Husna Novel by Huma Waqas – Episode 12

0
حسنیٰ از ہما وقاص – قسط نمبر 12

–**–**–

”یہاں کیسے پہنچی ۔۔۔ “ نعمان نے دانت پیس کر کہا
ہاتھ سامنے ٹیبل پر دھرے وہ غصے میں بھرا بیٹھا تھا ۔۔۔ ہلکے سے پرپل رنگ کی ڈریس شرٹ پر ٹاٸ لگاۓ وہ نکھرا نکھرا سا ہیر کے دل میں ہی تو اتر رہا تھا ۔۔۔
”مسٹر۔۔۔۔۔ روبن۔۔۔۔۔ اوہ سوری نعمان ۔۔۔۔ “ ہیر نے معنی خیز انداز میں کہا وہ لا پرواہ سے انداز میں چیونگم چبا رہی تھی گھنگرالے بال شانوں پر بکھرے تھے کمر تک بمشکل آتی ٹی شرٹ اور تنگ جینز زیب تن کیے کندھے پر بیگ لٹک رہا تھا جس کی لٹکن ڈور اتنی لمبی تھی کہ بیگ ٹانگوں تک آ کر جھول رہا تھا ۔۔
”تم یہاں سے جاٶ ابھی اور اسی وقت ۔۔۔ “ نعمان ایک دم سے اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑا ہوا تھا
اسے ہیر پر بلکل بھروسہ نہیں تھا وہ پتہ نہیں کہاں سے یہاں آ ٹپکی تھی نعمان کی اتنی محنت سے بناٸ ہوٸ عزت ایک پل میں اس کی وجہ سے ختم ہو سکتی تھی ۔۔۔
”کیوں ۔۔۔ کیوں جاٶں۔۔۔۔سنو ۔۔ اس دن میرے گھر پر جو بھی ہوا تھا اس کا سچ تمھارے اور میرے علاوہ کوٸ نہیں جانتا سمجھے تم ۔۔۔ “ ہیر نے اسے غصے میں آتا دیکھ کر ناک پھلا کر خبردار کیا تھا ۔۔
وہ بچپن سے ہی ایسی تھی جو پسند آ جاتا تھا پا لینے تک دل سے جاتا ہی نہیں تھا روبن بھی دل میں ایسا بسا تھا کہ اب نعمان کو دیکھ کر وہ ضد سی بنتا جا رہا تھا ۔۔۔اس دن اسے پارٹی میں دیکھنے کے بعد سے ایک پل کو بھی تو چین نہیں تھا ۔۔۔ لاکھ چاہا اس کو بھلا دے بات کو چھوڑ دے پر ماتھے پر لگے جس طرح تین سٹیچز کے نشان ابھی تک باقی تھے اسی طرح روبن کے لیے وہ کچی محبت کے ارمان بھی ابھی باقی تھے ۔۔۔ بلکہ اب تو پختہ ہو چکے تھے ۔۔۔
”زیادہ مجھے نخرے دکھاٶ گے تو کیس ری اوپن کروا دوں گی ۔۔۔ “ وہ اپنی عمر سے بڑی دھمکی دے رہی تھی اسے ۔۔۔۔انگلی بھی نعمان کی طرف اشارے کی شکل میں کر رکھی تھی۔۔۔
اس کی انگلی اپنی طرف دیکھ کر نعمان کو تو جیسے طیش آ گیا تھا ۔۔۔
”ہممم۔۔۔ دھمکی کیوں دے رہی ہو ۔۔۔ کروا دو ۔۔۔“ نعمان نے دانت پیس کر ناک پھلایا تھا
خونخوار نظروں سے سامنے کھڑی ہیر کو کھاجانے والے انداز سے دیکھا۔۔۔ وہ بڑے آرام سے کھڑی مسکرا رہی تھی اور دھیرے دھیرے ہل رہی تھی ۔۔۔
”اچھا۔۔۔ “ ہیر نے ہونٹ باہر نکال کر کہا تھا اور بڑے انداز سے کندھے اچکاۓ تھے ۔۔انداز ایسا تھا جیسے اسے کوٸ پرواہ نہیں تھی ۔۔۔
دروازے پر ہلکی سی دستک کے بعد دروازہ کھلا تھا اور مسز واصف داخل ہوٸ تھیں ۔۔۔۔ ہیر کو یوں نعمان کے آفس میں دیکھ کر حیران سی ہو کر ہیر کی طرف پلٹی تھیں ۔۔۔
”ہیر ۔۔۔۔۔۔ تم یہاں ۔۔۔“ شہروزی نے حیرت اور خوشگوار انداز میں کہا
”پھپھو ۔۔۔ آپکو ہی ڈھونڈ رہی تھی میں ۔۔۔“ ہیر نے خجل ہوتے ہوۓ بات بناٸ اور کن اکھیوں سے نعمان کو جتلانے والے انداز میں دیکھا ۔۔۔
نعمان نے چونک کر دونوں کی طرف دیکھا تھا ” پھپھو“ زیر لب ہلکی سی خود سے سرگوشی کی تھی
” یاد نہیں آپ کے ساتھ شاپنگ پر جانا تھا ۔۔۔رحیم کاکا کے ساتھ ادھر ہی آ گٸ میں۔۔۔ “ ہیر نے بڑے لاڈ سے شہروزی سے کہا
اور پھر ناک چڑھا کر بڑے ناز سے نعمان کی طرف دیکھا ۔۔۔
وہ جان بوجھ کر شاپنگ سے چند گھنٹے پہلے آٸ تھی اور پھر نعمان کے آفس کا پوچھ کر سیدھی یہاں ٹپک پڑی تھی ۔۔۔
”اچھا کیا۔۔۔۔ “ شہروزی نے مسکرا کر ہیر کو اپنے ساتھ لگایا اور پھر نعمان کی طرف دیکھا ۔۔۔
جو یہ جان لینے کے بعد تھوڑا پریشان سا ہو گیا تھا۔۔۔ مسز واصف اسے کتنا پسند کرتی ہیں اور کتنی عزت کرتی ہیں ۔۔۔ ہیر یہ ساری عزت یہ ساری محنت پر ایک جھوٹ سے پانی پھیر سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ایسی قسمت بار بار کہاں ملتی ہے ۔۔۔
”نعمان۔۔۔۔ “ شہروزی نے نعمان کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ ہیر کو اس سے متعارف کروایا تھا ۔۔۔
”نعمان یہ میری بھتیجی ہے ہیر ۔۔۔“ مسکرا کر ہیر کے گال کو تھپکا تھا۔۔۔
”جی۔۔۔ ۔۔۔ “ نعمان نے بمشکل آپنے آپ کو نارمل ظاہر کیا تھا۔۔۔
ہیر شہروزی کے گلے لگی معنی خیز اندز میں مسکرا رہی تھی جیسے نعمان کو خبردار کر رہی ہو۔۔۔
”نعمان وہ انٹرنیشنل آرڈر آیا تھا ۔۔ وہ ہوا پورا ۔۔۔۔۔ “ شہروزی نے کچھ یاد آ جانے پر ماتھے پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا۔۔۔
وہ نعمان سے یہی بات کرنے آٸ تھیں اور اس کے ساتھ ساتھ مقصد نعمان کے دیدار سے اپنی ممتا کو ٹھنڈک پہنچانا بھی تھا۔۔۔
”جی جی۔۔۔ میم ۔۔۔ وہ ہو گیا ہے کمپلیٹ ۔۔۔۔“ نعمان نے جلدی سے خود کو سنبھالا تھا ۔۔
اور پھر ٹیبل پر کھی فاٸل مہدب انداز میں شہروزی کی طرف بڑھاٸ تھی ۔۔۔
”گڈ۔۔۔۔“ شہروزی نے مسکراتے ہوۓ فاٸل پر ایک نظر ڈالی اور فاٸل پھر سے نعمان کی طرف بڑھا دی ۔۔۔
”چلو ہیر ۔۔۔ اپنے آفس میں لے کر چلتی ہوں۔۔۔۔ “ شہروزی نے ہیر کی طرف متوجہ ہو کر کہا۔۔
وہ بہت محو تھی نعمان کو دیکھنے میں شہروزی کہ بلانے پر ایک دم سے چونکی تھی جسے شہروزی نے بھی نوٹس کیا تھا۔۔۔
”نعمان کیسا ہے۔۔۔۔ “ شہروزی نے مدھم سی آواز میں کہا۔۔
وہ اپنے آفس میں موجود اپنی کرسی پر بیٹھ رہی تھیں جبکہ ہیر بڑے پر سکون انداز میں سامنے لگے بڑے سا کاٶچ پر بیگ پھینک کر ڈھیر سی ہوٸ تھی ۔۔۔ شہروزی کی بات پر اسے جیسے کرنٹ لگا تھا ۔۔۔ ایک جھٹکے سے سیدھی ہوٸ ۔۔۔
”ہاں۔۔۔ کیا۔۔ “ اندز حیرت زدہ سا تھا۔۔۔
پھپھو ایسا کیوں پوچھ رہی تھیں ۔۔۔ ایک دم سے گلا خشک ہوا تھا۔۔۔
”مطلب کیسا ہے نعمان ۔۔۔ “ شہروزی کے چہرے پر دلکش سی محبت بھری مسکراہٹ تھی ۔۔۔
”پھپھو ایسے کیوں پوچھ رہی آپ مجھ سے ۔۔۔ “ ہیر کی حیرت ہنوز قاٸم تھی رک رک کر استفسار کیا
”ویسے ہی ۔۔۔۔ “ شہروزی نے معنی خیز انداز میں مسکراتے ہوۓ کہا۔۔۔
وہ بغور ہیر کے چہرے کے بدلتے رنگ دیکھ رہی تھیں ۔۔۔ اور اس کے چہرے کے یہ بدلتے رنگ ان کے کتنے ہی مساٸل کا حل ان کو سجھاٶ دے رہے تھے ۔۔۔
”بہت ڈیشنگ ہے ۔۔۔ ویری چارمنگ پرسنلٹی ۔۔۔۔ “ ہیر نے خجل ہوتے ہوۓ نارمل انداز ظاہر کرنے کی کوشش کی تھی کندھے ایسے اچکاۓ جیسے نعمان اس کے لیے کوٸ اہمیت نہیں رکھتا ہے
”ہممممم۔۔۔۔ “ شہروزی گہری سوچ میں ڈوبی ہوٸ تھیں
”کیا ہوا آپکو۔۔۔ “ ہیر نا سمجھی کے انداز میں ان کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
وہ کیوں اس سے ایسے معنی خیز انداز میں نعمان کا پوچھ رہی تھیں ۔۔۔۔
”مجھے بہت پسند ہے نعمان ۔۔۔ مطلب بہت اچھا محنتی بچہ۔۔۔ “ شہروزی نے کھوۓ کھوۓ سے انداز میں کہا ۔۔۔
ذہن بہت سے تانے بانے بن رہا تھا ۔۔۔ کرسی آہستہ آہستہ ہل رہی تھی ۔۔۔
***********
”اٹھو تو ۔۔ اٹھو۔۔۔ “ نعمان بیڈ کو سر کی طرف سے اوپر کرنے کے بعد حسنیٰ کے سر کو اوپر کر رہا تھا
وہ لبوں کو ایک دوسرے سے ملاتے ہوۓ تکلیف کو برداشت کرتے ہوۓ اٹھی تھی ایک ہفتہ ہو گیا تھا اور اب تو اسے ہاسپٹل سے کوفت ہونے لگی تھی نعمان روز آفس سے واپسی پر یہاں آ جاتا تھا حسنیٰ حیران ہوتی تھی اس شخص کے ماتھے پر ایک شکن تک نہیں آتی تھی ۔۔۔ وہ اس کی محبت پر حیرانگی کا سفر طے کرتی رہتی تھی رات کو اکثر آنکھ کھلتی تو وہ کتاب کو سینے پر رکھے کرسی پر ہی سو رہا ہوتا تھا اور حسنیٰ اسے تکتی ہی رہتی تھی ۔۔ اسے دیکھنا دل کو اب بھلا سا لگتا تھا ۔۔۔ فضا سہی کہتی تھی وہ کتنا خوبرو تھا ہر ہر نقش خدا نے جیسے دل سے بنایا تھا ۔۔۔ وہ کتنی بد قسمت تھی جو یہ سب دھتکار کر چل دی تھی۔۔۔ وہ رات رات بھر یہی سوچتی رہتی تھی ۔۔۔ معلوم ہوتا تھا کہ صبح ہوتے ہی وہ گھر کے لیے نکل جاۓ گا اور پھر شام گۓ واپس آۓ گا اس لیے وہ جی بھر کر رات کو اسے دیکھتی رہتی تھی جیسے ہی اس کے اٹھنے کا خدشہ ہوتا فوراً آنکھیں بند کر لیتی تھی ۔۔۔ دل بھی عجیب بےایمان ہونے لگا تھا کہ وہ نعمان کو کچھ بھی نہ بتاۓ بس وہ اس پر ایسے ہی محبتیں لٹاتا رہے ۔۔۔
”منہ کھولو۔۔۔۔ “ وہ سٶپ کا باٶل لیے اس کے بلکل قریب کھڑا تھا
حسنیٰ نے دھیرے سے سر کو اوپر کرتے ہوۓ آگے کیا تھا اور منہ کھولا تھا ۔۔ بال نیچے آنے کی وجہ سے کھنچے تھے ربڑ بینڈ ٹوٹ کر اس کے گھنے بال ایک دم سے پشت پر آبشار کی طرح بکھر گۓ تھے ۔۔۔ ایک ہفتے سے نرس اس کے بال بناتی تھی اور کھینچ کر ربڑ بینڈ سے بالوں کی پونی ٹیل بنا دیتی تھی ربڑ بینڈ کھنچنے کی وجہ سے کمزور ہوتا رہا اور آج ٹوٹ گیا تھا ۔۔۔ حسنیٰ نے گالوں پر آتے بالوں کو پیچھے کرنے کے لیے بے ساختہ بازو اٹھایا تو درد کی لہر اٹھی تھی اور تکلیف سے آنکھوں میں پانی آ گیا تھا ۔۔۔
”ایک منٹ ۔۔۔ “ نعمان نے نرمی سے کہتے ہوۓ سٶپ کا باٶل ایک طرف رکھا ۔۔
پھر اپنے بالوں سے ربڑ بینڈ کھینچ کر اتارا تھا ۔۔۔ حسنیٰ کے بالوں کو اپنی انگلیوں سے پشت پر سے سمیٹا تھا ۔۔۔ حسنیٰ نے جھینپ کر پلکیں گراٸیں تھیں ۔۔۔
”اچھی کروں گا۔۔۔ اپنے کرتا رہتا ہوں۔۔۔ “ ۔۔۔۔ نعمان نے مسکراہٹ دباٸ اور پھر اس کے بالوں کی مہارت سے پونی ٹیل بنا دی تھی ۔۔۔
”حسنیٰ۔۔۔۔۔۔ “ سٶپ سے بھرا چمچ اس کی طرف بڑھاتے ہوۓ نعمان نے گہری سانس لیتے ہوۓ اسے پکارا تھا
اور گہری نظروں سے اس کے چہرے کا طواف کیا ۔۔ اس کا رنگ زرد پڑا ہوا تھا وہ پہلے سے بہت زیادہ کمزور دکھاٸ دیتی تھی اب آنکھوں کے نیچے ہلکے پڑے ہوۓ تھے ۔۔ ہونٹوں پر پپڑی سی جمی ہوٸ تھی ۔۔۔
حسنیٰ نے سپ لے کر نظریں تھوڑی سی اٹھا کر پھر سے جھکا دیں تھیں ۔۔۔
”دیکھو۔۔۔ میں جانتا ہوں تم مجھے ۔۔۔ قبول نہیں کر سکی حالات ایسے تھے۔۔۔ یوں شادی ہو جانا۔۔ اور میرا یوں اچانک تمھاری زندگی کا ایک اہم رکن بن جانا ۔۔۔ “ نعمان مدھم سے لہجے میں رک رک کر اس سے بات کر رہا تھا ۔۔
وہ کبھی بھی اس کی بات سننے کے لیے راضی ہی نہیں ہوٸ تھی یہ وہ ساری باتیں تھی جو وہ ان دس دنوں میں ہی اس سے کرنا چاہتا تھا لیکن وہ تو دروازہ تک نہیں کھولتی تھی اس دو کمروں کے چھوٹے سے فلیٹ میں وہ جب سارا دن نوکری کے لیے خوار ہو کر گھر لوٹتا تھا تو حسنیٰ کمرے میں بند ہو
23
جاتی تھی۔۔۔ لیکن اب اس کے اندر بہت زیادہ بدلاٶ نعمان کو بہت ہمت دے گیا تھا اسی ہمت کے زیر اثر وہ آج اس سے اپنے دل کی ہر بات کر دینا چاہتا تھا ۔۔۔
”لیکن ۔۔۔ میری زندگی میں تم اچانک نہیں آٸ تھی ۔۔۔ “ نعمان نے سر جھکا کر کہا
حسنیٰ نے ناسمجھی کے انداز میں اسے دیکھا تھا ۔۔۔نعمان کے سٶپ پلاتے ہاتھ بھی رک گۓ تھے
”ہاں۔۔۔۔ اس رات تم مجھے اچانک نہیں ملی تھی۔۔۔ میں لاہور سے اسلام آباد تک تمھارے پیچھے گیا تھا۔۔۔ “ دھیرے سے سر اٹھا کر حسنیٰ کی بڑی بڑی کھلی آنکھوں میں دیکھا
”جس رات تم گھر سے باہر نکلی میں تمھارے گھر کے دروازے کہ آگے کھڑا تھا ۔۔۔ میں چار گھنٹوں سے نہیں پانچ مہینوں سے تمہیں جانتا تھا تمہیں اس کی خبر نہیں تھی ۔۔۔“ وہ پہلی دفعہ اتنی ہمت سے اپنی محبت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اسے حقیقت سے آشنا کر رہا تھا
”کہ۔۔۔کیسے۔۔۔۔ “ حسنیٰ نے حیرانگی سے پوچھا
حیرت کی ہی تو بات تھی ۔۔۔ وہ ملا اسے اسلام آباد میں تھا پہلی دفعہ اور اسے کیسے وہ پہلے جانتا تھا عجیب سی کشمکش سی ہوٸ تھی نعمان کی اس بات سے
”چھت پر ۔۔۔ ہاں چھت پر سے تمہیں دیکھا کرتا تھا روز شام کو ۔۔۔ “ نعمان پوری گفتگو کے دوارن پہلی دفعہ مسکرایا تھا ۔۔۔
لبوں پر محبت بھری دلکش سی مسکراہٹ ابھر آٸ تھی اور نظریں کچھ دیر کے لیے شرما کر جھکی تھیں آخر کو وہ پہلی دفعہ اپنی محبت کا اظہار کر رہا تھا
”کیا۔۔۔۔۔۔ا۔ا۔۔۔ا۔ا۔۔۔“ حسنیٰ کی آنکھیں اس عجیب وغریب انکشاف پر اپنے حجم سے بڑی ہوٸ تھیں ۔۔۔
”ہاں۔۔۔سچ ہے یہ۔۔۔۔میں تم سے محبت کرنے لگا تھا یا پھر خدا نے کروا دی تھی یہ محبت۔۔۔۔۔۔۔ میرے بس میں کچھ بھی نہیں تھا
تمہارے لیے یہ سب بہت عجیب ہو گا ۔۔۔ پر یہ سچ ہے جس کا آج میں دل سے اعتراف کرتا ہوں کہ میں نے جان بوجھ کر تمھارے بھاٸیوں کو یہ نہیں بتایا تھا کہ میں وہ نہیں جس کے لیے تم گھر چھوڑ کر بھاگی تھی ۔۔۔“ نعمان نے گردن مجرم کی طرح جھکا دی تھی ۔۔۔
ساری دنیا سے لڑ جانے والا سب کے گریبان کو پکڑ کر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے والا نام نہاد داور کا گنڈا آج ایک دھان پان سی لڑکی کے آگے گردن جھکاۓ شرمندہ سا بیٹھا تھا ۔۔۔ ہاں اس کے آگے وہ اپنا سب کچھ ہی تو ہار بیٹھا تھا ۔۔۔
اپنا دل۔۔۔۔۔ اپنا غرور۔۔۔۔۔اپنا مزہب۔۔۔۔۔۔سب کچھ ۔۔۔ حسنیٰ خاموش بیٹھی تھی ساکن منہ کھولے اسے جیسے یقین نہیں آ رہا تھا ان سب باتوں پر ۔۔۔
”حسنیٰ تم مجھے ایک موقع تو دو گی نہ۔۔۔۔ “ نعمان نے نظریں اٹھا کر التجاٸ انداز میں کہا
نعمان نے سٶپ کا باٶل ایک طرف رکھا ۔۔۔ اور حسنیٰ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا ۔۔۔ حسنیٰ نے چونک کر اس کی طرف دیکھا ۔۔ ایک عجیب سے ارتھ کی لہر ریڑھ کی ہڈی میں ہوٸ تھی اور وہ جھینپ گٸ تھی ۔۔۔
”دیکھو میں نے حازق کے لیے تمہیں چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔۔۔ لیکن جب میں اس سے ملا ۔۔۔“ نعمان نے خشک لبوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملایا تھا۔۔۔
حسنیٰ نے حازق کے نام پر تڑپ کر خوفزدہ آنکھوں سے نعمان کی طرف دیکھا ۔۔۔
”آپ۔۔۔آپ۔۔۔ ملے تھے اس سے ۔۔۔ “ گھٹی سی ڈری سہمی آواز تھی حسنیٰ کی آنکھیں خوف سے پھٹنے کو تھیں
”ہاں تمہیں کہاں کہاں تلاش نہیں کیا میں نے ۔۔۔ “ نعمان نے ہاتھ پر گرفت مضبوط کی تھی ۔۔۔
کتنے خوبصورت ہاتھ تھے ۔۔۔ نرم و نازک مخروطی انگلیوں والے ۔۔
”اس۔۔۔اس نے کیا کہا ۔۔۔ “ حسنیٰ کا تو جیسے خون خشک ہوا تھا ۔۔۔
”یہی کہ اس نے تمہاری شادی کا سن کر تم سے شادی کا انکار کر دیا تھا ۔۔۔ “ آواز مزید آہستہ ہوٸ تھی ۔۔۔ اور نظریں پھر سے جھکی تھیں ۔۔۔
حازق کے ذکر پر حسنیٰ کا یوں ساکن ہو جانا جان ہی تو جلا گیا تھا نعمان کی ۔۔۔ کیوں ۔۔۔آخر کیوں اس گھٹیا شخص یہ اتنی محبت کرتی ہے ۔۔۔
”اور۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔“ حسنیٰ کا دل خوف سے مزید تیز ہوا تھا ۔۔
حازق جیسا گندا ۔۔۔گھناٶنا ۔۔۔ خواب وہ کیسے اتنی آسانی سے اہنے ذہن سے کھرچ سکتی تھی ابھی بھی اکثر وہ خواب میں حازق سے بچ کر بھاگ رہی ہوتی تھی اور کبھی کوٸ بہت بڑا عجیب شکل کا جانور اس سے زنا کرنے کی کوشش میں ہوتا تھا ۔۔۔وہ خود کو اس سے بچا رہی ہوتی تھی ۔۔۔
”اور پھر تم وہاں سے کہاں گٸ یہ اس کو بھی خبر نہیں تھی نہ فضا کو ۔۔۔۔“ نعمان نے گہری سانس لی
”مجھے ایک موقع دو ۔۔۔ صرف ایک اگر پھر بھی تمھارا دل نہ مانے تو میں تمہیں چھوڑ دوں گا ۔۔۔ “ نعمان نے نرمی سے حسنیٰ کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں کی گرفت سے آزاد کیا تھا
حسنیٰ نے ماتھے پر آۓ پسینے کو صاف کیا تھا
”بولو دو گی ۔۔۔۔ “ نعمان کے لہجے میں چاہت تھی ۔۔۔تڑپ تھی ۔۔۔۔
تو حازق نے نعمان کو کچھ بھی نہیں پتا چلنے دیا۔۔۔ پسینے کے ننھی ننھی بوندیں ماتھے پر پھر سے ابھر رہی تھیں اس یخ سردی کے موسم میں بھی اس کے گال تپنے لگے تھے
”حسنیٰ اسے کچھ مت بتانا۔۔۔ کچھ بھی نہیں ۔۔۔ خدا تمھاری پردہ پوشی کا بھرم قاٸم رکھے گا “ بابا کی آواز کانوں میں گونج رہی تھی ۔۔۔
”حسنیٰ تمھارے جواب کا منتظر ہوں میں ۔۔۔۔“ نعمان کی بھاری سی آواز کانوں میں پڑی تھی ۔۔۔
” پر میں ۔۔۔۔ “ حسنیٰ نے گھٹی سی آواز میں بات شروع کی تھی ۔۔۔
ہلکی سی دستک سے دروازہ کھلا تھا ۔۔۔ نرس مسکراتی ہوٸ نعمان کے قریب آٸ تھی ۔۔۔
”سر آپ اپنی مسز کو گھر لے جا سکتے ہیں ۔۔۔“ ڈیوز لسٹ نعمان کی طرف بڑھاتے ہوۓ سسٹر مسکرا رہی تھی ۔۔۔
”میں ڈیوز کلیر کروا کر آتا ہوں پھر چلتے ہیں گھر “ نعمان نے لبوں کو آپس میں ملایا پھر گہری سانس لیتا ہوا اٹھا تھا
*******
”میم۔۔۔۔ میڈیسن ۔۔۔“ رضیہ نے میڈیسن کی ٹرے آگے کی تھی ۔
نفیس سا میرون رنگ کا ناٸٹ گاٶن زیب تن کۓ شہروزی اپنے جہازی ساٸز بیڈ پر پر سوچ انداز میں نیم دراز تھیں ۔۔ یہ بہت بڑا نفیس چیزوں سے آراٸستہ کمرہ تھا۔۔۔ جس کی تقریباً ہر چیز ہلکے نیلے رنگ کی تھی ۔۔۔ رضیہ ان کا میڈیسن کا وقت ہوتے ہی ان کے کمرے میں پہنچی تھی ۔۔۔ اور اب ان کے بلکل پاس کھڑی تھی ۔۔۔
”ہاں۔۔۔ لیتی ہوں تم رکھو یہاں اور چلی جاٶ“ شہروزی نے ہلکی سی آواز میں کہا تھا ۔۔۔
وہ پاس کھڑی رضیہ سے بلکل بے نیاز تھیں ۔۔۔ گم سم سی ۔۔۔
”جی“۔۔۔ رضیہ معدب انداز میں ٹرے کو بیڈ کے ساٸیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوۓ واپس مڑی تھی۔۔۔
شہروزی اسی طرح غیر مرٸ نقطے کو گھورتی ہوٸ سوچے جا رہی تھیں وہ بہت دن سے اسی بات کو لے کر سوچ رہی تھیں ۔۔۔ دنیا کے سامنے نعمان کو اپنا بیٹا بنا کر لانا بہت مشکل تھا ۔۔۔ لیکن ہیر سے شادی کروا کر اسے اپنا داماد بنا کر وہ دنیا کے سامنے ضرور انٹرڈیوز کروا سکتی ہے یہ آسان تھا ۔۔۔ لیکن ہیر کو اور نعمان کو کیسے اس بات کے لیے رضا مند کیا جاۓ اصل الجھن یہی تھی ۔۔۔
گھڑی کی ٹک ٹک کمرے کا سکوت توڑ رہی تھی ۔۔۔ اور شہروزی گہری سوچ میں ڈوبی بیٹھی تھی ۔۔۔
*********
”یہ گھر ہے تمھارا۔۔۔ “نعمان نے دروازہ کھولا تھا
حسنیٰ کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گٸ تھیں ۔۔۔ یہ بہت ہی خوبصورت اپارٹمنٹ تھی جو بہت ہی قیمیتی فرنیچر اور چیزوں سے بھرا ہوا تھا۔۔۔ چمکتی سفید ٹاٸلز ۔۔۔ اور ہر آساٸش سے آراستہ گھر تھا۔۔۔ وہ حیران سی نعمان کے ساتھ چلتی ہوٸ آ رہی تھی ۔۔۔ اس سے چلنا بہت مشکل تھا نعمان اسے سہارا دے کر چلا رہا تھا۔۔۔ لاونج سے آگے دو بیڈ روم اور ایک خوبصورت کچن تھا۔۔۔ نعمان اب اسے اپنے بیڈ روم کی طرف لے کر جا رہا تھا۔۔۔
روم بہت خوبصورت تھا۔۔۔ بڑا سا بیڈ ایک خوبصورت کاوچ ۔۔۔ ڈریسنگ ٹیبل مختلف پینٹگز دیواروں کی زینت بڑھا رہی تھیں ۔۔ نعمان کے کپڑوں سے اٹھنے والی سوندھی سی خوشبو پورے کمرے میں پھیلی ہوٸ تھی ۔۔۔ جس سے وہ اب بہت حد تک مانوس ہو چکی تھی ۔۔۔
”لیٹ جاٶ۔۔۔ آرام سے میں سٶپ نکال کر لاتا ہوں “ نعمان اسے بیڈ پر بیٹھایا تھا۔۔
اور کمبل اس کی ٹانگوں پر اوڑھا دیا تھا۔۔۔ پھر کچھ دیر بعد وہ سٶپ کے باٶل کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا تھا ۔۔۔ بیڈ پر اس کے پاس بیٹھ کر سوپ میں ابھی چمچ ڈالا ہی تھا۔۔ جب حسنیٰ کی آواز کانوں میں پڑی ۔۔۔
”میں خود ٹراٸ کرتی ہوں ۔۔۔“ مدھم سی مدھر آواز تھی ۔۔۔
نعمان نے باٶل حسنیٰ کے طرف بڑھا دیا تھا۔۔ حسنیٰ نے ابھی بازو کو جنبش ہی دی تھی کہ آہ۔۔۔ نکل گٸ تھی ۔
”نہیں ہو گا تم سے ۔۔۔میں کر رہا ہوں نہ“ نعمان نے نرمی سے کہتے ہوۓ باٶل پیچھے کیا تھا۔۔۔
” نہیں اب بہتر ہوں میں ۔۔۔کھا سکتی ہوں“ حسنیٰ نے زبردستی باٶل پکڑنے کی کوشش کی تھی
”اوکے۔۔۔“۔۔نعمان نے باول اس کے ہاتھ میں تھامایا ہی تھا کہ اس کی گرفت ڈھیلی ہونے کی وجہ سے سارا کمبل حسنی کے سارے کپڑے سٶپ میں لت پت ہو گۓ تھے ۔۔۔
یہ تو شکر تھا اتنی سردی ہونے کی وجہ سے سٶپ اتنا گرم نہیں رہا تھا۔۔ورنہ وہ جل جاتی ۔۔۔
”بولا تھا نہ۔۔۔۔ سارے کپڑے ۔۔۔ “ نعمان ایک دم سے کھڑا ہوا تھا۔۔۔
”تمھارے پاس تو اب ۔۔۔“ نعمان کے ذہن میں ایک دم سے آیا اس کے تو ابھی کپڑے بھی نہیں لایا تھا وہ بابا کے گھر سے اس دن بابا ہی اس کا ایک جوڑا لاۓ تھے جو اب اس نے ہاسپٹل گاٶن اتار کر پہنے تھے نرس کی مدد سے ۔۔۔
” رکو اپنی شرٹ دیتا ہوں “ نعمان تیزی سے اپنی وارڈ روب کی طرف بڑھا تھا۔۔
” ٹھیک ہے ۔۔۔ کچھ نہیں “ حسنیٰ نے بے چارگی سے نعمان کی طرف دیکھا وہ الٹے ہاتھ سے بمشکل ٹشو اٹھا رہی تھی ۔۔۔
”کیا مطلب کچھ نہیں سارے کپڑے خراب پو چکے ہیں ۔۔۔ اتنی سردی ہے ٹمپریچر ہو جاۓ گا ۔۔“ نعمان نے جھاڑنے کے انداز میں کہا ۔۔۔
” یہ شرٹ اور یہ ٹرایوزر پہن لو ۔۔“ نعمان اپنی ٹی شرٹ اور ٹریوزر لے کر پاس آیا تھا۔۔
حسنیٰ نے بے چارگی سے دیکھا ۔۔۔ اور پھر لب بھینچ کر کپڑے اٹھاۓ ۔۔۔
”سنو میں کرتا ہوں ۔۔۔ “ نعمان کی آواز بہت آہستہ تھی۔۔۔
”نہ۔۔۔نہیں۔۔۔ میں خود کر لیتی ہوں۔۔۔ “ حسنیٰ کو جیسے سو واٹ کا جھٹکا لگا تھا۔۔
” ہو پاۓ گا کیا تم سے “ نعمان کی آواز سرگوشی جیسی تھی ۔۔۔
”جی۔۔۔“ وہ بری طرح پلکیں لرزا رہی تھی ۔۔۔ دل تھا کا یوں کبھی دھڑکا ہی نہیں تھا۔۔۔
”آہ۔۔ہ۔۔۔۔ہ۔۔۔“ بازو اوپر کرتے ہی چیخ سی نکلی تھی۔۔۔
”کہا نہ نہیں ہو پاۓ گا تم سے میں کر دیتا ہوں اور کل سے نرس آ جاۓ گی “۔۔۔ نعمان نے تھوڑے رعب سے کہا تھا۔۔
”میں کر لوں گی آپ باہر جاٸیں پلیز“ حسنیٰ نے تھوڑی سختی سے کہا
اپنے محسوسات نے اسے خود ہی پریشان کر رکھا تھا۔۔۔ نعمان خاموشی سے کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔۔۔

 

 

کپڑوں کو باٸیں ہاتھ سے اتارنے کی کوشش میں وہ نڈھال سی ہو گٸ تھی سوچا تھا کسی طرح ایک ہاتھ سے ہو ہی جاۓگا پر بے کار تھا ۔۔۔ اتنے تو دن ہو گۓ ہیں داٸیاں بازو کچھ تو کام کرے گا ہی اسی سوچ کے آتے ہی اس نے داٸیاں بازو زبردستی اوپر اٹھایا تھا۔۔۔ بازو کو ایسا جھٹکا لگا تھا کہ ایک ہولناک چیخ ابھری تھی ۔۔۔ درد ایسا تھا کہ پل بھر میں ہی آنکھوں کے آگے اندھیرا سا چھا گیا تھا ۔۔۔ اور پھر اسے نہیں خبر تھی وہ کہاں ہے ۔۔۔
دھیرے سے آنکھیں کھلی تھیں ۔۔۔۔ سر بھاری سا تھا ۔۔۔۔ دھندلا دھندلا سے چھت پر لگا پنکھا جو ساکن تھا وہ نظر آیا تھا۔۔ اور پھر دھندالاہٹ کم ہو رہی تھی ۔۔۔ وہ بیڈ پر چت لیٹی تھی اوپر کمبل تھا جو سینے تک اوڑھا ہوا تھا ۔۔۔ کمرہ روشن تھا ۔۔۔ گردن گھوما کر دیکھا ۔۔ نعمان کسی کتاب کے مطالعہ میں غرق تھا۔۔۔ کیا ہوا تھا مجھے۔۔۔۔ آنکھوں کو سکیڑ کر ذہن پر زور ڈالا۔۔۔
اوہ۔۔۔۔ سٶپ سے لت پت کپڑٶں سمیت ۔۔۔۔ اپنا آپ نظروں میں گھوم گیا تھا اوہ۔۔۔۔۔ اچانک ذہن میں جھماکا ہوا۔۔۔
جلدی سے باٸیں بازو سے کمبل کو خود سے ہٹایا تھا۔۔۔۔ وہ نعمان کی وہی شرٹ اور ٹریوزر پہنے ہوۓ تھی۔۔۔۔ جلدی سے گھڑی کی طرف دیکھا رات کے بارہ بج رہے تھے۔۔۔
افف۔۔۔۔ کان کی لو تک گرم ہو گٸ تھیں ۔۔۔ نعمان نے اچانک کتاب پر سے نظر ہٹا کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔
اوہ خدایا۔۔۔۔ حسنیٰ نے جلدی سے آنکھوں کو زور سے بند کیا تھا۔۔۔
وہ شاٸد کرسی سے اٹھ کر پاس آ رہا تھا۔۔ قدموں کی چاپ بلکل اس کے سر پر آ کر تھم گٸ تھی۔۔۔۔
افف ۔۔۔۔۔۔ زمین پھٹے اس میں سما جاٶں یا پھر آسمان ہی نگل لے مجھے ۔۔۔ دل کے دھڑکنے کی رفتار اتنی تیز ہو چکی تھی۔۔۔ کہ کچھ بی سناٸ نہیں پڑ رہا تھا۔۔۔
”میڈیسن لو ۔۔۔“ بہت قریب سے بھاری آواز آٸ ۔۔۔
حسنیٰ نے دھیرے سے آنکھیں کھولی ۔۔۔ دیکھ کیسے لوں اس کو ۔۔۔ دماغ ماٶف سا ہو رہا تھا اس لمحے
پاگل لڑکی ۔۔۔ نعمان نے بمشکل لبوں پر امڈ آنے والی مسکراہٹ کو دبایا تھا۔۔۔اچانک جگجیت کے بہت خوبصورت گانے کے بول ذہن میں بجنے لگے تھے۔۔
”جسم کی بات نہیں تھی ان کے دل تک جانا تھا
لمبی دوری طے کرنے میں وقت تو لگتا ہے ۔۔۔۔
پیار کا پہلا خط لکھنے میں وقت تو لگتا ہے۔۔۔“
وہ آنکھیں ہی نہیں ملا رہی تھی ۔۔ نعمان نے ٹیبلیٹ آگے بڑھاٸ تھیں جن کو جھکی آنکھوں سے ہی اٹھایا تھا اس نے ۔۔۔ میڈسن کے بعد پھر سے اسے لیٹا کر وہ کرسی پر آ کر بیٹھا ہی تھا کہ حسنیٰ کی نظروں سے نظریں ملی تھیں اور حسنیٰ نے پھر سٹپٹا کر نظریں جھکا لی تھیں ۔۔۔
”پریشان مت ہو ۔۔۔ کچھ دن جب تک تم مکمل ٹھیک نہیں ہو جاتی ادھر رہوں گا اس کے بعد ساتھ والے روم میں چلا جاٶں گا“ نعمان نے مسکرا کر نرمی سے کہا۔۔۔
حسنیٰ نے شرمندہ سا ہو کر دیکھا وہ غلط سوچ رہا تھا ۔۔ وہ یہ کب سوچ رہی تھی وہ تو کسی اور ہی سوچ میں اٹکی ہوٸ تھی تب سے ۔۔۔۔۔۔۔ اور اسی سوچ نے عجیب ہی احساسات سے روشناس کروایا تھا۔۔۔ریڑھ کی ہڈی میں میٹھی سی چبھن تھی ۔۔ پلکیں بھاری ہو رہی تھیں ۔۔۔ دل کے تار ہلکے ہلکے سروں میں بج رہے تھے۔۔۔
چور نظروں سے نعمان کی طرف دیکھا تو وہ کرسی پر ہی سونے کی کوشش میں اپنے سر کو کشن پر داٸیں باٸیں گھوما کر سیٹ کر رہا تھا ۔۔۔ وہ خود بھی اب دو گھنٹے پہلے والی ڈریس شرٹ اور پینٹ میں ملبوس نہیں تھا بلکہ ڈھیلے سے چیک ٹریوزر کے اوپر ہلکی سی گرے رنگ کی ٹی شرٹ جس پر پیلے رنگ میں باس کے حروف لکھے ہوۓ تھے زیب تن کیے بیٹھا تھا۔۔۔
”بیڈ پر آ جاٸیں ۔۔۔۔“ بے ساختہ ہی وہ اسے بے آرام دیکھ کر کہہ گٸ ۔۔
نعمان نے چونک کر حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔جیسے کہ اپنے کانوں پر شک گزرا ہو ۔۔۔
”کیا۔۔۔۔۔۔۔“۔۔۔ تھوڑی حیرت سے بھنوں کو اچکایا ۔۔۔ اور لبوں نے بھی گولاٸ کی شیپ لے لی ۔۔۔
”بیڈ پر آ جاٸیں ۔۔۔ یہاں ساری رات کیسے۔۔۔۔۔۔۔ “ حسنیٰ نے رک رک کر گھٹی سی آواز میں کہا۔۔۔
دل کی ڈب۔۔ ڈب۔۔۔ کی آواز اتنی اونچی تھی کہ اسے خود کچھ بھی نہیں سناٸ دیا تھا کہ اس نے کیا کہا ہے ۔۔۔
” حکم۔۔۔۔ “۔۔۔۔ نعمان نے لبوں پر گہراٸ مسکراہٹ سجا کر کہا ۔۔۔
اور پھر یونہی خوشگوار مسکراہٹ سجاۓ دل میں وہی گانا گنگناتا وہ اس کی باٸیں طرف ایک آ کر لیٹ چکا تھا۔۔۔
جسم کی بات نہیں تھی۔۔۔۔۔۔ ان کے دل تک جانا۔۔۔۔۔۔تھا۔۔۔۔۔
ہلکے ہلکے سے خراٹوں کی آواز سے حسنیٰ نے آنکھیں کھلی تھیں ۔۔۔ اسے کہاں اب نیند آ رہی تھی نعمان کی مسحور کن خوشبو عجیب ہی حالت کر رہی تھی ۔۔۔دھیرے سے گردن کو باٸیں طرف موڑا تو جناب بچوں جیسی معصومیت چہرے پر سجاۓ سو رہے تھے۔۔۔ گہری آنکھوں پر اب الجھی سی گھنی پلکوں کی جھالر گری تھی ۔۔۔ لب سگریٹ پینے کی وجہ سے کناروں سے اب اتنے گلابی نہیں تھے جتنے درمیان سے ۔۔۔ مونچھیں اوپری لب کو تھوڑا سا ڈھک رہی تھیں ۔۔۔ جب جاگ رہا ہوتا ہے تو یا چہرہ کتنا بارعب ہوتا اور اب جیسے کوٸ بچہ ہو ۔۔۔
حسنیٰ کے لب بے ساختہ مسکرا دیے تھے۔۔۔
افف۔۔۔۔۔ کیا ہو گیا ہے مجھے۔۔۔۔ دل ہی دل میں خود کو سرزنش کرتی وہ کب نیند کی وادیوں میں گٸ خبر ہی نہ ہوٸ ۔۔۔
********
”سر کوٸ فاٸق صاحب ہیں تشریف لاۓ آپ سے ملنا چاہتے ہیں “ انٹر کام سے باہر ریسپیشن پر بیٹھی زیب کی آواز ابھری تھی ۔۔۔
”ہاں ۔۔۔ہاں۔۔۔ بھیجو اندر ان کو“ نعمان نے آنکھیں تھوڑی سکیڑیں اور پھر اچانک یاد آنے پر ماتھے پر دوسرے ہاتھ کی انگلیوں کو پھرتے ہوۓ کہا
حسنیٰ نے اس سے بابا کا ذکر کیا تھا کہ ان کو اسی کمپنی کی کسی اچھی پوسٹ پر رکھ لیں وہ کوٸ معمولی سی ملازمت کر رہے تھے جب کہ ان کی تعلیم اس سے کہیں زیادہ تھی ۔۔۔ بابا کا نام فاٸق رضا تھا ۔۔۔
دروازے پر ہلکی سی دستک ہوٸ تھی ۔۔۔ جس پر نعمان نے اندر آنے کی اجازت دی تھی ۔۔ ایک پچپن سال کے لگ بھگ شخص داخل ہوا تھا ۔۔ سر کے اور داڑھی کے بیشتر بال سفید تھے کمزور سابدن زندگی کی سختیوں کی خبر دے رہا تھا ۔۔۔ وہ کمرے میں داخل ہوتے ہی ٹھٹک کر رک گۓ تھے ۔۔۔ اور حیرت سے نعمان کے چہرے کو دیکھ کر زیر لب کوٸ نام دھرا رہے تھے ۔۔۔
”اسلام علیکم۔۔۔“ بہت ہی نرم اور بااثر آواز میں وہ حیرت سے کھلی آنکھوں کے ساتھ آگے آۓ تھے
”وعلیکم اسلام ۔۔۔۔ بیٹھیں ۔۔۔“ نعمان نے خوشگوار مسکراہٹ کے ساتھ سامنے پڑی کرسی کی طرف اشارہ کیا تھا ۔۔۔
”نعمان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ فاٸق رضا نے انگلی کا اشارہ نعمان کی طرف کیا اور کھوٸ سی آواز میں کہا
”جی میں ہی ہوں آپ کی حسنیٰ کا نعمان “ نعمان نے دلکش مسکراہٹ چہرے پر سجاٸ
حسنیٰ نے فاٸق رضا کے بارے میں نعمان سے یہ کہا تھا کہ وہ حازق سے انکار کے بعد اتنی دل برداشتہ ہو گٸ تھی کہ زندگی کو ختم کرنے جا رہی تھی بابا نے اس کی جان بچاٸ تھی ۔۔۔
”حسن۔۔۔۔۔۔۔“۔۔۔۔ فاٸق نے نعمان کی آواز سن کر پھر سے وہی نام دہرایا تھا۔۔۔
”جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔“۔۔۔ نعمان نے کچھ نا سمجھی کے انداز میں تھوڑا سا آگے ہوتے ہوۓ کہا
”کچھ نہیں “ فاٸق رضا نے سر کو جھٹکتے ہوۓ بات کو بدلہ تھا ۔۔۔
” بابا ۔۔۔۔ یہ آپ کی جاب کا آپاٸنٹمنٹ لیٹر ہے آپ کل سے ہی آ جاٸیں “ نعمان نے نٹنگ ڈپارٹمنٹ کی ایک مناسب پوسٹ پر ان کو ملازمت دی تھی ۔۔۔
وہ لیٹر پکڑ کر بھی خاموش بیٹھے تھے ۔۔
”بابا ۔۔۔۔ کوٸ پریشانی“ نعمان نے ان کے چہرے کوبغور دیکھتے ہوۓ کہا ۔۔۔
”نہ۔۔۔۔نہیں بیٹا “ وہ مسکراۓ تھے لیکن چہرے پر ابھی بھی الجھن تھی ۔۔۔
”تو کیا آپ خوش نہیں ہیں اس سب سے “ نعمان نے پھر سے استفسار کیا ۔۔۔
”میں بہت خوش ہوں بیٹا بہت خوش ہوں “ وہ خوشدلی سے مسکراۓ تھے ۔۔۔
کوٸ کسی سے اتنا کیسے مل سکتا ہے ۔۔۔آواز نقش ۔۔۔ سب کچھ ۔۔۔۔ نعمان ان کو کچھ رولز سمجھا رہا تھا اور وہ اپنے ذہن کی سوچوں کے زیر اثر پریشان سے بیٹھے تھے۔۔۔
***************
”کیسی ہو “نعمان نے کمرے میں داخل ہو کر مسکراتے ہوۓ کہا ۔۔
وہ ابھی آفس سے واپس آیا تھا رات کے آٹھ بج رہے تھے ۔۔۔ اور اب نرس کے جانے کا وقت تھا ۔۔۔ صبح آٹھ بجے سے لے کر رات آٹھ بجے تک نرس حسنیٰ کی دیکھ بھال کرتی تھی۔ نرس کا اگلے ہی دن نعمان نے انتظام کر دیا تھا ۔۔۔ وہ سارا دن حسنیٰ کی دیکھ بھال کرتی تھی اور پھر نعمان کے گھر آنے کے بعد چلی جاتی تھی ۔۔۔نعمان کو کمرے میں دیکھتے ہی ثمرین اپنا بیگ پیک کرنا شروع ہو چکی تھی ۔۔
”ہممم ٹھیک ہوں “ حسنیٰ نے ہلکی سی مسکراہٹ چہرے پر سجاٸ ۔۔۔
”گڈ۔۔۔۔۔۔ “ نعمان نے دلکش مسکراہٹ لا کر آنکھوں کو جھپکا ۔۔
”سر میں جاٶں اب“ ثمرین کندھے پر بیگ ڈالے پاس آٸ ۔۔
نعمان جو حسنیٰ کو دیکھنے میں مصروف تھا وہ نیلے رنگ کے جوڑے میں نکھری نکھری سی بیٹھی تھی ۔۔ ثمرین نے آج اس کو شاور دیا تھا اور سلیقے سے بال بناۓ وہ آج باقی دنوں سے بہت مختلف اور حسین لگ رہی تھی ۔۔۔حسنیٰ نظریں جھکا گٸ تھی ۔۔۔ چونک کر ثمرین کے بلانے پر اس کی طرف متوجہ ہوا ۔۔۔
”اوہ ثمرین ۔۔۔ جی آپ جاٸیں کل صبح ٹاٸم پر آ جاۓ گا“ نعمان نے خجل سا ہو کر ماتھے پر انگلیاں چلاٸیں
” جی ۔۔۔۔ سر “ وہ کہتے ہوۓ باہر نکلی ۔۔۔
نعمان اس کے پیچھے ہی مین ڈور بند کرنے کے لیے کمرے سے باہر نکل گیا اور پھر کچھ دیر بعد واپس لوٹا ۔۔۔
” تو جناب بتاٸیں کیسا رہا دن ۔۔۔ خیال ٹھیک رکھا نہ اس نے کوٸ تنگی تو نہیں ہوٸ “ وہ بہت خوشگوار موڈ میں حسنیٰ سے پوچھ رہا تھا ۔۔۔
مقصد اس کی پرسوں رات والی شرمندگی دور کرنا بھی تھا جو ہنوز ابھی تک قاٸم تھی ۔۔۔
” نہیں تو سب ٹھیک تھا “ حسنیٰ نے لب آپس میں ملاتے ہوۓ کہا ۔۔۔
”بہت اچھی بات “۔۔۔ نعمان نے مسکرا کر کہا اور کمرے سے ملحقہ ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔
واپس آ کر وہ اسے فاٸق کا بتاتے بتاتے سو گیا تھا ۔۔۔
24
ہلکی ہلکی سسکیوں کی آواز پر نعمان نے کسمسا کر آنکھیں کھولی تھیں وہ حسنیٰ کے باٸیں طرف بیڈ پر سو رہا تھا جب رات کو رونے کی آواز پر اس کی آنکھیں کھلی تھیں ۔۔۔
”حسنیٰ۔۔۔۔ کیا ہوا“ نعمان نے پریشان سا ہو کر کہا ۔۔۔
وہ فوراً اٹھ کر بیٹھا تھا اور ساٸیڈ لیمپ آن کیا تھا ۔۔۔ کمرہ فوراً روشن ہوا تھا۔۔۔حسنیٰ کے گال آنسوٶں سے تر تھے وہ بری طرح رو رہی تھی اور بیڈ پر اٹھ کر بیٹھی ہوٸ تھی ۔۔۔ اٹھنے میں شاٸد اسے کوٸ تکلیف ہوٸ تھی
” رو کیوں رہی ہو“۔۔ نعمان پریشان سا ہو کر قریب ہوا۔۔۔
وہ کوٸ جواب نہیں دے رہی تھی نعمان بار بار پوچھ رہا تھا۔۔ اور پھر اچانک اس کی نظروں کا تعاقب کرنے پر جیسے ذہن میں آیا ۔۔۔
”اوہ۔۔۔۔ تمہیں باتھ روم جانا ہے “
” تو میں ہوں نہ“ نعمان نے نرمی سے کہا ۔۔۔
”نہیں ۔۔۔۔۔ “ وہ پھر سے رو دی ۔۔۔ اور بایاں ہاتھ چہرے پر رکھ دیا ۔۔
”پاگل ہو کیا ۔۔۔۔ نکاح میں ہو ۔۔۔ عبداللہ کہتا ہے جب دو لوگ نکاح میں ہوں وہ ایک دوسرے کے لباس کی طرح ہوتے ہیں ۔۔ ایک دوسرے کے دکھ درد کے ساتھ “ نعمان نے نرمی سے اس کے کان کے قریب سرگوشی کی ۔۔
حسنیٰ بے بسی سے لب کچل رہی تھی ۔۔۔
” میں جو بھی کروں گا تم پر احسان نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ یہ میرا فرض ہے “ اس کو ہاتھ سے پکڑ کر اٹھایا ۔۔۔
” چلو۔۔۔۔۔۔۔۔ “ واش روم کے دروازے کے سامنے کھڑے وہ بری طرح خجل تھی ۔۔۔
دونوں کے اندر جانے کے بعد دروازہ دھیرے سے بند ہوا تھا ۔۔۔ واش روم سے واپسی پر بھی وہ ویسے ہی رو رہی تھی ۔۔۔
” لیٹو یہاں۔۔۔۔۔“ بیڈ پر لیٹا کر نعمان نے اس کے سر کے نیچے تکیے کو درست کیا ۔۔۔
” حسنیٰ ۔۔۔۔۔۔۔ رو کیوں رہی ہو مجھے بھی کیوں یہ محسوس کروانے پر تلی ہو کہ یہ سب غلط ہے “ نعمان نے بے چارگی سے کمر پر ہاتھ رکھ کر کہا
” میں کتنی بے بس ہوں ۔۔۔۔۔“ گھٹی سی آنسوٶں سے بھاری ہوتی آواز میں کہا
” بے بس وہ ہوتے ہیں جن کا کوٸ اپنا نہیں ہوتا ۔۔۔۔ تم نہیں ہو میں ہوں نہ۔۔۔۔۔ تمھارا ۔۔۔۔ “ اس کے اوپر کمبل درست کیا ۔۔۔
”تم جلدی سے ٹھیک ہو جاٶ پھر تم سارے احسان اتار دینا میری خدمت کر کے “ نعمان نے شرارت سے نچلے لب کو دانتوں میں دبایا۔۔۔
حسنیٰ نے چونک کر نظر اٹھاٸ ۔۔۔ اور پھر اس کی نظروں میں موجود شوخی کی تاب نہ لاتے ہوۓ فوراً جھکا دی ۔۔۔
”کھانے بنانا ۔۔۔۔ کپڑے پریس کرنا ۔۔۔۔ اور زیادہ ہی اگر گلٹی فیل ہو رہا ہے تو روز رات کو ٹانگیں دبا دیا کرنا منع نہیں کروں گا“ نعمان نے ہلکا سا قہقہ لگایا
وہ بے ساختہ ہی مسکرا دی تھی ۔۔۔ مرجھاۓ سے چہرے پر اتنے دن بعد مسکراہٹ ابھری ۔۔۔
”شکر ہے اتنے دنوں میں تم ہنسی تو ۔۔۔۔“ نعمان نے گہری سانس لی ۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: