Husna Novel by Huma Waqas – Episode 10

0
حسنیٰ از ہما وقاص – قسط نمبر 10

–**–**–

سر ۔۔۔ وہ۔۔۔ یہ تھوڑی شاۓ ہے ۔۔۔۔۔۔۔ فرحیہ نے شرمندگی سے زبان دانتوں میں دباٸ تھی ۔۔۔۔
ہممم۔۔۔۔۔۔۔۔ آٸندہ خیال رکھیں جس سے سوال پوچھا جاۓ یا جس سے بات کی جاۓ وہ ہی جواب دے ۔۔۔۔ نعمان نے سپاٹ لہجے میں کہا ۔۔۔
ایک نظر سیاہ گاٶن میں گٹھڑی سی بنی حسنیٰ پر ڈالی اور ایک نظر شرمندہ سی کھڑی فرحیہ پر ۔۔۔
اوکے سر ۔۔۔۔ فرحیہ خجل سی ہوٸ ۔۔۔
نعمان لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا آگے بڑ ھ گیا تھا ۔۔۔
توبہ۔۔۔۔۔ تم بول کیوں نہیں رہی تھی انسلٹ کروا دی نہ۔۔۔ فریحہ نے ایک چپت حسنیٰ کے کندھے پر لگاٸ تھی ۔۔۔
وہ بے اختیار ہل گٸ تھی ۔۔۔ کھوٸ کھوٸ سی ۔۔ ساکت نعمان کی چوڑی پشت پر نظریں جماۓ ۔۔۔۔ قدم قدم اس سے دور جانے والا یہ شخص اس کا شوہر تھا اس کا شریک حیات۔۔۔۔۔۔
وہ اب بیرونی دروازے تک پہنچ چکا تھا ۔۔۔۔
جب تک وہ پاس کھڑا رہا تھا اس نے کہاں نظر اٹھاٸ تھی۔۔۔۔۔جیسے ہی پلٹ کر وہ چل دیا تھا اس کی پشت سے نظر نہیں ہٹی تھی ۔۔۔
بہت بار ایسا ہوتا ہے کہ خدا تمہیں پیاسا دیکھ کر میٹھے چشمے کی طرف دھیکل رہا ہوتا ہے وہ رستہ تھوڑا پتھروں والا دیکھ کر تم نل سے نکلنے والے پانی کی ایک بوند کے پیچھے بھاگتے پھرتے ہو ۔۔۔ نعمان وہ میٹھے پانی کا چشمہ تھا جو اسے خدا نے عطا کیا تھا اور وہ ایسی بدقسمت تھی کہ چمکتے ہوۓ سونے کا نل دیکھ کر اس سے گرنے والے قطرہ قطرہ بدبودار پانی کی دیوانی ہو کر پیاسی سے خود گھن زدہ ہو چکی تھی ۔۔۔ اب اس شفاف میٹھے پانی کے چشمے کے قابل کہاں تھی ۔۔۔ غلاضت ۔۔۔ گھن زدہ ۔۔۔ بدبودار وجود لے کر کیسے اس شفاف چشمے کے پاکیزہ پانی میں اترنے کی ہمت کرتی ۔۔۔
دل میں ایک ٹیس اٹھی تھی۔۔۔ بابا سے بات کرتی ہوں مجھے کہیں اور کام دلوا دیں یہاں بہت مشکل ہے ۔۔۔۔ ایک گہری سانس لے کر اس نے اپنے ہاتھ کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔
************
پھپھو۔۔۔۔۔ ادھر آٸیں۔۔۔۔ ادھر۔۔۔ ۔۔۔۔ ہیر شہروزی کو کھینچتے ہوۓ لان سے واپس لے کر آ رہی تھی ۔۔۔
کیا ہوا ۔۔۔ ہیر ۔۔۔۔۔۔۔۔ شہروزی اپنا ساڑھی کا پلو سنبھالتی بمشکل ہیر کے ساتھ تیز تیز قدم اٹھا پا رہی تھی ۔۔۔
شہروزی نے ایک بہت بڑے انٹرنیشنل پروجیکٹ ملنے پر گھر میں پارٹی رکھی تھی ۔۔۔ جس میں نعمان کو مدعو کیا تھا ۔۔۔ نعمان براٶن کوٹ میں بجلیاں گراتا کچھ آفس کولیگز کے ساتھ باتوں میں مصروف تھا ۔۔۔ پارٹی کی تقریب واصف ولاز کے وسیع و عریض لان میں منعقد کی گٸ تھی ۔۔۔ ہیر بڑی نک سک سے تیار ہو کر لان میں داخل ہوٸ تھی جب سامنے کھڑے نعمان کو پل بھر میں ہی پہچان لینے کے بعد اس کا خون خشک ہوا تھا۔۔۔ کیسے نہ پہچانتی اسے کتنا سوچا تھااُس نے ۔۔۔۔ اور ملک اطہر سے بولا ہوا جھوٹ ۔۔۔۔ اففف میرے خدا یہ کہاں یہاں ۔۔۔۔ بے اختیار ہاتھ دل پر رکھا اور پھر بالوں کی اٶٹ میں چہرہ چھپاتی شہروزی تک پہنچی تھی شہروزی کو اپنے ساتھ تقریباً گھسیٹتے ہوۓ لان سے بہت زیادہ فاصلے پر لے آٸ تھی ۔۔۔۔ وہ بار بار پیچھے مڑ کر لان کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔ اور آنکھیں بار بار دل کو تصدیق کر رہی تھیں کہ وہ روبن ہے ۔۔۔ ڈیڈھ سال پہلے کا منظر آنکھوں کے آگے گھوم گیا تھا ۔۔۔
پھپھو ۔۔۔۔ وہ براٶن کوٹ میں جو ہے وہ کون ہے ۔۔۔ ہیر کو سانس چڑھا ہوا تھا ۔۔۔
شہروزی کو لا کر اس نے ایک خاموش کونے میں کھڑا کیا تھا ۔۔۔
دل مسلسل اسے آنکھوں کا دھوکا ماننے پر بضد تھا ۔۔۔ ماتھے پر پسینے کے قطرے نمودار ہوۓ تھے دل اتنی تیزی سے دھڑک رہا تھا کہ کانوں میں الگ سے دھڑکتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔
نعمان ۔۔۔ ہماری کمپنی کا ایم ڈی ۔۔۔ کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شہروزی نے اس کی پریشان حال سی صورت کو حیرت سے دیکھتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
ن۔۔۔۔۔ع۔۔۔۔۔ما۔۔۔۔اااا۔۔۔۔ن۔۔۔۔۔۔۔۔ہیر نے ماتھے پر بل ڈال کر نعمان کے نام کو لمبا کھینچا تھا۔۔۔۔
اوہ تو اس نے تو چھپ کر اپنی اڈینٹیٹی ہی بدل ڈالی ۔۔۔ پھپھو کو سب بتاتی ۔۔۔ نہیں نہیں ۔۔۔ وہ تو جانتا ہے میں نے جھوٹ بولا تھا سب ۔۔۔۔ ہیر الجھ کر سوچ رہی تھی ۔۔۔
ہاں ۔۔ ۔۔۔۔ کیا ہوا ۔۔۔ شہروزی نے کندھے سے پکڑ کر تھوڑا سا ہلایا تھا اس کو ۔۔۔
کچھ ۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔ کچھ بھی نہیں ۔۔۔۔ طبیعت تھوڑی خراب ہو رہی ہے ۔۔۔ ہیر نے لبوں اور ناک کے درمیانی حصے پر نمودار ہونے والے پسینے کو ہاتھ میں پکڑے ٹشو سے ہلکا ہلکا صاف کرتے ہوۓ کہا ۔۔۔
اوہ کیا ہوا جان میری ۔۔۔ شہروزی پریشان سی ہو کر آگے بڑھی اور ہیر کے ماتھے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔
پھپھو کچھ نہیں میں آرام کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔۔ ہیر نے نظریں چراتے ہوۓ کہا ۔۔۔
اچھا۔۔۔۔۔ تو ۔۔۔۔ چلو آرام کرو تم ۔۔۔۔ شہروزی کچھ الجھ سی گٸ تھی
ہیر عجیب طرح سے کر رہی تھی۔۔۔ شہروزی نے مسکرا کر اس کا بازو تھپکا تھا ہیر تقریباً بھاگتی ہوٸ لاونج کی طرف بھاگی تھی۔۔۔۔ اور گھومتے پوۓ زینے پھلانگتی اوپر جا رہی تھی ۔۔۔
*******
وہ کوچ کی کھڑکی والی جگہ پر سمٹی سی بیٹھی تھی ۔۔۔ اور چلتی کوچ کے ہلکے ہلکے سے جھٹکوں سے اسکا وجود بھی ہل رہا تھا ۔۔۔
روبن کچھ فاصلے پر بیٹھا اس کو دیکھے جا رہا تھا ۔۔۔ وہ تو یہ سمجھا تھا کہ یہاں پر کوٸ لڑکا ہو گا پہلے سے موجود جس کے ساتھ وہ بھاگ جاۓ گی اور پھر وہ یہاں سے واپس چلا جاۓ گا ۔۔۔ لیکن وہ اسلام آباد جانے والی کوچ پر اکیلی چڑھی تھی ۔۔۔ یہاں کوٸ اور لڑکا موجود نہیں تھا ۔۔۔ روبن بھی بھاگ کر ٹکٹ لے کر ساتھ بیٹھ چکا تھا۔۔۔ وہ اس کے پیچھے والی سیٹ پر بیٹھا تھا ۔۔۔ وہ وقفے وقفے سے رو رہی تھی ۔۔۔۔
پھر اسلام آباد پہنچ کر وہ ٹیکسی لے کر نکلی تھی ۔۔۔ روبن نے بھی عجلت میں ٹیکسی پیچھے لگواٸ تھی ۔۔۔ وہ پتہ نہیں ایک پرچی پکڑے کہاں کہاں ٹیکسی گھوماتی رہی تھی شاٸد اس کے پاس موجود پتہ مکمل نہیں تھا ۔۔۔۔شام چھ بجے ٹیکسی کسی بنگلے کے آگے رکی تھی ۔۔ اور روبن نے کچھ دور ٹیکسی رکوالی تھی ۔۔۔ وہ گارڈ سے کسی بات پر بحث کر رہی تھی ۔۔۔ اور زبردستی اندر جانے کی کوشش کر رہی تھی پھر گارڈ نے انٹرکام پر کسی سے بات بھی کرواٸ تھی اس کے بعد گارڈ اسے دھکے دینے لگا تھا۔۔۔ وہ بلک رہی تھی رو رہی تھی ۔۔۔۔اس سارے عمل میں آدھا گھنٹہ گزر چکا تھا۔۔۔ اس کے بعد وہ بنگلے کے ایک طرف بنی کیاری پر بیٹھ چکی تھی وہ بار بار کسی کو فون ملا رہی تھی ۔۔۔ دو گھنٹے بیت چکے تھے ۔۔۔۔ رات کو نو بجے ایک کار نکلی تھی گیٹ سے ۔۔۔ وہ بھاگتی ہوٸ کار کی کھڑکی کو پیٹ رہی تھی۔۔۔۔ لیکن کار تیزی سے وہاں سے نکل گٸ تھی۔۔۔۔ وہ پھر سے کیاری پر بیٹھ گٸ تھے ۔۔۔ روبن سامنے ایک طرف باڑ میں چھپ کر یہ سب دیکھ رہا تھا۔۔۔ رات کے دس بج چکے تھے ۔۔۔اور پھر گیارہ ۔۔۔۔ وہ وہاں سے اٹھ کر پھر سے گارڈ کی منتیں کر رہی تھی ۔۔۔ گارڈ اب باقاعدہ بے دردی سے دھکے دے رہے تھے اور اسے گیٹ سے دور کر رہا تھا۔۔۔ ایک دم اسے اتنی زور کا دھکا پڑا کہ وہ زمین پر گری تھی۔۔۔ پھر وہ روتی ہوٸ اٹھ کر چل دی تھی ۔۔۔ روبن بھی کچھ فاصلے پر ساتھ ہو لیا تھا۔۔۔
وہ سڑک پر چل رہی تھی قدم ایسے اٹھا رہی تھی جیسے ابھی گر جاۓ گی ۔۔۔ اب وہ مین روڈ پر موجود تھی رات کے ایک بج چکے تھے اور اب سڑک کافی سنسان ہو گٸ تھی ۔۔۔
اسی پل کوٸ کار تھوڑا سا آگے جا کر ریورس ہوٸ تھی ۔۔۔ روبن جو کچھ فاصلے پر موجود تھا اس کی چھٹی حس ٹھنکی تھی ۔۔۔ گاڑی ریورس ہو رہی تھی اور روبن کی قدم تیزی سے فاصلہ طے کر رہے تھے ۔۔۔ کار بلکل اس کے سامنے آ کر رک چکی تھی وہ سٹپٹا کر پیچھے ہوٸ تھی ۔۔ دو لڑکے کار سے باہر آۓ تھے ۔۔۔ وہ اب پیچھے کی طرف قدم بہ قدم ہو رہی تھی اور لڑکے قہقہ لگاتے ہوۓ آگے کی طرف ہو رہے تھے ۔۔۔ روبن تیزی سے حسنیٰ کے پیچھے ایسے آیا تھا کہ وہ پیچھے کی طرف قدم بہ قدم ہوتی بری طرح روبن سے ٹکراٸ تھی ۔۔۔ روبن نے اسے نرمی سے ایک طرف کیا تھا اور ان لڑکوں پر جھپٹ پڑا تھا ۔۔۔ لڑکے بھاگنے کے بجاۓ روبن سے لڑنا شروع ہو چکے تھے بلکل فرنٹ سیٹ پر بیٹھے دو اور لڑکے باہر آ چکے تھے ۔۔۔ روبن ایک وقت میں چار لڑکوں سے لڑ رہا تھا ۔۔۔ لیکن مسٸلہ سارا یہ تھا کہ ان لڑکوں کا شاٸد یہ مار کٹاٸ پروفیشن نہیں رہا ہو روبن کا یہ پروفیشن رہ چکا تھا ۔۔۔ کچھ ہی دیر میں ان سب کو یہ سمجھ آ چکی تھی یہاں دال نہیں گلنے کی
چلیں یہاں سے۔۔۔۔ وہ کار میں بیٹھ کر بھاگ گۓ تھے ۔۔۔
حسنیٰ وہیں کچھ فاصلے پر حواس باختہ کھڑی تھی ۔۔۔ جیسے ہی روبن پاس گیا وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی ۔۔۔
چپ کریں ۔۔۔۔پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روبن اسے بار بار چپ رہنے کے لیے کہہ رہا تھا ۔۔۔
لیکن وہ تھی کہ اس کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے ۔۔۔روبن نے اسے چپ کروانے کی سعی ختم کر دی تھی اب وہ خاموشی سے بس اسے روتے ہوۓ دیکھے جا رہا تھا ۔۔۔۔
میں برباد ہو گٸ ۔۔۔۔ کچھ بھی نہیں رہا ۔۔۔۔ حسنیٰ نے روہانسی آواز میں کہا ۔۔۔
روبن جو سر جھکاۓ کھڑا تھا چونک کر اوپر دیکھا تھا ۔۔۔ وہ اس سے بات کر رہی تھی ۔۔۔ پہلی دفعہ اس کی آواز سنی تھی ۔۔۔ وہ صنم جسے بس دور سے بے آواز مورت کی طرح پوجا کرتا تھا آج اس کی آواز کانوں میں پڑی تو دل اتنی زور سے دھڑکا کہ وہ خود پریشان حال سا ہو گیا ۔۔۔
آپ پریشان نہ ہوں۔۔۔۔ روبن کو اپنی آواز ہی کہیں بہت دور سے آتی ہوٸ محسوس ہوٸ تھی ۔۔۔
آپ نہیں جانتے جس لڑکے ۔۔۔ حازق۔۔۔۔۔ حازق ہے ۔۔۔۔۔۔نام اس کا میں اس کے لیے اپنی شادی چھوڑ کر یہاں آٸ ۔۔۔ وہ کسی بچے کی طرح ہچکیاں لیتے ہوۓ اسے سب بتا رہی تھی ۔۔۔
شاٸد وہ اس پر اعتماد کر بیٹھی تھی اور اب اس پر واضح کر رہی تھی کہ وہ کوٸ غلط لڑکی نہیں ہے کہ اکیلی اتنی رات کو اس سنسان سڑک پر کھڑی ہے ۔۔۔
حازق۔۔۔ وہ ۔۔۔ کیا لگتا ہے آپکا ۔۔۔۔۔۔ روبن نے نرمی سے پوچھا تھا ۔۔۔
ہم دونوں ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے ہیں۔۔۔ پر پتہ نہیں کیا ہوا اس نے مجھ سے بات کرنا ختم کر دیا اور۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ روتے ہوۓ بات کر رہی تھی کچھ سمجھ آ رہا تھا روبن کو اور کچھ نہیں آ رہا تھا ۔۔۔
اور اب وہ ۔۔۔۔ اس نے مجھ سے بات تک کرنے سے منع کر دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بار بار دوپٹے سے آنسو پونچھ رہی تھی۔۔۔۔
دیکھیں ۔۔۔ پریشان نہ ہوں ۔۔۔۔ پلیز روٸیں مت پیلز۔۔۔ ۔۔۔۔۔ روبن نے دھیرے سے نرم آواز میں دلاسہ دیا تھا ۔۔۔
اب میں کیا کروں کہاں جاٶں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اور زور سے رونے لگی تھی ۔۔۔۔
واپس جاٸیں اپنے گھر ۔۔۔۔۔۔۔۔ روبن کی آواز اتنی نرم۔اور محبت بھری تھی کہ وہ اسے بات کرتے ہی جا رہی تھی ۔۔۔
نہ۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔ میرے بھاٸ مجھے مار دیں گے ۔۔۔ ۔۔۔۔ ایک دم جیسے اس کے چہرے پر خوف آ گیا تھا ۔۔۔
اور یاد پڑا تھا کہ آج اس کی شادی تھی۔۔۔۔ چہرہ زرد ہو گیا تھا اسے گھر سے باہر آج دوسری رات تھی ۔۔۔۔
نہیں ایسا کچھ نہیں ہو گا میں چلتا ہوں آپکے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔روبن نے اس کے حالت دیکھ کر حوصلہ دیا تھا ۔۔۔
وہ زور زور سے نفی میں سر ہلا رہی تھی ۔۔۔۔
پریشان نہ ہوں۔۔۔ میں چلتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ روبن اسے دلاسہ دے رہا تھا ۔۔۔
پھر اس نے پاس سے گزرتی ایک ٹیکسی کو ہاتھ دیا تھا ۔۔۔۔
*********
میم ۔۔۔ میں چاہتا ہوں کچھ ٹریڈیشنل لے کر آٸیں ہم ۔۔۔ نعمان نے تھوڑا سا آگے ہو کر اپنی ٹاٸ کو درست کیا تھا ۔۔۔
یہ واصف ٹیکسٹاٸل کا پرزینٹیشن میٹنگ روم تھا یہاں اس وقت سب بڑے عہدے پر موجود لوگ مسز واصف کے سامنے موجود تھے ۔۔۔
جیسے کہ۔۔۔۔ شہرزوی نے محبت سے مسکرا کر نعمان کی طرف دیکھا ۔۔۔
نعمان بولتا تھا اور وہ اس پر صدقے واری جاتی تھیں ۔۔۔ وہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور برسوس ترسی ممتا کی پیاس تھا ۔۔۔
جیسے کہ۔۔۔ اجرک۔۔۔ ڈاٸزاٸن ۔۔۔ کشمیری کڑھاٸ۔۔۔۔ سندھی کڑھاٸ ۔۔۔ نعمان ساتھ ساتھ پروجیکٹ پر اپنی پریزنٹیشن بھی پیش کر رہا تھا ۔۔۔۔
گڈ آڈیا۔۔۔۔ اس کے لیے مینول میں سے ٹیم الگ کریں پھر ۔۔۔۔۔۔ شہروزی نے مسکرا کر کہا ۔۔۔
میم عید سے پہلے ہمارا سٹاک ریڈی ہو جانا چاہیے۔۔۔۔۔ نعمان کے ساتھ بیٹھے جواد نے کچھ فاٸلز شہروزی کی طرف بڑھاٸ تھیں ۔۔۔
ہمممم۔۔۔ ٹھیک کہہ رہے آپ ۔۔۔۔۔۔۔ شہروزی نے فاٸلز پر نظر ڈال کر پھر نعمان کی طرف دیکھا ۔۔۔
تو ۔۔۔۔ شیراز آپ پھر کچھ ایسے ورکر الگ کریں مینول سے جن کی سٹیچنگ بہتر ہے ان سے یہ تیار کرواتے ہم۔۔۔۔نعمان نے مینول ڈٸپارٹمنٹ کے مینجر کی طرف رخ کیا تھا ۔۔۔
سر میں آج ہی کچھ ورکرز کے ساتھ آپکی میٹنگ رکھوا دیتا ہوں ۔۔۔۔۔۔ شیراز نے سر جھکا کر مہرب انداز میں کہا ۔۔۔۔
جی جلدی ہونا چاہیے یہ سب میں چاہتا ہوں کہ یہ سپیشل آرٹیکل عید سے پہلے ریڈی ہونے چاہیں ۔۔۔۔۔۔ نعمان اب سب کی طرف دیکھ کر مسکرایا تھا ۔۔۔
میٹنگ ختم ہو چکی تھی سب لوگ آہستہ آہستہ باہر نکل رہے تھے ۔۔۔
نعمان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شہروزی نے محبت سے نعمان کو پکارا تھا ۔۔۔
جی میم۔۔۔ نعمان مسکرا کر مہدب انداز میں کہا تھا ۔
پتہ نہیں کیا تھا اس عورت میں وہ جب بھی انھیں دیکھتا تھا ایک انوکھا سا احساس گھیر لیتا تھا ۔۔۔ وہ اس کے لیے فرشتے کی طرح تھیں ۔۔۔
تھنکیو۔۔۔۔ شہروزی نے مسکرا کر محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوۓ کہا تھا ۔۔۔
میم شرمندہ کر رہی ہیں آپ ۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے خجل سا ہو کر کہا ۔۔
کیونکہ جب سے وہ زندگی میں آٸ تھیں عناٸیت پر عناٸیت تو وہ کر رہی تھیں اس پر ۔۔۔
نہیں۔۔۔ تعریف کے حقدار ہو تم بیٹا۔۔۔۔۔ بہت ہی میٹھا لہجہ ۔۔۔
اور ان کا یوں بیٹا کہنا ۔۔۔۔
شکریہ ۔۔۔ ۔۔۔۔ نعمان مسکرا کر باہر نکل چکا تھا ۔۔۔
جبکہ وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبی ہوٸ تھیں ۔۔۔۔۔
************
کیسے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ مدھر سی آواز فون سے ابھری تھی ۔۔۔۔
وہ آنکھیں ملتا ہوا تکیے سے تھوڑا سا اوپر ہوا تھا۔۔۔۔
کون ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ نعمان نے نیند کے خمار میں بھاری ہوتی آواز کے ساتھ پوچھا تھا ۔۔۔ اور ایک نظر وقت پر ڈالی رات کے تین بج رہے تھے ۔۔۔
دوسری طرف خاموشی تھی ۔۔۔
ہیر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مدھر آواز نے خاموشی کو توڑا۔۔۔۔

 

کون ہیر۔۔۔۔ نعمان نے بھنویں حیرت سے اچکاٸ تھیں ۔۔۔
ہیر اطہر۔۔۔۔ ہیر نے مدھم سی آواز میں کہا ۔۔
نعمان فوراً اٹھ کر بیٹھ چکا تھا ۔۔۔
تمہیں میرا نمبر کہاں سے ملا۔۔۔۔ نعمان نے ارد گرد نظر دوڑاٸ ایسے جیسے کہ وہ یہیں کہیں موجود ہو۔۔۔ کمرے میں کھڑکی کے باہر سے ہلکی ہلکی روشنی چھن کر آ رہی تھی۔۔۔۔
دوسری طرف خاموشی تھی۔۔۔ اس کا نمبر ہیر نے شہروزی کے فون سے لیا تھا جو اس کے لیے کوٸ مشکل کام نہیں تھا۔۔۔ اتنے عرصے بعد نعمان کو یوں سامنے دیکھ کر لڑکپن کا جنون پھر سے جاگ اٹھا تھا۔۔۔۔کتنی بے دردی سے وہ اسے ٹھکرا کر چل دیا تھا۔۔۔ کتنی محبت کرتی تھی وہ اس سے اور وہ تھا کہ یوں بے دردی سے اسے دھکا دے کر چلا گیا تھا۔۔۔
کیوں کیا فون تم نے مجھے ۔۔۔ ۔۔۔۔ دوسری طرف کی بلکل خاموشی سے چڑ کر کہا تھا نعمان نے ۔۔۔
مجھے معافی مانگنی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہیر نے سپاٹ لہجے میں کہا۔۔۔
تم نے جو الزام لگایا اس کی وجہ سے در بدر ہوا میں ۔۔۔۔ سمجھی تم ۔۔۔ نعمان نے ماتھے پر بل ڈالے غرانے کے انداز میں کہا۔۔۔
آرام سے۔۔۔۔ آپ نے مجھے جو دھکا دیا تھا اس دن وہ۔۔۔۔ ہیر نے تنک کر ترکی با ترکی جواب دیا ۔۔۔
تم اسی کے لاٸک تھی سمجھی۔۔۔۔۔
مجھے آپ سے پیار ہے ۔۔۔۔آج بھی۔۔۔۔۔
شٹ اپ۔۔۔۔ اب کی بار نعمان زور سے چلایا تھا ۔۔۔
ساری ازیت ساری پرانی باتیں سب یاد آنے لگا تھا ۔۔۔لیکن میرا نمبر کیسے پہنچا اس تک۔۔۔۔ ماتھا پھر ٹھنکا تھا ۔۔۔
میرا نمبر کیسے آیا تمھارے پاس۔۔۔ نعمان نے پھر دانت پیس کر وہی سوال دہرایا ۔۔۔
واصف ٹیکسٹاٸل میں ایم ڈی کی سیٹ پر ہیں آپ اور ان کو یہ تک نہیں پتا کہ آپ نعمان نہیں روبن ہیں ۔۔۔ہیر نے معنی خیز انداز میں کہا ۔۔۔
تمہاری اطلاع کے لیے عرض ہے۔۔۔ سب کو پتا ہے میں پہلے روبن تھا اور اب اسلام قبول کر چکا ہوں ۔۔۔
کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہیر کو حیرت ہوٸ تھی
جی ۔۔۔۔۔ اور تم نے جس کو بتانا ہے بلا جھجک بتاٶ۔۔۔۔ نعمان نے لبوں کو بھینچ کر غصے سے کہا اور پھر فون بند کر دیا تھا ۔۔۔
داور نے کیس کب کا بند کروا دیا تھا اسے ہیر کی کسی دھمکی سے کوٸ ڈر نہیں تھا اور تب کی بات اور تھی
فون بند کیا اور بیڈ کی ساٸیڈ میز پر پڑے پانی کو پیا تھا ۔۔۔ سر کو تکیے پر پٹخا اور پھر سے چھن سے حسنیٰ کا چہرہ سامنے تھا ۔۔۔۔۔۔ وہ بہت مشکل سے سو پاتا تھا۔۔۔ سارا دن تو مصروف گزر جاتا تھا ۔۔۔ پر رات ہوتے ہی وہ پھر سے روح میں اتر جاتی تھی ۔۔۔ کہاں کہاں نہیں تلاش کیا تھا ۔۔۔ ہاسپٹل ۔۔۔ شلٹر ہومز۔۔۔۔ ہر جگہ۔۔۔۔۔ اب آخری حربہ۔۔۔ اشتہار تھا ۔۔۔
نعمان نے گہری سانس لی ۔۔۔۔
فون اٹھایا ۔۔۔ اور عبد اللہ کے نمبر پر برقی پیغام چھوڑا۔۔۔
اسلام علیکم عبداللہ ۔۔۔ ملتان سے کیا رپورٹ آٸ ہے ۔۔۔ کچھ پتا چلا حسنیٰ کا ۔۔۔
پیغام ارسال کرنے کے بعد ۔۔۔ وہ پھر سے چت لیٹا بس چھت کو گھورے جا رہا تھا ۔۔۔ نیند تو اب کبھی نہ آنے کی ۔۔۔۔
********
امی۔۔۔۔امی۔۔۔۔۔ حسنیٰ درد سے چلاٸ تھی ۔۔۔
عامر نے دروازے کھولتے ہی ایک زور دار تھپڑ حسنیٰ کے منہ پر جڑا تھا اور پھر بالوں سے پکڑ کر گردن کو دبوچتا ہوا لے کر آ رہا تھا ۔۔۔ روبن کچھ کہنے کی کوشش میں پیچھے آ رہا تھا ۔۔۔ وہ گڑ بڑا گیا تھا اتنا سخت رویہ عامر نے تو سانس تک نہیں لینے دیا تھا۔۔۔۔ دروازہ کھولتے ہی حسنیٰ کو سامنے دیکھ کر اس کا خون کھول اٹھا تھا
حسن۔۔۔ اس بیغرت کو کمرے میں بند کر جلدی ۔۔۔عامر نے ایک جھٹکے سے ٹی وی لاونج میں لا کر گھوما کر حسنیٰ کو چھوڑا تھا ۔۔۔ سب لوگ حیرت سے چونک کر ایک دم سے کھڑے ہوۓ تھے۔۔۔
اور تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عامر نے مڑ کر روبن کے گریبان کو جکڑا تھا ۔۔۔۔
شزا جلدی سے حبا کا بازو دبوچ کر وہاں سے اسے کمرے کی طرف گھسیٹ رہی تھی ۔۔۔
مہرین کے منہ پر ہاتھ تھا وہ دنگ کھڑی تھی ۔۔۔ ابراہیم صوفے پر سو رہا تھا شور سے اچانک اٹھ کر رونے لگا تھا ۔۔۔ عامر کی دھاڑ ہی ایسی تھی اور حسنیٰ کا چیخنا ۔۔۔۔ جبکہ حسن حسنیٰ کو گھسیٹتے ہوۓ اس کے کمرے کی طرف جا رہا تھا ۔۔۔
تجھے تو جان سے مار دیں۔۔۔۔۔۔۔۔ عامر نے خونخوار نظروں سے گھورا اور پھر روبن کے منہ پر ایک گھونسا پڑا تھا ۔۔۔
حسن بھی حسنیٰ کو کمرے میں بند کرنے کے بعد واپس آیا تھا جوش سے اب دونوں روبن پر ٹوٹ پڑے تھے وہ مسلسل اسے ٹانگیں اور گھونسے مار رہے تھے اور وہ مار کھاتے ہوۓ بار بار اٹھ کر کہہ رہا تھا پلیز ۔۔۔ ایک دفعہ میری بات سن لیں آپ لوگ ۔۔۔ پلیز ایک دفعہ۔۔۔۔ لیکن یہاں کسی کو ہوش کہاں تھا کمرے سے حسنیٰ کی زور زور سے دروازہ پیٹنے کی آوازیں تھیں ۔۔۔ بھاٸ ۔۔۔۔ اسے مت ماریں۔۔۔۔۔ بھاٸ ۔۔۔۔ امی کہاں ہیں ۔۔۔۔ امی۔۔۔۔۔۔۔امی۔۔۔۔۔امی۔۔۔ی۔۔۔۔ی۔۔۔۔۔ی۔۔۔۔۔
عامر بھاٸ ۔۔۔ ۔۔۔ عامر بھاٸ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رک جاٸیں ۔۔۔ رک جاٸیں ۔۔۔۔۔۔۔۔امی بلا رہی ہیں اندر آپ دونوں کو۔۔۔ ۔۔مہرین نے آ کر اونچی آواز میں کہا تھا ۔۔
عامر نے ایک جھٹکے سے روبن کو چھوڑا تھا اس کے لبوں کے پاس ایک طرف خون بہہ رہا تھا ۔۔ شرٹ کی جیب پھٹ کر نیچے لٹک رہی تھی ۔۔۔ روبن زمین سے بمشکل اٹھ کر کھڑا ہوا تھا ۔۔۔ لاکٹ جھنجوڑنے کی وجہ سے شرٹ کے اندر چلا گیا تھا ۔۔۔
اس کو بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہرین نے ناگوار سی نظر روبن پر ڈال کر کہا تھا ۔۔۔
میری بات سنیں پلیز۔۔۔۔ آپ لوگ مجھے غلط سمجھ رہے ہیں ۔۔۔ میں تو ۔۔۔۔ روبن نے التجاٸ انداز میں مہرین سے کہا تھا ۔۔۔
پر تینوں اس پر نظر غلط ڈالتے ہوۓ آگے کی طرف بڑھے تھے۔۔۔
روبن تینوں کے ساتھ سر جھکاۓ کمرے میں داخل ہوا تھا جہاں عفت بےحال سی لیٹی تھیں انھیں ایک طرف ڈرپ لگی ہوٸ تھی اور پاس حسنیٰ کی دونوں بہنیں بیٹھی تھیں ۔۔ کمرے کی حالت ماتم جیسی تھی ۔۔۔ عفت کا بی پی لو تھا وہ تھوڑی دیر پہلے ہی ایمرجنسی سے گھر لوٹی تھیں ۔۔۔
عامر ۔۔۔۔ حسن۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عفت نے نقاہت سے دونوں کو پکارا تھا ۔۔۔
جی ۔۔۔۔۔ جی امی ۔۔۔۔ بولیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عامر فوراً پاس آیا تھا ۔۔۔۔
عفت اب روبن کی طرف دیکھ رہی تھیں ۔۔۔ روبن نے کچھ بولنے کے لیے لب کھولے ہی تھی جب عفت کی آواز کانوں میں پڑی ۔۔۔
حسنیٰ کا نکاح کر دو اس سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عفت کی آواز روہانسی تھی ۔۔۔
شرمندہ سی ۔۔۔ پژمردہ سی ۔۔۔۔ نفرت کی آمیزیش لیے ۔۔۔
روبن نے چونک کر سب کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔ اور وہ ایک لمحہ ۔۔۔ تھا جب اسکی زندگی کی کایا پلٹ ہوٸ تھی ۔۔۔ ایک لمحہ جب محبت کی خود غرضی غالب آٸ تھی ۔۔۔ اور اس کے دل نے زبان کو کچھ بھی کہنے سے روک دیا تھا ۔۔۔ اور اس نے وہاں موجود ہر شخص کی غلط فہمی کو قاٸم رہنے دیا تھا۔۔۔ اگر آج اس وقت میں ان سے یہ کہہ دیتا ہوں کہ میں وہ نہیں ہو جو یہ لوگ سمجھ رہے ہیں تو یہ حسنیٰ کو جان سے مار دیں گے ۔۔۔ مجھے ابھی چپ رہنا ہو گا ۔۔۔
امی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عامر نے حیرت سے عفت کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔
حسنیٰ کا نکاح کر دو اس سے میرے پاس وقت نہیں ہے ۔۔۔۔ عفت باقاعدہ رونے لگیں تھیں ۔۔۔
امی۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلے پوچھ تو لیں نکاح کر کے ہی آۓ ہوں گے ۔۔۔۔
حسن نے سوالیہ نظروں سے روبن کو گھورا تھا ۔۔۔
روبن نے لب بھینچ کر معصوم صورت بناۓ نفی میں سر کو جنبش دی تھی ۔۔۔۔
نکاح کرو اس منحوس کا اس بیغرت کے ساتھ اور نکال دو اس گھر سے ۔۔۔۔ نکال دو۔۔۔ اسے ۔۔۔۔ نکال دو ۔۔۔ بس میرے سامنے نہ آۓ وہ ۔۔۔ عفت پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔۔۔
ماہ رخ اور بختاور تیزی سے آنسو پونچھتے ہوۓ عفت کے قریب آٸ تھیں ۔۔۔
سنو۔۔۔۔۔ نکاح کی تیاری پکڑو کل نکاح ہے تمھارا ۔۔۔۔ عامر نے ناگواری سے روبن کی طرف دیکھ کر کہا ۔۔۔
روبن نے چونک کر ان کی طرف دیکھا تھا تو کیا یہ حسنیٰ سے کچھ بھی نہیں پوچھیں گے۔۔۔۔ یقیناً وہ ان کو سچ بتا دے گی کہ میں وہ نہیں ہوں۔۔۔ لیکن پھر اس کے ساتھ کیا ہو گا۔۔۔
وہ خود تو حسنیٰ کا نام جان ہی گیا تھا ۔۔ لیکن وہ تو اب تک اس کا نام تک نہیں جانتی ہو گی ۔۔۔
حسن اسے اب بازو سے پکڑ کر گھر سے باہر چھوڑ گیا تھا۔۔۔۔ کتنے ہی لمحے وہ یوں گیٹ کے آگے کھڑا سوچتا رہا ۔۔۔
********
یہ ۔۔۔ یہ ڈاٸزاین کس نے بنایا ہے ۔۔۔۔ نعمان نے بلاک پرینٹنگ کا ایک خوبصورت سا کپڑے پر بنا ڈاٸزاٸن اٹھا کر آنکھوں کے سامنے کیا تھا ۔۔
ٹریڈیشنل آرٹیکل کی تیاری کے لیے ورکرز کی سلیکشن ہو رہی تھی بہت سے ورکرز نے مختلف کام دیا تھا جس میں سے یہ بلاک پرنٹینگ کا ورک نعمان کی آنکھوں کو خیرہ کر گیا تھا۔۔۔
سر یہ۔۔۔۔۔۔ جواد نے فوراً فاٸلز پر نظر دوڑانی شروع کی تھی۔
ہمممممم اسے فاٸنل کرو ۔۔۔ اور بھیجو ذرا اس ورکر کو میرے پاس ۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ کچھ بولتا نعمان نے لب بھینچ کر کہا ۔۔۔
وہ دھیرے سے کرسی کو گول گول گھما رہا تھا۔۔۔سفید رنگ کی ڈریس شرٹ پر نیلے رنگ کی چیک ٹاٸ لگاۓ ۔۔۔ وہ نکھرا نکھرا سا پورے وقار کے ساتھ اپنے آفس کی سیٹ پر بیٹھا تھا۔۔۔
جی سر ۔۔۔۔۔۔۔۔ جواد فاٸل کو سینے سے لگا کر ہلکا سا جھکا تھا اور پھر آفس سے باہر نکل گیا تھا۔۔۔ کچھ دیر میں دروازے پر ہلکی سی دستک ہوٸ تھی ۔۔۔
کم ان ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے فاٸل پر سے نظر اٹھاٸ تھی ۔۔۔ دروازے کو کھول کر اندر آنے والی وہی گاٶن والی لڑکی تھی ۔۔۔ اندر آتے ہی وہ ایک دم سے گھبرا کر نظریں جھکا بیٹھی تھی۔۔۔
اوہ میرے خدایا ان سے ملنا تھا ۔۔ جواد سر نے تو مسز واصف کا کہا تھا۔۔۔ دیکھا ۔۔ بے چینی سے لب کچلے بابا کو کتنا کہا تھا میری جاب کہیں اور کروا دیں نہیں مانے ۔۔۔ اور آج پھر سے نعمان کا سامنا ہو گیا تھا۔۔۔ بابا بھی جان بوجھ کر یہ چاہتے ہیں کہ میرا سامنا ہو بار بار اس سے ۔۔۔
اففف۔۔۔ پلکیں لرزنے لگی تھیں ۔۔۔ اب کیا کروں گی بولنا پڑے گا ۔۔۔ بھاگ بھی نہیں سکتی ۔۔۔ آواز ۔۔۔ ہاں ۔۔۔۔۔آواز بدل سکتی ہوں ۔۔۔ ذہن مختلف حل سوچ رہا تھا۔۔۔ اور وہ حیران ہو کر اس کا آرٹیکل اٹھا کر کبھی حسنیٰ کی طرف دیکھ رہا تھا تو کبھی
کپڑے پر بنے خوبصورت ڈاٸزاٸن پر ۔۔۔۔۔
آپ ۔۔۔ آپ نے بنایا ہے یہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے حیرت سے کہا۔۔۔
اور ہاتھ کے اشارے سے کرسی پر بیٹھنے کے لیے کہا ۔۔۔ حسنیٰ لرزتے دل کے ساتھ سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ چکی تھی ۔۔۔ حسنیٰ سے دھیرے سے سر کو ہاں میں جنبش دی تھی لیکن بولی کچھ نہیں تھی ۔۔۔ گاٶن کے اوپر لیے گۓ بڑے سے سکارف میں اپنے ہاتھ چھپاۓ تھے۔۔۔
میرے خیال سے زبان کا پردہ نہیں ہوتا محترمہ آپ مجھے منہ سے بول کر بھی جواب دے سکتی ہیں ۔۔۔ نعمان کے لہجے میں نرمی کے ساتھ میٹھا سا طنز کا عنصر ملا ہوا تھا۔۔۔
جی۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ گاٶن کے اندر سے منہ پر ہاتھ رکھ کر گھٹی سی آواز میں کہا
نعمان کو عجیب سی الجھن ہوٸ ۔۔ کیا عجیب لڑکی تھی یہ۔۔۔ اس کے ماتھے پر شکن آ گۓ تھے۔۔۔ ایسے کرتی تھی جیسے میں کھا جاٶں گا اسے ۔۔۔
ہممممم گڈ۔۔۔۔ تو مجھے بس اس میں کچھ چینجز چاہیے اور آپ کو باقی سب کو گاٸیڈ کرنا ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ لوگ اور مل جاٸیں گے آپ کے ساتھ ۔۔۔ نعمان نے لہجے میں تھوڑی سختی لاتے ہوۓ کہا ۔۔۔
وہ حسنیٰ کو آرٹیکل کی کچھ تبدیلی سمجھا رہا تھا اور وہ نظریں تک نہیں اٹھا رہی تھیں بس لیپ ٹاپ کی سکرین کو ہی تکے جا رہی تھی ۔۔۔
سمجھ آٸ آپکو ۔۔۔ نعمان نے لب بھینچ کر بھنویں اچکاٸ تھیں ۔۔۔
الجھن اور غصہ اور بڑھ گیا تھا۔۔۔۔ دل کیا فاٸل زور سے پٹخ ڈالے اس کے سامنے ۔۔۔
حسنیٰ نے پھر سے صرف سر کو ہی جنبش دی تھی ۔۔۔ نعمان کا دل کیا جھاڑ دے پکڑ کر بڑی مشکل سے اس نے خود پر ضبط کیا تھا۔۔۔ ایک تو آٸ کانٹیکٹ بلکل نہیں کرتی تھی اوپر سے ۔۔۔ بندہ پوچھے جتنی سی آنکھیں نکال رکھی ہیں اس میں کیا دیکھ لوں گا میں ۔۔۔۔اتنا غصہ آیا تھا کہ اب مزید وہ نعمان کو اپنے آفس میں برداشت نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔ اسی غصے میں نام تک نہ پوچھا تھا نعمان نے اور حسنیٰ نے اس بات پر سکھ کا سانس لیا تھا۔۔۔
جاٸیں اب ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے بے زار سے لہجے میں کہا ۔۔
حسنیٰ ایک دم سے جو اٹھی تو میز پر پڑی چند فاٸلز گاون کے سکارف سے ٹکرا کر زمین بوس ہو گٸ تھیں ۔۔۔ دھڑا دھڑ فاٸلز کا ڈھیر نیچے گرا تھا وہ ہڑ بڑا گٸ تھی۔۔۔ نعمان نے زور سے ماتھے پر ہاتھ مارا تھا ۔۔۔
آرام سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نعمان ایک دم سے کرسی سے اٹھا تھا۔۔۔
اور محترمہ بدتمیزی کی ساری حدیں عبور کرتی ہوٸ بنا فاٸلز اٹھاۓ تقریباً بھاگتی ہو آفس سے باہر نکلی تھی ۔۔۔
عجیب کوٸ مخلوق ہے یہ لڑکی ۔۔۔۔ نعمان نے ماتھے پر بل ڈالے اور کندھے اچکا دیے ۔۔۔۔
***********
امی ۔۔۔۔ یہ وہ نہیں ہے ۔۔۔۔ وہ تو۔۔۔۔۔اس سے میں شادی نہیں کر سکتی ۔۔۔ حسنیٰ نے روہانسی آواز میں کہا۔۔۔
کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عفت نے گھورکر حسنیٰ کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
کمرے میں عفت اور فضا موجود تھیں ۔۔۔ عفت پلنگ پر بے حال لیٹی ہوٸ تھیں ۔۔۔ اور حسنی مجرموں کی طرح کھڑی تھی ۔۔۔ بے چین سی لب کچلتی ہوٸ ۔۔۔
جی ۔۔۔امی اس نے تو صرف مدد کی میری ۔۔۔۔حسنیٰ۔۔۔۔۔ تیزی سے عفت کے پاس پلنگ پر آٸ تھی ۔۔۔
چپ چاپ اس سے نکاح کر لے وہ لڑکا راضی ہو چکا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ عفت نے بے رخی سے چہرہ موڑا تھا ۔۔۔
امی۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ روتے ہوۓ چیخ اٹھی تھی ۔۔۔
اب اور کوٸ چارہ نہیں تمھارے پاس۔۔۔۔
امی۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ وہ پھر سے رونے لگی تھی ۔۔۔
اگر اس سے شادی نہیں کرے گا تو تجھ سے اب کوٸ شادی نہیں کرے گا گھر سے بھاگی ہوٸ لڑکی اور رات باہر گزاری ہوٸ لڑکی کو ہمارے معاشرے میں کوٸ قبول نہیں کرتا ہے ۔۔۔ عفت کی آواز کاٹ دار تھی ۔۔۔
سہی کہہ رہی ہیں آنٹی ۔۔۔۔ اور خود سوچ جس لڑکے نے تجھے بچایا اور یہاں واپس لایا اور یہاں تک کہ وہ بھاٸ کے سامنے صرف تمھاری عزت کی خاطر خاموش رہا ۔۔۔۔ فضا جلدی سے آگے آٸ تھی ۔۔۔
دیکھ چپ چاپ ابھی اس سے نکاح کر لے تیری مہرین بھابھی کے ارادے اچھے نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ فضا نے حسنیٰ کے کان میں سرگوشی کی تھی ۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حسنیٰ نے چونک کر دیکھا ۔۔۔
ان کو شک ہو گیا ہے شاٸد ۔۔۔ کہ جو لڑکا تمھارے ساتھ آیا ہے یہ وہ نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ فضا اسکا بازو دبوچے اسے سمجھا رہی تھی۔۔۔
ہاں یہ وہ نہیں ہے میں تو اس کا نام تک نہیں جانتی ہوں ۔۔۔ حسنیٰ نے الجھ کر گود میں ہاتھ رکھے تھے ۔۔۔
ہاں پتہ ہے مجھے ۔۔۔ لیکن وہ شزا بھابھی سے کہہ رہی تھیں کہ اب وہ حسنیٰ کی شادی اپنے چار بچوں کے باپ بھاٸ سے کروا دیں گی ساری اکڑ بھی ختم ہو جاۓ گی مہرانی کی ۔۔
حسنیٰ اس چار بچوں کے ابا سے یہ بہتر ہے ۔۔۔۔ فضا اسے راضی کر رہی تھی ۔۔۔
حسنیٰ نے بے چارگی سے دیکھا تھا۔۔۔
انکار مت کر ۔۔۔۔فضا نے پیار سے اس کے چہرے کو اوپر کیا۔۔۔۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: