ابی وقاص نے انہیں تسلی دلاسا دیا کہ ان کے ساتھ ویسا سلوک نہیں ہو گا لیکن سب کی سب ایک ہی رٹ لگائے جا رہی تھیں کہ انہیں جان سے مار دیا جائے۔

’’کیا تم اپنے گھروں کو جانا چاہتی ہو؟‘‘ ان سے پوچھا گیا۔

’’نہیں!‘‘سب نے باری باری کہا۔’’ ہم میں سے کوئی بھی زندہ نہیں رہنا چاہتی۔‘‘

’’میں تمہیں ایسی زندگی دوں گا کہ تم سب زندہ رہنا چاہو گی۔‘‘ سعدؓ بن ابی وقاص نے کہا۔’’ تم ہماری عورتوں کے ساتھ رہو گی۔ کوئی مرد تمہارے قریب سے گزرے گا بھی نہیں۔‘‘

سعدؓ کے حکم سے انہیں گھوڑوں پر بٹھا کر پیچھے عورتوں کے پاس بھیج دیا گیا۔

٭

مدائن دریائے دجلہ کے سامنے والے کنارے پر آباد تھا اور بُہر شیر اس کے بالمقابل اس طرف والے کنارے پر واقع تھا ۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ مدائن اور بُہر شیر ایک ہی شہر تھا جس کے درمیان سے دجلہ بہتا تھا ۔اس لیے شہر کے دونوں حصوں کا نام الگ الگ رکھ دیئے گئے تھے۔

مدائن کی دریا کی طرف والی دیوار دریا سے اڑھائی تین فرلانگ دور تھی۔ بارشوں کے موسم میں دریا میں سیلاب آجایا کرتا تو پانی شہر کی دیوار تک پہنچ جایا کرتا تھا۔ وہ علاقہ نشیبی تھا۔ اس لیے وہاں پانی جمع رہتا اور وسیع تالاب بنے رہتے تھے۔ وہاں درختوں کی بہتات تھی اور ہرے سرکنڈوں کا جنگل بھی تھا۔

ماہی گیر اور ملاح دریا کے کنارے اپنے اپنے کاموں میں مصروف دکھائی دیتے تھے لیکن وہ ان وسیع تالابوں کی طرف نہیں جاتے تھے کیونکہ اس علاقے میں ان کا کوئی کام نہیں ہوتا تھا اور اس لیے بھی کہ یہ علاقہ خطرناک بھی تھا۔ ان تالابوں میں پانی کے عفریت دیکھے گئے تھے۔ تین چار بڑے مگر مچھ اور اتنے ہی چھوٹے مگرمچھ تھے ۔ ان کے علاوہ ایک اژدھا بھی دیکھا گیا تھا جو پانی میں رہتا تھا۔ یہ بیس بائیس فٹ لمبا اورایک فٹ سے زیادہ موٹا سانپ تھا ۔یہ پانی میں رہنے والی نسل سے تھا جو درخت پر بھی چڑھ جایا کرتا تھا۔ بھیڑ، بکری اور انسان کو سالم نگل لیا کرتا تھا۔

یہ عفریت نہ ہوتے تب بھی یہ علاقہ بڑا ہی ڈراؤنا لگتا تھا۔ راتوں کو یہاں الّوؤں کی آوازیں سنائی دیا کرتی تھیں اور دن کو درختوں پر گدھ بیٹھے رہتے تھے اور بڑے چمگادڑ درختوں سے الٹے لڑکے رہتے تھے۔ ان سینکڑوں چمگادڑوں کی کی چیختی ہوئی آوازیں دن کے وقت بھی ڈرا دیا کرتی تھیں۔

لوگ کہتے تھے کہ اس علاقے میں جنات اور چڑیلوں کا بسیرا ہے۔ بہت دنوں سے رات کو درختوں کے گھنے جھنڈ میں روشنی نظر آنے لگی تھی جو کچھ دیر نظر آتی اور غائب ہو جاتی تھی ۔ماہی گیروں اور ملّاحوں نے مدائن کے لوگوں کو بتایا تھا کہ ان درختوں اورسرکنڈوں کے گھنے جنگل میں ایک کُٹیا ہے جو پہلے نہیں ہوا کرتی تھی۔

رات کو شہر کے لوگوں نے دیوار پر چڑھ کر دیکھا تھا اور انہیں وہاں روشنی نظر آئی تھی۔ ہر رات لوگ شہرِ پناہ پر چلے جاتے اور اُدھر دیکھتے تھے۔

’’شہر پر بہت بڑی آفت آنے والی ہے۔‘‘ لوگ کہتے تھے۔

’’آفت تو آچکی ہے۔‘‘ بزرگ کہتے تھے۔’’ عرب کے مسلمان آسمانی آفت کی طرح آرہے ہیں۔ ہماری فوج آدھی بھی نہیں رہی اور جو ہے وہ نہ جانے کہاں کہاں پناہیں ڈھونڈ رہی ہے۔‘‘

لوگوں کے یہ خوف اور اندیشے شاہی محل تک پہنچے تو وہا ں سے یہ حکم جاری ہوا کہ شہر کا کوئی شخص دن کو یا رات کو شہرِپناہ پر نہیں چڑھ سکتا اور اگر کوئی پکڑا گیا تو اس کی وہیں گردن مار دی جائے گی۔

٭

شاہی محل میں شاہِ فارس یزدگرد ، اس کی ماں نورین اور سوتیلی بہن پوران کو معلوم تھا کہ دریا کے کنارے اُس خطرناک دلدلی علاقے میں راتوں کو جو روشنی دکھائی دیتی ہے وہ کیا ہے۔ انہیں اب اسی روشنی پر بھروسہ تھا اور اس یقین کو انہوں نے عقیدہ بنا لیا تھا کہ یہ روشنی مسلمانوں کو اندھا اور کمزور کر دے گی اور وہ شاہِ فارس کے آگے ہتھیار ڈال کر اس کے غلام ہو جائیں گے۔

جس وقت فارس کا لشکر قادسیہ سے پسپا ہواتھا اور رستم مارا گیا تھا اور یہ خبر شاہی محل پر بم کی طرح گری تھی تو مدائن کا ایک معمر یہودی راہب یزدگرد کے پاس گیا تھا۔ اس نے یزدگرد کے ساتھ بہت باتیں کیں اور اسے یقین دلایا تھا کہ وہ مسلمانوں کی پیش قدمی کو نہ صرف روک لے گا بلکہ انہیں تباہ و برباد کر دے گا۔

اس یہودی راہب نے کہا تھا کہ اسے چند ایک اشیاء مہیا کر دی جائیں تو وہ ایسا جادو کر سکتا ہے جو مسلمانوں کے سالاروں کو جسمانی طور پر بھی اندھا کر دے گا اور وہ عقل کے بھی اندھے ہو جائیں گے۔ اس نے جن اشیاء کا مطالبہ کیا تھا ان میں ایک نوخیز دوشیزہ تھی دو الو اور ایک نوزائیدہ بچہ جس کی عمر تین دن سے زیادہ نہ ہو۔ ا س نے یہ بھی کہا تھاکہ کچھ اور اشیاء بھی درکار ہیں جووہ خود اکٹھی کرلے گا۔

یہ اشیاء اکٹھی کرتے کرتے خاصا وقت گزر گیا تھا۔ نوخیز دوشیزہ کا حصول تو کوئی مشکل کام نہ تھا۔ بادشاہ کے درباری ایسی دلکش لڑکیوں کی تلاش میں رہتے تھے۔ کسی بھی حسین دوشیزہ کے والدین اسے شاہی محل کے حوالے کرنے میں فخر محسوس کیا کرتے تھے۔ یہودی راہب کو اس کی ضرورت کے مطابق ایک لڑکی دے دی گئی تھی لیکن لڑکی کو یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ اسے شاہی حرم کیلئے نہیں بلکہ کسی اور مقصد کیلئے اس بوڑھے راہب کے حوالے کیا گیا ہے۔

راہب اسے اپنی عبادت گاہ میں لے گیا تھا اور اسے خاص قسم کی غذا دی جاتی تھی۔ آدھی رات کے وقت راہب لڑکی کو اپنے سامنے فرش پر بٹھا لیتا تھا اور اس کے کپڑے اترواکر اسے ایک سیاہ چغہ پہنا دیتا تھا۔ اسی چغے کا بالائی حصہ لڑکی کے سر کو بھی ڈھانپ لیتا تھا ۔راہب اس کے ماتھے پر اپنا ایک ہاتھ یوں پھیلا دیتا تھا کہ انگوٹھا لڑکی کی ایک کنپٹی پر اور درمیان والی انگلی دوسری کنپٹی پر ہوتی۔ راہب اس کی کنپٹیاں آہستہ آہستہ مسلتا اور بڑبڑاتا رہتا تھا۔ دن کو لڑکی اپنے کپڑوں میں سوئی رہتی تھی اور کچھ وقت کیلئے اس سے کوئی خاص عبادت کرائی جاتی تھی۔

’’اے مقدس راہب! ‘‘ایک روز لڑکی نے یہودی سے پوچھا ۔’’یہ سب کیا ہے اور مجھے میرے گھر سے یہاں کیو ں لایا گیا ہے؟ میں تو کچھ اور سمجھی تھی۔‘‘

’’ہاں لڑکی!‘‘یہودی راہب نے کہا۔’’ وہی ٹھیک ہے جو تم سمجھی تھیں۔ تم اتنے دنوں سے یہاں ہو ،تم دیکھ رہی ہو کہ تمہارے اتنے زیادہ حسین اور دلکش جسم میں میرے کسی آدمی نے دلچسپی نہیں لی۔ نہ تمہارے ساتھ کوئی بیہودہ حرکت کی ہو گی۔ تمہارے جسم کو پاک اور مقدس رکھا جائے گا۔‘‘

’’لیکن کیوں؟‘‘

’’اس لیے کہ تمہیں شاہِ فارس یزدگرد کی ملکہ بننا ہے۔‘‘ یہودی راہب نے جھوٹ بولا۔’’ تم نے اسے دیکھا ہو گا۔ وہ بہت خوبصورت اور دانشمند ہے ۔وہ تمہیں حرم میں نہیں رکھے گا۔ اس نے تمہیں ملکہ بنانے کیلئے منتخب کیا ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ تمہاری ذات میں وہ خوبیاں پیدا کروں جو ملکہ میں ہونی چاہئیں۔‘‘

لڑکی پر نشہ طاری ہو گیا جیسے وہ ملکہ بن گئی ہو۔

٭

یزدگرد دوسرے تیسرے دن یہودی کو بلا کر پوچھتا تھا کہ اس کا جادو کہاں تک پہنچا ہے؟ راہب کے پاس ایک ہی جواب ہوتا تھا کہ وہ وقت ضائع نہیں کر رہا اور یہ بھی کہ اتنا زبردست جادو اتنی جلدی تیار نہیں ہوا کرتا۔

یزدگرد کو اپنی فوج کی پسپائی اور مسلمانوں کی پیش قدمی کی جو خبریں روز بروز مل رہی تھیں، وہ اس کے پاؤں تلے سے زمین نکال رہی تھیں۔ پورا فارس اس کی مٹھی سے نکل رہا تھا اور اس قدر مایوس اور پریشان ہو گیا کہ ایک روز اس نے یہودی راہب کو بلایا۔

’’اگر آپ سے کچھ نہیں ہو سکتا تو مجھے بتا دیں۔‘‘ یزدگرد نے کہا۔’’ میں آپ کو کوئی سزا نہیں دوں گا۔‘‘

’’اپنی عبادت گاہ میں میرا جو کام تھا وہ ختم ہو گیا ہے۔‘‘ یہودی راہب نے کہا۔’’ میں نے دریا کے کنارے ایک جھونپڑا تیار کروا لیا ہے ۔لڑکی کو وہاں لے جا رہا ہوں۔ دو الو وہاں پہنچا دیئے گئے ہیں۔ چار پانچ دنوں بعد مجھے ایک نوزائیدہ بچے کی ضرورت ہو گی۔‘‘

’’کیا آپ جانتے ہیں کہ مسلمان کہاں تک آگئے ہیں؟‘‘یزد گرد نے کہا۔’’ بُرس پر ان کا قبضہ ہو گیا ہے۔ کوثیٰ میں شہریار مارا گیا ہے اور یہ شہر بھی مسلمانوں کے پاس چلا گیا ہے ۔سورا اور دیرا پر بھی مسلمان قابض ہو گئے ہیں اور اب انہوں نے بُہر شیر کا محاصرہ کر لیا ہے۔ اِدھر آپ ہیں کہ دن پر دن گزارتے چلے جارہے ہیں ۔کیا آپ اُس وقت کچھ کریں گے جب مسلمان مدائن میں داخل ہو جائیں گے؟‘‘

’’شہنشاہِ فارس!‘‘بوڑھے یہودی نے کہا۔’’ آپ میری کچھ باتیں بھول گئے ہیں۔ میں نے کہا تھا کہ آپ کسی طریقے سے اپنی فوج کا حوصلہ مضبوط کریں ، خواہ آپ کو خود آگے جانا پڑے۔ مجھے یہ توقع تھی کہ ہماری فوج کہیں نہ کہیں مسلمانوں کو روک لے گی اور کچھ دن روکے رکھے گی اور مسلمانوں کی پیش قدمی تیز نہیں ہو گی۔ میں اتنے وقت میں اپنا کام مکمل کر لوں گا لیکن ہماری فوج نے کہیں بھی قدم جمانے کی کوشش نہیں کی ……جادو اگر ایک انسان پر کرنا ہو تو ذراسی دیر میں ہو جاتا ہے لیکن ایک لشکر کو جادو کے زور پر روک لینے کیلئے بہت وقت درکار ہوتا ہے۔ اس جادو کی تیاری میں اپنی جان کا بھی خطرہ ہوتا ہے۔ اگر میں آپ کو خوش کرنے کیلئے جلد بازی کروں تو جادو کمزور ہونے کی وجہ سے بیکا رہو سکتا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جادو اُلٹا اثر کر جائے۔ اس صورت میں آپ کی تباہی کا عمل اور تیز ہو جائے گا۔ آپ یہ کام کریں کہ بُہر شیر میں کمک بھیجیں تاکہ محاصرہ لمبا ہو جائے۔ اپنی فوج کو پیغام بھیجیں کہ غیب سے مدد آرہی ہے ۔جم کر لڑیں۔‘‘

یہ تھا وہ جادو جس کا ذکر قرآن پاک میں آیا ہے اور جسے اﷲ تعالیٰ نے اپنے دو فرشتوں ہاروت و ماروت سے منسوب کیا ہے اور اس کے ساتھ ہی اسے شیطان کا کام کہا ہے۔ یہودی جسے اﷲ تعالیٰ نے دھتکاری ہوئی قوم کہا تھا، اس جادو کے پیچھے پڑ گئے ۔یہودی کی فطرت میں ہے کہ وہ ہر اس کام کو پسند کرتا ہے جس کام میں شیطان کا عمل دخل ہو۔ جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ یہودی مسلمانوں کے جانی دشمن تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کے خلاف جادو کا استعمال بھی کیا رسول کریمﷺ پر انہوں نے جادو بھی چلایا اور دھوکے سے زہر بھی دیا۔ اس کے علاوہ جہاں کہیں مسلمانوں کو کامیاب ہوتے دیکھا وہاں زمین دوز کارروائیوں سے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی اور مسلمانوں کے دشمنوں کو ہر طرح سے مدد دینے کی اور ا ن کے ہاتھ مضبوط کرنے کی کوشش کی۔ وہ آج تک ان کوششوں میں مصروف ہیں۔

یہ بوڑھا یہودی راہب یزدگرد کو جادو کا سہارا دے رہا تھا۔ یہ نہیں بتایا جا سکتا تھا کہ وہ واقعی جادو کر رہا تھا یا جادو چلانا بھی جانتا تھا یا نہیں۔ لیکن وہ یزدگرد کا حوصلہ مضبوط کررہا تھا اور اُسے اُکسا رہا تھا کہ وہ اپنی فوج کا حوصلہ مضبوط کرے۔ اس نے یزدگرد پر اپنا اثر ڈال لیا تھا۔ اثر بھی اتنا جیسے اسے ہپناٹائز کرلیا ہو۔

٭

اُسی رات یہ بوڑھا یہودی اس لڑکی کو شہر سے باہر دریا کے کنارے اس علاقے میں لے گیا جس میں سیلابی پانی کے تالاب بنے رہتے تھے اور جہاں درختوں اور سرکنڈوں کا گھنا جنگل تھا ۔وہاں اس نے ایک کُٹیا بنا لی تھی، جس میں زیادہ تر لکڑی استعمال کی گئی تھی۔ اس کا ایک جواں سال چیلا بھی اس کے ساتھ تھا۔ وہاں انہوں نے اپنے لیے اور لڑکی کیلئے کھانا پکانے کا اور بستروں کا بھی انتظام کرلیا تھا۔ ان کا زیادہ تر کام رات کو کٹیاکے باہر ہوتا تھا۔

راہب نے دو اُلّو بھی پکڑ رکھے تھے۔ انہیں کوئی ایسی غذا کھلاتا تھا کہ وہ اُڑ کر کہیں جاتے ہی نہیں تھے۔ کُٹیا میں ہر وقت لوبان کی دھونی جلتی رہتی تھی۔ رات کو راہب لڑکی کو سیاہ چغہ پہنا کر دو زانو بٹھا لیتا تھا۔ ایک اُلّو اس کے دائیں کندھے پر اور دوسرا بائیں کندھے پر بٹھا دیتا تھا۔ کُٹیا میں ایک فانوس جلتا رہتا تھا۔ اس کی روشنی تھی جو لوگوں کو دور سے نظر آتی تھی اور اسے وہ پراسرار روشنی سمجھتے تھے۔ یہ تو کوئی بھی نہیں سوچ سکتا تھا کہ یہاں کوئی انسان آباد ہے۔

کچھ دنوں بعد لڑکی نے بوڑھے راہب کے اشاروں پر بولنا شروع کر دیا۔ راہب اس سے کچھ پوچھتا تھا اور لڑکی جواب دیتی تھی ۔اس کا انداز اور لہجہ ایسا ہوتا تھا جو لڑکی کا قدرتی انداز نہیں تھا۔ صاف پتا چلتا تھا کہ وہ کسی اورکے اثر کے تحت بول رہی ہے۔

’’نہیں……ابھی نہیں، ابھی کام نہیں ہوا ۔ابھی ہو گا بھی نہیں۔‘‘

یہ لڑکی کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ تھے۔ تین چار راتیں اس کی زبان سے یہی الفاظ نکلتے رہے ۔ان سے پتا چلتا ہے کہ راہب کے جادو کا اثر کم از کم اس لڑکی پر ہو گیا تھا ۔وہ لڑکی سے آنے والے وقت کے متعلق معلوم کرنا چاہتا تھا اور یہ بھی دیکھنا چاہتا تھا کہ اس کے جادو میں اثر کس حد تک پیدا ہوا ہے۔ یہ بھی جادو کا اثر تھا کہ جب لڑکی بول چکتی تو دونوں اُلّو اپنی مخصوص آواز میں بولتے تھے ،جیسے ویرانے میں اُلّو بولا کرتے ہیں۔

ابھی نوزائیدہ بچے کونہیں لایا گیا تھا۔ شاید یہودی کے عمل کا وہ مرحلہ ابھی شروع نہیں ہوا تھا۔

یزد گرد نے اپنے متعدد قاصد اپنی فوج کی طرف بھیج دیئے۔ انہیں پیغام یہ دیا کہ وہ جہاں کہیں بھی ہیں، اکٹھے ہوجائیں۔ غیب سے مدد آرہی ہے۔ جم کر مقابلہ کریں اور اب مسلمانوں کی پیش قدمی پسپائی میں بدلنے ہی والی ہے۔

بُہر شیرمدائن سے کچھ دور نہیں تھا۔ درمیان میں صرف دریا حائل تھا۔ یزدگرد نے وہاں بھی پیغام بھجوایا اور کہا کہ جہاں جہاں اپنے فوجی موجود ہیں، وہاں سے انہیں بُہر شیر لے آؤ اور بُہر شیر کا دفاع مضبوط کروتاکہ مسلمان شہر کا محاصرہ کریں تو محاصرہ اتنا طویل ہو جائے کہ وہ مایوس ہو کر واپس چلے جائیں۔

٭

سعدؓ بن ابی وقاص بابل سے چلے تو راستے میں فارس کے بیشمار شہریوں نے جن میں مختلف بستیوں کے رؤسا اور اُمراء شامل تھے سعدؓ سے آکر ملے اور اطاعت قبول کی اور اپنا تعاون پیش کیا۔ زیادہ تر مؤرخوں نے لکھا ہے کہ ان میں لوگوں میں سے کئی ایک نے اسلام قبول کر لیا اور کئی جزیہ کی ادائیگی پر رضا مند ہو گئے۔

سعدؓ بن ابی وقاص بُہر شیر پہنچ گئے۔ انہیں پہلے ہی اطلاع مل چکی تھی کہ ہاشم بن عتبہ نے بہر شیر کے شیر کو تلوار سے مار ڈالا تھا۔ تاریخِ طبری میں لکھا ہے کہ سعدؓ نے جواں سال ہاشم بن عتبہ کو گلے لگالیا اور اس کا ماتھا چوما ۔ہاشم نے جھک کر بڑے احترام سے سعدؓ کے پاؤں اور گھٹنے چھو لیے۔ہاشم بن عتبہ سعدؓ بن ابی وقاص کا بھتیجا تھا۔

پہلے بیان ہو چکا ہے کہ مدائن اور بہر شیرایک ہی شہر کے دو حصے تھے۔ ان کے درمیان سے دجلہ گزرتا تھا۔ بغداد مدائن سے بیس میل دور چھوٹی سی ایک بستی ہوا کرتی تھی۔ مؤرخوں ے لکھا ہے کہ مدائن شروع سے ہی فارس کا دارالسلطنت چلا آرہا تھا۔ تعمیرات اور باغات کے لحاظ سے بابل کی خوبصورتی مشہور تھی۔ وہ تو قصہ پارینہ ہو چکی تھی اور ا س کے کھنڈر اس پر نوحہ کناں تھے۔ اس کے بعد خوبصورتی کے لحاظ سے جس شہر نے شہرت پائی وہ مدائن تھا۔ اپنے اس دارالسلطنت کو دنیا کاحسین شہر بنانے کیلئے ملک کے خزانے لُٹا دیئے گئے تھے۔

مدائن پر رومیوں کا بھی قبضہ رہا اور مدائن بار ہا اندرونی بغاوتوں سے بھی دوچار ہوا۔ اس کا امن و سکون تباہ ہوا۔ اس کی گلیوں میں خون بہہ گیا، لیکن ا س شہر کے حسن و جمال میں کوئی فرق نہ آیا۔ ایک یورپی مؤرخ نے لکھا ہے کہ مدائن میں ساحرانہ کشش تھی۔ اجنبی اس شہر میں آکر مسحور ہو جاتے تھے۔ یہاں کے قحبہ خانوں ،شراب خانوں ،رقص گاہوں اور عشرت کدوں کی شہرت دوسرے ملکوں تک پہنچی ہوئی تھی۔

سعدؓ بن ابی وقاص بُہر شیرسے کچھ دور خیمہ زن ہو کر دجلہ کے پار مدائن کو دیکھ رہے تھے، جو ایک ہیرے کی طرح چمک رہا تھا ۔اس کی شہرِ پناہ پر بُرج اور ان کے سنہری کلس دیکھے۔ شاہی محل کے گنبد اور مینار دیکھے۔ کسریٰ کا محل بلندی پر کھڑا تھا، اس لیے شہر کی دیوار دیکھنے والوں کی نظروں کے آگے رکاوٹ نہیں بنتی تھی۔ مؤرخوں کے مطابق یہ محل اپنے زمانے میں عجائباتِ عالم میں شمار ہوتاتھا۔ یہ محل کسریٰ نوشیرواں نے ۵۵۰ء میں تعمیر کروایا تھا ۔معمار رومی ا ور یونانی تھے، اس لیے یہ محل روم اور یونان کے فنِ تعمیر کا غیر معمولی طور پر حسین شاہکار بن گیا تھا۔

محمد حسنین ہیکل نے محل کے سامنے کی چوڑائی ایک سو پچاس میٹر سے زیادہ اور بلندی چالیس میٹر لکھی ہے ۔اس کے پانچ گنبد تھے۔ درمیان والا گنبد سب سے زیادہ بڑا اور اونچا تھا۔ اس کے نیچے ایوانِ کسریٰ تھا، یہیں کسریٰ کا تخت تھا۔ جس میں جڑے ہوئے ہیروں اور نایاب پتھروں کی قیمت کا کوئی اندازہ نہیں کرسکتا تھا۔ اس کے کئی حصے تو خالص سونے کے بنے ہوئے تھے۔

سعدؓ بن ابی وقاص گھوڑے پر سوارایک بلند ٹیکری پر کھڑے تھے۔ ان کے ایک طرف زہرہ بن حویہ اور دوسری طرف ہاشم بن عتبہ گھوڑوں پر سوار موجود تھے۔ تین چار مؤرخوں نے لکھا ہے کہ سعدؓکچھ دیر مدائن کی طرف دیکھتے رہے، انہوں نے اتنا بڑا اور خوبصورت شہر شاید پہلی بار دیکھا تھا اور انہیں توقع تھی کہ وہ اس شہر کو فتح کر لیں گے اور یہ سلطنتِ فارس کے تابوت میں آخری کیل ہو گی۔ انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا اور دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر اﷲ کا شکر ادا کیا اور پھر بلند آواز سے یہ آیت پڑھی:

’’کیا تم نے قسم نہیں کھائی تھی کہ تمہارے لیے زوال نہیں ہے!‘‘

اس وقت سعدؓ بن ابی وقاص کے ذہن میں یقینا فارس کی عظیم سلطنت کا زوال تھا۔

’’میرے عزیزو!‘‘سعد ؓبن ابی وقاص نے زہرہ اور ہاشم سے کہا۔’’ مدائن کے ان گنبدوں کے نیچے کسریٰ پرویز نے رسول ﷺ کا پیغامِ حق پھاڑکر اڑا دیا تھا……کیا تمہیں یہ گنبد لرزتے محسوس نہیں ہو رہے؟‘‘

’’بیشک……بیشک!‘‘زہرہ اور ہاشم بیک زبان بولے اور دونوں نے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر کہا۔’’اﷲ……اﷲ۔‘‘

٭

اس وقت وہ بُہر شیر سے کچھ دور تھے۔ ان کے تمام دستے جو قادسیہ سے پسپا ہونے والے فارسیوں کے تعاقب میں بکھر گئے تھے ،ان کے پاس پہنچ گئے تھے ۔رات کو سعدؓ نے سالاروں اور قبیلوں کے سرداروں کو بلایا۔

’’میں جانتا ہوں کہ مجاہدین بہت تھکے ہوئے ہیں۔‘‘سعدؓ بن ابی وقاص نے کہا۔’’ خدا کی قسم!ان کی ہڈیاں ٹوٹ رہی ہوں گی لیکن ہم آرام کرنے بیٹھ گئے تو آتش پرستوں کی فوج اس شہر میں اکٹھی ہو جائے گی، اور ہمارے لیے بہت بڑی رکاوٹ بن جائے گی ۔ہمیں فوراً اس شہر پر حملہ کر دینا چاہیے ۔ شہر کے دروازے کھلے ہیں ۔اگر ہم شہر میں داخل ہو گئے تو اندر جتنی بھی فوج ہوئی اس کا مقابلہ کر لیں گے……اگر دروازے بند ہو گئے تو محاصرہ بہت لمبا ہو گا۔ مجاہدین کو شہر پر حملے کیلئے فوراً تیار کرو۔‘‘

اِدھر مجاہدین کو حملے کیلئے تیار کیا جانے لگا اُدھر فارس کی وہ فوج جو بُہر شیر کے باہر نظر آرہی تھی، وہ بڑی تیزی سے شہر کے اندر چلی گئی اور شہر کے دروازے بند ہو گئے۔ فوراً ہی بعد شہر کی دیواروں کے اوپر یہ فوجی تیر کمانیں لیے کھڑے نظر آنے لگے۔

بُہر شیر کی وہ دیوار جو دریا کی طرف تھی، وہ دریا کے اندر تھی۔ وہیں سے مدائن تک پل تھا ۔تاریخ میں یہ پتا نہیں چلتا کہ یہ پُل کشتیوں کا تھا یا لکڑی وغیرہ سے بنایا گیا تھا۔ یہ واضح رہے کہ پل اتنا مضبوط تھا کہ اس سے زیادہ سے زیادہ فوج گزر جاتی تھی۔ سعدؓ بن ابی وقاص کو معلوم نہ ہو سکا کہ رات کے وقت مدائن سے فوج اور دیگر سازوسامان بُہر شیر بھیجا جاتا ہے اور اس طرح شہر کا دفاع بہت مضبوط کیا جا چکا ہے ۔جس شہر کا محاصرہ کیا جاتا تھا، اس شہر کے لوگوں کو کھانے پینے کی اشیاء ملتی رہتیں تو محاصرہ بہت ہی لمبا ہو جاتا تھا۔ بُہر شیر میں خوراک کی کوئی قلت نہیں تھی۔

یزدگرد نے بُہر شیر کو ناقابلِ تسخیر بنانے کا ایسا تہیہ کر لیا تھا کہ وہ خود راتوں کو فوجوں کی نقل و حرکت کی نگرانی کرتا تھا، پھر خود بُہر شیرآکے دیکھتا تھا کہ لوگوں میں دفاع کا جذبہ کمزور تو نہیں ہو گیا۔

اس کی بہن پوران جو فارس کی ملکہ رہ چکی تھی، یزد گرد سے کہیں زیادہ وطن پرست تھی۔ اس نے اپنا وہی طریقہ کار جاری رکھا ہوا تھا کہ گھوڑے پر سوار ہو کر مدائن کی گلیوں میں گھومتی پھرتی، کہیں رُک کر لوگوں کو اکٹھا کرکے بڑے ہی جذباتی اورجوشیلے الفاظ میں ان کے حوصلے مضبوط کرتی ۔بُہر شیر کے لوگوں کو تو اس نے اس قدر گرما دیا تھا کہ بچے بچے فارس پرجان قربان کرنے کیلئے تیار ہو گئے۔

’’تم دیکھ رہے ہو کہ مسلمان آدھے سے زیادہ فارس پر قابض ہو کر تمہارے دروازے تک پہنچ گئے ہیں۔‘‘ یہ پوران کے الفاظ تھے جو مدائن اور بُہر شیر کی گلیوں میں گونجتے اور گرجتے رہتے تھے ۔’’ہمارے جرنیل اور ہماری ساری فوج اتنی بزدل نکلی کہ چند ہزار مسلمانوں کے سامنے بھی نہ ٹھہر سکی۔ ‘‘پوران لوگوں کی غیرت کو جگانے کیلئے اور انہیں ڈرانے کیلئے یہ الفاظ ضرور کہتی تھی ۔’’ان تمام شہروں سے جن پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا ہے، مسلمانوں نے تمام نوجوان لڑکیوں اور جوان عورتوں کو اپنے پاس رکھ لیا ہے اور ان میں جو بہت خوبصورت ہیں انہیں عرب بھیج دیا ہے ۔تم نہیں جانتے کہ مسلمان کیسے وحشی اور درندے ہیں۔ انہوں نے تمام مویشی اپنے قبضے میں لے لیے ہیں ،جنہیں وہ ذبح کرکے کھاتے رہتے ہیں ۔مذہنی پیشواؤں اور بڑے بڑے رئیسوں اور معزز لوگوں کو بھی انہوں نے غلام بنا لیا ہے۔ اگر تم نے مسلمانوں کو یہیں ختم نہ کیا تو تمہارا بھی یہی حال ہو گا۔ تمہاری آنکھوں کے سامنے تمہاری بیٹیاں مسلمانوں کی لونڈیاں اور کنیزیں بنی رہیں گی، تمہارے گھر میں جتنا مال و دولت ہے وہ مسلمان اٹھا لیں گے اور تم فاقہ کشی پر مجبور ہو جاؤ گے۔ یہ بھی سمجھو کہ اپنے دیوتاؤں کا اور زرتشت کا جو قہر تم پر گرے گا وہ بڑا ہی بھیانک ہوگا اور اگر تم عربوں کے آگے جم گئے تو خدائے آفتاب کی ایسی ایسی نعمتیں تم پر نچھاور ہوں گی جنہیں تم تصور میں بھی نہیں لا سکتے۔‘‘

سعدؓ بن ابی وقاص نے آگے بڑھ کر شہر کا محاصرہ کر لیا، تب انہیں پتا چلا کہ دریا کی طرف سے شہر کو کمک اور رسد باقاعدگی سے مل رہی ہے ،لیکن اس کا وہ کوئی سدِباب نہیں کر سکتے تھے کیونکہ دریا کی طرف دیوار کی لمبائی خاصی زیادہ تھی۔ یہ دیکھا گیا کہ تیروں سے کمک کو روکاجا سکتا ہے یا نہیں ۔لیکن جہاں سے تیر چلائے جا سکتے تھے وہاں سے پُل بہت دور تھا۔ سعدؓ بن ابی وقاص نے شہر کے تین اطراف گھوم پھر کر دیکھ لیا۔ شہرِ پناہ پر اس قدر تیر انداز اور برچھیاں پھینکنے والے فارسی موجود تھے کہ آگے بڑھ کر دیوار کو کہیں سے توڑنا یا دیوار پر کمند پھینک کر چڑھنا ناممکن تھا۔

’’میرے عزیز رفیقو!‘‘سعدؓ بن ابی وقاص نے اپنے سالاروں اور سردارو ں کو بلا کر کہا۔’’ تم دیکھ رہے ہو کہ شہر کا دفاع بہت مضبوط ہے اور ہم جانوں کی اتنی قربانی نہیں دے سکتے کہ دروازے کو توڑنے کیلئے آگے بھیجیں ۔محاصرہ لمبا ہو گا جس کا ہمیں صرف یہ فائدہ ملے گا کہ ہمارا لشکر آرام کرلے گا اور جو پہلے کے زخمی ہیں وہ ٹھیک ہو کر لڑائی کیلئے تیار ہوجائیں گے۔ لیکن غور کرو کہ ہم ایک بہت بڑے خطرے میں ہیں جو یہ ہے کہ بیشمار فارسی فوجی چھُپ گئے ہیں۔ ان کے بڑے جرنیل تو مارے گئے ہیں لیکن چھوٹے افسر ابھی زندہ ہیں۔ کیا تمہیں یاد نہیں کہ اسی علاقے کے لوگوں نے مثنیٰ کے خلاف بغاوت کر دی تھی ۔یہ لوگ اب بھی وہ حرکت کر سکتے ہیں ۔اب فوجی بھی ان کے ساتھ ہیں۔ مجھے صاف نظر آرہا ہے کہ یہ لوگ اکٹھے ہو کر ہم پر پیچھے سے حملہ کر سکتے ہیں۔ اِدھر اس شہرمیں بہت سی فوج موجود ہے ۔اگر ہم پر عقب سے حملہ ہو گیا تو شہر کی فوج پھر باہر آجائے گی۔ پھر تم سوچ سکتے ہو کہ ہمارا کیا انجام ہو گا۔ کیا تم میری اس کارروائی کو پسند کرو گے کہ دجلہ اور فرات کے درمیانی علاقے کے لوگوں کو وہ کسان ہیں، فوجی ہیں یا کوئی بھی ہیں ،پکڑ کر ایک جگہ اکٹھا کر لیا جائے اور اُن پر پہرہ لگا دیا جائے؟‘‘

’’بیشک……بیشک!‘‘سعدؓ بن ابی وقاص کی تائید میں کئی آوازیں اٹھیں۔’’ اور یہ کارروائی فوراً ہونی چاہیے۔‘‘

یہ سعدؓ بن ابی وقاص کی دور اندیشی تھی۔ فارس کے اس علاقے کے لوگوں کی فطرت میں یہ شامل تھا کہ وہ ذرا سی بھی گرفت ڈھیلی ہونے پر بغاوت کر دیتے تھے ۔ مؤرخ لکھتے ہیں کہ سعدؓ بن ابی وقاص کی یہ دور اندیشی ان ہی کی عسکری دانشمندی کا کرشمہ تھا۔ اپنے سالاروں کی تائید حاصل کرکے انہوں نے ایک دستہ تمام علاقے کے لوگوں کو پکڑ لانے کیلئے بھیج دیا۔

٭

’’میرے عزیز رفیقو!‘‘سعدؓ بن ابی وقاص نے اپنے سالاروں اور سردارو ں کو بلا کر کہا۔’’ تم دیکھ رہے ہو کہ شہر کا دفاع بہت مضبوط ہے اور ہم جانوں کی اتنی قربانی نہیں دے سکتے کہ دروازے کو توڑنے کیلئے آگے بھیجیں ۔محاصرہ لمبا ہو گا جس کا ہمیں صرف یہ فائدہ ملے گا کہ ہمارا لشکر آرام کرلے گا اور جو پہلے کے زخمی ہیں وہ ٹھیک ہو کر لڑائی کیلئے تیار ہوجائیں گے۔ لیکن غور کرو کہ ہم ایک بہت بڑے خطرے میں ہیں جو یہ ہے کہ بیشمار فارسی فوجی چھُپ گئے ہیں۔ ان کے بڑے جرنیل تو مارے گئے ہیں لیکن چھوٹے افسر ابھی زندہ ہیں۔ کیا تمہیں یاد نہیں کہ اسی علاقے کے لوگوں نے مثنیٰ کے خلاف بغاوت کر دی تھی ۔یہ لوگ اب بھی وہ حرکت کر سکتے ہیں ۔اب فوجی بھی ان کے ساتھ ہیں۔ مجھے صاف نظر آرہا ہے کہ یہ لوگ اکٹھے ہو کر ہم پر پیچھے سے حملہ کر سکتے ہیں۔ اِدھر اس شہرمیں بہت سی فوج موجود ہے ۔اگر ہم پر عقب سے حملہ ہو گیا تو شہر کی فوج پھر باہر آجائے گی۔ پھر تم سوچ سکتے ہو کہ ہمارا کیا انجام ہو گا۔ کیا تم میری اس کارروائی کو پسند کرو گے کہ دجلہ اور فرات کے درمیانی علاقے کے لوگوں کو وہ کسان ہیں، فوجی ہیں یا کوئی بھی ہیں ،پکڑ کر ایک جگہ اکٹھا کر لیا جائے اور اُن پر پہرہ لگا دیا جائے؟‘‘

’’بیشک……بیشک!‘‘سعدؓ بن ابی وقاص کی تائید میں کئی آوازیں اٹھیں۔’’ اور یہ کارروائی فوراً ہونی چاہیے۔‘‘

یہ سعدؓ بن ابی وقاص کی دور اندیشی تھی۔ فارس کے اس علاقے کے لوگوں کی فطرت میں یہ شامل تھا کہ وہ ذرا سی بھی گرفت ڈھیلی ہونے پر بغاوت کر دیتے تھے ۔ مؤرخ لکھتے ہیں کہ سعدؓ بن ابی وقاص کی یہ دور اندیشی ان ہی کی عسکری دانشمندی کا کرشمہ تھا۔ اپنے سالاروں کی تائید حاصل کرکے انہوں نے ایک دستہ تمام علاقے کے لوگوں کو پکڑ لانے کیلئے بھیج دیا۔

٭

٭

اس کارروائی میں کچھ دن لگ گئے ۔لوگوں کو ایک جگہ اکٹھا کیاجاتا رہا اور اس طرح چند دنوں میں ایک لاکھ افراد جو سب کے سب مرد تھے اکٹھے کر لیے گئے۔ کسی کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا ۔انہیں بتایا گیا کہ انہیں کھانے پینے کیلئے ملتا رہے گا اور اس کے سوا کہ انہیں یہیں موجود رہنا پڑے گا کوئی تکلیف نہیں دی جائے گی۔

دو مؤرخوں جن میں محمد حسنین ہیکل بھی شامل ہے لکھاہے کہ مسلمانوں نے اپنے اردگرد ان ہی لوگوں سے خندق کھدوالی تھی تاکہ عقب کے خطرے سے بھی محفوظ ہو جائیں لیکن زیادہ تر مؤرخوں نے ایسی خندق کا ذرا سا بھی ذکر نہیں کیا نہ ہی یہ خندق صحیح معمول ہوتی ہے ۔سعد ؓبن ابی وقاص ایسے جرنیل تھے جو اپنے عقب میں ایسی رکاوٹ کبھی کھڑی نہیں کیا کرتے تھے۔

محاصرہ لمبا ہو تا جا رہا تھا ۔ایک روز ساباط کا ایک رئیس شہرزاد سعدؓ بن ابی وقاص کے پاس آیا۔

’’محترم سپہ سالار!‘‘شہرزاد نے کہا۔’’ آپ نے اس علاقے کے تمام آدمیوں کو اپنے قیدی بنا لیا ہے۔ آپ نے یہ نہیں دیکھا کہ سب کسان ہیں ۔ان کا ذریعۂ معاش کاشتکاری ہے ۔ ان کی گرفتاری کی وجہ سے کھیتی باڑی کا نقصان ہو رہا ہے۔ اگر آپ نے انہیں یہاں بٹھائے رکھا تو کھیتیاں ویران ہوجائیں گی۔ اس کا نقصان لوگوں کوتو ہوگا ہی، خود آپ کو نقصان یہ ہو گا کہ محاصرہ زیادہ لمبا ہو گیا تو آپ کے لشکر کو کھانے کیلئے کچھ بھی نہیں ملے گا۔ یہ سب غریب سے کسان ہیں ۔اگر یہ تیغ زنی اور تیر اندازی کی کچھ سوجھ بوجھ رکھتے تو انہیں فوج میں لے لیا جاتا ۔ان میں آپ کو بہت سے ایسے بھی ملیں گے جو جنگی گھوڑے کی سواری میں بھی مہارت نہیں رکھتے۔

’’لیکن کون ہے جو ان کی ضمانت دے سکتا ہے؟‘‘سعدؓ بن ابی وقاص نے کہا۔’’ ان میں فوجی بھی ہو سکتے ہیں۔‘‘

’’ایک بھی نہیں۔‘‘شہرزاد نے کہا۔’’ ہم نے کوئی ایک بھی فوجی نہیں دیکھا جو کسی بستی میں آکر چھپا ہو۔اس لیے کہ بھگوڑے فوجی لوگوں سے ڈرتے ہیں کہ لوگ انہیں طعنے دیں گے کہ وہ بزدل ہیں اور بھاگ آئے ہیں……ان کی ضمانت میں دیتا ہوں اور میں دوسری بستیوں کے رئیسوں اور جاگیردروں کو بھی لے آتا ہوں۔ وہ سب ان کی ضمانت دیں گے۔ اگر ان سب نے نہیں، صرف چند ایک نے بھی گڑبڑ کی تو آپ ہمیں قتل کر دیں۔‘‘

جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ سعد ؓبن ابی وقاص روز بروز محاذ کی کار گزاری اور صورتِ حال لکھوا کر امیر المومنین ؓکیلئے مدینہ بھیجا کرتے تھے ۔انہوں نے شہرزاد سے کہا کہ وہ آج ہی ان سب کو آزاد کر دیں گے، تاکہ یہ اپنے کام کاج میں مصروف ہو جائیں اور آج ہی قاصد کو مدینہ بھیجیں گے اگر امیر المومنین ؓنے یہ حکم بھیج دیا کہ ان لوگوں کو اپنا قیدی بنائے رکھو تو میں انہیں پھر پکڑنے پر مجبور ہو جاؤں گا۔

تقریباً تمام تارخ نویسوں نے لکھا ہے کہ ان تمام دیہاتی قیدیوں کو یہ وارننگ دے کر آزاد کردیا گیا کہ ذرا سا بھی شک ہوا کہ ان میں سے کچھ لوگ بغاوت پر آمادہ ہیں تو انہیں قتل کر دیا جائے گا۔ اس کے فوراً بعد سعد ؓبن ابی وقاص نے امیر المومنین حضرت عمرؓ کو پیغام بھیجا کہ انہوں نے عقبی خطرے کے پیشِ نظر یہاں کے تما م لوگوں کو گرفتار کر لیا تھا،لیکن کھیتی باڑی کا کام رک جانے کی وجہ سے اور یہاں کے جاگیرداروں اور رئیسوں کی ضمانت پر انہیں رہا کر دیا گیا ہے۔ مجھے اس کارروائی کی توثیق یا تردید درکار ہے۔

قاصد عموماً تیز رفتار گھوڑوں یا اونٹوں پر آیا جایا کرتے تھے ۔کچھ دنوں بعد حضرت عمر ؓکی طرف سے توثیق آگئی ۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ ان لوگوں کو امان دے دو اور اگران میں سے کوئی جزیہ یا خراج دینا چاہے تو وہ لے لو۔ور نہ جبر نہ کرنا کیونکہ جو کام محبت کر سکتی ہے وہ جبر نہیں کر سکتا۔

سعدؓ بن ابی وقاص نے وہاں کے مقامی لوگوں میں سے جاسوس اور مخبر تیار کر لیے جو کسانوں اور غریب مسافروں کے روپ میں اس سارے علاقے میں گھومتے پھرتے رہتے، لوگوں سے ملتے ملاتے اور دیکھتے رہتے تھے کہ کسی گوشے میں بغاوت کی چنگاری تو نہیں سُلگ رہی۔

٭

محاصرے کا ایک مہینہ پورا ہو گیا۔

مدائن کے محل میں یزدگرد اور پورا ن کبھی تو مطمئن ہوتے کہ بُہرشیر کا محاصرہ ناکام ہو جائے گا اور کبھی مسلمانوں کے نعرے سن کر مایوس ہو جاتے کہ مسلمانوں کا د م خم ٹوٹنے کے بجائے ان میں جوش و خروش پیدا ہو تا چلا جا رہا ہے، یزدگرد شاہانہ عیش و عشرت بھول گیا تھا ۔اس نے اپنی ماں سے ملنا ملانا بھی کم کر دیا تھا۔ پوران بھی عیش و عشرت میں کچھ کم نہیں تھی لیکن ان حالات میں کہ مسلمان مدائن کی دہلیز تک پہنچ گئے تھے۔ پوران پر وطن پرستی غالب آگئی تھی۔ ان دونوں نے مذہبی پیشواؤں کوبلا کر کئی بارکہا تھا کہ عبادت گاہوں میں ہر وقت عبادت جاری رکھیں۔

ایک روز وہ یہودی راہب جو مسلمانوں کو روکنے کیلئے بڑا سخت جادو تیار کر رہا تھا، یزد گرد کے پاس آیا اسے دیکھ کر یزدگرد کی آنکھیں چمک اٹھیں جیسے فارس کا نجات دہندہ یہی یہودی راہب ہو۔

’’کیا تم نے اپنا کام مکمل کر لیا ہے؟‘‘یزدگرد نے اسے دیکھتے ہی بیتابی سے پوچھا۔

’’تیاری کا آخری مرحلہ آگیاہے شہنشاہ!‘‘یہودی راہب نے جواب دیا۔

’’کیا تمہیں احساس ہے کہ تم کتنے عرصے سے اس کام میں لگے ہوئے ہو؟‘‘ یزدگر دنے غصیلی آواز میں کہا۔’’ عربی لشکر ہمارے سر پر پہنچ گیا ہے۔‘‘

’’مجھے احساس ہے شہنشاہ! ‘‘راہب نے کہا۔’’ میرا جادو عربی لشکر کو یہیں تباہ کر دے گا۔ اسے پسپائی کی مہلت ہی نہیں ملے گی۔‘‘

’’تو اب کیا لینے آئے ہو؟‘‘ یزد گرد نے کہا۔’’ کیا تم خود نہیں سمجھ سکتے کہ جھوٹی تسلیا ں مدائن کو نہیں بچا سکتیں؟ کبھی تو مجھے شک ہو تا ہے کہ تم یہودی اپنی فطرت کے عین مطابق مجھے دھوکا دے رہے ہو۔ جس سے تمہارا مقصد شاید یہ ہے کہ مسلمان مدائن پر قابض ہوجائیں اور تم مدائن کے خزانوں میں سے اپنا حصہ وصول کرو۔‘‘

’’نہیں شہنشاہ!‘‘بوڑھے راہب نے کہا۔ ’’میں تسلیاں دینے نہیں آیا۔ میں صرف ایک حکم لینے آیا ہوں۔ آخری چیز جو مجھے درکار ہے وہ ایک نوزائیدہ بچہ ہے، جس کی عمر تین دن سے زیادہ نہ ہو۔ میں نے شہر میں اپنے مخبر چھوڑے ہوئے تھے۔ ابھی ابھی مجھے ایک مخبر نے اطلاع دی ہے کہ گذشتہ رات ایک عورت نے ایک بچے کو جنم دیا ہے، وہ بچہ ہمیں دے دیں اور دو دنوں کے بعد آپ میرے جادو کا اثر دیکھ لیں گے۔‘‘

یزدگر دنے اسی وقت حکم دیا کہ جو بچہ رات کو پیدا ہوا ہے ۔وہ اس راہب کو دے دیا جائے ۔اگر بچے کے ماں باپ بچے کی قیمت مانگیں تو اس سے زیادہ قیمت دے کر بچہ لے لیا جائے اور اگر وہ بچہ کسی قیمت پر نہ بھی دینا چاہیں تو تو بچہ اٹھا لیا جائے اور اس راہب کے سپرد کر دیا جائے۔ یزد گرد نے یہ بھی کہا کہ بچے کے ماں باپ مزاحمت کریں تو انہیں قتل کر دیا جائے۔

حکم ملتے ہی یزدگرد کے محافظ دستے کے چار آدمی اس گھر جا پہنچے اور بادشاہ کا حکم سنایا۔ ماں نے لپک کر نوزائیدہ بچے کو سینے سے لگا لیا۔ماں کو بتایا گیا کہ اس بچے کی وہ جتنی قیمت مانگے گی اس سے زیادہ قیمت دی جائے گی۔

’’نہیں!‘‘ماں نے بچے کو سینے سے چپکاتے ہوئے کہا ۔’’یہ میرا پہلا بچہ ہے۔ آسمان کے ستارے توڑ لاؤ تو بھی میں یہ بچہ نہیں دوں گی۔‘‘

محافظوں نے بچے کے باپ کی طرف دیکھا ۔باپ نے بھی بچہ دینے سے انکار کر دیا اور اس نے محافظوں کے قدموں میں بیٹھ کر التجا کی کہ وہ ان پر یہ ظلم نہ کریں۔

’’ان سے بچہ چھین لو۔‘‘ محافظوں کے کمانڈر نے حکم دیا۔

محافظ سپاہوں نے بچہ ماں کے سینے سے نوچ لیا ۔ماں نے چند ہی گھنٹے پہلے بچے کو جنم دیا تھا۔ اس لیے بھی وہ ا ٹھنے کے قابل نہیں تھی۔ پھر بھی وہ کھڑی ہو گئی تھی لیکن سپاہی کے دھکے سے وہ گری تو پھر اٹھ نہ سکی۔ اس کے خاوند نے اسے اٹھایا۔ اتنی دیر میں محافظ سپاہی اس بچے کو لے جا چکے تھے ۔پیچھے ماں کی چیخیں رہ گئی تھیں ۔وہ دروازے کی طرف دوڑتی تھی اور خاوند اسے پکڑتا تھا اور رو رو کر کہتا تھا کہ یہ بادشاہوں کا حکم ہے جس کی خلاف ورزی کی جرأت رستم بھی نہیں کر سکتا تھا۔

ماں چیختی چلاتی رہ گئی اور بچے کو یہودی راہب لے گیا۔

٭

آدھی رات کا وقت ہو گا جب دریا کے کنارے تالابوں والی ویران جگہ پر یہودی راہب نے اس لڑکی کو دو زانو بٹھا رکھا تھا۔ روز مرہ کی طرح لڑکی چغے میں ملبوس تھی۔ اس سے پہلے وہ لڑکی کو کُٹیا کے اندر بٹھایا کرتا تھا ۔اس رات اس نے لڑکی کو کُٹیا کے باہر ایک قدرتی تالاب کے قریب بٹھایا اور نوزائیدہ بچے اس کی گود میں دے دیا۔

راہب لڑکی کو اپنے عمل سے ہپناٹائز کر کے اس سے کچھ پوچھتا تھا اور لڑکی جواب دیتی تھی۔ ان جوابوں کے مطابق راہب کوئی جادو تیار کر رہا تھا۔ اس کاآخری مرحلہ یہ تھا کہ نوزائیدہ بچے کو اس لڑکی کی گود میں ڈالنا تھا جو اس نے ڈال دیا۔ پھر کُٹیا میں چلا گیا ۔باہر آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک چھری تھی۔ معلوم نہیں کہ اس چھری سے اس نے بچے کو ذبح کرنا تھا یا کہیں سے اس کا خون نکالنا تھا یااس نے لڑکی کی ہی جان لینی تھی۔ چھری دیکھ کر لڑکی کی چیخ نکل گئی۔

’’ڈرو مت لڑکی!‘‘راہب نے بڑے پیار سے کہا۔’’ اس چھری سے مت ڈر۔‘‘

تالاب بالکل قریب تھا ۔یہودی معلوم نہیں کیوں پیچھے ہٹا ۔اچانک اس کی ایک ٹانگ ایک شکنجے میں آگئی۔ لڑکی ایک بار پھر چیخی اور اٹھ کر کُٹیا کی طرف دوڑی۔ پیچھے دیکھا تو اسے یہودی راہب پانی میں ہاتھ مارتا نظر آیا۔ لڑکی کو صاف نظر آرہا تھا کہ ایک مگر مچھ نے یہودی کی ٹانگ پکڑ لی تھی اور اسے گھسیٹ کر تالاب میں لے گیا تھا ۔

یہودی کے شور شرابے پر اس کا جواں سال چیلا کُٹیا سے دوڑتا تالاب کے کنارے تک چلا گیا۔ وہاں ایک نہیں دو مگر مچھ تھے۔ ایک کو تو شکار مل گیا تھا اور دوسرا اس سے اس کا شکارچھیننے کی کوشش کر رہا تھا۔ لڑکی نے بچے کو زمین پر رکھا اور اس جواں سال چیلے کی طرف دوڑی اور اسے پیچھے سے اتنی زور سے دھکا دیا کہ وہ پانی میں جا پڑا۔ دوسرے مگرمچھ نے تیزی سے آکر اسے اپنے لمبے اور خوفناک جبڑوں میں جکڑ لیا ۔پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہودی راہب اور اس کا چیلا غائب ہو گئے۔

لڑکی نے نوزائیدہ بچے کو اپنے چغے میں لپیٹا اور وہاں سے دوڑ پڑی۔ شہر کی دیوار دور نہیں تھی، لیکن شہر کے دروازے بند تھے ۔اس نے باقی رات دروازے کے ساتھ بیٹھ کر گزاردی۔

صبح جب یہ دروازہ کھلا تو لڑکی شہر میں داخل ہو گئی اور اپنے گھر جا پہنچی۔ لڑکی کا باپ ڈر گیا کہ یہ شاہی حکم سے لے جائی گئی تھی اور شاید وہاں سے بھاگ آئی ہے اور ابھی سرکاری ہرکارے آئیں گے اور لڑکی کو گھسیٹ کر لے جائیں گے۔اس نے اپنی خیریت اسی میں سمجھی کہ لڑکی کو شاہی محل میں لے جائے۔

وہ اپنی بیٹی اور نوزائیدہ بچے کو ساتھ لے کر شاہی محل جا پہنچا اور دربانوں کو بتایا کہ وہ کیوں آیا ہے۔ یزدگرد کو اطلاع ملی تو اس نے فوراً بلا لیا۔ اس کے سامنے جا کر لڑکی نے اسے بتایا کہ یہودی راہب اور اس کے چیلے کا کیا انجام ہوا ہے۔

’’وہ تمہارے ساتھ کرتا کیا تھا؟‘‘ یزدگرد نے لڑکی سے پوچھا۔’’ کیا وہ تم پر کوئی عمل کیا کرتا تھا؟‘‘

’’نہیں شہنشاہ!‘‘لڑکی نے یہ سوچ کر کہ وہ دونوں یہودی تو مگر مچھوں کے پیٹ میں چلے گئے ہیں جھوٹ بولا۔’’ وہ دونوں میرے ساتھ سوائے بدکاری کے اور کچھ نہیں کرتے تھے ۔میرا خیال ہے کہ وہ اس نوزائیدہ بچے کو صرف اس لئے وہاں لے گئے تھے کہ آپ کو دھوکا دیا جائے کہ وہ واقعی کوئی جادو تیار کر رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ بچے کو پانی میں پھینک دینا چاہتے ہوں لیکن قدرت نے اُلٹا انہیں پانی میں پھینک دیا اور وہ دونوں کو مگرمچھ کھا گئے۔‘‘

اس وقت پوران بھی وہاں موجود تھی اور یزدگرد کی ماں بھی وہیں تھی۔

’’یہ بچہ تم نے کہاں سے لیا تھا؟‘‘ یزدگرد کی ماں نے پوچھا اور بڑی بیتابی سے کہنے لگی۔’’ یہ ظلم نہ کرو۔ کسی ماں کی آہیں نہ لو۔ میں بھی ماں ہوں ۔تم بادشاہ ہو اور جوان بھی ہو، لیکن تمہارے متعلق میری جو بیتابی ہے اس سے تم بھی تنگ آئے ہوئے ہو ۔لیکن ماں کی مجبوری کو اور مامتا کی تڑپ کو تم نہیں سمجھتے۔‘‘

’’یہودیوں کے چکر سے نکلو یزدی!‘‘پوران نے کہا۔’’ یہ تو میں بھی جانتی ہوں کہ یہودی جادوگری کے ماہر ہیں۔ لیکن میں یہ بھی جانتی ہوں کہ جادو کی تیاری میں اتنا لمبا عرصہ نہیں لگا کرتا۔ یہ بچہ جس ماں کا ہے اسے واپس کردو ۔مامتا کی آہوں سے ڈرو، اور اس حقیقت کو دیکھو جو کالی گھٹا کی طرح دامن میں بجلیاں لیے ہوئے ہمارے سروں پر گہری ہی ہوتی چلی جا رہی ہے۔ اپنے آپ کو دھوکے اور فریب میں نہ رکھو۔ جہاں تلوار اور تیر چلا کرتے ہیں وہاں جادو نہیں چل سکتے ۔کیا تم عربوں کی تیغ زنی سے واقف نہیں؟‘‘

یزد گرد نے اسی وقت محافظ دستے کے کمانڈر کو بلایا اور اسے حکم دیا کہ یہ بچہ جس ماں سے چھینا گیا تھا اسی کی گود میں ڈال دیا جائے۔ کمانڈر نے لڑکی سے بچہ لے لیا۔ بچہ بھوک سے بلبلا رہا تھا۔ یزدگرد نے لڑکی کو اس کے باپ کے حوالے کر کے کہا کہ اسے اپنے ساتھ لے جاؤ۔

اُس ماں کے گھر کا دروازہ کھٹکا جو اپنے پہلے نوزائیدہ بچے کی جدائی میں چیخ چلّا رہی تھی اور اس کا خاوند اسے بہلانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ دروازہ کھولا تو وہی کمانڈر جو ماں کے سینے سے بچے کو نوچ کر لے گیا تھا۔ اندر آیا۔ ماں نے اس کے ہاتھوں میں اپنا بچہ دیکھا تو دوڑکر بچے پر جھپٹی اور بچے اس کے ہاتھوں سے لے کر سینے سے لگالیا۔

’’شہنشاہ نے بچہ واپس دے دیاہے۔‘‘ کمانڈر نے کہا اور باہر نکل گیا۔

’’ماؤں کی چھاتیوں سے بچے نوچنے والے بادشاہ کی بادشاہی زیادہ دن نہیں رہے گی۔‘‘ یہ ایک آہ تھی یا ایک فریاد تھی جو اس عورت کے منہ سے نکلی تھی۔

’’یہاں جتنے یہودی ہیں انہیں قید خانے میں پھینک دیا جائے۔‘‘ یزد گرد نے حکم دیا۔

٭

مدائن میں چند ایک ہی یہودی تھے جو تین چار مکانوں میں رہتے تھے ۔ایک کشادہ مکان کے ایک حصے میں انہوں نے عبادت گاہ بنا رکھی تھی۔ گذشتہ رات وہ سب اکٹھے بیٹھے اُس بوڑھے یہودی کے متعلق باتیں کر رہے تھے جو لڑکی اور ایک نوزائیدہ بچے کو دریاکے کنارے لے گیا تھا۔ اس بوڑھے کا نام شمعون جبریل اور ا س کے ساتھی کا نام ابوازمیر تھا ۔اس محفل میں سب سے زیادہ عمر والا ایک یہودی راہب تھا۔

’’……لیکن شمعون مجھے کامیاب ہوتا نظر نہیں آرہا۔‘‘ یہودی راہب کہہ رہا تھا۔’’ آخر میں بھی کچھ جانتا ہوں، میں نے خبر دار کر دیا تھا کہ تم جو عمل کررہے ہو اس میں خطرہ یہ ہے کہ اُلٹ بھی جایا کرتا ہے۔ تم ایک کنواری لڑکی اور ایک نوزائیدہ بچے کی جان لے رہے ہو۔ اگر تمہاری اپنی جان چلی گئی تو میں حیران نہیں ہوں گا……وہ میری بات سن کر اس طرح ہنس پڑا تھا جیسے میں کم عقل اورنادان ہوں یا بچہ ہوں۔‘‘

’’ربی شمعون کے ساتھ میری بھی بات ہوئی تھی۔‘‘ ایک اور یہودی بولا۔’’ اس نے کہا تھا کہ ہمارے پیغمبر موسیٰؑ نے دریائے نیل کا پانی روک دیا اور اپنے قبیلے کو اس سے گزار لائے تھے ۔فرعون کا لشکر جو اس کے تعاقب میں آرہا تھا ،نیل میں ڈوب گیا تھا۔ میں نے اپنے عمل کیلئے دجلہ کا انتخاب کیاہے۔ یزدگرد کی فوج کشتیوں اور پُل کے ذریعے مدائن میں آجائے گی اور مسلمان ان کے تعاقب میں دجلہ پار کرنے لگیں گے تو ان کا سارا لشکر ڈوب جائے گا ۔ان میں سے کوئی ایک بھی نہیں بچے گا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: