Hisar e Ishqam Novel by Pari Saa – Episode 2

0
حصارِ عشقم از پری سا – قسط نمبر 2

–**–**–

بڑی ماما….بڑی ماما۔۔۔۔۔
وہ باہر سے چلاتی ہوٸ آرہی تھی،بڑی ماما کچن میں نازنین اور ملازمہ کے ساتھ کھانے کی تیاری کی تیاری کررہی تھیں۔۔۔۔
لڑکی کیوں شور مچاتی ہو اتنا؟۔۔۔۔۔دادو کمرے سے نکل کر لاونج میں رکھے صوفہ کم بیڈ پر بیٹھتی گھرک کر بولیں۔۔۔۔۔اسی اثنا میں بڑی ماما بھی آچکی تھیں،۔۔۔
کیا بات ہے بیٹا؟؟
بڑی ماما..آج پتا چلا کہ ہماری یونی کی دو لڑکیاں اور غائب ہوگٸیں، لوگ تو عجیب عجیب کہانیاں بنارہے ہیں۔۔۔۔۔
کچھ کا کہنا ہے کہ یہ اغوا ہے کیونکہ پچھلے دنوں تین لڑکیاں الریڈی غائب ہوچکی ہیں۔۔۔۔رشل کی بات پر دادی تاسف سے سر ہلانے لگی تھیں،اللہ پاک سب کو اپنی امان میں رکھے ۔۔۔۔۔
آمین،بڑی ماما بھی ڈر سی گٸی تھیں۔۔۔۔
_________________________
آج زین گھر پر تھا،بڑی ماما
کے کہنے پر رشل کو لینے یونی گیا تھا۔۔۔۔۔
زین کو اپنے انتظار میں دیکھ کر اسکا موڈ خراب ہوا ۔۔۔بلیو جینز بلیک شرٹ میں ملبوس ،بلیک گلاسس لگاٸے وہ سینے پرہاتھ باندھے کار سے ٹیک لگاٸے کھڑا تھا۔۔۔۔رشل چلتی ہوٸی کار میں آبیٹھی،زین کو ہنوز باہر کھڑا دیکھ کر وہ چڑ گٸی۔۔۔۔جناب اگر لڑکیاں تاڑنے سے فارغ ہوگٸے ہوں تو اندر تشریف کا ٹوکرا لے آٸیں۔۔۔۔
ابھی نہیں ہوا۔۔۔۔
رشل کے غصے سے محفوظ ہوتا وہ چڑانے کی غرض سے بولا۔۔۔۔شاہ زین۔۔۔۔۔
وہ چیخی !
شدید غصے میں وہ اسکا پورا نام لیا کرتی تھی،زین اگر تم دو منٹ میں اندر نہیں آٸے تو میں تمھارے ساتھ نہیں جاونگی،وہ ہمیشہ کی طرح دو منٹ کا وقت دیتی انتظار کرنے لگی اور زین پر ہمیشہ کی طرح کوٸی اثر نہ ہوا۔۔۔۔۔
وہ جھٹکے سے دروازہ بند کرتی باہر نکلی اور ٹیکسی روکنے کے ارادے سے آگے بڑھنے لگی،بیٹھ گیا یار چلو ،زین ڈھیٹوں کی طرح ہنستا ہوا اسکا ہاتھ پکڑ کر لے جاتا ہوا بولا۔۔۔۔۔نہیں جانا مجھے تم جیسے بینگن کے ساتھ،جبکہ اچھا خاصہ ڈیشنگ پرسنالٹی کا مالک زین اسکے ”بینگن“بولنے پر تپ اٹھا،ٹھیک ہے میں کار میں بیٹھا ہوں آنا ہو تو آجاو،وہ چلاگیا تو رشل ٹیکسی کا انتظار کرنے لگی،اکڑ میں اسے اب جانا گوارہ نہیں تھا زین کے ساتھ۔۔۔۔
ہاٸے بے بی،میں ڈراپ کردوں؟۔۔۔۔۔۔یونی کے اسی گروپ کا ایک لڑکا اسکے ساتھ کھڑا ہوتابولا،۔۔۔۔
زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں نکلو ادھر سے۔۔۔۔۔
وہ غصے سے بولی تو وہ کمینگی سے ہنسنے لگا….واو غصہ۔۔۔۔۔
لوکنگ پریٹی،کار کے بونٹ پر چڑھ کر بیٹھا لڑکا چھلانگ لگا کر اسکے پاس آکر کھڑا ہوتا ہوا بولا،وہ آٹھ نو تھے تعداد میں،رشل کو گھبراہٹ ہونے لگی،زین کی کار دور کھڑی تھی اور لوگوں کے رش میں ٹھیک سے دکھاٸی نہیں دے رہی تھی۔۔۔۔کیوں پریشان ہو یار ہم ہیں ناں،ایک لڑکا دوسرے کے ہاتھ پر تالی مار کر قہقہ لگاتا بولا۔۔۔۔رشل نے بنا مزید وقت لگاٸے اپنی اکڑ پر لعنت بھیجی اور تیزی سے کار میں جابیٹھی،زین موبائل پر کسی سے بات کررہا تھا،اسکے بیٹھنے پر موبائل اسے پکڑادیا،رشل نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتے موبائل کان سے لگایا،۔۔۔۔۔
رشل فوراً زین کے ساتھ گھر آو،تمھیں پتا ہے حالات کتنے خراب ہیں،بڑی ماما کی ڈانٹ پر اس نے کھاجانے والی نگاہیں زین پر ٹکادیں،وہ مسلسل زین کو گھورتی رہی جیسے کچاچباجانے کا ارادہ رکھتی ہوں،گھورتی ہوٸی رشل کے ہاتھ سے موبائل لے کر زین نے کان سے لگایا،ماما آپکی بہو آنکھیں پھاڑے مجھے گھورنے میں مصروف ہے اسلیۓ کچھ بولی نہیں،اوکے ہم آرہے ہیں کچھ دیر میں۔۔۔
فون رکھتا زین دل جلانے والے انداز میں اسے دیکھ کر کار اسٹارٹ کرنےلگا،رشل کا بس نہیں چل رہا تھا چھ فٹ کے زین کو اٹھا کار کی کھڑکی سے باہر پھینک دے۔۔۔۔۔
تم بدتمیز انسان،لومڑ کہیں کے،ان لفنگوں سے بھی برے ہو تم سمجھے،۔۔۔
اسی ٹھرکی گروپ کے پاس سے کار گزری تو غصے سے بھری بیٹھی رشل وہاں اشارہ کرتی جو منہ میں آیا بولتی چلی گٸی،زین نے ایک نظر ان عجیب و غریب حلیہ میں نظر آتے لڑکوں پر ڈالی پھر رشل کو دیکھا۔۔۔۔
واقعی؟۔۔۔۔۔
رشل نے جواب میں ایک زور دار مکا اسکے کسرتی بازو پر جڑا تھا۔۔۔۔
__________
جاو بیٹا حمیرا آتی ہی ہوگی،دس بجنے والے ہیں اٹھادو سب کو،…..
بڑی ماما فریش جوس فریج فریج میں رکھتی بولیں تو نازنین مسکراتی ہوٸ ہوٸ اثبات میں سر ہلاتی سب کو اٹھانے چل دی،نماز کے بعد سے وہ حمیرا کے ساتھ بریک فاسٹ کی تیاری کرواتی تھی جبکہ باقی سب دوبارہ سوجاتے تھے، آج سنڈے بھی تھا اسلیۓ چھٹی کی وجہ سے سب نے دیر سے ہی اٹھنا تھا،حمیرا پھپھو کا ہر سنڈے چکر لگا کرتا تھا،باہر سے ہارن کی آواز آٸی تو وہ انکے آنے کا اندازہ لگاتی آگے بڑھ گٸی،دادو کو پسند نہ تھا دن چڑھے تک سونا،حمیرا پھپھو الگ لیکچر شروع کردیتی تھیں کہ گھر میں کوٸی آیا ہے لیکن سب اپنے کمروں میں گھسے رہینگے بڑے چھوٹے کی عزت ہی نہیں کوٸی،….
نازنین جلدی سے رشل کے کمرے کی طرف بڑھی،دسیوں آوازیں دینے پر بھی وہ نا اٹھی تو نازنین الارم سیٹ کرتی گھڑی اسکے کان کےپاس لے گٸی….
کیا ہوگیا بھٸی؟؟
کیا مصیبت ہے؟۔۔
نیند میں خلل ڈالنے پر وہ نازنین کو گھورتی اٹھ بیٹھی،۔۔۔۔۔
پھپھو آچکی ہیں،ناشتے سے پہلے اگر لیکچر سننے کا ارادہ ہے تو واپس سوجاو ورنہ جلدی سے فریش ہوکر باہر آو اور شاہ زین کو بھی اٹھادو۔۔۔۔۔
میں نہیں اٹھانے والی اس باگڑ بلے کو،خود اٹھادو جاکر،وہ تپ کر وارڈروب سے کپڑے نکالنے لگی،۔۔۔
اٹھادو رشل تمھیں پتا ہے اسے صرف تم ہی اٹھاسکتی ہو،نازنین کے کہنے پر پہلے تو اس نے کان ناں دھرے لیکن اچانک ایک خیال آنے پر جلدی سے ہامی بھرگٸی،اوکے تم جاو میں فریش ہوکر آتی ہوں،نازنین اسکی رگ رگ سے واقف تھی اسکی بڑی بڑی آنکھوں میں پراسرار چمک دیکھتی بول اٹھی۔۔۔۔
رشل۔۔۔۔
کوٸ جھگڑا نہیں چلے گا۔۔
سمجھیں،۔۔۔۔۔وہ جانتی تھی رشل کچھ نہ کچھ گڑبڑضرور کرے گی اسلیۓ تنبیہہ انداز میں بولی۔۔۔۔۔
اوکے ۔۔۔۔
رشل نے شرافت سے سرہلاتی باتھ لینے چل دی۔۔
_________________________
شاہزیب کے کمرے میں آکر اس نے نیم اندھیرے میں قدم بڑھاتے گلاس ونڈو کے پردے پورے کھول دیۓ،کمرہ روشن ہوگیا،زیب،پھپھو آچکی ہیں اٹھ جاٸیں،بریک فاسٹ پہ سب کی موجودگی ضروری ہے آپکو پتا ہے،۔۔۔۔۔
شاہ زیب ذرا سا کسمسایا لیکن اٹھنے کا کوٸ ارادہ نہیں لگ رہا تھا۔۔۔۔۔
اٹھ جاٸیں ورنہ لیکچر سننا پڑے گا،اسے بھی وہ لیکچر سے دھمکاتی اٹھانے لگی،ساٸیڈ ٹیبل پر رکھا چھوٹے سے شو پیس سے ٹیبل بجایا تو شاہ زیب نے آنکھیں کھول دیں،یار پھپھو ہر سنڈے کیوں آجاتی ہیں،سسرال والے صبح ہی صبح نکال باہر کرتے ہیں کیا،سفید کرتے میں ملبوس بے ترتیب بال چوڑی پیشانی پر بکھراٸے وہ لہجے میںں بیزاریت سموٸے بولا۔۔۔۔۔بری بات ہے!
کسی کو ایسے نہیں بولتے،انکا میکہ ہے جب اگر آجاتی ہیں تو کیا ہوا،وہ تنبیہی انداز میں بولی،اور انکے سسرال والوں کی اتنی ہمت نہیں ہوگی کہ وہ پھپھو کو کچھ کہہ سکیں،آخر میں شرارتی لہجہ اپناتی وہ ہنسنے لگی،حمیرا پھپھو کو واقعی لوگ کم ہی چھیڑتے تھے۔۔۔۔
ھاھا،ویسے مدر ٹریسا کو تو انکے سسرال والے بہت عزیز رکھیں گے،آخر اتنی اچھی بہو ہر کسی کو نہیں ملتی،۔
”مدر ٹریسا؟کون۔۔
تم۔۔۔۔۔
نازنین کے ناسمجھی سے کہنے پر زیب شرارت سے بولتا ہنس پڑا،۔۔۔۔۔
تمھارا بھی رشل کی طرح کوٸی ”اچھااا سا“نام رکھنا پڑے گا،بہت بولنے لگے ہو ،نازنین مصنوعی ناراضگی چہرے پر سجاٸے کہتی جانے لگی تو شاہ زیب جلدی سے اسکے سامنے آکھڑا ہوا،نیند سے بھوجل آنکھوں میں ہزاروں محبت کے دیۓ سجے تھے،….
”رکھو پھر“
وہ آہستہ سے آگے بڑھتا اسکی آنکھوں میں دیکھتا بولا تو نازنین شرماکر اسے دھکیلتی باہر بھاگ گٸی۔۔
_________________________
رشل نے زین کے کمرے میں قدم رکھا تو پورےکمرے میں اندھیرا ہورہا تھا،مدھم مدھم سی روشنی میں قدم بڑھاتی وہ بیڈ کی طرف بڑھنے لگی،دن میں بھی رات کا سماں محسوس ہورہا تھا،زین اوندھے منہ جہازی ساٸز بیڈ پر بنا شرٹ کے بے خبر سورہا تھا،کسرتی جسم کی بدولٹ اچھی خاصی جگہ گھیررکھی تھی اس نے، رشل ایک نظر اس پر ڈالتی تیزی سے باہر نکل گٸی،اسکا رخ کچن کی جانب تھا،فریزرسے ڈھیر ساری برف نکال کر گراٸنڈ کی،برف اتنی تھی کہ تین دفعہ میں پوری ہوٸی،ساری برف ایک بڑے سے باول میں ڈال کر وہ آنکھوں میں پراسرارچمک لیے دوبارہ زین کے کمرے میں داخل ہوٸی،اس نے بھاری باول دونوں ہاتھوں میں تھامے ایک نظر بے خبر سکون سے سوٸے زین پر ڈالی۔۔۔اور اگلے ہی لمحے پورا باول اس پر الٹ دیا،پسی ہوٸی برف کا ایک ڈھیر زین کے اوپر گرتا اسے سُن کرگیا…..
وہ بجلی کی تیزی سے اٹھ بیٹھا۔۔۔۔۔
نیند کہیں اڑنچھو ہوچکی تھی،گردن اور جسم یخ ٹھنڈا محسوس ہورہا تھا۔۔۔
”برف باری“
رشل نے مضحکہ خیز اندازاپناٸے ناسمجھی سے خود کو تکتے زین کو دیکھ کر کہا اور ناشتےکے لیۓ نیچے آنے کا کہہ کر جانے لگی،اس سے پہلے کے وہ دروازہ کھول کر باہر نکلتی زین نے تیزی سے اسکا بازو پکڑا۔۔۔۔
تمھارا دماغ خراب ہے ۔۔۔۔
یہ کیا فضول حرکت تھی۔۔۔
رشل نے کچھ ناں کہا
بلکہ اسکی بات کو فُل اگنور کرتی انجان بن کرادھر ادھر دیکھنے لگی۔۔
تم سے کہہ رہا ہوں ایڈٹ۔۔۔۔۔
اسکے انداز اسے تپانے لگے تھے۔۔۔۔۔زین نے غصے سے کھولتے اسکے دونوں بازو مضبوط گرفت میں جکڑ کرجارحانہ انداز میں جھٹکا دے کرکہا۔۔۔۔۔
اچانک جھٹکے پر رشل نے دونوں ہاتھ اسکے سینے پر رکھ کر خود کو سنبھالا تھا۔۔
تم ٹپوری پولیس والے۔۔۔۔
بڑی ماما سے شکایت کی تھی ناں تم نے میری۔۔۔۔۔۔
ہنہہ،میرے ساتھ پنگا لوگے تو اس سے بھی براکرونگی۔۔۔
ویل،پھپھو آچکی ہیں فٹافٹ نیچے پہچو،۔۔۔۔
اب چھوڑو مجھے۔۔۔۔بے شرم،جاکے شرٹ پہنو،۔۔۔۔۔
پھپھو آپ۔۔۔
زین کے انداز سے وہ نروس ہورہی تھی لیکن شو کیۓ بنا چالاکی سے پیچھے دیکھتی بولی،زین نے فوراً سے اسکے ہاتھ آزاد کیۓ تو وہ زبان چڑاتی تیزی سے وہاں سے نکل گٸی،ہمیشہ کی طرح اسکے مکا رسید کرنا وہ اس بار بھی نہیں بھولی تھی۔
_______________________
وہ کافی وقت سے ایک کیس کی وجہ سے پریشان تھا، تیز قدموں سے لاونج میں داخل ہواتو سامنے رشل دونوں پیر صوفے پر پھیلاٸے ڈراٸے فروٹس کے ساتھ انصاف کرتی ٹی وی دیکھ رہی تھی، چینل سرچ کرتے وہ ایک نیوز چینل پر رک گٸی ،سکرین پر مسخ چہرہ دکھایا جارہا تھا،پوری پاڈی کی بری حالت تھی،اس شخص کو مارنے سے پہلے بہت زیادہ ٹارچر کیا گیا تھا۔۔۔۔رشل ریموٹ ہاتھ میں تھامے منہ کھولے سکرین پر نظریں جماٸے بیٹھی تھی۔۔۔۔جاتے جاتے زین کی نظر پڑی تو وہ بھی کھڑا دیکھنے لگا،ضبط سے اسکی رگیں پھول رہی تھیں،پولیس آفیسر حماد خان کی تصاویر دکھاٸ جارہی تھیں،اس نے اچانک ریموٹ رشل کےہاتھ سے لے کر ٹی وی آف کردیا اور تیز قدم اٹھاتا آگے بڑھنے لگا،تب ہی رشل تن فن کرتی اسکے سامنے آکھڑی ہوٸی ۔۔۔۔۔
تمھیں تمیز نہیں ہے؟؟
کیوں بند کیا ٹی وی؟
لڑنے کا ارادہ کرتی وہ بولی،جبکہ زین اس وقت شدید ذہنی دباو کی حالت میں تھا.۔۔۔اسکا موڈ خطرناک حد تک سنجیدہ تھا…..
رشل..تم آں کرسکتی ہو۔۔۔
سنجیدگی سے وہ مختصر کہتا آگے بڑھا کے دوبارہ رشل آگٸے آکھڑی ہوٸی۔۔۔۔۔
وہ اتنی آسانی سے چھوڑنی والی نہ تھی۔۔۔۔
پتا ہے مجھے ہاتھ سلامت ہیں میرے،کرسکتی ہوں آن!
وہ چڑ کر بولی….
اوکے تو کرلو میرا دماغ نہ کھاو۔۔۔۔۔زین کہہ کر تیسری دفعہ آگے بڑھنے لکا کہ رشل آگے آکر کمر پر ہاتھ ٹکاٸے ایک ہاتھ کی انگلی سے چٹک ی بجاتی بولی۔۔۔ اپنے اندر تھوڑی تمیز لاو ہمیشہ بدتیمزی سے پیش آتے ہو ۔۔۔۔۔
تیسری دفعہ سامنے آکر راستہ روکنے پر زین کا دماغ گھوم گیا،جلدی سے فریش ہوکر وہ یونیفارم چینج کرنے کا ارادہ رکھتا تھا لیکن رشل اسے غصہ دلانے پر تلی تھی۔۔۔۔
اس نے دونوں ہاتھوں کے شکنجے میں اسکے بازو جکڑ کر خود سے قریب کیا تھا۔۔۔۔۔
میرا دماغ خراب مت کرو چلی جاو میرے سامنے سے۔۔۔۔
بدتمیزی میں نہیں کرتا تم انتہا کی بدتمیز ہو۔۔۔۔سچ بولتا وہ اسکےاندر تک کڑواہٹ گھول گیا….شٹ اپ….تم ہو انتہا کے بد تمیز انسان۔۔۔
اسکے ساٸیڈ میں کرنے پر بھی وہ سامنے آتی لڑنے والے انداز میں بولی۔۔۔
تھیک ہے میں تمھیں بتاتا ہوں بدتمیزی کیا ہوتی ہے۔۔۔۔
رشل نے اسے دھکیلنے کی کوشش کی لیکن وہ کچھ اور پاس ہوا….اسکی انگلیاں رشل کے ناذک بازو میں گھس گٸی تھیں۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ کچھ کرتا رشل نے چیخ چیخ کر گھر سر پر اٹھالیا۔۔۔
نماز اور لنچ سے فارغ ہوکر سب سورہے تھے شور سن کر باہر نکلے۔۔۔۔
چھوڑو مجھے…
بڑی ماما یہ مجھے مار رہا ہے۔۔۔۔
وہ لمبے لمبے آنسووں سے روتی ہوٸی ہکا بکا کھڑی بڑی ماما کی طرف بڑھی اتنے میں دادی جان بھی پریشان صورت لیۓ لاونج میں داخل ہوٸیں۔۔۔۔۔۔
زین۔۔۔۔۔۔کیا بدتمیزی ہے یہ..کیا کہہ رہی ہے رشل؟
مامااسے تمیز سکھاٸیں کچھ،فضول میں زبان لڑاتی ہے۔۔۔۔۔۔
زین کشادہ پیشانی پہ بل لٸے تیز تیز قدم اٹھاتا اپنے کمرے میں چلاگیا۔۔۔۔۔۔۔
رشل ہنوز ان سے لگی رونے میں مشغول تھی۔۔۔۔۔
_________
زیب،چائے ۔
شاہزیب بیڈ پر لیپ ٹاپ لیۓ بیٹھا آفس کے کام میں مصروف تھا،نو بجے کا وقت تھا تب سارہ چائے کا کپ لیۓ داخل ہوٸی تو وہ چونک کر اسے دیکھنے لگا،بے اختیار اسکی نگاح وال کلاک کی طرف اٹھی،سارہ مسکراکر اسے کپ تھمانے لگی جسے ناچاہتے ہوٸے زیب نے پکڑ کر ساٸیڈ ٹیبل پر رکھ دیا،اسکے چہرے پر بلا کی سنجیدگی تھی،سارہ کو وہی جمےدیکھ کر اس نے بمشکل ناگواری چھپاٸی۔۔۔۔۔۔
میں سونے لگا ہوں ،زیب کے انداز سے ظاہر تھا وہ اسے جانے کا اشارہ کررہا ہے۔۔۔۔۔
وہ ….زیب مجھے تم سے کچھ ضروری بات کرنی تھی،خیر پھر کبھی سہی۔۔۔۔گڈ ناٸٹ۔۔۔
سارہ ادا سے بولتی چلی گٸی تو زیب سوالیہ انداز میں وہاں دیکھنے لگا جہاں سے گزرکر وہ گٸ تھی۔۔۔۔۔
پھر سر جھٹک گیا۔
____________________________
ہاٸے زین…..
کیسے ہو؟؟
زین کے نظر آتے ہی سارہ نے مسکراہٹ لپ اسٹک زدہ ہونٹوں پر چپکاکر خوش دلی سے کہا،جواباً زین سرسری سا فاٸن یو ٹیل؟کہتا جواب سننے کے لیۓ رکے بنا آگے بڑھ گیا،زین کے ہاتھ میں موجودگلابی گلابوں کا گلدستہ اسکی زیرک نگاہوں سے پوشیدہ نہ رہ سکا تھا۔۔۔۔۔۔
ہاااااہ…..یہاں دال نہیں گلنے والی۔۔۔۔۔اس رشل چڑیل کا عاشق ہے ہینڈسم۔۔۔۔۔۔۔سارہ خود کلامی کرتی ٹھنڈی سانس بھرتی آگے بڑھ گٸی۔۔
_________________________
اس دن کے جھگڑے کے بعد سے رشل نے زین سے بات نہیں کی تھی،وہ جان بوجھ کر چھیڑتا تب بھی فل اگنور کرتی آگے بڑھ جاتی،یہی بات زین کو کھٹک رہی تھی۔۔۔۔
_____________________________
انکی کار مشہور شاپنگ مال کے سامنے رکی۔۔۔۔
نازنین کی رخصتی طے ہوگٸ تھی جسکے لیۓ شاپنگ کرنی تھی کب سے رشل نے شاپنگ شاپنگ کا شور مچارکھا تھا،زین آج فری تھا تو بڑی ماما نے اسے رشل کو لے جاکر شاپنگ کرانے کا آرڈر جاری کردیا۔۔۔۔۔
زین کا موڈ کچھ آف تھا کیونکہ رشل نے کل اسکے لاٸے پھول اسکے سامنے ڈسٹ بن کی نظر کردیۓ تھے،جس پر اسکا دماغ گھوماہوا تھا۔۔۔۔۔۔
جناب شاہ زین تیمور صاحب،آپ زمین پر قدم رنجا فرماٸیں گے یاں ہمارے پھول قبول نہ کرنے کے غم میں یہیں بیٹھے بیٹھے ضائع ہوجاٸیں گے۔۔۔۔۔
سٹیرنگ تھامے زین اسکے کار سے اترنے کا منتظر تھا جب وہ ڈراماٸ انداز میں بولی۔۔۔۔۔۔
دس منٹ میں فٹافٹ آو میں انتظار کررہا ہوں۔۔۔۔۔
زین اسکی اداکاری نظر انداز کرتا وہ بات کہہ گیا جس کا ہونا ناممکنات میں شامل تھا،یعنی کےشاپنگ وہ بھی رشل کی……اور دس منٹ میں۔۔۔
کیا مطلب تم نہیں چل رہے؟
رشل حیرت سے ابرو اچکاٸے پوچھ بیٹھی۔۔۔۔۔”نہیں”۔۔۔
یک لفظی جواب پر رشل ناک چڑھاتی اسکے ایٹیٹیوڈ پر لعنت بھیجتی باہر نکل کر آگے بڑھ گٸی۔۔۔
کچھ دیربعدزین کے موبائل پر کال آنے لگی،انسپکٹر دلاور کا نام سکرین پر نظر آیا تو وہ یس کا بٹن دباتا موبائل کان سے لگاگیا۔۔۔۔۔
سلام اور خیریت دریافت کرنے کے بعد جو انفارمیشن اس نے دی وہ زین کو الرٹ کرگٸی۔۔۔۔۔انسپکٹر دلاور کے مطابق آغا کے دو آدمی ان دنوں خاص مقصد کے لیۓ علاقے میں موجود تھے،اور انکا خاص مقصد ایس پی شاہ زین اچھی طرح جانتا تھا۔۔۔۔۔۔
کچھ دنوں پہلے تواتر سے ہونے والے کڈنیپنگ کیسزکی انکوائری پر اسے انفارميشن ملی تھی کہ یہ ایک گینگ ہے جس کی سرپرستی آغا نامی شخص کررہا ہے،یہ لوگ لڑکیوں کی سمگلنگ میں ملوث تھے۔۔۔۔۔
کالج یونیورسٹی کی لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد تیزی سے لاپتہ ہوٸی تھی۔۔۔۔
زین کو ضروری میٹنگ بلانی تھی جس میں اپنی سپیشل ٹیم سے اسے کافی کچھ ڈسکس کرنا تھا۔۔۔۔۔
اس نے ہاتھ میں پہنی رسٹ واچ پر ٹائم دیکھا ،شام کے ساڑھے پانچ بج رہے تھے،رشل کو گٸے تقریباً پون گھنٹہ گزرچکا تھا،وہ خراب موڈ کے ساتھ کار لاک کرکے رشل کو دیکھنے آگے بڑھ گیا۔۔۔۔اسکا ارادہ جلد سے جلد آفس پہچنے کا تھا۔۔۔۔۔لیکن رشل کے آنے کے دور دور تک کوٸ امکان نہ تھے شہر کے حالات کو دیکھتے ہوٸے وہ اسے اکیلے چھوڑ کر جا نہیں سکتا تھا۔۔۔۔۔
مختلف سوچوں میں گم انٹرنس سے اندر داخل ہوا عین اسی لمحے رشل ڈھیر سارے شاپنگ بیگز تھامے گلاس ڈور دھکیلتی باہر نکلی،زین دوسرے ڈور کی وجہ سے اسےدیکھ نہ سکا تھا اور اس وقت رشل کے مطلب کی شاپس یعنی جیولری ،شوز ڈریسز کی مختلف شاپس پر اسے ڈھونڈرہا تھا،اسکا پارہ ہاٸی ہوتا جارہا تھا۔۔
___________________________
رشل مگن سی کار کے پاس آٸی تو وہ لاک تھی۔۔۔۔
لو اب یہ پولیس والا کہاں چلاگیا۔۔۔۔کوفت کے عالم میں اسکے منہ سے نکلا،اس نے سارے بیگز کار کی چھت پر رکھے اور خود بونٹ پر چڑھ کر بیٹھی اسکا انتظار کرنے لگی،اسے بمشکل چار پانچ منٹ ہی وہاں بیٹھے گزرے تھے کہ دو لڑکے اسکے پاس چلے آٸے۔۔۔۔
“Hi baby”
رشل نے آنکھیں نکال کر غصے سے دونوں لفنگوں کو دیکھااور آگے بڑھنے لگی تب ان میں سے ایک چھلانگ لگاکر اسکے سامنے آیا۔۔۔
کہاں جارہی ہو بیوٹیفل۔۔۔
وہ نظروں سے سرتاپا اسکا پوسٹ مارٹم کرتا بولا تو رشل کا دماغ گھوم گیا۔۔
“تمھاری اماں بھاگ گٸی تھی اسکو ڈھونڈنے جارہی ہوں”
وہ لٹھ مار انداز میں بولتی آگے بڑھنے لگی تب اسی لڑکے نے اسکا بازو پکڑ لیا۔۔۔
“ڈال گاڑی میں”
وہ مزاحمت کرتی رشل کو پکڑے بولا،دوسرا لڑکا اسکا اشارہ سمجھ کر اسکی طرف بڑھا،دہشت سے رشل کا چہرہ سفید پڑنے لگا تھا۔۔۔
وہ لوگ اسے کڈنیپ کرنے والے تھے۔۔۔۔تب ہی اسے دور سے آتا زین دکھاٸی دیا،اچانک وہ پوری قوت سے اس لڑکے کے ہاتھ پر کاٹ کر اسے دھکیلتی زین کی طرف بھاگی۔۔۔۔۔
زین نے ٹھٹھک کر صورت حال سمجھنے کی کوشش کی۔۔۔۔۔
ز…زین ان لوگوں نے…مجھے کڈنیپ کرنے کی کوشش کی۔۔وہ ایک سانس میں جلدی سے بولی،اسکا خیال تھا زین ابھی ان دونوں لڑکوں کی طبیعت سیٹ کردے گا لیکن اسکی حیرت کی انتہا نہ رہی جب وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔۔
“او ہیرو”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: