Hisar e Ishqam Novel by Pari Saa – Episode 14

0
حصارِ عشقم از پری سا – قسط نمبر 14

–**–**–

فارم ہاوس کو چاروں طرف سے گھیرلیا گیا تھا۔۔۔۔۔۔شاہ زین کو دروازے پر موجود گارڈز نے روکنے کی کوشش کی تھی اور اس کوشش کی بدولت وہ گارڈز اپنے ہاتھ پیر تڑواچکے تھے۔۔۔
ایک جنون تھا اسکےانداز میں۔۔۔۔۔آغا جیسے لوگوں کے لیۓ ایس پی شاہ زین ذہرِقاتل تھا۔۔۔۔
_______________________________
ماہم اور عینا اس فہد کے ساتھ تھیں،فہد زین کے آرڈر کے مطابق انہیں وہاں سے سیو جگہ لے جاچکاتھا۔۔۔۔۔
اس وقت وہاں موجود اشخاص کی نظریں سکرین پر جمی تھیں۔۔۔۔۔وہ دم سادھے بیٹھے تھے۔۔۔۔۔
شاہ زین کے ساتھ خفیہ چپ تھی جسکی بدولت وہاں کی تمام صورتحال ،سے وہ لوگ باخبر رہ سکتے تھے۔۔۔
زین نے لاونج کے بند دروازے کے باہر بندوقیں تھامیں ایستادہ کھڑے گارڈز کو سوچنے سمجھنے کا موقع دیۓ بغیر کراہنے پر مجبور کردیا تھا۔۔۔۔۔۔ایک گارڈ کے ہاتھ میں موجود گن کا بٹل اسی کے سر پر زین نے مارا تھا کہ اسکا دماغ جھنجھنا اٹھا تھا۔۔۔۔اگلے ہی لمحے فولادی جوتوں کی چند لاتوں سے دروازہ کھل چکا تھا۔۔۔۔۔
___________________________________
باہر ہوتی آوازوں پر سب اچانک دروازے کی طرف متوجہ ہوٸے تھے۔۔۔۔ایس پی شاہ زین کو اندر داخل ہوتے دیکھ گلابو عرف وقاص ایک دم جگہ سے اچھل کر صوفے کے پیچھے ہوا تھا۔۔۔
اس اچانک افتاد پر بوکھلاکر سب اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوٸے تھے لیکن اگلے ہی لمحے ہر طرف آنسو گیس کا سفید دھواں سا پھیل چکا تھا جس میں کچھ بھی دکھاٸی دینا مشکل تھا۔۔۔۔۔۔سب بری طرح گھانس رہے تھے۔۔۔۔۔بوکھلاہٹ عروج پر تھی۔۔۔یہ کیا ہوگیا تھا،اتنی سخت سیکیورٹی کے باوجود……کیسے?
وکی نے اپنا منہ دوپٹے سے اچھی طرح ڈھک لیا تھا،پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد ملٹری ماسک منہ پرچڑھاٸے وہاں آچکی تھی۔
چوہاطویل عرصے کے بعد بل سے نکل اب چپھپنے کے لیۓ دوبارہ بل کی تلاش میں ادھر ادھر بھاگ رہا تھا لیکن ایس پی شاہ زین کے ہاتھ سے کیسے بچ سکتا تھا۔۔۔۔۔۔ذراسی دوڑدھوپ کے بعدآغا شاہ زین کی گروفت میں تھا۔۔۔۔۔۔ہر جانب عجیب ہپڑدپڑ مچی تھی۔۔۔
دھویں میں کہیں سے ایک سرسراتی گولی آٸی تھی اور شاہ زین کے منہ سے کراہ بلند ہوٸی تھی۔۔۔۔۔موقعے کا فائدہ اٹھاکر آغا نے پوری طاقت لگاکر شاہ زین کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کی جسکی وردی پر سرخ سرخ دھبے پھیلتے چلے جارہے تھے۔۔۔۔
______________
درد کی شدت سے اسکی رگیں تن گٸی تھیں،گولی بازو میں لگی تھی،خود کو چھڑاکر بھاگتے آغا کو بروقت وکی نے جکڑا تھا ساتھ ساتھ اندھا دھند مکوں لاتوں سے تواضع بھی کرڈالی تھی،اسکی مضبوط گرفت میں مار کھاتے آغا کایقیناً برا وقت آن پہچا تھا۔۔۔۔
__________________________
تم دونوں کی جنگ کب ختم ہوگی رشل؟
دودھ کا گلاس ساٸیڈ ٹیبل پر رکھتی رشل سے نازنین نے پوچھاتو ایک لمحے کو وہ چپ رہ گٸی اگلے ہی لمحے اپنے ازلی انداز میں کندھے اچکاتی وہی بیٹھ گٸی ۔۔۔
“کیسی جنگ”
اب کے اس نے انجان بننے کی کوشش کی تو نازنین نے اسے گھور کر دیکھا
رشل نے کچھ بولنے کو لب کھولے ہی تھے کہ بڑی ماما کو پریشان کن تاثرات کے ساتھ کمرے میں آتے دیکھ کر انکی طرف متوجہ ہوگٸی
۔۔۔
کیا ہوا بڑی ماما…?
زین ہاسپٹل میں ہے
دونوں کے بیک وقت پوچھنے پر انہوں نے دھماکہ کیا تھا
رشل ساکت رہ گٸ تھی
ابھی ہو تم ناآشنہ عشق سے
ابھی نہ دل کے نشے سے واقف
ابھی نہیں آبِ فنا میسر
ابھی ہو تم سادگی کا پیکر
یہ سادگی جب عشق میں ڈوبی
بنا جو دل اجنبی تمھارا
جب عشق اپنی پکڑ میں لے گا
اے میرے ہمدم تو کیا کروگے
(Poetry by Areeba Ansari)
__________________________________
سب کچھ دیر میں ہی ہاسپٹل پہچ چکے تھے
زین کے گولی لگی تھی یہ سوچ ہی نجانے کیوں رشل کا دل ہولاٸے دے رہی تھی
آج اسے سہی معنوں میں اندازہ ہوا تھا زین اسکے لٸے کیا اہمیت رکھتا ہے
لب خاموش تھے آج
اور آنسوں رکنے کا نام نہ لیتے تھے
زین کی ایک ایک بات یادآرہی تھی اور زین کے وہ الفاظ…
“ابھی موقع ہے پھر یہ پولیس والا رہے نہ رہے”
“تم اتنی جلدی میری جان نہیں چھوڑنے والے….
سردی سے ٹھٹھرتے اپنے گرد شال لپیٹے کاریڈور میں لگے اس پنچ پر بیٹھے نجانے کتنی دعائيں اس نے مانگ لی تھیں اس شخص کی زندگی کے لٸے،جو کبھی اسکےنزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ تھا۔۔
_________________________________
آپریشن کامیاب ٹہرا تھا،زین کو روم میں شفٹ کردیا گیا تھا،باری باری سب اس سے مل رہے تھے،رشل کی ہمت نہیں ہوپارہی تھی اسکا سامنا کرنے کی،محبت کا امرت آخراس نے بھی چکھ لیا تھا،وہ بھی جکڑی گٸی تھی اس جال میں…
حالانکہ زین اس بات سے لاعلم تھا پھر بھی ایک عجیب سی جھجھک تھی اسے۔۔۔۔۔
شکرانے کے نفل پڑھ کر وہ واپس آٸی تو تیمور صاحب نے اسے گھرجاکر آرام کرنے کو کہا
چپ چاپ اثبات میں سرہلاتی وہ بڑی ماما کے ساتھ گھر آگٸی تھی زین سے ملے بغیر
__________________________________
حسینہ باٸی کے پورے گینگ کو گرفتار کیا جاچکا تھا،ثبوت بھی پختہ تھے اور آغا کے بچنے کا بھی کوٸی چانس نہ تھا۔۔۔۔اغوا۶ شدہ لڑکیوں کو بازیاب کرانے کے بعد دارلامان بھیج دیا گیا تھا،ایک عرصے سے غائب ان لڑکیوں کو انکی فیملیز قبول نہیں کرتیں،کیونکہ یہی ہمارے معاشرے کا المیہ ہے۔۔۔۔
ماہم فلحال عینا کے ساتھ رہ رہی تھی،اسکی ماں کے بارے میں پتا لگ چکا تھا،ماہم کے غائب ہونے کے بعد چند دن میں ہی اسکی ماں کا انتقال ہوچکا تھا،یہ بات ماہم سے مخفی رکھی گٸی تھی
زین کو گھر لایا جاچکا تھا،ایک گھٹیا گینگ کا پتہ صاف کرکے وہ مطمئن تھا،انسپکٹر دلاور نے زین کو آغا کی دھمکی آمیز فون کالز کے بارے میں بتادیا تھا،یہی وجہ تھی جو انکا پہلا پلان کامیاب نہ ہوسکا تھا،زین کو کافی غصہ آیا تھا یہ بات دیر سے بتانے پر اور یہ غصہ جیل میں بند آغا پر اتارا گیا تھا،زین کے آرڈرکے مطابق اسکی اچھی درگت بن رہی تھی،حسینہ باٸی کی بھی طبیعت صاف ہوچکی تھی،لیڈیز پولیس سے ہڈیاں تڑواکر اس نے آغا اور اسکے گینگ کا کچاچھٹاکھول کر رکھ دیا تھا۔۔۔۔
______________________________
رشل سوپ کا باول لے کر روم میں آٸی تو زین آنکھیں موندے نیم دراز تھا۔۔۔۔سیدھے ہاتھ پر پٹی بندھی تھی فلحال وہ خود سے ہاتھ کو حرکت دینے کہ قابل نہ تھا۔۔۔
“زین”
رشل کی پکار پر اس نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھے بنا محض “ہوں”کہنے پر اکتفاکیا
یہ پی کر میڈیسن لے لو بڑی ماما نے بھجوایا ہے
بڑی ماما کا نام اس نے دانستہ لیا تھا ورنہ یہ کام سراسر اسکا تھا
زین کو افسوس سا ہونے لگا،آنکھیں ہنوز بند تھیں اور چہرہ سپاٹ….
نجانے کتنا سخت دل تھارشل کا،…جذبات و احساسات سے عاری
ہاسپٹل کے اس سرد کمرے میں تکلیف سے لڑتے اسے اس کی ضرورت تھی لیکن اس نے ایک نظر اسے دیکھنا گوارا نہ کیا….شوہر ہونے کے ناطے ہی سہی!مگر اسکا انتظار انتظار ہی رہا
زین کے لبوں سے سردآہ خارج ہوٸی
سوپ پی لو ٹھنڈا ہوجاٸے گا
زین کے سنجیدہ تاثرات دیکھ کر نجانے کیوں اسکی ہمت نہیں ہوپارہی تھی کچھ کہنے کی
اسے زین بدلا بدلا سا لگاتھا
“ماماکو بلاو” ۔۔
چندلمحوں بعد زین کی آواز ابھری تو رشل چپ چاپ اٹھ کر باہر چل دی
زین آنکھیں کھول کر چھت کو گھورنے لگا..
آخر کب تمھیں میری محبت پہ یقین آٸے گا ؟
دل و دماغ میں طوفان برپا کرتے اس سوال کا اسکے پاس کوٸ جواب نہیں تھا
__________________________________
عینا کی بات پر ماہم حیرت کا مجسمہ بنی اسے دیکھ رہی تھی
اتنی حیران کیوں ہو؟
کبھی نہ کبھی تو تمھیں شادی کرنی ہی ہے ناں
مم…مجھے امی سے ملنا ہے
اسکی بات نظر انداز کیۓ اب کے ماہم نے اپنے دل کی بات کہی تھی
ماں سے ملنے کو اسکا دل تڑپ رہا تھا
عینا نے تاسف سے اسکے مکاری و چالاکی سے عاری چہرے کو دیکھا
بڑی بڑی آنکھوں نے گویا اپنے اندر ایک سمندر سنبھال رکھا تھا
مل لینا ،لیکن ابھی تک پتا نہیں چل سکا وہ کہاں ہیں
میں چلتی ہوں تمھارا جواب ہاں میں ہونا چاہیۓ
عینا نے اسکا ملاٸم رخسار نرمی سے تھپتھپایا اور جانے کو مڑگٸی
_______________
وہ گہری نیند میں تھا…
رشل نے ایک نظر اسکے چہرے پر ڈالی پھر منہ گھماکر دیوار پر لگی گھڑی کو دیکھا،سوٸیاں سات کا ہندسہ عبور کرچکی تھیں،وہ ابھی لان کی نرم گھاس پر نماز پڑھ کر لوٹی تھی،ٹھنڈی گھاس پر ٹہلنا اسکا پسندیدہ مشغلہ رہا تھا
زین آج کل تھانے نہیں جارہا تھا،کمرے میں پڑا بورہوجاتا تو نیچے چلاجاتا بڑی ماما اور باقی سب نے اسکے لاکھ اسرار پر بھی اسے زیادہ گھومنے پھرنے یا ڈیوٹی پر جانے سے فلحال منع کررکھا تھا
رشل نے بغور اسکے چہرے کو دیکھتے برابر میں اپنی جگہ بناٸی اور غیر محسوس طریقے سے اسکا مضبوط ہاتھ اپنے ملاٸم ہاتھ کے حصار میں تھام لیا،ایک انوکھا سا احساس ہوا تھا اسکے لمس پر..
ہنوزنگاہیں موندے وہ گہری نیند میں تھا..
آٸی ایم سوری زین،…اس سب کےلیۓ جو جو تمھیں برا لگا
جانتی ہوں معافی مانگنی چاہیۓ مجھے تم سے مگرمیں کیا کروں
ہر وقت شکل پہ بارہ بجاٸے رکھتے ہو میری ہمت ہی نہیں ہوتی،اب تو تم گھر میں بھی کھڑوس سے پولیس والے بنے رہتے ہو،ایسا کوٸی کرتا ہے بھلا؟
چہرے پر مختلف تاثرات سجاٸے وہ سوتے ہوٸے زین سے ایسے مخاطب تھی جیسے وہ مکمل ہوش و حواس میں ہو،لیکن گر وہ ہوش و حواس میں ہوتا تو رشل کی ہمت ہی نہ ہونی تھی اسکے سامنے کچھ بول لیتی کجاکے ہاتھ تھام کر بیٹھنا
اچھا اب زیادہ نخرے دکھانے کی ضرورت نہیں ہے سمجھے،موڈ ٹھیک کرو اپنا،پتا ہے….
جب تم ہاسپٹل کے اس آپریشن تھیٹر میں تھے تو،،،تو میں نے کتنی دعائيں کی تھیں تمھارے لیۓ؟
نہ کچھ کھانے کا دل تھا نہ کچھ پینے کا،بس دل چاہتا تھا تم سہی سلامت میرےسامنےآکھڑے ہوجاو،مجھ سے لڑو،جھگڑو میری مار کھاو…
اپنی ہی بات پر اسکے لب مسکرانےلگے،ہاتھ چلانے کی اسکی پرانی عادت تھی
اور یہ جرات وہ صرف زین کےسامنے کرسکتی تھی لیکن اب حال یہ تھا کہ وہ اسکی طرف دیکھناگوارہ نہ کرتا تھا
بول بول کروہ تھک کر اسکے کشادہ سینے پر سر ٹکاگٸی
سوری،اب کبھی ہاتھ نہیں چلاونگی،اور….اور ہمارےبیچ رات کو باونڈری وال بھی نہیں مناونگی بس تم……
تم…
تت تم…..
جھٹکے سے سر اٹھاکر اس نے زین کے چہرے کو دیکھتے کچھ بولنا چاہا تھا لیکن الفاظ زبان کا ساتھ چھوڑگٸے تھے
زین آنکھیں کھولے زبردستی ہنسی لبوں میں دباٸے سنجیدہ شکل بنائے اسکے دوپٹے کے ہالے میں جگمگاتےصبیح گھبراٸے ہوٸے چہرے کو دیکھ رہا تھا
تم..تو،،،سس سورہے ..تھے ناں؟
اسکی سٹی گم ہوچکی تھی
کس نے کہامیں سورہا تھا
زین نےبغور اسے دیکھا
تت تم نے کچھ سنا تو نہیں؟
پتا ہے کسی کی باتیں سننا کس قدر غیر اخلاقی حرکت ہے؟
رشل نے آنکھیں نکال کر اس پر چڑھاٸی کرناچاہی
غیراخلاقی حرکت تو ہے لیکن کوٸی سینے پر سر رکھ کر اطمینان سے خبریں نشر کریں تو بندے بیچارے کا کیا قصور؟
ہنہہ!بندہ بیچارہ بتابھی سکتا ہے کہ وہ سونہیں رہا بلکہ ناٹک کررہا ہے
رشل نے چھوٹی سی ناک چڑھاکر تپ کے کہا
مسز یہ آپکےناقص دماغ کا قصور ہے کہ آنکھیں بند کرکے لیٹے بندے کو سویا ہوا سمجھ لیا
اسکی بات پر رشل گڑبڑاکر کچھ دیر پہلے والی حرکت پر یہاں وہاں دیکھنے لگی ،اسکی حالت پر زین نےبمشکل ہنسی ضبط کی..
اچھا کیا کہہ رہی تھیں تم؟میں منہ پر بارہ بجائے رکھتا ہوں؟
ہاں تو۔۔۔۔
رشل نے پرزور انداز میں سرہلایا
اور اب رات کو باونڈری وال نہیں منایا کروگی؟
زین نے اگلا سوال کیا
رشل نے جھینپ کر سر جھکادیا
سوچ لو مسز،یہ فیصلہ گلے ہی نہ پڑجاٸے
زین کا لہجہ معنی خیز تھا جبکہ آنکھیں شرارت سے پر تھیں
تم ،ٹپوری پولیس والے،اس قابل ہی نہیں کہ میں اپنا فیصہ بدلوں
اب ڈبل باونڈری وال بنے گی اونہہ..
رشل نے جھینپ مٹانے کو غصے سے کہا پھر زین کے خطرناک حد تک سنجیدہ چہرے کو دیکھ کر احساس ہوا کہ وہ کچھ غلط کہہ گٸی ہے
ٹھیک کہا ،میں اس قابل ہی نہیں بلکہ میں تو آپ جیسی مخلص،نرم گفتار،فرمانبردار بیوی کے قابل بھی نہیں،اس کہانی کو ختم کرتے ہیں پھر
میں ڈاٸیورس پیپر بنواتا ہوں تم اس سے شادی کرلو جو اس قابل ہو
زین کےمنہ سےنکلےالفاظ رشل کا دماغ ٹھکانے لگاگٸے تھے
خبردار ایسا کچھ کیا تو جان لے لونگی،اپنی بھی اور تمھاری بھی
وہ رودینے والی ہوگٸی
لے لو،ویسے بھی زندگی میں کوٸ رنگ نہیں،روکھی پھیکی گزررہی ہے بس
زین..
رشل نے پاس پڑا کشن اٹھاکر کھینچ مارا
آہ……زین کراہ اٹھا
کک کیا ہوا،اسےبازو پہ ہاتھ رکھے دیکھ وہ حواس باختہ ہوکر بےاختیار اسکی طرف جھکی
نہ کریں مسز
بندہ بشر ہوں،بہک بھی سکتا ہوں
اسے خود پر کھینچ کر گراتا وہ معنی خیزی سے بولا
خیر…….کل پرسوں تک تمھیں ڈاٸیورس پیپرز مل جاٸیں گے
اب مجھےآرام کرنے دو،آنکھوں پر بازو رکھتے وہ لاتعلقی سے بولا
اچانک اسکا لہجہ سپاٹ ہوگیا تھا
سوری زین
وہ انگلیاں مروڑتی آہستگی سے بولی
تم سوری مت کہو،تم کبھی کچھ غلط کرتی کہا ہو غلط تو میں ہوں ناں
زین نےتپ کر منہ پھیرلیا
کچھ دیر پہلے تک حال دل بیان ہورہا تھا سوتا ہوا سمجھ کر،اور اب منانے کا کوٸ خیال ہی نہیں محض “سوری” پر ٹرخایا ہے
زین کو خوامخواہ کی تپ چڑھی تھی ،سوچتے ہوٸے اس نے آنکھوں کی جھری سے بازو ہٹاکر رشل کو دیکھا شاید اب وہ مناٸے مگر وہ سرجھکاٸے اںگلیاں مروڑتی رہی
پھر آہستہ سے اٹھ کر باہر نکل گٸی
______________________________
عینا کےبے انتہا مجبورکرنے پر اس نے حامی بھری تھی،اکیلی عورت بھلا کب محفوظ ہوتی ہے؟عینا کی کہی یہ بات اسے سوچنے پر مجبور کرگٸی تھی پھر شادی کے بعد وہ فہد سے اپنی ماں کو ڈھونڈنے کی درخواست بھی کرسکتی تھی،عینانے اس معاملے میں معذرت کرلی تھی کہ میں ایک لڑکی ہوکر بھلا کہاں تمھاری ماں کو ڈھونڈوں ؟فہد حسن سے شادی کی صورت میں ہوسکتا ہے تمھاری مشکل آسان ہوجاٸے.
اس جمعے کو ان دونوں کا نکاح رکھا گیا تھا
جس میں قریب کےتمام جاننے والے مدعو تھے
_______________________________
ماناکہ میری جان میرے ساتھ ہو مگر
میرے دل و نگاہ سے مانوس بھی تو ہو
کب تک رہیں گے یونہی محبت میں فاصلے
اتنے قریب آوکہ محسوس بھی تو ہو
ساٸیڈ ٹیبل پر رکھا وہ کارڈ یقیناً زین نے رکھا تھا رشل ہاتھ میں پکڑے وہ کارڈ دیکھ رہی تھی جب زین کمرے میں داخل ہوا،چہرہ ہر احساس سے عاری تھا،مطلب صاف تھا وہ چاہتا تھا رشل پہل کرے،اور رشل اپنی نام نہاد جھجھک کو سنبھالے بیٹھی تھی
زین نے اپنی جگہ پر لیٹ کر لیمپ آن کیا،اور آنکھوں پر بازورکھ لیا،رشل ناٸٹ ڈریس تبدیل کرکے اپنی جگہ پر آٸی اور عادت کے مطابق تکیے اٹھاکر بیچ میں رکھ دیۓ وہ ابھی لیٹی ہی تھی کہ زین لاٸٹ آن کرتا اٹھ بیٹھا
رشل کی تکیے رکھنے والی حرکت اور مسلسل خاموشی اسکا دماغ گھماگٸی تھی
اٹھ کر وہ الماری کی طرف بڑھا اور داٸیں ہاتھ سے ایک خاکی لفافہ نکال کر رشل کی طرف اچھال دیا
“لو پکڑو”
رشل کا دل ناخشگوار انداز میں دھڑکا وہ فوراً اٹھ بیٹھی اور لفافہ تھامنے کی نیت سےاس سمت ہاتھ بڑھایا
یہ کیا ہے؟
ساٸن کرو،ڈاٸیورس پیپرز ہیں
زین کی بات پر اس کا بڑھا ہوا ہاتھ ساکت رہ گیا تھا
مجھے ڈاٸیورس نہیں چاہیۓ زین….آنکھوں سےایک سمندر بہنےلگا تھا
زین کے دل کو کچھ ہونے لگا
پھر کیا چاہیۓ تمھیں؟
تمھاری خوشی کی خاطر ہی تو یہ سب کررہا ہوں،آخرکو تھاری یہ باونڈری وال بنانے کی ٹینشن ختم ہوجاٸے گی،تم اپنے پرسنل روم میں شفٹ ہوجانا اور آرام سے رہنا پھر کوٸی زین تمھیں تنگ نہیں کرے گا
زین کی تقریر کا نتیجہ یہ نکلا تھا کہ اپنی جگہ سے اٹھ کر وہ سیدھی زین کے قدموں میں جابیٹھی تھی
مجھے زین چاہیۓ۔۔
زین ہڑبڑاکر اسے قدموں سے اٹھانے لگا مگر وہ بضد تھی
مجھے ڈاٸیورس نہیں چاہیۓ زین میں تمھارے بنا نہیں جی سکتی،مجھے معاف کردو
زین نے زبردستی اسے اٹھاکر اپنے سامنے بٹھایا تھا
یہ بات کہنے میں اتنی دیرلگادی تھوڑی سے اسکا چہرہ پکڑ کر اوپر کرتے وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتا بولا
“سوری”
اسکی بات کے جواب میں پھر رونے کی تیاری پکڑتے اس نے کچھ ایسے بھولپن سے کہا کہ زین قربان ہوگیا
پاگل لڑکی،میں بھلا تمھیں خود سے الگ کرسکتاہوں؟تمھیں ساری زندگی مجھ سے محبت نہ ہوتی میں ساری زندگی ایسے ہی گزاردیتا مگر تم سے علیحدگی اختیار نہ کرتا
پھر یہ سب….
رشل نے ناک اورآنکھیں رگڑتےپاس پڑے لفافے کی طرف اشارہ کیا توزین کے لبوں پر مسکراہٹ رینگ گٸی
وہ ڈرامہ تھا یار
مطلب؟
رشل رونا بھول کر حیرت سے اسے تکنے لگی
مطلب یہ میری جان
کہ یہ لفافہ خالی ہے
زین ہنسی دباکر اسکی ناک کھینچتا بولا
“فراڈیے
رشل نے بے اختیار ایک پنچ اسکے چوڑے سینے پر دے مارا
آہ……
ہاتھ کم چلایا کرو
او سوری سوری
وہ فکرمندی سے اسے دیکھنے لگی…

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: