Hisar e Ishqam Novel by Pari Saa – Last Episode 17

0
حصارِ عشقم از پری سا – آخری قسط نمبر 17

–**–**–

آج ویک اینڈ تھا سب لان میں کین کی کرسیوں پر بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے،زین نے ثانیہ کو اٹھاکر گود میں بٹھایا….
اب تو میری پرنسزناراض نہیں ہے ناں بابا سے؟
نو،…..
ثانیہ نے پرجوش انداز میں سرہلایاتو زین مسکرااٹھا
میری چھوٹی سی گڑیا
زین نے محبت سے اسکی ستواں ناک دباٸی،اندازواطوار کے ساتھ ساتھ وہ دکھنے میں بھی رشل جیسی تھی….
میں نالاج ہوں…
اگلے ہی لمحے اس نے رخ پھیرلیا،منہ بھی پھول چکاتھا
کیوں بھٸی?…..
شوتی نٸی بولاکلیں(چھوٹی نہیں بولاکریں)
میری جان آپ ابھی چوٹی ہو اسلیۓ چھوٹی سی پرنسس کہتاہوں
بابا میں شوتی پرنشش نٸی بَلی پرنشش ہوں….
اسکی بات پر پاس بیٹھے ہادی نے قہقہ لگاکر اسے دیکھاتھا
ثانیہ نے خفگی سے زین کو دیکھا…..وہ چاہتی تھی زین ہادی کو ڈانٹیں
آپ دونوں لڑانہیں کرو کیوں کہ لڑنے والے بچے بہت گندے ہوتے ہیں،سب ان سے ناراض ہوتے ہیں….
اچھے بچے لڑتے نہیں ،اور ہمیشہ سچ بولناچاہٸے اللہ کو سچ بولنے والے بچے پسند ہوتے ہیں
زین نے ایک نظر دونوں کو دیکھا وہ جانتا تھا دونوں فوراً کہتے ہم نہیں لڑتے مگر آخری بات کااثر تھا دونوں جلدی سے مان گٸے
سب باتوں کے درمیاں پروفیسر شاہ زین اور بچوں کی باتیں بھی سن رہے تھے،تمھیں انکی ماما ہونا چاہیۓ تھا
کتنا اچھاسمجھاتے ہو بچوں کو
شاہزیب کہ کہنے پر سب ہنسنے لگے تھے اسی اثنامیں ملازمہ واٸر لیس لیۓ وہاں پہچی
حمیرابیگم کی کال ہے..
اس اطلاع پر سب یکدم چپ ہوٸے تھے
بڑی ماما نےبات کرکے سب کو دیکھا….
سارہ ہاسپٹل میں ہے اور ہم سے ملناچاہتی ہے….
انکے الفاظوں پر سب چونک سے گٸے تھے…
________
وہ سب پچھلے دس منٹ سے وہاں موجود تھے،ہاسپٹل کے اس سردکمرے میں خاموشی کاراج تھا….
اتنے نفوس کی موجودگی کے باوجود جیسے وہاں کوٸی نہ تھا…..
بیڈ پر نیم دراز وہ وجود پچھلے دس منٹ کے دوران سواٸے آنسوں بہانے کے ایک لفظ نہ کہہ پایا تھا…..۔۔۔۔
سرخ آنکھوں کے گردگہرےحلقے،متورم آنکھیں جھکی ہوٸی پلکیں…..جیسے ان پر کوٸی بوجھ دھراہو،،،،بوجھ تو تھا…اسکے ضمیرپر اسکی ماضی میں کی گٸی غلطیوں کا،،،،،جس کا خمیازہ آج وہ بھگت رہی تھی…..
بیڈکےساتھ حمیرابیگم کھڑی تھیں…
آج کندھے ذراڈھلکے ہوٸے تھے…..گردن جھکی ہوٸی اور چہرے پر ندامت کے آثار……
اپنےخونی رشتوں کوبربادکرنے کے لیۓ کھودے گڑھے میں وہ خودکرگٸی تھیں….
شادی کو تین سال گزرجانےکے باوجود سارہ کے ہاں کوٸی اولاد نہ ہوٸی تھی جسکے نتیجے میں اسکے شوہرنے دوسری شادی کرلی تھی…..وہ بہت روٸی بہت گڑگڑاٸی تھی لیکن شاید اسکاپالا پتھر دلوں سے پڑاتھا….ایک وقت تھاجب اسکااپنادل پتھر تھا……اپنوں کو خوش دیکھ کر سلگ جانے والا……
آج وہ پتھر بری طرح چکناچوردکھاٸی دیتاتھا…..
تین دن ہوچکے تھے اسے ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہوٸے،اور اسکاشوہر ہاسپٹل میں آکر ہی اسے طلاق کے کاغذات دے گیا تھا……
تب سے اسکی حالت مزید خراب تھی…..
دادی جان اور بڑی ماما
نے آگے بڑھ کر حمیرابیگم کے کو گلے لگایا تھا…
مجھے…معاف….کردو
سارہ کے آنسووں میں بھیگے لہجے پر نازنین اور رشل نے تاسف سے اسے دیکھاتھا…..
نازنین کو اندازہ ہونے لگاتھا کہ معاف کرنے کااجر اتنا وسیع کیوں ہے….
دوسروں کی غلطیوں کو معاف کرنااعلیٰ ظرفی ہے…گر دوسروں کی غلطیاں معاف نہ کی جاٸیں تو اپنے لیۓ بھی معافی کی امید رکھنابیوقوفی ہے،بیشک اللہ ﷻ معاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اور ان سب نے اعلیٰ ظرفی دکھانے میں دیر نہ کی تھی…..
گھر کے مرد بھی ہاسپٹل آٸے تھے…..
رشل کے ساتھ کھڑی ثانیہ نے دزدیدہ نظروں سے روتی سارہ کو دیکھا پھر سراونچاکرکے رشل کو دیکھنے لگی…..
ماما یہ کو روری ہیں؟
اس سوال پر پاس کھڑاہادی بھی رشل کی طرف متوجہ ہوا تھا….
باقی کسی کا دھیان ان کی طرف نہ تھا
بیٹاوہ سوری کررہی ہیں،اسلیۓ رورہی ہیں…..
سوری کیوں کررہی ہیں؟ ہادی نےبھی آواز ذرا دھیمی رکھ کر پوچھا….
جب کوٸی غلطی ہوجاٸے تو سوری کرناچاہیۓ ،اسلٸے کررہی ہیں……
آنٹی نے کیا غلطی کی ؟
جاتے وقت کار میں بیٹھے اچانک ہادی نے سوال کیا تھا
ڈراٸیونگ سیٹ پر بیٹے شاہزیب نے مڑکرہادی کو دیکھا…..
نازنین نے پیارسےہادی کے بالوں میں ہاتھ پھرتے شاہزیب پر ایک نظر ڈالی…
بیٹاغلطیوں کو یاد نہیں کرتے،بھول جاناچاہیۓ،بس یہ یاد رکھنا چاہیۓ کہ ہم سے جب کوٸی غلطی ہو فوراً سوری کرلیں
ماں کی بات پر ہادی نے عقل مندانہ انداز میں سرہلاکرثانیہ کو دیکھا….
کچ چھمج(سمجھ) آٸی
ثانیہ نے اس سے ڈبل سنجیدگی سے سوال داغاتو ہادی نے کندھے اچکادیۓ
آفکورس چھوٹی سی ثانیہ
جبکہ ثانیہ نے فوراً جوابی وار کرنے کی تیاری پکڑی تھی
انکی نوک جھوک ایک بارپھر شروع ہوچکی تھی
رشل اور نازنین ایک دوسرے کو دیکھتی مسکرادٸیں
________________________________________
لان جیسے جگمگااٹھاتھا….
رات کے وقت بھی ہرطرف روشنیاں رقص کناں تھیں
پھولوں اور لاٸٹس کی ڈیکوریشن ماحول کو خوبصورت بنارہی تھی
یہ وکی اور عیناکے جڑواں بیٹوں کے عقیقے کامنظر تھا
خوش گپیوں میں مصروف مہمانوں کے درمیان فہد اپنی دوسالہ بیٹی کو اٹھاٸے کھڑاتھا
ساتھ کھڑی ماہم چہکتی خوش دکھاٸی دے رہی تھی…..گاہے بگاہے خودپر پڑتی فہد کی نظریں اسے شرمانے پر مجبورکررہی تھیں
شاہ زین اور رشل بھی وہیں کھڑے تھے ،قہقے لگاتی رشل کاسیل رنگ ہوا تو اس نے نکال کر میسج چیک کیا
پاس وکی بھی کھڑازین کے کسی بات کے جواب میں سرہلارہاتھا جب پشت سے ابھرتی آواز پر مڑا
گلابو تم یہاں کھڑی ہو اور میں کب سے تمھیں ڈھونڈتی پھررہی ہوں
عیناکافی غصے میں لگ رہی تھی
اسکے طرزتخاطب پر وکی بےاختیارخجل ساہوگیا جب کے باقی تمام نفوس کے لبوں پر مسکراہٹ بکھرگٸی تھی
تمھیں دیکھ لونگامیں
وکی نے گھورا
ابھی دیکھ لو سامنے تو کھڑی ہوں میں
عینانے ناک سے مکھی اڑاٸی
وہ دونوں دو جڑواں بیٹوں کے والدین بن کر بھی ویسے ہی تھے
انکی باتوں پر سب ہنستے مسکراتے ایک بھرپور منظر پیش کررہے تھے جس میں قہقے تھے،خوشیاں تھیں مسرتیں تھیں…..لیکن….ضروری نہیں خوشیاں ہمیشہ رہیں
یہی دنیاکادستورہے یہی اصول ہے…..
خوشی اور پریشانی زندگی کاحصہ ہے،یہ ہم پرمنحصرہے کہ کیسے انکاسامناکرتے ہیں!
تمت بلخیر
اریبہ انصاری✒

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: