Hisar e Ishqam Novel by Pari Saa – Episode 5

0
حصارِ عشقم از پری سا – قسط نمبر 5

–**–**–

ٹھیک ہے سر۔۔۔۔
لیڈی آفیسر عینا نے پورا پلان سمجھ کر اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔ایک عزم اسکے حہرے پر رقص کناں تھا۔۔۔۔۔
اب صرف پانچ بجے تک کا انتظار ہے۔۔۔۔۔ایک شاطرانہ مسکراہت اینا کے چہرے پر چھب دکھلانے لگی۔۔
________________________________
ڈر تو نہیں لگ رہا۔۔۔۔
سب خاموش بیٹھے تھے جب وکی نے عینا کے چہرے پر نظریں جماٸے سوال کیا۔۔۔
“نہیں”اینا استہزاٸیہ انداز میں ہنسی۔۔۔۔۔
پولیس کی وردی کے بجاٸے وہ سفید کالج یونیفارم میں ملبوس چھوٹی سی لڑکی لگ رہی تھی،چہرہ بھولا بھالا سا تھا۔۔۔۔۔اکثر لوگ اسکے چہرے سے دھوکا کھاجاتے اور اسے بھولی بھالی دبو سی لڑکی سمجھ بیٹھتے لیکن اصل اینا سے وہی لوگ واقف تھے جو اسے اچھی طرح جانتے تھے،خطروں سے ڈرنے کے بجائے وہ لڑنے پر یقین رکھتی تھی۔۔۔۔خطروں میں کودنے کا اسے بہت شوق تھا اور اسی شوق کے باعث وہ آج یہاں تھی۔۔۔۔۔۔آغا کے بھیجے بندے کے ساتھ اسے اغواہ شدہ کالج اسٹوڈنٹ بن کر جانا تھا۔۔۔۔۔۔پلان کے مطابق اسکی اسکے کان میں پڑے چھوٹے سے ٹاپس میں باریک ٹرانسمیٹر نصب تھا،جبکہ کانٹیکٹ لینس میں کیمرہ تھا۔۔۔۔۔۔اس کے باقی ٹیم ممبرز پل پل باخبر رہ سکتے تھے۔۔۔۔۔۔
اس کار میں وکی،اینا،شاہ زین اور انسپکٹر دلاور سوار تھے،آغا کا وہ آدمی آگے بیٹھا تھا جبکہ شاہ زین ڈراٸیونگ میں مصروف تھا،ان سے پیچھے آتی کار میں انسپکٹر دلاور،اور فہد تھے۔۔۔۔۔۔
انکی کار کچھ فاصلے پر ہوکر چل رہی تھی۔۔۔۔۔۔
آغا کے آدمی کے ذریعے ایک مصنوعی کہانی پہلے ہی آغا تک پہچادی گٸی تھی جسکے مطابق اس دن لڑکی لے کر واپس اڈے پر جاتے ہوٸے راستے میں ایک ایکسیڈںٹ ہوا تھا،ہوش میں آنے کے بعد وہ لڑکی لے کر آرہا تھا۔۔
______________________________
ایک معمولی سے گھر سے ذرا دور کار رکی،اور وہ آدمی اینا کو لیۓ باہر نکل آیا،شاہ زین اور وکی بھی ساتھ باہر نکلے،ہم سب تمھارے ساتھ ہیں،ڈرنا مت،اور انہیں تم پر شک نہیں ہونا چاہیۓ۔۔۔۔
شاہ زین سرگوشیانہ لہجے میں اینا سے مخاطب ہوا،ہلکی پھلکی مصنوعی چوٹوں کے نشان تھے اینا کے چہرے پر،معلوم ہوتا تھا ایکسیڈنٹ کے بعد بستر سے اٹھی ہو۔۔۔۔آغا کے اس آدمی کی اچھی خاصی ٹھکاٸی لگ چکی تھی جس پرمہارت سے ڈریسنگ کردی گٸی تھی۔۔۔۔سب کچھ پرفیکٹ تھا،باقی اینا کی ایکٹنگ کے مرہون منت تھا۔۔۔۔۔۔ڈھونڈنے سے بھی اسکے چہرے پر ڈر کا شاٸبہ نہ تھا اور تب وہ لوگ واقعی حیران رہ گٸے جب اس آدمی کے ساتھ گھر کے دروازے کی طرف بڑھتے ہوٸے وہ چیخنے چلانے کی کوشش لگی۔۔۔۔۔منہ پر ٹیپ لگادیا گیا تھا لیکن اسکی ایکٹنگ کمال کی تھی۔۔
وہ آدمی زبردستی اسے کھینچتا ہوا گھر کے قریب پہچا،شاہ زین اور وکی کچھ دور کھڑی دوسری کار میں انسپکٹر دلاور اور فہد کے ساتھ جابیٹھے۔۔۔۔۔آغا کے اس آدمی کو واپس انکے ساتھ آنا تھا،اپنے لوگوں کے اتنے قریب آکر اسکا ہوشیاری دکھانا ممکن تھا لیکن ایس پی شاہ زین ممکن کو ناممکن بنانا جانتا تھا۔۔۔۔۔آغا کے آدمی کی پشت کے ساتھ ٹاٸم بم فکس تھا اور بہرحال اپنی جان اسے بہت پیاری تھی اس لیۓ وہ اینا کو اندر موجود
لوگوں کے حوالے کرکے کچھ دیر بعد باہر نکل آیا۔۔۔۔۔۔وہ بھاگ جاتا اگر جان کا خطرہ نہ ہوتا۔۔۔۔۔۔باہر نکل کر اس نے کار سٹارٹ کی اور مین روڈ پر ڈال دی،ذرا دور جاکر اسے کار روکنے کا حکم دیا گیا۔۔۔۔۔۔دوسری کار اسکے برابر آرکی اور اس میں سے شاہ زین نکل کر اسکے ساتھ جابیٹھا،اب سنسان سڑک پر دونوں کاریں دوڑرہی تھیں۔۔
________________________________
پلیز مجھے جانےدو…
چھوڑو مجھے۔۔۔۔۔
مردانہ ہاتھوں کی گرفت میں اسکے بازو تھے اور وہ بری طرح چلارہی تھی۔۔۔۔۔
“ہاٸے ہاٸے منہ بند کر منحوس ماری کا”
عقب سے ابھرتی آواز پر اس نے پیچھے دیکھنے کی کوشش کی لیکن مڑ نہ سکی۔۔۔۔۔
دو مضبوط جسامت کے چھکے اسے پکڑے کھڑے تھے۔۔۔ایک نے زرق برق جامنی کپڑے اور دوسرے نے گلابی کپڑے پہن رکھے تھے۔۔۔۔۔
انکے مکمل مرد یاں عورت ہونے کے بارے میں کچھ کہا نہیں جاسکتا تھا۔۔۔۔۔
پشت سے جس کی آواز ابھری تھی وہ وجود اب سامنے آکھڑا ہوا تھا۔
“یار کہاں پھنسا دیا ہم نےاینا کونڈا کو”
دوسری طرف کیمرے کے ذریعے ساری صورتحال دیکھتے وکی کے منہ سے بے اختیار پھسلا،عینا کو کبھی کبھی وہ عینا کونڈا کہتا تھا۔۔۔
شاہ زین بغور یہ منظر دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
سامنے کھڑے اس وجود پر عیناکی نظر پڑی۔۔۔۔۔
فربہ جسم پر مہرون سلک کی چست ساڑھی زیب تن کیۓ مردانہ ہونٹوں پر گہری لپ اسٹک لگاٸے ایک کلو میک اپ منہ پر تھوپے وہ اس جگہ کی مالکن تھی۔۔۔۔۔
ماتھے پر لکیروں کا جال بچھاتھاجو عینا پر نظر پڑتے ہی غائب ہوگیا۔۔
“کیا مال لایا ہے لڑکا”
یہ چھوکری بڑاکام آنے والی ہے،صاحب خوش ہوگا۔۔۔۔ذرا قریب آتے اس نے بغںور عینا کو دیکھا۔۔
(اپنے غصے پر ذرا قابو رکھنا،تمھیں ہوشیار رہنا ہوگا
عینا کو شاہ زین کے الفاظ یاد آٸے۔۔
عینا نے غصہ پیتے آنکھوں میں بے چارگی لیۓ سامنے کھڑے وجود کو دیکھا۔
پلیز مجھے جانے دو،میرا ایکسیڈنٹ ہوا ہے۔۔
شبو لے جا اسے اوپر۔۔۔۔۔
جی “بیگم حسینہ “شبو نامی چھکے نے ادب سے کہا اور عینا کو کھینچتی ہوٸ اوپری منزل پر لے جانے لگی۔۔۔
مجھے جانے دو،چھوڑو مجھے میں تمھارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں۔
مسلسل چیختی چلاتی عینا کو شبو نے ایک کمرے کا دروازہ کھول کر اندر دھکا دیا اور دروازہ بند کردیا۔۔۔۔۔۔
حسینہ باٸی ہاتھ جھاڑتی اپنے مخصوص لکڑی کے تخت پر جابیٹھی۔۔
“اے شبو ادھر آ”…..
گاو تکیے سے ٹیک لگاٸے اس نے شبو کو آواز دی۔۔۔۔۔
جی “بیگم حسینہ”..
شبو نے سوالیہ نظروں سے حسینہ باٸی کو دیکھا۔۔
“اس چھوکری پہ نظر رکھیو”
شبو اثبات میں سرہلاتی مڑگٸی۔۔۔۔
“اور سن”
جی
وہ چھوکری کدھر ہے جو پچھلے ہفتے آٸی تھی۔۔۔۔۔؟
“ماہم”؟
شبو نے تصدیق چاہی۔۔۔۔
ارے جوبھی نام ہے،مجھے کیا پتا،وہ جو سفید رنگ کی تھی۔۔
حسینہ باٸی نے دودھیا رنگ کو سفید کہتے سوالیہ انداز میں شبو کو دیکھا۔۔
ہاٸے وہ تو سر منہ لپیٹے ایک کونے میں پڑی رہتی ہے۔۔۔۔۔
شبو نے مخصوص انداز میں ہاتھ نچاکر کہا۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔۔۔جا!
حسینہ باٸے نے اشارے سے جانے کا کہا تو شبو چٹیا ہلاتی آگے بڑھ گٸی۔۔۔۔۔
حسینہ باٸی کی پرسوچ نظریں کسی غیر مرٸی نقطے پر ٹکی تھیں۔۔۔۔۔۔۔
یہ اس جگہ کی سردارنی کی حیثیثت رکھتی تھی،چھوٹی آنکھوں اور کرخت چہرے والی خود کو حسینہ سمجھتی تھی اسی بدولت اسکے حکم کے مطابق سب اسے بیگم حسینہ پکارتے تھے۔۔۔۔۔۔
صاحب اب کی بار خوش ہوگا۔۔۔۔۔
حسینہ باٸی کی آنکھوں میں چمک جب کے چہرے پر شاطرانہ مسکراہٹ تھی۔۔۔۔
__________________________________
عینا نے سر اٹھاکر کمرے کو دیکھا۔۔۔۔۔۔باہر سے دکھنے میں یہ ایک خستہ حال گھر تھا۔۔۔۔۔اندرونی حصہ باہر کی نسبت خاصہ بہتر تھا۔۔۔۔
عینا اٹھ کر دروازے تک آٸی،لیکن وہ لاکڈ تھا۔۔۔۔۔
اب وہ کمرے میں موجود چیزوں کا جاٸزہ لے رہی تھی۔۔۔۔۔
کچھ دیر بعد کمرے کے دروازے پر کھٹکا ہوا تو اس نے تیزی سے پلٹ کر دیکھا۔۔۔
_______
شرٹ کے بٹن کھولتے اسکی نظریں رشل کی بند آنکھوں پر ٹکی تھیں،اس نے بمشکل اپنے بے خود ہوتے دل کو سنبھالا ہوا تھا۔۔۔۔وہ چاہتا تو بہت کچھ کرسکتا تھا،یہ چہرہ اسکا دل دھڑکارہا تھا لیکن اس نے اپنے دل کو ڈپٹ دیا بہرحال آنا رشل کو شاہ زین کے ہی پاس تھا،اور اس کام کے بیچ سے ہر رکاوٹ ہٹانے کوہی تو وہ اس وقت اسکے سامنے بیٹھا تھا۔۔۔
_______________________________
جاو رہنے دو ملازمہ کرلے گی۔۔۔۔۔نازنین کے ہاتھ سے شرٹس لے کر شاہزیب نے بیڈ پر اچھال دیں،نازنین پلکیں جھکاکر آنسوں پیتی تیزی سے باہر نکل گٸی۔۔۔۔شاہ ذیب کوشش کرتا کہ نازنین کے سامنے کم سے کم آٸے.. لیکن وہ انجانے میں اسکی اس کوشش کو ناکام بنادیتی تھی،اس چہرے پر نظر پڑتے ہی ایک دردکی لہر اسے اپنی لپیٹ میں لے لیتی،دل چیخ چیخ کر دہاٸیاں دینے لگتا کہ اسے صرف شاہ زیب نے چاہا ہے،اس پر صرف شاہ زیب کا حق ہے لیکن وہ…وہ تو اپنے دل میں کسی اور کو بساٸے بیٹھی تھی،شاہ زیب چاہتا تھا جلد سے جلد اسے اپنی زندگی سے نکال کر اسکی مشکل آسان کردے ،لیکن شادی کے چند دن بعد ہی طلاق دینا کسی بھی طرح معقول فیصلہ نہ تھا اسلیۓ وہ انتظار کررہا تھاسہی وقت کا….یہ اںتظار اسے دل و جان سے عزیز تھا،اسکا دل انجانے میں یہ خواہش کیۓ بیٹھا تھا کہ یہ انتظار کبھی ختم نہ ہو۔۔۔
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺗﺮﺗﯿﺐ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻧﺪﺭ__ ﺑﮑﮭﺮ ﮔﺌﮯ ﮨﻮ ﺗم
____________________________________
مسلسل ٹھنڈے پانی کی بالٹیاں سر پر پڑیں تو اسکی عقل ٹھکانے آگٸی۔۔۔۔
مم….میں کچھ نہیں بتاسکتا،میں نے منہ..کھولا…تو جان سے مارڈالیں گے وہ !
شاہ زیب نے مضبوط ہاتھوں کی ہتھیلیاں ٹیبل پر ٹکاٸیں اور سرد نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔”اگر منہ نہ کھولا تو جان یہاں بھی جاٸے گی،بہتر ہوگا ہمارے ساتھ تعاون کرو۔۔۔۔
یہ غداری ہہ…ہوگی ۔۔۔۔۔اس نے تھوک نگلا۔۔۔۔۔
زین کا بھاری ہاتھ گھوما اور ایک دلدوز چیخ اسکے منہ سے برامد ہوٸی۔۔۔۔۔۔نجانے کتنے دانت ٹوٹ چکے تھے۔۔۔
وفاداری عزیزہے یاں جان؟
ایس پی شا ہ زین ذرا سا درد سے کراہتے اس شخص کی جانب جھک کر وارن کرتے لہجے میں بولا،شاہ زین کے چہرے پر چھاٸے پتھریلے تاثرات اسکا حلق خشک کرگٸے۔۔۔۔۔مزید ذرا سی محنت کےبعد وہ شخص سب کچھ بتاتا چلاگیا۔۔
________________________________
ٹھیک ہے سر۔۔۔۔
لیڈی آفیسر عینا نے پورا پلان سمجھ کر اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔ایک عزم اسکے حہرے پر رقص کناں تھا۔۔۔۔۔
اب صرف پانچ بجے تک کا انتظار ہے۔۔۔۔۔ایک شاطرانہ مسکراہت اینا کے چہرے پر چھب دکھلانے لگی۔۔۔۔
_________________________________
ڈر تو نہیں لگ رہا۔۔۔۔
سب خاموش بیٹھے تھے جب وکی نے عینا کے چہرے پر نظریں جماٸے سوال کیا۔۔۔
“نہیں”اینا استہزاٸیہ انداز میں ہنسی۔۔۔۔۔
پولیس کی وردی کے بجاٸے وہ سفید کالج یونیفارم میں ملبوس چھوٹی سی لڑکی لگ رہی تھی،چہرہ بھولا بھالا سا تھا۔۔۔۔۔اکثر لوگ اسکے چہرے سے دھوکا کھاجاتے اور اسے بھولی بھالی دبو سی لڑکی سمجھ بیٹھتے لیکن اصل اینا سے وہی لوگ واقف تھے جو اسے اچھی طرح جانتے تھے،خطروں سے ڈرنے کے بجائے وہ لڑنے پر یقین رکھتی تھی۔۔۔۔خطروں میں کودنے کا اسے بہت شوق تھا اور اسی شوق کے باعث وہ آج یہاں تھی۔۔۔۔۔۔آغا کے بھیجے بندے کے ساتھ اسے اغواہ شدہ کالج اسٹوڈنٹ بن کر جانا تھا۔۔۔۔۔۔پلان کے مطابق اسکی اسکے کان میں پڑے چھوٹے سے ٹاپس میں باریک ٹرانسمیٹر نصب تھا،جبکہ کانٹیکٹ لینس میں کیمرہ تھا۔۔۔۔۔۔اس کے باقی ٹیم ممبرز پل پل باخبر رہ سکتے تھے۔۔۔۔۔۔
اس کار میں وکی،اینا،شاہ زین اور انسپکٹر دلاور سوار تھے،آغا کا وہ آدمی آگے بیٹھا تھا جبکہ شاہ زین ڈراٸیونگ میں مصروف تھا،ان سے پیچھے آتی کار میں انسپکٹر دلاور،اور فہد تھے۔۔۔۔۔۔
انکی کار کچھ فاصلے پر ہوکر چل رہی تھی۔۔۔۔۔۔
آغا کے آدمی کے ذریعے ایک مصنوعی کہانی پہلے ہی آغا تک پہچادی گٸی تھی جسکے مطابق اس دن لڑکی لے کر واپس اڈے پر جاتے ہوٸے راستے میں ایک ایکسیڈںٹ ہوا تھا،ہوش میں آنے کے بعد وہ لڑکی لے کر آرہا تھا۔۔۔۔
___________________________________
ایک معمولی سے گھر سے ذرا دور کار رکی،اور وہ آدمی اینا کو لیۓ باہر نکل آیا،شاہ زین اور وکی بھی ساتھ باہر نکلے،ہم سب تمھارے ساتھ ہیں،ڈرنا مت،اور انہیں تم پر شک نہیں ہونا چاہیۓ۔۔۔۔
شاہ زین سرگوشیانہ لہجے میں اینا سے مخاطب ہوا،ہلکی پھلکی مصنوعی چوٹوں کے نشان تھے اینا کے چہرے پر،معلوم ہوتا تھا ایکسیڈنٹ کے بعد بستر سے اٹھی ہو۔۔۔۔آغا کے اس آدمی کی اچھی خاصی ٹھکاٸی لگ چکی تھی جس پرمہارت سے ڈریسنگ کردی گٸی تھی۔۔۔۔سب کچھ پرفیکٹ تھا،باقی اینا کی ایکٹنگ کے مرہون منت تھا۔۔۔۔۔۔ڈھونڈنے سے بھی اسکے چہرے پر ڈر کا شاٸبہ نہ تھا اور تب وہ لوگ واقعی حیران رہ گٸے جب اس آدمی کے ساتھ گھر کے دروازے کی طرف بڑھتے ہوٸے وہ چیخنے چلانے کی کوشش لگی۔۔۔۔۔منہ پر ٹیپ لگادیا گیا تھا لیکن اسکی ایکٹنگ کمال کی تھی۔۔۔۔۔
وہ آدمی زبردستی اسے کھینچتا ہوا گھر کے قریب پہچا،شاہ زین اور وکی کچھ دور کھڑی دوسری کار میں انسپکٹر دلاور اور فہد کے ساتھ جابیٹھے۔۔۔۔۔آغا کے اس آدمی کو واپس انکے ساتھ آنا تھا،اپنے لوگوں کے اتنے قریب آکر اسکا ہوشیاری دکھانا ممکن تھا لیکن ایس پی شاہ زین ممکن کو ناممکن بنانا جانتا تھا۔۔۔۔۔آغا کے آدمی کی پشت کے ساتھ ٹاٸم بم فکس تھا اور بہرحال اپنی جان اسے بہت پیاری تھی اس لیۓ وہ اینا کو اندر موجود
لوگوں کے حوالے کرکے کچھ دیر بعد باہر نکل آیا۔۔۔۔۔۔وہ بھاگ جاتا اگر جان کا خطرہ نہ ہوتا۔۔۔۔۔۔باہر نکل کر اس نے کار سٹارٹ کی اور مین روڈ پر ڈال دی،ذرا دور جاکر اسے کار روکنے کا حکم دیا گیا۔۔۔۔۔۔دوسری کار اسکے برابر آرکی اور اس میں سے شاہ زین نکل کر اسکے ساتھ جابیٹھا،اب سنسان سڑک پر دونوں کاریں دوڑرہی تھیں۔۔۔
___________________________________
پلیز مجھے جانےدو…
چھوڑو مجھے۔۔۔۔۔
مردانہ ہاتھوں کی گرفت میں اسکے بازو تھے اور وہ بری طرح چلارہی تھی۔۔۔۔۔
“ہاٸے ہاٸے منہ بند کر منحوس ماری کا”
عقب سے ابھرتی آواز پر اس نے پیچھے دیکھنے کی کوشش کی لیکن مڑ نہ سکی۔۔۔۔۔
دو مضبوط جسامت کے چھکے اسے پکڑے کھڑے تھے۔۔۔ایک نے زرق برق جامنی کپڑے اور دوسرے نے گلابی کپڑے پہن رکھے تھے۔۔۔۔۔
انکے مکمل مرد یاں عورت ہونے کے بارے میں کچھ کہا نہیں جاسکتا تھا۔۔۔۔۔
پشت سے جس کی آواز ابھری تھی وہ وجود اب سامنے آکھڑا ہوا تھا۔۔۔
“یار کہاں پھنسا دیا ہم نےاینا کونڈا کو”
دوسری طرف کیمرے کے ذریعے ساری صورتحال دیکھتے وکی کے منہ سے بے اختیار پھسلا،عینا کو کبھی کبھی وہ عینا کونڈا کہتا تھا۔۔۔۔۔۔
شاہ زین بغور یہ منظر دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
سامنے کھڑے اس وجود پر عیناکی نظر پڑی۔۔۔۔۔
فربہ جسم پر مہرون سلک کی چست ساڑھی زیب تن کیۓ مردانہ ہونٹوں پر گہری لپ اسٹک لگاٸے ایک کلو میک اپ منہ پر تھوپے وہ اس جگہ کی مالکن تھی۔۔۔۔۔
ماتھے پر لکیروں کا جال بچھاتھاجو عینا پر نظر پڑتے ہی غائب ہوگیا۔۔۔۔۔۔
“کیا مال لایا ہے لڑکا”
یہ چھوکری بڑاکام آنے والی ہے،صاحب خوش ہوگا۔۔۔۔ذرا قریب آتے اس نے بغںور عینا کو دیکھا۔۔۔۔
(اپنے غصے پر ذرا قابو رکھنا،تمھیں ہوشیار رہنا ہوگا)
عینا کو شاہ زین کے الفاظ یاد آٸے۔۔۔
عینا نے غصہ پیتے آنکھوں میں بے چارگی لیۓ سامنے کھڑے وجود کو دیکھا۔۔
پلیز مجھے جانے دو،میرا ایکسیڈنٹ ہوا ہے۔۔۔
شبو لے جا اسے اوپر۔۔۔۔۔
جی “بیگم حسینہ “شبو نامی چھکے نے ادب سے کہا اور عینا کو کھینچتی ہوٸ اوپری منزل پر لے جانے لگی۔۔۔
مجھے جانے دو،چھوڑو مجھے میں تمھارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں۔۔
مسلسل چیختی چلاتی عینا کو شبو نے ایک کمرے کا دروازہ کھول کر اندر دھکا دیا اور دروازہ بند کردیا۔۔۔۔۔۔
حسینہ باٸی ہاتھ جھاڑتی اپنے مخصوص لکڑی کے تخت پر جابیٹھی۔۔
“اے شبو ادھر آ”…..
گاو تکیے سے ٹیک لگاٸے اس نے شبو کو آواز دی۔۔۔۔۔
جی “بیگم حسینہ”….؟
شبو نے سوالیہ نظروں سے حسینہ باٸی کو دیکھا۔۔۔
“اس چھوکری پہ نظر رکھیو”
شبو اثبات میں سرہلاتی مڑگٸی۔۔۔
“اور سن”
جی؟
وہ چھوکری کدھر ہے جو پچھلے ہفتے آٸی تھی۔۔۔۔۔؟
“ماہم”؟
شبو نے تصدیق چاہی۔۔۔۔
ارے جوبھی نام ہے،مجھے کیا پتا،وہ جو سفید رنگ کی تھی۔۔
حسینہ باٸی نے دودھیا رنگ کو سفید کہتے سوالیہ انداز میں شبو کو دیکھا۔۔
ہاٸے وہ تو سر منہ لپیٹے ایک کونے میں پڑی رہتی ہے۔۔۔۔۔
شبو نے مخصوص انداز میں ہاتھ نچاکر کہا۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔۔۔جا!
حسینہ باٸے نے اشارے سے جانے کا کہا تو شبو چٹیا ہلاتی آگے بڑھ گٸی۔۔۔۔۔
حسینہ باٸی کی پرسوچ نظریں کسی غیر مرٸی نقطے پر ٹکی تھیں۔۔۔
یہ اس جگہ کی سردارنی کی حیثیثت رکھتی تھی،چھوٹی آنکھوں اور کرخت چہرے والی خود کو حسینہ سمجھتی تھی اسی بدولت اسکے حکم کے مطابق سب اسے بیگم حسینہ پکارتے تھے۔۔۔۔
صاحب اب کی بار خوش ہوگا۔۔۔۔۔
حسینہ باٸی کی آنکھوں میں چمک جب کے چہرے پر شاطرانہ مسکراہٹ تھی۔۔۔
______________________________
عینا نے سر اٹھاکر کمرے کو دیکھا۔۔۔۔۔۔باہر سے دکھنے میں یہ ایک خستہ حال گھر تھا۔۔۔۔۔اندرونی حصہ باہر کی نسبت خاصہ بہتر تھا۔۔
عینا اٹھ کر دروازے تک آٸی،لیکن وہ لاکڈ تھا۔۔۔
اب وہ کمرے میں موجود چیزوں کا جاٸزہ لے رہی تھی۔۔۔
کچھ دیر بعد کمرے کے دروازے پر کھٹکا ہوا تو اس نے تیزی سے پلٹ کر دیکھا۔
________________
دروازے پر وہی شبو نامی چھکا تھا جو اسے کچھ دیر پہلے اس کمرے میں لایا تھا۔۔۔۔
“دیکھو پلیز مجھے جانے دو”
تم جتنے پیسے کہوگی میں تمھیں دونگی۔۔۔۔۔۔۔
عینا آگے بڑھ کر التجاٸیہ لہجے میں بولی۔۔۔۔۔۔شہزادی عیش کر…یہاں جو ایک بار آجاتا ہے وہ کبھی واپس نہیں جاسکتا۔۔۔۔لے کھانا کھا۔۔۔شبو ہاتھ میں تھامی ٹرے تپاٸی پر رکھتی محفوظ انداز میں بولی۔۔۔۔
ایسا نہیں ہوسکتا۔۔۔۔عینا نے نفی میں سرہلایا۔۔
شبو نے دانتوں کی نماٸش کی،ویسے تو ہے بڑی خوبصوت۔فکر نہ کر عادت ہوجاٸے گی یہاں کی۔۔۔۔۔ہاتھ نچاکر بولتی وہ جانے لگی۔۔۔۔۔تت تم ایسے نہیں جاسکتیں،پلیز میری مدد کرو،تم لوگ ہو کون ؟
شبو نے پلٹ کر اسے گھورا،ہاٸے توبہ ہے تو کتنا بولتی ہے رے،جا جاکے کھانا کھا۔۔۔۔۔
کیا مصیبت ہے اس ہفتے کی آٸی لڑکیاں کچھ زیادہ ہی بڑبڑ کررہی ہیں۔۔۔۔۔
شبو نے زور دار تالی بجانے والے انداز میں ہاتھ پہ ہاتھ مارا اور بڑبڑاتی ہوٸی کمرے سے باہر نکل گٸی۔۔۔
(آہا،،،اینا کونڈا تو بلیک بیلٹ ہونے کے ساتھ ساتھ بہت اچھی اداکارہ بھی ہے۔۔
وقاص عرف وکی نے تعریفی انداز میں سراہا۔۔
_______________________________
نازنین ملازمہ کے ساتھ کچن سمیٹ کر کمرے میں آٸی تو رات کے ساڑھے نو بج رہے تھے۔۔۔۔شاہ زیب آنکھوں پہ بازو رکھے سورہا تھا۔۔۔وہ کھانا کھانے بھی نیچےنہیں آیا تھا۔خلاف معمول وہ آج جلدی سوگیا تھا اور بیڈ کے عین وسط میں اسطرح سویا تھا کہ ممکن نہ تھا کوٸی اور سوپاتا۔۔۔۔۔
“زیب”..
نازنین نے آہستگی سے پکارا۔۔
اسکے چند بار پکارنے کے باوجود کوٸی جواب نہ آیا۔۔۔
آگےبڑھ کر نازنین نے آنکھوں پر رکھی کلاٸی ہلاٸی تو لگا جلتے توے کو چھو لیا ہو۔۔۔وہ ایک دم پریشان ہواٹھی۔۔۔۔۔
زیب تمھیں بخار ہے۔۔۔۔۔اس نے ہاتھ آنکھوں سے ہٹایا تو زیب نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔۔۔۔۔سرخ آنکھیں اور چہرے پر چھاٸی پژمردگی نازنین کا دل دکھاگٸی۔۔۔۔۔۔زیب نے اسکے فکرمند چہرے پر نظردوڑاٸی اور واپس آنکھیں موند لیں۔۔۔۔۔
“تم نے کھانا بھی نہیں کھایا”
نازنین نے کہا لیکن شاہ زیب یونہی لیٹا رہا۔۔۔۔۔نازنین جا کر نیم گرم دودھ اور بخار کی ٹیبلٹ لے آٸی۔۔۔۔۔۔زیب اٹھو،پلیز یہ ٹیبلٹ لےلو۔۔۔۔۔اس نے زیب کا کندھا ہلایا۔۔۔۔۔۔زیب بری طرح اسکا ہاتھ جھٹکتا اٹھ بیٹھا۔۔۔۔۔
تمھیں ضرورت نہیں میری فکر کرنے کی۔۔۔۔
نازنین کی آنکھوں میں آنسوں جھلملانے لگے تھے۔۔۔۔یہ ٹیبلیٹ لے لو پلیز۔۔۔۔
زیب کو یونہی بیٹھے دیکھ کر وہ آنکھیں کلاٸیوں سے صاف کرتی دوبارہ گویا ہوٸی۔۔۔۔
اسےاس حالت میں دیکھنا تکلیف دہ تھا۔۔۔۔۔
زیب نے ایک نظر ساٸیڈ ٹیبل پہ دھرے گلاس کو دیکھا اور ٹیبلٹ لے کر ایک ہی سانس میں پی گیا۔۔۔۔۔نازنین گلاس لے کر چلی گٸی،اسکی مسلسل کھنکتی چوڑیوں کی آواز شاہ زیب کو ڈسٹرب کررہی تھی۔۔۔۔۔
کمرے میں آکر وہ بیڈ پر آبیٹھی۔۔۔۔۔۔شاہزیب کا سانس بھاری ہونے لگا تھا جسکا مطلب تھا وہ غنودگی میں جارہا ہے۔۔۔۔۔۔بے اختیار نازنین نے اسکے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔۔بخار ہنوز ویسا ہی تھا۔۔۔۔وہ آہستہ آہستہ اسکے بالوں میں انگلیاں چلانے لگی۔۔۔۔گہری نیند میں جاتےاس نے ۔نرم و گداز لمس محسوس کیا لیکن چاہ کر بھی اسکا ہاتھ نہ جھٹک سکا۔۔۔۔۔نازنین نے نم آنکھیں اسکے چہرے پر ٹکاٸے اسکی کشادہ پیشانی پر نرمی سے لب رکھ دیۓ۔۔۔۔
ملنا تھا اتفاق بچھڑنا نصیب تھا
وہ اتنا دور ہوگیا جتنا قریب تھا
______________________________________
“کیسی ہو مسز”
شاہ زین ٹانگوں کو کراس کی شکل دیۓ سینے پربازو باندھے رشل کے کمرے کے دروازے سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔۔۔۔رشل نے ہاتھ روک کر ایک نظر اسے دیکھا۔۔۔۔
فوجی سٹاٸل پینٹ پر بلیک شرٹ کی آستین کہنیوں تک فولڈ کیۓ وہ اچھا لگ رہا تھا۔۔۔۔رشل نے دھیرے سے نگاہیں پھیر لیں۔۔۔۔۔ایک لمحے کو وہ اسکے دل کو اچھا لگا تھا۔۔۔۔۔اگر یہ بات شاہ زین جان جاتا تو یقیناً یہیں بھنگڑا ڈالناشروع کردیتا۔۔۔۔۔۔
رشل ڈریسنگ کے آگے رکھے سٹول پر بیٹھی بالوں میں برش کررہی تھی۔۔۔۔
آہ….خود کا کتنا خیال رہتاہے،کبھی اس غریب پر بھی نظر کرلیا کرو۔۔۔۔۔۔پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالتا اسکی طرف بڑھتا وہ مصنوعی آہ بھرتا بولا۔۔۔۔۔
جبکہ رشل نے صرف “اونہہ”کہنے پر اکتفا کیا۔۔۔
ہیٸر برش رکھ کر وہ اٹھ کر کھڑی ہوگٸی جب تک شاہ زین اسکے پیچھے پہچ چکا تھا۔۔۔۔۔اسے مزاحمت کا موقع اسے پیچھے سے تھام کر اس نے چہرہ رشل کے کندھے پر ٹکادیا۔۔۔۔۔۔۔میں سوچ رہا ہوں تمھیں کچھ وقت دے دوں لیکن تمھیں سامنے دیکھتے ہی دل بے ایمان ہونے لگتا ہے۔۔۔۔رشل نےپشت سے لگے زین کے پیٹ میں کہنی مارنی چاہی لیکن اس نے کمر کے ساتھ ساتھ ہاتھ بھی مضبوط بازووں میں جکڑ رکھے تھے۔۔۔۔تم دور رہ کر بات نہیں کرسکتے کیا؟۔۔۔۔۔۔
“نہیں”وہ محفوظ کن انداز میں بولا۔۔۔۔۔
وہ نازک سی لڑکی اسکی مضبوط بانہوں میں کب تک مزاحمت کرتی اور ویسے بھی شاہ زین تو فولاد کا بنا تھا۔۔۔۔۔
بلیک شرط کی آستین سے اسکے مضبوط بازووں کی مچھلیاں جھلک رہی تھیں۔۔۔۔۔۔
تمھاری حرکتیں مجھے اتنی بری لگتی ہیں کہ میں بتانہیں سکتی۔۔۔۔۔
اسکی گرفت سے نکلنے کی ناکام کوشش کرتی وہ بلاخر عاجز آکر بولی۔۔۔۔۔
شاہ زین نے بے اختیار قہقہ لگایا،اسے جیسے رشل کی بے بسی مزہ دےرہی تھی۔۔۔۔۔
سنو،مسز…..میری دسترس میں کب تک آنے کا ارادہ ہے۔۔۔۔وہ جلتی پر تیل چھڑکنے لگا۔۔۔۔۔۔”کبھی نہیں”…
رشل قطعیت سے بولی۔۔۔۔۔
غلط فہمی ہے تمھاری۔۔۔۔۔تم صرف شاہ زین کی ہو۔۔۔۔۔
وقت بتاٸےگا میری غلط فہمیوں کے بارے میں۔۔۔۔رشل نے مسکراکر طنزیہ نظروں سے رخ موڑ کر شاہ زین کو دیکھا۔۔۔۔۔۔”وقت بتاٸے گا کہ تمھیں صرف شاہ زین کا ہونا ہے”۔۔۔۔۔
وہ بھی دوبدو سرگوشیانہ لہجے میں بولا۔۔۔
___________________________________
میں چاہ کر بھی کچھ پتا نہیں کرپارہی،حسینہ باٸی کی جاسوسی اسکا کوٸی قریبی ساتھی کرسکتاہے۔۔۔۔
عینا نے سرگوشیانہ لہجے میں کہا،اسکے لہجے میں فکر پنہاں تھی۔۔۔۔
دوسری طرف موجود ہر فرد نے اسکی بات بغور سنی تھی،سربراہی کرسی پر بیٹھا شاہ زین خاموش تھا،پین کو انگلیوں میں گھماتے وہ کسی گہری سوچ میں گم تھا،اچانک پین گھمانے کی مشق تھم گٸی۔۔۔۔۔سب کے چہروں پر طاٸرانہ نگاہ دوڑاتا وہ اگلا پلان بتانے لگا۔
________________________________
اور کچھ ڈھنگ کا نہیں ملا تھا؟
وکی نے اورنج جگمکاتےکپڑے ہاتھ میں تھام کر کھاجانے والی نظروں سے دلاور کو گھورا۔۔۔۔۔۔
محترم،آپ چھکا بن کر وہاں جارہے ہیں شاید دماغ سے نکل گیاہے۔۔۔ سنجیدہ شکل بناٸے فہد کے کہنے پر دلاور نے قہقہ لگایا۔
وکی ذرا پہن کےدکھا یہ کپڑے۔۔۔۔۔اب کے دلاور نے لقمہ دیا۔۔۔۔۔۔”ہاں ضرور”..چباچباکر بولتا وکی اسے گھورنے لگا۔۔۔۔۔
انکے گینگ کا ایک ممبر شام پانچ بجے روز سڑک پر دیکھا جاتا ہے بس اسی کے توسط سے تمھیں ان میں شامل ہونا ہے۔۔۔
شاہ زین نے پرسوچ انداز میں وکی کو دیکھا۔۔۔۔۔
آپکو وکی کی صلاحيتوں پہ شک ہے کیا؟
یہ سب سنبھال لے گا۔۔۔۔۔فہد کے کہنے پر بغور شاہ زین کی بات سنتے وکی نے اسے گھورا۔۔۔۔۔”کیوں میں کیا چھکا گینگ کا سربراہ رہ چکا ہوں جو مجھے بڑا تجربہ ہے”
چھکوں کے گینگ کا سربراہ
“مطلب حسینہ باٸی”
دلاور نے پرخیال انداز میں کہا۔۔۔۔۔أَسْتَغْفِرُ اللّٰه
وکی نے کانوں کو ہاتھ لگاکر جھرجھری لی۔۔۔
شاہ زین کے لبوں کے کونوں پر بھی مسکراہٹ نمودار ہونے لگی جسے اس نے لب بھینچ کر روک لیا۔۔۔۔۔گھر سےباہر وہ ہمیشہ سے سنجیدہ رہا کرتا تھا۔۔۔۔۔۔
فکس پانچ بجے انکی کار ایک مصروف روڈ سے کچھ فاصلے پر رکی۔۔۔۔۔”بیسٹ آف لک”شاہ زین نے اسکا حوصلہ بڑھایا۔۔۔۔۔گلابو،تو ناں وہ لگ رہی ہے بلکل۔۔۔۔۔۔فہد کی زبان پر پھر کھجلی ہوٸی۔۔۔۔۔
کیا لگ رہی ہوں؟۔۔۔۔
مم…..میرا مطلب ہے کیا لگ رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔
وکی کو فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ وہ کیا کہہ گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔سب قہقہ لگاکر ہنس پڑے۔۔۔۔۔۔
شرم کرو بے شرموں،مجھے ایسی جگہ بھیج کر قہقے لگارہے ہو۔۔۔۔۔۔وکی نے سر پرلگے مصنوعی بالوں پر ہاتھ پھیرکر ایک ادا سے کہا۔۔۔۔۔”کمال کی ایکٹنگ ہے”
فہد نے سراہا۔۔۔۔۔۔
“وہاں دیکھو”
شاہ زین نے ایک جانب کو اشارہ کیا جہاں آتشی کپڑوں میں ایک چھکا دکھاٸی دے رہا تھا۔۔۔۔۔
تم تیار ہو؟۔….
“یس سر”۔۔
وکی نے سنجیدہ لہجے میں کہا اور کار سے اترآیا۔۔۔
اب اسکا رخ اس چھکے کی طرف تھا۔۔
__________________________________
ملازمہ کھانا رکھ کر باہر نکل گٸی۔۔۔۔ٹرے خالی کرکے اس نےوہیں رکھی اوردروازے سے سر نکال کر باہر جھانکا۔۔۔۔۔یہ دوسری منزل تھی،کاریڈور میں لاٸن سے کمرے بنے تھے۔۔۔۔۔۔۔اس نے قدم آگے بڑھاٸے،ایک کمرے کے آگے سے گزرتے ہوٸے اسے رونے کی آواز آٸی تو ٹھٹھک کر رک گٸی۔۔۔۔۔۔۔
کمرے کا دروازہ دھکیلا تو ان لاکڈ تھا۔۔۔۔۔۔۔اندر دیکھا تو ایک لڑکی گھٹنوں میں سر دیۓ ارد گرد سے بے نیاز رونے میں مصروف تھی۔۔۔گٹھنوں میں دیۓ۔سر پر دوپٹہ ٹکا تھا۔۔۔۔۔”تم کیوں رورہی ہو؟”۔۔۔۔۔
عینا نے کمرے میں داخل ہوتے سوال کیا۔۔۔۔۔۔اس لڑکی نےجھٹکے سے سر اٹھاکر سامنے دیکھا۔۔۔۔۔عینا نے اتنی خوبصورت آنکھیں پہلے کبھی نہ دیکھی تھیں۔۔۔۔۔۔بڑی بڑی سبز کانچ سی آنکھیں پانیوں سے بھری تھیں۔۔۔۔۔
“کون ہو تم”؟
اب کے اس چھوٹی سی لڑکی نے رندھے گلے کے ساتھ سوال کیا۔۔۔۔۔میں عرینہ ہوں۔۔۔۔عینا نے مصلحت کے تحت اصل نام چھپایا۔۔۔۔
اور تم؟۔۔۔۔۔۔
دودھیا رنگت اور سبز آنکھوں والی وہ لڑکی خاموشی سے عینا کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔
تم کون ہو؟
عینا کو اپنا سوال دوہرانا پڑا۔۔۔۔۔”ماہم”۔۔۔
وہ دھیرے سے بولی۔۔۔۔۔
یہاں کیسے آٸیں؟۔۔۔۔۔
ماہم نے مخصوص دھیمے انداز میں سوال کیا۔۔۔۔۔عینا نے ٹھنڈی سانس بھر کر اسکا چہرہ تکا،ہر قسم کی مکاری و چالاکی سے عاری بھولا سا چہرہ۔۔۔۔۔۔۔”مجھے کڈنیپ کرکے لایا گیا ہے”۔۔
کب؟
عینا کے بتانے پر اس نے اگلا سوال کیا۔۔۔۔۔
دو دن پہلے۔۔۔۔۔۔اور تمھیں؟
عینا نے جواب کے ساتھ سوال داغا جس پر ایک کرب سا اس لڑکی کے چہرے پر پھیلتا چلا گیا۔۔۔۔۔۔
اسی اثنا میں شبو اندر داخل ہوٸی۔۔۔۔۔
“ہاٸےتو یہاں کیا کررہی ہے؟حیرت کے مارے اگلیاں ہونٹوں پر رکھے عینا کو گھورتے شبو نے سوال کیا۔۔۔۔۔”لڈو کھیلنے آٸی تھی”۔۔۔۔۔عینا نے تپانے والے انداز میں کہا اور اٹھ کر دروازے کی طرف بڑھ گٸی۔۔۔”سن چھوری،تیرا بھی کوٸی بندوبست کرنا پڑے گا”۔۔۔شبو ہاتھ ہوا میں لہراکر غصے سے بولی،عینا ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکالتی واپس اپنے کمرے میں آگٸی,

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: