Hisar e Ishqam Novel by Pari Saa – Episode 1

0
حصارِ عشقم از پری سا – قسط نمبر 1

–**–**–

“چھوڑو مجھے”
خود کو چھڑانے کے لٸے اس نے پورا زور لگایا لیکن اس کی گروفت بہت مضبوط تھی،وہ نازک سی لڑکی اس توانا مرد کے سامنے کچھ نہ تھی، وہ چاہتا تو ایک منٹ سے بھی کم وقت میں اسکا کام تمام کرسکتا تھا …..وہ شاہ زین آفندی تھا……اسے اپنے اوپر ناز تھا کہ وہ کچھ بھی کرسکتا ہے، ہر شٸے کو تسخیر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، ہر چیز اسکے ایک اشارے پر اسکی دسترس میں آموجود ہوتی ہے لیکن وہ ایک لڑکی…..رشل تیمور…..!
وہ کوٸی الگ ہی چیزتھی، شاہ زین آفندی کی ایک للکار پر اچھے اچھوں کی ٹانگیں کانپ اٹھتی تھیں لیکن وہ رشل تھی، سب سے جدا،۔۔۔۔۔۔ڈر اسے چھوکر نہ گزرا تھا جیسے!
شاہ زین نے ایک طاٸرانہ نظر اپنے مضبوط بازوں کے شکنجے میں جکڑی رشل پر ڈالی ….
بھول پن اسکے چہرے کا خاصہ تھا، سرخ وسپید رنگت پر سیاہ رنگ خوب جچ رہا تھا، بڑی بڑی آنکھیں جن میں خوف کے بجاٸے بے خوفی و نفرت صاف دکھاٸی دے رہی تھی،ستواں ناک غصے سے سرخ ہورہی تھی جبکہ گلابی لب سختی سے باہم پیوست تھے۔۔۔۔۔
وہ بنا پلک جھپکاٸے شاہ زین کو قہربار نگاہوں سے گھور رہی تھی۔۔۔۔۔۔شاہ زین تیمور استہزایہ انداز میں اسے دیکھتا ہنسنے لگا تھا،۔۔۔۔۔وہ کچھ بھی نہیں تھی اسکے سامنے، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہ زین چھوڑو مجھے، تم ایک نمبر کے بزدل انسان ہو،۔
وہ تلخی سے اسے دیکھتی بولی، شاہ زین نے دلچسپی سے اسے دیکھا….
“اچھا واقعی”
ایک دل جلادینے والی مسکراہٹ اسکے لبوں پر تھی۔۔۔۔۔
ہاں،یوں ہاتھ باندھ کر تم کیا خود کو بہادر سمجھتے ہو، ہونہہ!
وہ بے خوفی سے اسکی سیاہ آنکھوں میں دیکھتی طنزیہ انداز میں ہنسی،شاہ زین نے بمشکل اپنے کندھے تک آتی اس چھوٹی سی لڑکی کو بغور دیکھا اور اسکی کلاٸیاں اپنی مضبوط گرفت سے آزاد کردیں۔۔۔۔۔
رشا کی نظر کب سے ساٸیڈ تیبل پہ دھری فروٹ باسکٹ سے جھانکتی چھری پر تھی، ہاتھ آزاد ہوتے ہی اس نے چھری اٹھا کر بجلی کی تیزی سے شاہ زین پر وارکیا تھا،شاہ زین اگر بروقت ساٸیڈ پر نہ ہوتا تو یقیناً چھری اسکے کندھے کے بجاٸے اسکی گردن پہ لگنی تھی۔۔۔۔۔۔اس کے شانے سے خون نکلنے لگا تھا، جبکہ رشا نشانہ چوک جانے پر افسوس کرتی رہ گٸی۔۔۔۔۔
مسز شاہ زین..تم جانتی ہو اس حرکت پر میں تمھیں جیل میں ڈال سکتا ہوں، تم نے ایک پولیس آفیسر پرحملہ کیا ہے!
وہ اپنے سینے پر انگلی رکھتا بولا، رشا اپنے نام کے ساتھ اسکا نام ملاکر کہنے پر تپ اٹھی تھی،اگلے ہی لمحے وہ تھوڑا اسکے قریب آٸی،مسٹر شاہ زین آٸندہ اپنے نام کے ساتھ میرا نام ملانےکی غلطی مت کرنا…وہ انگلی اٹھا کر وارن کرتی بولی….اور دوسری بات، بڑے آٸے تم پولیس والے،ہنہہ…ایس پی شاہ زین،اب ہٹو آگے سے، اس نے پانچوں انگلیاں اسکے سامنے گھماتے ناک سے مکھی اڑانے والے انداز میں کہا، شاہ زین اسکے اس انداز پرعش عش کر اٹھا تھا، نجانے وہ اتنی بےخوف کیسے تھی، شاہ زین اپنے سامنے اونچی آواز میں بولنے والوں کی زبان کھینچ لیا کرتا تھا لیکن یہ لڑکی، اور اسکا بے خوف انداز، نجانے کیوں اسے اپیل کرتا تھا،وہ انجواٸے کرتا تھا اور جان بوجھ کر آتے جاتے اس شیرنی کو چھیڑتا تھا لیکن آج اس شیرنی نے اس پر چاقو سے حملہ کرکے گویا اگلے پچھلے تمام ریکارڈ توڑدیۓ تھے،۔۔۔۔۔
وہ اسکے ساٸیڈ سے جانے لگی تھی کہ زین نے اسکا بازو پکڑ کر جھٹکے سے اسے سامنے کیا، رشل، تمھیں مجھ سے ڈر نہیں لگتا؟ “نہیں”….
رشل کے گلابی لب طنزیہ انداز میں مسکرااٹھے،وہ مسکراہٹ جو ہمیشہ سے ایس پی شاہ زین کا دل نکال لے جاتی تھی، اس نے رشل کی بڑی بڑی آنکھوں میں دیکھتے بے اختیار اسے خود سے مزید قریب کیا، رشل کو اپنا چہرہ اسکی آنکھوں میں صاف دکھاٸی دے رہا تھا وہ اسکے اس قدر قریب تھی، شاہ زین نے باری باری اسکے حسین چہرے کے ہر نقش کو حفظ کیا تھا،….
”اب بھی نہیں“
اسکے کہنے پر رشل نے ایک نظر شاہ زین کو بلترتیب اوپر سے نیچے تک دیکھا، آنکھوں میں بے خوفی اور لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ تھی،۔۔۔۔۔۔
“ہنہہ”
تم کوٸی ڈریکولا سمجھتے ہو خود کو جو میں تم سے ڈرونگی،??
شاہ زین اسے بس دیکھتا رہ گیا تھا۔۔۔۔۔
اور سنو،ایس پی شاہ زین،یہ تو صرف ٹریلر تھا،اس نے بے پرواہ کھڑے سین کے مضبوط خون آلود شانےکی جانب ہاتھ سے اشارہ کیا،اپنی ان حرکتوں کی وجہ سے تم میرے ہاتھوں مارے جاوگے،ایک دن…!
اسکے اس انداز پر زین تو مانو جان سے گیا تھا، اس نے بے اختیار رشل کا نازک ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھ میں جکڑا،رشل کا نازک سا ہاتھ اسکے ہاتھ میں چھپ گیا تھا،شاہ زین اسکا ہاتھ سینے پر دل کی جگہ پر رکھتا مسکرانے لگا، اوٸے شیرنی، تمھارے قاتلانہ حملوں سے یہ دل پہلے ہی چاروں شانے چت ہوچکا ہے، تمھاری یہ بے خوفی دل پر گولیاں چلاتی ہے یار،میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں تم ایک ہی پیس ہو جس پر صرف شاہ زین کا حق ہے مسز رشل شاہ زین ۔۔۔۔۔۔وہ ذرا اسکی طرف جھکتا ہوا بولتا رشل کو تپا گیا!
میں بھی ایک بات دعوے سے کہہ سکتی ہوں مسٹر ٹپوری پولیس والے۔۔۔۔۔
“کیا”
تمھارا خون میرے ہی ہاتھوں لکھا ہے۔۔۔۔۔
شاہ زین کا دھیان ذرا ہٹنے پر وہ اچانک پوری قوت سے اسے خود سے دور دھکا دیتی کمرے سے باہر نکل گٸی۔۔۔۔۔۔
شاہ زین بھی تمھارے ہاتھوں کی لکیروں میں لکھا ہے مسز۔۔۔۔
وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا زیر لب مسکرا اٹھا۔۔۔۔
_________________________
“کافی”
نازنین نےمگ شاہ زیب کی طرف بڑھارے آہستہ آواز میں اسے مخاطب کیا، اسکے ہمشہ والے دھیمے انداز پر زیب نے مسکرا کراسے دیکھا اور کپ تھام لیا، کسی نے قہربار نظروں سے یہ منظر دیکھا تھا۔۔۔۔
پھپھو چاٸے،سب کو چاٸے دیتی نازنین نے مسکراکر حمیرہ پھپھو کی جانب کپ بڑھایا جسے انہوں نے لبوں پر زبردستی کی مصنوعی مسکراہٹ سجاکر تھام لیا کہ تیمور آفندی ان ہی کی طرف متوجہ تھے،وہ دونوں کسی ٹاپک پر بات کررہے تھے، نازنین کے چاٸے دینے پر وہ رکے تھے، انہیں اپنی طرف متوجہ دیکھ کر حمیرا کو چہرے پر مسکراہٹ سجانی پڑی ورنہ وہ نازنین سے سیدھے منہ بات کرنا پسند نہ کرتی تھیں۔۔۔۔۔
نازنین نیلا آنچل سنبھالتی
تیمورآفندی(اپنے بابا) کے برابروالی چیٸر پر جابیٹھی،ساتھ ہی رشل بھی لاپرواہ سے انداز میں بیٹھی چپس کھاتی ساتھ ساتھ انکا سر بھی کھارہی تھی اور وہ مسکراکر اپنی لاڈلی کی بک بک سن رہے تھے،۔۔۔۔۔
اس کی ہر کسی سے کی جانے والی گفتگو میں ساٹھ ستر پرسینٹ گفتگو شاہ زین کے بارے میں ہوتی تھی، جس میں وہ اسے نٸے نٸے القابات سے نوازتی،اسکی شکایتیں لگاتی، اسے جی بھر کر کوستی تھی۔۔۔۔۔
رشل کبھی چپ بھی کرجایا کرو۔۔۔۔۔
نازنین کے کہنے پر رشل نے ایک سنجیدہ سی نظر اس پر ڈالی۔۔۔۔۔
نازو۔۔۔۔۔میرے بدلے کا بھی تم چپ ہوجاتی ہو نہ کافی ہے۔۔
ہاں تو میں کیا کہہ رہی تھی،?بابا اس بینگن سے کہہ دیں کہ مجھ سے پنگے مت لیا کرے اور اپنے نام کے ساتھ میرا نام اگر اس نے دوبارہ لیا تو میں اسکا بھرتا بنادونگی۔۔۔۔وہ دونوں ہاتھ اٹھاکر اعلان کرنے والے انداز میں بولی۔۔۔
_____________
وہ غصے میں اپنے کمرے کی جانب بڑھ رہی تھی کہ زوردار انداز میں اسکا سر کسی مضبوط چیز سے ٹکرایا ، وہ سیڑھیاں چڑھ رہی تھی اور زین اتررہا تھا،تم اندھے ہو کیا؟
زین نے اسے گرنے سے بچانے کے لٸے تھام رکھا تھا،اگر وہ اپنے ہاتھ ہٹاتاتو یقیناً رشل زبردست طریقے سے گرتی۔۔۔۔۔
تم ہر وقت مرچیں کیوں چباتی ہو؟
وہ بھی اسکے ہم وقت مرنے مارنے پر تلے رہنے والے انداز سے تپ کر بولا۔۔۔۔۔۔
ہنہہ، مرچیں چباوں یاں کریلے،،،اینی پرابلم؟۔۔۔۔۔
سنو۔۔۔۔۔مسز ،اگر میں نے تمھیں چھوڑا تو تم گرجاوگی اس لٸے زیادہ بک بک نہ کرو سمجھی۔۔۔۔۔
اسکی بات پر رشل نے ایک ٹھنڈی سانس بھر کر خود کو ریلیکس کیا ۔۔۔۔۔ٹھیک ہے چھوڑو…..چھوڑو چھوڑو کیا ہوا ،وہ بڑی بڑی آنکھیں پٹ پٹاکر بھولپن سے بولی،زین بھلا ایسی صورت پر کیوں نہ قربان جاتا،احیاط سے اسے کسی نازک سی کانچ کی گڑیا کی طرح برابر کھڑا کیا،ابھی وہ کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ رشل کا زوردار مکہ اسکے پیٹ میں آپڑا، اوٸے۔۔۔۔۔۔۔
وہ چیخا لیکن رشل وہاں سے غاٸب ہوچکی تھی،اب بچ کر دکھانا… جنگلی ہے پوری۔۔۔۔۔وہ تپ کر اسے پیچھے سے چلاکر وارن کرتا سیڑھیاں اتر گیا۔۔۔۔۔
_________________________
”ہاٸے بیوٹیفل“
وہ کینٹین کی طرف بڑھ رہی تھی کہ پاس بیٹھے گروپ میں سے ایک لڑکا نہایت لوفرانہ انداز میں بولا۔۔۔۔۔۔
رشل مکمل نظر اندز کرتی آگے بڑھ گٸی،اکثر ان لڑکوں کا گروپ آتے جاتے لڑکیوں پر جملے کستا دکھاٸی دیتا تھا،انکے بارے میں یونیورسٹی میں بہت سی باتیں سننے کو ملتی تھیں، کوٸی کہتا تھا ان کا تعلق اسمگلنگ سے ہے ،لڑکیوں کی کڈنیپنگ اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں یہ لوگ لیکن اب تک کوٸی پختہ ثبوت انکے خلاف نہیں مل سکا تھا۔۔۔۔۔
رشل انکے منہ لگنے کے بجاٸے اگنور کردیتی لیکن اندر ہی اندر خوب القابات سے نوازتی تھی۔۔
_________________________
”کیا کررہی ہو نازو“
شاہزیب کچن میں داخل ہوتا فریج میں کچھ تلاش کرتا بولا۔۔۔۔۔
کچھ نہیں بس ڈنر کی تیاری۔۔۔۔
ملازمہ کو برتن ٹیبل پر سیٹ کرنے کے لیۓ دیتی نازنین مصروف سے انداز میں بولی،…کیا ڈھونڈرہے ہو ؟
یار کچھ کھانے کو دے دو آفس میں لنچ نہیں کیا تھا آج۔۔۔۔۔وہ فریج بند کرکے سلپ کے پاس ٹیک لگاکر کھڑا ہوگیا،تھوڑا ویٹ کرو بس کھانا ریڈی ہے،وہ بریانی کو دم پر رکھتی دھیرے سے مسکراکر بولی،پھپھو کی فیملی آٸی ہوٸی تھی سو کھانے پر ہر دفعہ کی طرح خاصہ اہتمام تھا اور ہر دفعہ کی طرح اس دفعہ بھی سب نازنین نے تیار کیا تھا،ملازمہ کے ساتھ مل کر وہ اکیلی لگی رہتی تھی، رشل اسکی تھوڑی بہت ہیلپ کردیا کرتی تھی لیکن آج اسے بخار تھا اس لیۓ وہ کمرے میں آرام کررہی تھی،۔۔۔۔
کیا کیا بنایا ہے؟۔۔۔۔۔زیب نے پوچھا۔۔۔۔۔
لگتا ہے بڑی بھوک لگی ہے جناب کو۔۔۔۔نازنین کباب تل کرٹرے میں رکھتی اسے دیکھتی بولی۔۔۔۔ہاں یار آج لنچ کا ٹائم بھی نہیں ملا،وہ تھکےتھکے انداز میں بولا،چلو بس کھانا
تیار ہے اچھی سی چاٸے بنادونگی پھر۔۔۔۔۔۔وہ اسکی تھکن کا خیال کرتی نرمی سے بولی،لبوں پر ہم وقت سجی رہنے والی میٹھی سی مسکان تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔زیب وہی سلپ سے ٹیک لگاٸے کھڑا مصروف سی نازنین کو محبت سے دیکھ رہا ، تھک گٸے ہو ناں اتنی دیر میں تھوڑا آرام کرلیتے….
”کیوں“
چولا بند کرکے ٹرے میں کباب سیٹ کرتی نازنین کے فکرمندی سے کہنے پر وہ دھیرے سے مسکراکر پوچھ بیٹھا۔۔
تھکن اترجاتی ،اور کیوں۔۔۔
وہ تو یوں بھی اتررہی ہے۔۔۔
وہ کیسے؟؟۔۔۔۔۔
بریانی ٹرے میں نکالتی وہ بھولپن سے سوال کرگٸی۔۔۔
”تمھیں دیکھ کر“
شاہزیب کا محبت کی چاشنی سے پُر لہجہ اسکے لبوں پر شرمیلی سی دلکش مسکان بکھیرگیا ……
تمھاری اس مسکراہٹ کو نوچ کر جداناں کردیا تو میرا نام بھی سارا نہیں۔۔۔۔۔۔
کچن میں داخل ہوتی سارا نے یہ منظر دیکھا تو کھول اٹھی، نازنین کے خوبصورت مسکان سے سجے چہرے کو دیکھتے نفرت سے اس نے سوچا،مگن سا اسے دیکھتا زیب اور نگاہیں نیچی کیۓ مسکراتی نازنین سارہ کے کھنکھارنے پر چونکے،وہ سینے پر ہاتھ لپیٹے مصنوعی مسکراہٹ لبوں پر سجاٸے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی،نازنین شرمندہ سی ہوکر جلدی سے اپنے کام میں مصروف ہوگٸ جبکہ زیب بھی فریش ہونے چل دیا…..سارہ کو کافی دیر تک اسی پوزیشن میں کھڑے دیکھ کر نازنین اسکی طرف آٸی،کچھ چاہیۓ آپی؟؟۔۔۔۔۔۔
اسے نظر انداز کرتی سارہ فرج کی طرف بڑھ گٸی،چند منٹ فرج کھولے کھڑی رہی،تو نازنین دوبارہ اسے سوالیہ انداز میں دیکھتی پوچھ بیٹھی…..کچھ چاہیۓ آپکو؟۔۔۔۔۔۔
میرے ہاتھ سلامت ہیں کچھ چاہیۓ ہوگا تو خود لے لونگی….!
تیز لہجے میں کہتی وہ دھڑ سے فرج بند کرکے چلی گٸی پیچھے نازنین نہ سمجھی سے کھڑی رہ گٸی۔۔۔۔
_________________________
سنا ہے لوگوں کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ۔
زین کی آواز پر دوسری طرف رخ کیۓ کمفرٹر اوڑھ کر لیٹی رشل نے اسی کروٹ لیٹے لیٹے رخ زین کی طرف کرکےایک نظر اسے دیکھا….
یونیفارم میں اپنی بارعب شخصیت ک ساتھ وہ کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
رشل نے واپس آنکھیں موندلیں،گلابی رنگت بخار کی حدت سے سرخ ہورہی تھی،کیا ہوا ہے مسز؟
کچھ نہیں بھٸی….
کیوں آٸے ہو میرے روم میں؟
وہ ویسے ہی لیٹے لیٹے بولی،آواز ٹھیک طرح سے نہیں نکل پارہی تھی نقاہٹ واضح تھی۔۔۔۔۔۔
خیریت پوچھنے۔۔۔۔۔
تو میرا سر کیوں کھارہے ہو؟۔۔۔۔۔ جب لوگوں کی طبیعت خرابی کا سنا ہے تو لوگوں سے ہی خریت پوچھو۔۔۔۔۔
بخار میں پڑی وہ اپنے ازلی انداز میں تپ کر بولی۔۔۔۔وہ رشل تھی تو سامنے بھی شاہ زین کھڑا تھا، جھٹکے سے کسی بے جان گڑیا کی مانند اسے بیڈ سے اٹھا کر اپنے مقابل کھڑا کیا تھا۔۔۔۔۔
آہ……کیا مصیبت ہے تمھیں؟
وہ غصے سے کہتی مُڑ کر واپس بیڈ پر جانے لگی ،جاتے جاتے ایک کُہنی زین کے پیٹ میں رسید کرنا نہیں بھولی تھی وہ، لیکن ایسا کرکے اس نے اپنے پیروں پر خود ہی کلہاڑی ماری تھی،کہنی کھاکر شاہ زین کو اسکا چند دن پہلے مارا جانے والا مکا بھی یاد آگیا تھا۔۔۔۔۔اس نے ایک جھٹکے سے اسے کمر سے پکڑا تھا،ایک ہاتھ اسکی مرمریں کمر کے گرد تھا تو دوسرے ہاتھ نے اسکے دونوں ہاتھ قابو کررکھے تھے،۔۔۔۔۔۔
وہ بمشکل زین کے کندھے تک آرہی تھی،مضبوط و توانازین کےسامنے وہ چھوٹی سی گڑیا لگتی تھی۔۔۔۔۔
تمھارے ہاتھ بہت چلتے ہیں کاٹ کرپھینکنے پڑینگے۔۔۔۔
چھوڑو مجھے ،وہ پورا زور لگاگٸی لیکن وہ اپنی جگہ سے ہلاتک نہیں۔۔۔۔۔
زین چھوڑو ورنہ…..
وہ بخار کی وجہ سے تھک کر نڈھال سی بولی۔۔
“ورنہ کیا”
ورنہ میں دادی کو شکایت کردونگی اور بابا کو بھی،اسکی بات پر زین نے ایک جاندار قہقہ لگاکراسکا رخ جھٹکے سے اپنی طرف موڑ کر اسے خود سے مزید قریب کیا تو وہ چلااٹھی۔۔۔۔۔
بڑی ماماااااااا…..
زین نے فوراً سے بیشتر ہاتھ اسکے منہ پر جماکر اسکی چیخوں کو روکا تھا۔۔۔۔۔
”پاگل ہو کیا “
کیوں چیخ رہی ہو۔۔۔۔۔۔
چھوڑو مجھے،اچھا خاصہ آرام کررہی تھی پتا نہیں کہا سے ٹپک پڑے سر میں درد کرنے کے لٸے…..وہ تپ کر ایک گھونسہ اسکے پیٹ میں رسید کرتی بولی ۔۔۔۔۔۔۔۔
تمھارے ہاتھ واقعی کاٹنے پڑیں گے،ہاتھ چلاتی ہو وہ بھی شوہر پر۔۔۔۔!
”آٸے بڑے شوہر کہیں کے“
وہ چڑ کر رخ پھیر گٸی۔۔۔۔
بلیک ناٸٹ گاٶن میں اسکی سرخ و سپید رنگت دمک رہی تھی،شہد رنگ بال کندھوں پر بکھرے تھے۔۔۔۔۔
یک ٹک خود کو دیکھتے زین کو دیکھ کر وہ مزید چڑگٸی،اسکی ٹانگیں درد ہونے لگی تھیں کھڑے کھڑے۔۔۔۔
چھوڑو مجھے …
بخار ہے مجھے۔۔۔۔
سردی لگ رہی ہے۔۔۔۔
ٹانگوں میں بھی درد ہے۔۔۔۔۔اور سر میں بھی ۔۔۔۔۔!
وہ اسکی فولادی گرفت میں قید بے چارگی سے بولی۔۔۔۔۔
یار تمھیں اپنےدرد کا بڑاخیال ہے اور یہاں جو درد ہے ؟؟
“کہاں”؟
وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی، وہ بلکل چاک و چوبند لگا اسے!
”یہاں“
دل کی جگہ پر انگلی رکھتا وہ شرارت سے بولا۔۔۔۔۔
دفعہ ہوجاوں تم ،نکلو اب میرے روم سے ۔۔۔۔۔
کیوں نکلوں؟؟
میری بیوی کا روم ہے میری مرضی۔۔
وہ آنکھوں میں شرارت لیۓ بولا۔۔۔
زین بہت ہوگیا بس!
وہ اسکی آنکھوں کے آگے چٹکی بجاکر غصے سے بولی۔۔
”کچھ بھی تو نہیں ہوا مسز“
اسکی انگلی اپنی انگلی میں لیتا وہ معنی خیزی سے بولا۔۔۔
چندلمحے وہ اسے گھورتی رہی۔۔۔
بہت ہینڈسم ہوں مجھے پتا ہے لیکن کیا نظرلگاوگی اب؟
وہ چپ چاپ اسے گھورتی رہی۔۔
ہممممم،کیا ہوا مسز!?
وہ اسکی آنکھوں میں جھانک کر بولا۔۔
وہ خاموش رہی۔۔گھورنا ہنوز جاری تھا!
”مسٹر ٹپوری پولیس والے“
”حاضر جناب“
اسکے چباچباکر کہنے پر زین سرکو خم دے کر بولا،….
اگر تم اگلے دو منٹ کے اندر اندر میرے روم سے نہیں نکلے تو میں ابھی کہ ابھی بابا کو تمھاری شکایت کرنی کرنی ہے
___________
قطعی انداز میں کہتی وہ گھڑی کی طرف دیکھتی اسکے جانے کا انتظار کرنے لگی،بخار کی وجہ سے اسکی ٹانگیں دکھنے لگی تھیں، سردی سے کپکپاتے اس نے ایک سرد سانس بھری،…..زین کے دو منٹ تک ٹس سے مس نہ ہونے پر وہ اچانک اسکے پیٹ میں مکا رسید کرتی غصے سے تن فن کرتی باہر نکلی…..زین بھی اسکے پیچھے تھا،وہ دونوں لاونج میں آگے پیچھے پہچے ….پھپھو ،سارا۔۔۔۔۔سمیر(پھپو کی بیٹی اور بیٹا) بابا بڑی ماما اور بابا،دادی ،نازنین اور شاہزیب سمیت سب وہاں موجود تھے۔۔۔۔۔۔
سب اسکے غصیلے انداز پرچونک کر دیکھنے لگے جب کے وہ بڑے پاپا(زین کے بابا) کی طرف متوجہ تھی۔۔
“بڑے پاپا”…..
جی میرا بیٹا؟۔۔
اسکے مخاطب کرنے پر ذہیر آفندی پیار سے بولے۔۔۔
اس انسان کو کہہ دیں کہ یہ آٸندہ میرے روم میں قدم نہ رکھے۔۔
بڑے پاپا کی طرف دیکھتے…. بنا پیچھے کھڑے زین کو دیکھے اسکی طرف انگلی سے اشارہ کرتی وہ “اِس انسان “پر زور دے کر بولی!
کیا کیا ہے اب تم نے برخوردار۔۔۔
یہ میرے روم میں گھس کر میرے ساتھ……
پاپا میں خیرت پوچھ رہا تھا۔۔۔۔رشل کے پول پاٹا کھولنے سے پہلے وہ جلدی سے بولا۔۔۔۔جس پر رشل غصے سے اسکی طرف پلٹی تھی،تم…..خیریت پوچھ رہے تھے۔۔۔۔۔وہ فہماٸشی انداز میں چباچباکر اسے گھورتی ہوٸی بولی ۔۔۔۔۔۔۔
بیوقوف لڑکی تمھیں تو میں بعد میں بتاونگا۔۔۔۔۔۔وہ اسکے بھولپن پر ماتم کرتا ہلکی آواز میں بولا۔۔۔۔۔۔
دیکھا پاپا آپ نے ،،،،یہ ٹپوری پولیس والا مجھے دھمکی دے رہا ہے ۔۔
ہاتھ سے اسکی طرف اشارہ کرتے ملکہ جزبات بنی وہ پاپا کی طرف بڑھی،بابا…..آپ بھی ہمیشہ اسی کی ساٸیڈ لیتے ہیں۔۔۔۔۔اتنی زور سے ہاتھ پکڑا تھا میرا اور…….
اس سے پہلے کے وہ کچھ اور کہتی زین اسکی طرف بڑھا۔۔۔۔۔
تم خود جو بات بات پر ہاتھ چلاتی ہو وہ بھی بتاو،۔۔۔۔۔وہ جو بابا کے پاس بیٹھ کر ہمدردی سمیٹنے کا ارادہ کررہی تھی دوبارہ میدان میں کود پڑی، ۔۔۔
ہاں تو ؟ذرا سا ہاتھ لگ گیا تو کیا ہوگیا، خون نکل آیا ہوگا ناتمھارے….ایمبولینس کوکال کروں؟؟
رشل بچے کم بولا کرو شوہر کے سامنے،تم ہی جھگڑا کرتی ہو اس بچے سے۔۔
دادووووو….
وہ اتنی حیرت سے آنکھیں پھاڑ کردادو کو دیکھتی بولی کہ بس حیرت سے بے ہوش ہونے کی کسر باقی رہ گٸی تھی۔۔۔۔
”میں“
میں جھگڑاکرتی ہو؟؟؟
میں تو آپکے اس ”بچے“سے زیادہ بات ہی نہیں کرتی خود ہی پنگے لیتا ہے آج بھی میرے روم میں منہ اٹھاکر چلاآیا،ارے مجھے بخار ہے لیکن نہیں…..مجھے تنگ کرنا رلانا…..پریشان کرنا تو اسکا فیورٹ کام ہے ناں اور آپ،،،مجھے….مجھے ہی کہہ رہی ہیں!
“دیکھا بابا”
ادھر اُدھر گھوم گھوم کر انگلیوں پر گن کر مختلف قسم کے ایکسپریشنز دیتی وہ بلآخر زہیر آفندی کے برابر جابیٹھی،رونی صوت بناٸے ہاتھ سے آنکھیں ملتی وہ سچ مچ کی ملکہ جزبات لگ رہی تھی،ارے میری گڑیا،نہ تنگ کیا کرو زین،ہماری گڑیا بہت حساس اور بھولی ہے،…
غلط بات ہے بیٹا زین، سوری بولو چلو شاباش،بڑی ماما(زین کی ماں) بھی پیار سے رشل کو دیکھتیں زین سے بولیں تو وہ تپ گیا۔
زہیر آفندی رشل کو سینے سے لگاٸے بولے جبکہ زین لفظ ”بھولی“پر گرتے گرتے بچاتھا۔۔۔۔۔بھولی….اور یہ?۔۔۔۔۔
بڑی ماما
یہ سوری نہیں بول رہا ہے!
اس سے پہلے کے کوٸ کچھ کہتا زین بول اٹھا!
اوکے میم معافی چاہتا ہوں،
رشل نے اسکے سوری کے جواب میں سب سے نظر بچاکر منہ چڑیا۔۔۔۔
(ڈرامہ کوٸین تمھیں تو میں دیکھ لونگا بعد میں)
ٹھنڈی سانس بھرتا وہ فریش ہونے چل دیا۔۔
پھپھو نے تپ کر بھاٸی سے لاڈ اٹھواتی رشل کو دیکھا،یہی حال سارہ کا بھی تھا،وہ کھاجانے والی نظروں سے رشل کو گھور رہی تھی ، رشل کی نظر پڑی تو اس نے سارہ کو ایک گھوری سے نوازہ پھر تپانے والی مسکراہٹ لبوں پر سجاکر نظریں پھیر گٸی،سارہ محض پہلو بدل کر رہ گٸی،نازنین اسکی تڑیاں برداشت کرجاتی تھی چپ کرکے…..لیکن یہ رشل تھی…..رشل المعروف شیرنی۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: