Hisar e Ishqam Novel by Pari Saa – Episode 16

0
حصارِ عشقم از پری سا – قسط نمبر 16

–**–**–

وہ دو لڑکے تھے،زین
نکل کر انکی مخالف سمت اپنی کار کی اوٹ میں ہوکر ان پر فاٸرکرنے لگا،اس نے اوٹ سے دیکھا ان دونوں نے جدید گلاک ناٸنٹین گنزتھام رکھی تھیں…
زین کی پسٹل سے نکلی گولی ان میں سے ایک کو ذخمی کرگٸی تھی،اب اسکا پسٹل خالی تھا ،…..
اس سے کچھ فاصلے پر کھڑا دھند میں لپٹاوہ لڑکاسٹریٹ لاٸٹ کی روشنی میں اسکی طرف بڑھ رہا تھا،زین نے خود کا بچاو کراتے اپنی خالی ہوچکی گن نشانہ لے کر اسکی طرف اچھالی جو سیدھی اس لڑکے کے چہرے پر لگی،وہ کراہ اٹھا اور اسی لمحے کا فاٸدہ اٹھاتازین اس پر چھپٹ پڑا…..پے درپے پیٹ میں پڑنے والےفولادی گھونسے اسکے منہ سے خون نکال گٸے تھے……
زین کا دھیان ذخمی پڑے دوسرے لڑکے کی طرف نہ تھا اسی موقعے کافاٸدہ اٹھاکر اس پر پیچھے سے وار کیاگیاتھا…..
وہ کوٸی راڈ یاں لکڑی تھی جو زین کا دماغ گھماگٸی تھی….
ایک جھٹکے سے زین نے سر تھاما تھا اور کار کی کھڑکی سے دیکھتی رشل ہذیانی انداز میں چیختی چلاتی باہر نکل کر دیوانہ وار اسکی طرف دوڑ کر آٸی تھی….
ان دونوں کا دھیان اب رشل کی طرف تھا…..
زین نے اٹھنے کی کوشش کی تو منہ سے خون تھوکتے لڑکے نے ایک لات زین کےپیٹ میں رسید کی،سر پر لگنے والی کاری ضرب سے اسکے حواس جھنجھنااٹھے تھے …
رشل روتی ہوٸی اسے تھامنے لگی تھی جب ان میں سے ایک نے آگے بڑھ کر اسکے بالوں کو مٹھی میں جکڑا…وہ کراہ اٹھی….
“چھوڑاسے”….
اٹھنے کی کوشش کرتے زین کی دھاڑ گردونواح میں گونج اٹھی تھی….
تب ہی ایک اور ضرب اسکے سر پر لگی اور وہ لہراکر گرپڑا……سر سے نکلتا خون بہہ کر پیشانی اور شرٹ کے کالر تک پہچتا اسکی ہلکی نیلی شرٹ رنگین کرگیا تھا….اس نے رشل کو دیکھا جو روتی چلاتی خودکو چھڑانے کی سعی کرتی اس تک پہچناچاہ رہی تھی….
مسز ایس پی شاہ زین…
راڈ تھامے وہ لڑکا اب رشل کی طرف متوجہ ہوتا وہ طنزیہ انداز میں بولتا رشل کے چہرے پر آٸے بال ہٹانے لگا…..
ہاتھ مت لگانا اسے…
زین نے کہنی کے بل اٹھنے کی کوشش کرتے ضبط سے یہ منظر دیکھا
وہ لڑکا ابرو اچکاتا زین کو اور پھر رشل کو دیکھنے لگا….
“ایس پی شاہ زین کی دکھتی رگ”….
اگلے لمحے اس نے رشل کا چہرہ انگلیوں میں جکڑکر قریب کیا تو رشل بن جل کی مچھلی بنی تڑپ کر مزاحمت کرنے لگی…..
زین نے اچانک باری باری دونوں کو کھینچ کر دور پھینکاتھا۔.
چند لمحوں پہلے رشل کاچہرہ جکڑنے والا کتے کی طرح مار کھارہاتھا
زین پر جیسے جنون سوار تھا، سڑک سے وہی راڈ اٹھاکر اس نے دونوں کو بناکوٸی موقع دیۓ لہولہان کرڈالا تھا..
اب وہ سڑک پر اوندھے منہ پڑے اس لڑکے پر جھک کر مخصوص انداز میں اسکے کندھے کا جوڑ پکڑ رہا تھا..
زین…..زین بس کرو…..
رشل نے اسے روکنے کی کوشش کی مگر وہ سن کہاں رہاتھا؟۔۔
اس کی ہمت کیسے ہوٸی رشل کو چھونے کی
کٹاک کی آواز کے ساتھ اسکی دلخراش چیخیں فضامیں بلند ہوٸی تھیں،زین اسکے کندھے کا جوڑ الگ کرچکا تھا دور اب دوسرے ہاتھ کے ساتھ بھی یہی کرنے والا تھا……
دونوں لڑکے بری طرح ذخمی ہوٸے بے سدھ پڑے تھے…..یہ وہی لڑکے تھے جنکی بدولت وہ آغاکے گینگ تک پہچا تھا،یہ ایس پی شاہ زین کے خلاف انتقامی کارواٸی تھی جس میں وہ بری طرح پھنس چکے تھے،اب یقیناً وہ انہیں جیل کی ہواکھلانے والا تھا اور کسی کے باپ میں دم نہ تھا انکوں چھڑانے کا….
رشل روتی ہوٸی اسکے سینے سے آلگی تھی لیکن زین نے جنونی انداز میں دونوں نازک بازو جکڑے جھٹکے سے اسے خود سے الگ کردیا…
بکواس کی تھی میں نےکہ،باہر مت نکلنا لیکن نہیں،یہاں پرواہ کسے ہے…..
وہ شدید غصے میں دکھاٸی دے رہا تھا..
رشل نے بے اختیار اسکے خون آلودچہرے کو ہاتھوں میں تھاما تھا
“مجھے ہے پرواہ”…
میں ڈرگٸی تھی زین…..تم تمھیں….کچھ…..کچھ ہوجاتاتو…..
سر اونچاکیۓ اسکی آنکھوں میں دیکھتی وہ بے قرار سی بول رہی تھی..
زین کا غصہ دھیما پڑنے لگا تھا،حواس اب ٹھیک طرح کام کرنے لگے تو اسے احساس ہوا وہ چھوٹی سی لڑکی بری طرح ڈری ہوٸی تھی اور وہ اسے سنبھالنے کے بجاٸے الٹا ڈانٹ گیا تھا….
میری جان،اگر تمھیں کچھ ہوجاتا تو ؟
میرا سوچا ہے کیا ہوتا؟؟
اب کے وہ اسے نرمی سے شانوں سے تھامتا سوال کررہا تھا…
میں روک نہیں سکی تمھیں تکلیف میں دیکھ کر……زین میں تمھیں تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی،بہت محبت کرتی ہوں تم سے….
اپنے کندھےپر جمازین کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامتی وہ بے اختیاری میں کہہ گٸی
زین ہر تکلیف بھول کر مسکرانے لگاتھا….آنکھوں کی چمک پڑھی تھی اورشے دھندلاسی گٸی تھی…….
رشل اسکے سینے سے لگتی سختی سے اسکی شرٹ جکڑگٸی تھی،خون اب اسکے بھی چہرے پر لگ چکاتھا….
زین نے اسکےگرد مضبوط حصار باندھ کر سینے سے لگے سر پر بوسہ لیا،……یہ وہ لڑکی تھی جو اسے ہر دکھ..ہر تکلیف بھلادیتی تھی……اسکی مسکراہٹ،خوشی…آنکھوں میں جلتے دٸیوں کا باعث وہی تو تھی…
__________________________________
ان دونوں کی حالت پر گھر میں کہرام سا مچ گیا تھا،دادو اٹھتے بیٹھتے زین کو ڈانٹ پلارہی تھیں.
“ہزار دفعہ کہا ہے یہ موٸی پولیس کی نوکری چھوڑو اور باپ کے ساتھ کاروبار سنبھالو مگر مجال ہے،جو کبھی کان پر جوں تک رینگی ہو”…
دادو کی بات کی زین کی مامانے پرزور انداز میں تاٸید کی تھی…
ان دونوں لڑکوں کو زین جیل بھجواچکاتھا….
خود وہ فلحال چھٹیوں پر تھا،ماماکا آرڈر تھا جب تک مکمل ٹھیک نہ ہوجاو ضرورت نہیں قدم باہر نکالنے کی…
______________________________
سوپ پی لو زین،پھر میڈیسن لے لینا…
زین کے سر پر پٹی بندھی تھی،وہ آنکھیں موندے شاید سورہاتھا…
رشل نے سوپ کاباول ساٸیڈ ٹیبل پر رکھتے نرمی سے اسکےبالوں میں اگلیاں چلاٸیں…
“زین”اٹھ جاو…
________________
نرم سے لمس پر زین نے آنکھیں کھولیں ،نظرگھماکردیکھاتو رشل پاس ہی بیٹھی لبوں پر نرم سی مسکان سجاٸے اسےدیکھ رہی تھی لیکن اگلے چند لمحوں میں اسکی مسکراہٹ غاٸب ہوٸی اور اسکی جگہ تشویش نے لے لی….
زین نے کہنی کے بل اٹھ کر تکیے سے سرٹکاتے دونوں ہاتھوں میں سر تھام لیاتھا….
جیسے درد کو برداشت کرنے کی کوشش کی گٸی تھی….
زیادہ دردہورہاہے؟
رشل نے بےاختیارآگے ہوکر اسکے سرپر رکھے ہاتھوں کو تھامناچاہاتھاکہ زین فوراً دور ہٹ گیا…
ہاں، مگر آپ کون ہیں؟
اسکی فوراً سے پیشتر دور ہونے والی حرکت اور منہ سے نکلے لفظوں پر رشل کی آنکھیں حیرت سے باہر آنے کو تھیں..
میں…میں رشل ہوں زین…
“کون رشل”…زین نے سنجیدہ چہرہ لیۓ الجھے سے لہجے میں سوال کیا..
زین میں تمھاری بیوی ہوں کک کیسی…باتیں کررہے ہو،کیاہوگیاہےتمھیں..
رشل کی گویاجان پر بن آٸی تھی..
اب کے وہ روہانسے لہجے میں تیزی سے بولتی اسکا ہاتھ زبردستی اپنے ناذک ہاتھوں کی گرفت میں لے چکی تھی…
زین اس سے زیادہ اداکاری نہیں کرسکتاتھاکیونکہ اس سے مزید اپنے قہقوں کو ضبط کرنامشکل ہورہاتھا.
اگلے چند لمحوں بعد کمرے کی خاموش فضامیں زین کے چھت پھاڑقہقے گونج رہے تھے اور رشل تمام بات سمجھنے کے بعد اب اسے خونخوار نظروں سے گھوررہی تھی….
کچھ دیر پہلے ےقراری کے عالم میں تھاما زین کا ہاتھ ایک جھٹکے سے چھوڑ کر اب وہ دھڑادھڑ اس پر مکوں اور آس پاس پڑے کشنز کی بارش کررہی تھی…
بہت ہی بدتمیزہو تم.
خفاخفاسے انداز میں بولتی وہ ہاتھ روک گٸی شاید بیچارے پر ترس آگیا تھا(پہلے سے ذخمی جو تھا..
البتہ زین کے قہقے تھمنے میں نہ آرہے تھے…
وہ اس پر ہنس کرچڑارہاتھاکہ کیسے وہ بیوقوف بن گٸی تھی
اور وہ رشل تھی،کیوں نہ چڑتی،یہی بات تو زین کو مزہ دیتی مزیدچڑانےپر اکساتی تھی….
زین خاموش ہوجاو اچھاہواکمرے کی دیواریں ساونڈپروف ہیں ورنہ سب کو یقین ہوجاناتھا کہ ضرور کمرے میں کوٸی بھوت گھس گیا ہے
رشل نے اسکے قہقہوں پر چوٹ کی
تم فکرکیوں کرتی ہو،اگر سب کو یقین ہوجاتا تب بھی کسی نے مجھے بھوت سے بچانے نہیں آناتھاکیوں کہ سب جانتے ہیں کمرے میں ایک عدد چڑیل بھوت سے مقابلہ کرنے کے لیۓ موجود ہے..
اسکی بات رشل کے سر پر لگی تھی…
تم نے مجھے چڑیل کہا…?
وہ گھورتے ہوٸے بولی جب کے اسے پھر سے پںجے تیز کرتے دیکھ زین نے فوراً پینترابدلا..
مسز یہ تو آپکے دماغ کا فتور ہے ورنہ میں نے تمھارانام لے کر تو نہیں کہا…
اونہہ…..مجھے تم سے بات ہی نہیں کرنی…
بلآخر رشل رخ پھیرکر بیٹھ گٸی
زین اسے منانے کاسوچتاایک بارپھرہنسنے لگا…
______________________________
آج انکے گروپ کے سب ہی ممبران وہاں کافی عرصے بعد موجود تھے،….زندگیوں میں کافی کچھ بدل چکاتھا لیکن یہ گروہ ہنوز ویسا ہی تھا،….وقت گواہ تھا انکے ان جذبات کا جو وہ اپنے دل میں براٸے کے خلاف رکھتے تھے ،اور جنہیں اپنے وطن کے حق میں پاتے تھے…
انہیں کوٸی نہیں بدل سکتا تھا کیوں کہ یہ وہ لوگ تھے جنکے دل ہمیشہ براٸی کے خلاف عمل کرنے کو تیار رہتے تھے…
ایک طویل عرصے بعد ایک بار پھر وہ جمع تھے….
پچھلے پون گھنٹے سے انکی گفتگوجاری تھی بلآخرایس پی شاہ زین ایک فیصلہ کرتا میٹنگ
ختم کرگیاتھا…
______________________________
مختلف نیوز چینلزوہاں موجودتھے،لوگوں کاایک جمِ غفیر تھا…..
پریس کانفرنس اس کیس پر تھی جسے نیوز چینلز نے پچھلے چند ہفتوں میں بھرپورکوریج دی تھی…
سر آپ کو لگتا ہے کہ اس کیس کو سولو کرنے کے بعد آٸے دن ہونے والے سمگلنگ،اور کڈنیپنگ جڑ سے ختم ہوگٸی ہے؟
وہ فُل یونیفارم میں ملبوس مختلف سوالات کے جوابات دیتاایک نیوز چینل کے نماٸندے کے اس سوال پر ایک لحظے کو رُکا..
جَڑ سے ان جراٸم کا خاتمہ ممکن ہے لیکن ہم لوگ ایسا نہیں چاہتے…..عوام…ایسا نہیں چاہتی..
اسکے الفاظوں پر گاہے بگاہے فضامیں روشن ہوتی کیمرہ فلیش لاٸٹس بھی رُکی تھیں…
مجمعے پر ایک بھرپور نگاہ ڈالتے زین کےلبوں سے ایک سانس خارج ہوٸی…
مجھے،آپکو،ہم سب کو جراٸم کی روک تھام میں اپناکردار اداکرنا ہوگا،لیکن ہمیں یہ ہی نہیں معلوم ہوتا کہ اس سب میں ہمارا کردار کیا ہے؟
گونجتے الفاظوں نے کتنے ہی دماغوں میں سوالیہ نشان واضح کیا تھا…
مثال آپکے سامنے ہے، پولیس کی حراست میں موجود وہ دو نو عمر لڑکے…
یہی عمر ہوتی ہے جب ہمیں اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے.
کالج اور یونیورسٹی کے یہ کم عمر بچے ایک بار ملک دشمن عناصرکے ہتھے چڑھ جاٸیں تو ملک کے معمار بننے کے بجاٸے اپنے ہی ملک کی جڑوں کو کھوکھلاکرناشروع کردیتے ہیں….
آج کے والدین کے پاس وقت نہیں ہے اپنے بچوں کے لیۓ،انہیں صحیح غلط کافرق سمجھانےکے لیۓ،پاکستان کو حاصل کرنے کے لٸے قربان ہوٸی وہ لاکھوں زندگیاں،وہ خون جو اس ملک کی بنیادوں میں ہے،اس سے آگاہ کرنے کے لیۓ……آج ہمارے پاس وقت نہیں ہے اپنے اندر کے محبِ وطن کو جگانے کے لیۓ..
تو نٸی نسل کیسے سنبھل سکتی ہے؟
اتنی کم عمروں میں ڈرگز… سمگلنگ ایک نشے کی طرح خود پر حاوی کرلیا ہے کچھ لوگوں نے اور یقین کریں،یہ کچھ لوگ بڑھتے چلے جاٸیں ،اگر ہم نے اب بھی اپنا کردار ادا نہ کیا……اب بھی اپنے بچوں کے لیۓوقت نہ نکالا…..اور اب بھی”اپنے وطن سے بیوفاٸی بند نہ کی”……ان کچھ لوگوں کی تعداد بڑھتی چلی جاٸےگی،جراٸم کی روک تھام،ملک کی حفاظت ،عوام کی حفاظت کا ذمہ صرف پولیس یاں آرمی کا نہیں،عام عوام کا بھی ہے…..آپ لوگوں کابھی ہے…
آخری الفاظ اس نے ماٸک تھامے کھڑے اس نماٸندے کی طرف دیکھ کر کہے جو یکدم جیسے کسی ٹرانس سے باہر نکلا تھا…
وہاں کتنے ہی ایسے لوگ موجود تھے،جنکی جوان اولاد ڈرگس جیسی گندگی کو گلے لگاچکی تھی،لیکن غلطی بچوں کے ساتھ ساتھ انکی بھی تھی،…….
وہ دونوں نو عمر لڑکے زوار اور حارث پولیس کی حراست میں تھے،لیکن اور نجانے کتنے زواراور حارث ابھی آزاد گھوم رہے تھے……بازیاب کی جانے والی لڑکیوں کے گھروں میں اطلاع کردی گٸی تھی،لیکن بہت کم تعداد تھی ان والدین کی جو اپنی بیٹیوں کو لے گٸے تھے…….باقی شاید قابلِ قبول نہ رہی تھیں…….گویا ساراالزام بیٹیوں کے سر تھوپ کر انکے والدین خود کو بری الزمہ سمجھ بیٹھے تھے
________________________________
اپنی ماں کی موت اسکے لٸے گہراصدمہ ثابت ہوٸ تھی،لیکن وقت بہت بڑامرہم ہے اور اس مرہم نے اسکے ذخموں کو بھی مندمل کرڈالاتھا…
وہ اپنے رب کی جتنی شکرگزار ہوتی کم تھا،کیوں کہ وہ خوش قسمت تھی…….
ورنہ حرام محبتوں کے ہاتھوں ہمیشہ کے لیۓ حرام کی دلدل میں دھنس جانے والی نجانے کتنی ماہم اس دنیا میں سانس لے رہی تھیں!
_______________________________________
(چارسال بعد)
کیوں تنگ کررہی ہم ثانی؟
جلدی یہ فنش کرو شاباش….
مامانٸی تھانا(نہیں کھانا)
رشل کب سے دودھ کھچڑی کی پلیٹ لیۓ تین سالہ ثانیہ کے پیچھے گھوم رہی تھی جس نے اسکاناک میں دم کررکھاتھا……وہ بلکل رشل کے بچپن کی کاپی تھی….
ثانی بیٹا کھالو ورنہ بابا سے شکایت کردونگی!
رشل نے وارننگ دی تو برے برے منہ بناتی وہ دادو کے پاس جابیٹھی….
مسز،آپ شے نٸی تھانا فیری دادو سے تھانا اے(آپ سے نہیں کھانافیری دادو سے کھاناہے)
اپنی توتلی زبان میں پونیاں ہلاتی بولی تو پاس بیٹھی بڑی ماما اور دادو ہنسنے لگیں…
زین اکثر رشل کو مسز بولتا تھا جسکی دیکھادیکھی ثانیہ بھی اپنی ماما کو مسز بلانے لگی تھی،کبھی کبھی ماما کہہ دیتی جب موڈ ہوتا…
جب کے بڑی ماما کو دادو اور دادو اسکی پَردادی تھیں تو انہیں فیری دادو کہتی تھی……رشل بھی بچپن میں ہر کسی کا نام رکھاکرتی تھی جیسے زین کا رکھ چھوڑا تھا….”بینگن
تم بھی ایسی ہی تھیں بیٹا،اب پتا چل رہا ہے ….
دادو ثانیہ کو کھچڑی کھلاتی ہوٸی بولیں…
نازنین پاس ہی کارپیٹ پر بیٹھی ہادی کو ہوم ورک کروارہی تھی……دادو کی بات پر رشل کے منہ بنانے پر ہنس پڑی…
بش،تھالی کھتتری(بس کھالی کھچڑی)….
ثانیہ چھلانگ لگاتی صوفے سے اترکر رشل کے پاس پہنچی اور اسے خالی پلیٹ دکھاکر بولی…
“گڈ گرل”…..
رشل نے اسکاگال تھتھپاکر کہا تو خوش ہوتی وہ دوبارہ دادو کے پاس جابیٹھی…
سرجھکاکر ہوم ورک کرتے ہادی نے”گڈگرل”کے لقب پر سنجیدگی سے سر اٹھاکر اسے دیکھاپھر منہ پر ہاتھ رکھ کر ایک زوردار مصنوعی قہقہ لگاکر دوبارہ کام میں مصروف ہوگیا،……
یہ ثانیہ کو چڑانے کی کوشش تھی جس میں ہمیشہ کی طرح ہادی کامیاب رہا تھا اور ثانیہ خونخوار نظروں سے اسے گھوررہی تھی..
ہادی کی حرکت پر نازنین نے خفگی سے اسے دیکھا،اپنے ماں باپ جیسی سنجیدگی اس میں نام کو نہ تھی…..وہ مکمل اپنے دی گریٹ چاچو شاہ زین کی کاپی تھا…..دونوں چاچو بھتیجے کی خوب جمتی تھی…
فیری ددو،اش کو شمجایں مجھے تنگ نہ کیاکلے…..بتامیش
ثانیہ نے صبر کے گھونٹ پیتے اپنی فیری دادو کو شکایت لگاٸی جو چشمے کے پیچھے سے اپنے پر پوتے کو دیکھ رہی تھیں…
ہادی..
“یس دادو”
انکے پکارنے پر ہادی کتاب سے سراٹھاکر معصومیت سے بولا….
بیٹا کیوں تنگ کرتے ہو ثانی چھوٹی ہے ناں۔۔
“چھوٹی ہے پھربھی میری بلکل ریسپیکٹ نہیں کرتی”
ہادی کے اپنے ہی شکوے تھے..
ریشپیت اول وہ بی تمالی(ریسپیکٹ اور وہ بھی تمھاری)
ثانیہ نے استہزاٸیہ انداز میں کہتے ناک سے مکھی اڑاٸی…..
تم سے میں بات نہیں کررہا چھوٹی سی ثانیہ،چپ رہو…
ہادی کہاں پیچھے رہنے والا تھا کھٹاک سے بولا….
جب کے ثانیہ کا روٸے سخن فوراً دادو کی طرف مڑ گیا،اس امید کے ساتھ کے شاید دادو ہی اسے اچھی طرح ڈانٹ دیں،فیری دادو تو ڈانٹتی بھی اتنے پیار سے تھیں،بھلاایسے بھی کوٸی ڈانٹتا ہے،ثانیہ سے پوچھوں کیسے ڈانٹاجاتا ہے،لیکن افسوس تو اسی بات کا تھا ناں کہ وہ زیادہ پنگے ہادی سے لے نہیں سکتی تھی ورنہ وہ اسکی چاکلیٹس چھین لیتا تھا اور وہ اسکا کچھ نہیں بگاڑسکتی تھی کیونکہ وہ اس سے لمبا تھا ناں…
اور سکول میں بھی چھوٹی سی ثانیہ کہہ کر مشہورکرکھاتھا اس نے،ثانیہ اس بات سے بہت چڑتی تھی….وہ چڑانے کے لیۓ اکثر یہی کہتا تھا….
“ہادی تنگ نہیں کرتے بیٹا”
دادو کے الفاظوں پر ثانیہ کے ارمانوں پر اوس پڑگٸی،……
اس نے بےاختیار گھورکر اسے دیکھا بیچاری اور کربھی کیاسکتی تھی……
رشل کچن میں زین کی فرماٸش پر رس ملاٸی بنارہی تھی…
عشل رونے کی آواز پر نازنین اٹھ کر کمرے میں چلی گٸی،عشل نازنین کی گیارہ ماہ کی بیٹی تھی…
___________________________________
توتلی زبان میں سلام کرتی ثانیہ اب شاہ زیب کی گود میں چڑھ بیٹھی تھی،اب باری تھی ہادی ک جو اسے گھوررہاتھا…..
تاتو،ہادی نے بوت تنگ کیا آج مجے(چاچو ہادی نے بہت تنگ کیا آج مجھے
اسکی شکایتوں کی پٹاری کھل چکی تھی…..
کیوں ہادی،منع کیا ہے ناں
میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا پاپا…
ہادی شرافت کے تمام ریکارڈ توڑتا کتاب ہاتھ میں لٸے خود کو مصروف ظاہر کرتا سر اٹھاکر بھولپن سے بولا،شاہ زیب نے مسکراکر اسکی اداکاری دیکھی……
تاتو اش نے مجے پھل شوتی شی ثانیہ بولا تھا گھل پہ بی اول استول میں بی(چاچو اس نے مجھے پھر چھوٹی سی ثانیہ بولا تھا گھر پہ بھی سکول میں بھی)
کیوں بولا تھا بھٸی؟
اب بتاو کوں بولاتا
شاہ زیب کے بولنے پر وہ ذرااتراکر بولی،اسکے چاچو جو اسکے ساتھ تھے…
اسلیۓ بولا تھا کیونکہ تم ہو چھوٹی….
ہادی اطمینان سے بولا
ابھی انکی لڑاٸی جاری تھی جب زین لاونج میں داخل ہوا
“یاہوووووو”
سلام کے بعد ہادی کا نعرہ کافی لمبااور پرجوش تھا…..
ثانیہ نے بھی اپنے باباکو سلام کیا،بچوں کی یہ عادت پختہ تھی….
کیسا ہے میراشیر،اور میری چھوٹی سی ثانیہ….
زین نے صوفے پر ٹانگیں سیدھی کرکے بیٹھتے ہوٸے کہا تو ثانیہ جو ابھی ہادی کو ڈانٹ پلوانے کا پلان بنارہی تھی..

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: