Hisar e Ishqam Novel by Pari Saa – Episode 4

0
حصارِ عشقم از پری سا – قسط نمبر 4

–**–**–

زین ان دونوں کو پولیس اسٹیشن لے آیاتھا،اس وقت اسکے دو خاص آفیسرز اسکے سامنے بیٹھے اسکی بات غور سے سن رہے تھے،پورا پلان ترتیب دیا جاچکا تھا،دو بجنے میں ابھی وقت تھا۔۔۔۔۔۔
تب تک کے لٸے وہ لاک اپ کا دروازہ کھولتا ان دونوں کے سامنے جابیٹھا۔۔۔۔۔۔
سر پلیز سر اب ہمیں جانے دو ہم نے سب بتاتو دیا،ہمارے پیرینٹس پریشان ہونگے۔۔۔۔۔
اسے دیکھتے ہی ان میں سے ایک بولا۔۔۔۔۔۔زین نے ابرو اٹھاکر اچھنبے سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔۔۔بڑاخیال ہے ماں باپ کا،ماں باپ سے چھپ کر لڑکیوں کو اغوا۶ کرکے بیچتے رہے تب انکا خیال نہ آیا؟ براٸی چھپتی نہیں ہے۔۔۔۔۔
انسپکٹر زوار۔۔۔۔۔۔
اشارہ کرتا وہ نکل گیا۔۔۔۔۔انسپکٹر دلاور نے اچھی طرح دونوں کو آج کے پلان کے بارے میں سمجھادیا تھا۔۔
_________________________________
یہ ایک سنسان جگہ تھی جہاں لوگوں کی آمدو رفت نہیں تھی، کار کےٹاٸر چرچراٸے اور کار رکنے پر وہ دونوں لڑکے باہر فہد کے ساتھ باہر نکلے،ان سے کچھ فاصلے پر ایک اور کار رکی،اور اس میں سے ایس پی شاہ زین،انسپکٹر زوار اور وکی سوار تھے،وکی اور فہد شاہ زین کے ساتھ کٸیں مشنز پر کام کرچکے تھے،اور اسکی سپیشل ٹیم کا حصہ تھے،پلان سب کے باہمی مشورے سے طے پایا تھاجسے کامیاب کرنے کے لیۓ انہیں چوکنا رہنا تھا۔۔۔۔
دشمن کمزور نہیں تھا وہ جانتے تھے۔۔۔
چند منٹس ہی گزرے تھےکہ ایک بلیک کار آکے رکی،اس میں سے ایک آدمی نکلا جس نے سیاہ رومال سے چہرہ چھپارکھا تھا،اس نے ان دونوں کے ساتھ اجنبی لڑکے کو دکھاتو پوچھ بیٹا۔۔۔”یہ کون ہے”۔۔۔
یہ ہمارے ساتھ کام کرنا چاہتا ہے۔۔۔۔۔ان دونوں لڑکوں میں سے ایک بولا،ٹھیک ہے آغا صاحب کو اطلاع دے دی جاٸے گی۔۔۔۔۔لڑکی کہاں ہے؟
اب کے وہ دونوں چپ تھے۔۔
“لڑکی کہاں ہے؟”…
وہ نقاب پوش چباچباکر بولا،۔۔۔
ان دونوں کے کپڑوں میں ماٸکروفون،کیمرہ اور ٹرانسمیٹر لگا تھا۔۔۔
اچانک فہد نے اچھل کر ایک لات اس نقاب پوش کے منہ پر رسید کی،وہ نیچے گر پڑا تو شاہ زین اور باقی لوگ انکی طرف بڑھنے لگے،سچویشن انکے کنٹرول میں تھی،وہ نقاب پوش پے درپے مکے لاتیں کھاکر ادھ مرا ہوگیا تھا،شاہ زین نے اسے اٹھاکر گاڑی میں ڈالنے کااشارہ کیا اور واپس چل دیا۔۔
_______________________________
کہاں ہو تم آج کل…؟
شاہ زین گاڑی پورچ میں روک کر جیسے ہی نکلا سامنے کین کی کرسی پر بیٹھے شام کا اخبار پڑھتے اسکے بابا پوچھ بیٹھے،کی چین گھاماتا وہ وہی چلا آیا۔۔۔۔مصروف تھا،آپ جانتے ہیں میری جاب ایسی ہے۔۔۔
ارے تو موٸی پولیس کی نوکری کرن کا مشورہ تمھیں کس گدھے نے دیا تھا،ہروقت غائب رہتے ہو،غضب خدا کا بھاٸی کی رسم میں شامل نہ ہوٸے اب شکل دکھارھے ہو۔۔۔
دادو نے اسے اچھی طرح جھاڑ پلاٸی۔۔۔۔۔تو وہ کھسیانا سا ہوکر میگزین اٹھاکر چہرہ چھپاٸے مصروف ہوگیا۔۔۔۔ساتھ چاٸے کے کپ لے جاتی ملازمہ کو ایک کپ چاٸے لانے کو کہا۔۔
دادو جان کو جیسے تیسے مناکر وہ اندر کی جانب قدم بڑھاگیا،فریش ہوکر کچھ دیر آرام کرنے کا ارادہ رکھتا تھا پھر اسے ایک ضروری کام بھی نبٹانا تھا۔۔
________________________________
رشل دیکھ رہی تھی کہ شاہ زین کب سے اسے سنجیدگی سے گھورہا ہے،اسے وہ کچھ مختلف لگا،ڈنرسے فارغ ہوکر وہ روم میں چلی آٸی شاہ زین کی نگاہیں اسے پریشان کررہی تھیں۔۔۔۔۔وہ الجھی الجھی سی سوچنے لگی،کیا وہ مجھ سے ناراض ہے؟
“میں کیوں اسکی ناراضی کی پرواہ کرنے لگی دفعہ کرو”
اپنی سوچ پہ خود ہی لعنت بھیجتی وہ نازنین کے پاس سے ہوکر اپنے روم میں آگٸی۔۔۔۔
سونے سے پہلے وہ مطالعہ کرنے کی عادی تھی اور بس وقت بھی گلاسس لگاٸےکتاب گود میں رکھے مطالعے میں مصروف تھی جب زین دندناتا ہوا اندر داخل ہوا۔۔۔۔۔رشل نے غصیلی نظروں سے اسے دیکھا تو وہ اسے ہی گھوررہا تھا۔۔۔
“کیا مسٸلہ ہے تمھیں شام سے گھورے جارہے ہو؟”…
اسکے بولنے پر زین کا دل چاہا دو لگاٸے۔۔۔۔
اسے دادو کی زبانی علم ہوا تھا کہ رشل نے رخصتی سے منع کردیا تھا صرف وقتی نہیں،وہ رخصتی چاہتی ہی نہیں تھی،سب کو اس بات پر اعتراض تھا لیکن رشل نے یہ کہہ کر چپ کرادیا کہ زندگی میری ہے،میرا حق ہے فیصلہ کرنا،مجھے زین قبول نہیں۔۔۔۔۔وہ نکاح بچپن میں ہوا تھا جب وہ چھوٹی تھی۔۔۔
زین کا دماغ تب سے گھوما ہوا تھا،رشل پر اسے بہت غصہ آرہا تھا،وہ جان دیتا تھا اس پر اور ایک وہ تھی جسے کوٸی پرواہ ہی نہ تھی،گویا شاہ زین محبت فضول تھی اسکی نظر میں۔۔۔۔
تم نے رخصتی سے کیوں منع کیا؟۔۔۔۔۔۔
وہ کڑے تیوروں سے گھورتا پوچھنے لگا۔۔۔۔اسکے انداز پر رشل بھی اچھا خاصہ تپ چکی تھی۔۔۔۔۔
“میری مرضی”
وہ ناک چڑھا کر بولی۔۔۔۔
“تمھاری مرضی کی ایسی کی تیسی”
زین نے جارحانہ تیور لیۓاسے بازو سے پکڑ کر اپنے مقابل کیا۔۔۔۔
میری بات کان کھول کر سن لو،میں تمھیں کسی قیمت پہ نہیں چھوڑونگا سمجھی،نکاح ہوا ہے ہمارا کوٸی مزاق نہیں ہے۔۔۔۔تیاری پکڑو رخصتی کی۔۔۔۔۔
اپنی بات ختم کرتا وہ مڑکر جانے لگا۔۔۔۔
“مجھے طلاق چاہیۓ”رشل حلق کے بل چلاٸی تھی۔۔۔شاہ زین کے بڑھتے قدم ساکت ہوگٸے،وہ گھوم کر اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔۔۔”کیا چاہٸے؟”۔۔۔۔
اسکی طرف قدم بڑھاتے وہ سرد لہجے میں بولا،اسکی آنکھوں میں ایسا کچھ تھا کہ رشل ڈر کر دو قدم پیچھے ہٹی!
شاہ زین آگے بڑھتا اس سے دو قدم کے فاصلے پر رک کرضبط سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔۔۔ رشل ہمت مجتمع کرکے اسکی آنکھوں میں دیکھتی بولی۔۔۔ ۔۔۔مجھے…طلاق….چاہیۓ سمجھے تم..پیچھے ہوتے ہوتے وہ دیوار سے لگ چکی تھی،اسکی بات سیدھی زین کے دماغ پر لگی۔۔۔۔اس نے پوری قوت سے رشل کے برابر دیوار پر ہاتھ مارا،وہ جتنی بہادر سہی لیکن اس وقت کانپ اٹھی ،اس نے زندگی میں پہلی بار زین کو اتنے غصے میں دیکھا تھا۔۔۔۔
میری بکواس تمھیں سمجھ نھیں آٸی رشل۔۔۔۔۔؟
دوبارہ یہ لفظ تمھاری زبان پر آیا تو زبان کاٹ دوں گا۔۔۔۔
وہ دھمکی آمیز لہجے میں اسکی آنکھوں میں دیکھتا بولا۔۔۔۔۔۔رشل کے صبر کاپیمانہ لبریز ہوگیا تھا۔۔۔۔۔وہ ہذیانی انداز میں اس پر جھپٹی۔۔۔۔۔تم مجھے پسند نہیں ہو سنا تم نے؟نہیں کرنی مجھے تم سے شادی،نہیں کرنی،طلاق چاہیۓ مجھے۔۔۔۔۔وہ زین کی شرٹ کے کالر انگلیوں میں جکڑے چلارہی تھی۔۔۔۔۔
زین نے اپنے گریبان سے اسکے دونوں ہاتھ پکڑ کے ہٹاٸے اور کمر کے گرد باندھ دیۓ،وہ بن جل کی مچھلی کی طرح تڑپنے لگی،اپنی بانہوں میں قید اس چھوٹی سی لڑکی کو زین نے ضبط سے دیکھا،نجانے کیوں وہ ایسا کررہی تھی اسکے ساتھ۔۔۔۔۔
“اتنی نفرت کرتی ہو مجھ سے؟ کیوں رشل….”وہ سرسراتے لہجے میں بول رہا تھا۔۔۔۔۔۔،چھوڑو مجھے۔۔۔۔۔۔
ہاں کیونکہ تم ہو نفرت کے قابل،مرجاونگی میں لیکن تمھیں اپنی زندگی میں شامل نہیں کرونگی۔۔۔۔۔۔
اپنی کمر کے پیچھے اسکے مضبوط ہاتھوں کی گروفت میں قید اپنی کلاٸیاں آزاد کرانے کی ناکام کوشش کرتی وہ پھنکاری۔۔۔۔۔
میں خود تمھیں اپنی زندگی میں شامل کرلونگا،تم فکر مت کرو۔۔۔۔۔اسکی بے بس ناکام کوشش پر آپ ہی آپ شاہ زین کے لب مسکرانے لگے۔۔۔۔۔رشل کا خون جل کر خاک ہوگیا،پتا نہیں فولاد کا بنا تھا شاید وہ۔۔۔۔۔۔تھک ہار کر اس نے خود کو چھڑانے کی کوشش ترک کردی،اسکا سانس پھولنے لگا تھا،کلاٸیاں شاید سرخ پڑگٸی تھیں اسکے آہنی شکنجے میں۔۔۔۔۔
زین،کوٸی فاٸدہ نہیں اس سب کا،میں کہہ چکی ہوں کہ میں تم سے شادی نہیں کرونگی۔۔۔۔۔
“شادی تو ہوچکی ہے میری جان”
وہ دلکشی سے مسکرایا،کچھ دیر پہلے والا غصہ اسے نزدیک دیکھ کر جھاگ کی مانند بیٹھ گیا تھا،وہ فضول میں اس پر اپنی تواناٸیاں ضائع کررہا تھاوہ کچھ بھی تو ہیں تھی اسکے سامنے،اس نے بے بسی کی تصویر نظر آتی اس جیتی جاگتی گڑیا کو آنکھوں میں بھرا۔۔۔۔۔
سب جانتے ہیں تم مجھے پسند نہیں ہو۔۔۔۔۔
وہ چباچباکر بولی۔۔۔۔۔
“مجھے فرق نہیں پڑتا”
وہ دلکشی سے مسکرادیا۔۔۔۔
سنو،تم میری تھیں،میری ہو،اور میری رہوگی،ہمیشہ
کوٸی تمھیں مجھ سے جدا نہیں کرسکتا،تم بھی نہیں..
اسکی کمر پہ زور دے کر اس نے فاصلہ مٹایا۔۔۔۔۔وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔جن میں غصہ ،بے بسی۔نفرت،اور نجانے کیا کیا تھا۔۔۔۔۔”تم زبردستی نہیں کرسکتے”۔۔۔۔۔
وہ چیخ اٹھی اسکی باتوں پر،گویا اسکی مرضی کوٸی اہمیت نہ رکھتی تھی۔۔۔۔۔
میں کیاکرسکتا ہوں تم سوچ بھی نہیں سکتیں،فلحال تو میری دسترس میں آنے کی تیاری کرو۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسکے کان کے قریب سرگوشی کرتا بھاری آواز میں بولا۔۔۔۔۔۔
یہ خوشبو اسے بے خود کررہی تھی اس پر مزداد،رات،تنہاٸی،اور شرعی رشتہ….
وہ سر اٹھاکر اسکی آنکھوں دیکھ رہی تھی،نفرت سے..
اسکا یہی حاکمانہ انداز اسے پسند نہیں تھا، دوسرے فریق کی ذات کو اہمیت دیۓ بغیر وہ وہ کرتا تھا جو اسکا دل چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔زین سر جھکاٸے اپنی بانہوں میں مقید اپنے کندھے تک بمشکل آتی اس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھ رہا تھا،جسے اس نے ٹوٹ کر چاہا تھا،تب سے جب سے وہ چاہت کے نام سے بھی ناآشنا تھا۔۔۔۔
ضبط کیۓ وہ اسے آزاد کرتا لمبے لمبے ڈگ بھرتاوہاں سے نکلتا چلاگیا۔۔۔۔
___________
اس نے لرزتی پلکیں اٹھاکر آٸینے میں اپنا عکس دیکھا…وہ انتہا سے زیادہ حسین لگ رہی تھی۔۔۔۔۔
آج اسکی رخصتی تھی،ایک کمرے سے نکل کر دوسرے کمرے میں شفٹ ہونا تھا پھر بھی اسکا دل اداس تھا،صورت حال مختلف ہوتی تو یقیناً وہ بہت خوش ہوتی لیکن اب وہ خود کو شاہزیب کی خوشیوں کے پیچ رکاوٹ تصور کررہی تھی۔۔۔ کچھ دیر پہلے ہی سارہ اور باقی لڑکیاں کمرے سے گٸی تھیں،رشل اسکی حالت سے خوب واقف تھی،اس نے شاہ زیب سے بات کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو نازنین نے سختی سے منع کردیا،وہ خود شاہ زیب سے بات کرنا چاہتی تھی اس بارے میں۔۔۔۔۔رشل ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گٸی لیکن سارہ کا دماغ ٹھکانے لگانے کا اس نے تہیہ کررکھا تھا۔۔
__________________________________
سارہ کے لبوں پر بڑی شاطرانہ مسکراہٹ رقص کرنے لگی تھی،نازنین کے موبائل کو ہاتھ میں گھماتی وہ سرشار سے کاریڈور میں چلتی ایک کمرے میں گھس گٸی۔۔۔۔۔کمرہ لاک کیۓ وہ اپنی کارواٸی میں مصروف ہوچکی تھی۔۔
_____________________________
رشل سارہ کو ڈھونڈ رہی تھی،لیکن وہ اسے کہیں دکھاٸی نہ دی،گھر مہمانوں سے بھرا تھا،باقی مہمان بھی آچکے تھے،کچھ لڑکیاں کمروں میں تیاری میں مصروف تھیں۔۔۔۔۔۔لاونج میں لان میں ہر جگہ اس نے دیکھ لیا لیکن وہ نہ ملی۔۔۔۔۔کسی روم میں ہوگی۔۔۔۔۔شاید..رشل خودکلامی کرتی اپنا لہنگا سنبھال کر ہاٸی ہیلز میں قید پاوں سہل سہل کر سیڑھیوں پر رکھتی اوپر آگٸی۔۔۔۔۔۔کاریڈور میں مڑی تو سامنے سے شاہ زین آتا دکھاٸی دیا،بلیک جینز، واٸٹ شرٹ پر بلیک واسکٹ پہنے ،بالوں کو نفاست سے سیٹ کیۓ وہ غضب ڈھارہا تھا۔۔۔۔۔رشل نے ناک چڑھاکر اسے دیکھا اور نظرانداز کرتے برابر سے گزرنا چاہا تب زین نے بازو پکڑ کر روک لیا،کیا ہے؟ چھوڑو میرا ہاتھ..رشل بل کھاتی ناگن کی طرح پھنکاری۔۔۔۔
سلور اور بلیک امتزاج کے لہنگے میں بالوں کی جٹیا بناٸے وہ معمول سے ہٹ کر لگ رہی تھی۔۔۔۔۔گہری آنکھوں کی دلکشی میں کاجل نے اضافہ کیا تھا۔۔۔۔۔۔”خوبصورت لگ رہی ہو مسز”
شاہ زین خوشگوار انداز میں بولا۔۔۔۔۔”یہ بتانے کے لیۓ روکا ہے؟”رشل تپ کر ناک چڑھاتی اسے گھورنے لگی۔۔۔۔زین نے دلچسپی سے اسکی چھوٹی سی ستواں ناک میں ڈاٸمنڈ نوز پن دیکھی۔۔۔۔۔”اٹس بیوٹیفل”۔۔۔۔۔
اگلے ہی لمحے اس نے موبائل کا کیمرہ آن کیا اور رشل کو ساتھ لگا کر تصویر کھینچی۔۔۔۔۔۔
ہنہہ…رشل نے تیکھی نظروں سے اسے گھورا اور جانے کو مڑی۔۔۔۔۔شاہ زین نے اسکی کلاٸی تھام کر اس زور سے کہینچی کے وہ اسکے کشادہ سینے سے آلگی۔۔۔۔۔۔شاہ زین کی گرفت مضبوط تھی۔۔۔۔۔وہ اسکی آنکھوں میں جھانک رہا تھا۔۔۔۔۔رشل کی دھڑکن ایک لمحے کو تیز ہوٸی پھر اس نے خود کو سنبھال کر دونوں ہاتھ زین کے سینے پر جماکر اسے دور کرنا چاہا لیکن وہ ہلا تک نہیں۔۔۔۔۔۔۔”سنو”۔۔۔۔۔۔۔
شاہ زین نے چٹیا سے نکل کر اسکے صبیح چہرے کا احاطہ کرتی لٹوں کو شہادت کی انگلی سے ہٹایا۔۔۔۔۔رشل کے اتنے صاف جواب پر بھی اسے کوٸی فرق نہ پڑا تھا۔۔۔۔۔وہ جانتا تھا اسے کیا کرنا ہے۔۔۔۔۔
“چھوڑو مجھے”رشل نے اسکے آہنی شکنجے سے نکلنے کی جاں توڑ کوششیں کیں لیکن بے سود۔۔۔۔۔۔
مجھ سے دور جانے کی کوششیں کرنا چھوڑ دو۔۔۔۔۔رشل نے اس کے ہٹ دھرمی کے مظاہرے اور اپنی بے بسی پہ کڑھ کر شعلہ بار نگاہوں سے اسے گھورا۔۔۔۔۔۔
“Im crazy for you”
جھک کر اسکے کان کے قریب سرگوشی کی گٸی۔۔۔
__________________________________
شاہ زیب کچھ دیر پہلے ہی لانا میں آیا تھا،بلیک شیروانی میں پیچھے کو بال سیٹ کیۓ دمکتی آنکھوں کے ساتھ وہ سب کی نگاہوں کا مرکز بنا ہوا تھا۔۔۔اسکی خوشی چھپاٸے نہ چھپ رہی تھی۔۔ہلکی پھلکی باتوں میں مصروف تھا جب اسکے سیل پر کال آنے لگی،نازنین کانام سکرین پہ چمکتا دیکھ کراسکے لبوں کو دھیمے سی مسکراہٹ نے چھوا.. وہ ایکسکیوز کرتا ساٸٹ پر آگیا۔۔۔۔اگلی جانب سے بنا کچھ کہے کال کٹ کردی گٸی تو اس نے ناسمجھی سے موبائل کو دیکھا۔۔۔۔۔اگلے ہی لمحے نازنین کا میسج نمودار ہوا۔۔۔۔۔
مجھے سمجھ نہیں آرہا میں کیسے تمھیں اپنی پریشانی بتاوں”
شاہ زیب کچھ نہ سمجھا…کیا ہوا ہے ناز؟اس نے ب اختیار لکھ بھیچا..
وہ کال کرکے خیریت دریافت کرنے کا ارادہ رکھتا تھا تب ہی یکے بعد دیگرے دو میسجز سکرین پر نمودار ہوٸے۔۔۔
“میں کسی اور کو پسند کرتی ہو “
“اسی لیۓ کچھ دنوں سے اپ سیٹ ہوں”
شاہ زیب بے یقینی سے سکرین کو تک رہا تھا،اسکی آنکھوں میں نازنین کا مرجھایا چہرہ گھوم گیا۔۔۔۔۔
تم کسی اور کو….
اس نے خود سرگوشیانہ اندز میں کلامی کی۔۔۔۔
دل میں کہیں درد سا اٹھا تھا۔۔۔۔۔
تم یہاں ہو بیٹا،میں کب سے تمھیں ڈھونڈرہی ہوں۔۔۔۔۔
فرحین(شاہ زیب کی ماں)اسکی طرف آتے ہوٸے بولیں تو اس نے بمشکل اپنے تاثرات نارمل کیۓ۔۔۔
دوسری طرف سارہ چند لمحے شاہ زیب کے میسج کا انتظار کرتی رہی،لیکن کافی دیر تک انتظار کرنے کے باوجود کوٸی میسج نہ آیا تو اس نے خود کو تسلی دی۔۔۔
اتنابڑا دھچکا لگا ہے آخر..جواب دینے کے قابل کہاں رہا ہوگا۔۔۔۔ھاھا
اس نے قہقہ لگایا۔۔۔۔۔ہاہ…..نازنین کسی اور کو پسند کرتی ہے،اس نے ایکٹنگ کی،اورایک شاطرانہ مسکراہٹ لبوں پر رقص کرنے لگی۔۔۔۔اس نے دوبارہ موبائل اٹھایا اور میسج لکھنے لگی۔۔۔۔۔۔
“میں تمھارا سامنا نہیں کرسکونگی پلیز مجھ سے اس بارے میں کچھ مت پوچھنا،باقی جو تمھارا فیصلہ ہو مجھے منظور ہوگا”
سینڈ کا بٹن دباتی وہ کمرے سے باہر نکل آٸی،اسکے قدموں کا رخ نازنین کے کمرے کی طرف تھا۔۔۔۔۔
________________________________
میسج ٹون بجی تو شاہ زیب نے موبائل چیک کیا،سکرین پر نظریں دوڑاتے اسکے اندر توڑ پھوڑ سی ہونے لگی تھی۔۔۔
کچھ دیر بعد سب نازنین کو لے آٸے،خواتین کے جھرمٹ میں اپنی طرف بڑھتی نازنین کو اس نے ایک نظر دیکھا اور نظر ہٹانا بھول گیا۔۔۔۔۔۔نظریں جھکاٸے نپے تلے قدم اٹھاتی وہ اسکی طرف بڑھ رہی تھی،شاہ زیب کے برابر اسے بٹھادیا گیا۔۔۔۔۔شاہ زیب کا دل و دماغ طوفان کی زد میں تھا۔۔۔۔۔خود کو سنبھالتے اس نے ساری تقریب بھگتاٸی،نازنین کو اسکی خواب گاہ میں پہچادیا گیا تھا۔۔۔
________________________________
میں سب ٹھیک کردونگی زیب،تمھاری محبت تمھیں ضرور ملے گی،وہ چہرے پرافسردگی لیۓ خود سے دل میں مخاطب تھی،تب دروازہ کھول کر شاہ زیب روم میں داخل ہوا۔۔۔۔۔۔اسے عجیب گھٹن سی ہورہی تھی،بیڈ پر بیٹھی نازنین پر نظر ڈالے بنا وہ کمرے سے ملحق بالکنی میں چلاآیا۔۔۔۔۔نازنین جو اس سے بات کرنے کا ارادہ کیۓ بیٹھی تھی اسکی اس حرکت پر حیرت زدہ سی رہ گٸی۔۔۔۔۔
اسے شدید گھٹن محسوس ہورہی تھی۔۔۔۔۔
“کیوں میرے دل کے ساتھ کھیل کھیلتی رہی ہو تم؟”۔۔۔۔۔۔
تم جانتی تھیں ناز،میں نے صرف تم سے محبت کی ہے،صرف تمھیں سوچا ہے،صرف تمھیں چاہا ہے۔۔۔۔کیسے تم میرے ساتھ ایسا کرسکتی ہو۔۔۔۔۔؟
اسکادل و دماغ ماوف ہورہا تھا سوچ سوچ کر۔۔۔۔کافی دیر بعد وہ دوبارہ کمرے آیا تو نازنین غیر مرٸی نقطے پر نظریں جماٸے ہنوز ساکت بیٹھی تھی۔۔۔۔۔۔وہ آہستگی سے چلتا ہوا بیڈ پر جابیٹھا۔۔
زیب مجھے تم سے بات….میں جانتا ہوں تمھیں کیا کہنا ہے،میں اس بارے میں کوٸی بات نہیں کرنا چاہتا۔۔۔۔۔۔
وہ بولا تو نازنین نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔چینج کرلو۔۔
چند پل خاموشی کی نظر ہوگٸے پھر دو لفظ کہتا شاہ زیب وارڈروب کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔۔نازنین بھاری لہنگا سنبھالتی اٹھی تب تک شاہ زیب ایزی سا سفید کرتا شلوار زیب تن کیۓ ڈریسنگ روم سے نکلا۔۔۔۔۔۔اور بیڈ پر نیم دراز ہوکر آنکھوں پر بازو رکھ لیۓ۔۔۔۔۔نازنین اسکے لیۓ افسردہ تھی اسکی فیلنگز سمجھتی تھی لیکن اسکی طرف سے ایسی ناپسندیدگی،ایسے روٸیے کی توقع نہیں کررہی تھی۔۔۔۔چینج کرکے وہ خاموشی سے بیڈ کی دوسری طرف کنارے پر لیٹ گٸی،دل بھاری ہورہا تھا،نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔۔۔
آنکھوں پر بازو رکھے شاہ زیب سوچوں میں گم تھا..دل کی دنیا جیسے لٹ چکی تھی،اس حالت میں نیند آنا مشکل تھا۔۔۔
رات قطرہ قطرہ بیت رہی تھی اور دو دل اپنی کرچیاں سنبھالتے ہلکان تھے۔۔۔۔۔ایک دوسرے کی حالت سے انجان….نازنین کی آنکھوں کے کنارے بھیگنے لگے تو وہ رخ پھیرگٸی۔
تیرے غم کی ڈلی اٹھاکر
دیکھ زباں پہ رکھ لی میں نے
یہ قطرہ قطرہ پگھل رہی ہے
میں تنکا تنکا بکھر رہا ہوں
_________________________________
وہ حویلی نما گھر مکمل تاریکی میں ڈوبا تھا،رات کا نجانے کون سا پہر تھا جب ایک ہیولا بالکنی میں نمودار ہوا،چلتے چلتے وہ ایک کمرے کے سامنے رکا اور اگلے ہی لمحے اندر داخل ہوکر ڈور لاک کردیا۔۔۔۔۔اب اسکا رخ بیڈ کی جانب تھا جہاں وہ دنیا جہان سے بے خبر،پلکیں موندیں سورہی تھی۔۔۔۔ معصومیت اس حسین چہرے کا خاصہ تھی،زلفیں بے پرواہ سی بکھری ہوٸ تھیں،دراز پلکیں رخساروں پر ساٸی فگن تھیں،نیم اندھیرے میں وہ آہستگی سے بے خبر سوٸی رشل کے برابر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔
اس چہرے کے ایک ایک نقش کو حفظ کرتے اسکا دل چاہا بس یونہی اسے دیکھتا رہے ،لیکن دل کی بات نظرانداز کرتا وہ اس کام کی طرف متوجہ ہوگیا جو کرنے کے ارادے سے آیا تھا۔۔
اب دیکھتے ہیں مسز،کون تمھیں میرا ہونے سے روکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔گھنی مونچھوں تلے عنابی لب دلکشی سے مسکرادیۓ۔۔۔
_______
شرٹ کے بٹن کھولتے اسکی نظریں رشل کی بند آنکھوں پر ٹکی تھیں،اس نے بمشکل اپنے بے خود ہوتے دل کو سنبھالا ہوا تھا۔۔۔۔وہ چاہتا تو بہت کچھ کرسکتا تھا،یہ چہرہ اسکا دل دھڑکارہا تھا لیکن اس نے اپنے دل کو ڈپٹ دیا بہرحال آنا رشل کو شاہ زین کے ہی پاس تھا،اور اس کام کے بیچ سے ہر رکاوٹ ہٹانے کوہی تو وہ اس وقت اسکے سامنے بیٹھا تھا۔
_______________________________
جاو رہنے دو ملازمہ کرلے گی۔۔۔۔۔نازنین کے ہاتھ سے شرٹس لے کر شاہزیب نے بیڈ پر اچھال دیں،نازنین پلکیں جھکاکر آنسوں پیتی تیزی سے باہر نکل گٸی۔۔۔۔شاہ ذیب کوشش کرتا کہ نازنین کے سامنے کم سے کم آٸے.. لیکن وہ انجانے میں اسکی اس کوشش کو ناکام بنادیتی تھی،اس چہرے پر نظر پڑتے ہی ایک دردکی لہر اسے اپنی لپیٹ میں لے لیتی،دل چیخ چیخ کر دہاٸیاں دینے لگتا کہ اسے صرف شاہ زیب نے چاہا ہے،اس پر صرف شاہ زیب کا حق ہے لیکن وہ…وہ تو اپنے دل میں کسی اور کو بساٸے بیٹھی تھی،شاہ زیب چاہتا تھا جلد سے جلد اسے اپنی زندگی سے نکال کر اسکی مشکل آسان کردے ،لیکن شادی کے چند دن بعد ہی طلاق دینا کسی بھی طرح معقول فیصلہ نہ تھا اسلیۓ وہ انتظار کررہا تھاسہی وقت کا….یہ اںتظار اسے دل و جان سے عزیز تھا،اسکا دل انجانے میں یہ خواہش کیۓ بیٹھا تھا کہ یہ انتظار کبھی ختم نہ ہو۔۔۔
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺗﺮﺗﯿﺐ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻧﺪﺭ__ ﺑﮑﮭﺮ ﮔﺌﮯ ﮨﻮ تم
__________________________________
مسلسل ٹھنڈے پانی کی بالٹیاں سر پر پڑیں تو اسکی عقل ٹھکانے آگٸی۔۔۔۔
مم….میں کچھ نہیں بتاسکتا،میں نے منہ..کھولا…تو جان سے مارڈالیں گے وہ !
شاہ زیب نے مضبوط ہاتھوں کی ہتھیلیاں ٹیبل پر ٹکاٸیں اور سرد نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔”اگر منہ نہ کھولا تو جان یہاں بھی جاٸے گی،بہتر ہوگا ہمارے ساتھ تعاون کرو۔۔۔
یہ غداری ہہ…ہوگی ۔۔۔۔۔اس نے تھوک نگلا۔۔۔۔۔
زین کا بھاری ہاتھ گھوما اور ایک دلدوز چیخ اسکے منہ سے برامد ہوٸی۔۔۔۔۔۔نجانے کتنے دانت ٹوٹ چکے تھے۔۔۔
وفاداری عزیزہے یاں جان؟
ایس پی شا ہ زین ذرا سا درد سے کراہتے اس شخص کی جانب جھک کر وارن کرتے لہجے میں بولا،شاہ زین کے چہرے پر چھاٸے پتھریلے تاثرات اسکا حلق خشک کرگٸے۔۔۔۔۔مزید ذرا سی محنت کےبعد وہ شخص سب کچھ بتاتا چلاگیا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: