Hisar e Ishqam Novel by Pari Saa – Episode 3

0
حصارِ عشقم از پری سا – قسط نمبر 3

–**–**–

چل نکل ادھر سے”
دونوں میں سے ایک بولا تو زین پاس کھڑی جیپ سے ٹیک لگاکر پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے ٹانگوں کو کراس کی شکل دے کر کھڑا ہوگیا۔۔۔۔
“زین مارو انہیں”
وہ اسکا بازو جھنجھوڑتی غصے سے بولی۔۔۔۔
“ان لفنگوں سے بھی برا ہوں میں،اکورڈنگ ٹو یو”
وہ آنکھیں چھوٹی کیۓ بولا تو رشل کو جھماکے سے کچھ دن پہلے غصے میں اپنے کہے الفاظ یاد آٸے۔۔۔۔
سوری ،تم بہت اچھے ہو۔۔۔
پلیز……
وہ آنکھیں میں التجا لیۓ بولی،تب ہی وہ لڑکا اسکا بازو پکڑے کھینچتا ہوا کچھ دور کھڑی ویگن کی طرف لے جانے لگا۔۔۔۔۔
رشل زور زور سے چیخ رہی تھی۔۔۔۔۔آس پاس لوگوں کا جھمکٹا سا لگنے لگا تھا۔۔۔۔
زین نے لمحہ کی تاخیر کیۓ بنا دوڑتے ہوٸے اس لڑکے کی کمر پر لات ماری۔۔۔۔۔دوسرا لڑکا ویگن سے لوہے کی راڈ نکال لایا۔۔۔۔۔۔
“لڑکی کو چھوڑ اور نکل”
وہ لڑکا بولتا ہوازین پر چھپٹا زین نے اسے قابو کرکے نیچے پٹخا اور اسی راڈ سے اسکی اچھی خاصی تواضع کردی۔۔۔۔۔
کمر پہ بھاری لات پڑنے کی وجہ سے لڑکھڑاتے اس لڑکے کو رشل نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوٸے نوکیلی انگوٹھی والے ہاتھ کا پنچ منہ پر رسید کیااور بھاگ کر زین کے پاس جاکھڑی ہوٸی۔۔۔یہ انگوٹھی اس نے ایسے ہی موقع پر استعمال کرنے کے لیۓ پہن رکھی تھی۔۔۔۔۔
زین اب طبیعت سے ان دونوں کی ٹھکاٸی کررہا تھا اور رشل اطمينان سے پاس کھڑی جیپ پہ چڑھ کر بیٹھی گاہے بگاہے اسے داد سے نواز رہی تھی۔۔۔۔
وہ دونوں لڑکے ادھ مرے زمین پر پڑے کراہ رہے تھے۔۔۔۔
ان میں سے ایک کا موبائل رنگ ہوا تو زین نے اٹھاکر دیکھا۔۔۔۔۔
“A D calling “
زین کی چھٹی حس کچھ کہہ رہی تھی۔۔۔
اسے آفیسر حمادخان کے الفاظ یاد آٸے”یہ بہت بڑا گینگ ہے جس کے اوپر آغا دلاور کا ہاتھ ہے۔۔۔۔”
سیکیورٹی گارڈکے ٹانگ اڑانے پر زین نے اپنا کارڈ نکال کر اسکی نظروں کے سامنے کیا۔۔۔۔۔اور ناپسندیدہ نظروں سے آس پاس کی بھیڑ کو دیکھا۔۔۔
گارڈ نے کارڈ دیکھتے سٹپٹا کر سلیوٹ مارا۔۔۔۔۔۔
اگلے ہی لمحے سو ری سر۔کہتا وہ زین کا اشارہ سمجھ کر سب کو ہٹانے لگا۔۔۔۔
چلو …..اپنا کام کرو راستہ چھوڑو۔۔۔۔۔۔۔
چند لمحوں میں ہی بھیڑ چھٹ چکی تھی۔۔۔۔۔
کسی کو متوجہ نہ دیکھ کر زین ان دونوں لڑکوں کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔۔
“وااااااہ میرے ہیرو”
اب چلیں؟
رشل اسکے پاس آتی تعریفی انداز میں بولی۔۔۔۔L
ہمممم تم کار میں جاکر بیٹھو میں آتا ہوں پانچ منٹ میں۔۔۔۔۔
کہاں جارہے ہو؟
رشل نے حیرت سے سوال کر ڈالا۔۔۔۔۔
آرہا ہوں یار پانچ منٹ میں،تم جاو۔۔۔۔اس نے سرسری سا لہجہ اپناٸے رشل کو کار کی چابی تھماٸی تو وہ چابی لیۓ کندھے اچکاتی آگے بڑھ گٸی۔۔۔۔انکی کار یہاں سے کچھ فاصلے پر پارک تھی۔۔۔۔
اب زین تسلی سے ان دونوں کی طرف بڑھا جو نگڑاتے ہوٸے اپنی ویگن کی طرف بڑھ رہے تھے۔۔۔۔۔
زین نے دونوں کو اندر دھکیلا اور خود بھی بیٹھ کر دروازہ بند کیا۔۔۔۔۔
کیا چاہیۓ سر؟جانے دو ہمیں۔۔۔۔
وہ دونوں ناسمجھی سے اسے دیکھتے گڑگڑانے لگے۔۔۔۔
زین کی آنکھوں میں خطرناک حد تک چھاٸی سرد مہری انہیں کچھ اور ہی کہانی سنارہی تھی۔۔۔۔۔
دونوں میں سے ایک نے نظر بچاکر موبائل نکالنا چاہا لیکن زین کی زیرک نگاہوں سے بچ نہ سکا۔۔
“آغا کے کتوں”
زین کی چھٹی حس کے مطابق یہی اسکا ٹارگٹ تھے جنکی مدد سے وہ اپنے ہدف کے مزید قریب پہچ سکتا تھا۔۔۔۔اس نے سرد لہجے میں کہتے ہوا میں تیر چلایا جو سیدھا نشانے پرلگا،ان دونوں لڑکوں کی بدلتی رنگت اسکے خیال پر تصدیق کی مہر ثبت کرگٸی تھی،کوٸ ہوشیاری کی تو یاد رکھنا ایس پی شاہ زین ملک
کے لیۓ تمھیں زندہ دفنانا بڑی بات نہیں ہوگی۔۔۔
زین نے سرد لہجے میں وارن کرتے انکے موباٸل فونز مختلف کارڈز سمیت سارا سامان پاس پڑے بیگ میں ڈالا۔۔۔۔ دونوں کے ہاتھ پیرباندھنے کے بعد ٹیپ لگاکر انکے منہ بند کیۓ،یہ سارا سامان انکی گاڑی میں اسے آسانی سے مل گیا تھا۔۔۔۔
دونوں کو پچھلی سیٹ پر پھینک کر باہر نکل کر اس نے دروازے لاک کیۓ اور تیزی سے اپنی گاڑی کی طرف بڑھتا کوٸ نمبر ملانے لگا،ایمرجنسی کا کہہ کر اس نے پانچ منٹ میں ڈرائيور کو آنے کا کہا اور کار کی کھڑکی پر جھکا،جہاں رشل اطمينان سے بیٹھی گیم کھیلنے میں مصروف تھی۔۔۔۔
“رشل میری بات سنو”۔۔۔۔
کچھ دیر میں ڈرائيور آرہا ہے تم اسکی ساتھ سیدھی گھر جانا مجھے ضروری کال آٸی ہے ایمرجنسی ہے اوکے۔۔۔۔
اسکے اچانک آکر بولنے پر رشل چونک اٹھی تھی۔۔۔۔
“سمجھ گٸیں”؟
زین نے سوالیہ انداز میں اسے دیکھا۔۔۔۔
ہاں مگر تم…..
یار مجھے ایمرجنسی میں جانا پڑرہا ہے تمھیں پتا ہے میرا کام ایسا ہے۔۔۔۔۔
رشل کی بات کاٹ کر وہ عجلت میں بولا۔۔۔۔۔۔
اوکے میں چلی جاونگی۔۔
رشل سمجھ کر سراثبات میں ہلاگٸ۔۔۔۔۔
کچھ دیر میں ڈرائيور آجاٸے گا کال کردی ہے ،ٹیک کیٸر!
وہ تیزی سے آگے بڑھ گیا۔۔۔۔۔
جبکہ رشل ڈرائيور کا انتظار کرنے لگی۔۔۔۔
___________________________
زین ان دونوں کو انکی گاڑی میں لیۓ اپنے پرانے فارم ہاوس پہچ چکا تھا۔۔۔۔۔۔
دونوں کو زیر زمین تہہ خانے تک لے جانے میں اسے کوٸ دقت نہ ہوٸ۔۔۔چوکیدار کو آتے ہی اس نے کچھ ضروری سامان لینے کے بہانے باہر بھیج دیا تھا۔۔۔۔
آغاکے بارے میں جو کچھ جانتے ہو بتادو،ورنہ تم سوچ بھی نہیں سکتے تمھارے ساتھ کیا ہوگا،تمھارے پاس آدھا گھنٹہ ہے۔۔
تہہ خانے کا دروازہ لاک کرتا وہ باہر آکر فریش ہونے چل دیا،وہ پرامید تھا کہ اسے کچھ نہ کچھ انفارميشن ضرور ملے گی اگر سیدھی طرح وہ لوگ نہ بتانے تو اسے اپنے طریقے سے سب اگلوانا آتا تھا۔۔
وہ فریش ہوکر کچن میں گیا۔۔۔دو سینڈوچ اور ایک کپ کافی بناٸے کاوچ پر ریلیکس بیٹھا کھانےلگا،یہ ایک گھر تھا جو اس نے گھروالوں کے علم میں لاٸے بغیر خریدا تھا،سیکیورٹی کے چکر میں پڑے بنا اس نے یہاں صرف ایک ادھیڑ عمر آدمی کو رکھا ہوا تھا جو چوکیداری کے ساتھ ساتھ دوسرے کام بھی کرتا تھا۔۔۔
۔۔۔وہ آدمی بھی اس بات سے لا علم تھا کہ نیچے ایک تہہ خانہ ہے جسکا دروازہ زین کے پرسنل روم
میں تھا۔۔۔
_________
بڑی پہچی ہوٸی چیز ہو لڑکی۔۔۔۔۔
بڑے پاپا اور اور پاپا کے لیۓچاٸے لے جاتی نازنین کا راستہ سارہ نے روکا جس پر وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔
“کیا مطلب آپکا”
زیادہ بھولی مت بنو سمجھی،شاہزیب کو تم نے خوب پھنسارکھا ہے۔۔۔۔بیچارہ شرما شرمی میں کچھ کہہ نہیں رہا ورنہ تمھیں نہیں معلوم وہ کسی اور کو چاہتا ہے ۔۔۔۔۔۔
بڑوں کا فیصلہ مجبوری سمجھ کر نبھارہا ہے بیچارہ۔۔۔
سارہ کی بات پر نازنین حیرت سے گنگ آنکھیں پوری طرح کھولے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔
تم جانتی ہو وہ خود سے کچھ نہیں کہے گااسلٸے تم بھی مت کہنا کچھ،،،اگر اسکی خوشی چاہتی ہو تو رخصتی سے انکار کردو اور طلاق لے لو۔۔۔۔
سارہ نے لوہاگرم دیکھ کر ایک اور ضرب لگائی۔۔۔۔
نازنین میں ہلنے کی سکت بھی نہ رہی تھی ۔۔۔۔۔
“زیب کسی اور سے محبت کرتا ہے”
اس نے پاس پڑی چیٸر کو تھام کر خود کو سہارا دیا۔۔۔۔
سارہ اسکے ہاتھ سے ٹرے لے کر شاطرانہ انداز میں مسکراتی اسکے جھکے سراور بکھرے انداز کو دیکھ کر آگے بڑھ گٸ۔۔۔
چند دنوں میں اسکی رخصتی تھی،یہ بات سارہ سے برداشت نہیں ہوپارہی تھی،شاہ زین کی طرف سے وہ بلکل نہ امید تھی ،وہ اسکی پہچ سے دور تھا،گھاس زیب بھی نہ ڈالتا تھا اسے،اور اس نے براہ راست نازنین کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔۔۔ اسکی اور حمیرا پھپھو کی مشترکہ خواہش تھی کہ سارہ اس گھر میں بہو بن کر آٸے،بچپن میں ہونے والے اس نکاح کو حمیرا بیگم کوٸی اہمیت نہ دیتی تھیں،حالانکہ شاہ زین سے رشل کا نکاح،اور شاہزیب سے نازنین کا نکاح انکے مرحوم باپ کی خوشی اور خواہش تھی جو انہوں نے مرنے سے پہلے اپنے بچوں کے باہمی رضامندی سے پوری کی ،حمیرا بیگم اس وقت کچھ نہ بولیں،لیکن اب وہ شاہزیب یاں شاہزین میں سے کسی ایک کو داماد بنانے کاخواب دیکھے بیٹھی تھیں،وجہ آسمان کی بلندیوں کو چھوتا انکے بھاٸی کا بزنس اور انکے لاٸق فاٸق بیٹے تھے،اپنی اس خواہش کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر وہ سہی غلط کا فرق بھلاٸے بیٹھی تھیں،اپنے بھاٸی کی بیٹیوں اپنے خون کے ساتھ برا کرنے چلی تھیں، سارہ کی اس نٸی سازش میں وہ برابر کی شریک تھیں۔۔۔
_________________________________
اس دن سے وہ چپ چپ رہنے لگی تھی،زیب نبھی محسوس کررہا تھا۔۔۔۔
ناز،وہ کچن میں تھی جب وہ چلا آیا۔۔۔۔۔۔
“ہمممم”
نازنین نے پلٹ کر دیکھا،زیب کو دیکھ کر فوراًرخ پھیرلیا کہیں وہ اسکی بدلتی کیفیت نہ دیکھ لے،وہ اسکی پہلی محبت تھا،ہوش سنبھالتے ہی اپنا نام شاہ زیب کے ساتھ جڑا دیکھا تھا،ہر خواہش ہر خواب ہر خوشی اسی کی ذات سے جوڑ رکھی تھی لیکن یہ حقیقت اسے اندر سے توڑ کر رکھ گٸی تھی کہ وہ کسی اور سے محبت کرتا ہے،سب کو خوش رکھنے کی کوشش میں اپنی خواہشوں کاگلا گھونٹ رہا تھا وہ،”نازنین”۔۔۔۔۔
اب کے اس نےپورا نام پکارا۔۔۔۔
نازنین خود کو کمپوز کرتی مصروف سے انداز میں “جی سن رہی ہوں”بولی۔۔۔
تم ٹھیک ہو،،،،؟
وہ فکرمندی سے بولا،۔۔۔۔۔
ہاں مجھے کیا ہوناہے۔۔۔۔۔؟
اسکے سوال کے جواب میں اس نے سوال داغا۔۔۔۔۔۔
مجھے تم ٹھیک نہیں لگ رہیں کافی دن سے،چپ چپ کیوں ہو،کوٸی پریشانی ہے؟
نازنین نے پیاز کاٹتے جل تھل آنکھیں ہتھیلی سے صاف کیں۔۔۔۔۔۔
“ہر کسی میں تمھارے جیسا صبر نہیں ہوتا زیب،کسطرح اپنا درد چھپاٸے تم سب کو خوش نظر آنے کی کوشش کرتے ہو”
اس نے سوچا لیکن بول نہ سکی۔۔۔۔۔۔
میں ٹھیک ہوں ،اب کے وہ مڑی۔۔۔۔۔۔
“تو رو کیوں رہی ہو؟”
زیب کے سوال کرنے پر اس نے چھری سے پلیٹ میں رکھی پیاز کی طرف اشارہ کیا تو وہ بھی مسکرانے لگا۔۔۔۔
ایک کپ چاٸے مل سکتی ہے۔۔۔
وہ تھکن سے پر لہجے میں بولا۔۔۔۔ “لاتی ہوں”۔۔۔۔
کہہ کر وہ چاٸے کا پانی رکھنے لگی ۔۔
______________________________
تھکا تھکا سا وہ بنا شوز اتارے بیڈ پر اوندھے منہ گر گیا،تھکن سے براحال تھا،اچانک راٸٹنگ ٹیبل کے سامنے دھری کرسی پر نظر پڑی تو جھٹکے سے سیدھا ہوا۔۔۔۔
“تم یہاں”
وہ سارہ تھی جو اسکی کتابوں میں سے ایک کتاب نکالے انہماک سے پڑھنے میں مصروف تھی۔۔۔۔۔۔زیب جتنا بھی دھیمے مزاج کا خوش اخلاق سہی اسطرح اپنے بیڈروم میں بلا اجازت اسے اطمینان سے بیٹھے دیکھ کر اسے سخت ناگوار لگا تھا۔۔۔۔
“ارے تم آگٸے”
وہ خوش دلی سے بیویوں والے انداز میں بولتی زیب کو حیرت میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ تپابھی گٸی۔۔۔۔۔
زیبی،میں رکنے آٸی ہوں ایک ہفتہ،رشل کہیں گٸی ہوٸی تھی اور نازنین کو کچن سے فرصت نہیں ،بور ہورہی تھی تو یہاں چلی آٸی۔۔۔شاہ زیب کے تاثرات سے بے نیاز وہ اپنی بولے جارہی تھی۔۔۔۔۔۔[پتا نہیں کب یہ بلا ٹلے گی۔۔
زیب نے ناگواری سے سوچا،وہ فریش ہوکر آرام کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔۔۔۔
“میں کچھ دیر آرام کرنا چاہتا ہوں”
سارہ کو مزید بک بک کرتے دیکھ کر وہ ضبط سے پیشانی مسلتابولا۔۔
ٹھیک ہے،یہ بک میں لے جاوں؟اچھی ہے۔۔۔۔۔
اسے ٹلتا دیکھ کر اس نے سکون کا سانس لیا۔۔۔۔۔
“لے جاو”وہ بیزار سے لہجے میں بولا،اسکے روم سے نکلتے ہی ڈور لاک کیا اور فریش ہونے چل دیا۔۔
_______________________________
تمھیں کیا ہوا ہے نازو؟
صبح سے کمرہ بند کیۓ پڑی نازنین کے پاس آتی رشل فکرمندی سے بولی۔۔
نازنین اسے دیکھ کر اٹھ بیٹھی۔۔۔۔”مجھے کیا ہونا ہے”۔۔۔۔ایک پھیکی سی مسکان نے اسکے لبوں کا احاطہ کیا۔۔۔۔رشل کو وہ ٹھیک نہیں لگی۔۔۔۔۔اپنی جڑواں بہن کی رگ رگ سے واقف تھی وہ،چہرے کے رنگ پہچان جایا کرتی تھی۔۔
چہرہ دیکھو اپنا کیسے مرجھایا ہوا ہے۔۔۔۔آنکھیں دیکھو ذرا۔۔
رشل بڑی بوڑھی عورتوں کی طرح کھوجتی نگاہیں نازنین کے چہرے پہ گھماتی بولی۔۔۔۔۔
ٹھیک ہوں میں،تمھیں وہم ہورہا ہے یونہی۔۔۔
“یونہی کی بچی،منہ پہ بارہ کیوں بجارکھے ہیں؟”۔۔
وہ اپنے دو منٹ بڑے ہونا کا فائدہ اٹھاتی ڈپٹ کر بولی۔۔۔۔
“مماں یاد آرہی ہیں”۔۔۔۔
نازنین کے گلے میں آنسووں کا پھندا سا پھنسا تھا۔۔۔۔۔
رشل نے بے اختیار اسےاپنے ساتھ لگایا،ماں کی کمی اسے بھی اس موقعے پر شدت سے محسوس ہورہی تھی اتنے رشتوں کے ہوتے ہوٸے بھی،….
یہ حقیقت ہے کہ کوٸ بھی رشتہ ماں کا نعملبدل نہیں ہوتا بھلے سے کتنا مخلص کیوں نہ ہو۔۔۔اسے احساس ہورہا تھا شدت سے کہ۔۔آج اسکی ماں ہوتی تو کبھی ایک ایسے شخص کے لیۓ مجبور نہ کرتی جو اسے پسند ہی نہ تھا،شاہ زین اسے ایک آنکھ نہ بھاتا تھا حالانکہ رشل اسے جب سے پسند تھی جب وہ ایک ناذک سی گڑیا کی طرح جھولے میں پڑی رہتی،چھوٹی سی گڑیا کو اٹھاٸے اٹھاٸے پانچ سالہ زین پورے گھر میں پھرتا رہتا،بڑے ہوتے ہوتے یہ محبت مزید پختہ ہوتی چلی گٸی لیکن رشل کو اس محبت کی کوٸی پرواہ نہ تھی۔۔۔
جبکہ شاہ زیب اور نازنین بچپن کے اس بندھن کو سرمایہ حیات سمجھتے تھے،سنجیدہ اور کم گو طبیعت کے مالک،بلکل ایک جیسی فطرت کے حامل ،ایک دوسرے کی ان کہی محبت سے خوب واقف تھے۔۔۔۔۔۔دادو کی خواہش پر نازنین کی شاہ زیب کے ساتھ باقاعدہ رخصتی ہورہی تھی،ساتھ وہ رشل کی رخصتی بھی چاہتی تھیں لیکن رشل نے وہ واویلا مچایا کہ انہوں نے چپ سادھ لی،سب نے سمجھایا لیکن رشل نہ مانی، انہوں نے رشل کے کان میں بھی بات ڈال دی تھی کہ کچھ عرصے بعد اسے بھی مکمل شاہ زین کے حوالے کردیا جاٸے گا۔۔۔اسکی شادی شاہزین سے ہی ہوگی۔۔۔۔۔۔رشل کلس کر رہ گٸی لیکن وقتی طور پر اس بلا کے ٹلنے پر شکر ادا کیا تھا اس نے۔۔۔
__________________________________
نازنین کی مہندی کی رسم تھی آج۔۔۔۔۔۔شاہ زیب نے نازنین کی خاموشی شدت سے محسوس کی تھی،وہ بھی کھل کر خوش نہیں ہوپارہا تھا،شدید پریشانی کے عالم میں اس نے رشل سے بات کی ،رشل بھی سب محسوس کررہی تھی،نازنین کے کمرے کی طرف بڑھتی وہ مختلف سوچوں میں گم تھی۔۔۔۔۔۔۔دروازہ دھکیلتی وہ اندر آٸی تو نازنین کے پاس دادو بیٹھی تھیں۔۔۔۔۔۔۔وہ نازنین کو دعائيں دے رہی تھیں اور بہت خوش تھیں کہ اس نے انکی خواہش سر آنکھوں پر رکھی۔۔۔۔۔۔نازنین چاہ کر بھی انہیں انکار نہ کرسکی تھی،جھریوں سے بھرا وہ بوڑھا چہرہ اسکی جان تھا،وہ انہیں شاہ زیب کے بارے میں بتانا چاہتی تھی کہ وہ کسی اور سے محبت کرتا ہے،لیکن وہ دادو کو دکھ نہ دے سکی۔۔۔۔۔اسے شاہ زیب کے درد کا بھی بخوبی اندازہ تھا،وہ خود کو ایک جال میں قید محسوس کررہی تھی،کچھ دیر بعد دادو اٹھ کر چلی گٸیں تو رشل نے وہ سوال کرڈالا جسکا اسکے پاس کوٸی جواب نہ تھا۔۔۔۔۔۔۔
نازو تم شاہزیب بھاٸی سے شادی نہیں کرنا چاہتیں؟
وہ کھوجتی نگاہیں نازنین کے پژمردہ چہرے پہ رکھتی بولی۔۔۔۔۔۔۔پیلا لباس وہ کچھ دیر پہلے پہن کر بیٹھی تھی،تھوڑی دیر میں رسم ادا ہونی تھی۔۔۔۔۔۔
“رشل”….
میں شاہ زیب سے محبت کرتی ہوں تب سے جب مجھے محبت کے معنی بھی معلوم نہ تھے۔۔۔۔۔
وہ ہارے ہوٸے انداز میں بولی۔۔۔۔۔
“تو پھر یہ افسردگی،کیسی؟؟”۔۔۔۔۔
رشل نے اسکے ہاتھ اتنے ہاتھوں میں تھام کر پوچھا۔۔۔۔۔۔
میں خوش تھی،بے تحاشا خوش،کیونکہ شاہ زیب خوش تھا،مجھے جیسے کوٸی قیمتی خزانہ ملنے جارہا تھا،تم نہیں جانتی شاہزیب میرے لیۓ کیا ہے۔۔۔۔
وہ محبت سے پر لہجے میں بولی۔۔۔۔۔نگاہیں نیچے کیۓ یقیناً آنسوں پینے کی کوشش کی جارہی تھی۔۔۔
“تم خوش تھیں؟یعنی اب نہیں ہو؟اسکا کیا مطلب ہے؟”۔۔۔۔۔۔
رشل ناسمجھی سے اسکے جھکے سر کو دیکھتی پوچھ بیٹھی۔۔۔
“شاہزیب کسی اور سے محبت کرتا ہے۔۔۔۔
نازنین کی آواز کسی گہری کھاٸی سے آتی محسوس ہورہی تھی۔۔۔۔رشل نگاہوں میں بے یقینی لیۓ اسے گھورنے لگی۔۔۔
یہ کیا کہہ رہی ہو تم؟
میں سچ کہہ رہی ہوں رشل،وہ بچپن میں ہوٸے اس نکاح کا مان رکھ رہا ہے،وہ اپنی خوشی بھلاکر سب کو خوش رکھنے کی کوشش کررہا ہے۔۔۔۔۔تم دیکھو،دادو ،بے پاپا،بڑی ماما بابا سب …..سب کتنے..خوش ہیں۔۔۔۔
آنسوں تیزی سے اسکی آنکھوں سے بہنے لگے تھے۔۔۔۔وہ مزید خود پر بند نہیں باندھ سکی،رشل حیرت کے شدید جھٹکے سےسنبھلتی اسے چپ کرانے لگی۔۔۔۔۔۔
یہ جھوٹ ہے نازو۔۔۔۔شاہزیب بھاٸی تمھیں کتنا چاہتے ہیں۔۔۔۔ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔۔وہ الجھ کر رہ گٸی تھی،اسکا دل و دماغ یقین نہیں کرپارہا تھا لیکن دوسری طرف نازنین کے آنسوں اسے یہ سب سچ ماننے پر مجبور کررہے تھے۔۔۔۔اچانک اکے ایک خیال آیا۔۔۔۔۔۔
نازو یہ سب تم سے شاہ زیب بھاٸی نے کہا ہے؟
“نہیں”..
پھر؟۔۔۔
“مجھے سارہ نے سب بتایا ہے۔۔۔
اسکی بات پر رشل سر تھام کر رہ گٸی۔۔۔۔افف بیوقوف لڑکی،سارہ ڈاٸن تو ویسے ہی ہم سے تپتی ہے،اس نے جھوٹ کہا ہوگا،اس سے تمھاری خوشی دیکھی نہیں گٸی۔۔۔۔۔وہ غصے سے بولی۔۔۔
“ایسے کیسے کوٸی اتنا بڑا جھوٹ بول سکتا ہے ؟”۔۔۔۔۔
نازنین یقین کرنے کو تیار نہ تھی۔۔۔
تم مانو یاں نا مانو،،یہ اس ڈاٸن کی کوٸی سازش ہے یار۔۔۔
نازنین بھیگی پلکیں ہتھیلی سے صاف کرتی اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کیا سچ ہے کیا جھوٹ۔۔۔۔اسی اثنا میں بڑی ماما کمرے میں داخل ہوٸیں۔۔۔۔
نازنین ابھی تک تیار نہیں ہوٸیں بیٹا؟
سب آچکےہیں،رسم شروع کرنی ہے ،رشل گڑیا جلدی سے بہن کو نیچے لاو۔۔۔
“جی اچھا”
انکے کہنے پر رشل وال کلاک پر نگاہ دوڑاتی اٹھ کھڑی ہوگ ٸی۔۔۔۔
________
ہمیں کچھ نہیں پتا،ہم تو صرف یونہی اس لڑکی کو…
زین کا مکا اسے کراہنے پر مجبور کرگیا،وہ اسکی ہر بات کی نفی کررہے تھے اور ہر بار ایک مکا انکا تھوبڑا سجارہا تھا۔۔۔تنگ آکر زین اٹھا اور باہر نکل گیا۔۔۔
کچھ دیر بعد آیا تو ہاتھ میں ایک لوہے کی راڈ تھی،ان دونوں کے سامنے دھری کرسی پر بیٹھتے اس نے اطمینان سے لاٸٹر نکالا اور راڈ کی نوک اس پر رکھی۔۔۔۔
چند لمحوں میں وہ باریک سا لوہا گرم ہوگیا تھا۔۔۔۔۔
ان دونوں نے تھوک نگلا۔۔۔۔۔
“تم کچھ نہیں جانتے”
اس نے ایک بے تاثر نگاہ ان میں سے ایک پر ڈالی۔۔۔۔
“نن….نہیں”
زین نے لاٸٹر بند کیا اور گرم سلاخ اس لڑکے کے ہاتھ کے دو انگلیوں کے بیچ رکھ کر انگلیاں پوری طاقت سے دبادیں۔۔۔۔۔۔وہ چیخنے لگا تھا۔۔۔۔۔اسکے دوسرے ساتھی کا چہرہ زرد پڑنے لگا تھا خوف سے۔۔۔۔
بتاتا ہوں….بت بتاتا ہوں….
وہ تیزی سے بولا تو زین نے اسکاہاتھ آزادکردیا۔۔۔۔۔۔
ہم صرف لڑکیاں اغوا۶ کرکے آغا کو دیتے ہیں،باقی ہمیں کچھ نہیں پتا۔۔۔۔
زین نے ایک سرد نظر اس پر ڈالی۔۔۔۔۔۔اڈا کہاں ہے اسکا۔۔۔۔۔
ایک آدمی آتا ہے اور کسی بھی سنسان جگہ ہم سے لڑکیاں لے جاتا ہے،منہ چھپاہوتا ہے ہر دفعہ…اور ہر دفعہ جگہ بھی الگ ہوتی ہے۔۔۔۔وہی ہمیں ہماری پیمنٹ مل جاتی ہے ،ہمارا کام یہیں تک ہے۔۔۔
زین پرسوچ انداز میں آنکھیں بند کیۓ پیشانی مسلنے لگا۔۔۔۔۔اگلے ہی لمحے اس نے ان لڑکوں کے سامان سے موبائل نکالا اور ایک ہاتھ کھول کر موبائل اس کے ہاتھ میں دیا۔۔۔۔۔۔
اسے میسج کرو،لڑکی لے کر تم لوگ آرہے ہو۔۔۔۔۔زین کے ہاتھ میں پسٹل دیکھتے اس نے میسج ٹاٸپ کرکے سکرین زین کی طرف کی اور “اے ڈی” نامی کانٹیکٹ پر سینڈ کردیا۔۔۔۔۔۔۔چند لمحوں بعد ہی کال آنے لگی۔۔۔۔۔۔زین نے پسٹل اسکی کنپٹی پر رکھی اور بات کرنے کو کہا۔۔۔۔۔۔
اس لڑکے نے یس کرکےموبائل کان سے لگایا۔۔۔۔۔
اوکے سر۔۔۔۔۔دوسری جانب سے کال کاٹ دی گٸی۔۔۔۔
کل دوپہر دو بجےوومن ہاسٹل کے پیچھے انہیں لڑکی لانے کا کہا گیا تھا۔۔۔
زین جانتا تھا اب اسے کیا کرنا ہے۔۔۔۔۔۔دروازے کے پاس وہ ایک لمحے کو رکا پھر باہر نکلتے دروازہ لاک کرتا اوپر کی جانب جاتی سیڑھیوں پر قدم دھرتا باہر نکل گیا۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: