Husna Novel by Huma Waqas – Episode 13

0
حسنیٰ از ہما وقاص – قسط نمبر 13

–**–**–

”کیسے ہیں آپ“۔۔۔۔ شہروزی نے مسکرا کر شفقت سے سامنے بیٹھے نعمان کی طرف دیکھا
نعمان ۔۔۔ شہروزی کے آفس میں ان کے سامنے بیٹھا تھا ۔۔۔ اور وہ لفظوں کو ترتیب دے رہی تھیں ۔۔۔ وہ نعمان کو ہیر سے انٹروڈیوز کروانے کے لیے اسے اپنے گھر ڈنر پر انواٸٹ کرنا چاہتی تھیں۔۔۔
”میم بس آپکی دعا ۔۔۔۔ اللہ پاک کا بہت کرم ہے “ بڑے مہدب انداز میں ٹاٸ کی ناٹ درست کرتے ہوۓ بولا ۔۔۔
سامنے بیٹھی عورت اس کی زندگی میں بلکل ایسے تھی جیسے سنڈریلا کی زندگی میں آنے والی پری ۔۔۔ وہ بہت حقیقت پسند تھا اور کہیں نہ کہیں دل میں یہ بات بھی تھی کہ حسنیٰ کا یہ بدلہ رویہ اس کا یوں اب دولت مند ہو جانا تھا ۔۔۔ جب وہ اسے چھوڑ کر گٸ تھی اس کے پاس کچھ بھی تو نہیں تھا ۔۔۔ اور کون لڑکی آجکل کسی ایسے مرد کے ساتھ رہتی جس سے نہ تو اسے محبت ہو اور نہ ہی اس کےپاس دولت ہو ۔۔۔۔ اس کے پاس کار تھی ایک لیگژری اپارٸٹمنٹ تھا ۔۔ اور اس سب خوش قسمتی کے پیچھے اللہ کے بعد صرف ایک ہی انسان کا ہاتھ تھا اور وہ مسز واصف تھیں ۔۔۔
” نعمان۔۔۔ ہفتے کی رات ڈنر پر انواٸیٹ کر رہی ہوں آپکو میں میرٕ ے گھر“ مسز واصف نے ٹیبل پر گلاسز اتارکر رکھتے ہوۓ کہا
چہرے پر بلا کی نرمی تھی ۔۔۔ اور وہی والہانہ محبت کا انداز جو نعمان کو ایک عجیب سا سکون دیتا تھا۔۔۔
نعمان حیران ہوا تھا۔۔۔
” میری خوش قسمتی میم۔۔۔۔“ دلکش مسکراہٹ لبوں کا حصار کیے ہوۓ تھی
”تو آپ آ رہے ہیں اس کا مطلب “ شہروزی کی خوشی اس کے چہرے پر واضح تھی۔۔
اپنے خیالوں میں وہ ہیر کے ساتھ نعمان کو دیکھ رہی تھیں ۔۔ ہیر ہی وہ ایک ذریعہ تھا جس سے وہ چھپا کر نعمان کو وہ سب دینا چاہتی تھیں جو ان کی اولاد کا حق تھا ۔۔۔ نعمان اب انھیں کچھ فاٸلز کھول کھول کر کچھ بتا رہا تھا ۔۔۔ پر وہ تو اپنے خیالوں میں کھوٸ ہوٸ تھیں ۔۔۔
” میم ۔۔۔ زاہد جبار کی آج پھر میل آٸ تھیں ۔۔۔ کیا کرنا پھر ان کی آفر کا ۔۔۔“ نعمان نے فاٸل سے نظر اٹھا کر دیکھا
”ہاں۔۔۔۔ ہاں ۔۔۔ آپ دیکھ لیں ۔۔۔ آپکو کیا لگتا “ شہروزی۔۔۔ چونک کر خیالوں سے باہر آٸ تھیں ۔۔۔
” میم آفر اچھی ہے ۔۔۔ “ نعمان نے لبوں کو بھینچ کر پرسوچ انداز میں کہا
اور پھر مختلف فاٸلز شہروزی کے آگے کی تھیں ۔۔۔
**********
” ثمرین۔۔۔۔ثمرین۔۔۔۔۔۔۔“ حسنیٰ نے کمرے کے درازے کی طرف دیکھتے ہوۓ اونچی آواز میں کہا تھا۔۔
تقریباً نو بجے کے قریب اس کی آنکھ کھلی تھی ۔۔۔ لیکن آج ثمرین کمرے میں موجود نہیں تھی ۔۔۔ وہ اب اس قابل ہو چکی تھی کہ سٹک کے سہارے خود واش روم جانے لگی تھی ۔۔۔ اور اب فریش ہونے کے بعد وہ ثمرین کو کمرے میں نہ پا کر اسے پکار رہی تھی کیونکہ اس وقت تک وہ اس کا ناشتہ ریڈی کروا دیتی تھی ۔۔۔ اور لے کر کمرے میں آ جاتی تھی ۔۔۔ دھیرے سے دروازہ کھلا تھا ۔۔۔ اور نعمان ناشتے کی ٹرالی کے ساتھ مسکراتا ہوا اندر داخل ہوا۔۔۔
حسنیٰ نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا تھا وہ تو اس وقت تک آفس جا چکا ہوتا تھا اور وہ باقی سارا دن اس کے ساتھ گزارے ہوۓ رات کے چند لمحوں کو یاد کر کر کے گزار دیتی تھی ۔۔۔ اب اسے اور اس کی باتیں کو یاد کرنا دل کو اچھا لگنے لگا تھا۔۔۔ فضا ٹھیک ہی تو کہتی تھی جب تمہیں محبت ہو گی پتہ لگ جاۓ گا ۔۔۔ اور وہ سہی کہتی تھی یہ سارے احساس جو نعمان کو لے کر کے دل میں اٹھ رہے تھے یہ سب انوکھے تھے نۓ تھے ۔۔۔ جو وہ حازق سے کرتی تھی وہ محبت تو نہیں تھی ۔۔۔ وہ تو زبردستی کی خودشناسہ لگن تھی ۔۔۔
”مسز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ثمرین تو آج چھٹی پر ہے ۔۔۔“ وہ اب ٹرالی اس کے بلکل سامنے کر چکا تھا۔۔۔۔
حسنیٰ خوشگوار حیرت میں مبتلا اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔ وہ ہر روز اسے اپنے ایک نۓ ہی روپ کے ساتھ روشناس کروا رہا تھا۔۔۔ اور اس کے یہ سارے روپ تیروں کی طرح ایک ایک کر کے اس کی روح میں پیوست ہو رہے تھے
” تو یہ ۔۔جو آپ کے ایک عدد شوہر ہیں ۔۔۔ انھوں نے سوچا آپکی دیکھ بھال آج خود کریں گے“ نعمان نے شرارتی سی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر کہا
”یہ رہا میرے ہاتھ سے بنا ناشتہ“ نعمان نے ٹوسٹ ۔۔جیم ۔۔۔ اور چیز املیٹ کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔
حسنیٰ نے نظریں جھکا کر کھانا شروع کیا ۔۔۔
” ہممم کیسا ہے ۔۔۔“ نعمان نے بھنوٶں کو اوپر نیچے جنبش دے کر فخر سے پوچھا ۔۔۔
” میں ایسا ۔۔۔بلکل نہیں بنا سکتی “ حسنیٰ نے حیرت سے مسکراتے ہوۓ کہا ۔۔۔
نعمان نے بے ساختہ قہقہ لگایا تھا۔۔۔
”مطلب ۔۔۔ مجھے کچن کا کام اتنا نہیں آتا ۔۔۔ پہلے بہنیں تھیں بڑی ۔۔۔ پھر بھابیاں آ گٸیں ۔۔۔“ حسنیٰ نے شرمندہ سے انداز میں کہا۔۔۔
” اور اب شوہر اتنا شریف النفس مل گیا “ نعمان نے شرارت سے سینے پر ہاتھ رکھ کر جھکتے ہوۓ کہا
اور وہ نعمان کو اس انداز پر گلابی سی ہوتی نظریں جھکا گٸ تھی ۔۔۔ وہ آج بھی کتنی خود غرض سی ہو گٸ تھی ۔۔ ذہن کتنی دفعہ جھنجوڑ جھنجوڑ کر اسے کہتا تھا کہ اسے نعمان کو سب سچ بتا دینا چاہیے لیکن دل تھا کہ اس کی محبت کا طلبگار ہو کر خود غرضی پر اتر جاتا تھا۔۔۔
” آج میں نے یہ سوچا ہے کہ ۔۔۔۔ ہم کہیں باہر چلیں گے ۔۔۔ ایک ہفتہ ہو گیا ہے تم گھر میں بند ہو ۔۔“ نعمان نے آملیٹ کو فورک کے ساتھ منہ میں رکھتے ہوۓ کہا۔۔
” باہر ۔۔۔۔۔ “ حسنیٰ نے چاۓ کا سپ لے کر کہا۔۔۔
” ہاں ۔۔۔ ڈنر کے لیے چلیں گے وہاں میں تمہیں اپنی زندگی کے ایک اور بہت اہم رکن کے بارے میں بتاٶں گا“ نعمان نے دلکش مسکراہٹ چہرے پر سجاٸ ۔۔
حسنیٰ نے گہری سانس لی تھی ۔۔۔ زخمی تڑپتے دل کو جیسے سکون اب ہی ملا تھا۔۔۔ لیکن کیسے سامنے بیٹھے اس شخص کو بتا دے کہ وہ اس کے سحر کا شکار ہو چکی ہے ۔۔۔
ہم نے علاجِ زخمِ دل تو ڈھونڈ لیا لیکن
گہرے زخموں کو بھرنے میں وقت تو لگتاہے
پیار کا پہلا خط لکھنے میں وقت تو لگتا ہے ۔۔۔
***************
کوٸ کیسے کسی سے اتنا مل سکتا تھا۔۔۔ وہ حیرت میں مبتلا تھا ۔۔۔ سامنے کتنی تصاویر کھلی ہوٸ تھیں ۔۔۔ وہ سامنے کھڑا تھا ۔۔۔۔۔ ہو باہو بلکل نعمان جیسا ۔۔۔
ایک اور تصویر سامنے آ گٸ تھی ۔۔۔ جس میں حسن شہروزی کے ساتھ کھڑا تھا۔۔۔
وہ لمحہ آنکھوں کے سامنے گزر گیا تھا۔۔۔ حسن کی اور شہروزی کی پہلی ملاقات تھی۔۔۔
”وہ سامنے ۔۔۔۔ کھڑا جو لڑکا ۔۔۔۔ اسے کہنا جا کر “ کرن نے آنکھوں میں شرارت بھر کر کہا ۔۔۔
” ارے ۔۔۔ارے ۔۔۔ دماغ ٹھیک ہے کیا تمھارا اتنا بد دماغ سا لڑکا ہے وہ “ شہروزی نے آنکھیں سکیڑ کر کہا ۔۔
شہروزی کی ساری دوستیں اس کی طرح ہی امیر کبیر تھیں ۔۔۔ اور آۓ دن کا میڈیکل کالج میں یہ ہی کھیل تماشا ہوتا تھا۔.۔۔۔1991 مٸ کی چار تاریخ تھی ۔۔۔ اور اس دفعہ شرط پوری کرنے والی گیم میں شہروزی پھنسی تھی ۔۔ وہ ایک نامی گرامی سیاست دان ملک انور کی بیٹی تھی ۔۔۔ اسے اب شرط کے مطابق سامنے کھڑے اس لڑکے کو آٸ لو یو بولنا تھا ۔۔
حسن عادل ۔۔۔۔ پوری یونیورسٹی میں بد دماغ اور بلا کا ذہین کا لڑکا تھا وہ ۔۔۔ صرف چند دوستوں کے علاوہ کسی سے زیادہ بات نہیں کرتا تھا ۔۔۔
”اسی میں تو مزہ میری جان ۔۔۔جا نہ اب ۔۔۔ “ کرن نے شہروزی کو ہلکا سا دھکا لگایا تھا ۔۔۔
اور پھر سب کا قہقہ گونج گیا تھا ۔۔۔
” شہروزی ملک ۔۔۔ ایسے سوچنے والوں میں سے تو ہر گز نہیں تھی “ نوشین نے آنکھوں میں شرارت بھر کر کہا
” اچھا ۔۔۔ جوش دلا رہی ہو ۔۔۔۔ تو دیکھو پھر ۔۔۔“ شہروزی نے بالوں کو جھٹکا دیا ۔۔۔
وہ بہت اعتماد سے چلتی ہوٸ ان تین لڑکوں کے پاس آ رہی تھی ۔۔۔ جن میں سب سے لمبے قد والا اور بارعب چہرے والا وہی تھا حسن عادل ۔۔۔۔۔۔۔
” سنیں ۔۔۔ “ بڑے انداز میں وہ پاس آ کر کھڑی ہوٸ تھی ۔۔۔
فاٸق رضا نے انگلی کا اشارہ اپنی طرف کر کے سوالیہ انداز میں دیکھا تھا ۔۔۔
” آپ سے نہیں ان ۔۔۔سے ۔۔۔ان سے بات کرنی مجھے “ شہروزی نے حسن کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔
حسن نے صرف بھنویں اچکا کر حیرت سے سامنے کھڑی اس ناک چڑھی حسینہ کو دیکھا تھا ۔۔۔
” مجھے۔۔۔ مجھے آپ سے محبت ہے ۔۔۔“ شہروزی نے عجلت میں کہا ۔۔۔
حسن کے ساتھ کھڑے دونوں لڑکوں کے منہ کھل گۓ تھے ۔۔۔ جبکہ حسن کچھ دیر یوں ہی کھڑا کن اکھیوں سے شہروزی کی طرف دیکھتا رہا پھر ہاتھ میں پکڑی کتاب فاٸق کی طرف بڑھاتا ہوا آگے بڑھا تھا ۔۔۔
” ہممم اچھا ۔۔۔ تو چلو پھر میرے ساتھ “ حسن نے ایک جست میں شہروزی کی کلاٸ کو تھاما تھا ۔۔۔
ارد گرد کھڑے سب لوگوں کے منہ کھل گۓ تھے ۔۔۔ حسن اس کی کلاٸ تھامے تیزی سے چل رہا تھا ۔۔۔
” ارے ۔۔۔ارے ۔۔۔۔ رکو کہاں لے جا رہے ہو “ شہروزی اپنی کلاٸ اس کے مضبوط ہاتھ سے چھڑوانے کی ناکام کوشش میں لگی تھی ۔۔۔
” خودی تو بولا تم نے تمہیں پیار ہے مجھ سے ۔۔۔تو مجھے بھی ہو گیا چلو پھر ۔۔۔“ حسن نے سپاٹ چہرے کے ساتھ رک کر کہا اور پھر اس کو لے کر چل دیا
” ارے۔۔۔۔ رکو ۔۔۔ میں ۔۔۔ تو میری فرینڈز کے ساتھ ۔۔۔ وہ شرط“ شہروزی نے گڑ بڑا کر کہا ۔۔۔
” اوہ۔۔۔۔ تو اب میں اس دل کیا کروں ۔۔۔ جو لو ان فرسٹ ساٸٹ کر بیٹھا“ حسن نے اس کی کلاٸ کو ایک جھٹکا دیا تھا
” کیا۔۔۔ “
وہ لڑ کھڑا کر رہ گٸ تھی۔۔۔
” ہاں ۔۔۔۔“ حسن نے لب بھینچے ۔۔۔
” دیکھیں ۔۔۔۔ چھوڑیں آپ حد سے بڑھ رہے ہیں ۔۔۔ “ شہروزی بری طرح الجھ رہی تھی۔۔۔
” آٸیں ۔۔۔ حد سے تو نہیں بڑھا ابھی ۔۔۔“ حسن نے مصنوعی حیرت دکھاٸ
” اے ۔۔۔۔ مسٹر ۔۔۔ چھوڑو اس کو مزاق تھا یہ سب “ کرن نے زور سے حسن کے کندھے کا جھٹکا تھا
” تو میڈیم مزاق کیا آپ امیر لڑکیوں کو ہم جیسے لڑکوں کے ساتھ ہی کرنا ہوتا“ حسن نے دانت پیس کر کہا ۔۔۔
وہ سکالر شپ پر اس کالج میں آیا تھا ۔۔۔ اور ایک بہت ہی لو متوسط طبقے کا محنتی لڑکا تھا ۔۔۔ اسے امیر لوگوں سے بے حد نفرت تھی ۔۔۔
” اچھا ۔۔۔ نہ ہو گیا تو ہو گیا نہ۔۔۔ لیو دس ٹاپک پلیز۔۔۔“ کرن نے شہروزی کے بازو کو چھڑوانے کی کوشش کی
” ہاتھ چھوڑو اس کا ۔۔۔“ کرن اور جوش سے بولی تھی
” آٸ اپنی مرضی سے تھی جاۓ گی میری مرضی سے “ حسن نے تمسخر بھری مسکراہٹ چہرے پر سجاٸ
” دماغ درست ہے کیا ۔۔۔“ شہروزی نے غصے سے کہا
” نہیں ۔۔۔ وہ تو سدا سے کسھکا ہوا ہے “ حسن نے قہقہ لگایا ۔۔۔
” یہ ایسے نہیں مانے گا ۔۔۔۔ اریبہ چلو پرنسپل آفس چلتے ہیں ۔۔۔“ کرن نے پاس کھڑی لڑکی کو ناک پھلا کر کہا
” رکو ۔۔۔۔ لے جاٶ اپنی دوست “ حسن نے بڑے اندز میں شہروزی کا بازو چھوڑا تھا
” اور سنو ۔۔۔نیکسٹ ٹاٸم اگر ایسا کوٸ گیم کھیلو تو یہ خیال رکھنا آگے جو کھڑا وہ بھی دل رکھتا “ شہروزی کے کان لے قریب ہو کر سر گوشی کی اور تیزی سے وہاں سے نکل گیا تھا

 

” کرسٹن ۔۔۔ میری مام ۔۔۔ “ نعمان نے موباٸل حسنیٰ کے آگے کرتے ہوۓ کہا ۔۔۔
وہ ایک بہت ہی خوبصورت فاٸیو سٹار ہوٹل میں بیٹھے ہوۓ تھے ۔۔۔ حسنیٰ سہارے کے لیے سٹک ساتھ لیے ہوۓ تھی ۔۔۔ وہ سیاہ رنگ کے شیفون کے جوڑے میں دودھیا رنگت لیے بالوں کا بے ترتیب جوڑا بناۓ معمول سے بہت ہٹ کر لگ رہی تھی ۔۔۔
” مام۔۔۔۔۔۔“ حسنیٰ نے حیرت سے آنکھیں پھیلا کر دیکھا۔۔۔
وہ ایک گہری سانولی رنگت والی عورت تھی جس کے چہرے پر محبت بھری مسکراہٹ تھی اور اس کی آنکھیں معصوم تھیں ۔۔۔
” ہاں ۔۔۔ اتنی حیران کیوں ہو رہی۔۔۔“ نعمان نے مسکرا کر موباٸل پیچھے کیا ۔۔
اور کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوۓ خود تصویر کو دیکھا۔۔۔
” اس لیے کہ تم اب مسلم ہو تو “ ۔۔۔حسنیٰ نے بالوں کی ایک شریر سی لٹ جو بار بار اٹھکیلاں کرتی ہوٸ اس کی گردن اور گال کو چوم رہی تھی اپنی انگلیوں کی پورروں سے کان کے پیچھے کیا۔۔۔
” اوہ ۔۔۔۔اچھا“۔۔۔۔۔ نعمان نے گہری مسکراہٹ چہرے پر سجاٸ ۔۔۔
” مام کہتی ہیں اٹس ماٸ راٸٹ ٹو چوز ماٸ ریلیجن ”۔۔۔۔ لبوں کو بھینچا ۔۔۔
یہ ہوٹل کی چھت تھی ۔۔۔۔۔ جہاں خنکی بڑھتی جا رہی تھی ۔۔۔ ویٹر اب ان کے سامنے سلیقے سے کھانا لگا رہا تھا۔۔۔ حسنیٰ نے چور نظر سے اپنے سامنے بیٹھے اچانک یوں مل جانے والے ہیرو کی طرف دیکھا۔۔۔ وہ کتنا مکلمل شخص تھا اب ۔۔۔ پہلی ملاقات میں وہ منظر یاد آ گیا تھا جب چار لڑکے اس سے ڈر کر بھاگ گۓ تھے ۔۔۔
وہ کھانا کھا رہا تھا ۔۔۔ اور بار بار حسنیٰ کی پلیٹ میں مختلف ڈشز زبردستی ڈال رہا تھا۔۔۔ ۔۔ آہ۔۔۔۔ اور پھر جب حسن اور عامر نے اسے اتنا مارا بے قصور ہوتے ہوۓ بھی اس نے افف تک نہ کی تھی ۔۔۔ حسنیٰ نے پھر سے نظر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔ فٹ سی سرخ اور سیاہ رنگ کی ٹو پاکٹس چیک شرٹ کے نیچے جینز پہنے وہ دنیا جہان کی معصومیت چہرے پر سجاۓ کھانا کھانے میں مصروف تھا ۔۔۔ وہ سوتے ہوۓ اور کھانا کھاتے ہوۓ اور اس کا خیال کرتے ہوۓ اپنا سارا رعب بالاۓ طاق رکھ دیتا تھا۔۔۔
وہ اب کھانے کا بل ادا کر رہا تھا۔۔۔ اور ویٹر کو کسی بات پر چھیڑ کر کھلکھلا کر ہنسا تھا۔۔۔ حسنیٰ کے دل کے تار بج اٹھے تھے ۔۔۔ ہاں یہی تھا وہ جس کے وہ خواب دیکھا کرتی تھی
اسکا فاٸٹر۔۔۔۔ اسکا محافظ ۔۔۔ خوش شکل۔۔۔ دنیا کے آگے سخت گیر ۔۔۔ اور اس کی محبت میں بچھ بچھ جانے والا ۔۔۔
وہ حسنیٰ کو سہارا دے کر کھڑا کر رہا تھا۔۔۔ اور وہ گہرے گہرے سانس لیتی ہوٸ اس کی سگریٹ اور پرفیوم کی ملی جلی خوشبو کو اپنے اندر سمو رہی تھی ۔۔۔
آہ۔۔۔۔ جناب محبت ہو رہی تھی ۔۔۔ ایک انوکھا سا احساس جاگ رہا تھا۔۔۔ میٹھا میٹھا سا کرنٹ تھا جو پورے وجود کو لپیٹ میں لے لیتا تھا اس وقت جب وہ گہری محبت سے بھر پور نظر اس پر ڈالتا تھا۔۔۔
پہلی محبت ۔۔۔ ہمیشہ غلط انسان سے سہی وقت پر اور دوسری ہمیشہ غلط وقت پر سہی انسان سے ہوجاتی ہے ۔۔۔ گلے میں کانٹے سے چبھے تھے ۔۔ کیا اس جیسے شفاف انسان کے وہ قابل تھی ۔۔۔ دل اب دھڑکنا بند ہو گیا تھا اور اس پر بوجھ آ گیا تھا۔۔۔ میں کتنی خود غرض ہوں وہ مجھے کیا سمجھ رہا ہے اور میں کیا ہوں ۔۔۔ ایک۔۔۔۔۔ ایک۔۔۔۔ گھن زدہ وجود لیے ایسی لڑکی جس کو اس کے لالچ نے ڈس کر نیل و نیل کر دیا۔۔۔
اس کی طرف کے کار کے دروازہ کو کھول کر وہ اسے احتیاط سے بیٹھا رہا تھا۔۔۔ اور اس کا چہرہ اب شرمندگی اور دکھ سے زرد پڑ گیا تھا۔۔۔ تھوڑی دیر پہلے والی دلکش سی مسکراہٹ اب چہرے پر سے غاٸب تھی ۔۔۔ میٹھے سے کرنٹ کی جگہ اب عجیب سی چبھن ہو رہی تھی ۔۔۔ اور جبار کے منہ سے اٹھنے والی گھن زدہ بدبو کے بھبھکے پھر سے اپنے وجود سے اٹھتے ہوۓ محسوس ہو رہے تھے ۔۔۔
” آسکریم ۔۔۔ “ نعمان نے کار ڈراٸیور کرتے ہوۓ مسکرا کر حسنیٰ کی طرف سوالیہ انداز میں دیکھا۔۔۔۔
” ہمممم۔۔۔ “ اس نے دھیرے سے گردن ہاں میں ہلاٸ تھی وہ بمشکل آنسو روکے ہوۓ تھی ۔۔۔
” فلیور ۔۔۔۔۔ “ نعمان نے پھر سے پرسکون انداز میں پوچھا۔۔۔
” چاکلیٹ ۔۔۔۔ “ گھٹی سی آواز تھی ۔۔۔ گلے میں آنسوٶں کا گولا پھنسا ہوا تھا۔۔۔۔
” سیم ۔۔۔۔ ابھی آیا بس۔۔۔۔ “ ہلکا سا قہقہ لگایا تھا نعمان نے اور پھر کار میں سے نکل کر وہ سامنے آسکریم پارلر میں گھس گیا تھا۔۔۔
” سن ۔۔۔۔ “ کسی نے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔
وہ جو آسکریم کا آرڈر دے چکا تھا ۔۔۔ پلٹ کر دیکھا ۔۔۔ سامنے منب کھڑا تھا۔۔۔ لب بھینچے ۔۔۔سپاٹ چہرہ لیے ۔۔۔
”منب۔۔۔۔۔ تو یہاں “ ۔۔۔ نعمان کا چہرہ کِھل گیا تھا۔۔۔
باہیں پھلا کر وہ جلدی سے منب سے بغل گیر ہونے کو آگے بڑھا تھا۔۔۔
” ابے ۔۔۔۔ اوۓ ۔۔۔ “ منب نے ہاتھ نعمان کے سینے پر رکھ کر حقارت سے روکا ۔۔۔
اس کی آنکھوں میں بس ایک چیز واضح تھی نفرت۔۔۔۔ صرف نفرت ۔۔۔ بے پناہ محبت سے پلٹا کھانے والی نفرت ۔۔۔
” کیا ہوا ہے تجھے ایسے کیوں کر رہا“ نعمان نے ناسمجھی کے انداز میں کہا۔۔۔
اسکو لگتا تھا منب کا وقتی غصہ تھا اس کے مسلمان ہونے پر اب تک اتر گیا ہو گا ۔۔۔ لیکن آج ایک سال ہونے کو تھا پر وہ ہنوز ویسی ہی نفرت چہرے پر سجاۓ کھڑا تھا۔۔۔
” ہوا ۔۔۔۔۔۔مجھے نہیں تجھے ہے کچھ ۔۔۔ کب تک یہ مزہب تبدیل کا ڈھونگ رچاۓ گا “ طنزیہ مسکراہٹ چہرے پر سجا کر کہا۔۔۔
” یہ ڈھونگ نہیں ہے میں دل سے“ نعمان نے اس کے گال پر محبت سے ہاتھ رکھا تھا۔۔۔
اسلام ایسی محبت کی تو تلقین کرتا تھا۔۔۔ منب جتنی بھی نفرت دیکھارہا تھا اسے بدلے میں بس محبت ہی دکھانی تھی ۔۔۔
” ابے چل ۔۔۔۔ آج اگر اس کو تیری سچاٸ پتا چلے نہ تو یوں ۔۔۔ منب نے نچلے لب پر دانت رکھ کر چٹکی بجاٸ ۔۔۔
یوں چھوڑ کر جاۓ گی “ وہ نعمان کے سامنے چٹکی بجا رہا تھا۔۔
” یہ جو مسلے ہیں نہ ناجاٸز۔۔۔۔ “ منب نے آنکھیں سکیڑ کر دانت پیستے ہوۓ بات شروع کی تھی ۔۔۔
نعمان کی رگیں تن گٸ تھیں ۔۔۔ ایک جست میں وہ منب کا گریبان دبوچے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑا تھا۔۔۔
” چپ۔۔۔۔۔ “ غرانے کے انداز میں دانت پیس کرا کہا۔۔۔
” چپ ۔۔۔۔ سمجھا“ آواز کو تھوڑا اور اونچا کیا۔۔۔
” کیوں چپ ۔۔۔۔ پورا کراچی جانتا ۔۔۔ کب تک چھپاٶ گے “ منب کی آواز گلا گھٹنے کی وجہ سے کھردری سی ہوٸ تھی ۔۔۔
”چپ۔۔۔ کر جا۔۔۔“ نعمان کی ضبط سے بری حالت تھی ۔۔
وہ مٹھیاں بھینچے ہوۓ تھا۔۔۔ جبڑے مخصوص انداز میں پیوست تھے ۔۔۔ آنکھوں کے پتلے سکوڑے ناک پھلاۓ وہ بار بار منب کو چپ ہونے کے لیے کہہ رہا تھا۔۔
پر وہ تھا جیسے سال بھر کا غبار نکال رہا تھا۔۔۔
” یہ جو شریفوں کی زندگی گزار رہا ہے نہ ۔۔۔ یہ تیرے جیسا گنڈا زیادہ عرصہ گزار نہیں سکتا “ منب نے دانت پیس کر اونچی آواز میں کہا۔۔۔
اور یہ آخری جملا تھا جو نعمان کا ضبط ختم کر چکا تھا۔۔۔ منب کے گال پر داٸیں طرف سے گھونسا پڑا تھا ۔۔۔ وہ بری طرح لڑ کھڑا گیا تھا۔۔۔ منہ سے فوارے کی طرح پانی نکلا تھا۔۔۔
اور پھر بہت سے لوگ مل کر بھی منب کو چھڑوا نہیں پا رہے تھے ۔۔۔ نعمان ۔۔۔ روبن بن چکا تھا۔۔۔۔۔ ناجاٸز کے الفاظ ایسے گونج رہے تھے دماغ میں کہ کچھ بھی سجھاٸ نہیں دے رہا تھا ۔۔۔ بڑی مشکل سے لوگوں نے منب کو نعمان سے بچایا تھا ۔۔۔
کتنی ہی دیر ہو چکی تھی اچانک ذہن میں آتے ہی وہ جلدی سے آسکریم اٹھا کر باہر نکلا تھا ۔۔۔
کپڑوں کو درست کرتا بوجھل دل سے وہ کار کی طرف بڑھ رہا تھا ۔۔۔ جس میں وہ بیٹھی تھی اس کی محبت اس کی چاہت۔۔۔ پر اس نے اس سے کتنی بڑی سچاٸ چھپا رکھی تھی ۔۔ اور منب ٹھیک کہہ رہا تھا یہ بات اتنی بڑی تھی کہ وہ واقعی شاٸد اسے چھوڑ کر جا سکتی ہے ۔۔۔ ۔۔
عجیب سی گھٹن ہونے لگی تھی ۔۔۔ یخ سردی میں بھی ۔۔۔ ماتھے پر پسنیے کی ننھی بوندیں سی بننے لگی تھیں ۔۔۔ وہ کار میں بنا حسنیٰ سے نظریں ملاۓ بیٹھ چکا تھا ۔۔۔ کچھ دیر پہلے والی ہنسی کھو چکی تھی ۔۔۔
حسنیٰ کھوٸ کھوٸ سی آسکریم کھا رہی تھی ۔۔۔ اور وہ کھویا کھویا سا ڈراٸیو کر رہا تھا۔۔۔
دونوں کی آنکھوں میں آنسو تھے ۔۔۔ اور دل میں ایک دوسرے سے بہت بڑا سچ چھپانے کی خلش تھی۔۔۔ اور دماغ میں کھو دینے کا خدشہ۔۔۔۔
************
” پھپھو کے آگے بہت عزت ہے تمھاری “ چاۓ کے کپ کے کنارے پر دھیرےسے انگلیاں پھیرتے ہوۓ ہیر نے آنکھیں اٹھا کر اپنے سامنے بیٹھے نعمان کی طرف دیکھا ۔۔۔
ڈنر کے بعد شہروزی کسی کام کا بہانہ بنا کر دونوں کو اکیلا چھوڑنے کی غرض سے یہاں سے اٹھ کر چلی گٸ تھی ۔۔۔ اب لاونج میں لگے دل آویز صوفوں پر چاۓ کے کپ تھامے نعمان اور ہیر بیٹھے ہوۓ تھے ۔۔۔
نعمان نے ہیر کی بات پر ضبط کیا تھا جس کی وجہ سے ماتھے پر موجود رگیں تن سی گٸ تھیں اور لب ایک دوسرے سے سختی سے ملے ہوۓ تھے ۔۔۔ وہ یہاں مسز واصف کے لیے آیا تھا ۔۔۔اور ان کی اس کے دل میں اتنی عزت تھی کہ وہ ہیر کے ہر طنز کو برداشت کرسکتا تھا ۔۔۔
” شاٸد وہ داور کو نہیں جانتی۔۔۔۔۔ “
ہیر نے زہریلی سی مسکراہٹ سجا کر سامنے بیٹھے اس مکمل شخصیت کے مالک کو دیکھا ۔۔۔
وہ چارکول تھری پیس سوٹ میں ملبوس غضب ڈھا رہا تھا ۔۔۔ سفید رنگت اب ہیر کی باتوں کی وجہ سے تھوڑی لالی لے آٸ تھی ۔۔۔
افف ۔۔۔۔ یہ غصہ ۔۔۔ یہ تو اور جان لیوا بنا دیتا تھا اسے ۔۔۔ہیر نے مسکراہٹ دبا کر سوچا تھا ۔۔۔
” تم۔۔۔۔۔۔“ نعمان نے دانت پیس کر ارد گرد دیکھ کر کہا۔۔۔
” آں۔۔۔۔ ہاں ۔۔۔۔ کچھ نہیں سر۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔“
ہیر نے بڑے دلربا انداز میں چاۓ کا کپ سامنے رکھا ۔۔
وہ آج پینٹ شرٹ کے بجاۓ بہت خوبصورت نیلے رنگ کی میکسی پہنے ہوۓ تھی ۔۔۔گھنگرالے بال مخصوص انداز میں
کندھوں پر بکھرے ہوۓ تھے ۔۔۔ اور چہرہ میک اپ سے لیس تھا ۔۔۔ وہ آج اپنی عمر سے کہیں بڑی دکھاٸ دے رہی تھی ۔۔۔
”بس یہ زخم دیکھ رہے ہیں آپ ۔۔۔۔۔۔۔ “
ہیر نے ماتھے پر سے بال ہٹاۓ وہاں گہرے کٹ کا نشان تھا ۔۔۔ جو اس نے بالوں سے چھپا رکھا تھا ۔۔۔
” اوپر سے تو بھر گیا ہے پر اندر سے ابھی بھرا نہیں ہے ۔۔۔ “
ہیر نے معنی خیز انداز میں کہا ۔۔۔
” چاہتی کیا ہو “
نعمان نے دانت پیسے تھے ۔۔۔ اور چور نظروں سے ارد گرد شہروزی کا جاٸزہ لیا ۔۔۔
ہیر بڑے انداز میں مسکراٸ تھی ۔۔۔ سامنے پڑی پیسٹری کی پلیٹ نعمان کے آگے کی ۔۔۔
” محبت ۔۔۔۔۔“ ہیر مسکراٸ تھی ۔۔۔
***********
” یار یہ کون لوگ ہیں جو مار رہے اس کو۔“ شبنم نے سینے پر ہاتھ دھر کر کہا۔۔۔
آنکھیں سامنے کے منظر پر ٹکی تھیں ۔۔ حسن فاٸق اور وسیم کو سات آٹھ لڑکے ہاکی سے بری طرح پیٹ رہے تھے ۔۔۔
” شہروزی کے بابا کے لوگ ہیں ۔۔۔ “ کرن نے گہری سانس لی اور مزے سے سینے پر ہاتھ باندھے ۔۔
” یار۔۔۔ اس دن والی بات پر مار رہے کیا اسے “ شبنم نے آنکھیں خوف سے پھیلا کر شہروزی کی طرف دیکھا۔۔۔
جو ناک پھلاۓ کھڑی دانت پیس رہی تھی۔۔۔۔
” ہاں ۔۔۔ یہ خود کو سمجھتا کیا ہے ۔۔۔ بڑی چیز ہے یہ۔۔۔“ شہروزی نے طنز بھری مسکراہٹ کے ساتھ کہا تھا۔۔۔
اسی لمحے دیکھتے ہی دیکھتے کاۓ پلٹ ہوٸ تھی ۔۔۔ پیٹنے والے لڑکے پٹنے لگے تھے ۔۔۔ اور اب کی بار مارنے والا صرف ایک تھا۔۔۔ حسن ۔۔۔۔ اس کے ناک سے بے تحاشہ خون بہہ رہا تھا لیکن ہاکیاں وہ ساری توڑ چکا تھا۔۔۔ وسیم اور فاٸق ایک طرف بے حال سے کھڑے تھے ۔۔۔
شہروزی اور کرن سمیت سب کے منہ کھلے کے کھلے رہ گۓ تھے ۔۔۔ ملک انور کے لڑکے دم دبا کر بھاگے تھے ۔۔۔ حسن اب ہونٹ سے نکلنے والے خون کو اپنی انگلی کی پور پر لگا کر یوں دیکھ رہا تھا جیسے اپنے خون کو پہلی دفعہ دیکھ رہا ہو ۔۔۔ اور پھر گھنی الجھی سی پلکیں اٹھیں تھیں اور گہری آنکھیں خونخوار انداز میں شہروزی پر پڑی تھیں ۔۔۔
اس کا دیکھنا ہی ایسا تھا۔۔۔ شہروزی کی ریڑھی کی ہڈی میں خوف کی لہر دوڑ گٸ تھی ۔۔۔
” شہروزی ۔۔۔۔ اب تم بچ کر رہنا اس سے ۔۔۔ “
شبنم نے تھوک نگلا تھا۔۔۔
” سہی کہہ رہی ہے غصے کا بہت تیز ہے یہ “ کرن کی سانس بھی اٹکی ہوٸ تھی ۔۔۔
ان کو تو لگتاتھا آج یہ سب کرنے کے بعد حسن کو ان سے خوف آنے لگے گا لیکن یہاں تو معملا ہی پلٹ گیا تھا۔۔۔ خوف تو ان سب کے چہرے پر تھا ۔۔۔ وہ پرسکون انداز میں کھڑا تھا ۔۔۔
” بہت دیکھے اس جیسے ۔۔۔۔ ماٸ فٹ “ شہروزی نے خوف پر قابو پا کر کہا تھا۔۔
دونوں کی نظریں ایک دوسرے سے ملی تھیں دونوں میں نفرت تھی اور کچھ نہیں ۔۔۔
************
” نہیں تم کچھ نہیں بتاٶ گی شوہر جیسا بھی ہو شوہر ہی ہوتا ہے “ بابا کا وہی سمجھانے والا انداز تھا۔۔
وہ کمرے میں بیڈ پر ٹانگیں پسارے بیٹھی تھی ۔۔۔ فون کے ہیڈ فون کانوں میں گھساۓ چہرے پر بچارگی سجاۓ وہ فاٸق رضا سے بات کر رہی تھی ۔۔۔ وہ اس رات سے الجھ کر رہ گٸ تھی ۔۔۔ جہاں ایک طرف نعمان سے شدید محبت ہو گٸ تھی وہیں دوسری طرف اس سے اپنی سچاٸ چھپانے کا گلٹ بڑھتا ہی جا رہا تھا۔۔۔ دل تھا کہ خود غرضی پر اترا ہوا تھا اور دماغ کہتا تھا جھوٹ پر اتنا بڑا رشتہ کیسے پنپنے گا۔۔۔
” بابا ۔۔۔ لیکن ۔۔۔ “ نچلے لب کو دانتوں نے دھیرے سے مسل ڈالا تھا۔۔۔
” لیکن ویکن کچھ نہیں دل سے اسے قبول کر چکی ہو نہ ۔۔۔۔ بس اب اس کی محبت کے جواب میں محبت دو اپنی اللہ تم سے خوش ہو “ بابا نے محبت سے کہا ۔۔۔
” جی بابا ۔۔۔ “ حسنیٰ نے گہری سانس لی تھی ۔۔۔
دروزاے کا لاک کھلنے کی آواز پر اس نے بابا سے اجازت لی تھی اور فون ایک طرف رکھ دیا ….. نعمان آج لیٹ آیا تھا۔۔۔ ثمرین اسے ڈنر کروانے کے بعد جا چکی تھی ۔۔۔ کمرے کا دروازہ کھلا اور اس کے دل پر چند دنوں میں ہی بادشاہت کرنے والا وہ شخص اس کے سامنے تھا۔۔۔
تھکا سا انداز تھا۔۔۔ کوٹ کو بازو پر ڈال رکھا تھا۔۔۔ ٹاٸ کی ناٹ ڈھیلی تھی ۔۔۔ لبوں پر دلکش مسکراہٹ موجود نہیں تھی ۔۔۔وہ کچھ دن سے ایسے ہی الجھا الجھاسا ہی تھا۔۔۔
” ثمرین چلی گٸ کیا“ گھمبیر انداز میں گویا ہوا۔۔۔
” جی ۔۔۔ لیکن کوٸ مسٸلہ نہیں اب میں کافی بہتر ہوں “ حسنیٰ نے مسکرا کر محبت سے کہا۔۔۔
کمرے میں وہ جس طرف بھی جا رہا تھا حسنیٰ کی آنکھیں اس طرف ہی اس کا طواف کر رہی تھیں ۔۔۔ وہ موباٸل بیڈ ساٸڈ میز پر رکھنے کے بعد کوٹ کو کرسی پر ڈال چکا تھا ۔۔۔
” ہممم۔۔۔۔۔“ مدھم سی آواز میں نعمان نے مختصر سا جواب دیا تھا
الجھا سا وہ ڈریسنگ روم میں گھس گیا ۔۔ اور پھر وہاں سے سلیپنگ ڈریس میں واپس لوٹا ۔۔۔
” آج آپ ۔۔۔لیٹ ہو گۓ۔۔۔۔ “ حسنیٰ نے مدھم سی آواز میں کہا۔۔
” ہاں ۔۔۔ وہ ڈنر تھا۔۔۔ کہیں“
حسنیٰ کی مسکراہٹ کے بدلے زبر دستی مسکرا کر کہا۔۔۔ جبکہ دل تو عجیب الجھن کا شکار تھا۔۔۔ اس دن منب کی باتیں اور آج ہیر ۔۔۔۔۔ ہیر نے اگر مسز واصف کو کچھ بھی الٹا سیدھا بتا دیاتو۔۔۔۔ وہ تو ان کی بھتیجی ہے وہ اس کی بات پر ہی یقین کریں گی اور مجھے فاٸر کر دیں گی جاب سے ۔۔۔اس سے پہلے کہ یہ سب ہو مجھے کہیں اور نوکری کی تلاش شروع کر دینی چاہیے ۔۔۔ حسنیٰ کو پھر سے غربت نہیں دینا چاہتا ہوں وہ کتنی خوش ہے اس سب سے ۔۔۔ وہ الجھ کر رہ گیا تھا
حسنی اب کافی بہتر تھی ۔۔۔ نعمان نے چور سی نظر اس کے سراپے پر ڈالی تھی ۔۔۔ وہ نظریں جھکاۓ بیٹھی تھی ۔۔۔ اس کی رنگت زرد سے اب گلابی ہونے لگے تھی دن بدن ۔۔۔
تو اس نے اپنے ٹھیک ہو جانے کی بات مجھے باور کرواٸ ہے ۔۔۔ نعمان نے گہری سانس لے کر سوچا۔۔
مجھے دوسرے کمرے میں چلے جانا چاہیے ۔۔۔ وہ اپنے موباٸل کو میز پر سے اٹھا کر دروازے کی طرف بڑھا تھا۔۔۔
” کہاں ۔۔۔۔۔ “ حسنیٰ نے حیرت سے اسے جاتے دیکھ کر سوال کیا۔۔۔
” ساتھ روم میں ۔۔۔۔ تم کافی بہتر ہو گٸ ہو تو ۔۔۔“ نعمان نے سنجیدہ سے انداز میں لبوں کو ملایا تھا۔۔۔
اچانک لگا کہ وہ روک لے گی ۔۔۔ دل میں ایک امید سی جاگی ۔۔۔ اس کا رویہ بھی تو کتنا بدل چکا تھا۔۔۔ اس کو دیکھنے کا انداز بھی بدل گیا تھا۔۔۔ لگتا تھا وہ جیت کے بہت قریب تھا ۔۔۔ اس کے دل تک رساٸ بس ہونے کو تھی ۔۔۔ لیکن مسٸلہ یہ تھا وہ کچھ بھی تو نہیں کہتی تھی ۔۔۔
” ہاں ۔۔۔ “ مدھر سی گھٹی سی آواز حسنیٰ کی ابھری تھی ۔
دل تھا کہ اسے روک لے ۔۔۔ پر ہمت کہاں سے لاٶں ۔۔۔ لب ہی کچلتی رہ گٸ تھی اور وہ باہر نکل گیا تھا۔۔۔
ساری رات آنکھوں میں کٹی تھی ۔۔۔ عادت جو ہو چکی تھی رات تک نعمان کو دیکھ کر سونے کی ۔۔۔گہرے گہرے سانس لے کر اس کی خوشبو کو اپنے اندر اتارنے کی ۔۔۔ اور آج وہ کمرے میں نہیں تھاسب کتنا اداس تھا۔۔۔ دل نے گواہی دے دی تھی کہ وہ بری طرح نعمان کی محبت میں گرفتار ہو چکی ہے ۔۔۔
دل کی سرگوشی پر لب دھیرے سے مسکرا دیے تھے ۔۔۔ تو ایک میٹھی میٹھی سی چبھن سارے بدن میں رقص کرنے لگی تھی ۔۔۔ وہ پیارا لگنے لگا تھا۔۔۔ بہت پیارا ۔۔۔۔ اس کی آنکھیں ۔۔۔ اس کی پلکیں ۔۔۔ اس کے لب ۔۔۔۔ سب کتنا پیارا تھا۔۔۔ اس کا احساس ۔۔۔ اس کی محبت ۔۔۔ اس کا خیال کرنا۔۔ ۔۔۔۔ دھیرے دھیرے وہ اس کی دیوانی ہی تو ہو گٸ تھی ۔۔۔ وہ اسکا تھا ۔۔۔۔ یہ احساس بہت پیارا تھا ۔۔۔۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: