Hisar e Ishqam Novel by Pari Saa – Episode 11

0
حصارِ عشقم از پری سا – قسط نمبر 11

–**–**–

“اٹھ جاو یار”
اس نے تقریباً تیسری بار آواز دی لیکن بے سود….
رشل تو ہاتھی گھوڑے بیچ کر سوٸی ہوٸی تھی۔۔۔۔۔
زین کو بھی اب تپ چڑھ گٸی تھی۔۔۔۔
کتنا سوتی ہو تم؟
زین نے اسے کندھوں سے تھام کر اٹھایا اور جھنجھوڑدیا۔۔۔۔رشل کے حواس جھنجھوڑے جانے سے بیدار ہوٸے ، اس نے مندی مندی آنکھیں کھول کر دیکھا تو شاہ زین اسے گھورہا تھا۔۔۔۔۔
کیوں میرےدشمن بنے رہتے ہو تم،کیوں ں ں ں ۔۔۔۔
چین سکون حرام کررکھا ہے،صبح صبح کوٸی اسطرح اٹھاتا ہےکیا۔۔۔۔۔
گہری نیند سے اٹھاٸے جانے پر وہ بھی اس انوکھے طریقے سے،وہ غصے میں پیچ و تاب کھارہی تھی۔۔۔۔۔
او میڈم،آنکھیں کھولو،دن کے بارہ بج رہے ہیں۔۔۔۔۔
اور اسطرح سے اٹھانے پر اعتراض نہ کرو ورنہ اگر میں نے اپنے طریقے سے اٹھایا تو۔۔۔۔۔۔
زین نے معنی خیزی سے اسکی آنکھوں میں جھانک کر کہا تو رشل نے جوباً آس پاس بکھرے کشنز اٹھاکر اس پر تابڑ توڑ حملے کردیۓ۔۔۔۔۔
زین سچویشن انجواٸے کرتا سارے کشنز کیچ کرکرکے پیچھے پھینکتاجارہا تھا۔۔
آج کیا ہے؟
توقع کے برخلاف چہرے پر سنجیدگی سجاٸے اس نے اچانک سوال کیا۔۔۔
“شایدسٹرڈے ہے”
رشل نے کندھے اچکاکر بالوں کا ڈھیلا سا جوڑا بناتے جواب دیا۔۔۔
بس سٹرڈے؟۔۔۔۔
اور کیا ہے؟
زین کے پھر پوچھنے پر رشل کو اچانک سے کچھ یاد آیا تھا۔۔۔۔
“ہاں،،بس سٹرڈے”
رشل نے کندھے اچکاکر کمال بے نیازی کا مظاہرہ کیا تو زین ایک لمحے کو خاموش ہوگیا۔۔۔۔۔
وہ اسے تنگ کرنے کا ارادہ رکھتی تھی لیکن اسکے چہرے پر چھاٸی سنجیدگی میں مدغم افسردگی کو دیکھ کر نجانے کیوں اسے گلٹ فیل ہونے لگا۔۔
“ہیپی برتھ ڈے مسٹر ٹپوری پولیس والے”۔۔۔۔
اگلے ہی لمحے پاس پڑا کشن اٹھا کر زین کے منہ پر کھینچ کر مارتے اس نے کہا تھا۔۔۔۔
وہ اٹھ کر جانے لگی تھی جب زین نے ہاتھ پکڑکر دوبارہ بٹھادیا۔۔۔۔۔۔
یہ اچھا طریقہ ہے برتھ ڈے وش کرنے کا۔۔
کچھ بھی کیا ہو ہم نے کہیں بھی گٸے ہوں ہم..
حد سے تمھاری یاد کے باہر گٸے ہیں کیا..
دیٹس گریٹ….تو تم نےیاد رکھا۔۔
زین نے خوشگوار انداز میں کہتے اسے دیکھا۔۔
یاد رکھا نہیں،خود ہی یاد آگیا۔۔۔۔۔۔ذیادہ خوش فہمیاں نہ پالو۔۔
رشل فل اگنور کرتے ہوٸے دوبارہ اٹھ کر فریش ہونے چل دی،۔۔۔۔
بیڈ پر بیٹھے زین کے لبوں پر ایک دلفریب تبسم بکھرگیا تھا۔۔۔۔۔۔وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا وہیں نیم دراز ہوگیا۔۔
____________________________
پورا دن وہ رشل کے لاکھ ناک منہ چڑھانے کے باوجود اسے لیۓ ادھر ادھر گھومتا بھرپور انداز میں یہ دن مناتا رہا تھا۔۔۔۔۔۔رات کے گیارہ بجنے کو تھے،،اس وقت وہ دونوں اپنے فیورٹ ریسٹورانٹ میں بیٹھے ڈنرکررہے تھے۔۔۔۔۔
“جلدی کرو یار”
میں اب کہیں نہیں جانے والی تمھارے ساتھ۔۔۔۔۔۔زین کے جلدی کا کہنے پر اسکا ارادہ بھانپتی وہ اسے تیکھے انداز میں گھورتی ہوٸی بولی۔۔۔
ابھی ہم ایک اور جگہ جاٸیں گے۔۔۔۔۔۔
زین نے ناک سے مکھی اڑانے والے انداز میں اسکی بات کو نظر انداز کرتے اپنی کہی تو رشل تپ اٹھی۔۔۔۔۔۔
تمھیں جہاں جانا ہے جاو میں نہیں جاونگی اب کہیں بھی۔۔۔۔۔۔تھکا دیا مجھے۔۔۔۔۔
اسکے قطعی انداز میں کہنے پر زین نے سر اٹھاکر اسے دیکھا۔۔۔
“پکا”؟
ہاں پکا۔۔۔۔۔
میں جاوں پھر؟
جاو….
تم نہیں چلوگی ساتھ؟۔۔۔۔
“نہیں”
اسکے سوالوں کے جواب رشل نے چباچباکر دیۓ۔۔۔
اوکے،میں کسی اور کو لے جاونگا،اکیلے تو مزہ نہیں آنا۔۔
زین نے کندھے اچکاکرمصروف سے انداز میں کہا،رشل نے کوٸی نوٹس نہ لیا۔۔۔۔۔
واو،”سو پریٹی”
زین کی آواز پر اس نے اپنے پیچھے دیکھا،انٹرنس سے ایک لڑکی داخل ہورہی تھی جسے دیکھ کر زین نے یہ جملہ کہا تھا۔۔
رشل کو ایک لمحہ نہ لگا اسے پہچاننے میں،یہ وہی لڑکی جو چند دن پہلے اسی ریسٹورانٹ میں ملی تھی۔۔۔۔۔۔
زین پرجوش سااٹھ کر اس لڑکی کی طرف بڑھا تو رشل کے حلق میں کڑواہٹ سی گھل گٸی۔۔۔۔
اس نے ناپسندیدگی سے اس ماڈرن لڑکی کو گھورا جو زین سے بھی زیادہ پرجوش دکھاٸی دے رہی تھی۔۔۔۔۔
رشل ضبط سے بیٹھی یہ منظر دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
جولین،کیا آپ میرے ساتھ لانگ ڈراٸیو پر چلنا پسند کریں گی؟
زین نے انگریزی لہجے میں کہتے آخر میں ذرا کی ذرا نظر ٹیڑھی کرکے رشل کو دیکھا جسکا بس نہیں چل رہا تھا جولین کے ساتھ ساتھ اس لنگور کو بھی کچاچباجاٸے۔
“یاہ آفکورس ہینڈسم بواٸے”جولین نے خوشدلی سے اسکی آفر قبول کرنے کے ساتھ ساتھ تعریف بھی کرڈالی اس ہینڈسم نوجوان کی جو اسے بڑا پسند آیا تھا۔۔۔
جولین نے ایک چٹ پاوچ سے نکال کر زین کی جانب بڑھاٸی جو یقیناً اسکا نمبر تھا۔۔۔۔۔ زین کے چٹ تھامنے سے پہلےرشل تیر کی طرح ان دونوں تک پہچتی جولین کے ہاتھ سے چٹ چھپٹنے والے انداز میں چھین چکی تھی۔
“ہو آر یو”?
جولین نے ناپسندیدگی سے اچانک نازل ہونے والی اس افتاد کو دیکھا۔۔
بیوی ہوں اسکی،بہت ہوگیا اب نکلو یہاں سے شاباش۔۔
رشل نے بے دھیانی میں زین کا بازو اپنی گرفت میں لیتے ہوٸے کہا۔۔۔۔
آنکھوں میں جیسے چنگاریاں سی بھرگٸی تھی۔۔
جولین منہ ہی منہ میں بڑبڑاتی فوراً وہاں سے چلی گٸی ورنہ شولہ جوالہ بنی رشل سے کوٸ بعید نہ تھا ایک آدھ تھپڑ جڑ دیتی۔۔۔
جولین کے جانے کے بعد اب اسکا روٸے سخن زین کی طرف مڑگیا تھا۔۔۔
ہاں تم،تم ٹپوری پولیس والے،شرم نہیں آتی تمھیں ایسی حرکتیں کرتے؟۔۔۔
رشل نے کمر پر ہاتھ رکھ کر لڑاکا عورتوں کے ریکارڈ بریک کرتے تیوری چڑھاکر زین کو دیکھا جو مسکراکر بالوں میں ہاتھ پھیرتا بلاوجہ گنگنا رہا تھا۔۔
جیبوں میں ہاتھ ڈالے ہونٹوں پر کبھی سیٹی سے کوٸی دھن بجاتے تو کبھی گنگناتے زین کاخود کو نظر اندازکرنا رشل کو بری طرح کھلا تھا۔
“تم سے کچھ کہہ رہی ہوں”
رشل نے دانت پیستے ہوٸے اسے گھورا۔
جی آپ مجھ سے مخاطب ہیں؟
زین نے کمال اطمينان کا مظاہرہ کرتے رشل کے غصے کو مزید ہوا دی۔۔
نہیں میں اسی سفید انڈے سے مخاطب ہوں۔
رشل نے چمک کر کہا۔۔
کون سفید انڈا؟
زین نے ذرا ناسمجھی سے اسکے غصے کی شدت سے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھا۔
وہی جو ابھی تم پر لاٸن مار رہی تھی،بلکہ تم اس پر لاٸن ماررہے تھے۔۔۔
طنزیہ انداز میں کہتے آخر میں رشل کے لہجے میں تیکھا پن اترآیاتھا۔
“کیا کریں مسز”
“شریکوں کو تو چوبیس گھنٹے آگ لگی رہتی ہے، اب کچھ تو کرنا ہے ناں”
زین دل جلانے والے انداز میں ذرا اسکی جانب جھک کر کہا ۔۔
ویسے تمھیں کیوں اتنا برا لگ رہا ہے؟۔
“جیلس ہورہی ہو”
زین کے اچانک کیۓ جانے والے سوال پر بے اختیار رشل کو اپنے روٸیے کا احساس ہوا۔۔۔
نن….نہیں میں کیوں ہونے لگی جیلس۔۔۔
وہ بے نیازی ظاہر کرتی یہاں وہاں دیکھنے لگی تو زین نے ایک زبردست قہقہ لگایا۔۔
رشل نے جھینپ مٹانے کو خوامخواہ اسے گھورکر دیکھا تھا۔۔
_____________________________
پندرہ دن کے ہنی مون ٹور کے دوران رشل اور زین کی جنگ جاری رہی تھی۔۔۔۔۔
آج صبح ہی وہ دونوں پاکستان پہچے تھے،گھر میں کافی رونق لگی ہوٸی تھی۔۔۔۔
ہمیشہ کی طرح حمیرا پھپھو اور سارہ وہیں موجود تھیں۔
سب سے مختصر سی ملاقات کرنے کے بعد وہ دونوں کچھ دیر آرام کرنے چل دیۓ ۔
_______________________________
اتنا مسکرایاکس خوشی میں جارہا ہے ہاں؟
رشل نے کچن کاونٹر پر چڑھ کر بیٹھتے شرارت سے نازنین کے کھلے کھلے چہرے کو دیکھا۔
“بس ویسے ہی
نازنین نے لبوں پر مخصوص مسکان سجاٸے کھیرا کاٹتے ہوٸے مصروف سے انداز میں جواب دیا۔۔
ویسے ہی مطلب کیسے ہی..
رشل نے کھیرے کی قاش اٹھاکر منہ میں رکھتے ہوٸے شرارت سے آنکھیں مٹکاکرکہا تو نازنین نے ہنستے ہوٸے اسے گھورا۔۔۔
خالہ بننے والی ہو،اب تو سدھر جاو۔۔۔
سچ؟؟؟
نازنین کے کہنے کی دیر تھی کہ رشل خوشی سے چیخ اٹھی۔۔۔۔
نازنین نے مسکراکر سر اثبات میں ہلادیا۔۔۔
آہا،میں پہلے ہی بتارہی ہوں نام میں رکھونگی۔۔۔
رشل نے پرجوش سے انداز میں اعلان کیا۔۔۔۔۔
کچن میں کام کرتے دونوں باتوں میں مگن تھیں جب کسی نے سلپ پر چمچ بجایا۔۔۔۔
دونوں نے بیک وقت مڑ کر دیکھا تو زین کھڑا تھا۔۔
کیا ہوا زین کچھ چاہیۓ
نازنین نے پوچھا تو زین نے جھٹ سے اثبات میں سر ہلادیا۔۔۔
اسی اثنا میں بڑی ماما کچن میں داخل ہوٸیں۔۔۔
یہاں کیا کررہے ہو بیٹا؟کچھ چاہیۓ؟
انہوں نے بھی زین کو ایستادہ کھڑے دیکھ کر سوال کرڈالا۔
ہم بھی تو یہی پوچھ رہے ہیں مگر ایس پی صاحب کے تولگتا ہے منہ پہ تالا لگا ہے۔۔۔۔۔۔
نازنین نے شرارت سے کہا۔۔۔
کیا ہوا..کیا چاہیۓ؟
اب کے نازنین نے ذرا سنجیدگی سے پوچھا۔۔
میری بیوی…
جو کب سے تم نے اپنے ساتھ یہاں قید کررکھی ہے۔۔۔
زین نے چہرے پر دنیاجہان کی معصومیت سجاکر کہا تو نازنین نے اسے گھورا۔۔
رشل نے ہاتھ روک کر اسے دیکھا اور بنا کوٸ نوٹس لیۓ دوبارہ سیلٹ بنانے میں مصروف ہوگٸی ۔
قید کرکے رکھی ہوٸی ہے؟
ارے اتنے دنوں بعدملی ہیں ہم بہنیں،چند پل بات بھی نہ کریں۔۔۔۔۔
نازنین نے گھورکر زین کو دیکھا جو “چند پل” سن کر بیہوش ہونے کو تھا۔۔
یہ چند پل تھے؟
پچھلے ایک گھنٹے سے تم لوگ باتیں بگھارنے میں مصروف ہو ابھی تک تمھاری باتیں اور چند پل ختم نہیں ہوٸے۔۔
بڑی ماما کباب ٹرے میں سیٹ کرتیں ان کی نوک جھونک سے محفوظ ہوتیں مسکرارہی تھیں۔۔۔
چھوڑدو میری بیگم کا پیچھا تاکہ وہ اپنے بیچارے سے شوہر کو بھی کچھ ٹائم دے سکے۔۔۔
زین نے ایسے کہاجیسے نازنین ہمیشہ اسکی بیگم کو اپنے ساتھ باندھ کر رکھتی ہو۔۔
او پولیس والے،کیوں دماغ کا دہی کررہے ہو۔۔۔۔۔کام کرنے دو۔۔۔
رشل نے سلپ کے اس طرف سے ایسے چھری لہراکر ہانک لگائی جیسے لوگ سبزی والے کو بلاتے ہیں
شرم کرو،جہنم میں جاوگی سیدھی۔۔۔۔۔
شوہر سے اس طرح بات کرتے ہیں۔۔
اسکی بات پر نازنین نے ہنسی دباٸی تو رشل نے وہیں کھڑے کھڑے ہاتھ میں تھامی چھری لہراکر زین کو ڈرانا چاہا تھا شاید۔۔
تم مجھے چھری سے ڈرانے کی کوشش کررہی ہو،شرم و حیا اٹھ گٸی ہے زمانے سے،ایک پہلے کی بیویاں ہواکرتی تھی اور اب دیکھو ..
اس سے پہلے وہ مزید زمانہ قدیم کی بیگمات پر اظہارخیال کرتااسکا کان بڑی ماما کے ہاتھ میں آچکا تھا۔
اوہ سوری سوری،ان دونوں چڑیلوں نے بگ باس کو بھی اپنے ساتھ ملایا ہوا ہے۔۔
وہ کراہتا ہوا کان آزاد کرانے کی کوشش کرنے لگا۔۔
اب جاو یہاں سے،اتنے بڑے ہوگٸے ہو لیکن حرکتیں وہی بچوں والی ہیں۔۔
بڑی ماماکے کہنے پر اس نے بیچارگی سے اپنی بیگم کو مدد طلب نظروں سے دیکھا جو مزے سے یہ سین دیکھ رہی تھی۔۔
بڑی ماما،کان توڑ دیں اس پولیس والے کا۔۔
رشل نے ہوا میں مکا چلاتے کہا۔۔
اوکے اوکے،سوری لیڈیز جارہا ہوں میں۔۔
پلیز میراکان۔۔۔
اسکے بیچارگی سے دہاٸیاں دینے پر بڑی ماما نے مسکراکر اسکا کان چھوڑتے ہوٸےپیارسے ایک چپٹ اسکے سر پر لگائی
میں سمجھ گیا۔لیڈیز سے پنگا ،ناٹ چنگا۔۔
ادب سے ذرا جھک کر ڈراماٸی انداز میں کہتا وہ سب کو ہنسنے پر مجبور کرگیا۔۔
________________
تم نےمجھے دل سے معاف کردیا ہے ناں۔؟
سارہ افسردہ چہرہ لیۓنازنین سے ہمکلام تھی۔۔۔۔۔
ہاں،جو کچھ ہوا وہ نادانی میں ہوا۔۔۔۔غلطی مان لینا بھی ظرف کی بات ہوتی ہے،اور تم نے اپنی غلطی مانی ہے سارہ،باربار مجھے شرمندہ نہ کرو اسطرح معافی مانگ کر۔۔
سارہ کے شانے پر نرمی سے ہاتھ کا دباو ڈالتی نازنین اپنے ازلی دھیمے انداز میں بولی تو سارہ نے تشکر سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔۔
تم بہت اچھی ہو نازنین۔۔۔۔
اسکی بے اختیار تعریف کرنے پر نازنین جھینپ کر مسکرادی۔۔۔۔سب کچھ بہت اچھا لگنے لگا تھا۔۔۔۔
آفندی ولا میں اب خوشیوں کا راج تھا۔۔۔۔وہ دعاگو تھی کہ سب اب ایسے ہی رہے۔۔۔۔۔مسکراتی ہوٸی وہ جانے کو پلٹ گٸی۔۔۔۔۔
دور جاتی نازنین کی پشت پر راہداری میں مڑنے تک سارہ نے نظر جماٸے رکھی غالباً اب کوٸی نیا کھیل اسکے دماغ میں چل رہا تھا جو وہ جلد شروع کرنے والی تھی۔۔۔۔۔ایک پراسرار سی مسکراہٹ اسکے لبوں پر کھیلنے لگی۔۔۔۔
وہ ان لوگوں میں سے تھی جو خوشیوں سے مہکتے گھروں میں آگ لگاکر تسکین محسوس کرتے ہیں۔۔
____________________________
زین کے حکم کےمطابق دس سے پندرہ منٹ میں ایمرجنسی میں سب اپنے مخصوص مقام پر جمع ہوٸے تھے۔۔۔۔۔وکی اور عینا کی جانب سے ملنے والی انتہائی اہم انفارميشن پر یہ ہنگامی میٹنگ بلاٸی گٸی تھی۔۔۔۔۔
تو بلآخر چوہا بل سے باہر آنے کو ہے۔۔۔۔
اب کی بار آغا بچ نہ پاٸے۔۔۔۔شہر سے باہر فارم ہاوس پر اب وہ اپنی کارواٸی کرنے کا پلان بنارہا ہے۔۔۔۔۔اہم خبر یہ ہے کہ فارم ہاوس لڑکیوں کو بیہوش کرکے ایک ٹرک میں لے جایا جاٸے گا۔۔۔
زین نے کھڑے کھڑے ٹیبل کے دونوں کناروں پر مضبوط ہتھلیاں ٹکاٸے سنجیدگی سے کہتے ایک نظر ٹیبل کے گرد کرسیوں پر براجمان اشخاص پر ڈالی۔۔۔۔۔
انکی میٹنگ مزید ایک گھنٹہ چلی تھی۔۔۔۔۔اپناپلان تیار کرکے انہوں نے وکی اور عینا کو اطلاع کے ساتھ ہاٸی الرٹ ساٸن دیا تھا۔
_____________________________
زین بیڈ پر لیپ ٹاپ لیۓ بیٹھا کام میں مصروف تھا۔۔۔۔ساتھ ساتھ ضروری کالز بھی اٹینڈ کرتا جارہا تھا۔۔۔۔۔
رشل صوفے پر پیر پسارے بیٹھی کوٸی ناول بک پڑھنے میں مصروف تھی۔۔۔۔۔
پڑھتے پڑھتے بک کی اوٹ سے اس نے مصروف سے زین کو دیکھا۔۔
اونہہ،مصروفیات تو دیکھو۔۔۔
اب بیوی بھی یاد نہیں آتی۔۔۔۔۔ویسے توآتے جاتے زبان پر خارش ہوتی تھی جناب کے۔۔۔۔۔رشل نے کڑھ کر سوچا۔۔۔۔پھر اگلے ہی لمحے اپنی سوچ پر لعنت بھیجتی دوبارہ ہاتھ میں پکڑی کتاب کی طرف متوجہ ہوگٸی۔۔۔۔
اسی اثنا میں زین نے رشل کو پکارا۔۔۔۔
“رشل”?
زین کے اچانک پکارنے پر رشل نے کتاب نیچے کرکے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔۔۔۔
“ایک کپ چاٸے بنادو یار”
زین کی فرمائیش پر رشل نے تیوری چڑھاکر اسے دیکھا۔۔۔۔
ہونہہ بیوی یاد آٸی بھی توچائے کے لیۓ۔۔۔۔
تپ کر اس نے سوچا لیکن سوچنے کے ساتھ ساتھ یہ بات وہ زبان سے بھی کہہ چکی تھی۔۔
اور زین کی زیرک سماعتوں تک اسکے الفاظ باخوبی پہچ چکے تھے۔۔۔۔
اس نے مسکراہٹ دباکر خود کو مصروف رکھا۔۔
رشل جلتی کڑھتی باہر نکل گٸی۔۔۔۔کچھ دیر بعد آٸی تو ہاتھ میں ٹرے تھام رکھی تھی جس میں چاٸے کے ساتھ ساتھ نگٹس بھی تھے۔۔۔
زین نے کپ تھام کر ایک مسکراتی معنی خیز نظر ناک پھلاٸے کھڑی رشل پر ڈالی۔۔۔۔۔وہ جانےکو پلٹی ہی تھی جب زین نےہاتھ سے پکڑ کر برابر بٹھادیا۔۔۔۔۔
زین نے کھانا ٹھیک سے نہیں کھایا تھا اسلٸے رشل چاٸے کے ساتھ ٹگٹس بھی لے آٸی تھی۔۔۔۔۔
شوہر کا اتنا خیال ہے۔۔۔زین نے چائے کا کپ لبوں سے لگاتے اسے دیکھا۔۔۔
اونہہ،خوش فہمیاں بہت پالتے ہو تم۔۔۔۔
آدھی رات کو اگر تمھیں بھوک کا دورہ پڑا تو بھی میری ہی نیںند خراب کروگے اسی لیۓ یہ سب لاٸی۔۔۔
ورنہ مجھے کوٸی شوق نھیں سمجھے۔۔۔
رشل نے اسکی بات کا تفصیلی جواب دیا اور اٹھ کر صوفے کی طرف جانے کو پر تولے تو زین نے بازو سے پکڑ کر دوبارہ بٹھادیا۔۔۔
ماننا پڑے گا مسز،چاٸے کمال بناتی ہو۔۔
ہاں تو کیا کہہ رہی تھیں تم۔۔۔۔
بیوی چائے کے لیۓیاد آتی ہے۔۔۔۔
زین کی بات پر رشل نے گڑبڑاکر خود کو کوسا۔۔۔۔بھلا کیا ضرورت تھی ایسا کہنے کی۔۔
بیوی یاد تو کٸی دفعہ آتی ہے لیکن ہر دفعہ نو لفٹ کا بورڈ دیکھنا پڑتا ہے۔۔۔
زین نے اسکے ایکسپریشنز دیکھتے مسکراہت دباکر کہا تو رشل نے اپنے ٹریڈ مارک یعنی محض “اونہہ” کہنے پراکتفا کیا۔۔۔
سنو….
معدے کے ذریعے دل میں اترنے کا موقع دے رہا ہوں فائدہ اٹھالو۔۔۔
زین نے کپ خالی کرکے ٹرے میں رکھتے مزید گل افشانی کی تو رشل بری طرح تپ کر ابرو اچکاٸے اسےگھورتی استہزاٸیہ انداز میں ہنسی۔۔
مجھےکوٸی شوق نہیں ہے تمھارے دل میں اترنے کا۔
رشل نے کھٹاک سےکہا۔۔
ابھی موقع ہے پھر یہ پولیس والا رہے نہ رہے۔۔۔
زین کے کہنے پر رشل نے طنزیہ انداز میں اسے دیکھ کر ہلکا سا قہقہ لگایا۔
تم اتنی جلدی میری جان نہیں چھوڑنےوالے۔۔۔۔۔
رشل کی بات پر زین نے مبہم سا مسکراکر اسکی آنکھوں میں دیکھا۔۔۔
بلکل.مسز

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: