Husna Novel by Huma Waqas – Episode 1

1
حسنیٰ از ہما وقاص – قسط نمبر 1

–**–**–

بچہ مجھے دو ۔۔۔۔۔۔۔۔ ملک انور نے بچے کو دونوں ہاتھوں سے سامنے کھڑی صابرہ سے چھینا تھا ۔۔۔
حویلی اندھیرے میں ڈوبی ہوٸ تھی ۔۔۔ یہ حویلی کے عقب پر بنے چند کمروں میں سے ایک کمرے کے سامنے کا منظر تھا ۔۔۔ جہاں شکن آلودہ ماتھا لیے ملک انور ٹسوے بہاتی ڈری سہمی صابرہ کے سامنے کھڑے تھے اور اس کے ہاتھ سے ہلکے نیلے رنگ کے کپڑے میں لپٹے اس نومولود کو صابرہ سے چھین کر اب اپنے ہاتھوں میں کر چکے تھے ۔۔۔
ملک صاب بچہ زندہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صابرہ نے خوف زدہ انداز میں پھٹی آنکھوں سے ملک انور کو دیکھا اور روہانسی آواز میں اپنی طرف سے ایسی بات کی آگاہی دی جس سے شاٸد اسے لگتا تھا ملک انور انجان ہیں ۔۔۔
ہاں جانتا ہوں یہ زندہ ہے پر شہرروزی کو یہ کبھی نہیں پتہ چلنا چاہیے کہ بچہ زندہ تھا ۔۔۔۔۔۔ ملک انور نے دانت پیس کر کھا جانے والی نظروں سے سامنے کھڑی اپنی بیوی کو دیکھا تھا۔۔۔۔
ملک صاب یہ ظلم مت کریں ۔۔۔۔ وہ نکاح نامہ دکھا تو چکی تھی یہ بچہ حرام نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ صابرہ نے خوف زدہ لہجے میں گھٹی سی آواز میں کہا تھا ۔۔۔
وہ دونوں دانت پیستے ہوۓ آواز کو اتنا مدھم رکھے ہوۓ تھے کہ سرگوشیاں صرف ان کو ہی سناٸ دے رہی تھیں ۔۔۔
تو چپ کر بیوقوف عورت ۔۔۔۔ یہ حرام نہیں لیکن اس حرام زادے کا ہی پلا ہے ۔۔۔۔ خبردار اگر شہروزی کو یہ بتایا کہ بچہ زندہ تھا ۔۔۔۔۔۔۔ ملک انور نے صابرہ کو آنکھیں نکالی تھیں ۔۔۔۔
وہ ایک دم سہم گٸ تھیں ۔۔۔ کمرے سے شہروزی کی گھٹی گھٹی چیخوں کی آوازیں سناٸ دے رہی تھیں ۔۔۔ وہ ہولے ہولے کراہ رہی تھی ۔۔۔ اس کے ساتھ سسی کی آوازیں تھیں جو اسے ہمت دے رہی تھیں۔۔۔
ملک صاب ۔۔۔۔۔ بچے کو قتل مت کرنا ۔۔۔۔ خدارا۔۔۔۔ صابرہ نے تیزی سے موڑتے ہوۓ ملک انور کے آگے آ کر ہاتھ جوڑے تھے۔۔۔
مجھے زیادہ پتہ ہے کیا کرنا ہے ۔۔۔ راستہ چھوڑ میرا ۔۔۔۔ ۔۔۔ ملک انور نے ایک ہاتھ میں بچے کو کرتے ہوۓ دوسرے ہاتھ سے سامنے کھڑی صابرہ کو زور کا دھکا دیا تھا کہ وہ لڑ کھڑاتی ہوٸ ایک طرف ہوٸ تھی اور ملک انور کی گود میں موجود بچہ رونے لگا تھا ۔۔۔۔
ملک انور نے عجلت میں بچے کے منہ پر ہاتھ دھرا تھا۔۔۔
ملک صاب ایسےمت کریں مر جاۓ گا۔۔ ۔۔۔۔ صابرہ کی آنکھیں خوف زدہ تھیں۔۔۔ آواز چیخ کی طرح برآمد ہوٸ تھی ۔۔۔
ملک انور تیزی سے سامنے کھڑی جیپ کی طرف بڑھ گۓ تھے ۔۔۔۔
اور صابرہ دوپٹے کو اپنے منہ پر دھرے کھڑے تھی ۔۔۔
**********
یہ جوتا کیسے سلاٸ کروں بھایا۔۔۔ موچی نے حیرانی سے جوتے کو اوپر کر کے دیکھتے ہوۓ اپنے ٹپوری سے انداز میں کہا۔۔۔
لاہور کے خستہ حال علاقے کے خستہ حال بازار میں ایک زمین پر بیٹھے موچی کے پاس وہ اپنی اکلوتی پینٹ شرٹ پر ٹاٸ سجاۓ ۔۔ بال سلیقے سے بناۓ۔۔ پریشان حال کھڑا تھا۔۔
جوتا اتنی خستہ حالت میں تھا پہلے بھی بہت جگہ پر سلاٸ کے نشان تھے اور اب آگے سے وہ سارا کھلا پڑا تھا حالت بھی چمڑے کی بوسیدہ ہوٸ پڑی تھی جس پر سلاٸ بے کار تھی۔۔۔
کیوں یہ آگے سے کر دو نہ۔۔۔ اس نے ماتھے پر ایسے بل ڈال کر کہا جیسے موچی نے کوٸ غلط اور ناممکن بات کی ہو۔۔۔
ارے بھایا اتنا خستہ حال جوتا ہے ۔۔۔ اب اور کتنا گھسیٹو گے اس کو ۔۔۔ موچی نے ناگواری سے خستہ حال جوتے کو دیکھ کر ناک چڑھا کر کہا۔۔۔
تم سے جتنا کہا کر دو بس۔۔۔ ماتھے پر سے پسینہ صاف کرتے ہوۓ شرمندہ سے لہجے میں کہا۔۔۔جب کے نظریں ارد گرد سے گزرتے لوگوں کے جوتوں پرمرکوز تھیں۔۔۔
ہر انداز کے لوگ اور ان کے پیروں میں پڑے ہر طرح کے جوتے ۔۔ پر کسی کے جوتے کی حالت اس کے جوتے جیسی تو نہ تھی۔۔۔
ارے بھایا۔۔۔ غصہ ناکو کرو۔۔۔ میں تو اس لیے کہہ رہا ہوں ۔۔ یہ میرے پاس کچھ پرانے جوتے کے جوڑے ہیں۔۔۔ ان میں سے کوٸ خرید لو۔۔۔ تمھارا یہ اگر میں سلاٸ کر بھی دیتا ہوں تو کوٸ فاٸدہ نہیں ہو گا۔۔۔ تھوڑے دن بعد یہ پھر سے نکل جاۓ گا۔۔۔ موچی نے اپنے پیلے دانتوں کی نماٸش کرتے ہوۓ کہا۔۔۔
کون کون سے جوتے ہیں دکھاٶ تو۔۔۔ تھوڑی دیر سوچنے کے بعد نعمان نے کان کھجاتے ہوۓ کہا۔۔۔
یہ دیکھو۔۔۔ اس کو پہن کر دیکھو بابو لگو گے ۔۔۔ موچی تو جیسے خوش ہو گیا تھا
کہاں جا رہے ہو صاب نوکری کی تلاش میں۔۔۔ موچی نے ہاتھ سے اس کے پیروں میں جوتا پہناتے ہوۓ آنکھیں سکیڑ کے اس کی طرف دیکھا اور پوچھا۔۔۔
ہاں۔۔۔ یہ کتنے کا دو گے۔۔۔ نعمان نے اس کی بات کا مختصر جواب دیتے ہوۓ کہا اور پھر جوتے پر آگے پیچھے ہو کر نظر دوڑاتے ہوۓ اس سے سوال کیا۔۔۔
تین سو کا بھایا۔۔۔ موچی نے دانت نکالے۔۔۔ اور تین انگلیاں کھڑی کی۔۔۔
تم میرا ہی جوتا تھوڑا سا سلاٸ کر دو۔۔۔ نعمان نے جلدی سے گھبراہٹ میں جوتا اتارا تھا۔۔۔
کیا ہو بھایا اتنے بھی نہیں کیا۔۔۔ موچی نے خفگی سے دیکھا۔۔۔
تم میرا سر کھانا بند کرو اور جو کہا وہ کر دو۔۔۔ نعمان نے دانت پیستے ہوۓ کہا۔۔ اور اردگرد نظر دوڑاٸ۔۔۔
ارے غصہ کاہے کو ہوتا ہے بھایا۔۔۔ ابھی کیے دیتا ہے ۔۔۔ میں۔۔۔ موچی نے اس کی تیوری چڑھی دیکھی تو تھوڑا ڈرا اور جلدی سے جوتا اٹھا کر بڑے بڑے توپے بھرنے لگا۔۔۔
نعمان بے زاری سے کھڑا اس تنگ سے بازر میں آتے جاتے لوگوں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ آج اگر اس کمپنی کے انٹرویو کے لیے لیٹ ہو گیا تو ۔۔۔ پریشانی سے ٹاٸ کی ناٹ کو گھومایا ۔۔۔
بھایا۔۔۔۔ یہ دیکھو۔۔۔ اب یہ آخری دپھہ ہے جی اس کے بعد تو جوتا سلاٸ ناکو پکڑے سچی بات بول دیو آپ سے میں ۔۔۔ موچی پھر سے اسے خبردار کر رہا تھا ۔۔۔
پالش بھی کر دو ۔۔۔۔نعمان نے اس کی بات کو سنی ان سنی کرتے ہوۓ پھر سے جوتے کی طرف اشارہ کیا تھا۔۔۔
پانچ ماہ تو ہو گۓ تھے ایسے دھکے کھاتے ہوۓ ۔۔۔ در بدر پھرتے ہوۓ ۔۔۔۔۔ صرف ایک چیز کے سکون کے علاوہ باقی سب بے سکونی پریشانی اور غربت تھی ۔۔۔ لیکن اس کو مضبوط بننا تھا۔۔۔ وہ دل میں پھر سے دوسرے کلمے کا ورد کر رہا تھا ۔۔۔
پاٶں میں مصروف سے انداز میں جوتا پہنتے ہوۓ وہ ایک ہاتھ سے جیب سے پیسے نکال رہا تھا ۔۔۔ عبداللہ سے لیا گیا قرض اب بڑھتا جا رہا تھا ۔۔۔ موچی کو پیسے پکڑا کر وہ بہت امید سے واصف ٹیکسٹاٸل کی طرف رواں دواں تھا ۔۔۔
**********
روبن ۔۔۔ تم کو کتنی بار بولا ہم نے ۔۔۔۔ تم کو باہر جا کر کھیلنے کا نہیں ہے میری جان ۔۔۔ کرسٹن نے سالن کا باٶل کھانے کے میز پر رکھتے ہوۓ خفگی سے سامنے کھڑے روبن کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔
وہ ٹاول سے اپنا منہ خشک کر رہا تھا ۔۔۔۔ چہرہ سرخ ہو گیا تھا وہ ابھی کرکٹ کھیل کر پسینے سے بھرا گھر آیا تھا ۔۔۔ اس کی رنگت سفید تھی اور جب بھی وہ کھیل کود کرتا تھا اس کا چہرہ سرخ ہو جاتا تھا ۔۔۔ ابھی بھی وہ سرخ چہرے پر پانی کے چھینٹے مار کر باتھ روم سے باہر آیا تھا۔۔۔اور اب مصروف انداز میں لاپرواہی کے ساتھ چہرہ اور بازو صاف کر رہا تھا ۔۔۔
مام ۔۔۔اب بچہ نہیں میں ۔۔۔مت لگایا کریں پابندی مجھ پر ۔۔۔ روبن نے بچوں جیسی صورت بنا کر کہا تھا ۔۔
ٹاول کو ایک طرف رکھ کر وہ کھانے کے میز کے سامنے رکھی کرسی کو کھینچ رہا تھا ۔۔۔
ولسم آنے والا ۔۔۔۔۔۔۔ تو اس کے سامنے مت کیا کرو ایسے ۔۔۔۔۔۔ کرسٹن نے گھور کر دیکھا تھا ۔۔۔۔
اور اس کے سامنے رکھی پلیٹ میں باٶل سے سالن انڈیلا
ولسم ۔۔۔ ولسم ۔۔۔ مام آج تم مجھے بتاٶ میں انھیں کا بیٹا ہوں کیا ۔۔۔۔۔۔ روبن نے گرے رنگ کی آنکھیں سکیڑ کر کہا ۔۔۔۔
کرسٹن کے ہاتھ ایک لمحے کو روکے تھے ۔۔۔
بول ۔۔۔اب تم بھی بول ان سب لوگوں کی طرح ۔۔۔ تجھے بھی اپنے خون کا اپنی ماں کا پہچان نہیں رہا ۔۔۔۔ ۔۔۔ کرسٹن نے خفگی بھرے لہجے میں کہتے ہوۓ سامنے بیٹھے انیس سالہ روبن ولسم کو دیکھا ۔۔۔
وہ بھورے سنہری بالوں ۔۔۔ نیلی آنکھوں اور سفید رنگت رکھنے والا انتہاٸ خوبصورت لڑکا تھا ۔۔۔کرسٹن کا رنگ گندمی جبکہ ولسم کا رنگ بہت حد تک سیاہ تھا ۔۔۔۔ روبن کو سب یہی کہتے تھے وہ ان کا بچہ نہیں لگتا ہے ۔۔۔ کرسٹن بچپن سے لوگوں کی اسطرح کی باتیں سن سن کر صفاٸ دیتے دیتے تھک کر اب بس اس بات کو لے کر روہانسی ہو جاتی تھی ۔۔۔
اے ۔۔۔۔ اے۔۔۔۔کرسٹن ماٸ بیوٹیفل لیڈی ۔۔۔ یو آر ناٹ آنلی ماٸ مام ۔۔۔ یو آر ماٸ فرینڈ ۔۔۔۔ روبن ایک دم سے اٹھا تھا اور کرسٹن کی پشت سے اس کے گرد باہیں حاٸل کیے لاڈ سے گویا ہوا۔۔۔
اچھا اچھا ۔۔۔ مسکا لگانا بند کر ۔۔۔ اب ۔۔۔ ایگزیم ہونے والا تمھارا جا کر پڑھ ۔۔۔ ولسم پھر بولے گا ۔۔۔ کہ پڑھتا نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کرسٹن نے آنسو صاف کیے تھے اور اس کے بازو اپنی گردن کے گرد سے دور کیے تھے۔۔۔
اوکے ۔۔۔ اوکے ۔۔۔ جاتا ہوں ۔۔۔ کھانا کھا لوں۔۔۔ روبن نے کھانے کی طرف اشارہ کیا تھا اور پھر جلدی سے کھانا کھانے بیٹھ چکا تھا ۔۔۔
ولسم سٹوین ۔۔۔ ایک مسیح تھا۔۔۔ پڑھا لکھا ہونے کی وجہ سے وہ ایک بنک میں ملازمت کرتا تھا ۔۔۔روبن ولسم اس کا اور کرسٹن کا اکلوتا سہارا تھا ۔۔روبن پڑھاٸ میں اچھا تھا اور دونوں یہ چاہتے تھے وہ کچھ اچھا بن جاۓ ۔۔۔۔
*********
اٹھ جا اب تیری بھابیاں کب سے لگی ہوٸ ہیں ۔۔۔ عفت نے حسنیٰ کے اوپر سے چادر کھینچ کر اتاری تھی ۔۔۔
وہ مزے سے ٹھنڈے پانی کی پھوار مارتے ایر کولر کے بلکل آگے چادر کوسر سے پاٶں تک تان کر لیٹی ہوٸ تھی ۔۔۔ اس کے سر کی طرف پلنگ پر چند رسالے اور اس کا موباٸل فون پڑا تھا ۔۔۔ اس کے پلنگ کے بلکل ساتھ ایک اور پلنگ تھا جس کی چادر سلیقے سے بچھی ہوٸ تھی ۔۔۔ دو پلنگ کے علاوہ ایک کپڑوں کی الماری اور باہر کی طرف کھلتے کھڑکی کے ساتھ ایک پرانی سی میز پر ڈھیر سارے رسالے اور ناول کے کتابوں کے اعنبار لگے ہوۓ تھے ۔۔۔
1
حسنیٰ ۔۔۔۔ اٹھ اب ۔۔۔۔۔۔۔ عفت نے اس کے ٹس سے مس نہ ہونے پر ایک دفعہ پھر سے اسے پاٶں سے پکڑ کر جھونجوڑ ڈالا تھا ۔۔۔
امممم ۔۔۔ کیا ہے بھٸ ۔۔۔ ڈھنگ سے سونے بھی نہیں دیتا اس گھر میں تو کوٸ ۔۔۔ ایک جست میں چادر اچھل کر ایک طرف ہوٸ تھی ۔۔۔۔
اور اس چادر میں لپٹا نازک سراپا باہر آیا تھا ۔۔۔ سرمٸ آنکھیں نیند کے خمار سے تھوڑی سی چھوٹی لگ رہی تھیں چھوٹی سی ناک ناگواری سے اوپر چڑھا رکھی تھی ۔۔۔۔ صراحی گردن پر بکھرے بال وہ اس ملگجے کمرے کی بوسیدہ چیزوں میں سے واحد ایک خدا کا شہکار لگ رہی تھی ۔۔۔
اٹھ ۔۔۔ اتوار کو تو کوٸ کام کروا دیا کر ان کے ساتھ ۔۔۔ عفت نے گھور کر اسے سرزنش کیا تھا ۔۔۔
جو اب ہونٹ بچوں کی طرح باہر نکالے تیوری چڑھا کر بیٹھی ہوٸ تھی۔۔۔
ارے اماں ۔۔ویسے تو وہ دونوں پیٹتی رہتی ہیں یہ ہمارا گھر ہے یہ ہمار گھر ہے ۔۔۔ تو اب کام کرتے وقت میں کیوں لگوں ان کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔ بڑی شان بے نیازی سے کمر تک بکھرے بالوں کو فولڈ کیا اور جوڑے کی شکل میں اوپر باندھ دیا ۔۔۔ جوڑا بنتے ہی بال تھوڑے ڈھلک سے گۓ تھے۔۔۔
عفت نے اپنے منہ پر انگلی رکھ کر اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔ اس چھوٹے سے گھر میں ایک کمرے سے آوازیں با آسانی دوسرے کمروں تک چلی جاتی تھیں ۔۔۔
اور بات سنیں آپ ۔۔ آپ کیوں اتنا ڈرتی ہیں ان سے بتاٸیں مجھے ذرا ۔۔۔۔۔چادر کو ایک جھٹکے سے خود سے دور کیا اور پلنگ کے پاس پڑی چپل کو اپنے نازک پیروں میں آڑاتی وہ اٹھ گٸ تھی۔۔۔
میں کوٸ ڈرتی ورتی نہیں جب شوہر نہ ہوں اور بیٹوں کے رحم و کرم پر رہنا پڑے تو ایسا ہی ہوتا ہے ۔۔۔عفت اب اس کی ابھی ابھی خود سے اتاری ہوٸ چادر کو تہہ کر رہی تھیں ۔۔۔
اچھا بیٹے آپکے پہلے ہیں وہ اور ان کے شوہر بعد میں ۔۔۔۔۔۔۔ باتھ روم کے پاس جا کر تھوڑی سی کمر کو خم دے کر وہ مڑی تھی اور اپنی ماں کو ناک چڑھا کر کہا
عفت نے بس سر ہی جھٹکا تھا۔۔۔ اور وہ باتھ روم میں اب تیسری بار اپنا چہرہ رگڑ رگڑ کر دھو رہی تھی ۔۔۔۔
چل اب بس کر اٹھ کر حسن کی پڑ گٸ اب تجھے ۔۔۔۔۔۔۔ عفت نے باتھ روم کے قریب کھڑے ہو کر لتاڑا تھا۔۔۔
اماں میں نہیں جانے کی چولہے کے آگے ۔۔۔ ڈسٹنگ کر دیتی ہوں بس ۔۔۔ ۔۔۔ منہ کو ٹاول سے صاف کرتی وہ بنا دوپٹے تیوری چڑھاتی باہر نکل گٸ تھی ۔۔۔۔
عفت آرا۔۔۔ ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی خاتون تھیں دو بیٹے اور تین بیٹاں تھیں ۔۔۔ شوہر کو اس جہان فانی سے کوچ کیے پانچ سال ہو چکے تھے ۔۔۔ بختاور اور ماہ رخ کو تو اس کے شوہر اپنی زندگی میں ہی رخصت کر گۓ تھے ۔۔ عامر سب سے بڑا تھا اس کی شادی کو آٹھ سال اور اس سے چھوٹے حسن کی شادی کو دو سال ہو چکے تھے ۔۔ اور سب سے چھوٹی تھی حسنیٰ ۔۔۔ سولہ سال کی عمر میں عافت کا پر کالا۔۔۔ جتنی حسین اتنی نک چڑھی مغرور ۔۔ باپ کی لاڈلی اور سب بہن بھاٸیوں میں سے چھوٹی تھی۔۔۔ قصے کہانیوں کی شوقین اور اونچے خواب سجانے اور شہزادے کی آمد کا انتظار کرنے والی لڑکی تھی۔۔۔۔
منہ پھٹ۔۔۔ لحاظ نہ رکھنا۔۔۔ خود غرضی ۔۔۔ ان سب عادتوں کی مالک وہ تھی حسنیٰ عابد علی ۔۔۔
***************
سر ۔۔۔ آٸیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے کان کے قریب کوٸ جھکا تھا اور بڑے معدب سے انداز میں گویا ہوا تھا۔۔۔
واصف ٹیکسٹال کے ریسپشن کے بلکل سامنے لگے صوفوں میں سے ایک صوفے پر وہ سر کو تھوڑا سا جھکاۓ کلمے کا ورد کر رہا تھا ۔۔۔۔ جب اس کے بلکل پاس آ کر لڑکی نے اس کی انٹرویو کی باری کا بتاتے ہوۓ اسے اندر جانے کا کہا تھا ۔۔۔
اٹھ کر خود پر ایک اچٹتی سی نظر ڈالتا وہ فاٸل کو ہاتھ میں درست کرتا ہوا اٹھا تھا ۔۔۔۔دروازے پر ہلکی سی دستک دے کروہ اندر آنے کی اجازت طلب کر چکا تھا ۔۔۔ اندر ایک سکوت زدہ سا ماحول تھا ۔۔۔ بہترین آراٸش و زیباٸش سے لیس اس کمرے میں تین نفوس موجود تھے ۔۔۔جن کے آگے شیشے سے بنا خوبصورت بہت بڑا میز مزین تھا ۔۔۔
جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نعمان کے اجازت طلب کرنے پر تینوں میں سے ایک نفوس نے بڑے مہزب انداز میں کہا تھا ۔۔۔۔
یہ پاکستان کی سب سے بڑی ٹیکسٹاٸل کمپنی تھی ۔۔۔ جس کی ایک چھوٹی سی پوسٹ کے لیے وہ انٹرویو دینے آیا تھا ۔۔۔
تو نعمان ۔۔۔ صرف نعمان ۔۔۔۔ کوٸ سر نیم نہیں ۔۔۔۔۔۔ اس کے بلکل سامنے بیٹھے شخص نے حیرت سے ایک نظر نیچے اس کی ڈاکیومنٹس پر اور پھر ایک حیرت بھری نظر اس پر ڈالی تھی ۔۔۔
نہیں ۔۔۔ میں بچپن سے لاورث ہوں ۔۔۔ سر نیم نہیں۔۔۔۔۔ نہیں ہے میرا ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے کرسی پر اپنی پوزیشن کو درست کرتے ہوۓ کہا تھا ۔۔۔۔
وہ بہت حد تک خود کو نارمل رکھے ہوۓ تھا ۔۔۔ لاہور آنے کے بعد اس کا یہ کوٸ بیسواں انٹرویو تھا ۔۔۔اس کو پتا تھا یہاں بھی اس کے ڈاکیومنٹس میں اسی مسٸلے پر اس کو ریجیکٹ کر دیا جاۓ گا ۔۔۔ یہ آخری کوشش تھی اس کے بعد اسے پھر سے کراچی جانا ہی پڑے گا ۔۔۔اور وہی ہوا تھا جس کا خدشہ تھا وہ تینوں نفوس ایک دوسرے کے ساتھ اب اس کے پیپرز کو دیکھتے ہوۓ ایک دوسرے کے کانوں میں باتیں کر رہے تھے ۔۔۔
یہ کیا ہے ۔۔۔ دیکھیں ۔۔۔ ایسے مشکل ہے تھوڑا ۔۔۔ اپنے سارے ڈاکیومنٹس آپ کو تبدیل کروانے ہوں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان تینوں میں سے داٸیں طرف بیٹھے شخص نے تھوڈی پر انگلیاں چلاتے ہوۓ کہا تھا ۔۔
نعمان کا چہرہ سب کچھ پہلے سے جان لینے کے باوجود زرد ہوا تھا۔۔۔
پلیز۔۔۔ میں سب کروا لوں گا پر ابھی آپ مجھے اس پوسٹ کے لیے سلیکٹ کر لیں ۔۔۔ آپ مجھ سے انٹرویو لے کر تسلی کر سکتے ہیں ۔۔۔ نعمان کے اندر کی گھبراہٹ اس کے ہاتھوں کی جنبش اور زبان کی لڑ کھڑاہٹ سے صاف واضح تھی ۔۔۔
مسٹر نعمان ہماری کمپنی کے کچھ ٹرمز اینڈ کنڈیشنز ہیں دیکھیں آپکا معاملہ تھوڑا عجیب ہے ۔۔لیکن ہم اس پر غور کریں گے ۔۔۔۔۔۔۔ درمیان میں بیٹھے شخص نے معزرت بھرے لہجے میں کہا تھا ۔۔۔
سر پلیز۔۔۔ مجھے لگتا ہے کہ میرا عمل اتنی اہمیت تو رکھتا ہے کہ آپ لوگ میری اس مسٸلے میں سپورٹ کریں گے ۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے گڑ بڑاتے ہوۓ کہا
تینوں آپس میں پھر سے بات کرنا شروع ہو گۓ تھے ۔۔۔ ان میں سے ایک نفوس ہونٹ باہر نکالے مسلسل دھیرے سے سر ہلا رہا تھا ۔۔۔
پھر انہوں نے باری باری اس سے چند سوالات کیے تھے جن کی نعمان نے بہترین طریقے سے وضاحت کی تھی ۔۔۔
نعمان نو ڈاٶٹ ایکڈیمک رکارڈ بہت بہترین ہے آپکا۔۔۔ آپ کال کا انتظار کریے گا۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی فاٸل بند کرتے ہوۓ درمیان میں موجود نفوس نے کہا۔۔۔۔
ناو یو کین لیو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مسکرا کر اسے کہا گیا تھا۔۔۔
تھینکیو سر ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے ہونٹ بھینچے تھے اور کرسی سے اٹھا تھا ۔۔
مایوسی بھرے قدم اٹھاتا وہ باہر آ گیا تھا ۔۔۔ یہ جاب بھی نہیں ملے گی ۔۔۔۔ نعمان نے بے دلی سے سوچتے ہوۓ ٹاٸ کی ناٹ کو گھومایا تھا ۔۔۔چہرہ تھکا ہوا تھا بوجھل قدم اٹھاتا وہ لفٹ کے بلکل قریب آ گیا تھا ۔۔۔ لفٹ کھلتے ہی سامنے ایک نفیس خاتون کھڑی تھی اس کا چہرہ اس کا لباس سب اس کی نفاست کے گواہ تھے ۔۔۔ نعمان کو دیکھتے ہی وہ ٹھٹھکنے کے انداز میں رکی تھی ۔۔۔۔
رکو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نعمان جیسے ہی لفٹ کی طرف بڑھا تھا اس خاتون نے چونک کر اسے رکنے کا کہا تھا ۔۔۔
جی میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے حیرت سے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا ۔۔۔ جبکہ نظریں ارد گرد کا جاٸزہ لے رہی تھیں اس شہر میں اس کو یو خود سے مخاطب کرنے والی یہ پہلی خاتون تھی ۔۔۔
ہممممم تم ۔۔۔۔۔۔ خاتون نے لب بھینچ کر اس کی بات کی تاٸید کی ۔۔۔
وہ بری طرح اس کے چہرے کے خدوخال میں الجھی ہوٸ تھی ۔۔۔
کون ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت دور سے آتی ہوٸ آواز نعمان کو سناٸ دی تھی ۔۔۔
اس عورت کی آنکھوں میں حیرت تھی ۔۔۔۔ لہجہ عجیب سا انداز لیے ہوۓ تھا ۔۔۔
جی نعمان۔۔۔۔ نعمان نیم ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے ارد گرد دیکھتے ہوۓ اس کی حیرت پر حیرت ظاہر کرتے ہوۓ کہا تھا
نعمان ۔۔۔ انٹرویو کے لیے آۓ تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ عورت اسی عجیب الجھے سے لہجے میں گویا ہوٸ تھی ۔۔۔
جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے ہنوز اسی انداز میں جواب دیا تھا جبکہ سامنے کھڑی وہ خاتون اوپر سے نیچے اسے تاسف اور حیرت سے دیکھنے میں مصروف تھی ۔۔۔
اچھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کھوۓ سے انداز میں اس عورت نے کہا تھا ۔۔۔
اس کے بدن سے اٹھتی مہنگے کلون کی مہک نعمان کو چند قدم کے فاصلے پر بھی حصار میں لیے ہوۓ تھی ۔۔۔
سنو۔۔۔ گیو می یور ڈاکیومنٹس۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک دم سے اس عورت نے نعمان کے ہاتھ میں پکڑی فاٸل کی طرف اشارہ کیا تھا ۔۔۔
جی۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ نعمان نے حیرت سے ایک نظر فاٸل پر اور ایک نظر سامنے کھڑی اس نفیس خاتون پر ڈالی تھی ۔۔۔
آٸ ایم مسز واصف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت نرمی سے عورت نے کہا تھا ۔۔
نعمان اس کی بات پر ایک دم سے گڑ بڑا گیا تھا ۔۔۔ فورا ہاتھ میں پکڑی اس فاٸل کو وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھا چکا تھا ۔۔۔
اوہ۔۔۔۔اوہ۔۔ میم ۔۔ آٸ ریلی نیڈ دس جاب ۔۔۔۔ میم ۔۔ پلیز۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے التجاٸ انداز میں لڑ کھڑاتے ہوۓ کہا تھا ۔۔۔
جبکہ وہ اس کی فاٸل کو ہاتھ میں تھامے ابھی بھی اسے اسی حالت میں دیکھ رہی تھی۔۔۔
پھر ایک دم سے وہ مڑی تھی اور تیز تیز قدم اٹھاتی وہ آفس کی طرف بڑھ رہی تھی ۔۔۔جیسے ہی وہ مین ھال میں داخل ہوٸ تھی تو بجلی کی سی تیزی سے وہاں موجود لوگ اپنی اپنی نشست اٹھ کھڑے ہوۓ تھے ۔۔۔
نعمان حیران سا ہوتا ہوا کچھ دیر وہاں کھڑا رہا تھا پھر وہ لفٹ کا بٹن دبا چکا تھا۔۔۔
بات سن اس کے منہ مت لگ سالا۔۔۔ غیر مسلم۔۔۔…۔۔۔ لڑکے نے دوسرے لڑکے کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر زمین پر تھوک پھینکا تھا۔۔۔۔
ناگواری بھری نظریں وہ سامنے سرخ چہرہ لیے روبن پر ڈالے کھڑا تھا ۔۔۔ وہ ایک کھلی پکی سڑک پر کھڑے تھے ۔۔۔ سڑک کے داٸیں طرف گھروں کی کی قطار اور باٸیں طرف ایک بنجر پارک تھا جس میں کوڑے کے بے جا ڈھیر لگے ہوۓ تھے ۔۔۔ یہ کراچی کا متوسط طبقے کا رہاٸشی علاقہ تھا جہاں پر زیادہ مسیح ایک ساتھ گھر بنا کر بیٹھے ہوۓ تھے۔۔۔
روبن کے پاٶں کے پاس بلا اور وکٹ گری پڑی تھیں ۔۔۔وہ روز اس گلی میں کرکٹ کھیلتے تھے اور اکثر ان کی کمینوٹی کے لڑکوں کی چند مسلم لڑکوں سے جھڑپ ہو جایا کرتی تھی آج بھی یہی ہوا تھا۔۔۔
اس کے سالا بولنے پر روبن نے ایک جھٹکے سے اپنا کندھا پاس کھڑے منب سے چھوڑوایا تھا۔۔۔۔
او۔۔۔۔ ابے۔۔۔۔۔ بات سن ۔۔۔۔۔۔۔کس کو بولا سالا ۔۔۔۔۔۔۔ روبن نے ایک جھٹکے سے سامنے کھڑے لڑکے کو اس کے گریبان سے پکڑا تھا ۔۔۔اور اتنی زور کا جھٹکا دیا تھا کہ وہ ہل گیا تھا ۔۔۔ روبن کے بازو کی رگیں پھول چکی تھیں ۔۔۔۔ جبڑے اتنی سختی سے بند کیے ہوۓ تھے کہ چہرے پر جبڑے واضح ہونے لگے تھے ۔۔۔۔۔ ماتھا اتنا شکن آلودہ تھا کہ گرے آنکھیں سکڑ کر بھنوں میں گم ہو رہی تھیں ۔۔۔
تجھے بولا۔۔۔۔۔ غلط ۔۔۔ بے ایمانی کرتا ۔۔ غیر مسلم ۔۔۔ کرسچن سالا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ساتھ کھڑے لڑکے نے اب اپنے ساتھی کا گریبان چھوڑوانے کے لیے اسی کے فقرے زہر کی طرح اگلے تھے ۔۔۔
کس کو بولا سالا ۔۔۔۔۔میرے کو ۔۔۔۔۔۔۔۔ روبن اب اسے چھوڑ کر دوسرے لڑکے پر جھپٹ پڑا تھا جس لڑکے کو چھوڑا تھا وہ ایسے جھٹکے سے چھوڑا کہ وہ لڑھکتا ہوا ایک طرف جا گرا تھا۔۔۔ اب وہ دوسرے لڑکے کے چہرے پر گھونسے اور مکے جڑ رہا تھا۔۔۔
روبن ۔۔۔ روبن۔۔۔۔ چھوڑ نہ یار ۔۔۔ روبن ۔۔۔ ۔۔۔ منب اس کو غصے میں دیکھ کر ڈر گیا تھا اور پچھلے سال کی خطرناک جھڑپ یاد آٸ تھی جس میں اس نے ایک لڑکے کا سر پھاڑ ڈالا تھا بلے سے ۔۔۔ اور آج بھی اسکا غصے سے وہی حال تھا۔۔۔۔
یہ سالا ۔۔ مسلم لوگ سمجھتا سارا پاکستان ان لوگوں کا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ روبن نے آنکھیں نکال کر منب کو کہا تھا اور اس کے روکنے کے لیے رکھے ہوۓ ہاتھ کو زور کر جھٹکا دیا تھا۔۔۔
ہاں ہے ہم لوگوں کا ہے ۔۔۔۔ یہ مسلمان لوگاں کے لیے بنایا ہمارے قاٸد نے ۔۔۔ تم لوگ مٹھی بھر ہو ادھر ۔۔۔۔۔۔۔ سامنے کھڑے لڑکے نے خون سے بھرا تھوک پھینکا تھا ۔۔
رک تجھے میں بتاتا ہوں کون زیادہ طاقت ور ہے ۔۔۔۔ روبن اپنے آپے سے باہر ہو چکا تھا اور پھر وہ اس لڑکے سے بری طرح گوتھم گوتھا ہو چکا تھا۔۔۔
روبن ۔۔۔ مر جاٸینگا یہ۔۔۔۔۔ روبن بس کر ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ منب اپنے مخصوص انداز میں بولتے ہوۓ اسے روک رہا تھا۔۔۔
روبن ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ منب نے ایک جھٹکے سے روبن کو دبوچ کر پیچھے کیا تھا ۔۔
اس کو آج مارنے کا مجھے ۔۔۔۔ ختم کر دوں گا اس کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روبن چھوٹ رہا تھا منب اسے اپنے دونوں بازوٶں سے پیچھے سے جکڑے ہوا تھا۔۔۔
جیسے ہی منب نے اسے پیچھے سے پکڑا تھا وہ دونوں لڑکے بھاگ گۓ تھے انھیں اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ اس سے بہت مار کھا لیں گے لیکن اس کا کچھ نہیں بگاڑ پاٸیں گے ۔۔۔
منب اسے زبردستی گھر کی طرف لے گیا تھا۔۔۔۔
تجھ کو اتنا غصہ نہیں کرنے کا بولا میں نے ہمیشہ ۔۔۔۔ تمہیں پتہ ہے یہ بات ۔۔۔۔۔۔۔۔ کرسٹن نے اس کے ماتھے کے زخم کو روٸ سے صاف کرتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔
وہ کھانے کے میز کی کرسی کو گھوما کر بیٹھا تھا اور کرسٹن پریشان ھال پاس کھڑی اس کے ماتھے کے زخم کو صاف کر رہی تھی
مام ۔۔۔۔ مجھے برا لگتا جب مزہب پر بات کرتا وہ بہت برداشت کیا میں پر اب بس ہاں ۔۔۔ دانت توڑ دیے میں نے سالے کے ۔۔۔ روبن کو ویسے بھی مسلمانوں سے بہت نفرت تھی ۔۔۔
بچپن سے ہی وہ یہ اقلیت پن محسوس کرتا ہوا آیا تھا۔۔۔ سکول میں کالج میں لڑکے ان کے گلاس میں پانی نہیں پیتے تھے ۔۔۔ اس کے اور منب کے ساتھ بیٹھ کر کھاتے نہیں تھے ۔۔۔ جبکہ اس نے ہمیشہ سے یہی پڑھا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اہلے کتاب سے کھانا پینا جاٸز کیا ہے ۔۔۔
وہ اپنی کلاس کے تین بچوں میں سے وہ واحد مسیح بچہ تھا جس نے اسلامیات کے مضمون کو بدلہ نہیں تھا اس نے میٹرک اور اب آٸ۔ سی۔ ایس میں بھی وہ اسلامیات ہی پڑھتا تھا ۔۔۔ وہ بہت اچھا نعت خواں تھا اسے نعت پڑھنا اچھا لگتا تھا ۔۔۔ لڑکے اس بات پر بھی اسے بہت سناتے تھے کہ وہ ایک کرسچن ہے وہ ہمارے نبی کی شان کو کیوں بیان کرتا ہے ۔۔۔ لیکن اس کی آواز چونکہ اچھی تھی تو استاد اسمبلی میں اس سے نعت کی فرماٸش کر دیا کرتے تھے ۔۔۔ لیکن جب تک وہ کالج پہنچا تو اسے مسلمانوں سے نفرت ہونے لگی تھی اس نے نعت پڑھنا چھوڑ دیا تھا ۔۔۔ وہ ایک بہت ہی حسین بچہ تھا ۔۔۔ وہ مغربی حسن رکھتا تھا۔۔۔ بھورے سنہری سے بال گرے جازب نظر آنکھیں ۔۔۔ گلابی سے ہونٹ اور گوری رنگت ۔۔۔ کرسٹن اور ولسم دونوں گہرے سانولے تھے ۔۔۔ اس لیے لوگ اسے کہتے تھے وہ ان کا بچہ نہیں ہے ۔۔۔ ایک دو دفعہ اسے شک گزرا تھا اور اس نے ان کے بہت سے ڈاکیومنٹس چھان مارے تھے ۔۔ کہ اگر ولسم اور کرسٹن نے اسے کسی یتیم خانے سے لیا ہو گا تو کچھ تو ہو گا ان کے پاس ۔۔۔۔ پر اسے کبھی کچھ نہیں ملا اور پھر اس کے پیدا ہوتے کے دن کی بھی تمام تصاویر تھیں اس کی ھاسپٹل کے بستر پر وہ کرسٹن کی گود میں تھا ۔۔۔ جب وہ پیدا ہوا تھا ۔۔۔ یہ سب باتیں اس بات کو جھٹلا دیتی تھیں کہ وہ ان کا بچہ نہیں بلکہ لے پالک ہے ۔۔۔۔
روبن۔۔۔۔ پلیز۔۔۔ مجھ کو ڈر ہے اس لڑکے کے ابا جی ولسم کے آنے پر آٸیں گے یہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کرسٹن کو اب فکر ہو رہی تھی کہ ولسم کے آنے پر آج پھر کوٸ شکاٸت آۓ گی اور پھر سےولسم اور روبن کی بہت بری طرح جھڑپ ہو گی ۔۔۔
ارے ۔۔۔۔ گاڈ ۔۔۔۔۔ بہت بڑا تماشا ہو جاٸینگا آج پھر سے ۔۔۔۔۔۔۔ کرسٹن نے ماتھے پر زور سے ہاتھ مارا تھا اور کھانے کے میز کی کرسی کو کھینچ کر بیٹھ گٸ تھی ۔۔۔
مام ۔۔۔۔ مجھے اب کوٸ ڈر نہیں ولسم کا ۔۔۔۔۔۔۔ روبن نے تنک کر کہا تھا ۔۔۔
شرم کر تمھارا ڈیڈی ہے وہ نام لیتا صرف ۔۔۔۔۔۔۔۔ کرسٹن نے ہر دفعہ کی طرح جھاڑا تھا ۔۔۔
ولسم شروع سے ہی بہت سختی برتنے والا باپ تھا ۔۔۔ وہ بہت سنجیدہ مزاج تھا بچپن سے ہی وہ روبن پر بہت سختی کرتا تھا ۔۔۔ لیکن اس سختی کا نتیجہ یہ نکلا تھا کہ روبن اس سے دور ہوتا چلا گیا تھا ۔۔۔
کرسٹن کو وہیں پریشان حال چھوڑ کر وہ اپنے کمرے میں جا چکا تھا ۔۔۔
*************
نہیں ملی ۔۔۔۔ جاب ۔۔۔ ۔۔۔۔ نعمان نے سر سے ٹوپی اتار کر جیب میں رکھی تھی ۔۔۔
وہ مغرب کی نماز کے بعد عبداللہ کے ساتھ مسجد سے باہر نکلا تھا ۔۔۔
ہممم پریشان نہ ہو ۔۔۔ گھر جا وہ انتظار کر رہی ہو گی ۔۔۔۔۔۔۔ عبداللہ نے کندھے پر ہاتھ رکھ کر لب بھینچے تھے ۔۔۔
وہ نعمان کا حوصلہ نہیں ٹوٹنے دینا چاہتا تھا ۔۔۔ یہی وہ گھڑی تھی جب اسے ایک اچھے مسلمان ہونے کا ثبوت دے کر نعمان کو اس کے فیصلے پر پچھتانے نہیں دینا تھا ۔۔۔
عبداللہ بہت فکر ہو رہی مجھے ۔۔۔ نوکری نہ ملی تو گھر کا کرایہ کیسے دوں گا ۔۔۔۔ نعمان نے پریشانی سے بالوں کو جکڑ کر پیچھے کیا تھا ۔۔۔
اس نے پانچ دن سے شیو نہیں بناٸ تھی اور اب وہ ارادہ بھی نہیں رکھتا تھا ہلکی سی شیو بڑھا کر رکھنا چاہتا تھا ۔۔۔
اللہ پر بھروسہ رکھ ۔۔۔ تمہیں پتہ ہے یہ ساری مشکلات ابھی شیطان لا رہا ہے تجھ پر ۔۔۔۔ لیکن تم نے یہ قدم چاہے کسی مجبوری سے اٹھایا تھا لیکن اٹھایا سچے دل سے ہے ۔۔۔۔۔۔۔ عبداللہ نے مسکرا کر دیکھا اور گلی کی نکڑ پر موجود چھوٹے سے ہوٹل کے پاس اپنے قدم روک لیے تھے ۔۔۔
قرآن پاک کی کلاس لی تھی آج ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوٹل والے کو روٹی لگانے کا اشارہ کرنے کے بعد وہ پھر سے نعمان کی طرف متوجہ ہوا تھا ۔۔۔
ہاں لی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے گہری ٹھنڈی سانس خارج کی تھی ۔۔۔
عبداللہ آج پھر اسے روٹی لے کر دے رہا تھا ۔۔۔ دوپہر کو اس کے لیے بھی یقیناً کھانا دے آیا ہو گا ۔۔۔ عبداللہ کی وجہ سے اس کی فکر بھی نہیں ہوتی تھی اسے کہ اگر اسے سارا سارا دن نوکری کی تلاش میں بھٹکنا پڑتا ہے تو وہ گھر میں اکیلی کس حال میں ہو گی ۔۔۔اس کے گھر والوں میں سے کوٸ نہیں آیا تھا نکاح کے دن کے بعد سے ایک ہی شہر میں رہنے کے باوجود وہ اس سے بلکل لا تعلق ہو چکے تھے ۔۔۔
اس سے بات ہوٸ کوٸ ۔۔۔ عبداللہ نے روٹی اور سالن کا شاپر نعمان کی طرف بڑھایا
نہیں وہ کوٸ بات نہیں کرتی مجھ سے بس خاموش رہتی ہے ۔۔۔۔ اور میری ہمت نہیں ہوتی میں اس سے کوٸ بات کروں ۔۔۔ نعمان نے سر تھوڑا سا نیچے جھکایا تھا ۔۔۔ اور شرمندگی سے کھانا پکڑا تھا ۔۔۔ اس نے صبح سے کچھ بھی نہیں کھایا تھا اور اب بھوک سے برا حال تھا اور یقیناً وہ بھی گھر میں بھوکی بیٹھی ہو گی دوپہر سے۔۔۔
سب ٹھیک ہو جاۓ گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ عبداللہ نے پھر سے کندھےکو تھپک کر اس کا حوصلہ بڑھایا تھا ۔۔۔
اس پوری دنیا میں اب اس کے سوا اس کا کوٸ اور تھا بھی نہیں لیکن کتنا عجیب تھا سب ۔۔۔ ایک ہفتے پہلے اس نے ایسا کچھ بھی نہیں سوچا تھا اور آج وہ ایک عدد لڑکی کا شوہر تھا جس نے اس کی زندگی کا رخ ہی بدل ڈالا تھا وہ کیا سے کیا ہو گیا تھا اس کی وجہ سے اور وہ اس سب سے انجان تھی ۔۔۔
ہممم۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ نعمان نے مدھم سی آواز میں کہا تھا
2
اچھا جا اب روٹی ٹھنڈی ہو رہی ہے ۔۔۔ بھابھی انتظار کر رہی ہو گی ۔۔۔ عبد اللہ نے اسے گم سم کھڑے دیکھ کر کہا ۔۔۔
عبداللہ کی مسکراہٹ اور اس کی باتیں اس کا حوصلہ بڑھا دیتی تھیں ایک ہفتے میں ہی وہ اس کے کتنا قریب آ گیا تھا ۔۔۔
جا رہا ہوں ۔۔۔ ۔۔۔۔ دھیرے سے کہتا ہوا وہ اس چھوٹے سے گھر کی طرف رواں دواں تھا جو عبداللہ کی ہی مر ہون منت اسے ملا تھا نہیں تو وہ حسنیٰ کو لے کر کہاں در در بھٹکتا پھرتا ۔۔۔۔
************
حسنیٰ ۔۔۔۔ یہ حبا کے لیے لاۓ تھے عامر ۔۔۔ ۔۔۔ شزا دھاڑ سے دروازے کا پٹ دیوار میں مارتی کمرے میں آٸ تھی
اور اب حسنیٰ کے سر پر کھڑی تھی ۔۔۔جو ان سلے جوڑے کے کپڑے کو کھول کر لا پرواہی سے دیکھ رہی تھی۔۔شزا کے اس طرح سر پر آ کر چیخنے پر اس نے ایک پر سکون نظر اس پر ڈالی تھی۔۔۔
تو کیا ہوا بھابھی ۔۔۔ میں بھاٸ سے کہہ دوں گی دیکھیں نہ اب میری سکول میں لاسٹ پارٹی ہے۔۔۔ حسنیٰ نے لاپرواہی سے کہا ۔۔۔ اور ایک نظر ناسمجھی کی حالت میں گھوری ڈالتی عفت پر ڈالی تھی۔۔۔
اور کندھے اچکاۓ ۔۔۔ وہی مخصوص انداز بالوں کا ڈھیلا سا جوڑا اونچی قمیض کے نیچے گھیرے دار شلوار ۔۔۔ بنا دوپٹے کے چست جسم کے خدو خال واضح کرتا قمیض ۔۔۔۔ سفید ہاتھ جس کے بڑھے ہوۓ ناخن اور ان پر سرخ رنگ کی نیل پالش مزین تھی ۔۔۔وہ بلا کی حسین تھی اور اپنے آپ کو فیشن سے لیس رکھ کر وہ اپنے حسن کو چار چاند لگاۓ رکھی تھی ۔۔۔
شزا ۔۔۔عامر کی بیوی تھی اور حبا انکی بڑی بیٹی تھی عامر کل اس کے لیے ایک بہت خوبصورت لان کا جوڑا لایا تھا۔۔ جو وہ غلطی سے اپنی پھپو یعنی حسنیٰ کو دکھا بیٹھی تھی ۔۔۔حسنیٰ کی تو آنکھیں چمک گٸ تھیں وہ جو کب سے بیٹھی یہ سوچ رہی تھی کہ وہ کل کی پارٹی پر اپنا کونسا پرانا جوڑا پہنے ایک دم سے خوش ہو گٸ تھی ۔۔اور حبا سے وہ پچکارتے ہوۓ جوڑا لے آٸ تھی لیکن جب حبا نے شزا کو بتایا تھا اس کے تو تن بدن میں آگ لگ گٸ تھی ۔۔۔
لیکن یہ بات غلط ہے حسنیٰ ۔۔۔۔ جاٶ دے کر آٶ حبا کا جوڑا ہے۔۔۔۔۔ عفت نے جھاڑنے کے انداز میں کہا تھا ۔۔
اماں عامر بھاٸ سے میں بات کر لوں گی وہ شام کو آتے ہوۓ لے آٸیں گے ایک اور حبا کے لیے بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ نے لا پرواہی سے کہتے ہوۓ کندھے اچکاۓ تھے ۔۔۔
یہ میں دینے جا رہی ہوں شبانہ کو ۔۔۔۔۔۔۔۔ بڑے انداز میں پلنگ پر پڑے دوپٹے کو اٹھا کر سر پر اوڑھا تھا ۔
شبانہ اس کی دوست ہونے کے ساتھ ساتھ بہت اچھی سلاٸ بھی کرتی تھی ۔۔اور ایک دو گھر چھوڑ کر اس کا گھر تھا
اماں دیکھ لیں اب یہ سب آپ نے اور عامر نے ہی سر چڑھا رکھا ہے اس کو اور کچھ نہیں ہے کتنی بد لحاظ ہے نہ کسی بڑے سے بات کرنے کی تمیز نہ کسی چھوٹے کا خیال ۔۔۔۔۔۔ شزا اب عفت پر چڑھ دوڑی تھی
کمر پر دونوں ہاتھ رکھے وہ تیز تیز بول رہی تھی حسنیٰ تو ویسے بھی ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی اسے اوپر سے وہ آۓ دن اس طرح کی حرکتیں کرتی رہتی تھی جس پر شزا کو تپ چڑھتی رہتی تھی ۔۔۔ وہ حسنیٰ سے زیادہ خار اس لیے بھی کھاتی تھی کیونکہ وہ عامر کی بہت لاڈلی تھی اور عابد علی کے گزر جانے کے بعد سے تو عامر نے اسے اور بھی لاڈوں میں رکھا تھا ۔۔ کیونکہ وہ عابد کے گزر جانے کے بعد بیمار رہنے لگی تھی وہ عابد کی بے حد لاڈلی تھی اور اس کے اس طرح گزر جانے کا صدمہ اس سے برداشت نہیں ہوتا تھا ۔۔
بس کریں بھابھی اب بات کو کیوں اتنا بڑھا رہی ہیں صبح فنکشن ہے اس لیے اٹھا لاٸ میں حبا کا جوڑا۔۔۔ نہیں تو میں بھاٸ کو بول دیتی وہ لا دیتے شام کو مجھے ۔۔۔۔پر تب تک سلاٸ نہیں ہو گا نہ۔۔۔۔۔۔حسنیٰ ہنوز پر سکون تھی ۔
تو مہرانی صاحبہ ۔۔۔ آپکے اس فنکشن کا آپ کو پہلے نہیں پتا تھا کیا۔۔۔سوٸ ہوٸ تھی کیا تم ۔۔۔۔۔۔ شزا نے دانت پیس کر کہا تھا ۔۔۔
بولتی رہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ نے بے نیازی کے انداز میں ہاتھ ہوا میں چلایا اور جوڑے کو شاپر میں ڈالا
اماں میں آتی ہوں شبانہ کی طرف جا رہی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ وہ لاپرواہی سے سر پر ہاتھ دھرے پریشان حال بیٹھی عفت کو کہتی ہوٸ باہر نکل گٸ تھی ۔۔۔
*************
یہ کھانا ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے کھانے کا شاپر حسنیٰ کی طرف بڑھایا تھا۔۔
مجھے بھوک نہیں ہے آپ کھا لیں ۔۔۔۔۔۔۔ روکھی سی آواز میں کہا اور سر پر لیے دوپٹے کو اور کھینچ کر چہرے پر گرایا تھا
سنو ۔۔۔ دوپہر کو کھایا تھا ۔۔۔ وہ بھی ویسے ہی پڑا ہے ۔۔۔ ۔۔۔۔ نعمان نے نرم لہجے میں فکر مندی سے کہا تھا
وہ گھر میں داخل ہو کر پہلے پانی پینے کچن میں گیا تھا جہاں دوپہر کا کھانا آج بھی چند نوالے سے زیادہ نہیں کھایا گیا تھا ۔۔
بس جتنی بھوک تھی کھا لیا میں نے ۔۔۔ ۔۔۔۔ مدھر سی آواز میں دھیرے سے مختصر کہا تھا اس نے
ایسے بیمار ہو جاٶ گی ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے فکر مندی سے کہا
اچھا ہے مر جاٶں ۔۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ نے روہانسی آواز میں کہا اور بھاگتی ہوٸ کمرے سے نکل گٸ تھی
حسنیٰ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ نعمان کا ہاتھ ہوا میں ہی رک گیا تھا
اس سے پہلے کے وہ اس کے پیچھے جاتا فون کی رنگ نے اس کو رکنے پر مجبور کر دیا تھا ۔۔۔
ہیلو ۔۔۔ فون کان کو لگاۓ اس نے امید سے کہا تھا ۔۔۔ کیونکہ نمبر انجان تھا جس سے ایک امید کی کرن جاگی تھی کہ شاٸد کہیں سے نوکری کے لیے کال آٸ ہو
اسلام علیکم نعمان بات کر رہے ہیں ۔۔۔ دوسری طرف کوٸ لڑکی تھی جو بہت مہدب لہجے میں گویا ہوٸ تھی
جی ۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے دھڑکتے دل سے کہا تھا
جی میں واصف ٹیکسٹاٸل سے بات کر رہی ہوں ۔۔۔ آپ کی جاب ہوگٸ ہے آپ صبح آ کر جواٸنگ دیں ۔۔۔۔۔۔۔ لڑکی نے بہت روانی سے کہا۔۔۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

1 Comment
  1. suhailrana says

    Thank you … for best novels …

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: