Husna Novel by Huma Waqas – Episode 11

0
حسنیٰ از ہما وقاص – قسط نمبر 11

–**–**–

تیرا دماغ پھر گیا ہے کیا۔۔۔ منب نے کندھے پر زور سے ہاتھ مارا تھا روبن لڑکھڑا سا گیا ۔۔۔
ہاں ۔۔۔ پھر گیا ہے ۔۔۔۔۔ روبن نے سکون سے نظریں جھکا کر کہا تھا۔۔۔
وہ آج دو راتیں باہر گزار کر منب کے پاس آیا تھا۔۔ اور آتے ہی اس کے سر پر اپنے اسلام قبول کرنے کا بمب پھوڑ ڈالا تھا۔۔۔
تو مسلمان ہوٸیں گا۔۔۔ تو۔۔۔۔۔۔۔ منب نے حیرت اور بے یقیقنی سے اپنے بالوں کو ہاتھوں میں جکڑا تھا۔۔۔۔۔
اور گھور کر نفرت سے روبن کی طرف دیکھا جو پرسکون سا کھڑا تھا۔۔۔ اسے ہو کیا گیا ہے یہ تو مسلم لوگاں سے اتنی نفرت کرتا تھا سالہ۔۔۔ اور اب کہہ رہا کہ اس کو اسلام قبول کرنے کا ۔۔۔ منب نے لب بھینچ کر گہری نظروں سے روبن کا جاٸزہ لیا تھا ۔۔۔
ہاں۔۔۔۔۔۔۔ روبن نے گہری سانس لی تھی اس کا انداز بہت پر سکون اور حتمی تھا ۔۔۔
نہیں روبن تو ایسا نہیں کر نے کا۔۔۔۔ منب جوش میں آگے آیا تھا۔۔۔
نہیں میں یہ کر رہا ہے ویسے بھی میری کیا پہچان ہے۔۔۔ کچھ بھی تو نہیں ۔۔۔ روبن نے لاپرواہی سے کہا تھا۔۔۔
بس سر پر اب محبت کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔۔۔
میں آنٹی سے بات کرتا ہے تو ایسا کر رہا ہے ۔۔۔ وہ تیرا دماغ ٹھیک کرے گا تو دیکھنا۔۔۔۔ منب نے دانت پیس کر اسے کرسٹن کا ڈراوا دیا تھا۔۔۔
ان سے بات میں کر چکا ۔۔۔ وہ مان گیاہے میرا مام ہے وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روبن نے تسلی دینے کے انداز میں منب کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔
تو۔۔۔۔ تو پاگل ہو گیا ہے ۔۔۔ ابے میں تمھارا کوٸ ساتھ نہیں دٸینگا سمجھا تو ۔۔میں جا رہا ہے ۔۔۔ منب نے کندھے کو زور کا جھٹکا دیا تھا ۔۔۔
وہ اب اپنا بیگ پیک کر رہا تھا اور زور زور سے بڑبڑا رہا تھا ۔۔
ایک سالی لڑکی کی خاطر یہ مسلا بنیں گا ۔۔۔۔ ارے شرم ہی بیچ کھاٸ ۔۔۔۔ وہ جب چھوڑیں گا نہ ۔۔۔۔ تب پتا چلے گا۔۔۔
تھو۔۔۔۔و۔۔۔۔۔و۔۔۔۔۔و۔۔۔ منب کے ماتھے پر شکن تھے اور جبڑے باہر کو واضح تھے۔۔۔۔
روبن کمر پر ہاتھ رکھے اسے دیکھ رہا تھا منب سے یہ امید بلکل نہیں تھی لیکن بات اتنی چھوٹی بھی نہیں تھی وہ اپنا مزہب تبدیل کر رہا تھا ۔۔۔ اور منب اسکا بچپن کا مسیح دوست تھا ۔۔۔ اور اس کا روبن کی نسبت مزہبی جھکاٶ زیادہ تھا۔۔۔ اس یہ بات بلکل پسند نہیں آیا تھا ۔۔ وہ بیگ بند کرنے کے بعد کندھے پر ڈال چکا تھا ۔۔۔ تیزی سے بیرونی دروازے کی طرف بڑھا ۔۔۔
منب۔۔۔۔۔ منب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔روبن دوڑتا ہوا پیچھے آیا تھا۔۔
ابے۔۔۔۔۔ چھوڑ ۔۔۔ بے سالے ۔۔۔ ہاتھ مت لگا مجھے۔۔۔۔ منب نے تقریباً دھکا ہی دیا تھا ۔۔۔
پھر منب نے ایک نہیں سنی تھی اور بھاگتا ہوا نچلے زینے کی طرف بڑھ گیا تھا ۔۔۔
روبن وہیں ہوا میں بازو اٹھاۓ ہی کھڑا رہ گیا تھا پھر مٹھی بھینچ کر ایک گہری سانس لی ۔۔۔ آنکھیں بند کی تو وہ حسن کی مورت کا چہرہ ذہن میں لہرا گیا تھا ۔۔۔۔ تیزی سے جیب سے موباٸل فون نکالا اور فون ملا دیا ۔۔۔
ہیلو۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسری طرف داور کے فون اٹھاتے ہی روبن نے عجلت میں کہا ۔۔۔
بول جگر۔۔۔۔۔ داور اپنے مخصوص خوشگوار انداز میں گویا ہوا۔۔۔
مجھے اسلام قبول کرنے کا ہے آج اسی وقت ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ روبن نے سپاٹ لہجے میں کہا ۔۔
************
ہاں ۔۔۔ یہ اس کے کتنے آرٹیکل ہوۓ ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے بلاک پرنٹ شرٹ اٹھا کر سامنے کھڑے جواد سے پوچھا تھا ۔۔۔
وہ اس وقت ورکنگ ھال میں آیا تھا۔۔۔ تمام ورکرز اپنے اپنے کام میں مصروف تھے ۔۔۔ پتہ نہیں کیوں غیر محسوس طریقے سے ہی نظریں گاٶن کی گھٹڑی پر جا ٹھہری تھیں کیونکہ وہ جیسے ہی ورکنگ ھال میں داخل ہوا تھا وہ سمٹ سی گٸ تھی ۔۔۔
بے اختیار نعمان کی نظروں نے اس کا سٹپٹانا محسوس کیا تھا ۔۔۔ کیا یہ مجھ سے ڈرتی ہے اسے مجھ سے کیا خوف ہے ۔۔۔ بھنویں اپنی جگہ سے اوپر اٹھی تھیں۔۔۔۔ یا سب کے ساتھ ہی ایسا سلوک کرتی ہے یہ۔۔۔ نعمان کے چہرے پر بے زاری سی آٸ تھی اس لڑکی سی کوفت سی ہونے لگے تھی اسے ۔۔۔
سر یہ تری لیک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جواد نے سٹاک ریجسٹر آگے کیا تھا ۔۔۔ جس میں عید کولیکیشن کے تمام آرٹیکل کا سٹاک مینٹینس موجود تھا ۔۔۔۔
وہ رجسٹر پر نظریں جھکا کر کھڑا تھا گردن سے نیچے بال تھے گھنی شیو سفید رنگت گہری غضب ڈھاتی گرے آنکھیں ۔۔۔وہ بہت مصروف انداز میں رجسٹر پر نظریں جھکاۓ جواد سے باتیں کر رہا تھا ۔۔۔ اور حسنیٰ اسے بے اختیار دیکھے جا رہی تھی ۔۔۔ کتنا پر سکون تھا اس کا چہرہ ۔۔۔ یہ تو کہتا تھا اسے محبت ہے مجھ سے تو اب تو جیسے میں اسے یاد بھی نہیں ۔۔۔۔
دل نے بے اختیار لا شعوری طور پر شکوہ کر ڈالا تھا ۔۔
ہمممم۔۔۔یہ تمام سٹی کی آوٹ لِٹ پر روانہ ہو جانے چاہیے ۔۔۔۔۔۔ نعمان نے اچانک نظر اٹھاٸ تھی۔۔۔
حسنیٰ نے فوراً نظر جھکاٸ تھی۔۔۔۔ وہ ایک لمحے کے لیے بھی نعمان کو اپنی آنکھوں میں جھانکنے نہیں دے رہی تھی ۔۔۔۔ نعمان کو غیر ارادی طور پر ہی یہ محسوسات آ چکی تھیں کہ وہ اسے دیکھ رہی تھی لیکن جیسے ہی اس نے نظر اٹھاٸ اس کی پلکوں کی چلمن فوراً گری تھی ۔۔۔۔
جی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جواد سٹاک رجسٹر نعمان کے ہاتھ سے پکڑ چکا تھا ۔۔۔
لیکن نعمان کچھ دیر خاموشی سے گاٶن میں اپنے آپکو قید کیۓ ہوٸے اس لڑکی کو دیکھتا رہا ۔۔۔۔ آخر کو اس کے ساتھ مسلہ کیا ہے ۔۔۔۔
نعمان تھوڑا سا آگے آیا۔۔۔۔
سب میری بات سنیں پلیز۔۔۔۔ نعمان نے گلا صاف کرنے کے بعد اونچی آواز میں کہہ کر سب کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا ۔۔۔
آپ سب نے بہت محنت کی ۔۔۔۔ میں نے جب یہ ٹارگٹ آپ سب کو دیا تھا مجھے یہ ناممکن سا لگ رہا تھا لیکن آپ لوگوں کی لگن اور انتھک محنت یہ رنگ لے آٸ اور ٹارگٹ بلکل اپنے وقت پر ریڈی ہے مجھے بہت خوشی ہوٸ اس سب سے ۔۔۔۔
سب لوگ تالیاں پیٹنے لگے تھے۔۔۔۔ نعمان کے چہرے پر دلکش مسکراہٹ سجی تھی جو اس کے خوبرو چہرے کو اور دلکشی دے رہی تھی۔۔۔۔
ہممم اور آپ سب ۔۔۔۔ آپ سب کو کل میری طرف سے لنچ پر دعوت دی جاۓ گی ۔۔۔۔ نعمان نے گہری مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہوۓ کہا۔۔۔
سب لوگ اور تالیاں پیٹ رہے تھے ۔۔۔ تھنکیو سر ۔۔۔۔ تھنکیو سر کی صداٸیں بلند ہو رہی تھیں ۔۔۔
سب لوگ چہک رہے تھے ۔۔۔۔ ایک وہ تھی ساکن تھی ۔۔۔تو حسنیٰ عابد علی ۔۔۔ یہ وہ ہیرا تھا ۔۔۔ جس کو خدا نے کوٸلے کی کان سے نکال کر تمہیں خام شکل میں دیا تھا پر تم نے اس کے خام سے ہیرا بننے تک کا انتظار تک نہ کیا ۔۔۔۔
آہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری قسمت ۔۔۔۔ یہ ہیرا میرا تھا ۔۔۔۔ مقدر تھا میرا۔۔۔ اور میں کان کے پیچھے بھاگتی رہی اور پھر کالک سے بھرے چہرے کے ساتھ واپس آٸ ۔۔۔۔
سب لوگ خوش ہیں ایک بس وہ تھی جس نے نا تو تالی بجاٸ تھی اور نہ ہی اب باقی لوگوں کی طرح جوش دکھا رہی تھی ۔۔۔ نعمان نے کن اکھیوں سے بھنویں اچکا کر حسنیٰ کی طرف دیکھا اور پھر اپنے مخصوص پر وقار انداز میں لمبے لمبے ڈگ بھرتا ھال کے بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا تھا ۔۔۔
************
حسنیٰ رونا بند کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔فضا نے اس کے سر پر کھڑے ہو کر کہا۔۔۔
حسنیٰ گھٹنوں میں منہ دیے بس روۓ جا رہی تھی ۔۔۔ نکاح ہو چکا تھا لیکن اس کی حالت ایسی تھی کہ وہی اس دن کے ملگجے کپڑے ان پر چادر سر پر اوڑھ رکھی تھی۔۔۔ آنکھوں کے کٹورے سوجے پڑے تھے ۔۔۔ ہونٹ بھی گہرے گلابی ہو رہے تھے جن کو وہ بار بار دانتوں سے کچل رہی تھی ۔۔۔۔۔
نکاح ہو گیا ہے اب ۔۔۔ اور پاگل لڑکی اللہ جو کرتا بہتر کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ فضا نے اس کے آنسو صاف کیے تھے۔۔۔
روبن نے داور کے ساتھی عبداللہ کی مدد سے اسلام قبول کیا تھا۔۔۔
اور اسلامی نام نعمان رکھا گیا تھا۔۔۔ نعمان نے اسلام قبول تو حسنیٰ کے لیے ہی کیا تھا لیکن جیسے ہی مزہب تبدیل ہوا تھا اندر تک سکون اتر گیا تھا۔۔۔ زندگی کا مقصد سمجھ آنے لگا تھا۔۔۔ وہ بہت پر سکون ہو گیا تھا۔۔۔
آنٹی ۔۔۔ آپ سمجھاٸیں نہ اسے ۔۔۔ فضا نے ایک نظر بلکتی حسنیٰ پر ڈال کر ایک نظر پلنگ پر لیٹی عفت پر ڈالی تھی ۔۔۔
عفت نے کوٸ جواب نہیں دیا تھا وہ ویسے ہی ساکن لیٹی ہوٸ تھیں ۔۔ فضا ان کے قریب ہوٸ تھی ۔۔۔ اور پھر ماتھا ٹھنکا تھا وہ پرسکون انداز میں آنکھیں موندے لیٹی ہوٸ تھیں ۔۔۔
آنٹی۔۔۔۔ آنٹی۔۔۔۔۔ حسنیٰ آنٹی کو دیکھو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فضا عفت کو ہلاتے ہوۓ گھبرا کر حسنیٰ کی طرف مڑی تھی ۔۔۔
حسنیٰ تیر کی سی تیزی سے عفت کے پلنگ کی طرف لپکی ۔۔۔
امی ۔۔۔۔ حسنیٰ نے ہلکے سے عفت کے گال تھپتھپاۓ تھے۔۔۔۔امی۔۔۔۔ ۔۔۔۔ حسنیٰ نے بے حال سی ہو کر عفت کے کندھے کو ہلایا تھا۔۔۔۔۔۔
لیکن وہاں کوٸ جواب نہیں تھا ۔۔۔ خاموشی تھی بس ۔۔۔حسنیٰ کے تو جیسے اوسان خطا ہوۓ تھے ۔۔۔ عفت آنکھیں نہیں کھول رہی تھیں اور نہ ہی سانس لے رہی تھیں ۔۔۔
امی۔ی۔۔۔۔ی۔۔۔۔ی۔۔۔۔ی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک ہولناک سی چیخ تھی جو حسنیٰ کے گلے سے برآمد ہوٸ تھی۔۔ اورے پورے ماتم کنعاں خاموش گھر میں گونج گٸ تھی ۔۔۔
عفت آرا ۔۔۔ اس دنیا فانی سے کوچ کر چکی تھیں ۔۔۔۔ بس ان کی سانسیں جیسے کہ حسنیٰ کے نکاح کے دو بول سننے کی ہی منتظر تھیں جیسے ہی نکاح ہوا تھا انھوں نے پر سکون انداز میں آنکھیں موند لی تھیں ۔۔۔ اور آخری سفر کی تیاری پکڑی ۔۔۔
**************
جی ۔۔۔۔ کیسے ہیں آپ سب ۔۔۔۔ نعمان مسکراتا ہوا ہوٹل میں داخل ہوا تھا ۔۔۔
سب لوگ جو آپس میں مصروف تھے فوراً مسکراتے ہوۓ نعمان کی طرف لپکے تھے اور اس کے گرد جھمگٹا سا بنا لیا تھا۔۔۔ پل بھر میں ہی وہ بہت سے ورکرز میں گِھر گیا تھا ۔۔۔ آج ان سب ورکرز کو کو بہت ہی خوبصورت ہوٹل میں نعمان کی طرف سے لنچ دیا گیا تھا۔۔نعمان تو جیسے سب کا ہیرو بن گیا تھا۔۔۔ورکرز اس سے بہت خوش تھے۔۔۔ سب لوگ اس کے گرد جمع ہو چکے تھے ایک وہ ہی تھی جو آج بھی اسی سیاہ گاٶن میں ملبوس کھڑی تھی نظریں ہنوز نعمان کے دیکھنے پر جھک گٸ تھیں۔۔۔ وہ اتنی پر سرار کیوں تھی آخر۔۔۔۔
سر آٸیں نہ آپ بھی۔۔۔۔ بہت سے لوگ اسے اپنی ٹیبل کی طرف مدعو کر رہے تھے ۔۔
لیکن اس کے قدم تو بے ساختہ سیاہ گاٶن میں ملبوس اس پرسرار سی لڑکی کی طرف بڑھ رہے تھے۔۔۔ جیسے جیسے نعمان اس کے قریب جا رہا تھا ویسے اس کا گھبرانا بھی نوٹ کر رہا تھا۔۔۔ اس کی پلکیں بری طرح گالوں پر لرزنے لگی تھیں ۔۔۔۔ نعمان اب بلکل اس کے سامنے موجود تھا۔۔۔۔ وہ ہلکی سی آسمانی رنگ کی ٹی شرٹ کے نیچے جینز زیب تن کیے ہوا تھا۔۔۔ بالوں کی پونی بنا رکھی تھی۔۔۔ گہری آنکھوں کے اوپر موجود بھنویں تجسس سے اچکاٸ ہوٸ تھیں ۔۔۔
آپ۔۔۔۔ پارٹی نہیں انجواۓ کر رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے کن اکھیوں سے اس کا جاٸزہ لیا تھا۔۔۔
وہ لمبے قد کی سمارٹ سی لڑکی معلوم ہوتی تھی۔۔۔ نعمان کے قریب آتے ہی وہ اپنے مخصوص انداز میں اپنے ہاتھوں کو سیاہ سکارف میں چھپا چکی تھی ۔۔۔ جس پر نعمان کی ناگواری مزید بڑھ گٸ تھی۔۔۔
حسنٰی خاموش ہی کھڑی تھی جب اچانک اسے کسی نے پاس آ کر پکارا تھا۔۔۔
حسنیٰ۔۔۔۔۔ آو نہ ہمارے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔ لڑکی اس کا ہاتھ پکڑ چکی تھی ۔۔۔
حسنیٰ نے گھبرا کر نظر اٹھا کر نعمان کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
حسنیٰ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نعمان ابھی زیرلب اس کا نام ہی دہرا تھا جب نظریں اس کی نظروں سے ملی تھیں ۔۔۔۔
افف یہ آنکھیں۔۔۔۔ یہ آنکھیں تو کڑوڑوں میں پہچان سکتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ تیزی سے لڑکی سے ہاتھ چھڑوا کر بھاگی تھی۔۔۔ نعمان تو جیسے ساکن ہوا تھا۔۔۔ پھر کرنٹ کھا کر اس کے پیچھے لپکا تھا تب تک وہ ہوٹل کے بیرونی دروازے سے باہر جا چکی تھی ۔۔۔
نعمان تیزی سے باہر نکلا تھا کمر پر ہاتھ دھر کر ارد گرد دیکھا وہ کہیں نہیں تھی۔۔۔۔
وہ گاٶن میں لڑکی تھی کسی طرف گٸ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوٹل کے باہر بیٹھے گاڈ سے عجلت سے پوچھا۔۔۔
بہت تیز بھاگنے کی وجہ سے سانس چڑھا ہوا تھا۔۔۔
سر ابھی گیٹ سے باہر نکلی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ گارڈ نے مین گیٹ کی طرف اشارہ کیا ۔۔
نعمان اپنی پوری رفتار سے بھاگا تھا۔۔۔ جب وہ گیٹ تک پہنچا حسنیٰ سڑک عبور کرنے کی کوشش میں تھی۔۔۔ یہ بہت وسیع سڑک تھی جس میں تیز رفتار سے ٹریفک گزر رہی تھی۔۔۔۔
حسنیٰ۔۔۔۔۔ حسنیٰ۔۔۔۔۔۔ نعمان نے بے تابی سے آوازیں دی تھیں ۔۔۔
حسنیٰ اور تیز ہوٸ تھی اور چلتی ٹریفک میں تیزی سے آگے بڑھی ۔۔۔ وہ بار بار پیچھے مڑ کر دیکھ رہی تھی ۔۔۔ اسی دوران سامنے سے آنے والی کار سے بری طرح ٹکراٸ تھی اور کتنی ہی دور جا کر گری تھی۔۔۔۔
حسنیٰ۔۔۔آ۔۔۔۔آ۔۔۔۔۔آ۔۔۔۔۔آ۔۔۔۔ نعمان کی چیخ ابھری تھی ۔۔۔

 

نکالو اس کو باہر ۔۔۔ اور کہو اس لڑکے سے لے جاۓ اسے۔۔۔ عامر نے چیخ کر کہا ۔۔۔
تو اور کیا حبا جوان ہو رہی ہے میں اس پر اس کا سایہ ہر گز نہیں پڑنے دے سکتی نکالو اسے ۔۔۔۔۔۔
چھوٹے سے ٹی وی لاونج میں وہ سب جمع تھے عفت کو گزرے آج دوسرا دن تھا ۔۔ نعمان کچھ دیر پہلے ہی ادھر آیا تھا ۔۔ سر جھکاۓ شرمندہ سا ۔۔۔
تم اس کو لے کر چلے جاٶ ۔۔۔ حسن نے لب بھینچ کر نعمان کی طرف ناگواری سے کہا ۔۔۔
اس سے کوٸ تعلق نہیں ہمارا اب اور نہ ہم رکھنا چاہتے ہیں ۔۔۔ عامر نے دروازے پر بھاگ کر آتی حسنیٰ کو دیکھ کر کہا۔۔۔
باہر سے آتی آوازوں پر وہ بے حال سی بھاگتی ہوٸ باہر آٸ تھی دروازے کے پٹ پر بری طرح نعمان کو دیکھ کر رک گٸ تھی ۔۔۔
نعمان کی نظر ایک لمحے کے لیے ملی تھی حسنیٰ سے اور سب کچھ جیسے تھم سا گیا تھا ۔۔۔ ان چار دنوں میں وہ مرجھاۓ پھول جیسی ہو گٸ تھی۔۔۔ بڑی بڑی آنکھیں سرخ ہوٸ پڑی تھیں تو ناک بار بار رگڑ رگڑ کر گلابی ہو رہا تھا ۔۔۔ ہونٹ سوجے ہوۓ اور کٹ زدہ لگ رہے تھے صبح سے کمرے میں بند تھی ۔۔۔ کسی نے ڈھنگ سے پانی تک نہ پوچھا تھا بھابیوں سے کوٸ توقع تھی نہیں اور بہنیں ویسے ہی ماں کے غم میں نڈھال تھیں ۔۔۔
بھاٸ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ نے تڑپ کر عامر کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔
وہ کتنی لاڈلی تھی بھاٸ کی ۔۔۔ہر فرماٸش وہ اس کے ایک دفعہ کہنے پر پوری کرتے تھے ۔۔ لیکن آج ایسے نفرت سے منہ پھیرے بیٹھے تھے۔۔۔
میں تمھارا بھاٸ نہیں ہوں سمجھی تم ۔۔۔۔ ڈاٸن ہو تم ۔۔۔ کھا گٸ ہمارے ماں کو اس گھر کی عزت کو ۔۔۔۔۔۔ عامر روتے ہوۓ کھڑا ہوا تھا۔۔۔ بس نظریں حسنیٰ سے نہیں ملا رہا تھا۔۔۔
بڑی دو کا گھر بھی تمھاری وجہ سے خطرے میں پڑ گیا ہے اب تم جان چھوڑو ہماری ۔۔۔ حسن نے حسنیٰ کے آگے ہاتھ جوڑے تھے۔۔۔
حسن بھاٸ۔۔۔ حسنیٰ نے بلکتے ہوۓ کہا۔۔۔۔ اور آگے بڑھ کر حسن کے کندھے کو تھام لیا۔۔۔
حسن کے ساتھ تو مزاق اور چھیڑ چھاڑ کا بھی رشتہ تھا ۔۔۔ وہ بہت فرینڈلی حسن سے ہر بات کرتی تھی ۔۔۔ لیکن آج حسن کے چہرے پر بھی عامر سے کم نفرت نہیں تھی ۔۔۔ ماہ رخ اور بختاور تو ویسے ہی اپنے شوہروں اور سسرال کی وجہ سے سر گدی سے نیچے گراۓ بیٹھی تھیں ۔۔۔
تم نے سر اٹھانے کے لاٸق نہیں چھوڑا ہمیں ۔۔۔ حسنیٰ۔۔۔۔۔۔ حسن نے روتے ہوۓ غصے سے کندھے کو جھٹکا دیا اور کچھ فاصلے پر جا کر کھڑا ہوا ۔۔
عامر غصے سے اٹھاحسنیٰ کو بازو سے پکڑ کر باہر کے دروازے کی طرف گھسیٹ رہا تھا۔۔۔ وہ بلک رہی تھی ۔۔۔چیخیں مار رہی تھی شزا نے ناگواری سے لبوں کو داٸیں باٸیں جنبش دی تھی ۔۔۔ ماہ رخ اور بختاور جلدی سے کمرے میں چلی گٸ تھیں ۔۔۔مہرین نے ایک اٹیچی نما بیگ لا کر نعمان کے حوالے کیا تھا۔۔۔ اس میں شاٸد حسنیٰ کے کپڑے اور ضرورت کی چیزیں تھیں۔۔۔۔
بھاٸ۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ بھاٸ ۔۔۔ مت نکالیں مجھے ۔۔۔۔
امی۔۔۔۔۔۔ امی۔۔۔۔۔ آ جاٶ کہیں سے بھاٸ مجھے نکال رہے ہیں ۔۔۔۔ وہ اونچا اونچا رو رہی تھی۔۔۔
نعمان سر جھکاۓ خاموشی سے ساتھ ساتھ چل رہا تھا ۔۔۔ عامر نے بے دردی سے دروازے پر لاکر حسنیٰ کو چھوڑ دیا تھا۔۔۔ محلے کے کتنے پٹ آدھ کھلے تھے ۔۔۔ کھڑکیوں سے لوگ جھانک رہے تھے ۔۔۔ چھتوں سے بہت سے سر چھپ چھپ کر منظر دیکھ رہے تھے ۔۔۔
لے جاٶ اسے ۔۔۔۔۔۔۔ عامر نے ایک نظر خونخوار نعمان پر ڈالی اور دروازہ بند کر دیا۔۔۔
حسنیٰ کتنی دیر کھڑی دروازے کو پیٹتی رہی ۔۔۔ بلک بلک کر روتی اور چلاتی رہی ۔۔۔ پر کوٸ نہیں آیا تھا ۔۔۔ نعمان نے دھیرے سے جا کر اسے کندھے سے تھاما تھا ۔۔۔۔ اور وہ بے حال سی ہو کر نعمان کے ساتھ لپٹ گٸ تھی وہ مسلسل روۓ جا رہی تھی ۔۔۔ نعمان ایک ہاتھ میں بیگ کو تھامے دوسرے ہاتھ سے اسے کندھے سے لگاۓ مین سڑک تک آیا تھا اور پھر بیگ نیچے رکھ کر رکشہ کو ہاتھ کا اشارہ کیا تھا۔۔۔۔
حسنیٰ کو رکشے میں بیٹھانے کے بعد وہ خود بھی اس کے ساتھ بیٹھ چکا تھا حسنیٰ کا رونا اب تھم گیا تھا ۔۔۔رکشہ عبداللہ کے گھر کی طرف رواں دواں تھا ۔۔ عبداللہ کے علاوہ اب اس کا یہاں کوٸ سہارا نہیں تھا ۔۔۔ اسی محلے والے گھر میں وہ حسنیٰ کو نہیں رکھنا چاہتا تھا اور ویسے بھی وہ داور کا اڈا تھا ۔۔۔ اور نکاح کرتے وقت ہی وہ ٹھان چکا تھا کہ اب وہ کبھی غلط کام نہیں کرے گا عزت کی روزی کماۓ گا اور حسنیٰ کو کھلاۓ گا ۔۔۔ اس لیے داور کا وہ کسی بھی قسم کا کوٸ احسان نہیں لینا چاہتا تھا ۔۔۔
پر عبداللہ بہت الگ تھا۔۔۔ وہ عبداللہ سے قران پڑھنا شروع کر چکا تھا ۔۔ اس نے دل سے اسلام قبول کیا تھا اور وہ نام کا مسلمان نہیں رہنا چاہتا تھا ۔۔۔
آنسو تھم جانے پر حسنیٰ نے نکاح کے بعد پہلی دفعہ نعمان کی طرف دیکھا ۔۔۔اور دیکھنا جوتے سے شروع کیا تھا۔۔۔ اس کا جوتا بہت پرانا سا تھا ۔۔۔ پھیکی سی پینٹ اس پر بوسیدہ سی شرٹ ۔۔۔ شرٹ کے کالر کے پاس گردن پر گہرا جلے کا زخم تھا ۔۔۔ اور زخم کو دیکھ کر جیسے ابکاٸ سی آٸ تھی ۔۔۔
نعمان نے وہ سلیب کے ٹیٹو کو جلایا تھا ۔۔۔اس کی گردن پر سلیب کا ٹیٹو تھا اور کان میں بالی تھی اور گردن میں چین ۔۔۔ عبداللہ نے اسے بتایا کہ اسلام میں یہ سب منع ہے اس نے لاکٹ اور بالی تو اتار دی تھی لیکن ٹیٹو کو ختم کرنے کا اور کوٸ طریقہ نہیں تھا۔۔۔
حسنیٰ نے جلدی سے نظریں موڑ لی تھیں اور باہر کی طرف دیکھنا شروع کر دیا۔۔۔
**********
اٹھنے کی ضرورت نہیں۔۔۔ لیٹی رہو ۔۔ نعمان ایک دم سے کرسی سے اٹھ کر حسنیٰ کی طرف بڑھا تھا۔۔۔
اس کو ابھی ہوش آیا تھا۔۔۔ دھیرے سے آنکھیں کھولنے کی کوشش کرتی ہوٸ وہ اٹھنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی ۔۔۔ گاڑی سے وہ بہت بری طرح ٹکراٸ تھی اور پھر دھندلہ سا یہ یاد تھا نعمان اسے گود میں اٹھاۓ ہوۓ تھا ۔۔۔ اس کے بعد کچھ یاد نہیں تھا۔۔۔ دھیرے سے آنکھیں پوری کھلیں تھیں ۔۔۔نعمان اس کے اوپر جھکا ہوا تھا۔۔۔ حسنیٰ جھینپ سی گٸ تھی۔۔۔۔جلدی سے گردن کا رخ دوسری طرف موڑا تھا ۔۔
یہ کسی بہت ہی اچھے ہاسپٹل کا کمرہ تھا ۔۔۔ حسنیٰ کی ٹانگ بازو سر پر پٹیاں تھیں ۔۔۔ جیسے ہی ہوش تھوڑا بحال ہو رہا تھا جسم کے بہت سے حصوں میں تکلیف ہو رہی تھی ۔۔۔
نعمان تھوڑا سا پیچھے ہوا تھا ۔۔۔ پھر گلاس میں جوس انڈیل رہا تھا ۔۔۔ پھر جوس کا گلاس پکڑ کر اس کے قریب آیا تھا۔۔۔
یہ وقت نہیں اتنی نفرت کا ۔۔۔ جوس پیو۔۔۔۔ نعمان نے بہت نرمی سے کہاتھا۔۔۔
وہ حسنیٰ کی شرمندگی کو اس کی نفرت سمجھ رہا تھا۔۔۔ وہ تو اس لیے نظریں چرا رہی تھی کہ وہ اس کی ان محبت بھری نظروں کے اب کہاں قابل رہی تھی ۔۔۔ افف جس لمحے سے ڈرتی تھی وہ آ ہی گیا تھا آخر ۔۔۔ کیا کروں بھاگ جاٶں یہاں سے ۔۔۔حسنیٰ نے زور سے آنکھیں بند کی تھیں ۔۔۔
نعمان اب بیڈ کے تکیے کے نیچے لگے ہینڈل بٹن کو پریس کر کے اسے سر سے تھوڑا اوپر کر رہا تھا۔۔۔ اب حسنیٰ کا سر کافی حد تک اوپر ہو چکا تھا۔۔۔ نعمان نے گلاس آگے کیا تھا۔۔
نہ۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔ حسنیٰ نے گھٹی سی آواز سے نظریں چراتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔
کیوں نہیں۔۔۔۔ ویکنس ہو گی ۔۔۔۔ نعمان نے مصنوعی غصہ دکھایا تھا۔۔۔۔
حسنی نے پلکیں لرزاٸ تھیں ۔۔۔ پر لب نہیں کھولے تھے۔۔۔
شاباش۔۔۔۔ پیو ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعمان اور قریب ہو چکا تھا۔۔۔
پینے میں ہی عافیت تھی وہ ہر انکار پر فاصلہ کم کر رہا تھا۔۔۔ حسنیٰ نے گلاس منہ کو لگا لیا تھا۔۔۔ نعمان نے بڑی نرمی سے ہاتھ کو پیچھے رکھا تھا۔۔ چند گھونٹ کے بعد ہی حسنیٰ نے چہرے کو پیچھے کیا تھا ۔۔۔
تھوڑا سا اور ۔۔۔ختم کرو اسے ۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے رعب سے کہا ۔۔۔
بس ۔۔۔ ۔۔۔ حسنیٰ کی شرمندہ سی آواز ابھری تھی ۔۔۔
ہمممم۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے زیادہ زور دینے کا منصوبہ رد کر دیا تھا کیونکہ اس کے چہرے پر تکلیف کے آثار نظر آنے لگے تھے۔۔۔ ٹانگ اور بازو پر بری طرح فریکچر ہوا تھا ۔۔۔ اس کے علاوہ بہت سی رگڑیں اور سر پر چوٹ تھی ۔۔۔
سونا ہے ۔۔۔ سو جاٶ ۔۔۔ نعمان نے بچوں جیسی شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تھا وہ اس سے کوٸ سوال جواب اس حالت میں نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔۔
اس کے لیے وہ خوشی اور سکون ہی بہت تھا جو اسے حسنیٰ کو زندہ سلامت دیکھ کر ملا تھا ۔۔۔
بابا ۔۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ نے مدھم سی پریشانی بھری آواز میں کہا ۔۔۔
کون۔۔۔۔۔۔۔۔ نعمان تجسس بھرے انداز میں ٹھٹھکا تھا
بابا۔۔۔ وہ پریشان ہوں گے ۔۔۔حسنیٰ نے پلکیں لرزاتے ہوۓ آہستہ سی آواز میں کہا۔۔۔
وہ کتنی تبدیل سی لگ رہی تھی اس دن ہوٹل میں اس پر چیختی ہوٸ حسنیٰ اور اس حسنیٰ میں زمین آسمان کا فرق تھا ۔۔۔ نعمان الجھ سا گیا تھا ذہن میں ان گنت سوال تھے کیا اسے اس سے اتنی ہی نفرت تھی کہ یوں ایک ہی شہر میں اس سے چھپ کر رہ رہی تھی ۔۔۔ اور اس سے طلاق کا مطالبہ پھر سے کیوں نہیں کیا تھا اس نے اس جیسے ڈھیروں الجھے ہوۓ سوال جو ایک کے بعد ایک ذہن میں امڈ رہے تھے ۔۔۔ لیکن ابھی حسنیٰ کی حالت ایسی نہیں تھی کہ اس سے وہ سوال پوچھتا اس کے سر میں بھی چوٹ تھی ۔۔۔
کونسے بابا ۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے تجسس بھرے انداز میں پوچھا تھا ۔۔
ان کے ساتھ رہ رہی تھی میں ۔۔۔ وہ بہت پریشان ہوں گے ۔۔۔ حسنیٰ نے نظریں چراٸ تھیں۔۔۔
تمہیں دوسرا دن ہے یہاں ۔۔۔ ٹانگ اور بازو فریکچر ہیں ۔۔۔ نعمان نے مدھم سے لہجے میں اسے آگاہ کیا تھا کہ وہ کتنی دیر تک غنودگی میں رہی تھی ۔۔۔
اوہ۔۔۔۔ تو بابا کو ۔۔۔حسنیٰ نے لب دانتوں میں دبا کر فکر مندی سے نعمان کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
فکر نہیں کرو ۔۔۔ایڈریس دو ۔۔۔ وہی محبت بھرا نرم لہجا ۔۔۔۔
جی۔۔۔۔ لکھیں۔۔۔۔ حسنیٰ نے اچانک بازو کو غلطی سے اٹھایا تھا ۔۔
22
آہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تکلیف سے آواز نکلی تھی ۔۔۔ تکلیف تھی ہی اتنی بری ۔۔۔ آنکھوں کے آگے ساۓ سے لہرا گۓ تھے ۔۔۔
نعمان تڑپ کر آگے ہوا تھا اور بازو سے پکڑ کر کمر کے پیچھے ہاتھ رکھتے ہوۓ اسے نیچے لیٹا رہا تھا ۔۔۔ نعمان کے کلون کی خوشبو ناک کے نتھنوں میں گھس گٸ تھی۔۔۔۔سگریٹ اور کلون کی ملی جلی سی خوشبو لیے وہ اس کے اتنا قریب تھا۔۔۔۔
کیا ہوا ۔۔۔ ہاں۔۔۔۔ درد ہے ۔۔۔۔ حسنیٰ کے بیڈ کے سر کو بٹن دبا کر نیچے کرتے ہوۓ نرمی سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا ۔۔۔
ہممممم ۔۔۔ حسنیٰ نے تکلیلف سے آنکھوں میں آنسو لا کر سر کو ہلکی سی جنبش دی تھی
میں ابھی نرس کو پین کلر کا کہتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔ نعمان جلدی سے کمرے سے باہر گیا تھا۔۔۔
اتنی محبت ۔۔۔۔۔۔اتنا پیار۔۔۔۔۔۔۔ اتنی تڑپ ۔۔۔۔۔۔۔کیا وہ اس قابل بھی ہے ۔۔۔ کیا کیا نہیں کیا میں نے اس کے ساتھ ۔۔۔ آخری دفعہ ہوٹل میں افف۔۔۔اور کیا کچھ نہیں کہا اسے ۔۔۔ کیسا عجیب شخص ہے یہ۔۔۔کیا کوٸ ایسے بھی چاہ سکتا۔۔۔۔ دل میں ایک پھانس سی اٹکی تھی۔۔۔ اور سینے میں درد ہونے لگا تھا ۔۔
*************
اللہ جو کرتا ہے وہ بہتر کرتا ہے حسنیٰ۔۔۔۔۔ بابا نے سیب کا کش حسنیٰ کی طرف بڑھایا تھا ۔۔۔
وہ حسنیٰ کے داٸیں طرف بیڈ کے پاس کرسی پر بیٹھے تھے اور سیب کاٹ کر اسے دے رہے تھے ۔۔نعمان نے ایڈرس پر ڈراٸیور بھیجا تھا جو ان کو ہاسپٹل لے آیا تھا۔
خدا کا شکر ہے ۔۔۔ اللہ نے تمہیں دوسری زندگی دی ہے بیٹی۔۔۔۔ بابا نے مسکرا کر حسنیٰ کی طرف دیکھا ۔۔
بابا۔۔۔۔۔ یہ سب عارضی ہے ۔۔۔۔۔۔۔حسنیٰ نے بددل ہو کر بے زاری سے چہرے کا رخ دوسری طرف کیا تھا۔۔۔
ہاں تو یہ سب عارضی ہی تھا ۔۔۔ کہاں کوٸ مرد یہ برداشت کرتا ہے جو اس کے ساتھ ہو چکا تھا ۔۔۔ سچاٸ پتا چلتے ہی نعمان کی بھی ساری محبت زمین بوس ہو جاۓ گی ۔۔۔ کچھ بھی نہیں بچے گا ۔۔
نہ۔۔۔نہیں۔۔۔۔ تم ۔۔۔تم نعمان کو کچھ مت بتانا ۔۔۔ کچھ بھی نہیں ۔۔۔ بابا نے ڈرتے ہوۓ ایک نظر کمرے کے بند دروازے کی طرف ڈالی اور پھر آواز کو مدھم رکھتے ہوۓ کہا ۔۔
بابا۔۔۔۔۔۔۔حسنیٰ نے بے چارگی سے دیکھا تھا ۔۔
بس چپ۔۔ ۔۔۔۔انھوں نے اپنی انگلی کو لبوں پر رکھا تھا ۔۔۔
اب تمہیں اسی کے ساتھ رہنا ہے ۔۔۔۔ پر اسے کچھ بھی مت بتانا ۔۔۔ بابا نے حسنیٰ کے آگے ہاتھ جوڑ لیے تھے۔۔۔
پردہ پوشی خدا کو بہت پسند ہے ۔۔۔ وہ رحیم ہے کریم ہے ۔۔۔نعمان کے دل میں تمھاری محبت کو یوں ہی قاٸم رکھے گا ۔۔۔
بابا۔۔۔۔ حسنیٰ با قاعدہ رو دی تھی ان کی باتیں سن کر ۔۔۔
اچھا میں جاتا ہوں ۔۔۔۔ پھر آٶں گا نعمان سے ملاقات بھی ہو جاۓ گی ۔۔۔ بابا گھٹنے پر ہاتھ رکھ کر اٹھے تھے۔۔۔
نعمان آفس میں تھا اس وقت ۔۔۔ اور شام کو پانچ بجے وہ یہاں آ جاتا تھا حسنیٰ کے پاس ۔۔۔ پھر وہ رات یہیں گزارتا تھا اس کے پاس۔۔۔
جیتی رہو ۔۔۔ اللہ کی حفاظت میں رہو ۔۔۔ بابا نے محبت سے حسنیٰ کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ پھیرا اور پھر باہر نکل گۓ تھے۔۔۔
لفٹ سے نیچے اتر کر وہ مین گیٹ کی طرف جا رہے تھے جب سامنے بہت سے لوگوں کے ساتھ ان کو ایک چہرہ نظر آیا تھا اور قدم ساکت ہوۓ تھے۔۔۔بس منہ سے ایک ہی آواز نکلی تھی ۔۔۔
حسن۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔
وہ جب تک حواس میں آۓ وہ لوگوں کی بھیڑ میں غاٸب سا ہی ہو گیا تھا ۔۔۔ اور وہ بار بار گردن کو گھوما کر ارد گرد دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔ زیر لب وہ کسی کا نام دھرا رہے تھے۔۔۔
حسن۔۔۔۔۔ حسن۔۔۔۔
*************
کم ان ۔۔۔۔نعمان نے چہرہ اوپر اٹھایا تھا۔۔۔
وہ اپنے آفس کی سیٹ پر بیٹھا کچھ فاٸلز پر دستخط کرنے میں مصروف تھا جب آفس کے دروازے پر ہلکی سی دستک ہوٸ تھی۔۔۔
ہیر بڑے انداز سے آفس کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوٸ تھی ۔۔۔نعمان نے فاٸل پر جھکا سر اوپر اٹھایا ۔۔۔
تم ۔۔۔۔ تم کیا کر رہی ہو میرے آفس میں ۔۔۔۔۔۔ماتھے پر ایک لمحے میں ہی شکن آ گۓ تھے۔۔۔۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: