Hisar e Ishqam Novel by Pari Saa – Episode 15

0
حصارِ عشقم از پری سا – قسط نمبر 15

–**–**–

اسی لمحےزین کا موبائل رنگ کرنے لگا تو اس نے کال پک کی
دوسری طرف عینا تھی
دیٹس گریٹ
اوکے
موبائل کان سے لگاٸے اسکے چہرے پر ابھرتی مسکراہٹ دیکھتے رشل کی ہارٹ بیٹ مس ہوٸی تھی
کال کٹ کرکے زین نے موبائل ساٸیڈ ٹیبل پر رکھا اور رشل کی طرف متوجہ ہوا جو یک ٹک اسے ہی دیکھ رہی تھی
آہم….نظر لگانے کاارادہ ہے مسز
اسکی چوری پکڑتے اس نے چھیڑا تو رشل سٹپٹاکر ہوش میں آتی نظریں پھیر گٸی
کس کی کال تھی؟
اس نے بات بدلی
انویٹیشن ملا ہے جمعے کو ریڈی رہنا
میرے فرینڈ کا نکاح ہے
اور تم ڈریس میری پسند کا پہنوگی اوکے؟
اپنی بات ختم کرکے اس نے رشل کو دیکھا جو ابرو اچکاٸے جوباً اسے گھور رہی تھی
انسانوں والا ڈریس نکالنا کوٸی
تمھاری پسند پتا ہے مجھے
رشل نے اسے چڑانے کی غرض سے کہا
میری پسند تو سب کو پتا ہے
غالباًتم خود کو انسان نہیں سمجھتیں؟
اسی کی بات اس پر آپڑی تھی
وہ شاہ زین سے نہیں جیت سکتی تھی اس لیۓ محض گھورنے پر اکتفاکرتی ہار مان گٸی
_____________________________
دل خوش ہوگیا یہ خبر سن کر
کیوں تمہارا نکاح ہے کیا؟
وکی کےپرجوش انداز پر عینا نے پھلجڑی چھوڑی جو سیدھا وکی بیچارے کے دل پر لگی
ہم پر نظر کرم ہی نہیں کی جاتی ورنہ ہم بھی آج ایک عدد بیگم رکھتے
اوو اچھااا
بڑا شوق ہے بیگم کا
عینا نے پھر مزاق اڑایا
قسم سے بہت شوق ہے
فوراً جواب دیا گیا
اچھااب فون رکھو تمہاری طرح ٹوٸنٹی فور ہورس ویلی نہیں ہوں میں
کھٹاک سے کہہ کر عینا نے کال کٹ کی اور موبائل ساٸیڈ پہ ڈالتی سامنے پڑی کتاب کی طرف متوجہ ہوگٸی جس کا مطالعہ وہ کچھ دیر پہلے کررہی تھی
چند لمحوں بعدمیسج ٹون کی آواز پر اس نے موبائل اٹھایا تو حسب توقع وکی کا میسج تھا
چل پیر سائیں کوئی آیّت پُھونک
کوئی ایسا اِسمِ اعظم پڑھ
وہ آنکھیں میری ہو جائیں
کوئی صوم صلوٰۃ دُرُود بتا
کہ وجّد وُجُود میں آ جائے
کوئی تسبیح ہو کوئی چِلا ہو
کوئی وِرد بتا
وہ آن ملے
مُجھے جینے کا سامان ملے
گر نہیں تو میری عرضی مان
میرے اشکوں میں کوئی رنگ مِلا
میرے خالی پن میں پُھول کِھلا
مُجھے یار ملا
سرکار ملا
اے مالک و مُلک، اے شاہ سائیں
مُجھے اور نہ کوئی چاہ سائیں
مری عرضی مان، نہ خالی موڑ
مُجھے مان بہت مرا مان نہ توڑ
چل پیر سائیں کوئی آیّت پُھونک
کوئی ایسا اِسمِ اعظم پڑھ
وہ آنکھیں میری ہوجائیں
روشن سکرین پر نظریں جماٸے اسکے لب مسکرااٹھے تھے
__________________________________
اتنی بھی کیا جلدی ہے حمیرا؟
دادو کی آواز میں فکرمندی پنہا تھی جسے حمیرا پھپو نے چندا اہمیت نہ دی
اماں پریشان کیوں ہوتی ہیں اتنا اچھا رشتہ آیا ہے میری بچی کاآپکوتو خوش ہونا چاہیۓ
کچھ جتاتے ہوٸے لہجے میں چباچباکر کہنے پر دادو نے خاموش رہنے میں ہی عافیت جانی
سارہ کا رشتہ ایک بہت اونچے خاندان سے آیا تھا
پیسہ اے تحاشا تھا جس نے حمیراکواپنی طرف متوجہ کیا تھا
سارہ بھی آج کل بڑی خوش دکھاٸی دے رہی تھی
دونوں طرف سے بات پکی ہونے کے بعد جھٹ پٹ شادی کی تاریخ رکھ دی گٸی تھی ،بات تو ہتھیلی پر سرسوں جمانے والی تھی لیکن حمیرا اور سارہ اتنا اچھا رشتہ آنے پر پھولے نہ سماتی جلدی مچارہی تھیں
_________________________________
چیک اپ کرانے پر جو خوشخبری سننے کو ملی تھی اس نے آفندی ولا میں خوشی کی لہردوڑادی تھی
نازنین کو سب نے ہتھیلی کاچھالا بنارکھا تھا
اس وقت وہ وارڈروب میں سر دیۓ کھڑی اپنے اور شاہ زیب کے کپڑے نکال رہی تھی تاکہ فنکشنز میں پہننے کے لٸے پریس کرواکر رکھ لے
کیا کررہی ہو کب سے؟
شاہ زیب شاور لے کر تولیے سے گیلے بال رگڑتا نکلا تو نازنین کو ہنوز کپڑوں کے ساتھ صروف پایا
کپڑے نکال رہی ہوں سمجھ ہی نہیں آرہا کیا پہنوں
تم آرام سے بیٹھو یار میں نکالتا ہوں
اس کے کہنے پر نازنین بیڈ پر جابیٹھی اور اطمينان سے اسکی کارواٸی ملاحظہ کرنے لگی
کچھ دیر کی جدوجہد کے بعد شاہ زیب نے مہندی کے فنکشن کے لیۓ ایک مہندیا اور مہرون کنٹراسٹ کا لانگ فراک اسکے سامنے کیا
یہ پہنوگی تم
نازنین کی آنکھوں میں بےساختہ ستاٸش ابھری تھی
واو تمھاری جواٸس تو اچھی ہے
“جانتا ہوں”
اسکے ستاٸشی اندازپر شاہ زیب نے مسکراکر کہتے گہری نظروں سے اسے دیکھا تھا
منزلوں کی بات چھوڑو کس نے پاٸیں منزلیں
ایک سفر اچھالگا ایک ہمسفر اچھا لگا
_____________________________
تیار نہیں ہوٸیں ابھی تک؟
یار تم عورتیں کبھی وقت پر تیار ہوجاو ایسا ہوہی نہیں سکتا
فل یونیفارم میں ملبوس عجلت میں کمرے میں داخل ہوتا وہ رشل کو دیکھ کر بولا جو بڑے مزے سے موبائل ہاتھ میں پکڑے بیڈ پر نیم دراز آنلاٸن ناول پڑھنے میں مصروف تھی
اٹھ جاو یار
اب کے اسے ٹس سے مس نہ ہوتے دیکھ کر وہ بری طرح تپ گیا
پڑھنے دو نہ تھوڑاسا رہتا ہے
افشین بیچاری کا ایکسیڈنٹ ہوگیا چہ چہ ..
“کون افشین”
رشل کے غمزدہ چہرے پرنظریں دوڑاتا وہ پوچھ بیٹھا
ناول کی ہیروٸن
رشل کے ہنوزافسردہ تاثرات چہرے پر طاری کیۓ کہنے پر اس نے تیکھے چتونوں سے سے گھورا
تمھاری کوٸ کُل سیدھی نہیں
یہاں ٹاٸم کتنا کم رہ گیا ہے نکلنے میں اور تم بیٹھی ہوٸی اپنے ناول کی ہیروٸن کا سوگ بنارہی ہو
زین کا دل چاہا لگاٸے ایک الٹے ہاتھ کا
اسے جھاڑپلانے کے دوران بھی وہ کتنے کام نبٹاچکا تھا
شوز وغیرہ اپنی جگہ پر رکھ کر اپنے اور رشل کے کپڑے الماری سے نکال کر بیڈ پر رکھنے کے بعد اب وہ باتھ لینے جارہا تھا جبکہ رشل موبائل ساٸیڈ ٹیبل پر دھرتی چہرہ تھوڑی پر ٹکاٸے بیٹھی تھی
تم اٹھوگی یاں اٹھاکے پھینک کے آوں ڈریسنگ روم میں؟
اب کے وہ کڑے تیوروں سے اسے گھورنے لگا
اسکی وقت کی پابند فطرت سے واقف رشل کو اٹھتے ہی بنی
اس سے کوٸی بعید نہ تھا غصے میں اٹھاکر سچ مچ ہی پھینک آتا
ویسے زین
تم کتنے سگھڑ ہو ناں
اچھے بچوں کی طرح ہم دونوں کے کپڑے نکالے
ہرچیز جگہ پر رکھی
ویری گڈ
اور تم کتنی پھوہڑ ہو
اسکے تعریفی انداز پر جوابی وار کرتا وہ باتھ لینے چل دیا
“ہنہہ،اور تم کتنی پھوہڑ ہو”
پیچھے رشل جل کر نقل اتارتی تیار ہونے چل دی
________________________________
بلیک پیروں کوچھوتی فراک چوڑی دار اور لاٸٹ سےمیک اپ کے ساتھ وہ بہت پیاری لگ رہی تھی
اپنی تیاری کو آخری ٹچ دیتی وہ آٸینے کے سامنے کھڑی تھی جب زین باہر نکلا
رشل پر نظر پڑتے ہی وہ تھم ساگیا تھا
“خوبصورت”
سرگوشیانہ انداز میں ایک لفظ میں اسکی تعریف کرتا وہ اسکے پیچھے جاکھڑا ہوا
رشل مصروف سی مڑی تو زین بلکل پیچھے کھڑا تھا
گیلے بال کشادہ پیشانی پر بکھرے تھے وہ ابھی باتھ لے کر نکلا تھا
ٹھیک لگ رہی…..او ہو تم جاو چینج کرو
بنا شرٹ کے گلے میں تولیہ ڈالے بےحد قریب کھڑے زین پر نظر پڑت ہی رشل کی بات منہ میں رہ گٸی
اگلے ہی لمحے اس نے ہاتھ بڑھاکر رشل کو نزدیک کیا
بے شرم کہیں کے
جاو شرٹ پہنو
اسکے سٹپٹاکر کہنے پر زین کا جاندار قہقہ کمرے کی خاموش فضا میں گونج اٹھا
کمال لگ رہی ہومسز
اور تم ایک نمبر کے بیہودہ لگ رہے ہو
اسکی تعریف کے جواب میں رشل نے ابرو چڑھاٸے
ھاھاھا
زین پھر ہنس پڑا رشل کے جلے کٹے انداز پر
اب ٹاٸم نہیں نکلا جارہا
رشل نے گھورکرپوچھا
میں سوچ رہا ہوں کینسل کردوں جانا
ویسے بھی وقت دیکھو
“زین “
رشل کا دل چاہا سرپھاڑدے اسکا
زین ہنستاہوا اس سے دور ہوا
ٹھیک ہے جارہا ہوں تیار ہونے کان کے پردے تو مت پھاڑو..
اسکے ڈریسنگ روم میں جانے کے بعد رشل چوڑیاں پہننے لگی۔۔۔
_____________________________
مسز ایس پی شاہ زین کو وہاں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا تھا
پہلے پہل ذرا نروس ہوتی اب وہ نارمل ہوکر سب سے مل رہی تھی
اس تقریب میں قریب کے چیداچیدا افراد ہی بلاٸے گٸے تھے…
نکاح کی رسم کے بعد ماہم ساتھ بیٹھے اچھے لگ رہے تھے
فہد کی تعریف پر ماہم مسکراکرسر جھکاگٸی
یہ منظر دور کھڑی عینا نے دیکھا تو مسکراہٹ لبوں پر بکھرگٸی ،اسے یہ معصوم سی لڑکی بہت عزیز تھی
ایک اچھا ہمسفر اسے ملا تھا اس بات کی ماہم کو خوشی تھی
اہم اہم…..
کسی کے گلا کھنکارنےکی آواز پر سوچوں میں گم عینا نے چونک کر برابر میں دیکھا جہاں بلیک ڈنر سوٹ میں ملبوس بال معمولی سے کھڑے کیۓ وکی کھڑا تھا،بلاشبہ اسکی پرسنالٹی چھاجانے والی تھی
“کیسی ہو عینا کونڈا”
عینا ایک نظر اس پر ڈالتی دوبارہ سیدھی کھڑی ہوتی سٹیج کی جانب متوجہ ہوچکی تھی،جب وکی نے سنجیدگی سے پوچھا
ٹھیک ٹھاک ہوں،تم سناو پہاڑی بکرے،کیسے ہو؟
عینا نے بھی سنجیدہ شکل بناٸے فوراً حساب بے باک کیا جبکہ اچھی خاصی ڈیشنگ پرسنالٹی کا مالک وقاص عرف وکی اسکے نٸے لقب پر تڑپ اٹھا تھا
تم اپنی آنکھوں کا علاج کراو،میں تمھیں پہاڑی بکرا لگتا ہوں،واٹ ربش…
وکی نے اچھے خاصے تپے ہوٸے انداز میں کہا
آس پاس کافی مہمان ٹہلتے خوش گپیوں میں مصروف تھے اسی لیۓ وہ دونوں اپنی انتہاٸی اہمیت کی حامل گفتگو حتلمقدور دھیمی آواز میں کررہے تھے ساتھ ساتھ جان پہچان والے لوگوں کو دیکھتے ہاتھ ہلاکر ایک مسکراہٹ بھی پاس کرتے جارہے تھے
بڑا برا لگ رہا ہے،یہ بتاو میں نے تمھیں کب ڈس لیا جو عینا کونڈا ہوگٸی میں
اب کےمکمل روٸے سخن اسکی جانب موڑلیا تھا
واٸٹ خوبصورت نگوں سے مزین چوڑی دار میں وہ کافی خوبصورت لگ رہی تھی
“ڈس ہی تو رہی ہو
وکی نے لڑنے کے لیۓ تیار کھڑی عینا کو دیکھے دل پر ہاتھ رکھ کر ڈراماٸی انداز میں کہا
ہنہہ…
“فضول انسان”
اسکی شان میں مزید ایک لقب کا اضافہ کرتی وہ جانے کو مڑگٸی
یہ فضول انسان ساری زندگی برداشت کرنا ہوگا تمھیں
پیچھے سے وکی کے سرعت سے کہنے پر آپ ہی آپ اسکے لب مسکرااٹھے تھے۔۔۔
______________________________
ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اسکی دھڑکنیں زور پکڑتی جارہی تھیں
اسکے حقوق ایک ایسے شخص کے نام ہوچکے تھے جو اسکے لیۓ بلکل اجنبی تھا
یہ ایسے لمحات تھے جب نارمل لڑکی بھی عجیب کیفیت کا شکار ہوجاتی ہے یہاں تو یہ عالم تھا کہ اسکے ساتھ کچھ نارمل ہوتا ہی نہ تھا
دل میں اللہ سے اپنی آٸندہ زندگی کےلٸے بہتری مانگتی وہ سرہانے سے ٹیک لگاگٸی اسی اثنا میں بھاری قدموں کی چاپ سناٸی دینے لگی
_______
وہ کمرے میں آٸی تب تک زین فریش ہوکر آچکاتھا….
بیڈ سے شرٹ اٹھاکر پہنتے اس نے ڈریسنگ مررکی جانب رخ موڑا اور رشل کاعکس دیکھا جو کبھی اسے تو کبھی بیڈ پر رکھے اپنے کپڑوں کو دیکھ رہی تھی
ہم کہیں جارہے ہیں زین؟
“ہمممم”
زین کے ہممممم نے اسےتپادیاتھا….یونہی بلاوجہ!
سہی جارہے ہو تم ،جب حکم دو سوجاوں جب حکم دو اٹھ جاوں جب کہو باہرچلوں
رشل نے مبالغہ آراٸی کرتے چڑکرکہا تو زین نے حیرت سے اسے دیکھا
نہیں جانا چاہتیں تو ٹھیک ہے
بس یونہی دل چاہ رہاتھا کچھ پل اپنی زندگی کے ساتھ بتاوں…
نرم سے ٹھہرے ہوٸے لہجے میں کہتا وہ رشل کو چپ کراگیا تھا….
“اچھا سوری.”
آتی ہوں ریڈی ہوکر….
رشل نے منہ بسور کر کپڑے اٹھالیۓ،وہ ہادی کے ساتھ رہناچاہتی تھی لیکن جو بھی تھااسے زین کایوں کہنا اچھالگاتھا….
_____________________________
زین کی شوخیوں،رشل کی کھٹی میٹھی لڑاٸیوں سے سجی ایک بھرپور شام ساتھ گزارکر اب وہ دونوں واپسی کی راہ لے رہے تھے،آٸسکریم پارلر کے سامنے رک کر زین نے رشل کو دیکھا
آٸسکریم کھاوگی؟
اور وہ جو آٸسکریم کا خود زین کے کہنے پر پھولے نہ سماتی ہامی بھرنے والی تھی سٹپٹاکررہ گٸ کیوں کہ زین اسکے ہاں بولنے سے پہلے ہی “اچھا نہیں کھانی ،اوکے”کہتا کارزن سے آگے بڑھالے گیا تھا
رشل شدید صدمے کی حالت میں اسے دیکھ کم گھور زیادہ رہی تھی….
اگلے ہی لمحے چھوٹی سی ناک پر ہم وقت رہنے والا غصہ عود کر آیا ….
اچھا کھاوگی؟؟
زین نے بھولپن سے دوبارہ سوال کیا تورشل نے چند لمحے اسے گھوریوں سے نوازنے کے بعد جواب دینا ضروری نہ سمجھتے ہوٸے”اونہہ”کہہ کر منہ کھڑکی کی طرف کرلیا….
آٸسکریم پارلر بہت پیچھے رہ گیا تھا
بتاویار،پھر کہنانہیں کہ میں نے آٸسکریم نہیں کھلاٸی….
زین نے سنجیدگی سے دوبارہ پوچھاتو رشل کے ضبط کابندھن چور چور ہوگیا
آہ…..شوہرپہ ہاتھ چلاتی ہو جہنم میں جاوگی…
اس نے شدید غصے کے عالم میں زین کی ڈرامے بازی پر تپ کر پنچ جڑدیاتھا اسکے کسرتی بازو پر…..جبکہ زین کہ ان الفاظوں نے مزیدجلتی پرتیل کا کام کیا
سب جانتے تھے اسکی آٸسکریم سے محبت …
تم ہو ہی ایسے،شرم نہیں آتی تمھیں
رشل کے چڑکر بولنے پر زین نےمعنی خیزی سے اسکے چہرے کو نظروں کے حصار میں لیا
نہیں ،میراشرم والاپرزہ جلاہوا ہے ،پتاتو ہے تمھیں
باتوں باتوں میں گاڑی ریورس کرتا وہ پارلرکے سامنے لے آیاتھا
اس سے پہلے کہ رشل جوابی وار کرتی زین کار کا دروازو کھولتا باہر نقل گیا…
کچھ دیر بعد آیا تو ہاتھ میں رشل کے فیورٹ فلیورآٸسکریم تھام رکھےتھے جس میں سے ایک رشل کی طرف بڑھایا تو رشل نے گھورتے ہوٸے لے لیا….
رشل اپنا پورا اور زین سے چھین کر آدھا کون کھانے کے بعد اب آرام سے بیٹھی کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی…..
زین جانتا تھا ہمیشہ کی طرح وہ اسکی آٸسکریم پر حملہ ضرور کرے گی اسکی حرکت پر وہ بے ساختہ قہقہ لگاکرہنس پڑا….
باتیں کرتے وہ ایک موڑ مڑ رہے تھے تب اچانک کہیں سے سنسناتی ہوٸی گولی آکر بی ساٸیڈ کا کانچ چٹخاگٸی…..
اسکے بعد پے درپے ہوتی فاٸرنگ میں رشل کی چیخ بھی شامل تھی اسکی چیخوں کاسلسلا ہنوز جاری رہتا اس سے پہلے زین نے خود کو اور رشل کو سیٹ کے ساتھ نیچے بٹھاکر اسکے منہ پر ہاتھ رکھ دیا…
ششش..
جھکے جھکے اسکیے منہ پر ہاتھ جماٸے آنکھوں سے تنبیہہ کی…
آواز مت نکالنا رشل…
میں آتا ہوں…
رشل خوفزدہ سی اسے پسٹل ہاتھ میں تھامے دیکھ رہی تھی جو زین نے شاید چیٸر کے نیچے کہیں سے برآمد کیا تھا..
رشل میری بات غور سے سنو…باہر مت نکلنا،یہیں رہنامیں آجاونگا واپس،ڈرنا مت اوکے…..
ایک ہاتھ میں پسٹل پکڑے دوسرا ہاتھ رشل کے رخسار پر جماکر کہتا رخسار تھپتھپاکر جانے کو مڑاتو رشل نے اسکا بازو دونوں ہاتھوں میں جکڑ لیا…..زین نے رخ موڑا تو رشل کی نمناک آنکھوں میں خوف نے پنجےگاڑرکھےتھے….
زین پلیز،باہر نہیں….جاو پلیز…
وہ خوفزدہ تھی..
“کچھ نہیں ہوگا مجھے”..ڈرومت میری جان!
وہ نرمی سے بولتا بازو چھڑواکر باہرنکل گیا
پیچھے رشل نفی میں سرہلاتی کچھ کہنے کی کوششوں میں ہلکان پھڑپھڑاتے لبوں پر ہاتھ جماگٸی…

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: