Hisar e Ishqam Novel by Pari Saa – Episode 13

0
حصارِ عشقم از پری سا – قسط نمبر 13

–**–**–

زین کمرے میں داخل ہوا تو رشل کو ڈریسنگ مرر کے سامنے ساکت بیٹھا پاکر پوچھ بیٹھا۔۔۔
کچھ نہیں،تم کب آٸے ؟
اس نے سر جھٹک کر جواب دینے کے ساتھ غیر ارادی طور پر سوال کرڈالا۔۔۔
بس تب ہی آیا جب تم میرے قتل کے منصوبے ترتیب دے رہی تھیں۔۔۔
توبہ ،حد ہے۔۔
میں تمھیں قاتل لگتی ہوں؟
رشل زین کی بات پر تنک کر بول اٹھی،اسکے سب بھول بھال کر لڑنے کو میدان میں کودنے والے انداز پر زین نے مسکراہٹ دباٸی۔۔۔
وہ جانتا تھا رشل نازنین کے لیۓ اپ سیٹ ہے،اسکا دھیان بٹانے کی غرض سے ہی وہ اسے چھیڑبیٹھا تھا۔۔۔
قاتل تم نہیں تمھارے یہ نیناں ہیں۔۔۔۔۔سیدھا دل پہ وار کرنے والے۔۔۔
زین ابھی ڈیوٹی کے آیا تھا اور اس وقت فل یونیفارم میں کافی اچھالگ رہا تھا۔۔۔
وہ آہستہ آہستہ رشل کی طرف بڑھا تو رشل فوراً اٹھ کھڑی ہوٸی۔۔
کہاں بھاگ رہی ہو۔۔۔؟
رشل کو بھاگنے کے لیۓ پرتولتے دیکھ کر اس نے ایک ہاتھ سے اسکا نازک بازو گرفت میں لے کر اپنی طرف کھینچا۔۔
“جہنم میں جارہی ہوں”
رشل چمک کر بولتی خودکو اسکے مضبوط حصار سے چھڑانے کی کوشش کرنے لگی ۔۔
جبکہ زین نے اسکے جلے کٹے انداز پر دوسرا بازو بھی اپنے حصار میں لے لیا تھا۔۔۔
جہنم میں تو تم نے ویسے بھی جانا ہے،شوہر کو ترسانے تڑپانے کہ جرم میں۔۔
زین نے دل جلانےوالی مسکراہٹ لبوں پر سجاٸے اسے ذرا اور قریب کیا۔۔
کیاکررہے ہو یہ،کیا مصیبت ہوگٸی ہے تمھیں آتے ہی،چھوڑو مجھے۔۔۔
رومینس کرنے کی کوشش ہورہی ہے سویٹی۔۔۔
زین نے آنکھ دباکر کہا تو رشل کے تلووں سے لگی تو سر پر بھجی۔۔۔۔
ٹپوری کہیں کے۔۔۔۔۔شرم نہیں آتی تمھیں۔۔۔۔۔۔؟
وہ اسکے مضبوط حصار میں کسمساتی جل کر بولی ۔۔۔۔
میراشرم والا پرزہ جلاہوا ہے یار۔۔۔۔۔۔۔نہیں آتی شرم۔۔۔۔۔بےفکر رہو۔۔۔
وہ سنجیدگی سے بولا تو رشل کا دل چاہا اسکی گردن دبوچ لے۔۔۔
تم ایک بہت ہی بیہودہ انسان ہوسمجھے۔۔
اسکے سرخ چہرہ لیۓ بولنے پر زین مسکرادیا۔۔
کیا بیہودگی کی ہے میں نے جو تم ایسا کہہ رہی ہو۔۔۔۔۔
مسکراہٹ ضبط کرکے اب وہ ذرا سخت لہجے میں رشل کی طرف جھکتا ہوا بولا۔۔۔
کک کچھ نہیں ،اب چھوڑدو پلیز۔۔۔
رشل گھبراکر ملتجی لہجے میں بولی تو زین نے گرفت ڈھیلی چھوڑدی
وہ لمحے کی تاخیر کیۓ بنا ڈریسنگ روم کی طرف بھاگ کھڑی ہوٸی ۔۔۔۔
________________________________
زین فریش ہوکر ایزی سا سفید کرتا شلوار پہنے بیڈ پر نیم درازہوگیا۔۔
رشل اسکی طرف دیکھنے سے گریز کرتی ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی کلاٸیوں اور ہتھیلیوں پر لوشن لگانے لگی۔۔۔۔
گاہے بگاہے چور نگاہ موبائل میں مصروف نیم دراز زین پر بھی ڈال لیتی ۔۔۔
اپنے کام سے فارغ ہوکر وہ بیڈ کی دوسری ساٸیڈ پر آبیٹھی۔۔۔۔۔۔کمفرٹر سیدھا کرکے خود پر اچھی طرح اوڑھا اور چارعددبڑے بڑے کشنز کو اتنے اور زین کے درمیان رکھ دیا۔۔۔
زین چپ چاپ اسکی تمام کارواٸی ملاحظہ کررہا تھا۔۔۔
یہ باونڈری وال کیوں بناتی ہو؟۔۔
اب وہ موبائل رکھ کر کہنی کے بل لیٹا فرصت سے اسے دیکھتا پوچھ رہا تھا۔۔
“میری مرضی..”
رشل نے لٹھ مار انداز میں چڑ کر کہتے آنکھوں پر بازو رکھ لیا تبھی زین کی نظر اسکے الٹے ہاتھ پر پڑی۔۔
رشل اٹھوفوراً۔۔
غیرارادی طور پر اس نے تیز لہجے میں کہا تو رشل نے بازو آنکھوں سے ہٹاکر اسے کھاجانے والی نظروں سے گھورتے ہوٸے سوال کیا۔۔۔
کیا مسٸلہ ہے اب؟
تمھاری رنگ کہاں ہے؟
زین نے منہ دکھاٸی میں دی گٸی اپنی رنگ کی بابت پوچھا۔۔۔۔
زین کے کہنے پر اس نے اپنا ہاتھ دیکھا پھر اطمينان سے زین کے چہرے کے سخت تاثرات۔۔۔
کچھ پوچھا ہے میں نے۔۔۔
بڑی ماما کے ساتھ آلو کے پراٹھے بنارہی تھی اسلیۓ اتار کر رکھ دی۔۔۔
وہ بے نیازی سے کہتی رخ موڑ گٸی۔۔
زین نے جارحانہ انداز میں بازو سے پکڑ کر اسکا رخ اپنی طرف کیا تھا۔۔
اپنے دماغ میں یہ بات بٹھالو آٸندہ وہ رنگ تمھاری انگلی سے نہ اترے سمجھی۔۔
کیوں نہ اترے؟اس معاملے میں بھی اب اپنی مرضی تھوپوگے تم مجھ پر۔۔۔۔
سمجھ کیا رکھا ہے آخر مجھے۔۔۔
نقلی ڈول نہیں ہوں جو تمھارے اشاروں پر چلوں۔۔
رشل کو زین کی اس بات سے نجانے کیوں اتنا غصہ آرہا تھا۔۔
فضول میں بحث مت کرو،بس مجھے آٸندہ یہ رنگ والی بات دھرانی نہ پڑے ۔۔
لے کر آو وہ رنگ۔۔۔
سنا نہیں تم نے؟
زین نے سرد انداز میں کہا تو رشل کو نجانے کیوں رونا آنے لگا۔۔
آنسوں ضبط کرنے کی کوشش کرتی وہ مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق اٹھی اور الماری کی دراز میں سے رنگ نکال کر زین کے بڑھے ہوٸے ہاتھ پر پٹخنے کے سے انداز میں رکھ دی۔۔۔
بیٹھو یہاں…
اگلا حکم صادر ہوا۔۔۔
رشل کا دل چاہا اس انسان کا خون کردے جسے ہر بات میں اپنی مرضی تھوپنے کی عادت تھی۔۔۔۔۔دوسرا بندہ اسکے سامنے کمزور اور بے بس تھا۔۔۔۔۔۔زین کی یہی حرکتیں تو اسے تاودلاتی تھیں۔۔۔
وہ ہنوز کھڑی رہی تو زین نے ہاتھ پکڑ کر بٹھادیا۔۔۔۔۔اب وہ اسکی تیسری انگلی میں وہ خوبصورت سی رنگ پہنارہا تھا۔۔۔۔۔۔رشل کارپیٹ کو گھورتی اپنے ہاتھ پر اسکی انگلیوں کا لمس محسوس کررہی تھی۔۔
زین نے ایک نظر اسے دیکھا۔۔۔۔
پلکیں جھکی تھیں چہرے پر افسردگی سی طاری تھی،بالوں کی لٹیں چہرے کے ارد گرد پڑی تھیں کہ اسے بال کھول کر سونے کی عادت تھی ہمیشہ سے۔۔
زین کا دل بے اختیار ہونے لگا تو اس نے بمشکل دل کو سنبھال کر نظر پھیرلی۔۔۔
جاو سوجاو،اور میری بات یاد رکھنا
نرم لہجے میں کہتاوہ لیٹ گیا۔۔
رشل کا بجھا بجھا سا نداز اس نے شدت سے محسوس کیا تھا۔۔۔
رشل تکیہ اٹھاکر صوفے پر جالیٹی تو زین اسے کڑے تیوروں سے گھورتا اسکی طرف بڑھا۔۔۔
پہلے ایک دو بار رشل نے بیڈ کے بجائے صوفے پر سونے کی کوشش کی تھی اورزین نے اچھی خاصی اسکی طبیعت سیٹ کردی تھی۔۔
ایک دفعہ کی بات تمھاری سمجھ میں کیوں نہیں آتی؟
منع کیا ہے صوفے پر سونے سے
اٹھو اور بیڈ پر چلو۔۔۔۔
اسکے کڑک لہجے میں بولنے نے گویا تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کا کام کیا تھا۔۔
کب سے رکے آنسوں بھل بھل بہنے لگے تھے۔۔
زین نے سٹپٹاکر اس بن موسم کی برسات کو دیکھا۔۔
کیوں رورہی ہو یار،کیا ہوا ؟
اسکے آنسوں سے بھیگے گلابی چہرے کو دیکھ کر وہ ذرا نرم پڑتا استفسار کرنے لگا تو رشل نے ذرا کی ذرا شکایتی نظروں سے اسے دیکھا،بھولپن کی انتہا تو دیکھو،مجھ ہی سے پوچھا رہا ہے کیا ہوا ہے۔۔۔
چپ ہوجاو رشل۔۔
زین کو اسکے آنسو تکلیف دے رہے تھے،وہ بے بسی سے اسکے برابر بیٹھتا بولا۔۔۔
تمھاری نظر میں میری کوٸی اہمیت ہی نہیں،ہمیشہ مجھے نیچادکھاکر اپنی مرضی مسلط کرتے ہو۔۔۔۔۔۔۔چھوٹی بڑی ہر بات میں۔۔۔
وہ آنسوں صاف کرتی شکایتی لہجے میں بولی تو زین کو اپنی غلطی کا احساس ہونے لگا۔۔۔۔
آٸی ایم سوری میری جان،اب ایسا نہیں ہوگا پلیز رونا بند کرو۔۔
اسکے رخساروں سے آنسوں چنتا وہ ملاٸمت سے بولتا اسکا بازو تھام کر بیڈ پر لے جانے کو کو پرتولنے لگا۔۔
تم ایک نمبر کے جھوٹے ہو.ابھی تم نے کہا کہ اب ایسا نہیں ہوگا۔۔
رشل نے اسکے اٹھانے پر تنک کر کہا تو زین اسکا بازو چھوڑتاہیں بیٹھ گیا۔۔
اوکے مسز،معاف کردو۔۔۔
نہیں چلاونگا اب اپنی مرضی۔۔۔
نہیں جاو بیڈ پر سوجاو یہیں۔۔۔۔۔۔بلکہ میں تو کہتا ہوں میں بھی یہیں سوجاتا ہوں۔۔۔
اسکے بھولپن سے بولنے پر رشل نے گڑبڑاکر رخ پھیرلیا۔۔۔۔۔یہ تو طے تھا کہ زین سدھرنے والی چیز ہی نہ تھا۔۔۔
چند لمحے دونوں رخ پھیرے خاموش بیٹھے رہے رشل انتظار میں تھی کہ کب وہ جاٸے اور وہ سوسکے۔۔۔۔۔مگر چند لمحوں بعد زین رشل کی گود میں سر رکھتا مزے سے نیم دراز ہوگیا اور اسکا ہاتھ تھام کر اپنے سر پر رکھ دیا۔۔
اتنی سی جگہ میں ایسے تو نیند آنی نہیں،تم ایک کام کرو میرے بال سہلادو تاکہ میں سوسکوں،جانا بھی ہے صبح۔۔
اسکی بات پر رشل پیچ و تاب کھاتی اسے گھورنے لگی،کچھ دیر پہلے زوروشور سے برسنے والے آنسوں اب تھم چکے تھے،رونے کے باعث آنکھیں اور ناک سرخی ماٸل ہورہے تھے۔۔
الہی ہم انہیں دیکھیں یاں انکا دیکھنا دیکھیں،بلکہ گھورنا دیکھیں۔۔
زین نے اسکے گھورنے پر لیٹے لیٹے اسکے چہرے کو محبت سے دیکھتے مزے سے اچھے بھلے شعر کا پوسٹ مارٹم کیا تو ناچاہتے ہوٸے بھی رشل کی ہنسی چھوٹ گٸی۔۔
زین تو مانو جان سے گیا تھا یہ منظر دیکھ کر۔۔
گلابی آنکھیں بھیگی پلکیں اور مسکراتے عنابی لب۔۔۔
وہ مبہوت سا اسے تک رہا تھا۔۔
کچھ تو خیال کرو غریب کا۔۔
رشل کے رخسار اسکی آنکھوں کی تمازت سے دہکنے لگے۔۔۔
غیر محسوس انداز میں اسکی مخروطی انگلیاں زین کے بالوں میں چلنے لگی تھیں۔۔۔۔۔۔رشل کو شاید احساس نہ تھا لیکن زین بھرپور انداز میں یہ نرم گرم سا لمس محسوس کررہا تھا۔۔
رشل نے سٹپٹاکر یہاں وہاں دیکھتے ذرا کی ذرا نظر زین پر ڈالی جسکی روشن آنکھوں میں محبت کے ان گنت دیۓ جگمگانے لگے تھے۔۔
رشل نے گھبراکر رخ پھیر لیا۔۔۔۔۔۔بالوں میں چلتی انگلیوں کی حرکت بھی اب تھم چکی تھی۔۔۔
رک کیوں گٸی؟
اسے آنکھوں میں بھرتا وہ مخمور لہجے میں بولا۔۔۔
جاو اب۔۔۔۔رشل اسے ہٹانے کی کوشش کرنے لگی لیکن وہ ڈھیٹ بنا گود میں سر رکھے لیٹا رشل کی کوشش ناکام بناتا رہا۔۔
تو تم ایسے نہیں مانوگے۔۔۔۔
رشل نے گھورکر اسے دیکھا۔
“نہیں..”
زین نے تابعداری سے سر نفی میں ہلادیا۔۔۔۔اگلے ہی لمحے وہ چیخ اٹھا تھا کیونکہ رشل نے اسکے بال مٹھی میں بھر کرکھینچ ڈالے تھے۔۔
اوٸے،ظالم ۔۔
جارہاہوں بال تو چھوڑو
وہ سیر تھا تو رشل سواسیر تھی۔۔۔____________________________________
ہم کس طرح نکلیں گے یہاں سے ۔۔۔۔
عینا پریشان سی یہاں سے وہاں چکرارہی تھی۔۔۔
وکی حسینہ باٸی کے نزدیک شبو کی جگہ لے چکا تھا،اب وہ انکے گینگ کا ایک خاص بندہ تھا،اسی کے مطابق عینا اور ماہم کو ملاکر کُل بتیس لڑکیاں شہر سے باہر لے جاٸی جانی تھیں۔۔۔
اسکے بعد شاہ زین کے کامیاب ہونے کی صورت میں میڈیا اس معاملے کو خوب نشر کرنے والاتھا اور لازمی سی بات تھی اغواشدگان کومنظر عام پر لاٸے جانا۔۔۔۔
اسی چیز سے فہد حسن سخت نالاں تھا۔۔۔۔
شاہ زین نے پلان ذرا بدل دیا تھا اسی بات کے پیش نظر….
اب وہ لڑکیاں رستے سے ہی غائب کرانے والا تھا۔۔۔
کل کا دن ان سب کے لیۓ بے حد اہم تھا۔۔۔
________________
جسکے ذریعے لڑکیاں آغا کے فارم ہاوس شہر سے باہر منتقل کی جانی تھی وہ ٹرک نکل چکا تھا،اینڈ ٹائم پر شاہ زین کے آرڈر کے مطابق پلان میں ذرا سا ردوبدل کیا گیا تھا۔۔
وہ ٹرک راستے سے ہی پکڑا جانا نہایت ضروری تھا لیکن یہ تب ہی ممکن ہوتا جب اسکی سمت کاتعین اور اسکا تعقب کیا جاتا۔۔۔۔اسی کام کوآسان بنانے کے لیۓ عینااور ماہم بھی اس وقت باقی ہوش و خرد سے بیگانہ پڑی لڑکیوں کے ساتھ تھیں۔۔
انجیکشنز کے ذریعے باقی لڑکیوں کی طرح انہیں بھی بیہوش کیا گیا تھا لیکن چونکہ وقاص کے دیۓ گٸے انجیکشنز وہ پہلے ہی لگاچکی تھیں تو بےہوشی کے انجیکشز کا اثر کچھ دیر سے زیادہ قاٸم نہیں رہ سکا تھا۔۔۔۔۔
اس وقت وہ دونوں اپنے پورے ہوش و حواس میں تھیں اور عینا نے ماہم کو ساری صورتحال سے آگاہ کردیا تھا
ماہم حیران و پریشان ہونے کے ساتھ کچھ ڈری ہوٸی بھی تھی اور ساتھ میں مافیا کے خلاف اپنی جان کی پرواہ تک نہ کرنے والے ان جانبازوں کی کامیابی و سلامتی کےلیۓ دعا گو بھی تھی
عینا حیرت انگیز طور پر اس وقت بھی پراعتماد تھی،ایک اطمينان اسکے صبیح چہرے پر رقصاں تھا۔۔۔۔اس وقت عینا کی باڈی کے ساتھ خفیہ ٹرانسمیٹر لگا تھا جس کی بدولت کامیابی سے زین پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ اس ٹرک کو فالو کررہا تھا۔۔۔
وہ ٹرک اس سے کچھ فاصلے پر تھا۔۔۔۔
____________________________________
یہ غالباً کافی سنسان علاقہ تھا،سڑک پر درمیانی رفتار سے چلتے ٹرک کے ٹاٸر چرچراٸے تھے۔۔۔۔انہیں رکنا ہی تھا کیونکہ ٹرک کو پیچھے چھوڑتی ایک کار عین سامنے سڑک کے درمیان آرکی تھی،۔۔۔
کافی دیر تک ہارن بجانے کے باوجود سامنے موجود کار سے کوٸ نہ نکلا تو ایک بھاری جسامت کا آدمی نکل کر اس سیاہ کار کی طرف بڑھا،غالباًوہ ٹرک ڈراٸیور تھا جسکے چہرے کے نقوش کام میں خلل ڈالے جانے پر بگڑے ہوٸے تھے۔۔۔۔
انجانے لہجے میں ڈراٸیونگ سیٹ پر فل یونیفارم میں ملبوس بیٹھے زین کو دیکھ کر وہ ایک لحظے کو گڑبڑاگیا تھا۔۔۔
چند لمحوں میں ہی ایک بڑی تعداد میں پولیس کی گاڑیاں وہاں آرکی تھیں۔۔۔
ایس پی شاہ زین دروازہ کھولتاباہر نکلا اور ٹرک کی طرف بڑھنے لگا تو وہ آدمی تیر کی طرح اسکے پیچھے لپکا۔۔
رکو صاب،کک کیاہوا ہے ہم سے بات کرو۔۔۔۔
اسکے لڑکھڑاتے لہجے میں بولنے پر زین نے بغور اسے دیکھا۔۔۔۔۔وہ آدمی کافی گھبرایا ہوا تھا۔۔
“ٹرک میں کیا ہے؟”
شاہ زین کے اچانک پوچھے جانے والے سوال نے اسے مزید لڑکھڑانے پر مجبور کردیا۔۔
صاب وہ …..وہ…
اسکے ہکلانے پر زین نے ساتھ کھڑے بندوں کو اشارہ کیا جو تیزی سے ٹرک کی جانب بڑھے تھے۔۔۔۔
چند لمحوں کی کارواٸی تھی اور حسینہ باٸی بری طرح پھنس چکی تھی،لیکن مزے کی بات یہ تھی کہ وہ حالات سے بے نیازآغا کے فارم ہاوس پر مزے سے نرم صوفے میں اپنے بھاری وجود کو پھنساٸے بیٹھی حد سے زیادہ خوش تھی اسکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ کون سا طوفان اسکا منتظر ہے۔۔
اس ٹرک ڈرائيور کے ساتھ ایک نو عمر نوجوان بھی تھا جو اس افتاد پر ہکابکا رہ گیا تھا۔۔۔۔۔۔اسے اور ٹرک ڈرائيور کو پولیس حراست میں لے چکی تھی۔۔۔۔۔
____________________
یہ شاندار فارم ہاوس کا پرتعیش لاونج تھا جہاں مین گیٹ پردو باوردی مصلح افراد بندوقیں تانے کھڑے تھے ۔۔
لاونج میں رکھے تھری سیٹر صوفے پر ایک تقریباً بیالیس سالہ شخص براجمان تھا،ہلکی شیف ،قیمتی رسٹ واچ کے ساتھ واٸٹ شلوار سوٹ پر ویسٹ کوٹ زیب تن کیۓ بظاہر وہ کافی مہذب انسان دکھاٸی دے رہا تھا۔۔۔
ارد گرد چند اور اشخاص موجود تھے …
بظاہر مہذب بنے سوٹڈ بوٹڈ یہ لوگ اغواہ شدہ لڑکیوں کی لاٸیو بولیاں لگانے والے تھے۔۔۔۔
عین سامنے صوفے پر حسینہ باٸی بیٹھی تھی۔۔۔۔۔
حسینہ باٸی کے داٸیں طرف گلابو براجمان تھی۔۔۔
اس وقت وکی کےپاس کسی قسم کا اصلحہ نہیں تھا کیونکہ فارم ہاوس میں داخل ہوتے وقت سخت سیکیورٹی کے انڈر میں چیکنگ کی گٸی تھی،وکی کو اندازہ تھا پہلے سے کہ بناکسی چیکنگ کے وہ لوگ اس فارم ہاوس میں قدم تک رکھنے نہیں دینے والے تھے۔۔۔۔
سامنے موجود مصنوعی چہروں کے پیچھے چھپے ان
گھٹیا لوگوں کو دیکھ کر وکی کا دل چاہ رہا تھا سب کو بھون کر رکھ دے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: