Hisar e Ishqam Novel by Pari Saa – Episode 12

0
حصارِ عشقم از پری سا – قسط نمبر 12

–**–**–

وہ بےچین سا گلاس وال کےپاس آکھڑا ہوا۔۔۔۔۔۔
رات کے اندھیرے میں ڈوبےلان پر نظریں جماٸے اسکا دماغ بہت کچھ سوچ رہا تھا۔۔۔۔
لاکھ کوششوں کے باوجود وہ چہرہ اسکی نظروں کے سامنے سے ہٹ نھیں رہا تھا۔۔۔۔۔وہ گہری بھید بھری آنکھیں اسے رہ رہ کر یاد آرہی تھیں۔۔۔۔۔۔
نجانے کیا راز ہے ان آنکھوں میں۔۔۔۔۔نجانے وہ کب سےوہاں ہے،نجانے وہ…..
فہد حسن نے راکنگ چیٸر پربیٹھتے سر جھٹکا۔۔۔۔۔
وہ مزید کچھ سوچنا نہیں چاہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔لیکن دل و دماغ اسے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کررہے تھے۔۔۔
بلآخر اس نے ایک فیصلہ کیا اور موبائل اٹھاٸے میسج ٹاٸپ کرنے لگا۔۔۔
_______________________________
کمرے میں داخل ہوتے شاہزیب نےایک مسکراتی نظر نازنین پر ڈالی جو کچھ دیر پہلے ہی نمازپڑھ کر فارغ ہوٸی تھی۔۔۔۔۔جاں نماز طے کرکے جگہ پر رکھتے اس نے زیب کی مسکراہٹ کا جواب نرم مسکراہٹ سے دے کر سلام کیا۔۔۔۔
زیب سلام کاجواب دے کر بیڈ پر جوتوں سمیت اوندھے منہ گرنے کے سے انداز میں جالیٹا۔۔۔
نازنین جانتی تھی وہ تھک چکا ہے ورنہ وہ ہمیشہ سے بہت صفائی پسندرہا تھا چیزوں کو انکی اصل جگہ پر رکھنا اسکی عادت تھی۔۔۔۔۔۔
نازنین نے بیڈ کے کنارے بیٹھ کر اسکے جوتے اتارنے چاہے تو وہ فوراً اٹھ بیٹھا۔۔
کیا کررہی ہو؟
کچھ نہیں بس ایسے ہی۔۔۔
نازنین دھیرے سے مسکرادی۔۔۔۔
یہ آپکے کرنے کے کام نہیں بیگم۔۔
شاہزیب نرم لہجے میں محبت سے اسے دیکھتا بولا۔۔۔ساتھ ساتھ جوتوں موزوں کو بھی انکی جگہ پر رکھنے کی کارواٸی جاری تھی۔۔۔۔
تھک گٸے ہو ؟
ہمممم ذرا سا۔۔
نازنین کے فکرمندانہ انداز پر وہ ہولے سے مسکراتا اسکی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا۔۔
چائے لاتی ہوں سٹرانگ سی ۔۔وہ اسکی چائے سے محبت کو پیش نظر رکھ کر بولی۔۔۔
لے آنا ابھی تو بیٹھو۔۔۔۔
شاہ زیب نے اسکا ہاتھ تھام رکھا تھا۔۔
“بہت خوش دکھ رہے ہیں جناب.”
نازنین نے اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتے دھیمےسروں میں کہا تو وہ کھل کر مسکرادیا۔۔۔
خوش تو ہونا بنتا ہے مسز آپ جو اتنا پیارا تحفہ دینے والی ہیں۔۔
اسکے ملاٸمت سے کہنے پر نازنین شرماگٸی۔۔۔
______________________________
سارہ صوفے پربیٹھی ٹی وی کے چینلز سرچ کرنے میں مصروف تھی جب اسے نازنین کچن کی طرف جاتی دکھاٸی دی۔۔
ایسے ہی کسی موقعے کے انتظار میں تھی وہ۔۔
کیاہورہا ہے؟
سارہ نے کچن میں داخل ہوتے دوستانہ انداز میں دریافت کیا۔۔۔
چائے بن رہی ہے،پیوگی؟
نازنین نے خوشدلی سے کہاتو سارہ سر ہلاگٸی ۔۔۔۔
ہاں پلادو میں خود بھی بنانے کا سوچ رہی تھی چاٸے۔۔۔۔۔سارہ نے پانی کی بوتل فریج سےنکالتے جواب دیا۔۔۔
اچھا میں اسٹڈی میں ہوں تم برانہ مانوں تو وہاں دینے آجاوگی چائے ؟
سارہ نے مسکراکر سوال کیا۔۔
میں دینے آجاونگی،برالگنے والی کیا بات سارہ۔۔۔۔۔؟
نازنین نے خوشدلی سے کہہ کر کپ ٹرے میں سیٹ کیۓ تو سارہ شکریہ اداکرتی باہر نکل آٸی۔۔۔۔۔پانی ک بوتل اسے ہاتھ میں تھی۔۔
ایک شاطرانہ مسکراہٹ اسکے لبوں پر کھیل رہی تھی۔۔۔
ہننہ،اتنی آسانی سے میں اپنی اس دن کی گٸی بے عزتی نہیں بھول سکتی۔۔۔۔اب مزہ آٸے گا
دل میں خود سے مخاطب وہ سیڑھیاں چڑھتی اوپر چلی گٸی۔۔۔
کچھ دیر بعد ہی ایک دلدوذ چیخ اور کانچ ٹوٹنے کی آواز پر سارہ سمیت سب وہاں بھاگتے ہوٸے آٸے تھے۔۔۔
نازنین چائے کی ٹرے سنبھالے آدھی سیڑھیاں چڑھ چکی تھی جب اسکی سلیپر پھسلی اور ڈس بیلنس ہوکر وہ بری طرح گرتی ہوٸی بل کھاتی سیڑھیوں سے نیچے آگری۔۔۔۔۔۔ایک چھناکے سے کانچ ٹوٹنے کی آواز اسکی چیخینے کی آواز کے ساتھ گونجی تھی۔۔۔۔۔ٹاٸلز والی سیڑھیوں پر پانی گراہوا تھا۔۔
“نازنین آنکھیں کھولو “
شاہ زیب بند ہوتے دل کے ساتھ پکاررہا تھا۔۔۔۔لیکن وہ ہوش و خرد سے بیگانی ہوٸی آنکھیں بند کیۓ ساکت پڑی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔شاہ زین گاڑی نکالنے تیزی سے باہر کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔۔۔شاہ زیب نے اسکے بے جان وجود کو بازووں میں اٹھاکر لمحےکی تاخیر کیۓ بنا باہر کی طرف دوڑلگادی،کپ ٹوٹنے کی وجہ سے کانچ بھی نازنین کو کافی جگہ سے ذخمی کرچکا تھا۔۔۔۔
اس اچانک افتاد پر جیسے سب کے دل دھڑکنا بھول گٸے تھے۔۔۔
___________________
چاروں اور دواٸیوں کی مخصوص بو رچی بسی تھی،کاریڈور کے ٹھنڈے فرش پر ٹہلتے ٹہلتے اسکی ٹانگیں سن ہوچکی تھیں لیکن اسے پرواہ کب تھی،اسے تو اندر موجود اس وجود کی فکرتھی جو اسکی زندگی کی ضمانت تھا۔۔۔۔
آفندی ولا کے مکین سرجھکاٸے خامش بیٹھے تھے، اتنے لوگوں کی موجودگی میں بھی وہاں ہو کا عالم تھا جب ڈاکٹرنی انکی طرف آتی دکھاٸی دی۔۔۔
شاہزیب تیر کی طرح لیڈی ڈاکٹر کے پاس پہچا تھا۔۔۔۔
آپ پیشنٹ کے ہسبنڈ ہیں؟
انکے سوال پر شاہ زیب نے اثبات میں گردن ہلادی،ایک عجیب سی بے چینی اسکے رگ و پے میں سرایت کرنے لگی تھی۔۔
وہ ٹھیک ہے ناں؟
اس نے دل میں طوفان برپاکرتے سوال کو زبان سے ادا کیا۔۔۔۔۔ڈاکٹر کے چہرے پر گہری سنجیدگی طاری تھی۔۔۔۔
آپکی مسز بلکل ٹھیک ہیں لیکن…..
انکا مس کیرج ہوچکا ہے۔۔۔۔۔گرنے کی وجہ سے انکے پاوں میں فریکچر ہوگیا ہے۔۔۔
شاہ زیب کے دل پر جیسے گھونسا پڑاتھا۔۔۔۔
سب اس خبر سے جیسے ڈھے سے گٸے تھے۔۔۔۔
ڈاکٹر مزید چند ہدایات کرتی انہیں ملنے کی اجازت دیتی آگے بڑھ گٸی۔۔۔
آگے پیچھے ہی وہ سب اندر داخل ہوٸے تھے،اے سی کی خنکی ماحول کو سرد بنارہی تھی۔۔۔
نازنین کے سر پر پٹی بندھی تھی،بازوں وغیرہ پر بھی کانچ لگنے کی وجہ سے کافی چوٹیں آٸی تھیں
دادو اور بڑی ماما کو رشل نے سنبھالا دیا تھا ورنہ اسکا اپنا دل کٹ رہا تھا اپنی جان سے پیاری بہن کو اس حال میں دیکھ کر۔۔۔
ایک طرف سارہ اور حمیرہ پہھپھو افسردہ سی شکل بناٸے کھڑی تھیں۔
______________________________
وکی کو فہد کا میسج حیرت میں ڈال گیا تھا۔۔۔۔۔حالانکہ فہد نے پوری کوشش کی تھی اسکی یہ بات سب سرسری سے انداز میں لیں لیکن نہ یہ بات معمولی تھی اور نہ ہی سرسری لی جاسکتی تھی۔۔۔۔
البتہ عینا بڑی خوش تھی۔۔۔۔۔
اپنا سٹون مین عشق کے حصار میں جکڑا گیا۔۔۔
وہ پرسوچ انداز میں وکی کو دیکھتی بولی تو وکی اسے دیکھ کر رہ گیا۔۔
“ریٸلی..”
ہاں اور کیا،دیکھو کیسے ماہم کا خیال رکھنے پر اسے پروٹیکٹ کرنے کی ریکوٸسٹ کی ہے۔۔۔
یعنی اب ایک کے بجائے دو خواتین کا دھیان رکھنا ہوگا مجھ بیچارے کو۔۔۔
وکی نے بیچارگی سے کہا۔۔۔
ویسے یقین کرنا مشکل ہے،کیا پتا تمھارے اندازے غلط ہوں،ضروری نہیں اسٹون مین….آٸ مین فہد کو اس لڑکی سے محبت ہوگٸی ہو،بات کچھ اور بھی ہوسکتی ہے۔۔۔
کچھ اور کیا مطلب،اب یہ تو ہمارے پلان کا حصہ ہونے سے رہا اور ویسے بھی اسٹون مین نے پہلی دفعہ پرسنلی ہمیں ایک پرسنل کام دیا ہے۔۔۔
عینا سنجیدگی سے کہتی آخر میں آنکھیں گھماکر بولی۔۔
اور مسٹر وکی میری چھٹی حس مجھے یہی اشارہ دے رہی ہے کہ بات وہی ہے جو میں سوچ رہی ہوں۔۔۔
عینا جہاندیدہ بڑی بی بنی بولی تو وکی نے اسے خشمگیں نگاہوں سے گھورا۔۔۔
دوسروں کے معاملے میں تمھاری چھٹی حس بڑا کام کرتی ہے کبھی اس غریب پر بھی نظر کیجیۓ مس اینا کونڈا۔۔۔
عینا اسکے آخری الفاظ پر خونخوار نظروں سے گھورنے لگی۔۔
“جس طرف اٹھ گٸی ہیں آہیں ہیں”
“چشم بددور کیا نگاہیں ہیں
وکی نے اسکے گھورنے پر جھٹ سے کہا۔۔۔
بھاڑ میں گیا یہ غریب شاعر۔۔
عینا نے ناک سے مکھی اڑانے والے انداز میں خود کو اینا کونڈا کہے جانے کابدلا چکایا۔۔۔
تم پہ مرتے ہیں تو کیا
مار ہی ڈالوگے ہمیں
بڑے عرصے بعد وقاص عرف وکی کے اندر کا شاعر بیدار ہوا تھا۔۔۔۔۔۔یونی کے زمانے میں اسکا یہ شاعری کا شوق زوروں پر رہا کرتا تھا۔۔۔
عینا کو کچھ کچھ اندازہ تو تھا اپنے متعلق اسکی پسندیدگی کا لیکن اس نے کبھی اہمیت نہ دی تھی اس بات کو
وہ ان چکروں سے دور بھاگنے والی پریکٹیکل سی لڑکی تھی۔۔
شاہ زین کو جواٸن کرنے کے بعد شاید دوسری تیسری دفعہ عینا اور وکی ایک مشن پر ایک ساتھ کام کررہے تھے۔۔
“اینا کونڈا..”
آٸی ایم سیریس،میرے بارے میں بھی کبھی اپنی چھٹی حس کو سوچنے کا موقع دو۔۔۔
ہاں میں نے تمھارے بارے میں کافی کچھ سوچا ہے ایون تمھاری دلہن بھی پسند کرلی ہے۔۔۔
جوڑی خوب جچے گی..
عینا نے سنجیدگی سے کہا جب کے آنکھیں شرارت سے بھری تھیں۔۔۔
کون ہے وہ خوش نصیب۔۔۔
وکی نے بڑی بے صبری سے پوچھا تھا۔۔
“خوشبو…
لاحول ولا قوت،عینا کے جواب پر وہ اسے گھور کر رہ گیا تھا۔۔۔
جبکہ عینا ہنسی ضبط کرنے کے چکر میں سرخ پڑتی ہنستی چلی جارہی تھی۔۔۔
وکی نے بھرپور نظروں سے مبہوت سے تکتے یہ مسکراہٹ اپنے دل میں محفوظ کی تھی۔۔۔
عینا کی ہنسی تھمی تو اسے نظروں کی حدت کا احساس ہوا۔۔۔
“کیا ہے”مس گلابو۔۔۔
اس نے تنک کر پوچھا۔۔۔۔
آٸی سوٸیر حسینہ باٸی سے پہلے تم میرے ہاتھوں ضائع ہوجاوگی۔۔۔۔
گویا گلابو کے ضبط کا پیمانہ لبریز ہوگیا تھا۔۔۔۔۔بیچاری،مطلب بے چارہ وکی فل تپ چکا تھا۔۔۔۔۔بیچارے کی فیلنگز کی کوٸی ویلیو ہی نہ تھی…..چہ چہ۔۔۔۔۔
پتھردل انسان،ایسا بھی کیا کردیا میں نے۔۔
عینا اسکی دھمکی پر ہنسی دباکر چہرے پر معصومیت طاری کیۓ بولی۔۔۔
تم نے دل چرانے کا جرم کیا ہے۔۔۔۔
وکی سنجیدہ لہجے میں بولا۔۔۔
اممممم….ڈاٸیلاگ اچھا ہے لیکن حلیہ نہیں،میں کسی شی میل کا دل کیوں چراونگی بھلا۔۔۔
عینا کا بھی آج اسے زچ کرنے کا ارادہ تھا۔۔۔
وکی کا دل چاہا سر پیٹ لے۔۔
“اپنا نہیں،اینا کونڈا کا”۔۔
بیچارہ جدید زمانےکا رومیو۔
____________________________
رات کا نجانے کون سا پہر تھا جب پیاس کی شدت سے نازنین کی آنکھ کھلی۔۔۔۔۔اس نے کہنی کے بل اٹھ کر ساٸیڈ لیمپ آن کیا۔۔
ایک ہفتہ ہوچکا تھا اسے ڈسچارج ہوکر گھر آٸے۔۔۔۔باقی ذخم کافی حد تک مندمل ہوگٸے تھے لیکن پیر میں فریکچر کی وجہ سے وہ خود سے چل نہیں سکتی تھی۔۔
بمشکل بیٹھ کر اس نے ساٸیڈ ٹیبل پر دھرے جگ میں سے گلاس میں پانی نکالنا چاہا،بازو کو حرکت دینے سے درد کی ایک لہر اٹھی تھی۔۔۔۔
آہ……درد کو برداشت کرتے اسکے ہاتھ سے گلاس چھوٹ کر نیچے گر کر ایک چھناکے سے ٹکڑوں میں بٹ گیا تھا۔۔۔
آوازیں پیداہونے پر شاہ زیب کی آنکھ کھل گٸی تھی۔
کیا ہوا ناز؟
نازنین کو بیٹھے دیکھ کر وہ فکرمند ہو اٹھا تھا۔۔۔
کچھ نہیں،پانی پینے اٹھی تھی۔۔۔۔
اپنی وجہ سے شاہ زیب کی نیند خراب ہونے پر وہ شرمندگی سے سر جھکاٸے بولی۔۔۔۔
مجھے اٹھادیتیں۔۔۔
شاہ زیب کمفرٹر ساٸیڈ پر کرتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
اسے پانی دے کر اس نے گلاس کے ٹکڑے اٹھاکر پھینکے اور اسکے پاس آبیٹھا۔۔۔
آٸی ایم سوری میری وجہ سے تمھاری نیند…
پاگل ہوگٸی ہو؟
اٹس اوکے میری جان۔۔
شاہ زیب نے اسکی بات کاٹ کر محبت سے کہا۔۔۔
تم بہت اچھے ہو زیب۔۔۔
سر اٹھاکراداس بھیگی آنکھوں سے شاہ زیب کی آنکھوں میں دیکھتی وہ سادگی سے بولی۔۔۔
اسکے سادہ سے اظہار پر شاہ زیب کے لب مسکرااٹھے۔۔۔
اس نے مضبوط بازو بڑھاکر نازنین کو اپنے حصار میں لیا تو نازنین نے اسکے کندھے پر سر ٹکادیا۔۔۔
چند لمحے دونوں کے بیچ خاموشی حاٸل رہی۔۔
خوشیاں جیسے چھب دکھلاکر الوداع کہہ گٸی تھیں۔۔
نازنین کا مرجھایا چہرہ شاہ زیب سے دیکھا نہیں جارہا تھا۔۔۔
جو کچھ ہوا وہ ہماری قسمت میں تھا نازنین۔۔۔
خود کو سنبھالو…میرے لیۓ
نرمی سے کہے اسکے الفاظ پر نازنین جو اب تک بمشکل آنسو پلکوں میں سنبھالے ہوٸے تھی ضبط کھوبیٹھی۔۔۔
آنسو پلکوں کی باڑ توڑتے رخساروں پر بہہ نکلے تھے۔۔۔۔
وہ ہماری پہلی اولاد تھی زیب۔۔۔
شاہ زیب کے کشادہ سینے میں منہ چھپاٸے پھوٹ پھوٹ کر روتے اسکے لبوں سے یہ الفاظ نکلے تھے۔۔۔
شاہ زیب نے کچھ دیر اسے رونے دیا تاکہ دل ہلکا ہوجاٸے۔۔۔۔
جی بھرکے رونے کے بعد نازنین کے آنسوں تھمے،جبکہ شاہ زیب کا سفید کرتا بھیگ گیا تھا۔۔۔
میرا کرتا تودھل گیا ہممم۔۔۔
شاہ زیب نے اسے ہنسانے کی خاطر ہلکے پھلکے انداز میں کہا تو نازنین جھینپ گٸی۔۔۔
س…سوری۔۔۔۔
کتنا سوری بولتی ہو،سوری کی پوری فیکٹری ہے تمھارے پاس۔۔۔
اسکے سوری بولنے پر شاہ زیب نے چھیڑا تو وہ بھی مسکراکر سر اسکے سینے پر ٹکاگٸی۔۔۔
پتا ہے ناز،اللہ کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے۔۔۔۔۔وہ جو کرتا ہے اچھے کے لیۓ کرتا ہے۔۔۔
اللہ کی رضا میں راضی رہو۔۔۔۔
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد غنودگی میں جاتی نازنین کی سماعتوں سے شاہ زیب کے الفاظ ٹکراٸے تھے۔۔
ہمممم…
سرد آہ لبوں سے خارج کرتی وہ شاہ زیب کے کشادہ سینے میں چھپی نیند کی مہربان آغوش میں گم ہوتی چلی گٸی۔۔۔۔
_____________________________
کیا سوچ رہی ہو سٹیچو بن کر۔۔۔۔۔؟رشل ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے دھرے سٹول پر بیٹھی کسی غیر مرٸی نکتے کو گھورنے میں مصروف تھی۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: