Hoor e Janat Novel by Usama Rahman Mani – Last Episode 2

0
حور جنت از اسامہ رحمن مانی – آخری قسط نمبر 2

Download in PDF
–**–**–
–**–**–

وہ آخری فیصلہ سنا کر ہوئے روانہ۔۔۔
میں لاکھ چیخی جناب عالی،جناب عالی۔۔۔۔۔۔

کرم داد رانی کو ساتھ لئیے کراچی کے سفر پر نکل رہا تھا۔۔۔

**********

اگلے روز پھر سے صارم اپنے مقررہ وقت پر چائنہ چوک پہنچا مگر آج۔۔۔۔۔۔آج وہاں رانی نہیں تھی۔۔۔وہ حیران تھا کہ آج وہ کیوں نہیں آئی۔۔۔اس نے کچھ دیر انتظار بھی کیا مگر وہ نہ آئی۔۔۔صارم افسردہ چہرہ لئیے وہاں سے لوٹ آیا۔۔۔۔۔۔
آج رانی کو وہاں نہ آتے ہوئے تیسرا دن تھا۔۔۔صارم کی حیرت پریشانی میں بدل چکی تھی۔۔۔پھر اچانک اسے یاد آیا کہ اس نے رانی کو اس کے گھر آنے کا کہا تھا۔۔۔
وہ تیزی سے بائیک دوڑاتا ہوا چند لمحوں میں رانی کے گھر پہنچ گیا۔۔۔مگر۔۔۔۔۔وہاں ایک ٹوٹے پھوٹے ویران جھونپڑے کے سوا کچھ نہ تھا۔۔۔
اب اس کی پریشانی انتہا کو تھی۔۔۔وہ اسی سوچ میں گم تھا کہ آخر اسے بتائے بنا رانی کہاں چلی گئی۔۔۔آس پڑوس میں دریافت کیا مگر کسی کو کچھ علم نہ تھا۔۔۔حتیٰ کہ کرم داد کے چند رشتہ دار جو کہ وہاں رہائش پذیر تھے، ان کو بھی پتہ نہ چلا کہ وہ اچانک کہاں غائب ہو گئے۔۔۔۔۔۔۔۔
مجبوراً صارم کو مانی سے ہی پوچھنا پڑا کہ کیا وہ اِس بارے میں کچھ جانتا ہے۔۔۔تو مانی لا پرواہی سے انجان بنتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔اچھا۔۔۔ کہاں گئی؟۔۔۔ویسے تمہیں اتنا تو پتہ ہونا چاہیے تھا کہ وہ کہاں گئی ہے ۔۔۔آخر تم تو سچی محبت کے بڑے دعویدار بنتے ہو نا۔۔۔پھر یہ کیوں نہیں جانتے؟۔۔۔۔صارم ایک مرتبہ پھر نمناک آنکھیں لئیے وہاں سے کچھ بولے بغیر واپس آگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

**********

کرم داد کو امتیاز صاحب کے دوست مرزا صاحب نے اپنے بنگلے میں بطور نائب گارڈ رکھ لیا۔۔۔اور اپنے پرانے ملازمین کے ساتھ ہی کوارٹرز میں جگہ دے دی۔۔۔کرم داد خلاف توقع اس نئے کام سے مطمئن تھا اور خوش تھا کہ اسے مانگنے سے نجات ملی۔۔۔اسی وجہ سے وہ امتیاز صاحب کو دعائیں دے رہا تھا۔۔۔رانی کو بھی اس بات کی اتنی ہی خوشی تھی۔۔۔مگر وہ اس معاملے میں امتیاز صاحب کی نہیں بلکہ صارم کی مشکور تھی جس نے اُس کو اس کام سے روکا تھا۔۔۔امتیاز صاحب کے لئیے تو اس کے دل میں اپنے باپ سے یکساں مختلف جذبات تھے۔۔۔
افسوس تو اُسے اپنی بدقسمتی پہ تھا کہ وہ آخری مرتبہ صارم کو دیکھ بھی نہ پائی تھی۔۔۔خیر اُسے حالات سے سمجھوتا کرنا ہی پڑا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

**********

دن گزرتے گئے اور امتیاز صاحب سمجھنے لگے کہ صارم اب رانی کو بھول چکا ہے۔۔۔مگر صارم کے دل کا حال وہ کہاں جانتے تھے۔۔۔اُس کے دل میں تو رانی کے لئیے محبت بڑھتی ہی جا رہی تھی۔۔۔

کہا جاتا ہے دوریاں محبت کو فروغ دیتی ہیں۔۔مگر اس طرح کسی کا جدا ہو جانا کہ کچھ خبر تک نہ ہونا۔۔۔۔۔۔بس ایک شعر ہی صارم کے دل کی عکّاسی کر رہا تھا۔۔۔
آنکھ سے دور سہی دل سے کہاں جائے گا۔۔۔
جانے والے تو ہمیں یاد بہت آئے گا۔۔۔

صارم نے رانی کو پورے شہر میں ہر جگہ ڈھونڈا۔۔۔مگر رانی وہاں تھی ہی نہیں تو کیونکر ملتی۔۔۔اس نے ہر اس جگہ رانی کو ڈھونڈا جہاں وہ ڈھونڈ سکتا تھا۔۔۔

غمِ فراق کی شدّت بھی کب تلک سہتے۔۔۔
وہ جونہی سامنے آتا تو حالِ دل کہتے۔۔۔

وہ اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے “تلاش” کے اس مقام تک پہنچ چکا تھا جہاں اب ہجر کی اذیت کے سوا کچھ نہ مل سکتا تھا۔۔۔۔۔
وہ تھک چکا تھا اور حد سے زیادہ تھک چکا تھا۔۔۔اور اب وہ تھک کر گر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی حالت دن بدن بگڑنے لگی تھی۔۔۔۔۔ امتیاز صاحب اور سائرہ بیگم نے بھی اس بات کو محسوس کر لیا تھا۔۔۔
انہوں نے کئی ڈاکٹرز سے اُس کا چیک اپ کرایا اور زیادہ تر نے نارمل بخار قرار دیا اور تسلّی دی کہ کچھ دن میں خود ہی بہتر ہو جائے گا۔۔۔سال گزرنے کو تھا مگر صارم کی طبیعت میں زرا بھی افاقہ نہ ہوا تو ایک ڈاکٹر کی تجویز پر وہ اُسے اپنے ایک عزیز سائیکالوجسٹ دوست ڈاکٹر احسن مجید کے پاس لے گئے۔۔۔۔ڈاکٹر احسن کا صارم سے پہلا سوال یہی تھا کہ صارم بیٹا کیا آپ۔۔۔رات میں ٹھیک سے نیند پوری کرتے ہیں۔۔؟۔۔۔۔
اس پر صارم نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔
حالانکہ وہ اس کی آنکھوں میں رات بھر جاگتے رہنے کی وجہ سے کناروں پر بننے والی سرخی بخوبی دیکھ سکتے تھے جسکی وجہ اس کی آنکھیں سرخ اور بالکل سُونی ہو چکی تھیں۔۔۔بلا شبہ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ ایک سال سے رانی کو نہ دیکھ پایا تھا۔۔۔خیر اس کی آنکھیں اس بات کا واضح ثبوت تھیں کہ وہ کئی راتوں سے نہیں سویا۔۔۔
وہ پھر گویا ہوئے۔۔۔صارم بیٹا کیا آپ کچھ۔۔۔تکلیف محسوس کر رہے ہو۔۔۔آئی مین کچھ ایسا جو آپ۔۔۔کسی کو بتا نہیں پا رہے۔۔۔
یہ سن کر دو آنسو اس کی آنکھوں سے نکلے اور گالوں پر لکیر بناتے چلے گئے۔۔ایک آدھ منٹ وہ سر جھکائے خاموش بیٹھا رہا پھر کچھ حرکت کئیے بغیر بولا۔۔۔
رانی چاہیئے مجھے۔۔۔۔
ڈاکٹر احسن نے ایک نظر صارم کو دیکھا پھر نظریں نیچے کر لیں۔۔۔صارم اٹھ کر باہر آ گیا۔۔۔
تھوڑی دیر بعد جیسے ہی ڈاکٹر احسن کی ملاقات امتیاز صاحب ہوئی۔۔۔۔انہوں نے پوچھا۔۔۔رانی کون ہے۔۔۔امتیاز صاحب کو ان کا سوال سن کر ایک جھٹکا سا لگا۔۔۔کیوں۔۔۔کیا ہوا۔۔۔وہ بولے۔۔۔
کچھ اچھا نہیں ہوا شاید۔۔۔ڈاکٹر احسن نے کہا۔۔۔
کیا مطلب۔۔۔ڈاکٹر احسن کی بات سن کر امتیاز صاحب نے پوچھا۔۔۔ان کے چہرے پر حیرت اور پریشانی کے ملے جلے تاثرات تھے۔۔۔
دیکھئیے امتیاز صاحب۔۔۔صارم کا علاج اس وقت۔۔۔صرف ایک ہی شخص کے پاس ہے۔۔ڈاکٹر احسن نے جواب دیا۔۔۔
کون؟۔۔۔امتیاز صاحب بولے۔۔۔
“رانی”۔۔۔ڈاکٹر احسن کا یہ جواب سن کر امتیاز صاحب ایک لمحے کے لئیے خاموش کھڑے رہے۔۔۔
اس کا مطلب صارم ابھی تک رانی کو نہیں بھولا۔۔۔وہ خود کلامی کے انداز میں بولے۔۔۔
دیکھئیے امتیاز صاحب رانی کو۔۔۔ڈاکٹر احسن کچھ کہتے کہتے چپ ہو گئے۔۔۔پھر بولے۔۔۔رانی کہاں ہے۔۔؟
کراچی میں ہے وہ۔۔۔امتیاز صاحب نے بتایا۔۔۔یوں لگا ان کی آواز کہیں دور سے آ رہی ہے۔۔۔شاید وہ اندر ہی اندر کسی اور سے بھی بات کر رہے تھے۔۔۔
تو پھر صارم کا رانی سے ملنا ضروری ہے۔۔۔ورنہ میں۔۔۔میں کچھ کر نہیں سکتا۔۔۔ڈاکٹر احسن اتنا کہہ کے خاموش ہو گئے۔۔۔
امتیاز صاحب کے چہرے پر ایک رنگ آ کر گزر گیا۔۔۔
صارم۔۔۔۔انہوں نے آہستہ سے صارم کا نام پکارا۔۔۔

**********

رانی اور اس کا باپ فقیری کی زندگی سے نکل چکے تھے۔۔۔رانی وقت کے ساتھ ساتھ مزید سمجھدار ہو گئی تھی۔۔۔اور اُس میں کئی تبدیلیاں بھی آ چکی تھیں۔۔۔اجلا اور صاف لباس پہننا،، اور خوب صاف ستھرا رہنا۔۔۔۔۔اپنے پاؤں تو وہ یوں چمکاتی تھی گویا کوئی چھپ کر اسے دیکھ رہا ہو۔۔۔مگر پھر اسے خیال آتا کہ اب وہ بہت دور آ چکی ہے۔۔۔اور سال گزر جانے کے باعث شاید تمام امیدیں دم توڑنے لگی تھیں۔۔۔
پر اب اگر صارم اسے ملتا تو وہ اُسے اور بھی اچھی لگتی کیونکہ وہ خود کو صارم کی منشاء کے مطابق بدل چکی تھی۔۔۔

**********

میں اپنا بیٹا نہیں کھو سکتا، نہ ہی میں کھونا چاہتا تھا۔۔۔مجھے کیا معلوم تھا کہ صارم۔۔۔
امتیاز صاحب کی آواز بھرا گئی۔۔۔
آپ رانی کو یہاں بلا لیں ورنہ پتہ نہیں صارم۔۔۔کچھ کر بیٹھے گا۔۔۔سائرہ بیگم بھی کافی پریشان دکھ رہی تھیں۔۔۔
میں بلاؤں گا۔۔۔میں اسے ضرور بلاؤں گا۔۔۔مگر ابھی صارم کے سامنے بالکل ذکر مت کرنا۔۔۔امتیاز صاحب بولے۔۔۔

**********

اگلے ہی دن انہوں نے مرزا صاحب کو فون کر کے رانی اور کرم داد کو واپس بھیجنے کا کہ دیا۔۔۔۔
رانی کو جب یہ معلوم ہوا کہ امتیاز صاحب کی طرف سے بلاوا آیا ہے، تو اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی۔۔۔اس کا تو بس نہ چلتا تھا کہ اڑ کر لاہور پہنچ جائے۔۔۔

**********

آخر رانی اپنے باپ کے ساتھ امتیاز صاحب کے گھر پہنچی۔۔۔امتیاز صاحب اور سائرہ بیگم نے ان کا استقبال کیا اور باہر لان میں بیٹھنے کا کہا۔۔۔وہ صارم کو سرپرائز دینا چاہتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔امتیاز صاحب فوراً صارم کے کمرے میں گئے۔۔۔اور باہر سے ہی پکارنے لگے۔۔۔صارم۔۔۔صارم۔۔۔مگر صارم کی جانب سے کوئی جواب نہ ملا۔۔۔انہوں نے دیکھا صارم اپنے کمرے میں نہیں تھا۔۔۔برابر کے کمرے میں بھی صارم انہیں نہ ملا۔۔۔تھوڑی دیر میں امتیاز صاحب اور سائرہ بیگم نے اپنا وسیع و عریض گھر چھان مارا مگر صارم کہیں بھی نہیں تھا۔۔۔فون ٹرائی کیا تو اس کا فون گھر میں پڑا تھا۔۔۔وہ۔۔۔وہ بیماری کی حالت میں کہاں چلا گیا۔۔۔امتیاز صاحب بولے۔۔۔
اُس کے اور اپنے تمام جاننے والوں کو فون کیا مگر صارم کا کسی کو کچھ پتہ نہ تھا۔۔۔دن گزرنے کو تھا۔۔۔سب پریشان تھے ، سائرہ بیگم کا رو رو کر برا حال ہو چکا تھا۔۔۔امتیاز صاحب اگلے روز بھی صارم کی کھوج میں لگے رہے۔۔۔
مانی کو علم ہوا تو اس نے بھی صارم کا پتہ لگانے کی ہر ممکن کوشش کی مگر ناکام رہا۔۔۔
امتیاز صاحب نے رپورٹ بھی درج کرا دی۔۔۔اور خود بھی مسلسل تلاش میں لگے رہے۔۔۔مرزا صاحب کو خبر ملی تو وہ بھی لاہور آ گئے۔۔۔مگر جب پانچ دن گزر گئے اور صارم کی کوئی خبر نہ ملی تو وہ رانی اور کرم داد کو لئیے وہاں سے واپس چل دئیے۔۔۔
کراچی واپس جاتے وقت رانی کی حالت ایسی تھی جیسے خود اپنی لاش اٹھا کر دفنانے جا رہی ہو۔۔۔کیا صارم مجھ سے ملنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔اس کے ذہن میں ایک خیال آیا۔۔۔مگر فوراً ہی اس نے سوچا۔۔نہیں نہیں۔۔۔ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔بھلا اتنی سی بات کے لئیے وہ سب کو کیوں تکلیف میں ڈالے گا۔۔۔اسے خود سے زیادہ صارم کی فکر تھی۔۔۔وہ یہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ آخر صارم کہاں چلا گیا۔۔۔وہ اس سب کا ذمہ دار خود کو ٹھہرا رہی تھی۔۔۔وہ اس کی خیریت کے لئیے دعائیں کرنے لگی اور اب اس کا دامن آنسوؤں سے تر ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

**********

امتیاز صاحب میں۔۔۔کچھ کہنا چاہتا ہوں آپ سے۔۔۔ڈاکٹر احسن نے موقع ملتے ہی امتیاز صاحب سے کہا۔۔۔
جی۔۔۔کہئیے ڈاکٹر صاحب۔۔۔وہ بولے۔۔۔
بات یہ ہے۔۔۔امتیاز صاحب کے شاید۔۔۔ہم دیر کر چکے ہیں۔۔۔ڈاکٹر احسن آہستہ آہستہ کہنے لگے۔۔۔دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔۔
مطلب۔۔۔کس بات کی دیر؟۔۔۔امتیاز صاحب نے حیران ہو کر پوچھا۔۔۔
صارم کو تب ڈھونڈنا چاہئیے تھا جب وہ بیمار ہوا تھا۔۔۔شاید مل جاتا۔۔۔کیونکہ تب وہ اسی گھر میں تھا۔۔۔ڈاکٹر احسن گہری سوچ میں گم تھے۔۔۔
آپ کیا کہنا چاہتے ہیں۔۔۔آسان لفظوں میں سمجھائیے نا ڈاکٹر صاحب۔۔۔امتیاز صاحب تقریباً منت کرتے ہوئے بولے۔۔۔
تب ڈاکٹر احسن نے کھنکھار کر گلا صاف کیا اور سانس اندر کھینچتے ہوئے دوبارہ گویا ہوئے۔۔۔مجھے خدشہ ہے امتیاز صاحب کے جیسا میں سوچ رہا ہوں ویسا نہ ہو۔۔۔۔۔۔مجھے یہ لگتا ہے کہ صارم رانی کی تلاش میں نکل گیا ہے۔۔۔
مگر رانی تو یہاں آئی تھی۔۔۔امتیاز صاحب بات کاٹتے ہوئے بولے۔۔۔
ہاں۔۔مگر۔۔صارم کے جانے کے بعد۔۔۔ڈاکٹر احسن نے دھیمے لہجے میں کہا۔۔۔
تو دیکھئیے امتیاز صاحب۔۔۔بقول آپ کے گارڑ کے صارم رات میں یا صبح مین دروازے سے کہیں نہیں گیا۔۔۔مگر میرا یہ ذاتی خیال ہے کہ وہ رات میں نکلا تھا۔۔۔کیوں کہ صبح نکلتا تو کوئی نہ کوئی اسے دیکھ ہی لیتا۔۔۔وہ ایک لمحے کو رکے اور پھر پوچھنے لگے۔۔۔کیا کوئی اور راستہ ہے باہر نکلنے کا یہاں سے؟
جی۔۔۔ہے۔۔۔امتیاز صاحب گویا پوری بات سمجھ چکے تھے۔۔۔پیچھے کا خفیہ دروازہ۔۔۔جس کا صرف ہم گھر والوں کو ہی پتہ ہے۔۔۔
دیکھیں امتیاز صاحب۔۔۔اس طرح خفیہ طور پر جانا۔۔۔کسی کو کچھ نہ بتانا۔۔۔اور پھر فون بھی یہیں ہے اس کا۔۔۔کیا آپ جانتے ہیں اس بات کا کیا مطلب ہے؟۔۔اس بار ڈاکٹر احسن کی آواز تھوڑی اونچی تھی۔۔۔
کیا؟۔۔۔امتیاز صاحب نے فوراً پوچھا۔۔۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ۔۔۔آپ سے ناراض ہو کر نہیں بلکہ آپ کو چھوڑ کر گیا ہے۔۔۔
اور اب وہ رانی کو پھر سے ہر اس جگہ تلاش کرے گا جہاں وہ کر سکتا ہے۔۔۔ڈاکٹر احسن افسردہ ہو کر بولے۔۔۔
امتیاز صاحب کی آنکھیں ان کا درد بیان کر رہی تھیں۔۔۔اس سے زیادہ تکلیف ان کے لئیے کیا ہو سکتی تھی کہ وہ یہ جانتے تھے رانی کہاں ہے مگر اب وہ صارم کو ہی کھو چکے تھے۔۔۔۔۔۔

**********

ایک بات میری سمجھ سے بالاتر ہے۔۔۔رانی کے جانے کے بعد تو وہ اسے ڈھونڈنے نہیں نکلا مگر اب جبکہ سال ہو گیا ہے اس بات کو تو وہ اس کی تلاش میں کیوں نکل گیا۔۔؟۔۔امتیاز صاحب کا سوال بھی کسی حد تک درست تھا۔۔۔مگر ڈاکٹر احسن کے جواب نے ان کو خاموش کر دیا۔۔۔
شاید۔۔۔وہ اسے بھلانا چاہ رہا ہو گا۔۔۔مگر جب ایک سال تک وہ اپنی کوشش میں ناکام رہا تو اس نے اس بات کو تسلیم کر ہی لیا کہ یہ اس کے اختیار میں نہیں ہے۔۔۔
امتیاز صاحب یہ سن کر مزید پریشان ہو گئے۔۔۔۔

**********

اگرچہ رانی صارم کو پانے کا آخری موقع بھی کھو چکی تھی مگر پھر بھی وہ اپنا آپ نکھارنے میں اسی قدر مصروف تھی جتنا وہ پہلے دن اسے ملنے کے بعد تھی۔۔۔اس بار صارم کے نہ ملنے کے باوجود فطرتی طور پر اس کے دل میں پھر وہی یادیں تازہ ہو گئیں اور دل کے کسی کونے میں امید کی شمع سی جلنے لگی۔۔
رانی سانولی رنگت کے باوجود بد صورت نہ تھی بلکہ اس کی خوبصورتی تو گردش حالات میں کہیں کھو کر رہ گئی تھی۔۔۔پر اب وہ پہلے سے زیادہ خوبصورت ہو چکی تھی۔۔۔مگر وہ آنکھیں۔۔۔ان میں پہلے کی سی رمق باقی نہیں رہی تھی۔۔۔مگر آج بھی اس کے دل میں صارم کو حاصل کرنے کی خواہش بدرجہ اتم موجود تھی۔۔۔

**********

تین سال کا عرصہ بیت گیا۔۔۔ان تین سالوں میں امتیاز صاحب نے صارم کو بہت ڈھونڈا مگر اس کی کچھ خبر تک ان کو نہ ملی۔۔۔سائرہ بیگم بھی جوان بیٹے کی جدائی کے غم میں آدھی ہو کر رہ گئی تھیں۔۔۔اب امتیاز صاحب کی بھی تمام امیدیں دم توڑنے لگی تھیں۔۔۔حیرت تو اس بات کی تھی کہ پولیس بھی ایک مشہور بزنس مین کے بیٹے کو ڈھونڈنے میں ناکام رہی تھی۔۔۔مگر وہ ملتا بھی کیسے۔۔، ہر کوئی اسے ڈھونڈ رہا تھا مگر وہ۔۔۔وہ تو کسی اور کی تلاش میں تھا۔۔۔اس کی تلاش مکمل ہوتی تو شاید امتیاز صاحب کو بھی صارم مل جاتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مانی کو بھی صارم کے کھو جانے کا غم تھا اور وہ امتیاز صاحب کے ساتھ ساتھ خود کو برابر کا قصور وار ٹھہرا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

**********

رانی کی عمر اب 21 سال ہو چکی تھی…لاہور سے کرم داد کے ایک پرانے دوست رفیق نے اپنے بیٹے صابر کے لئیے رانی کا رشتہ مانگا… جو کہ کرم داد نے رانی کی رائے لئیے بغیر ہی قبول کر لیا…
صابر بھی لاہور میں گارڈ ہی کی نوکری کر رہا تھا…
رانی کو معلوم ہوا تو وہ صرف اتنا کہ سکی.. ابا میں دوبارہ لاہور نہیں جانا چاہتی…دراصل اسے لاہور جانے کا نہیں بلکہ کسی اور کے لئیے لاہور جانے کا دکھ تھا…
رانی صابر چنگا لڑکا ہے اور تجھے خوش رکھے گا… ابا میں پھر ان فقیروں میں نہیں جانا چاہتی… وہ بولی…
اپنے ہم پیشہ شخص کے بارے میں یہ الفاظ کرم داد کو ناگوار گزرے تھے…
وہ غصے میں کہنے لگا…او فقیر نہیں ہے… نوکری کرتا ہے نوکری… گارڈ کی…اور تجھے کیا لگتا ہے…اب یہاں سے کیا کوئی “امیر زادہ” تجھے آ کر بیاہ لے جائے گا.,؟…
کرم داد کے یہ الفاظ تو رانی کے دل میں گویا تیر بن کر لگے…وہ خاموش ہو گئی…
دو ماہ بعد شادی ہے اور صاحب نے کہا ہے کہ وہ سارا انتظام خود کریں گے۔۔۔بہت چنگے ہیں صاحب۔۔۔اللہ زندگی صحت دے۔۔۔کرم داد بول رہا تھا۔۔۔مگر رانی میں مزید سننے کی سکت باقی نہ تھی۔۔۔

**********

دو مہینے گزر گئے… امتیاز صاحب کو کسی کام سے ڈاکٹر احسن کے ہمراہ شیخوپورہ جانا ہوا۔۔۔
وہاں سے فراغت کے بعد دونوں قریبی ہوٹل میں کھانا کھانے کی غرض سے جا پہنچے۔۔۔
اسی دوران انہوں نے دیکھا کہ ہوٹل کے باہر کچھ پانی کھڑا تھا جس میں ایک نوجوان پتھر پھینک رہا تھا۔۔۔اور غالباً اپنے اس عمل سے بہت محظوظ ہو رہا تھا۔۔۔امتیاز صاحب دو منٹ تک اسے دیکھتے رہے۔۔۔پھر اٹھ کر آہستگی سے اسکی جانب چل دئیے۔۔۔وہاں قریب پہنچ کر انہوں نے ایک منٹ مزید انتظار کیا اور کچھ مشاہدہ کرنے کے بعد ہلکی سی آواز میں کہا۔۔۔صارم۔۔۔
نوجوان بجلی کی تیزی سے پیچھے مڑا تو امتیاز صاحب کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔۔۔
صارم کو اس وقت وہاں دیکھ کر کوئی بھی پہچاننے سے انکار کر سکتا تھا۔۔۔الجھے بال۔، میلے کپڑے،، داڑھی بے ترتیب بڑھی ہوئی۔۔۔اور دھول مٹی سے اٹا ہوا چہرہ،، امتیاز صاحب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔۔۔۔۔
صارم۔۔۔یہ۔۔۔یہ تو نے کیا حال بنا رکھا ہے۔؟۔۔
تو یہاں کیا کر رہا ہے۔۔؟۔۔۔تم کرتے کیا ہو ادھر۔۔سوتے کہاں پہ ہو؟۔۔کھانا۔۔۔وہ بول رہے تھے کہ صارم نے کسی دیوانے کی طرح بے پروائی سے کہا۔۔
یہاں ہی سو جاتا ہوں۔۔۔حالانکہ وہ اپنے باپ کو پہچان چکا تھا۔۔۔
مگر تم۔۔۔کرتے کیا ہو یہاں؟ انہوں نے پوچھا۔۔۔
“پیسے مانگتا ہوں”۔۔۔اس نے فوراً کہا۔۔۔
کیا۔؟؟؟ امتیاز صاحب کے منہ سے نکلا۔۔۔
اچھا تو چل میرے ساتھ۔۔۔اب چل۔۔۔وہ تیزی سے بول رہے تھے۔۔۔
میں نہیں جاؤں گا۔۔۔وہاں پر کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔اور رانی بھی تو چلی گئی ہے وہاں سے۔۔۔یاد کریں۔۔۔صارم کے منہ سے یہ بات سن کر یوں لگا تھا جیسے رانی کا وہاں سے جانا کل کی بات ہو۔۔۔
امتیاز صاحب۔۔۔پیچھے سے آواز آئی۔۔۔یہ ڈاکٹر احسن تھے۔۔۔وہ پیچھے کھڑے سارا ماجرا دیکھ رہے تھے۔۔۔
انہوں نے امتیاز صاحب کو اشارے سے پیچھے بلایا۔۔۔
امتیاز صاحب نے ایک نظر صارم کو دیکھا پھر انہیں دیکھا اور پیچھے آ گئے۔۔۔
صارم یوں نہیں جائے گا یہاں سے۔۔۔انہوں نے بولنا شروع کیا ہی تھا کہ امتیاز صاحب دیوانہ وار کہنے لگے۔۔۔کیوں نہیں جائے گا۔۔۔آپ دیکھنا میں رانی کو لے کر آؤں گا۔۔۔ہاں میں لاؤں گا۔۔۔
امتیاز صاحب آپ دیکھ چکے ہیں کہ وہ خود میں رانی کو تلاش کر رہا ہے۔۔۔وہ اب بھی رانی۔۔۔ڈاکٹر احسن بات کر رہے تھے کہ امتیاز صاحب صارم کے پاس گئے اور بولے۔۔۔
صارم۔۔۔تجھے رانی چاہیئے نا۔۔۔یاد کر۔۔۔بچپن سے لے کر آج تک۔۔۔تیری ہر خواہش پوری کی ہے میں نے۔۔۔تیرے منہ سے بعد میں نکلتا تھا مگر پہلے وہ چیز تیرے ہاتھ میں رکھتا تھا میں۔۔۔پر میں۔۔۔میں یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ تیری۔۔۔سب سے بڑی خواہش ہے۔۔۔جب جانا تب تک میں دیر کر چکا تھا اور۔۔۔۔تُو جلدی۔۔۔۔جب تو وہاں سے گیا تھا تو اگلے دن ہی رانی وہاں آئی تھی۔۔۔پر اب میں وعدہ کرتا ہوں کہ رانی کو تیرے پاس لاؤں گا۔۔۔انہوں نے آبدیدہ آنکھوں کے ساتھ صارم کو گلے لگا لیا۔۔۔امتیاز صاحب کی تلاش مکمل ہو چکی تھی مگر صارم کی تلاش اب بھی باقی تھی۔۔۔
صارم کو گھر لے آیا گیا۔۔۔سائرہ بیگم کھوئی ہوئی دولت پا کر اس قدر خوش تھیں کہ ان کے لئیے پاؤں زمین پر ٹکانا مشکل تھا۔۔۔مگر ساتھ ساتھ وہ صارم کی حالت دیکھ کر رنجیدہ بھی ہو رہی تھیں۔۔۔

**********

تین دن بعد رانی کی شادی تھی۔۔۔سب انتظامات مکمل تھے۔۔۔رانی کی ساری تیاری مرزا صاحب نے خود کرائی تھی۔۔۔اس کے جہیز سے لے کر تمام ملبوسات تک انہوں نے اپنے پیسے سے بنوائے تھے۔۔۔کرم داد اپنی قسمت پر رشک کرتا نہیں تھکتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک مرتبہ پھر رانی لاہور جا رہی تھی۔۔۔مگر اس بار بھی وہ صارم سے نہیں مل سکتی تھی۔۔۔وہ یہ جانتی تھی کہ عرصے سے اس کے دل میں جو امید کی ایک شمع جل رہی تھی۔۔۔آج اسے بجھنا تھا مگر سب کچھ جلا کر بجھنا تھا۔۔۔
پر وہ خاموش تھی۔۔۔وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی۔۔۔رات ہو چکی تھی۔۔۔ٹرین میں موجود تقریباً تمام مسافر ہی سو چکے تھے۔۔۔بس وہ ایک (برتھ) پر پڑی ان چند خوشگوار دنوں کو یاد کر رہی تھی۔۔۔جب زندگی میں پہلی اور آخری مرتبہ کسی نے اس کی آنکھوں میں دیکھا تھا۔۔۔تب ہی تو اس پر اسکا حسن آشکار ہوا تھا۔۔۔وقفے وقفے سے ریل کی سیٹی اس کے کانوں میں گونجتی اور ،،اسے وہ پہلی مرتبہ محبت سے اس کا نام پکارنے والا صارم یاد آتا۔۔۔
انہی تمام سوچوں اور یادوں کا ایک سمندر لئیے وہ لاہور پہنچی۔۔۔
وہاں پہنچتے ہی سب سے پہلے وہ اس جگہ گئی جہاں چار سال پہلے وہ جایا کرتی تھی۔۔۔مگر آج صارم وہاں اس کا منتظر نہیں تھا۔۔۔آج تو وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔۔۔شاید وہ خود بھی نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔

**********

صارم کی ظاہری حالت درست ہونے کے بعد اسے ڈاکٹر احسن کی ہدایات کے مطابق دو دن کا پراپر ریسٹ دیا گیا تھا۔۔۔تاکہ وہ ذہنی طور پر بھی مزید بہتر ہو جائے۔۔۔
اسی دوران امتیاز صاحب نے اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے مرزا صاحب کو فون کر دیا۔۔۔کال ریسیو کرتے ہی مرزا صاحب نے چہکتی ہوئی آواز میں کہا۔۔۔کیسے ہو امتیاز۔۔۔یار بڑے دنوں بعد یاد کیا ہے تم نے۔۔۔۔۔اور تم۔۔۔مرزا صاحب کی بات ابھی جاری تھی وہ شاید شادی کا ہی ذکر کرنے لگے تھے کہ امتیاز صاحب نے کہا۔۔۔مرزا صاحب پلیز ایک منٹ کے لئیے کرم داد کو فون دیجئیے۔۔۔
کرم داد کے فون پہ آتے ہی مرزا صاحب تیز تیز بولنے لگے۔۔کرم داد۔۔۔دیکھو۔۔تم پہلی فرصت میں لاہور آ جاؤ۔۔۔بس ابھی کے ابھی نکلو۔۔۔ضروری کام ہے تم سے۔۔۔بہت ضروری۔۔۔
امتیاز صاحب پرجوش تھے۔۔۔
کرم داد کہنے لگا۔۔۔جی صاحب ہم لاہور ہی میں ہیں مگر ابھی۔۔ ابھی تو مشکل ہے آنا۔۔۔
کیا؟؟ تم لاہور میں ہو؟۔۔۔امتیاز صاحب جیسے خوشی سے پاگل ہو گئے۔۔۔ہاں تو پھر مشکل کیا ہے۔۔۔انہوں نے پوچھا…
آج رانی کی شادی ہے صاحب جی۔۔۔یہیں پرانے پل پر۔۔۔آپ آئیے گا نا۔۔۔وہیں ملاقات بھی ہو جائے گی۔۔۔وہ میں آپ سے شرمندہ تھا اصل میں ہماری وجہ سے وہ سب کچھ ہوا اسی لئیے میں بتا نہیں پایا آپکو۔۔۔کرم داد مزید بول رہا تھا مگر امتیاز صاحب کے ہاتھ سے فون چھوٹ کر گر چکا تھا۔۔۔وہ کمرے میں یوں داخل ہوئے جیسے سب کچھ ہار آئے ہوں۔۔۔صارم سویا ہوا تھا۔۔۔
کچھ دیر تو وہ بے سدھ بیٹھے رہے پھر پانی پی کر انہوں نے ساری بات سائرہ بیگم اور ڈاکٹر احسن کے سامنے بیان کی۔۔۔
ان کو بھی یہ سن کر شدید رنج ہوا۔۔۔
امتیاز صاحب بولے۔۔۔اگر پہلے پتہ چل جاتا تو میں۔۔۔کچھ بھی کرتا مگر یہ شادی رکوا دیتا۔۔۔پر اب آج شادی ہے اور پرانا پل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں کرم داد کو کہ دیتا ہوں یہ شادی نہ کروائے۔۔۔رکوا دیتا ہوں میں۔۔۔وہ تیزی سے کہتے ہوئے اچانک اٹھ کھڑے ہوئے۔۔۔
مگر سائرہ بیگم روتے ہوئے کہنے لگیں۔۔۔اگر تقدیر ہی نہیں ملانا چاہتی تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔۔۔آج شادی ہے اس کی۔۔۔کچھ تو سوچئیے۔۔۔اور وہ نہ چاہتے ہوئے بھی بیٹھ گئے۔۔۔

**********

چلئیے مولوی صاحب۔۔۔آپ شروع کیجئے نکاح۔۔۔
رکوووو۔۔۔۔۔۔۔اس سے پہلے کہ مولوی صاحب کچھ کہتے۔۔۔کوئی چیخ کر بولا۔۔۔سب کی نظریں سامنے کی جانب اٹھ گئیں جہاں سے آواز آئی تھی۔۔۔سامنے سے ایک نوجوان داخل ہو رہا تھا۔۔۔سب لوگ ہی حیرت سے اسے دیکھ رہے تھے۔۔۔اور پریشان بھی ہو گئے تھے۔۔۔اس سے قبل کہ کوئی کچھ بولتا۔۔۔کرم داد گویا ہوا۔۔۔
تمہیں میں شاید پہلے کہیں دیکھ چکا ہوں۔۔۔رانی بھی مسلسل اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
جی انکل میرا نام مانی ہے۔۔۔میں جانتا ہوں کہ جو کچھ بھی میں کہنے جا ہوں۔۔۔۔وہ شاید صحیح نہیں ہے مگر۔۔۔یہ سچ ہے اور آپ کو بھی معلوم ہے کہ امتیاز انکل اور سائرہ آنٹی نے بہت سی تکالیف اٹھائی ہیں۔۔۔میں صارم کا دوست ہوں انکل…مجھے جیسے ہی پتہ چلا کہ صارم واپس آ گیا ہے۔۔۔تو میں فوراً وہاں چلا گیا۔۔۔مگر اس کے کمرے کے باہر جو کچھ بھی میں نے امتیاز صاحب کے منہ سے سنا۔۔۔اس کے بعد میں اسے ملے بغیر ہی سیدھا یہاں آ گیا۔۔۔رانی دلہن بن کر کافی خوبصورت لگ رہی تھی مگر صارم کی واپسی کا سن کر اس کی آنکھوں میں آنے والے آنسو اس کے چہرے پر بہ گئے۔۔۔
صارم نے تو اپنی پوری زندگی رانی کے نام کر دی۔۔۔اس کی رانی اسے لوٹا دیجئیے انکل۔۔۔میں آپ سے بھیک مانگنے آیا ہوں۔۔۔مانی بھی یہ کہتے ہوئے اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکا۔۔۔
بس ایک احسان کر دیجئے میرے دوست پر۔۔۔اس نے التجا کی۔۔۔سب ہکا بکا مانی کو دیکھ رہے تھے کہ کرم داد بولا۔۔۔رفیقے، صابر کو پھر کوئی لڑکی مل جاوے گی۔۔۔مگر صارم کو اس بار رانی نہ ملی تو میں۔۔۔اسکا مجرم بن جاؤں گا۔۔۔مجھے معاف کرنا۔۔۔رفیق مسکرا دیا۔۔۔مگر کچھ نہ بولا۔۔۔مانی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کے وہ پھر بولا۔۔۔جا لے جا تو رانی کو۔۔۔میں پھر آتا ہوں۔۔۔مانی یہ سن کر فوراً باہر گاڑی کی طرف بھاگا۔۔۔وہ اب ایک منٹ کی بھی تاخیر نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔وہ رانی کے ہمراہ امتیاز صاحب کے گھر داخل ہوا اور فوراً ہی صارم کے کمرے میں جا پہنچا۔۔۔وہ سب اب بھی وہیں موجود تھے۔۔۔صارم اب تک سو رہا تھا۔۔۔سوتے ہوئے بھی اس کے چہرے پر ایسی مسکراہٹ تھی جیسے اس کو معلوم ہو گیا ہو کہ آج اس کی تلاش مکمل ہو چکی ہے۔۔۔
رانی کو دیکھ کر مارے حیرت اور خوشی کے تو جیسے سب کی چیخ ہی نکل گئی۔۔۔مانی نے سارا واقعہ ان کے گوش گزار کیا۔۔۔
مگر مانی تم۔۔۔تم یہاں سے وہاں اس قدر جلدی کیسے پہنچ گئے۔۔۔پرانا پل تو یہاں سے کافی دور ہے اور تم آدھے گھنٹے میں ہی پہنچ گئے۔۔۔ڈاکٹر احسن نے پوچھا۔۔۔۔بس انکل۔۔۔کبھی کبھی کسی کی زندگی کے لئیے۔۔۔اپنی زندگی داؤ پہ لگانا ہی پڑتی ہے۔۔۔آج سے پہلے کبھی بھی اتنی اسپیڈ سے گاڑی نہیں چلائی میں نے۔۔۔۔۔مانی تم۔۔۔تم نے صارم کے لئیے اپنی جان کو خطرے میں ڈالا۔۔۔امتیاز صاحب نے اسے گلے لگا لیا۔۔۔آج تم نے دوستی کا حق ادا کر دیا مانی۔۔۔ان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔۔۔۔۔۔پھر مانی بول پڑا۔۔۔انکل اب اٹھائیے صارم کو۔۔۔مل لے وہ اپنی حور سے۔۔۔مانی کا جوش دیدنی تھا۔۔۔جیسے اس نے کوئی بڑا قرض چکا دیا ہو۔۔۔
نہیں بھئی۔۔۔اب رانی آ گئی ہے تو وہی اٹھائے گی۔۔۔امتیاز صاحب نے کہا تو رانی آگے بڑھی اور صارم کا ہاتھ تھام کر پکارا۔۔۔۔صارم۔۔۔۔
صارم نہ اٹھا۔۔۔شاید وہ گہری نیند میں تھا۔۔۔
اس نے دوبارہ کہا۔۔۔صارم۔۔۔۔۔۔اس بار بھی صارم نے کوئی حرکت نہ کی۔۔۔
امتیاز صاحب آگے بڑھے اور شرارت بھرے انداز میں اس کا چہرہ تھتھپا کر کہا۔۔۔اٹھو بھئی۔۔۔دیکھو تو۔۔۔تمہاری حور آئی ہے۔۔۔
مگر صارم کا چہرہ ایک جانب سے دوسری جانب لڑھک گیا۔۔۔ڈاکٹر احسن نے فوراً اس کی نبض پر ہاتھ رکھا تو وہ بتا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آج صارم کی تلاش مکمل ہو چکی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر سفر ابھی بھی باقی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنی حور کا ہاتھ تھامے صارم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شاید جنت کے سفر پہ نکل چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

••••••••••••••ختم شد••••••••••••••••

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: