Humsafar Novel by Yaqoob Masood Part 1

0
ہم سفر – افسانہ | بقلم رسکن بونڈ | ترجمہ یعقوب مسعود – حصہ اول

–**–**–

ٹرین کے اس کمپارٹمنٹ میں میرے سوا کوئی مسافر نہیں تھا۔ پچھلے ڈیڑھ گھنٹے سے میں نے اتنے بڑے کمپارٹمنٹ میں اکیلے ہی سفر کیا تھا۔ مجھے امید تھی کہ چند منٹ بعد جب یہ ٹرین ایک اور چھوٹے سے اسٹیشن پر ٹھہرے گی تو وہاں سے کچھ مسافر اس کمپارٹمنٹ میں ضرور سوار ہوں گے اور یہ، جان لیوا سکوت ٹوٹ جائے گا۔
اس روٹ پر چلنے والی گاڑیاں زیادہ تر خالی ہی آتی جاتی ہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ شالو نامی یہ اسٹیشن بہت چھوٹا سا ہے۔ اس کے آس پاس مختصر آبادیوں والے چھوٹے دیہات آباد ہیں۔
شالو اسٹیشن کے ارد گرد کے دیہات غریب اور محنت کش آبادیوں پر مشتمل ہیں۔ ڈھور مویشی پالنا اور کھیت مزدوری کرنا ہی ان کا کام ہے۔ یہ ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں تک پیدل یا سائیکل سے آتے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں ٹرین میں سفر کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
مجھے شالو سے چلے ہوئے تقریباً ڈیڑھ گھنٹا ہوگیا تھا اور اب ٹرین روہنا Rohanaاسٹیشن کی حدود میں داخل  ہو رہی تھی۔ اس اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر بھی مسافروں کا رش نہیں تھا۔ لیکن میری امیدیں خاک میں ملنے سے بچانے کے لیے، ایک مسافر میرے کمپارٹمنٹ میں سوار ہو ہی گیا۔ یہ ایک نو عمر لڑکی تھی۔ اس لڑکی کو رخصت کرنے اس کے والدین اسٹیشن تک آئے تھے، ایک ادھیڑ عمر عورت اور ایک ادھیڑ عمر مرد۔
وہ عورت بار بار لڑکی کو تاکید کرتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ ‘‘دیکھو بیٹی، اپنا بہت خیال رکھنا، اپنا بیگ اپنے پاس ہی رکھنا اور ہاں کسی کی دی ہوئی کوئی چیز مت کھانا، صرف دو ڈھائی گھنٹے کا سفر ہے اور….’’
‘‘بس بس ماں، مجھے معلوم ہے۔’’ لڑکی نے مترنم آواز میں اپنی ماں کی بات کاٹی اور بولی۔ ‘‘میں پہلے بھی تو ایک مرتبہ آچکی ہوں۔’’
‘‘وہ تو ٹھیک ہے بیٹی، مگر میں تیری ماں ہوں۔ مجھے فکر تو ہوگی۔’’ ادھیڑ عمر عورت نے کہا۔
‘‘اچھا دیکھ، تیرے چاچا چاچی تجھے لینے کے لیے آئیں گے۔ تیرے بابا نے تیرے ڈبے کا نمبر انہیں بتا دیا ہے۔’’
‘‘ٹھیک ہے ماں، اب تم لوگ جاؤ۔’’ لڑکی نے کہا۔ ‘‘ٹرین چلنے والی ہے۔’’
مجھے نہیں معلوم کہ وہ لڑکی گوری تھی یا کالی، اس کے بال سنہرے تھے یا سیاہ…. چھوٹے تھے یا لمبے۔ اس نے کون سے کپڑے پہنے تھے اور ان کپڑوں کا رنگ کیسا تھا….؟ میں کچھ بھی تو دیکھ نہیں سکتا تھا۔
تین سال پہلے کی بات ہے کہ میں اور میرا چھوٹا بھائی سڑک کے ایک خوفناک حادثے کی لپیٹ میں آگئے تھے۔ اس حادثے میں میرے چھوٹے بھائی کے ایک پاؤں اور کندھے میں فریکچر ہوگیا جس کی وجہ سے اسے تقریباً چار ماہ تک بستر پر ہی پڑا رہنا پڑا تھا۔ جبکہ میرے سر کے پچھلے حصے پر لگنے والی زبردست چوٹ نے میری بینائی چھین لی تھی اس لیے میں نہیں بتا سکتا کہ وہ لڑکی دیکھنے میں کیسی تھی….؟
لیکن میں نے یہ اندازہ تو لگا ہی لیا تھا کہ لڑکی نے اونچی ایڑی کے سینڈل پہن رکھے ہیں کیونکہ جب وہ کمپارٹمنٹ میں داخل ہونے کے بعد کسی سیٹ پر بیٹھنے کے لیے آگے بڑھی تو اس کے سینڈل کی کھٹ کھٹ سے ہی میں سمجھ گیا کہ ایسی آواز اونچی ایڑی والے سینڈل کی ہی ہوسکتی ہے۔
میں اس کا چہرہ تو نہیں دیکھ سکتا تھا لیکن اس کی کھنکتی ہوئی سریلی آواز سن کر یہ اندازہ قائم کرلیا تھا کہ اپنی آواز کی طرح لڑکی بھی بہت خوبصورت ہوگی۔
چند منٹوں تک رینگتے رہنے کے بعد جب ٹرین کی رفتار میں تیزی آگئی تو میں نے اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھے ہی کہا۔ ‘‘کیا آپ میسوری Mussoorie جارہی ہیں یا دہرہ دون Dehradunتک کا ہی سفر ہے….؟’’
میں شاید کمپارٹمنٹ کے کسی اندھیرے گوشے میں بیٹھا تھا کیونکہ میں نے محسوس کیا کہ میری آواز سن کر وہ بری طرح چونک پڑی تھی۔ وہ کمپارٹمنٹ میں آنے کے بعد سے اب تک مجھے دیکھ نہیں پائی تھی۔ وہ بولی تو حیرت اس کی آواز سے مترشح تھی۔ ‘‘ارے…. مجھے تو معلوم ہی نہیں تھا کہ یہاں کوئی اور بھی ہے! میں تو سمجھی تھی کہ میں اکیلی ہی.ہوں۔’’
‘‘ہاں، اکثر ایسا ہوجاتا ہے۔’’ میں نے ہنستے ہوئے کہا۔‘‘مثال کے طور پر جب آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا جاتا ہے تو آدمی سامنے کی چیز بھی دیکھ نہیں پاتا۔’’
‘‘نہیں، یہ بات نہیں ہے۔’’ اس کی آواز کی جھنکار میری سماعت سے ٹکرائی۔ ‘‘اصل میں جس جگہ آپ بیٹھے ہیں، اس طرف میں نے نظر ہی نہیں ڈالی تھی…. سوری۔’’
‘‘نہیں…. نہیں…. اس میں سوری کرنے کی کیا بات ہے….؟’’
میں جلدی سے بولا۔‘‘پہلے پہل تو میں نے بھی آپ کو نہیں دیکھا تھا لیکن میں نے آپ کو اندر داخل ہوتے ہوئے سنا ضرور تھا۔’’
یہ بات میں بے دھیانی میں کہہ گیا تھا لیکن بات منہ سے نکل چکی تھی۔ اس لیے مجھے ڈر لگ رہا تھا کہ میری اس بات سے وہ سمجھ گئی ہوگی کہ میں ایک نابینا شخص ہوں۔ یہی میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ لڑکی مجھے نابینا سمجھ کر تمام راستے مجھ سے ہمدردی کرتی رہے ۔ ر اسی لیے میں سوچ رہا تھا کہ جلد بازی میں جو سچی بات میرے منہ سے نکل چکی ہے اسے ہنسی مذاق اڑایا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر میں اسی ایک جگہ پر دبکا بیٹھا رہا تو اسے ضرور یہ یقین ہوجائے گا کہ میں کوئی معذور آدمی ہوں۔ اس بات کا خیال آتے ہی میں نے تیزی سے اپنی سیٹ پر پہلو بدلا اور اٹھنے کی کوشش کر ہی رہا تھا کہ لڑکی نے کہا۔ ‘‘میں سہارن پور Saharanpurاتر جاؤں گی…. اسٹیشن پر میرے چاچا چاچی مجھے لینے آئیں گے۔ ویسے آپ کہاں جائیں گے….؟’’
میں پھر اپنی سیٹ پر چپک گیا اور بولا۔ ‘‘پہلے دہرہ دون۔ وہاں ایک دو روز ٹھہر کر میسوری چلا جاؤں گا۔’’
‘’اوہ…. آپ تو واقعی بڑے خوش نصیب ہیں۔’’ وہ پُرمسرت لہجے میں بولی۔ ‘‘میری بڑی خواہش ہے میسوری جانے کی۔ مجھے پہاڑی علاقے بہت پسند ہیں۔ اونچی اونچی پہاڑیوں کے درمیان گھومنا مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔ سنا ہے کہ اکتوبر کے مہینے میں میسوری کے پہاڑوں پر بہار آجاتی ہے۔’’
‘‘ہاں، یہ بہت اچھا موسم ہوتا ہے۔’’ میں نے کہا اور اچانک ہی میری بےنور آنکھوں کے پیچھے میسوری کے وہ خوب صورت مناظر ناچنے لگے جو میں نے ماضی کے اچھے دنوں میں دیکھے تھے۔
ہری بھری وادیاں، رنگ بہ رنگے پھولوں کی بہار…. اونچے اونچے پہاڑ اور ان کی سنگلاخ کوکھ سے نکلتے گنگناتے جھرنے۔
یہ سارے دلکش مناظر میری یادوں میں تازہ ہوتے رہے پھر میں نے دھیمی آواز میں کہا۔ ‘‘اس موسم میں وہاں کا ایک ایک منظر آنکھوں کے راستے دل میں اتر جاتا ہے۔ پہاڑوں کی چوٹیاں بھی رنگ بہ رنگے جنگلی پھولوں سے ڈھک جاتی ہیں، صبح کی ہلکی ہلکی نرم دھوپ بہت بھلی لگتی ہے اور رات کے وقت سلگتی ہوئی انگیٹھی کے سامنے بیٹھ کر گرم گرم کھانے کھانے کا لطف ہی کچھ اور ہوتا ہے۔ اس وقت تک، وہاں آئے ہوئے زیادہ تر سیاح واپس چلے جاتے ہیں۔ ان کے جانے کے بعد وہاں کے ہوٹل اور سڑکیں خالی خالی سی ہوجاتی ہیں۔ جس کی وجہ سے وہاں کا ماحول اور بھی زیادہ حسین اور پرسکون ہوجاتا ہے۔’’
میں اتنی ساری باتیں کہہ گیا تھا لیکن وہ بالکل خاموشی تھی۔ اس نے نہ تو درمیان میں کچھ کہا اور نہ ہی کچھ پوچھا۔ اس پر مجھے حیرت ہو رہی تھی اور میں یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا تھا کہ یا تو میری باتوں نے اس کے جذبات کو کچھ زیادہ ہی متاثر کیا ہے، یا پھر شاید وہ مجھے کوئی پریم دیوانہ، سمجھ بیٹھی ہوگی۔ جب وہ ذرا دیر بعد بھی کچھ نہیں بولی تو ٹھیک اسی وقت میں ایک مرتبہ پھر غلطی کر بیٹھا یعنی اس سے پوچھ لیا۔
‘‘آپ چپ کیوں ہوگئیں….؟ لگتا ہے، باہر کے مناظر نے آپ کی توجہ ہٹا دی ہے۔ ذرا بتائیے، کیا منظر ہے باہر کا….؟’’
یہ میں نے پوچھ تو لیا مگر پھر فوراً ہی مجھے اپنی حماقت پر غصہ آیا اور مجھے لگنے لگا کہ اس مرتبہ میرا راز فاش ہو کر ہی رہے گا اور یہ لڑکی جان جائے گی کہ میں نابینا ہوں۔
لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ قسمت نے ایک مرتبہ پھر میرا راز فاش ہونے سے بچا لیا۔ لڑکی کو نہ تو میرے اس سوال پر کوئی حیرت ہوئی اور نہ ہی اس نے اس کا کوئی نوٹس لیا۔ میں نے سکون کا سانس لیا۔
چند لمحوں کے سکوت کے بعد لڑکی نے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے کہا۔ ‘‘کتنی اچھی ہوا چل رہی ہے۔ آپ کھڑکی کے قریب کیوں نہیں بیٹھتے….؟’’
‘‘بات دراصل یہ ہے کہ ہوا کے ساتھ دھول مٹی بھی بہت آتی ہے۔’’ میں نے اپنا عیب چھپائے رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا اور اس کے ساتھ ہی دھیرے دھیرے سرکتا ہوا کھڑکی کے پاس آگیا اور ایک ہاتھ سے ٹٹول کر دیکھ لیا کہ کھڑکی کھلی ہوئی ہے یا نہیں….؟ کھڑکی کا شیشہ اوپر اٹھا ہوا تھا، میں نے جلدی سے اپنا چہرہ کھڑکی کے فریم کی جانب کرلیا۔ اب کوئی بھی دیکھنے والا مجھے دیکھ کر یہی سمجھے گا کہ میں باہر کے نظاروں سے لطف اندوز ہو رہا ہوں۔ حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں کیونکہ میرے لیے جس طرح کمپارٹمنٹ کے اندر اندھیرا تھا ویسا ہی اندھیرا باہر بھی تھا۔
میں اپنے تصور کی آنکھ سے باہر کی ہر چیز کو پیچھے کی طرف بھاگتے دیکھ رہا تھا۔ ذرا دیر تک تو میں باہر دیکھتے رہنے کا ڈھونگ کرتا رہا پھر اپنی گردن اندر کی جانب موڑ کر بولا۔
‘‘آپ نے دیکھا کہ بجلی کے کھمبے اور درخت وغیرہ کتنی تیزی سے پیچھے بھاگ رہے.ہیں….؟’’
‘‘ہاں، لیکن ہم اپنی جگہ پر اسی طرح موجود ہیں۔’’ لڑکی نے ہنستے ہوئے کہا۔ ‘‘ٹرین کے سفر میں ہمیشہ ہی ایسا ہوتا ہے…. ہے نا….؟’’
‘‘ہاں۔’’ میں نے کہا پھر کھڑکی کے سامنے سے چہرہ ہٹا کر لڑکی کی طرف کرلیا اور تھوڑی دیر اسی طرح بیٹھا رہا تاکہ لڑکی سمجھے، میں اس کی طرف دیکھ رہا ہوں۔
‘‘آپ کے چہرے کے خدوخال بہت دلکش ہیں، آپ سچ مچ بہت ہی خوبصورت ہیں۔’’ میں نے اچانک ہی کہہ دیا کیونکہ اب میں کافی نڈر ہوگیا تھا۔ مجھے دل ہی دل میں خوشی ہو رہی تھی کہ میں ابھی تک اپنی اداکاری میں کامیاب رہا ہوں اور لڑکی کو ابھی تک یہ معلوم ہی نہیں ہوا ہے کہ میں نابینا ہوں۔
اس کے حسن کی تعریف میں جو الفاظ میرے منہ سے نکل گئے تھے انہوں نے لڑکی پر ایک گہرا اور خوش گوار اثر ڈالا تھا۔ بہت کم لڑکیاں ایسی ہوتی ہیں جو خوشامد کو اور اپنے حسن کی تعریف کو پسند نہیں کرتیں…. اور ان سے بھی کم ایسی لڑکیاں ہوں گی جو خود کو حسین نہ سمجھتی ہوں! ورنہ زیادہ تر تو یہ چاہتی ہیں کہ کوئی ان کی طرف دیکھے تو پھر دیکھتا ہی رہے۔ میری ہم سفر لڑکی بھی اپنی تعریف سن کر خوش ہوئی تھی تبھی دھیرے سے ہنس کر بولی۔
‘‘آپ کی بات مجھے بری نہیں لگی۔ بڑے مزے کی بات کہی ہے آپ نے۔ ویسے جو کوئی بھی مجھ سے تھوڑی دیر باتیں کرلیتا ہے، وہ یہی کہتا ہے آپ بہت خوبصورت ہیں اور سچ بات یہ ہے کہ اپنی تعریفیں سن سن کر میں تنگ آگئی ہوں۔’’
اس کی بات سن کر میں سمجھ گیا کہ یہ لڑکی واقعی خوبصورت ہے ورنہ جن لوگوں نے اسے دیکھ کر خوبصورت کہا ہے وہ سب تو میری طرح اندھے تو نہیں ہوں گے۔ اس بات کا یقین کر لینے کے بعد میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ‘‘اس میں تنگ آجانے والی بات کون سی ہے….؟ جب چاند نکلتا ہے تو دنیا دیکھتی ہے۔ لوگ بالکل ٹھیک کہتے ہیں، آپ صرف حسین نہیں ہیں…. آپ کے چہرے کے خدوخال بہت دلکش ہیں۔ اس پر سونے پر سہاگا آپ کی مترنم آواز! جب آپ بولتی ہیں تو لگتا ہے، کسی مندر میں لگی بےشمار نقرئی گھنٹیوں کی جھنکار سنائی دے رہی.ہے….’’
‘‘بس بس، رہنے دیں۔’’ اس نے پھر ہنستے ہوئے کہا۔ ‘‘مجھے تو آپ شاعر لگ رہے ہیں۔ لیکن جو کچھ بھی ہیں، آدمی آپ بہت دلچسپ ہیں۔ آپ کے ساتھ باتیں کرکے کوئی شخص بور نہیں ہوسکتا۔ میں سچ کہتی ہوں، آپ کی باتیں مجھے بہت اچھی لگیں۔’’
‘‘اور مجھے آپ کی آواز بہت اچھی لگی ہے۔’’ میں نے ہنستے ہوئے کہا۔ کیونکہ اس کی کوئی اور خوبی یا خامی تو میں نے دیکھی نہیں تھی۔ ایک آواز ہی تھی جسے میں نے اپنے دل کے اندر تک محسوس کیا تھا۔
‘‘آپ کی شادی ہوچکی ہے….؟’’ یکا یک اس نے سنجیدہ سے لہجے میں پوچھا اور پھر فوراً ہی کہا۔ ‘‘سوری، میں نے ایک نجی سوال پوچھ لیا ہے۔’’
‘‘نہیں…. نہیں سوری کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔’’ اس نے پھر اپنا سوال دہرایا۔
میں نے ہنستے ہوئے کہا۔ ‘‘اگر میں کہوں کہ نہیں ہوئی ہے تو….؟’’
‘‘تو میں پوچھوں گی کہ کیوں نہیں ہوئی….؟’’ وہ بھی ہنس کر بولی۔
‘‘اصل میں ابھی تک کسی لڑکی نے مجھے پسند ہی نہیں کیا۔’’ میں بولا۔ ‘‘یا یوں کہہ لیجیے کسی نے میرے چوکھٹے پر توجہ ہی نہیں دی ہے۔’’
‘‘ایسا کیسے ہوسکتا ہے….؟’’ وہ فوراً ہی بولی۔ ‘‘کیا کمی ہے آپ میں….؟ خوبصورت ہیں، جوان ہیں، شریف اور پڑھے لکھے آدمی ہیں۔ مجھے تو آپ میں ایسی کوئی خامی نظر نہیں آتی کہ لڑکیاں آپ کی طرف متوجہ نہ ہوں۔’’
‘‘آدمی کو اپنی خامیوں اور خوبیوں کے بارے میں دوسروں سے زیادہ معلوم ہوتا ہے۔’’ میں نے گھمبیر لہجے میں کہا۔ ‘‘اور جہاں تک میرا تعلق ہے، میں یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ آج کے زمانے کی کوئی بھی لڑکی میرے ساتھ خوش نہیں رہ سکتی۔’’
‘‘کیوں….؟’’
‘‘کیونکہ یہ جدید اور تیز رفتار زمانہ ہے۔’’ میں نےا سی گھمبیرتا سے کہا۔ ‘‘ہر کوئی اپنی توقعات اور خواہش کے مطابق زندگی گزارنا چاہتا ہے اور زندگی گزارنے کےلیے ہر کسی کو اپنی پسند کے ہمسفر کی تلاش رہتی ہے…. جبکہ مجھ جیسا بے کار اور سست آدمی اچھا ہمسفر ثابت نہیں ہوسکتا۔’’

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: