Hisar e Ishqam Novel by Pari Saa – Episode 9

0
حصارِ عشقم از پری سا – قسط نمبر 9

–**–**–

حمیرا پھپھو آٸی ہیں۔۔۔۔۔
نازنین نے آہستہ سے کہا،بڑی ماما اور دادو نے بے یقینی سے اسے دیکھاتھا۔۔۔۔۔۔
کچھ دیر بعد حمیرا پھپھو چہرے پر مسکراہٹ سجاٸے اسٹیج پربیٹھی رشل کے واری صدقے جارہی تھیں۔۔۔۔۔۔گھر کے مردوں کے علم میں بھی یہ بات آگٸی تھی لیکن سب چپ تھے کہ گھر مہمانوں سے بھرا تھا۔۔۔۔۔۔رشل اور شاہ زین بھی حیران سے تھے،رشل کو تو انکی یہ محبت دکھاوا لگ رہی تھی۔۔۔۔۔
مہندی کی رسم سے فارغ ہوکر رات تک سب سونے چلے گٸے تھے،تب حمیرا زوہیر اور تیمور صاحب کے پاس چلی آٸیں۔۔۔مجھے معاف کردیں بھاٸی جان،میں غلط تھی اورآپ لوگوں کا فیصلہ سہی،مجھے احساس ہوگیا ہے،میں جانتی ہوں آپ لوگوں کا دل بہت بڑا ہے۔۔۔۔۔۔انہوں نے نظر جھکاکر سادگی سے کہا،اس گھر کے مکینوں کا ظرف تھا جو انہیں کھلے دل سے معاف کردیا گیا تھا اور ایک بار پھر انکی آمدورفت آفندی ولا میں شروع ہوگٸی تھی،شادی والا گھر تھا سو طرح کے کام تھے حمیرا پھپھو بڑھ چڑھ کر ہر کام میں حصہ لے رہی تھیں سارہ کا رویہ بھی یک دم بدل ساگیا تھا،وہ واقعی اپنے کیۓ پر پچھتارہی تھیں یاں یہ کوٸی چال تھی یہ آنے والا وقت بتانے والا تھا۔۔۔۔___________________________________
مجھے تمھارے ہاتھوں پر مہندی دیکھنی ہے۔۔۔۔۔
زین کا میسج رشل اگنور کرگٸی،رات کے ساڑھے گیارہ ہونے کو آٸے تھے،ہاتھوں کی مہندی لگ چکی تھی پیروں کی اختتامی مراحل میں تھی،رشل کی خالہ ذاد کزن حبا مہارت سے خوبصورت نقش و نگار بنارہی تھی،رشل نے دلچسپی سے ہاتھوں پیروں پر نظر دوڑاٸی،تب دوبارہ موباٸل واٸبریٹ ہوا۔۔۔۔۔۔
“پک سینڈ کرو مہندی کی”۔۔۔۔۔۔
زین کی طرف سے دوبارہ میسج موصول ہوا تھا۔۔۔۔۔رشل نے ناک چڑھاکر موبائل ایک طرف ڈال دیا اور ہاتھوں کی تازہ گیلی مہندی پر پھونک مارنے لگی۔۔۔۔۔۔
“اگر تم نے تصویر نہ بھیجی تو میں خود آکر دیکھوں گا”۔۔۔۔
پچھلے تمام میسجز کی طرح رشل اس میسج کو بھی کسی خاطر میں نہ لاٸی تھی۔۔۔۔۔۔مہندی لگاکر حبا بھی سونے چل دی تھی۔۔۔۔۔اسکے جاتے ہی رشل خوبصورت بیل بوٹوں سے سجے پیر پنجوں کے بل زمین پر رکھتی سہج سہج کردروازہ لاک کرنے کے ارادے سے آگے بڑھی۔۔۔۔۔۔آہستہ آہستہ آگے بڑھتی ابھی وہ دروازے تک پہچی تھی کہ زین نے کمرے میں قدم رکھا۔۔۔۔۔۔رشل کا رنگ اسے دیکھتے ہی سفید پڑا تھا۔۔۔۔۔دوپٹے سے بے نیاز پیلے فراک میں بالوں کا رف سا جوڑا بناٸے وہ زین کو بہت خوبصورت لگی،دروازہ لاک کرکے زین آہستگی سے اسکی سمت بڑھا۔۔۔۔۔
ہر طرف سناٹے کا راج تھا،قدم آدم کھڑکیوں کے آگے سے پردے ہٹے تھے جہاں سے دھیمی دھیمی ہوا سرسراتی ہوٸی کمرے میں پھیل رہی تھی،جاتے وقت حبا لاٸٹ آف کرگٸی تھی،لیمپ کی مدھم روشنی اور چاند کی دھیمی دھیمی ضو ایک سحر سا باندھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
“کبھی کمال کبھی بے مثال لگتا ہے..
ہر ایک روپ مہکتا ہے یار پر میرے..”
رشل ساکت کھڑی اسے گھوررہی تھی،زین نے اسکے نزدیک پہچ کر ایک بھرپور نظر سر سے لے کر پیر تلک اس پر ڈالی اور دلکشی سے مسکرادیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جوڑے سے نکلتی لٹیں رشل کے رخسار چوم رہی تھیں،گہری آنکھوں کا کاجل پھیلا پھیلا سا حسین لگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
“ماردوگی کیا”اسکی آنکھوں میں جھانک کر زین نے دل پر ہاتھ رکھا۔۔۔
“یہ آنکھیں”اس نے دل پر ہاتھ رکھے اسکے دیکھنے کے جان لیوا انداز پر چوٹ کی۔۔۔۔۔۔رشل کاضبط جواب دینے لگا تھا۔۔۔۔۔۔۔
کیوں آٸے ہو؟ذرا سی شرم حیا باقی نہیں تم میں،یوں منہ اٹھاکر چلے آٸے ۔۔۔۔۔
وہ چباچباکر بولتی زین کو مسکرانے پر مجبور کرگٸی۔۔۔۔۔
میں نے مہندی دکھانے کا کہا تھا،تم نے نہیں مانی بات تو میں خود چلاآیا۔۔۔۔۔۔۔
“دیکھ لی مہندی،اب جاو یہاں سے”کسی نے دیکھ لیا تو……آہا….بیویوں والے ڈاٸلاگ۔۔۔۔۔رشل کی پریشانی سے کہی بات بیچ سے کاٹ کر زین مزے سے بولا۔۔۔۔۔۔
اتنا کیسے گھور لیتی ہو تم؟ یہ آنکھیں دیکھنے سے زیادہ گھورتی ہیں۔۔۔۔۔رشل کے پسندیدہ کام یعنی گھورنے پر چوٹ کرتا وہ ہنسنے لگا۔۔۔۔۔
رشل نے تپ کر رخ موڑ لیا۔۔۔۔
صرف ایک دن…..پھر تم مکمل میری دسترس میں ہوگی۔۔۔۔۔زین اسکے کچھ اور قریب ہواتو رشل نے مہندی کی پرواہ نہ کرتے ہوٸے اسکے سینے پر ہاتھ رکھ کر دور کرنا چاہا۔۔۔۔۔۔۔
“مہندی خراب کردی ساری”زین نے افسوس سے اسکے ہاتھ دیکھے۔۔۔۔۔چلے جاو ورنہ تمھارا منہ مہندی سے رنگ دونگی بہت اچھے لگوگے کل شیروانی پر مہندی والا منہ لے کر۔۔۔۔۔اسکے تپ کر بولنے پر زین نے جاندار قہقہ مارا تو رشل نے پریشانی سے دروازے کی سمت دیکھا۔۔۔۔۔اپنا والیوم ہلکا کرو کوٸی آجاٸے گا۔۔۔۔۔۔۔
اسے مزید تنگ کرنے کا ارادہ ترک کرتا زین جانے کو مڑا،تو رشل نے سکون کا سانس لیا۔۔۔۔۔۔ساری مہندی کا ستیاناس کردیا۔۔۔۔رشل نے ہتھیلیاں دیکھی جہاں سے مہندی خراب ہورہی تھی۔۔۔۔۔کل ملتے ہیں۔۔۔۔۔زین نے دلفریب مسکراہٹ اسکی طرف اچھالی اور باہر نکل گیا۔۔۔۔۔۔ہنہہ۔۔۔۔۔رشل نے غصے سے ہنکارا بھرا۔۔
_______________________________
کامدار بھاری مہرون لہنگے پر واٸٹ قمیز اور دوپٹہ جس پر مہرون بھاری کام بنا تھا زیب تن کیۓ وہ بے انتہا حسین لگ رہی تھی،شاہ زین نے واٸٹ کامدار شیروانی پہن رکھی تھی،آج اسکے رنگ ڈھنگ ہی نرالے تھے۔۔۔۔۔دونوں کی جوڑی کمال کی لگ رہی تھی۔۔۔۔۔تقریب اپنے عروج پر تھی،نازنین نے پیچ کلر کا انرکھااسٹاٸل ڈریس پہن رکھا تھا جبکہ شاہ زیب بھی پینٹ پر ویسٹ کوٹ زیب تن کیۓ خوب جچ رہا تھا۔۔۔۔۔
تقریب رات گٸے تک جاری رہی تھی،تمام رسموں سے فارغ ہوکر رشل کو زین کے روم میں پہچادیاگیا۔
_________________________
گھڑی کی سوٸیاں دو کا ہندسہ پار کررہی تھیں جب زین نے کمرے میں قدم رکھا۔۔۔۔۔ایک لحظے کو وہ تھم سا گیا تھا۔۔۔۔۔۔رشل بیٹھے بیٹھے نجانےکب نیند کی وادیوں میں اترگٸی تھی۔۔۔۔زین نے قدم آگے بڑھاٸے اور اطمینان سے بیڈ پر جابیٹھا،نظریں رشل کے چہرے کا طواف کرنے میں مصروف تھیں۔۔۔۔۔
وہ اردگرد سے بے خبر کوٸی سنگ مرمر کا مجسمہ معلوم ہوتی تھی،خم دار پلکیں قندھاری رخساروں پر سایہ فگن تھیں۔۔۔۔۔سرخ لب ناک میں پڑی بڑی سی نتھ چوڑیوں سے سجی ناذک کلاٸیاں۔۔۔۔۔۔زین مبہوت سا رہ گیا تھا۔۔۔۔۔آہستگی سے اس نے ہاتھ بڑھاکر رشل کا رخسار چھوا،اسکے لمس کا احساس تھا کہ رشل نے کسمساکر آنکھیں کھولی تھیں۔۔۔۔۔
_______
وہ اسکے بہت قریب تھا،شاہ زین پر نظر پڑتے ہی وہ کرنٹ کھاکر پیچھے ہوتی اٹھ بیٹھی۔۔۔۔۔۔”کیا ہوا مسز”۔۔۔۔شاہ زین نے مسکراکر اسکا چہرہ دیکھا اور ہاتھ آگے کیا جس پر مخملی کیس رکھا تھا۔۔۔۔۔رشل نے ایک جلتی نظر شاہ زین اور اسکے ہاتھ میں موجود کیس پر ڈالی۔۔۔۔۔شاہ زین نے اس میں سے ایک خوبصورت ڈاٸمنڈ رنگ نکال اور رشل کا ہاتھ تھامنا چاہا لیکن رشل جھٹکے سے بیڈ سے اترگٸی۔۔۔۔۔۔ہاتھ مت لگانا مجھے۔۔۔۔دور رہو۔۔۔۔۔اسکے لہجے میں چنگاریاں سی محسوس کی تھیں زین نے۔۔۔۔
وہ بھی بیڈ سے اٹھ کر اسکے مقابل چلاآیا۔۔۔۔۔”دیکھو رشل،میں چاہتا”ہم اب نٸی زندگی کی شروعات کریں،جو ہوچکا وہ سب بھول جاو۔۔۔۔۔”بھول جاوں؟”شاہ زین کے تحمل سے کہنے پر رشل نے فہماٸشی انداز میں اسے دیکھ کر کہا۔۔۔۔۔نہیں بھول سکتی،کیا بھول جاوں؟یہ بھول جاوں کہ تم نے ہمیشہ مجھ پر اپنی مرضی تھوپی ہے،یہ بھول جاوں کہ تمھاری نظر میں میری اہمیت ایک کمزور بے بس لڑکی سے زیادہ نہیں یاں یہ بھول جاوں کہ میری ذات کو روند کر میری مرضی کو اہمیت دیۓ بغیر تم نے مجھے بلیک میل کرکے زبردستی شادی کی ہے۔۔۔۔۔۔رشل بول کر ہانپنے لگی تھی،شاہ زین نے بغور اسے دیکھا اور آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اسکے قریب جارکا۔۔۔۔۔اب وہ اسکا ہاتھ تھام کر باٸیں ہاتھ کی تیسری انگلی میں رنگ پہنارہا تھا۔۔۔۔۔۔رشل نے ہاتھ چھڑانا چاہا تو اس نے یہ کوشش ناکام بنادی۔۔۔۔۔۔رشل نے اسکے مضبوط ہاتھ کی گرفت میں قید اپنے ہاتھ کو دیکھا اور ایک ذخمی نظر زین پر ڈالی۔۔۔۔۔۔اب وہ اسکی آنکھوں میں جھانکتا اسکے ہاتھ کی پشت پر اپنے ہونٹ رکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔رشل نے آنکھیں اور سے میچ کر کھولیں لیکن مزید کسی قسم کی مزاحمت کی کوشش نہیں کی۔۔۔۔۔۔
تمھارا مسٸلہ پتا ہے کیا ہے؟تم اپنے سامنے کسی کوکچھ سمجھتے ہی نہیں،تمھاری نظر میں صرف تمھاری اہمیت ہے باقی سب تمھاری انگلیوں کے اشاروں پر ناچنے والی کٹھ پتلیاں ہیں۔۔۔۔۔۔۔تم کہتے ہو مجھ سے محبت ہے تمھیں لیکن زین،تم نے مجھے میری مرضی میری ذات کو کبھی کچھ سمجھا ہی نہیں،تمھیں محبت کروانا نہیں آتا۔۔۔۔۔دل میں جگہ بنانا نہیں آتا۔۔۔۔ تمھیں صرف اپنی مرضی کرنی آتی ہے اور تم نے کی،اسلیۓ میں آج یہاں ہوں۔۔۔۔۔۔
نجانے کیوں رشل کی آنکھیں اسے پاتال میں دھکیل رہی تھیں۔۔۔۔۔اسکے ہاتھ پر شاہ زین کی گروفت کمزور پڑگٸی تھی۔۔۔۔۔
لیکن یاد رکھنا،میرا جسم تو حاصل کرچکے ہو لیکن میری روح تک پذیرائی مر کر بھی نہ پاسکوگے۔۔۔۔۔۔
یہ کہہ کر رشل نے ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ سے کھینچا اور آگے بڑھ گٸی۔۔۔۔۔۔شاہ زین خاموش نگاہیں کسی غیر مرٸی نقطے پر جماٸے وہیں کھڑا رہ گیا تھا۔۔۔۔۔رشل کے الفاظ…اسکی سماعتوں میں کسی بزورڈ کی طرح گونج رہے تھے۔۔
_______________________________
یہ پبلک سروس تمھیں کہیں مہنگی نہ پڑجاٸے۔۔۔۔۔!
ایک کھردری سی طنزیہ انداز میں ڈوبی آواز اسکی سماعتوں میں اتری۔۔۔۔۔۔
اور سنو…سب سے اہم بات۔۔۔۔۔تم ہماری نگرانی میں ہو،ذرا سنبھل کے،”غالباً فیملی سب کو عزیز ہوتی ہے”تو کہیں ایسا نہ ہو کوٸی ناقابلِ تلافی نقصان اٹھانا پڑجاٸے۔۔۔۔۔۔
فون کے اسپیکر سے ابھرتے معنی خیز الفاظ پر اس نے بے بسی سے لب بھینچ لیۓ۔۔۔۔۔
تمھاری طرف سے کال کا انتظاررہے گا۔۔۔۔۔رکھتا ہوں!
ٹیک کیٸر…..
کال کٹنے پر اس نے ضبط سے موبائل ایک جانب رکھا اور سر ہاتھوں میں تھام لیا۔۔۔۔
سب کچھ اسکی سمجھ سے باہر تھا،وہ خود کو ایک جال میں جکڑا محسوس کررہا تھا نہ وہ کسی کو کچھ بتاسکتا تھا نہ کسی کو مدد کے لیۓ پکارسکتا تھا۔۔۔
________________________
صبح صبح نازل ہوگٸیں
سونے دو ،شاہ زین نے جماٸی روکتے دروازہ بجاٸے جانے پر دروازہ کھول کر دیکھا تو سامنے نازنین کھڑی تھی۔۔۔۔۔۔”نیچے سب ناشتے پر تم دونوں کا ویٹ کررہے ہیں جلدی آو”۔۔۔۔۔۔
ایک پولیس والے کی زندگی میں کبھی سکون نہیں آتا۔۔۔۔ایک یہ تھانے والے اور ایک یہ گھر والے،دونوں پکے دشمن ہیں۔۔۔۔۔شاہ زین کے چڑ کر کہنے پرنازنین نے بے ساختہ اپنی مسکراہٹ دباٸی۔۔۔۔۔۔”بڑوں کو ویٹ کرانا اچھی بات نہیں،چلو جلدی نیچے پہچو رشل کو لے کر”۔۔۔۔
واو….یہ اچھا ہے،بڑوں کو بھی تو بیچارے بچوں کا خیال کرنا چاہیۓ،وہ بری طرح جلاہوا تھا۔۔۔۔۔
رشل اٹھ گٸی؟نازنین نے سوال کیا۔۔۔۔۔”نہیں”خوابِ خرگوش کے مزے لوٹ رہی ہے۔۔۔۔۔ایک اپنا ہی بیڈ لک ہے۔۔۔۔۔اسکی بات پر نازنین نے مشکوک نگاہوں سے اسے گھورا۔۔۔۔۔۔”میرے بیچارے بھاٸ کو مار پڑی ہے کیا؟”وہ رشل کی جنگجو فطرت سے خوب واقف تھی اسلیۓ پوچھ بیٹھی۔۔۔”اب اتنا شریف بھی نہیں ہے تمھارا بھاٸی،زین نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے کہا”۔۔۔۔۔۔چلو رشل کو جگاو اور فٹافٹ ناشتے کے لٸے آو ورنہ دادو نے یہیں آجانا ہے۔۔۔۔۔۔
نازنین کے کہنے پر وہ سر اثبات میں ہلاتا دروازہ بند کرتا صوفے کی طرف بڑھا جہاں رشل چادر لپیٹے گہری نیند سورہی تھی،رات کو چینج کرکے بنا کچھ کہے وہ بیڈ کے بجاٸے صوفے پر جالیٹی تھی،اس وقت وہ غصے میں تھی اسلیۓ زین کچھ نہ بولا۔۔۔۔۔
اٹھو رشل اس نے کندھا ہلایا لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوٸی۔۔۔۔۔۔
اٹھو یار،سب ویٹ کررہے ہیں نیچے۔۔۔۔۔۔اب کی بار اس نے چادر اسکے چہرے سے ہٹاٸی تو رشل نے کسمساکر آنکھیں کھول دیں۔۔۔۔۔۔
تم مجھے کبھی سکون سے رہنے مت دینا سمجھے۔۔۔۔۔وہ چباچباکر بولتی دوبارہ سونے کے چکر میں تھی جب زین نے چادر پکڑ کر پوری کھینچ لی۔۔۔۔۔۔
سمجھ گیایار نہیں رہنے دونگا پر ابھی تو اٹھو ۔۔۔۔۔۔وہ یقیناً ڈھیٹوں کا سردار تھا۔۔۔۔۔۔تمیز نہیں ہے کیا؟یوں کسی پر سے سوتے میں چادر کھینچتے ہیں؟
وہ اٹھ کر بیٹھی اورسلکی کمر تک آتے بالوں کا رف سا جوڑا بناتی تیز نظروں سے اسے گھورتی ہوٸی بولی۔۔۔۔۔
“بیوی پر سے کھینچ سکتے ہیں”زین نے اسکے غصے سے سرخ ہوتے چہرے سے حظ اٹھاتے کہا۔۔۔۔۔۔۔رات والے واقعے کا شاٸبہ تک نہ تھا اسکے چہرے پر۔۔۔۔۔”بس اب میری زندگی ایسے ہی جلتے کڑھتے گزرے گی”۔۔۔۔۔۔رشل نے اپنی قسمت پر ماتم کیا اور ڈھیٹ بن کر مسکراتے زین پر کو ایک گھوری سے نوازتی باتھ لینے کےارادے سے آگے بڑھنے لگی تب ہی زین نے اسکا بازو پکڑکر اپنے مقابل کیا۔۔۔۔۔”تم چاہو تو اچھی بھی گزرسکتی ہے تمھاری زندگی”۔۔۔۔۔۔۔دوبارہ مجھے اس طرح مت ہاتھ مت لگانا۔۔۔۔رشل نے ناگوار لہجے میں کہتے اپنا بازو اسکی گرفت سے چھڑانا چاہا۔۔۔۔۔۔”پھر کس طرح ہاتھ لگاوں؟ “وہ معصومیت سے بولا تورشل نے ایک تیکھی نظر اس پر ڈالی۔۔۔۔تم کبھی نہیں سدھرسکتے۔۔۔۔۔۔اس نے تاسف سے کہتے نفی میں سرہلایا۔۔۔۔۔زین نے مسکراکر اسکا بازو چھوڑااور سینے پرہاتھ باندھے ایک سر آہ لبوں سے خارج کی۔۔۔۔۔۔”میں تو ہوں ہی بگڑا ہوا ٹپوری پولیس والا،تم سدھاردو۔۔۔۔۔”ذرا سا رشل کی طرف جھکتا وہ اسکی آنکھوں میں جھانکنے لگا۔۔۔۔۔۔۔چھچھورا پن میرے سامنے ذرا کم دکھایا کرو۔۔۔۔۔۔رشل ایک سلگتی نظر اس پر ڈالتی تیزی سے آگے بڑھ گٸی۔۔۔۔۔۔”کم دکھایا کروں۔۔۔۔۔مطلب دکھانے کی اجازت ہے”۔۔۔۔۔۔۔۔شاہ زین نے پیچھے سے ہانک لگاٸی۔۔۔۔۔۔رشل ڈریس لے کر خاموشی سے باتھ لینے چل دی،یقیناً وہ شاہ زین سے نہیں جیت سکتی تھی۔۔۔۔۔۔ہنہہ ٹپوری کہیں کا،تمھاری ناک میں دم نہ کردیا تو نام بدل دینا۔۔۔۔۔دل ہی دل میں وہ خود مخاطب ہوٸی جبکہ دانت ایسے کچکچاٸے جیسے دانتوں کے بیچ شاہ زین کی گردن ہو[آخ تھو۔۔
____________________________
یہ ہماری طرف سے۔۔۔۔۔
ناشتے کی ٹیبل پر نازنین نے ایک لفافہ رشل کی طرف بڑھایا۔۔۔۔۔یہ کیا ہے؟۔۔۔۔۔
رشل نے ناسمجھی سے لفافہ چاک کیا تو اندر سے دو ٹکٹ نکلے۔۔۔۔۔۔پیرس کے ٹکٹ،نازنین مسکراکر بولی۔۔۔۔۔۔شاہ زین نے ٹیبل کے نیچے سے رشل کے پیر سے پیر مس کیا تو بے اختیار رشل نے ٹیڑھی نظروں سے برابر کی کرسی پر بیٹھے شاہ زین کو گھورا۔۔۔۔۔۔۔۔
دس پندرہ دن کی چھٹی لے لو زین،ذوہیر صاحب کے کہنے پر زین نے تابعداری سے سر ہلادیا۔۔۔۔۔۔اوکے پاپا۔۔۔۔
رشل نے ابرو اچکاکرجوس کا گلاس لبوں سے لگاتے زین کے اس تابعداری کے شاندار مظاہرے کو دیکھا اور ایک سوچ بے اختیار دماغ میں آتے ہی شاطرانہ مسکراہٹ اسکے لبوں پر پھیل گٸی۔۔۔۔۔۔
ناشتے سے فارغ ہوکر زین کسی کام سے باہر چلاگیا،رشل سب کےساتھ لاونج میں بیٹھی باتوں میں مصروف ہوگٸی۔۔۔۔۔منہ دکھاٸی میں کیا ملا۔۔۔۔۔نازنین نے شرارت سے آنکھیں گھماکر پوچھا تو رشل نے ہاتھ آگے کردیا۔۔۔۔۔۔جس کی تیسری انگلی میں ایک خوبصورت رنگ جھلملارہی تھی۔۔۔۔۔۔۔واو،نازنین کے ساتھ باقی سب نے بھی بے اختیار سراہا۔۔۔۔۔رنگ کے بیچ میں ایک ڈاٸمنڈ تھا جس پر درخت کی شاخوں جیسی ذلفوں میں چھوٹے چھوٹے ڈاٸمنڈز جگمگارہے تھے۔۔۔
___________________
وکی شور کی آواز پر فوراً نیچے دوڑا۔۔۔۔۔نیچے کا منظر دیکھ کر اسے ایک لمحے کو پریشانی نے آگھیرا پھر کچھ سوچتا آگے بڑھا۔۔۔۔۔۔
عینا نے اپنے پاس آتی شبو کو اچھل کو لات رسید کی تو وہ وہی کراہتی بیٹھ کر مغلظات بکنے لگی،عجیب شورشرابا مچا تھا وہاں۔۔۔۔
“ہاٸے ہاٸے یہ کیا ہورہا ہے یہاں”؟گلابو نےسینے پہ دو ہتڑ مار کر سوالیہ انداز میں سب کو دیکھا،آنکھیں الگ حیرت سے پھٹنے کو تھیں۔۔۔۔۔۔”کمال کی ایکٹنگ،عینا نے وکی عرف گلابو کے اسٹاٸل کو دل میں سراہا” حسینہ باٸی شریف سی دکھنے والی عینا کے مکوں پنجوں سے ڈر کر تخت تک محدود ہوٸی بیٹھی تھی البتہ شاندار تبصروں کا سلسلہ وہی بیٹھے بیٹھے زوروشور سے جاری تھا،آخر وہ کر بھی کیاسکتی تھی..بیچاری
درمیانی عمر کا ایک شخص ہکابکا سا پاس کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔حسینہ باٸی نے اپنے گاہگ کے متذلزل انداز پر ہاتھ مسلے۔۔۔۔۔۔
اوٸے،نکل یہاں سے ۔۔۔۔۔۔اب کے عیناخونخوار تاثرات چہرے پر سجاٸے اس اجنبی کی طرف بڑھی جب گلابو نے جلدی سے اسے پکڑا۔۔۔۔۔۔
کمبخت ماری کیا کرتی ہے؟سب کو فٹ بال کی طرح دھوٸے جارہی ہے۔۔۔۔۔آس پاس سب سہم کر کھڑے سولہ جوالہ بنی عینا کو دیکھ رہے تھے،ماہم بھی ریلنگ سے لگ کر کھڑی حیرت سے عینا کو دیکھ رھی تھی،ورنہ سارا وقت کو کمرہ بند رہتی تھی ۔۔۔۔۔۔
حسینہ باٸی نے پہلی بار عینا کو ایک گاہک کے حوالے کرکے موٹی رقم حاصل کرنی چاہی تھی اور عینا نے ایک منٹ میں سب کے دماغ ٹھکانے لگادیۓ تھے،آخر کو بلیک بیلٹ چیمپیٸن تھی۔۔۔۔۔۔وکی کی گرفت میں اس نے گھور کر وکی کو دیکھا۔۔۔۔۔۔
گلابو اسے زبردستی وہاں سے لے جانے لگی،عینا پر شدید غصے کا دورہ پڑا تھا۔۔۔۔۔۔اس سے کوٸی بعید نہ تھا کچھ الٹا ہی کردیتی۔۔۔
Trabajar
conscientemente
(ہوش سےکام لو )
وکی نے اسکے کان میں سرگوشی کی تاکہ کوٸی اورنہ سن سکے..
OK, vete ahora pero me divertiré
(اوکے،ابھی چلو لیکن اسے میں مزہ چکھاکے رہونگی)
عینا نے سپانش لینگوٸج میں ہی کہا،اسکے کہے الفاظ سب کے سروں پر سے گزرگٸے تھے۔۔۔۔۔اس نے حسینہ باٸی کو دیکھتے چباچباکر یہ الفاظ اداکیۓ تھے۔۔۔۔۔
چل ری،تو اوپر چل ۔۔۔۔۔گلابو نے صلح جو انداز میں کہتے حسینہ باٸی کو اشارہ کیا اور عینا کو زبردستی وہاں سے لے جانے لگی،بڑی مشکل سے وہ کھینچ تان کر بھپری شیرنی بنی عینا کو اوپرلے جانے میں کامیاب ہوٸی توحسینہ باٸی سمیت سب نے سکون کا سانس بھرا،وہ اجنبی پہلے ہی بھاگ چکا تھاجان بچاکر۔۔۔۔عینا کو کمرے میں بند کرکے گلابو حسینہ باٸی کہ پاس آٸی۔۔۔۔۔
“بڑی مشکل سے یہ چھوکری قابو کی ہے،بڑی طاقت ہے منحوس ماری میں،بیگم حسینہ تم فکر نہ کرو گلابو اس کا دماغ ٹھکانے لگادے گی”۔۔۔۔۔
وکی نے چہرے پر خطرناک تاثرات لیۓ حسینہ باٸی کو مصنوعی غصہ دکھایا۔۔۔۔۔
ابھی اسے کمرے میں بند کردیا ہے میں نے۔۔۔۔۔
اب وہ زوردار تالی مار کر واتھ جھاڑکر بولی۔۔۔۔۔۔”اے شبو” کھانا مت دیجیو پورادن اس کمبخت کو۔۔۔۔۔۔
شبو نے بازو سہلاتے سرہلادیا،عینا نے اسکا بازو پکڑ کر کپڑے نچوڑنے والے انداز میں مروڑ ڈالا تھا۔۔۔۔۔حسینہ باٸی گلابو سےکافی متاثر نظر آرہی تھی۔۔۔
_______________________
“سنو”
زین کمرے میں آیا تو رشل موبائل میں گیم کھیلنے میں مصرف تھی۔۔۔۔۔زین کی پکار کا اس پر کوٸی اثر نہ ہوا۔۔۔۔۔۔۔
“رشل”
اس نے دوبارہ پکارا۔۔۔
“کیا ہے”لٹھ مار انداز میں جواب دیا گیا۔۔۔۔۔ہم رات کو نکلیں گے پیرس کےلیۓ،فٹافٹ اپنی اور میری پیکنگ کرو۔۔۔۔زین کہہ کر باتھ لینے چل دیا۔۔۔۔۔۔
پندرہ منٹ بعد وہ واپس آیا تو رشل ہنوز گیم کھیلنے میں مصروف تھی۔۔۔۔۔۔
تم ابھی تک یہیں بیٹھی ہو؟رات کو نکلنا ہے ہمیں۔۔۔۔۔
“کہاں جانا ہے”؟
رشل نے سر اٹھاکر انجان بنتے سوال کیا۔۔۔۔۔
ہنی مون ،زین نے بالوں میں برش کرتے شرارت سےاسے ڈریسنگ مرر میں دیکھا۔۔۔۔
“پیکنگ کرنا بیکار ہے “رشل نے سنجیدگی سے موبائل پر نظریں جماٸے کہا۔ تو زین نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔
“کیوں”؟
“کیونکہ وہ ٹکٹس میں نے پھاڑکر پھینک دی ہیں”رشل نے اطمينان سے موبائل سکرین پرمخروطی انگلیاں چلاتے کہا۔۔۔۔
_______________
رشل کی بات پر زین کو جھٹکا لگا تھا۔۔۔
چند لمحوں تک وہ ڈریسنگ مرر کے سامنے کھڑا اسے گھورتا رہا۔۔۔۔
رشل توقع کیۓ بیٹھی تھی وہ ابھی اسکے سر پر پہچ کر غصہ کرے گا لیکن چند منٹ انتظار کرنے کے بعد بھی ایسا کچھ نہ ہوا تو رشل نے سر اٹھاکر اسے دیکھا۔۔۔۔
زین ڈریسنگ ٹیبل سے کمر ٹکاٸے ٹانگوں کو کراس کی شکل دیۓ سینے پر بازو باندھے بھرپور نظروں سے اسکا جاٸزہ لینے میں مصروف تھا۔۔۔۔۔
توقع کے برخلاف زین کے دیکھنے پر رشل بری طرح گڑبڑاگٸی۔۔۔۔۔۔
“Mi Alma”(میری جان)
مونچھوں تلے عنابی لبوں پر بڑی دلفریب مسکان سجاٸے وہ اسکی طرف بڑھتا ہوا سرگوشی میں بولا۔۔۔۔۔
رشل سمجھ نہیں سکی اس نے کیا کہا تھا۔۔۔۔”کہیں ایس پی کا دماغ تو نہیں ہل گیا”دل میں سوچتے وہ موبائل ساٸنڈ پررکھتی وہ جلدی سے اٹھ کر کھڑی ہوگٸی۔۔۔۔اس سے پہلے کے وہ بھاگتی زین نے بازو سے پکڑکر اسے اپنے سامنے کرلیا۔۔۔۔۔”داد دینی پڑی گی اپنی شیرنی کو”۔۔۔۔۔۔
تو تم میرے ساتھ ہنی مون پر نہیں جاوگی؟
زین نے اسکے چہرے پر نظریں ٹکاٸے سوالیہ انداز میں پوچھا۔
“نہیں ہنہ”
توقع کے مطابق لٹھ مار انداز میں جواب دیا گیا تو بے ساختہ زین نے لب دباکرمسکراہٹ روکی ۔۔۔
اب اس نے چہرے پر سنجیدگی طاری کرلی تھی۔۔۔۔پیکنگ کرلو،تمھارے پاس صرف آج کی رات ہے،صبح فجر کے بعد ہمیں نکلنا ہے۔۔۔۔۔۔
اسکے مطمئن انداز میں کہنے پر رشل نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔۔”شاید تم نے سنا نہیں،میں پیرس کی ٹکٹس پھاڑچکی ہوں”۔۔۔۔
زین کی آنکھوں میں دیکھتی وہ چباچباکر بولی۔۔۔۔۔
“آپکی اطلاع کے لٸے عرض ہے کہ خادم پہلے ہی لنڈن کی سیٹس بک کراچکا ہے”۔۔۔
زین نے سینے پر ہاتھ رکھ کر ذرا جھک کر ایک انداز سے کہاتورشل کے تن بدن میں شرارے دوڑنے لگے۔۔۔۔۔
ٹپوری پولیس والا اسکی سوچ سے کہیں آگے کی چیز تھا۔۔
“یہ تمھاری خوش فہمی ہے کہ میں تمھارے ساتھ کہیں جاونگی”وہ دانت پیس کر بولی۔۔۔۔۔
“اور یہ تمھاری غلط فہمی ہے کہ تم میرے ساتھ کہیں نہیں جاوگی”۔۔۔۔زین بھی اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتا اسی کے انداز میں بولا۔۔۔۔۔۔رشل پاوں پٹختی باہر نکل گٸی۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: