Husna Novel by Huma Waqas – Episode 14

0
حسنیٰ از ہما وقاص – قسط نمبر 14

–**–**–

” جا کر منہ توڑ دیتا اسکا “ فاٸق نے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا ۔۔۔
یہ ایک چھوٹے سے فلیٹ کا منظر تھا ۔۔۔ جہاں نیچے سڑک پر کھلتی کھڑکی کے ساتھ ٹیک لگاۓ حسن کھڑا تھا اور فاٸق ساتھ ساتھ لگے دو پلنگ میں سے ایک پلنگ سے اٹھ کر اس کے پاس آیا تھا۔۔۔ کمرہ دو نفوس کے رہنے کے لیے بہت چھوٹا تھا۔۔ لیکن بڑے طریقے سے اس میں دو پلنگ رکھے گۓ تھے۔۔۔ ایک طرف دیوار کے ساتھ بڑا سا زنگ آلودہ ریک تھا جس میں ان گنت کتابیں تھیں تو ایک طرف سمینٹ کی بنی الماری میں بہت سے کپڑوں کے ڈھیر لگے ہوۓ تھے ۔۔ کمرے کی ابتری یہاں رہنے والوں کے چھڑے چھانٹ ہونے کی گواہ تھی ۔۔۔ حسن اور فاٸق حیدر آباد سے کراچی پڑھنے کے لیے آۓ تھے ۔۔۔ اور یہاں چار لڑکوں نے مل کر یہ فلیٹ کرایہ پر لیا تھا۔۔۔
حسن اس دن سے کھویا کھویا سا تھا ۔۔۔ فاٸق کو اس کی خاموشی عجیب طرح سے کھل رہی تھی ۔۔۔ وہ یہی سمجھ رہا تھا کہ اسے شہروزی پر بہت غصہ ہے پر وہ یہ غصہ اتار نہیں پایا ۔۔۔ جس کی وجہ سے وہ اندر ہی اندر گھلتا جا رہا ہے۔۔۔
” نہیں ۔۔۔ وہ توڑنے والا چہرہ تو نہیں ہے ۔۔۔“ حسن نے ۔۔۔ ہاتھ کے زخم پر سے پٹی ہٹاتے ہوۓ کہا
اسکا ہاتھ اس دن کی مار کٹاٸ میں بری طرح زخمی ہوا تھا آج تیسرا دن تھا اس واقعے کے بعد ۔۔
” کیا ہو گیا تجھے ۔۔۔ “ فاٸق نے حیرت سے ماتھے پر بل ڈالتے ہوۓ حسن کی طرف دیکھا۔۔۔
” کچھ نہیں ۔۔۔۔ “ حسن نے نظریں چراٸ تھیں ۔۔۔
” ارادے تو ٹھیک نہیں لگ رہے تمھارے“ فاٸق نے بھنویں اچکا کر اس کی طرف دیکھا
دوسری طرف ہنوز وہی کھویا سا انداز تھا۔۔۔
” کہیں تجھے وہ ہٹلر پسند تو نہیں آ گٸ “ فاٸق نے افسوس سے ماتھے پر ہاتھ دھرتے ہوۓ کہا۔۔۔
” اپنی اوقات میں رہنا پسند ہے مجھے ۔۔۔ایسا کچھ بھی نہیں ہے “
حسن نے گہری سانس لی اور بڑی مہارت سے جھوٹ بولا۔۔۔ دراصل ابھی وہ اپنے دل کی حالت کو خود بھی سمجھ نہیں پا رہا تھا۔۔۔شہروزی نے اس کے ساتھ بہت برا کیا تھا اصولً تو اسے اس سے بے پناہ نفرت محسوس کرنی چاہیے تھی لیکن ایسا ہو نہیں رہا تھا۔۔۔ دل نفرت کے بجاۓ کچھ اور ہی محسوسات لیے ہوۓ تھا ۔۔
” شکر ہے ۔۔۔ بھاٸ میں تو ڈر گیا تھا “ فاٸق نے سکھ کا سانس لیا ۔۔۔
جبکہ وہ ہنوز نچے سڑک پر چلتی ٹریفک پر نظریں جماۓ کھڑا تھا۔۔۔
*************
” نہیں کچھ مت بتاٶ ۔۔۔ ابھی “ عبداللہ نے رک رک کر پر سوچ انداز میں کہا
وہ فون کان کو لگاۓ بیڈ پر لیٹا تھا۔۔۔ دوسرے کمرے میں اتنی تھکاوٹ کی وجہ سے بھی نیند نہیں آ رہی تھی ۔۔۔ اور اب اتنے دن سے اس کا یوں ایک ہی کمرے میں ہونا عادت سی بن گیا تھا اب کہاں نیند آ رہی تھی آج ۔۔۔ عبداللہ کو کال ملا کر اپنی منب والی پریشانی کا اظہار کر بیٹھا تھا ۔۔۔
”لیکن عبداللہ کیسے اس رشتے کی بیناد میں جھوٹ پر رکھ دوں ۔۔۔ “ چھت پر لگے پنکھے کی طرف گھورتے ہوۓ ایک ہاتھ سے بالوں کو پیچھے کیا ۔۔۔
گہری آنکھوں میں برسوں کی تھکان کا عنصر تھا ۔۔۔
” پر مجھے یہ بھی یقین ہے وہ مجھے چھوڑ دے گی یہ جان کر ۔۔۔ پرت در پرت کھلتا جاٶں گا تو ۔۔۔“ لبوں کو ایک دوسرے سے ملا کر بے بسی سے سانس لی
” پہلے اسے میرے کرسچن ہونے کا معلوم ہوا تھا وہ چھوڑ کر چل دی تھی۔۔۔ اب جب یہ حقیقت کھلے گی کہ میری کوٸ شناخت نہیں ۔۔۔ اور پھر یہ کھلے گا کہ میں داور کے لیے کیا کام کرتا رہا ہوں ۔۔۔“
وہ بے چارگی سے بولے چلے جا رہا تھا ۔۔۔
” اللہ پر بھروسہ ہے ۔۔۔ “
عبد اللہ نے پر سکون لہجے میں کہا
” ہاں ۔۔۔۔ اسی نے تو بن مانگے مجھے میری محبت دی ہے ۔۔۔“ وہ سیدھا ہوا تھا اور پاس بیڈ کے ساٸڈ ٹیبل پر پڑی سگریٹ کی ڈبی کو اٹھایا ۔۔۔
” تو بس پھر وہی ۔۔۔ اس کے دل میں بھی ایسی محبت ڈالے گا کہ اسے تم ہر حال میں قبول ہو گے ۔۔۔“
عبداللہ کا لہجہ ہنوز پر سکون تھا۔۔۔ وہ ایسا ہی تھا اس سے بات کرنے کے بعد نعمان کو سکون مل جاتا تھا۔۔۔ قران وہ ختم کر چکا تھا اب وہ ہر اتوار کو تفسیر کے لیے جاتا تھا ۔۔۔ اور اس سب سے جڑے رہنے میں بھی عبداللہ کا ہی ہاتھ تھا ۔۔۔ اس نے نعمان کو صرف اسلام قبول کرنے کی ہی حد تک نہیں رہنے دیا تھا ۔۔۔
” مجھے لگتا ہے میں اس کے لاٸق نہیں ۔۔۔“
نعمان کی آواز مدھم سی ہوٸ تھی۔۔۔ سگریٹ منہ میں سلگ رہی تھی ۔۔۔
” غلط لگتا ہے تمہیں ۔۔۔۔۔۔ یہ بھی تو سوچو ۔۔۔ وہ اس بھری دنیا میں بے سہارا ہے ۔۔۔ وہ کیسے کس حال میں رہ رہی تھی حازق کے دھتکارنے کے بعد اور تم نے کیسے کس حال میں رکھا ہوا ہے “
عبداللہ نے تھوڑے خفگی بھرے انداز میں کہا ۔۔۔ وہ کسی بھی کفر کے کلمات پر اسے ایسے ہی جھاڑ دیا کرتا تھا ۔۔۔
” مجھے بھی لگتا ہے وہ اس سب کی وجہ سے مجھے قبول کر رہی ہے “
سگریٹ کو دھیرے سے ایش ٹرے پر مارا ۔۔۔ راکھ نرمی سے سگریٹ کے اوپری حصے سے الگ ہو کر ایش ٹرے میں گری تھی ۔۔۔ نعمان کی نظریں اب راکھ پر مرکوز تھیں
” کیسے لگا تجھے “
عبداللہ نے استفسار کیا
” نہیں میں محسوس کرتا ہوں “
سگریٹ کا دھواں منہ سے نکل کر ھواں میں گھل گھل گیا تھا ۔۔۔
” کیا محسوس کرتا ہے ۔۔۔“
عبداللہ نے محبت سے پوچھا
” یہی کہ وہ اب ویسا سلوک نہیں کرتی مجھ سے غصہ نہیں کرتی ۔۔۔ مسکراتی ہے ۔۔۔ “
ماتھے پر انگلیاں پھیرتے ہوۓ کہا ۔۔۔
” میں جب کسی کام میں مصروف ہوتا ہوں مجھے دیکھتی رہتی ہے ۔۔۔ “
وہ مسکراہٹ دبا گیا تھا۔۔۔ ہاں وہ یہ سب بہت دن سے محسوس کر رہا تھا ۔۔۔ وہ اس کو بہت دیکھتی تھی۔۔۔ اس کی آنکھوں کی تپش اسے اپنے چہرے پر ہر اس وقت محسوس ہوتی تھی جب وہ اس کی طرف دیکھ رہا ہوتا تھا ۔۔۔پر جیسے ہی وہ نظریں اٹھاتا تھا وہ فوراً نظریں جھکا لیتی تھی ۔۔۔
” یہ تو بہت اچھی بات ہے بے شک نکاح میں بہت طاقت ہے یہ دلوں میں محبت کا بیج بو دیتا ہے “
عبداللہ نے خوشگوار لہجے میں کہا۔۔۔
” اللہ تم دونوں کے دل کی محبت کو یوں ہی قاٸم رکھے
بس تم صبح اس سے پوچھو کہ کیا وہ اب بھی علیحدگی کی طلبگار ہے “
” اگر اس نے ہاں بول دیا تو “
گہری آنکھوں کی پتلیوں میں خوف نمایاں تھا ۔۔۔ وہ کسی صورت حسنیٰ کو کھونا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔ دل کی دھڑکن ایسا سوچنے پر ہی بند ہونے لگتی تھی ۔۔۔
” محسوسات کبھی غلط نہیں ہوا کرتی میرے بھاٸ ۔۔۔ “
عبداللہ نے پر سکون لہجے میں کہا ۔۔۔
فون بند ہونے کے بعد ۔۔۔ وہ ۔۔۔ اس کی سلگتی سگریٹ ۔۔۔ اور پر سوچ نگاہیں ایک غیر مرٸ نقطے پر جمی تھیں ۔۔۔
*********
” گڈ مارننگ ۔۔۔“ نعمان ہلکی سی دستک دینے کے بعد ٹرالی اندر کرتے ہوۓ داخل ہوا تھا۔۔۔
وہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی اٹھی تھی اور اب واش روم سے باہر نکل کر کمرے کے درمیان میں پہنچی تھی جب نعمان کمرے میں داخل ہوا ۔۔۔ نعمان کو یوں آج اس وقت گھر دیکھ کر اسے خوشگوار سی حیرت ہوٸ تھی ۔۔۔
” ناشتہ ۔۔۔۔ مسز ۔۔۔۔“ نعمان نے ٹرالی کمرے میں موجود صوفے کے قریب کی تھی ۔۔۔
وہ رات کی نسبت کافی خوشگوار موڈ میں تھا۔۔۔ رات بھر سوچنے کے بعد وہ فیصلہ کر چکا تھا کہ وہ کہیں اور ملازمت کی تلاش شروع کر دے گا۔۔۔ اور حسنیٰ کو کچھ نہیں بتاۓ گا سب اللہ توقل رکھے گا ۔۔۔
” آج آپ گۓ نہیں ۔۔۔“ حسنیٰ نے مسکرا کر کہا۔۔۔
وہ سٹک کی مدد سے چلتی ہوٸ صوفے تک آٸ تھی۔۔۔
”سنڈے میڈیم۔۔۔۔۔۔ کیا آپ چاہتی کہ میں سنڈے کو بھی آپکو یہاں نظر نہ آٶں “ نعمان نے مصنوعی خفگی سے دیکھا۔۔۔
وہ دھلے ہوۓ چہرے کے ساتھ دل میں اترتی ہوٸ محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔ دل کو اب اپنی فتح کی امید ہونے لگی تھی۔۔۔ اس کی پہلی محبت تھی وہ ایک ایسی انجانی محبت جو بن مانگے بن گڑ گڑاۓ خدا تعالیٰ نے اس کی جھولی میں ڈال دی تھی ۔۔۔ فرق صرف اتنا تھا ۔۔ لوگ پہلے دل جیتتے ہیں پھر نکاح کرتے ۔۔۔ اس نے پہلے نکاح کیا تھا۔۔۔ اب دل جیتنے کی کوشش میں سر گرداں تھا۔۔۔
” نہ۔۔۔نہیں ایسا کب کہا میں نے “ حسنیٰ گڑ بڑا سی گٸ تھی ۔۔
اسے کیا بتاتی کہ اسے کتنا اچھا لگ رہا ہے یوں اسے آج گھر پر دیکھ کر ۔۔۔
وہ رات والے ٹرایوزر شرٹ میں ہی ملبوس تھا ۔۔۔ البتہ چہرہ بہت تازہ دم تھا ۔۔۔ حسنیٰ ناشتہ کرتے ہوۓ چور نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔ ناشتے کے بعد ثمرین کے آ جانے پر وہ تفسیر کے لیے نکل گیا تھا ۔۔۔ اور پھر شام گۓ ثمرین کے جانے سے پہلے وہ گھر میں موجود تھا ۔۔۔
حسنیٰ کے کمرے میں آیا تو وہ ٹی وی دیکھ رہی تھی اس کو دیکھتے ہی اس نے ٹی وی بند کیا تھا ۔۔۔
پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے وہ الجھا الجھا سا اس کے قریب آیا تھا ۔۔۔رات والی بات ذہن میں تھی ۔۔۔ عبداللہ نے کہا تھا کہ اسے حسنیٰ سے پوچھنا تھا کہ اب اس کا کیا فیصلہ ہے ۔۔۔
” حسنیٰ ۔۔۔۔ “
اس کے قریب بیڈ کے پاس کھڑے ہو کر نعمان نے اپنے جوتے پر نظریں جما کر ہمت جٹاٸ تھی ۔۔۔
حسنیٰ نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا ۔۔۔ اسے وہ کل رات سے ہی الجھا الجھا سا لگ رہا تھا ۔۔۔
” تو ۔۔۔۔۔ کیا فیصلہ کیا تم نے ۔۔۔ “ بہت دھیرے سے گھمبیر آواز نے کمرے کے سکوت کو توڑا تھا ۔۔۔
” کس۔۔۔کس بارے میں ۔۔۔“ حسنیٰ نے نظریں چراٸ تھیں جبکہ دل کے تار ہلکی ہلکی سی دھن پر بجنے لگے تھے ۔۔۔
” تمھارے اور میرے رشتے کے بارے میں ۔۔۔ تمہیں اب بھی کیا مجھ سے ڈاٸیورس چاہیے “
نعمان نے گہری سانس لیتے ہوۓ پوچھا اور پھر چور سی نظر اس پر ڈالی ۔۔۔
وہ جھینپ سی گٸ تھی ۔۔۔ گال بلش کرنے لگے تھے ۔۔۔ دل کسی اور ہی طرز میں رقص کنعاں تھا ۔۔۔ اور جھوم جھوم کر محبت کے اقرار میں پاگل ہوا جا رہا تھا ۔۔۔
” نہ۔۔نہیں ۔۔۔۔“
تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد شرماٸ لجاٸ سی مدھر سی آواز نعمان کے کانوں میں رس گھول گٸ تھی ۔۔۔
نعمان نے دلکش مسکراہٹ چہرے پر سجا کر اس کی طرف دیکھا تھا جو اب بلش ہوتے ہوۓ پلکوں کو گال پر لرزا رہی تھی ۔۔۔ ہاتھوں کو ایک دوسرے میں پیوست کیے ۔۔۔
”پکا۔۔۔۔۔۔“ ۔۔۔ نعمان نے شریر سے لہجے میں اس کی حالت سے محزوز ہوتے ہوۓ تھوڑا سا جھک کر پوچھا ۔۔۔
اور اب کی بار اس کی آواز نہیں نکل پاٸ تھی بس سر کو ہلکی سی جنبش دی تھی ۔۔۔
” گڈ ۔۔۔۔“ نعمان گہری مسکراہٹ کے ساتھ کہا ۔۔۔
اب اس کے بولنے کی باری ہے ۔۔۔ نعمان نے بھنویں اچکا کر حسنیٰ کی طرف دیکھا جو بس بے حال سی پلکیں ہی لرزا رہی تھی یہ خوبصور ت لب کچل کچل کر ان پر ظلم کر رہی تھی ۔۔۔
کیا ہے اب کیا یوں دیکھتے ہی رہیں گے ۔۔۔ نعمان کی معنی خیز آنکھیں اور گہری خاموشی دل کی دنیا کو اتھل پتھل کیے ہوۓ تھی وہ بمشکل بیٹھی تھی ۔۔ یوں لگتا تھا اس کی نظروں کی تاب نہ لا کر ڈھیر ہو جاۓ گی ۔۔
نعمان نے پاس پڑا تکیہ اٹھا کر سینے سے لگایا ۔۔۔ جب کے نظریں ابھی بھی اس کے سراپے پر ٹکی تھیں ۔۔۔
” میں جاتا ہوں پھر سونے “ نعمان نے ہلکے سے گلا صاف کر کے کہا ۔۔۔
حسنیٰ نے چونک کر دیکھا ۔۔۔ کیوں آج کیوں جا رہے ۔۔۔ میں نے انکار کر تو دیا ہے علیحدگی سے ۔۔۔
روک کیوں نہیں رہی ۔۔۔ نعمان نے قدم دروازے کی طرف بڑھاۓ تھے۔۔۔
کیسے روکوں ۔۔۔ حسنیٰ نے بے چارگی سے نعمان کی چوڑی پشت کو دیکھا تھا ۔۔۔
part 2 Sobho jaldi post hoga…
بہت معزرت برے کمنٹس سے اجتناب برتیں ۔۔۔ چھٹیاں ختم ہو چکی ہیں اب قسط بڑی لکھا کروں گی ۔۔۔ لکھنا ۔۔سوچنا ۔۔۔ بہت مشکل ہے ۔۔۔ میں دو عدد لڑکوں کی اماں ہوں ۔۔۔ میرے لیے وقت نکالنا بہت مشکل ہوتا ۔۔۔ شوق سے لکھتی ہوں ۔۔ برے کمنٹس حوصلہ پست کرتے ہیں ۔۔۔ حوصلہ بڑھاٸیں گے تو زیادہ لکھ سکوں گی ۔۔۔

 

وہ کمرے سے باہر جا چکا تھا۔۔۔ نہیں روک سکی تھی وہ اسے اور وہ چلا گیا تھا دوسرے کمرے میں ۔۔۔ حسنیٰ نے لبوں کو بچوں کی طرح باہر نکالا تھا۔۔۔ پلٹ کر دیکھتا تو سہی میں اسے روک لیتی ۔۔۔
مریل سے قدم لے کر وہ کمرے میں داخل ہوا تھا۔۔۔
تکیہ اچھال کر بیڈ پر پھینکا تھا۔۔۔ چہرہ اترا سا تھا۔۔۔ لیکن دل میں ایک انجانی سی خوشی بھی تھی ۔۔۔ اس نے اس کے ساتھ رہنا قبول کر لیا تھا۔۔۔
اچھل کر بیڈ پر لیٹا۔۔ پاس پڑا تکیہ تھوڑا سا اوپر اٹھا جسے نعمان نے باہوں میں لے لیا تھا۔۔۔ اور سینے سے لگا کر زور سے بھینچ ڈالا ۔۔۔ لب مسکرا رہے تھے ۔۔۔ گہری گرے آنکھیں چمک رہی تھیں ۔۔۔
جتنی دفعہ بھی دیکھوں تجھے
دھڑکے زوروں سے
ایسا تو کبھی ہوتا نہیں مل کے غیروں سے
دور جانا نہیں ۔۔۔۔۔ تم کو ہے قسم ۔۔۔۔۔
خود سے زیادہ تمہیں چاہتے ہیں صنم ۔۔۔۔
*************
” کیا مسٸلہ ہو گیایہاں “ حسن نے بھنویں اچکاٸ تھیں ۔۔
وہ لوگ کنٹین سے واپس آ رہے تھے جب یونیورسٹی کے مین کوریڈور کے پاس بہت سے لڑکے اور لڑکیاں جمع تھیں ۔۔۔ وسیم تھوڑا سا آگے جا کر دیکھ کر کچھ دیر میں واپس پلٹا۔۔۔۔
” وہی ۔۔۔۔ مس شہروزی صاحبہ کو پر پوز کر بیٹھا باسط عباس“ وسیم نے گردن کا اشارہ ہجوم کی طرف کرتے ہوۓ کہا ۔۔۔
شہروزی بہت خوبصورت لڑکی تھی ۔۔لیکن وہ بہت اکڑ والی تھی اس لیے کوٸ عام لڑکا تو اس کی طرف پھٹکتا بھی نہ تھا۔۔۔ باسط عباس اسی کی طرح بہت اچھی فیمیلی سے تعلق رکھتا تھا ۔۔۔ یونیورسٹی کے شروع دن سے ہی وہ شہروزی کے پیچھے تھا۔۔۔ اور شہروزی اسے منہ تک نہ لگاتی تھی ۔۔۔ اور آج شاٸد وہ ہمت کر کے شہروزی کو پرپوز کر بیٹھا تھا۔۔۔
حسن نے چونک کر وسیم کی طرف دیکھا۔۔۔ لیکن اپنے جزبات کو قابو میں رکھتے ہوۓ اس نے اس بات سے یکسر لاپرواہی برتی
” اوہ اچھا ۔۔۔ پھر کیا کیا اس نے ۔۔“ فاٸق نے تجسس سے آگے بڑھ کر کہا
” صاف انکار بھٸ ۔۔۔“ وسیم نے ہونٹ باہر کو نکالے تھے ۔۔۔
” سنا ہے واصف بلال ۔۔۔ کی مینگتر ہے ۔۔۔ ملک انور کی بیٹی واصف ٹیکسٹاٸل کی اکلوتی بہو ۔۔۔۔ ارے بھٸ اتنا بھاٶ تو بنتا ہے ۔۔“ وسیم نے لبوں کو باہر نکالا تھا ۔۔۔
حسن دونوں کی باتوں سے بلکل بے نیاز اپنی کسی اساٸنمنٹ کو دیکھنے میں مصروف تھا۔۔۔ کان ان کی باتیں سن بھی رہے تھے اور دل میں چبھن بھی ہوٸ تھی ۔۔۔ پر وہ اپنے آپ کو قابو میں رکھنے کا ہنر جانتا تھا۔۔۔
شہروزی باسط عباس کی اچھی خاصی کلاس لینے کے بعد غصے میں بھری ہجوم سے نکلی تھی اسی لمحے وہ تینوں بھی پاس سے گزر رہے تھے جب شہروزی بری طرح حسن سے ٹکراٸ تھی ۔۔۔ حسن نے بمشکل اسے تھام کر گرنے سے بچایا تھا ۔۔۔وہ نک چڑھی سی حسینہ ۔۔۔ اونچی شرٹ اور فلیپر میں ملبوس حسن کی باہوں کے سہارے پر ٹکی ہوٸ تھی ۔۔۔
” تم دیکھ کر نہیں چل سکتے ۔۔۔“ شہروزی نے چھوٹی سی ناک چڑھا کر کہا ۔۔
حسن اپنے مخصوص رف ٹف سے حلیے میں تھا۔۔۔ چیک شرٹ کے نیچے ڈھیلی سی ڈریس پینٹ پہنے ۔۔۔ ہلکی سی شیو ۔۔۔ سرخ و سفید سی رنگت ۔۔۔ بھرے لبوں پر گھری مونچھیں ۔۔۔ جو اس کے چہرے کو رعب اور دب دبا دیتی تھیں ۔۔۔ گرے رنگ کی آنکھوں پر مڑی الجھی سی پلکیں ۔۔۔ خوبصورت شیپ کی بھنویں ۔۔۔ وہ بہت حسین مردوں میں شمار ہوتا تھا۔۔۔لیکن وہ حد سے زیادہ سنجیدہ رہنے والا لڑکا تھا۔۔۔
وہ پہلے سے ہی غصے میں بھری ہوٸ تھی اوپر سے حسن کا ٹکراٶ ہو گیا تھا اسے تو وہ اس دن سے اپنے ذہن سے نہیں جھٹک پاٸ تھی ۔۔۔ کس طرح اس نے سات لڑکوں کی ہاکی سے گھونسوں اور ٹانگوں سے درگت بنا ڈالی تھی ۔۔۔۔ اور آج پھر اس حالت میں ملاقات ہو گٸ تھی ۔۔۔
” ایکسکیوزمی ۔۔۔۔ “ حسن نے ایک جھٹکا دے کر اسے کھڑا کیا ۔۔۔
تیوری چڑھا ۓ وہ اب اس سے بھی زیادہ اکڑ کا مظاہرہ کر رہا تھا ۔۔۔
” میں دیکھ کر ہی چل رہا تھا۔۔۔ البتہ آپ کی آنکھیں ماتھے پر ہی ہوتی ہیں ہمیشہ“ حسن نے دانت پیسے تھے جبکہ شہروزی کا ہاتھ ابھی بھی ہاتھ میں ہی تھا ۔۔۔ اور نظریں اس کے خوبصورت تیکھے سے نقوش والے چہرے کا طواف کر رہی تھیں ۔۔۔
” ٹکراۓ تم ہو سمجھے تم “ شہروزی نے دانت پیس کر کہا ۔۔۔
ہاتھ ابھی بھی ہاتھ میں تھا۔۔۔
وہ لڑ رہے تھے ایک دوسرے سے ۔۔۔ لیکن ہاتھ کا لمس دونوں کے دلوں میں میٹھا سا کرنٹ پیدا کر رہا تھا۔۔۔ نہ حسن ہاتھ چھوڑ رہا تھا۔۔۔ اور نہ وہ ہاتھ چھڑوا رہی تھی۔۔۔ سب لوگ حیرت سے دونوں کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔ وہ دونوں بلا وجہ بات کو طول دے رہے تھے ۔۔۔ اور ہاتھ تھامے ہوۓ تھے ۔۔۔ دل کو دھوکا دے رہے تھے ۔۔۔
” شہروزی کیا اس پاگل کے منہ لگتی ہو چلو یہاں سے “ کرن نے شہروزی کا کندھا ہلایا تھا۔۔۔
” ہاں ۔۔۔ چلو“ شہروزی جیسے ایک دم سے ہوش میں آٸ تھی ۔۔۔
دھیرے سے حسن نے اپنے ہاتھ کی گرفت ڈھیلی کی تھی۔۔۔ شہروزی نے اپنا مخملی سا ہاتھ آہستہ سے اس کے ہتھیلی سے سر کاتے ہوۓ الگ کیا تھا۔۔۔
اور پھر یہ لمس دونوں کی روحوں میں گھل سا گیا تھا۔۔۔ وہ الگ الگ سمت میں پیٹھ پھیر کے جا رہے تھے ۔۔ لیکن روحیں جسموں سے الگ رخ موڑے ایک دوسرے کی طرف دوڑے چلی آ رہی تھیں ۔۔۔
***********
”اسلام علیکم “ مین ڈور کھلا تھا اور وہ مسکراتی ہوٸ سامنے کھڑی تھی ۔۔۔
باٹل گرین فراک کو زیب تن کیے کِھلتی گلابی رنگت لیے۔۔۔ چہرے پر ہلک سا جازب نظر میک اپ کیے۔۔۔ بالوں کی درمیان مانگ نکالے اور دونوں اطراف سے ان کو ٹوسٹ دے کر کندھوں پر سیدھے بال بکھیرے وہ اتنے اہتمام سے آج صرف اس کے لیے تیار ہوٸ تھی ۔۔۔
لبوں پر میٹھی سی مسکان سجاۓ ۔۔۔ پلکوں کو لرزاتی تھوڑی شرماتی گھبراتی وہ اسے حیرت کے سمندر میں دھکا دے چکی تھی ۔۔۔ وہ منہ وا کیے دروازے پر ہی کھڑا تھا۔۔ چابی ہاتھ میں پکڑے ساکن سا ۔۔۔ وہ روز کے معمول کے مطابق مین ڈور کھولنے کے لیے ابھی جیب سے چابی نکال کر دروازے کی طرف ہاتھ بڑھا چکا تھا ۔۔جب دروازہ اندر سے کھل گیا تھا اور حسنیٰ اس کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔۔
”اسلام علیکم“ ۔۔۔ حسنیٰ نے مسکراہٹ دبا کر پھر سے سلام کیا تھا ۔۔۔
اس کی ایسی حالت دیکھ کر دل میں گدگدی سی ہو گٸ تھی۔۔۔ ہاں یہ بات تو وہ اچھے سے جانتی تھی وہ بہت حسین ہے ۔۔۔لیکن کوٸ ایسے دیوانہ وار اسے چاہ سکتا ہے یہ کبھی نہیں سوچا تھا ۔۔۔ کتنا انوکھا سا احساس تھا اس بات کو لے کر کے کہ وہ اسے تب سے چاہتا تھا جب اسے خبر بھی نہ تھی۔۔۔ وہ اسے کسی بھی طلب کے بنا چاہتا تھا۔۔۔ آج سارا دن ایسی باتیں دل کو گدگداتی رہیں وہ نعمان کی انوکھی سی محبت میں سر شار خود کو آج اس کے لیے سجانے سا نہ روک پاٸ تھی ۔۔۔
سب کچھ اچھا لگنے لگا تھا ۔۔۔ یہ گھر اس کی ہر چیز ۔۔ نعمان کے الماری میں لٹکتے کپڑے ۔۔۔ ان سے اٹھتی مہک۔۔۔ اس کی واش روم میں لٹکتی اترن ٹی شرٹ ۔۔۔وہ کتنی دیر اسے سونگھتی رہی۔۔۔ پھر شرما گٸ ۔۔۔ ۔۔
کبھی جو اس رات کا لمحہ یاد آتا تو پورے بدن میں سویاں چبھ جاتی ۔۔۔ ہاں یہی تو وہ محبت ہے جس کی بات فضا کیا کرتی تھی ۔۔۔ کہ جب ہوگی تو پتہ چلے گا تمہیں
” وعلیکم اسلام ۔۔۔ کیز تھیں میرے پاس۔۔۔“ نعمان نے اس کے حسن کے سحر میں کھوۓ انداز میں کہا ۔۔۔
” معلوم ہے مجھے ۔۔۔ آج باہر ہی بیٹھی ہوٸ تھی تو۔۔۔“ نعمان کے بازو پر لٹکتے کوٹ کو دھیرے سے تھام کر مسکراتی ہوٸ آگے بڑھی ۔۔۔
” گڈ ۔۔۔۔ “ وہ ٹرانس میں اس کے پیچھے پیچھے گھر میں داخل ہوا تھا ۔۔۔
کمرے سے کپڑے تبدیل کرنے کے بعد وہ باہر کھانے کے لیے آیا تو وہ دھیرے دھیرے چلتے ہوۓ کھانے کے میز پر برتن سجا رہی تھی ۔۔۔ اب وہ سٹک کے بنا چلتی تھی پر پاٶں پر کم وزن ڈالے ۔۔۔ دوپہر کو کک آتی تھی جو کھانا تیار کر کے چلی جاتی تھی۔۔۔ وہ رات کو گھر آ کر گرم کر کے کھاتا تھا ۔۔۔ لیکن آج جب وہ کمرے سے باہر نکلا تو حسنیٰ پہلے سے ہی کھانے کا میز سجا رہی تھی ۔۔۔
یہ چار کرسیوں پر مشتمل چھوٹا سا گول ڈاٸنگ ٹیبل تھا جو اوپن کچن کی شیلف سے کچھ ہی دوری پر موجود تھا ۔۔۔
” میں لے لیتا تم نے تکلیف کی ۔۔۔“ بازو کے کف فولڈ کرتے ہوۓ وہ حیرت زدہ کہہ رہا تھا ۔۔۔
حسنیٰ اس سے محبت کرنے لگے گی یہ تو کبھی نہیں سوچا تھا ۔۔۔وہ تو عاشق تھا اس کا اور عشق میں محبوب سے کچھ بھی طلب نہیں ہوتی ۔۔۔ وہ تو بس اسے چاہ رہا تھا اور ہمیشہ یوں ہی چاہتا رہتا چاہے وہ اس کی محبت میں گرفتار ہوتی یا نہ ہوتی ۔۔۔
” آپ کی کی ہوٸ تکلیفوں سے بہت کم تکلیف ہے یہ۔۔۔“ حسنیٰ نے ہلکے سے مسکرا کر کہا
نظریں جھکی ہوٸ تھیں اب وہ پلیٹ میں سالن انڈیل رہی تھی ۔۔۔ اور نعمان کی محبت بھری نظروں کی میٹھی سی گرمی گالوں پر محسوس ہو رہی تھی جو دھیرے سے دل کو گدگدا رہی تھی ۔۔۔
” مجھے تو کوٸ تکلیف نہیں تھی ۔۔۔ میں تو سب محبت میں کرتا تھا۔۔۔“ نعمان نے بھاری سی کھوٸ کھوٸ آواز میں کہا ۔۔
حسنیٰ کا نچلا لب دانتوں میں دب گیا تھا ۔۔۔ ایک خوبصورت زندگی سے بھر پور مسکراہٹ چہرے کو دلکش بنا گٸ تھی ۔۔۔۔۔
” تو میں بھی تو۔۔۔“ مدھر سی مدھم آواز نکلی تھی حسنیٰ کی ۔۔۔
نعمان جو اس کے ہوش روبا حسن اور اس شرماتے لجاتے انداز پر ڈھیر سا بیٹھا تھا ۔۔ محبت کے ادھورے سے اقرار پر جیسے سو واٹ کا جھٹکا لگا تھا ۔۔۔
” تم بھی تو کیا۔۔۔“ خمار آلودہ آواز ہلکی سی سرگوشی نما انداز میں ابھری تھی۔۔۔۔
افف۔۔۔۔۔ اس کا یوں دیکھنا ۔۔۔ اب تو یہاں کھڑے رہنا محال تھا ۔۔۔ وہ دیکھ ہی یوں رہا تھا ۔۔۔ بدن دھیرے سے کانپنے لگا تھا ۔۔۔ ہر جگہ پر جیسے میٹھا میٹھا سا درد اٹھنے لگا تھا ۔۔۔
” کچھ نہیں ۔۔۔ ۔۔۔“ گھٹی سی سر گوشی نما آواز میں کہہ کر وہ تیزی سے کمرے کی طرف بھاگنے کے انداز میں جتنا تیز چل سکتی تھی گٸ تھی ۔۔
اور پھر کس کمبخت کا دل تھا کھانے کو ۔۔۔۔
دیکھا ہزاروں دفعہ آپکو پھر بے قراری کیسی ہے
سنبھالے سنبھلتا نہیں یہ دل کچھ آپ میں بات ایسی ہے
لے کر اجازت اب آپ سے سانسیں یہ آتی جاتی ہیں
ڈھونڈے سے ملتے نہیں ہیں ہم بس آپ ہی آپ باقی ہیں
وہ اٹھ کر مسکراتا ہوا کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا۔۔۔ وہ ہاتھوں کو گود میں دھرے بیٹھی مسکرا رہی تھی جیسے ہی نعمان کو اتنی جلدی کمرے میں دیکھا سٹپٹا سی گٸ ۔۔ اور تیر کی طرح اٹھ کر کھڑی ہوٸ ۔۔۔
نعمان گہری جزبات میں ڈوبی آنکھوں کو اس پر گاڑے بلکل اس کے مقابل میں آ کر کھڑا ہوا ۔۔۔
سانس ۔۔ اٹک سی گٸ تھی ۔۔۔ حسنیٰ کی ۔۔۔
وہ اب اس کے ہاتھوں کو اپنے گرم ہاتھوں میں محبت سے تھام چکا تھا۔۔۔ لبوں پر جاندار مسکراہٹ تھی ۔۔۔ آنکھیں انگنت ملنے والی خوشی سے سرشار تھیں ۔۔۔
کہنے کو کچھ تھا ہی کہاں ۔۔۔ دونوں خاموش تھے بس دل باتیں کر رہے تھے ۔۔۔
” دوسرے کمرے میں سردی بہت ہوتی ہے ۔۔۔“
نعمان نے کان کھجا کر کہا۔۔۔ جب کے لب آپس میں ملے تھے ۔۔۔ جو مسکراہٹ بمشکل روکے ہوۓ تھے ۔۔۔
” اچھا۔۔۔۔ تو ۔۔۔۔ “ گھٹی سی سرگوشی نما آواز تھی
حسنیٰ کو دل زور زور سے دھڑکنے لگا تھا۔۔۔ کانوں کی لو تک گرم ہو گٸ تھی ۔۔۔
” تو۔و۔۔۔و۔۔۔۔و۔۔۔۔و۔۔۔۔۔۔۔۔۔“
نعمان نے دو قدم کا فاصلہ بھی ختم کیا تھا۔۔۔ اور کان کے قریب ہوا تھا۔۔
” یہیں سو جانے دو نہ آج “ کان کی لو کو جلاتی سرگوشی تھی
حسنیٰ کی پلکوں پر جیسے کسی نے پتھر باندھ دیے ہوں ۔۔۔ پورا جسم کانپ رہا تھا۔۔ ساری ہمت جواب دے گٸ تھی ۔۔۔
یہ وہی نعمان تھا جس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وہ چیختی تھی کچھ ماہ پہلے اور اب پلکیں اٹھ کر نہیں دے رہی تھیں ۔۔۔
وہ اتنا ہی قریب تھا کہ اس کی دھڑکن کی آواز اپنی دھڑکن کی آواز کے ساتھ مکس ہوتی ہوٸ سناٸ دے رہی تھی۔۔۔وہ تو مزے سے دیکھے جا رہا تھا۔۔۔ اور وہ بے حال سی کھڑی تھی حالت ایسی تھی کہ وہ اگر ہلکے سے چھوتا بھی تو اس کی باہوں میں ہی ڈھلک جاتی ۔۔۔
میری راہیں تیرے تک ہیں تجھ پر ہی تو میرا حق ہے
عشق میرا تو بے شک ہے تجھ پر ہی تو میرا حق ہے
سوں تیری میں قسم یہی کھاٶں گا
کیتے وعدے عمراں نبھاٶں گا
تجھے ہر واری اپنا بناٶں گا۔۔
میں تیرا بن جاٶں گا
ہاتھوں کی جنبش سے سانس جیسے اٹک گٸ تھی ۔۔۔
چھوڑو مجھے ۔۔۔۔۔ چھوڑو ۔۔۔۔ مت کرو پلیز۔۔۔۔۔ جبار نوچ رہا تھا۔۔۔ اس کے قہقے کانوں میں گونج اٹھے تھے۔۔۔
حسنیٰ نے دونوں ہاتھوں کو نعمان کے سینے پر رکھ کر اسے پوری قوت سے دھکا دیا تھا۔۔۔ وہ بے خود سا اس لمحے کے لیے بلکل بھی تیار نہیں تھا۔۔ دھکا اتنا زور کا تھا۔۔۔ کہ وہ ایک طرف بیڈ پر گرا تھا۔۔۔
وہ اب بیڈ پر بیٹھی گہری سانس لے رہی تھی ۔۔۔۔ گردن پر آۓ پسینے کو پونچھتی وہ تیز تیز قدم اٹھاتی ہوٸ واش روم میں گھسی تھی۔۔۔ اور پھر اس کے دروازے کے ساتھ پشت ٹکا کر بیٹھتی چلی گٸ ۔۔۔ جسم اس بری طرح کانپ رہا تھا۔۔۔
وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی ۔۔۔۔ کتنے ہی لمحے ایسے گزر گۓ ۔۔۔ پھر آنسو صاف کرتی وہ واش روم سے نکلی تھی ۔۔۔
بیڈ پر نہ تو نعمان تھا اور نہ دوسرا تکیہ۔۔۔۔۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: