Afsanay Yaqoob Masood

Humsafar Novel by Yaqoob Masood Last Part 2

Humsafar Novel by Yaqoob Masood
Written by Peerzada M Mohin

ہم سفر – افسانہ | بقلم رسکن بونڈ | ترجمہ یعقوب مسعود – آخری حصہ دوم

ہم سفر – افسانہ | بقلم رسکن بونڈ | ترجمہ یعقوب مسعود – آخری حصہ دوم

–**–**–

‘‘میں نہیں مانتی۔’’ وہ جلدی سے بولی۔ ‘‘میں کہتی ہوں، وہ لڑکی بدنصیب ہی ہوگی جو اپنے جیسے آدمی کو پسند نہ کرے۔’’
‘نہیں، نہیں اس میں آپ کسی کے نصیب کو الزام نہ دیں۔’’ میں بولا۔
‘‘کیونکہ میں خود سمجھتا ہوں کہ میں جب اپنے شریک سفر کی خواہشات اور توقعات پر پورا ہی نہیں اتر سکتا تو پھر جانتے بوجھتے مجھے کسی کی زندگی برباد نہیں کرنی چاہیے۔ خیر، میری بات چھوڑیے….آپ بتائیے، کیا آپ شادی.شدہ.ہیں….؟’’
‘‘کیوں….؟’’ میں نے چونک کر پوچھا۔ ‘‘میرے خیال سے تو اب تک آپ کی شادی ہوجانی چاہیے تھی۔’’
‘‘جی ہاں…. ماں اور باپ بھی یہی چاہتے ہیں۔’’ لڑکی نے افسردہ لہجے میں کہا۔ ‘‘لیکن یہ زندگی بھر کے سفر کا سوال ہے جس کے لیے ایک ایسے ہمسفر کا ہونا ضروری ہے جو صحیح معنوں میں دکھ سکھ کا ساتھی بن سکے۔ جو زندگی کے طویل راستوں کے اتار چڑھاؤ پر پوری طرح ثابت قدم رہ سکے اور جو مجھ جیسی شریک حیات کو کبھی اپنے اوپر بوجھ نہ سمجھے۔’’
‘‘بوجھ!’’ میں نے چونک کر کہا۔ ‘‘میرے خیال سے تو وہ شخص انتہائی بدنصیب ہوگا جو آپ جیسی شریک حیات کو بوجھ سمجھے گا۔’’
‘‘اسی لیے تو میں چاہتی ہوں کہ جو شخص بھی میرا ہاتھ تھام کر میرے ساتھ چلنا چاہیے…. وہ پہلے اچھی طرح مجھے دیکھ لے، سمجھ لے۔ پھر کسی لالچ، کسی دباؤ اور کسی شرط کے بغیر مجھے، میری خوبیوں اور خامیوں سمیت قبول کرے تاکہ دونوں مل کر زندگی کا یہ طویل سفر سکھ و چین سے طے کر سکیں۔’’
لڑکی یہ کہ کر چپ ہوگئی۔ ذرا دیر تک وہ مزید کچھ نہیں بولی تو میں نے کہا۔ ‘‘بڑے اچھے خیالات ہیں آپ کے۔ میری دعا ہے کہ آپ کو ایسا ہی جیون.ساتھی ملے۔’’
‘‘تھینک یو۔’’ لڑکی نے کہا اور پھر دوسرے ہی لمحے چونک کر بولی۔ ‘‘اوہ…. آپ کےساتھ باتوں میں وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا۔ میرا اسٹیشن آنے ہی والا ہے۔ میں تو سمجھی تھی کہ ٹرین کے ڈبے میں اکیلے بیٹھے بیٹھے ڈھائی گھنٹے گزارنے مشکل ہوجائیں گے لیکن آپ کی خوبصورت باتوں میں میرا سفر بہت آسان کردیا۔ مجھے آپ سے مل کر سچ مچ بہت خوشی ہوئی۔ اب میں خدا سے یہی دعا مانگا کروں گی کہ وہ ہر لڑکی کو زندگی کے سفر میں آپ جیسا ہی ہمسفر عطا کرے۔’’
جواب میں مجھے کہنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ رفتار دھیمی کرتی ٹرین نے ایک طویل وسل بجائی اور میرے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے۔
ٹرین پلیٹ فارم سے لگتے ہی اسٹیشن پر ہلچل سی مچ گئی۔ اترنے اور چڑھنے والے مسافروں کے ساتھ ساتھ قلیوں اور خوانچے والوں کی ملی جلی آوازوں کا شور سنائی دینے لگا۔
‘‘اچھا، اب میں چلتی ہوں۔’’ ٹرین کے رکتے ہی اس نے شاید اٹھتے ہوئے کہا تھا۔ ‘‘آج کا یہ سفر مجھے ہمیشہ یاد رہے گا….’’
بولتے بولتے ہی شاید وہ دروازے کی طرف بڑھ گئی تھی۔ کیونکہ میں اس کے سینڈل کی کھٹ کھٹ کی آواز کو دور جاتے سن رہا تھا۔ اچانک مجھے یاد آیا کہ اسے رخصت کرنے کے لیے مجھے دروازے تک تو جانا ہی چاہیے ورنہ وہ سوچے گی کہ میں نے اسے خداحافظ بھی نہیں کہا۔ اس خیال کے آتے ہی میں تیزی سے اٹھ کھڑا ہوا اور اندازے سے چلتا ہوا دروازے کے پاس آکر کھڑا ہوگیا۔
نیچے سے کسی عورت کی آواز آرہی تھی جو شاید لڑکی سے ہی کہہ رہی تھی۔ ‘‘آجاؤ بیٹی…. آج تو ٹرین وقت پر آگئی۔ میں تو سمجھی تھی کہ ہمیشہ کی طرح لیٹ ہوگی۔’’
لڑکی نے جواب میں کچھ نہیں کہا۔ وہ عورت پھر بولی۔ ‘‘ذرا سنبھل کر اترنا۔ لو، میرا ہاتھ پکڑلو۔ اور یہ بیگ مجھے دے دو۔ ایک تو تم نے اتنی اونچی ایڑی کے سینڈل پہن رکھے ہیں کہ….’’
‘‘ارے چاچی، کچھ نہیں ہوتا اس سے۔’’ لڑکی درمیان میں بول پڑی۔‘‘لو یہ بیگ۔’’
‘‘ٹھیک ہے، چلو۔’’ عورت نے کہا۔
میں دروازے کے قریب ہی باہر کی جانب منہ کیے کھڑا تھا اور اس وقت مجھے لگ رہا تھا کہ وہ لڑکی جاتے جاتے پلٹ کر میری طرف دیکھ کر ہاتھ ہلا رہی ہے۔ اس کا جواب دینے کے لیے میں نے اپنا ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ یکا یک کسی نے اپنا کوئی سامان میرے پیروں کے پاس رکھ دیا۔ ٹرین آہستہ آہستہ رینگنے لگی اور ٹھیک اسی وقت ایک مسافر ہانپتا ہوا اندر داخل ہو گیا۔ میں سمجھ گیا کہ اس اسٹیشن سے بھی صرف ایک ہی مسافر اس کمپارٹمنٹ میں سوار ہوا ہے اور یہ کوئی.مرد ہے۔
میں اپنی سیٹ پر آکر بیٹھ گیا تو اچانک میرا ہاتھ سیٹ پر رکھی ہوئی اپنی سفید فولڈنگ چھڑی سے ٹکرا گیا اور میں بری طرح سے چونک پڑا۔ مجھے یاد آگیا کہ جب میں شالو سے ٹرین میں سوا ہو کر اس سیٹ پر آکر بیٹھا تھا تو میں نے اپنی سفید چھڑی کو فولڈ کرکے اپنے برابر میں ہی رکھ دیا تھا اور یہ اسی وقت سے اس جگہ پڑی ہے۔ مجھے بھی اب تک اس کا خیال نہیں آیا تھا۔ جبکہ وہ لڑکی بھی اتنی دیر تک میرے سامنے بیٹھی مجھ سے باتیں کرتی رہی تھی۔ ایسی حالت میں یقیناً اس کی نظر میری سفید چھڑی پر پڑی ہوگی اور اسے یہ سمجھنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگی ہوگی کہ میں نابینا ہوں۔
اب میرے ذہن میں یہ سوال اٹھ رہا تھا کہ میری حقیقت جان لینے کے باوجود نہ تو اس نے میری بینائی کے بارے میں کچھ پوچھا اور نہ ہی مجھ سے ہمدردی کا اظہار کیا بلکہ وہ تو اس طرح مجھ سے باتیں کر رہی تھی جیسے میں یک نارمل شخص ہوں۔
آخر کیوں….؟
کیوں اس نے میری سفید چھڑی کو دیکھنے کے بعد بھی یہ ظاہر نہیں ہونے دیا کہ اسے میرے نابینا ہونے کا علم ہوچکا ہے….
کیوں…. ؟ اس نے ایسا کیوں کیا….؟
میں اس کیوں کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش میں کھڑکی کی طرف منہ کرکے بیٹھ گیا۔ اس وقت میں خود کو ایک لٹا ہوا آدمی سمجھ رہا تھا۔ مجھے یوں لگ رہا تھا کہ اس لڑکی کے جاتے ہی میری دنیا لٹ گئی ہو۔ ٹرین کی رفتار تیز ہوگئی تھی۔ سارے مناظر حسب.معمول بڑی تیزی سے پیچھے جا رہے ہوں گے۔ میں اس طرح باہر کی طرف منہ کیے بیٹھا تھا جیسے یہ سارے مناظر مجھے نظر آرہے ہوں۔ حالانکہ میرے لیے تو باہر بھی اتنا ہی اندھیرا تھا جتنا کمپارٹمنٹ کےاندر تھا۔ اچانک میں نے اپنے پیچھے قدموں کی آہٹ سنی تو میں نے گردن گھمائی۔ میرا نیا ہمسفر ہنستے ہوئے کہہ رہا تھا۔
‘‘ارے جناب…. ہم اتنے بھی بدصورت نہیں ہیں کہ آپ نظر اٹھا کر بھی ہماری طرف نہ دیکھیں۔ مانا آپ کا پہلا ہمسفر بلا کا حسین تھا…. لیکن ایسا بھی کیا کہ دوسرے ہمسفر سے نہ دعا نہ سلام….’’
‘‘نہیں ، ایسی بات نہیں ہے۔’’ میں نے ہنس کر کہا۔ ‘‘وہ لڑکی واقعی بہت اچھی تھی۔’’ اتنا کہہ کر میں چپ ہوگیا مگر پھر فوراً ہی پوچھ بیٹھا۔ ‘‘آپ بتاسکتے ہیں اس لڑکی کے بال کیسے تھے….؟ لمبے تھے یا کٹے.ہوئے….؟’’
‘‘میں نے اس کے بالوں پر توجہ نہیں دی۔’’ اس شخص نے گھمبیر سے لہجے میں کہا۔ ‘‘میں تو صرف اس کی آنکھیں دیکھ رہا تھا۔’’
‘‘آنکھیں….؟’’ میں نے حیرت سے پوچھا۔
‘‘ہاں…. نیلی گہری جھیل سی آنکھیں…. جو اس کے گلاب جیسے چہرے سے زیادہ خوبصورت تھیں…. میں نے اتنی حسین آنکھیں پہلے کبھی نہیں دیکھیں۔’’ اس مسافر نے کہا۔ ‘‘مگر وہ آنکھیں اس کے لیے بالکل بےکار تھیں۔’’
‘‘کیا….؟’’ میں چونک کر اچھل پڑا۔
‘‘ہاں جناب…. وہ اندھی تھی۔’’ مسافر نے ایک گہرا سانس چھوڑتے ہوئے کہا۔ ‘‘ایک عورت اس کا ہاتھ پکڑ کر نیچے اتار رہی تھی۔ تب میں نے دیکھا، وہ اندھی تھی۔ بغیر کسی کی مدد کے اس کا کمپارٹمنٹ سے نیچے اترتا بھی محال تھا۔’’
‘‘اوہ!’’ میرے ہونٹ سکڑ کر رہ گئے۔ پھر اس سے پہلے کہ میں کچھ پوچھتا، وہ بولا۔ ‘‘سوری، میں بیگ سے سگریٹ نکالنا بھول گیا۔ ابھی حاضر ہوتا ہوں۔’’ کہہ کر وہ اپنی سیٹ کی جانب بڑھ گیا اور پھر ذرا دیر بعد واپس آکر، شاید سگریٹ کا پیکٹ میری طرف بڑھا کر بولا۔ ‘‘لیجیے سگریٹ۔’’
‘‘جی شکریہ۔ میں سگریٹ نہیں پیتا۔’’ میں نے اس کی طرف چہرہ کرکے جواب دیا۔ اس کے بعد لائٹر کی کلک کی آواز میں نے سنی۔ سگریٹ سلگانے کے بعد وہ اچانک اس طرح بولا جیسے کوئی بات اسے یاد آگئی ہو۔ ‘‘ارے ہاں، ایک بات تو میں آپ سے پوچھنا ہی بھول گیا۔’’
‘‘کیا….؟’’ میں نے پوچھا۔
‘‘اس لڑکی کے ساتھ آپ نے شاید دو تین گھنٹے کا سفر کیا ہوگا لیکن حیرت کی بات ہے، اس عرصے میں نہ تو آپ نے اس کا رنگ و روپ دیکھا، نہ بال اور نہ ہی اس کی آنکھیں! کیا اتنی دیر آپ سوتے رہے تھے….؟’’ بات ختم کرکے وہ بلا وجہ ہنسنے لگا۔
‘‘نہیں، میں سو نہیں رہا تھا۔’’ میں مسکرا کر بولا۔ ‘‘بلکہ ہم دونوں تو ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے باتیں کرتے رہے تھے۔’’
‘‘پھر تو یہ اور بھی حیرت کی بات ہے’’ اس نے کہا۔ ‘‘آمنے سامنے بیٹھے رہنے کے باوجود آپ نے کچھ نہیں دیکھا….؟’’
‘‘اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں ہے جناب۔’’ میں نے اسی طرح مسکراتے ہوئے کہا۔ ‘‘میں تو ابھی تک آپ کو بھی نہیں دیکھ پایا ہوں۔’’
‘‘کیا….؟’’ اس نے چونک کر کہا۔
‘‘جی ہاں۔’’ میں نے افسردہ لہجے میں، ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے کہا۔ ‘‘مجھے نہیں معلوم آپ کا رنگ روپ…. آپ کے بال اور آپ کی آنکھیں کیسی ہیں….؟’’ یہ کہہ کر میں نے اپنے قریب رکھے ہوئے بیگ کے نیچے ہاتھ ڈال کر اپنی سفید فولڈنگ چھڑی نکال کر اس کےسامنے کردی۔
‘‘اوہ!’’ وہ چونک کر بولا۔ ‘‘تو آپ بھی….’’
یہاں تک کہہ کر وہ چپ ہوگیا۔
مجھے لگ رہا تھا کہ وہ اپنی پھٹی پھٹی حیرت زدہ آنکھوں سے مجھے دیکھ رہا ہے۔ ٹرین اپنی رفتار سے بھاگ رہی تھی۔میں ایک مرتبہ پھر کھڑکی کی طرف منہ کرکے بیٹھ گیا۔ باہر کے سارے ہی مناظر تیزی سے پیچھے کی طرف بھاگ رہے ہوں گے…. لیکن میرے لیے تو باہر بھی، ایسا ہی اندھیرا تھا جیسے کمپارٹمنٹ کے اندر!

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: