Husna Novel by Huma Waqas – Episode 15

0
حسنیٰ از ہما وقاص – قسط نمبر 15

–**–**–

” دیکھ دیکھ اس کو یہ نہیں سدھرے گا “ فاٸق نے حسن کا کندھا ہلایا تھا ۔۔۔
حسن نے نظروں کا تعاقب کیا ۔۔۔ سامنے سیاہ جوڑے میں بجلیاں گراتی شہروزی ملک کھڑی تھی اور اس کے بلکل سامنے باسط عباس اس سے کوٸ بات کر رہا تھا ۔۔۔ جس کی وجہ سے شہروزی کے چہرے پر ناگواری کے آثار تھے ۔۔ آج یونیورسٹی میں اینول ڈر تھا ۔۔۔ یونیورسٹی کا لان جگمگا رہا تھا قمقوں سے سجا لان اور تمام سٹوڈنٹس کی تیاری دیدنی تھی ۔۔۔ تیز موسیقی نے ماحول کو اور خوشگوار بنا رکھا تھا ۔۔۔ سب کے کِھلتے چہروں میں ایک وہ ہی بیزار سا کھڑا تھا جسے وسیم اور فاٸق زبردستی اپنے ساتھ لے آۓ تھے ۔۔۔
”اسکے باپ کے گنڈوں سے پٹے گا تب جا کر چین پڑے گا اسے “ وسیم نے کولڈ ڈرنک کا سپ لگایا اور قہقہ لگاتے ہوۓ فاٸق کی بات کی تاٸید کی ۔۔۔
شہروزی نے کسی بات پر سامنے کھڑے باسط کے منہ پر تھپڑ رسید کیا تھا ۔۔۔ ایک دم سے ماحول گرم ہو گیا تھا ۔۔۔ موسیقی بند ہوٸ تھی ۔۔۔ تمام سٹوڈنٹس جھمگٹا بناۓ ہوۓ ان دونوں کے ارد گرد آ گۓ تھے ۔۔۔ باسط کو بہت سے لڑکوں نے بازٶں سے تھام رکھا تھا وہ اچھل اچھل کر شہروزی کی طرف آ رہا تھا ۔۔۔ چہرہ زلت اور شرمندگی سے سرخ ہو رہا تھا ۔۔۔ بڑی مشکل سے دو تین پروفیسر حضرات نے معملا بیچ میں پڑ کر رفع دفع کروایا ۔۔۔ جھمگٹا ختم ہوا اور موسیقی پھر سے جلترنگ بجانے لگی ۔۔۔
ہوا۔۔۔ہوا۔۔۔۔اے۔۔۔ہوا۔۔۔۔خوشبو لٹا دے۔۔۔۔۔۔
اونچی آواز میں گانا بڑے بڑے سپیکر پر لگا ہوا تھا ۔۔۔۔
” ویسے یہ بھی ڈھیٹ ہے پورا“ فاٸق نے غصے سے بھرے باسط کی طرف دیکھ کر کہا ۔۔۔
حسن نے کن اکھیوں سے باسط کی طرف دیکھا جو اب بار بار منہ پر ہاتھ پھیر کر بڑ بڑا رہا تھا۔۔۔ حسن کی چھٹی حس نے آلارم دیا تھا۔۔۔
تقریب اپنے اختتام پر تھی ۔۔۔ جب شہروزی کرن کو ہاتھ ہلاتی باہر کی طرف قدم بڑھا رہی تھی ۔۔ حسن شہروزی ہی کی طرف اس وقت چور نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ وہ سیاہ بڑا سا بنارسی دوپٹہ سنبھالتی یونیورسٹی کے مین گیٹ کی طرف جا رہی تھی ۔۔۔ جب وہ باسط عباس کے گروپ کے پاس سے گزری تھی ۔۔۔ باسط بجلی کی سی تیزی سے اس کے پیچھے لپکا تھا ۔۔۔ اسی لمحے حسن کے قدم بھی اسی طرف بڑھ گۓ تھے۔۔۔
شہروزی کو اس کی گاڑی مین گیٹ سے باہر لینے آٸ تھی جبکہ اسے مین گیٹ تک پہنچنے کے لیے ایک لمبی راہداری سے گزرتے ہوۓ جانا تھا ۔۔۔۔ وہ خراماں خراماں قدم اٹھاتی اردگرد درختوں کی قطار لیے رہداری پر مین گیٹ کی طرف رواں تھی جب کسی نے زور سے بازو دبوچ کر درختوں کی اوٹ میں کھینچ لیا تھا ۔۔۔ حسن کچھ دوری پر تھا ۔۔۔
تیز قدم اٹھاتا جب تک وہ وہاں پہنچا ۔۔ باسط شہروزی کو زبردستی گاڑی میں ڈال چکا تھا ۔۔۔ اور گاڑی تیزی سے یونیورسٹی کے دوسرے گیٹ کی طرف جا رہی تھی۔۔۔
حسن برق رفتاری سے اپنی باٸیک کی طرف لپکا ۔۔
” چھوڑو مجھے ۔۔۔۔ “ شہروزی بری طرح مچل رہی تھی اور باسط اسے بازوٶں میں دبوچے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر موجود تھا ۔۔۔
گاڑی کوٸ اور چلا رہا تھا اور اس کے ساتھ ایک اور مرد بھی فرنٹ سیٹ پر موجود تھا ۔۔۔
باسط نے اپنے ہاتھ کو مضبوطی سے شہروزی کے لبوں پر رکھا ۔۔۔
” امیں۔۔۔ں۔۔۔۔ں۔۔۔۔۔ں۔۔۔۔ امیں۔۔۔ں۔۔۔ں۔۔۔۔ں۔۔۔“ وہ گھٹی گھٹی آواز میں ٹانگیں مار رہی تھی ۔۔۔
گاڑی بہت تیزی سے سڑک پر دوڑ رہی تھی ۔۔۔ اور اس سے کچھ فاصلے پر حسن باٸک کی فل سپیڈ کیے پیچھے تھا۔۔۔
گاڑی ایک گھر کے کھلے گیٹ میں داخل ہو رہی تھی ۔۔۔
باسط نے شہروزی کے منہ پر سے ہاتھ ہٹایا ۔۔۔
” تم یہ ٹھیک نہیں کر رہے ۔۔۔ چھوڑو مجھے ۔۔۔۔“ شہرزوی بری طرح باسط کی گرفت سے آزاد ہونے کی کوشش کر رہی تھی جو زبردستی اسے جیپ سے نیچے اتار رہا تھا ۔۔۔
گیٹ بند ہو رہا تھا ابھی ۔۔۔۔
” چپ ۔۔۔۔۔ ابھی ۔۔۔ بس ابھی آج کی انسلٹ کا بدلہ پہلے“ باسط نے دانت پیسے تھے۔۔۔
تھوڑے سے کھلے گیٹ میں سے جو ابھی گاڈ آہستہ آ ہستہ بند کر رہا تھا باٸک اڑتا ہوا اندر داخل ہوا اور پھر اس کا اگلا پہیہ اوپر اٹھا ۔۔۔ جو سیدھا آ کر باسط سے ٹکرایا تھا ۔۔۔ باسط بری طرح اچھل کر لان کی باڑ میں گرا تھا ۔۔۔۔ اور پھر وہاں سے نہیں اٹھ سکا شہروزی ایک طرف گری ۔۔
گاڑی میں سے دو لڑکے اور برآمد ہو کر حسن پر ٹوٹ پڑے تھے ۔۔۔ گاڈ بھی بھاگتا ہوا اور ایک ہاتھ سے بیلٹ پر بندھے پسٹل کو اس کے کیس میں سے نکالتا آگے بڑھ رہا ۔۔۔
گارڈ نے ابھی پسٹل تاننے کے لیے بازو لمبا کیا ہی تھا کہ حسن نے ایک ہی جست میں ٹانگ گھوماٸ پسٹل ہوا میں معلق ہوا جسے بڑی مہارت سے حسن اپنے ہاتھ میں لیا ۔۔۔
پھر تو گھبرا کر سب الٹے قدموں پیچھے ہونے لگے تھے۔۔۔
شہروزی بھاگتی ہوٸ حسن کے پیچھے آٸ تھی وہ حسن کا کندھا تھامے گھبراٸ سی اس کے پیچھے چھپ رہی تھی ۔۔۔
حسن نے پسٹل کے اشارے سے سب کو ایک طرف ہونے کے لیے کہا ۔۔۔
سب ہاتھ اوپر کیے ایک طرف ہو رہے تھے ۔۔۔ باسط شاٸد بے ہوش ہو چکا تھا ۔۔۔
” چلیں ۔۔۔۔۔“ حسن نے باٸک پر بیٹھ کر شہروزی کی طرف دیکھا ۔۔۔
جو تیر کی طرح حسن کا کندھا تھامے اس کے پیچھے بیٹھ چکی تھی ۔۔۔ یونیورسٹی کے گیٹ کے آگے اب تک پولیس پہنچ چکی تھی ملک انور بے حال سے ٹہل رہے تھے۔۔۔ حسن نے باٸک لے جا کر درمیان میں روکا تھا۔۔۔ ملک انور بے تاب سے ہو کر آگے بڑھے ۔۔۔
” تھنکیو ۔۔۔۔ “ شہزوری نے حسن کے کان کے قریب سرگوشی کی تھی ۔۔۔
اور پھر اتر کر ملک انور کے ساتھ جا لگی ۔۔ اب وہ انھیں کچھ بتا رہی تھی ۔۔۔ اشارے حسن کی طرف بھی کر رہی تھی۔۔۔
پولیس والا حسن کی طرف رپورٹ لینے کے لیے بڑھ رہا تھا۔۔۔
***********
” ناشتہ۔۔۔۔ “ حسنیٰ نے نظریں چراتے ہوۓ بالوں کو کانوں کے پیچھے کیا آواز گھٹی سی مدھم سی شرمندہ سی تھی ۔۔۔
نعمان کے کوٹ پہنتے ہوۓ ہاتھ رک گۓ تھے وہ سنگہار میز کے سامنے کھڑا تیار ہو رہا تھا جب حسنیٰ ناشتے کی ٹرالی دھکیلتی کمرے میں آٸ تھی ۔۔
ہلکی سی پیچ پنک رنگ کی ڈریس شرٹ میں وہ نکھرا نکھرا سا گیلے بالوں میں دل کی دنیا کو ہلا رہا تھا۔۔۔حسنیٰ نے چور سی نظر اس پر ڈالی تھی ۔۔۔ بڑے سنجیدہ انداز میں پینٹ کی بیلٹ کو درست کر رہا تھا۔۔۔ پورا کمرہ اس کے کلون کی مہک لیے ہوا تھا۔۔۔
افففف۔۔۔۔۔ کیا اب ناراض ہو گیا ہے ۔۔۔ حسنیٰ نے روہانسی سی شکل بنا کر دیکھا ۔۔۔نعمان کوٹ کو ایک جھٹکا دے کر واپس پلٹا
” میں نکلتا ہوں آج لیٹ ہو گیا ہوں ۔۔۔ “ سنجیدہ انداز۔۔۔ نہ رات والی کوٸ شوخی نہ محبت بھرا لہجہ۔۔۔
حسنیٰ کے گلے میں کانٹے چبھ گۓ تھے۔۔۔ دھکا بھی تو بہت زور کا دیا تھا۔۔۔ کتنی بری طرح گرا تھا وہ ۔۔۔۔ موٹی موٹی آنکھوں میں آنسو ڈبڈبانے لگے تھے۔۔۔
” آفس سے کر لوں گا آج ۔۔۔ “ اس کے پاس سے آہستہ سی آواز میں کہتا ہوا گزرا۔۔۔
اس نے ابھی تک ایک نظر بھی حسنیٰ پر نہیں ڈالی تھی۔۔۔ شرمندہ سا تھا دل ۔۔ رات اپنی بے قراری اتنی جلدی اس پر ظاہر کرنے کی کیا ضرورت تھی بس یہی بات کھل رہی تھی ۔۔ کس بری طرح بہک گیا تھا ۔۔۔ وہ کیا سوچتی ہو گی ۔۔۔ ادھر اس نے محبت کا اظہار کیا اور ادھر میں حدیں پار کرنے پر آ گیا ۔۔۔ اسی لیے دھکا پڑا مجھے جو بھی ہے وہ حازق سے محبت کرتی تھی ۔۔۔ مجھے اس کے ذہن نے قبول کیا ہے دل نے تو نہیں ۔۔۔ کتنا غلط کیا میں نے ۔۔۔ وہ رات بھر نہیں سو سکا تھا ۔۔۔۔ آنکھیں تھکی تھکی سی تھیں ۔۔۔الجھا سا وہ دروازے تک پہنچا تھا۔۔۔
” نعمان ۔۔۔۔۔ “
آنسوٶں سے بھیگی آواز نے قدم روک دیے تھے ۔۔۔
وہ بجلی کی سی تیزی سے پلٹا وہ رو رہی تھی ۔۔۔ گال آنسوٶں سے تر تھے۔۔۔ ساری سنجیدگی ایک پل میں ہوا ہوٸ تھی اور وہ بلکل اس کے سامنے پریشان حال کھڑا تھا ۔۔۔
” حسنیٰ ۔۔۔۔ کیا ہوا“ اسکے جھکے چہرے کو ہاتھ سے اوپر کیا
” رات کے لیے ۔۔۔۔۔“ حسنیٰ نے بمشکل الفاظ ادا کیے تھے ۔۔۔ آنسو اس تواتر سے بہہ رہے تھے کہ اس سے بولنا محال ہو رہا تھا ۔۔۔
” حسنیٰ ۔۔۔۔ رونا نہیں ہے ۔۔۔ چپ کرو“ نعمان اسے یوں دیکھ کر بوکھلا سا گیا تھا
ہاتھ کی پشت سے اس کے آنسوٶں کو صاف کیا ۔۔۔ وہ شرمندہ سی خاموش ہوٸ تھی ۔۔۔ رونا کیوں آیا تھا کچھ سمجھ نہیں تھی ۔۔۔ شاٸد نعمان کی تھوڑی سی بے رخی بھی برداشت نہیں ہوٸ تھی ۔۔ پر وہ کیا کرتی رات لمحہ ہی ایسا تھا ۔۔۔ اس کے حق سے لیے گۓ لمس نے دل کے اندر دفن کی ہوٸ اس بھیانک رات کے منظر کی یاد دلا دی تھی ۔۔۔ پھر سے وہ تکلیف روح تک جھنجوڑ گٸ تھی ۔۔۔
” ٹیک یور ۔۔۔ ٹاٸم ۔۔۔۔ “ نعمان نے نرمی سے اس کے چہرے کو اوپر اٹھایا تھا ۔۔۔
رات والے سبز جوڑے میں سادہ سے دھلے ہوۓ چہرے کے ساتھ وہ روٸ روٸ سی اس کے دل میں اتر گٸ تھی ۔۔۔
” آٸ ۔۔۔۔ لو یو ۔۔۔ مور دن ایوری تھنگ “ بھاری سی جزبات میں ڈوبی آواز تھی جو حسنیٰ کے اندر سکون کی طرح اتر گٸ تھی ۔۔۔ اس کا لہجہ اتنی اپناٸت لیے ہوۓ تھا جیسے ہمیشہ سے ہوتا ۔۔
دھیرے سے حسنیٰ کے گدازسے لب مسکرا دیے تھے ۔۔۔ نعمان قریب ہوا تھا۔۔۔ دل کی دھڑکن تیز ہوٸ ۔۔۔
” محبت میں زبردستی کا قاٸل نہیں ہوں مسز ۔۔۔ تمہیں جیتنا ہے صرف پانا نہیں ۔۔۔ “ سانسوں کی گرم ہوا کے ساتھ سرگوشی نے کانوں پر گدگدی کی تھی ۔۔۔
وہ کمرے سے جا چکا تھا اور وہ یوں ہی کھڑی تھی ۔۔۔ اس کی مہک کو اپنے اندر اتارتی ہوٸ
*************
” میم ۔۔۔ یہ کچھ ڈاکیومنٹس ۔۔۔ “ نعمان نے فاٸل سامنے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ جماۓ محبت بھری نظروں سے دیکھتی شہروزی کی طرف بڑھاٸ ۔۔۔
نعمان کو کچھ اہم کاغزات پر مسز واصف کے دستخط لینے تھے ۔۔۔۔ وہ آج آفس نہیں آٸ تھیں ۔۔۔ اور انھوں نے نعمان کو گھر بلا لیا تھا ۔۔۔ 28
” یہ کچھ نیو آٶٹ لٹس جہاں جہاں اوپن ہوٸ ہیں ان کی ڈٹیل “ نعمان نے ایک اور فاٸل بڑھاٸ
” یہ سب تو میں دیکھ لیتی ہوں نعمان ۔۔۔ پہلے کھانا کھاتے ہیں بیٹا ۔۔۔ “ شہروزی نےمحبت بھرے لہجے میں کہا
” میم ۔۔۔ کھانا آپ نے کیوں تکلف کیا “ نعمان نے گلے میں لگی ٹاٸ کی ناٹ کو گھومایا ۔۔۔
” نہیں ۔۔۔۔ تم کھانا کھا کر جاٶ گے ۔۔۔۔ “ شہرزوی نے محبت بھری خفگی سے دیکھا ۔۔۔
” رضیہ ۔۔۔۔ ہیر کو بھی بلا لاٸیں ۔۔۔ “ شہروزی نے چہرے کا رخ تھوڑا سا موڑ کر آواز لگاٸ ۔۔۔۔
بہت ہی پیاری بچی ہے ۔۔۔ “ نعمان کے چہرے پر کھوجتی سی نظر ڈالتے ہوۓ شہروزی نے کہا ۔۔۔
نعمان کو بار بار ہیر سے ملوانے کے لیے وہ جان بوجھ کر نہیں جاتی تھیں آفس اور نعمان کو گھر پر آنا پڑتا تھا ۔۔۔
” جی ۔۔۔۔۔ “ رضیہ ہاتھ باندھ کر سر کو نیچے کی طرف جنبش دیتی ہوٸ آگے بڑھ گٸ تھی ۔۔۔
کچھ دیر بعد ہی ہیر جدید طرز کے فیشن سے لیس زینہ اتر کر معنی خیز انداز میں مسکراتی ہوٸ ان تک آٸ ۔۔۔۔
” ہیلو ۔۔۔۔۔ “ بڑے انداز سے مسکرا کر نعمان کی طرف دیکھا
” کیسے ہیں آپ ۔۔۔۔“ دلربا انداز میں گھنگرالے بالوں کو کندھے پر سے پیچھے کیا ۔۔۔
” ٹھیک ۔۔۔ “ نعمان نے سپاٹ چہرے سے لبوں کو بھینچ کر جواب دیا ۔۔۔
وہ لوگ اب اٹھ کر کھانے کے میز پر آ چکے تھے۔۔۔
” پھپھو ۔۔۔آپ نے میرے آیڈیا کو لے کر بات کی پھر نعمان سے “ کھانے کے میز کی کرسی کو پیچھے کرتے ہوۓ ہیر نے بڑے لاڈ سے کہا ۔۔۔
” اوہ نہیں ۔۔۔۔ بھول گٸ تھی “ شہروزی نے مسکرا کر ماتھے پر ہاتھ رکھا
نعمان نے سوالیہ انداز میں شہروزی کی طرف دیکھا ۔۔
” نعمان ہیر چاہتی ہے ۔۔۔ اس سال ہم اپنا ایک الگ سے فیشن میگا ایونٹ رکھیں ۔۔۔“ شہروزی کرسی پر بیٹھ چکی تھیں ۔۔۔
” جس میں ماڈلز ہمارے فینسی ڈریسز کو پہنیں ریمپ پر چلیں ۔۔۔“ پیلٹ اپنے آگے کرتے ہوۓ لاڈ سے ہیر کی طرف دیکھا اور پھر نعمان کی طرف
” آٸیڈیا اچھا ہے میم ۔۔۔ پر یہ بہت بڑے لیول کا ایونٹ ہے “ نعمان نے سنجیدہ سے انداز میں کہا ۔۔۔
وہ ہیر سےاس طرح بے نیاز بیٹھا تھا جیسے وہ یہاں موجود نہیں ہے ۔۔۔
” اوہ ڈونٹ وری ۔۔۔ بس اس کو آرگناٸز کرواٸیں جلد از جلد “ شہروزی نے محبت سے ہاتھ کا اشارہ کرتے ہوۓ کہا ۔
” اوکے ۔۔۔۔ “ نعمان نے معدب سے انداز میں ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔
” ہیر ۔۔۔۔ نعمان کو دیں “ شہروزی نے کباب سے سجی پلیٹ کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔
جسے بڑی ادا سے ہیر نے نعمان کی طرف بڑھایا تھا ۔۔
*********
” یہ بڑا آجکل مسکرا کر دیکھتی رہتی ہے “ فاٸق نے بھنویں اچکا کر کہا ۔۔۔
شہروزی ان کے گروپ کے پاس سے گزری تھی جس کے چہرے پر دلکش مسکراہٹ تھی ۔۔۔۔ حسن نے اسے دیکھ کر بڑی مشکل سے اپنی حالت کو سنبھالا تھا ۔۔۔
اس دن کے بعد سے شہروزی ہر وقت حسن کے آس پاس ہی منڈلاتی رہتی تھی ۔۔۔ اور مسکرا کر دیکھنا ۔۔۔
دل میں تو وہ پہلے سے ہی زبردستی قبضہ جما چکی تھی جسے حسن جھٹلاتا رہتا تھا لیکن اب اس کا مسکرانا اس کی دھڑکن کو بے ترتیب کر دیتا تھا ۔۔۔
” پتہ ۔۔۔نہیں ۔۔۔“ حسن نے کندھے اچکاۓ اور پھر سے کتاب میں مگن ہوا ۔۔۔
” ارے یار ۔۔۔۔ بچ کر رہنا ایسی لڑکیوں کا مسکرانا اچھا نہیں ہوتا “ فاٸق نے خبردار کیا ۔۔۔
” کیا مطلب۔۔۔“ حسن نے کان کھجاۓ ۔۔۔
” مطلب یہ میری جان کہ یہ ٹھہری امیر کبیر باپ کی اولاد ہم کہاں اب ان کے لیول پر آنے کے ہم پر تو ہمارے پیرنٹس ساری جمع پونجی لگا کر ڈاکٹر بنا رہے “ فاٸق نے اس کےکندھے پر ہاتھ رکھ کر سمجھایا
” ہمم۔۔۔۔۔ “ حسن نے گہری سانس لی
” تو اس کے مسکرانے پر نہیں جانا کبھی “ فاٸق نے اس کی نظروں کو دیکھتے ہوۓ پھر سے ڈر کر کہا

 

”ارے ۔۔۔۔ارے۔۔۔۔ ایسے تھوڑی پیاز کاٹتے۔۔۔“ نعمان نے تیزی سے آگے بڑھتے ہوۓ کہا ۔۔۔
حسنیٰ کچن کی شیلف پر کھڑی پیاز کے ساتھ کشتی کرنے میں مصروف تھی ۔۔۔ وہ پیاز کو ہاتھ میں پکڑ کر امیلٹ کے لیے کاٹنے میں مصروف تھی ۔۔ لیکن پیاز اتنا موٹا کاٹ رہی تھی کہ نعمان کی نفاست پسند شخصیت کو گراں گزرا ۔۔۔ آج اتوار کا دن تھا ۔۔۔وہ دس بجے سو کر اپنے کمرے سے باہر نکلا تو محترمہ کو آنکھوں میں ڈھیر سارے آنسوٶ لیے پیاز کے ساتھ نا انصافی کرتے دیکھا تو رہ نہیں سکا ۔۔۔
ان دونوں کو الگ الگ کمروں میں رہتے ہوۓ آج تیسرا دن تھا ۔۔۔ نعمان اسے وقت دے رہا تھا دل میں یہ سوچ کر کہ ابھی اسے اس رشتے کو مکمل طور پر قبول کرنے میں وقت درکار ہے ۔۔۔ اور حسنیٰ روز رات کو اپنے اندر کے اس خوف پر غالب آنے کی کوشش میں روہانسی ہو جاتی تھی ۔۔۔ نعمان سے محبت ہو چکی تھی ۔۔ لیکن اس حق کو لے کر کے دل میں عجیب سی وحشت تھی ۔۔۔ جب بھی سوچ اس حد تک جاتی تو نعمان جبار میں تبدیل ہونے لگتا ۔۔۔ اور پھر اس دن کا دھکا یاد آ جاتا۔۔۔
” ہٹو۔۔۔۔ ہٹو ذرا“ نعمان نے اس کے قریب جا کر اس کے ہاتھ سے ناٸف کو لیتے ہوۓ کہا ۔۔۔
وہ ناک اور گال صاف کرتی روہانسی سی شرمندہ سی ایک طرف ہوٸ ۔۔۔ کچن کی شیلف سے پشت ٹکا کر کھڑی ہوٸ ۔۔۔
” لگتا ہے کبھی کام نہیں کیا “ نعمان نے کٹنگ بورڈ کو شیلف پر رکھتے ہوۓ کہا
اور کن اکھیوں سے اس کا جاٸزہ لیا ۔۔۔ جامنی رنگ کے جوڑے میں ایپرن باندھے بالوں کا الجھا سا جوڑا بناۓ اب وہ شرمندہ سی شکل بنا کر کھڑی تھی ۔۔۔ پیاز کاٹنے کی وجہ سے آنسو آنکھوں کو لال کیے ہوۓ تھے۔۔۔ اسی وجہ سے ناک بھی بار بار صاف کرنے کی وجہ سے سرخ ہو رہی تھی ۔۔۔
” ہاں ۔۔۔۔ بڑی دو بہنیں تھیں ۔۔۔۔ ان کی شادی ہوٸ تو ۔۔۔ بھابیاں گھر میں آ گٸیں۔۔ کچن کا کام بلکل نہیں کیا کبھی ۔۔۔“ حسنیٰ نے خجل ہوتے ہوۓ بالوں کو کانوں کے پیچھے کیا۔۔۔
جبکہ نظریں مہارت سے پیاز کاٹتے نعمان کے ہاتھوں پر مرکوز تھیں ۔۔۔ وہ کٹنگ بورڈ پر پیاز کو رکھ کر بڑے سلیقے سے کاٹ رہا تھا ۔۔۔ ہاتھ اتنی تیزی سے چل رہے تھے اور پیاز بھی بلکل باریک کٹ کٹ کر کٹنگ بورڈ پر گر رہا تھا ۔۔۔۔
” تو پھر ۔۔۔ محترمہ نے کونسا کام کیا “ نعمان نے مصروف سے انداز میں مسکرا کر اس کی طرف دیکھا ۔۔۔
وہ ہاف بازو کی سفید رنگ ٹی شرٹ کے نیچے سبز اور سفید چیک دار ڈھیلا سا ہاف ٹریوزر پہنے بالوں کی مخصوص انداز میں پونی بناۓ کھڑا تھا ۔۔۔
” ڈسٹنگ ۔۔۔۔ “ حسنیٰ نے شرمندہ سی آواز میں جواب دیا۔۔۔
نعمان کا جاندار قہقہ فضا میں گونجا ۔۔۔ اتنا تو پیاز کاٹنے پر آنکھ میں آنسو نہیں تھے جتنا اب اس کی بات پر ہنسنے کی وجہ سے آۓ تھے ۔۔۔ حسنیٰ نے خفگی سے دیکھا ۔۔۔
نعمان نے بڑی مشکل سے مسکراہٹ دباٸ ۔۔۔۔
” اچھا ۔۔۔۔ یہ تو بہت مشکل کام کیا کرتی تھیں آپ بھٸ ۔۔۔“ مسکراہٹ کو دباتے ہوۓ لبوں کو باہر نکال کر کہا ۔۔۔
” شرمندہ کر رہے ہیں آپ ۔۔۔۔“ حسنیٰ نے چھوٹی سی ناک اوپر چڑھا کر خفگی سے کہا ۔۔۔
اب وہ سبز مرچ کو کٹنگ بورڈ پر رکھ کر کاٹ رہا تھا۔۔۔۔ حسنیٰ اس کے مضبوط ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔ انگلیوں پر ہلکے ہلکے بال تھے بازو پر بھی بال تھے ۔۔۔ کندھے بہت مضبوط اور چوڑے تھے ۔۔۔ شرٹ کے بازو اوپری کسرتی حصے میں پھنسے ہوۓ تھے ۔۔۔ جہاں سے رگیں تنی ہوٸ تھیں ۔۔۔ نظریں جھکی ہوٸ تھیں اور لبوں کو وہ پیاز کاٹتے ہوۓ بڑے پیارے انداز میں گول کر رہا تھا ۔۔۔ اسے نہیں خبر تھی وہ اس کے ہر انداز کو اتنے غور سے دیکھ رہی ہے ۔۔۔وہ مصروف سا اس کے دل میں اتر رہا تھا ۔۔۔
وہ اب ٹماٹر پیاز ۔۔۔ اور مرچ کو باٶل میں ڈال کر اس کے اوپر تین انڈے توڑ کر ڈال چکا تھا ۔۔۔ انڈے توڑنے کا انداز بھی بڑی مہارت لیے ہوۓ تھا ۔۔ حسنیٰ کو خیال آیا کہ اس سے تو ابھی تک انڈا بھی سہی سے نہیں ٹوٹتا تھا ۔۔ جب بھی توڑتی تھی تو انڈے کے چھلکے کا کوٸ نہ کوٸ ذرا انڈے میں ضرور گر جاتا تھا جسے وہ بعد میں نکالنے میں الجھن کا شکار ہوتی تھی ۔۔۔
” واٶ۔۔۔۔کیا بات ہے ۔۔۔ آپ کو کیسے آتا یہ سب “ ستاٸشی نظروں سے نعمان کی طرف دیکھتے ہوۓ وہ بے ساختہ کہہ گٸ
” جناب۔۔۔۔۔۔۔۔“ نعمان نے فراٸ پین کو چولہے پر چڑھاتے ہوۓ گہری سانس لے کر کہا ۔۔۔
” میری مام کا میں ایک ہی بیٹا ہوں ۔۔۔ اور وہ اکثر بیمار رہتی تھیں ۔۔۔ میں انھیں کام نہیں کرنے دیتا تھا پھر ۔۔۔ “ لبوں پر اپنی مخصوص جازب نظر مسکراہٹ سجا کر کہا ۔۔۔
آٸل کی باٹل اٹھا کر تھوڑا سا آٸل فراٸ پین میں انڈیلا ۔۔۔ اور املیٹ کے مواد کو پھر سے پھینٹنا شروع کیا۔۔۔
”ایسے ۔۔۔۔ ان کو دیکھتا رہتا تھا کام کرتے ہوۓ ان کی ہیلپ کرتا تھا “ باٶل کے اندر فورک چلاتے ہوۓ وہ مصروف سے انداز میں کہہ رہا تھا ۔۔۔
امیلٹ کو فراٸ پین میں انڈیلا ۔۔۔
” اس کا مطلب ہے آپ بہت اچھے بیٹے بھی ہیں “ حسنی نے شیلف کے سہارے پیچھے بازو دھر کر ہلکا سا جسم کو داٸیں باٸیں جنبش دے کر کہا ۔۔۔
نعمان نے بھنویں اچکا کر اس کی طرف دیکھا ۔۔۔ چہرے پر دلکش مسکراہٹ سجاۓ وہ اس کے جزبات کو اجاگر کر گٸ
نعمان ایک دم سے اس کے ارد گرد بازو دھر کر اسے حصار میں لے چکا تھا ۔۔۔ وہ اس طرح کی کسی بھی قسم کی حرکت کے لیے تیار نہیں تھی سٹپٹا سی گٸ ۔۔۔ اس کا چہرہ اتنا قریب تھا کہ پلکوں کی جھالر ایک دم سے گالوں پر گری ۔۔۔ اور سانس تیز ہوتی دھڑکنوں میں اٹک سا گیا ۔۔۔
” اور ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔اور کیا ہوں میں بہت اچھا ۔۔۔ “ بھاری سی بے خود سرگوشی تھی
” شو۔۔۔۔۔۔شوہر ۔۔۔۔۔ “ حسنیٰ نے مدھر سی آواز میں بمشکل کہا ۔۔
حسنی کی گھبراٸ سی حالت لرزتی پلکیں ۔۔ بلش ہوتے گال اور دل کے دھڑکنے کی آواز نعمان کے دماغ کی پھرکی گھومانے کا سبب بن رہی تھی ۔۔
نعمان کا چہرہ کان کے قریب ہوا تھا ۔۔۔ گرم سانسیں گردن تک جلا گٸ تھیں ۔۔۔
” ابھی بننے کب دیا ۔۔۔ سہی سے ۔۔۔“ ہلکی سی سرگوشی حسنیٰ کے پورے بدن میں ارتھ کی لہر کا کام کر گٸ تھی ۔۔۔
عجیب سا ہی کرنٹ تھا یہ ۔۔۔ میٹھا سا ۔۔ دل جیسے ایک دم سے اپنی جگہ سے نیچے جاتا اور ڈبکی لگا کر واپس آ جاتا۔۔۔ افف یہ احساس کبھی حازق کی کسی جسارت پر تو نہیں محسوس ہوا تھا ۔۔۔
” املیٹ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ املیٹ جل جاۓ گا ۔۔۔ “ حسنیٰ نے جھینپ کر نعمان کو ہوش دلایا
وہ جو اس کی اس شرماٸ سی حالت سے بے خود سا ہو کر محزوز ہو رہا تھا ۔۔ اس کے ایسے کہنے پر جیسے ایک دم سے ہوش کی دنیا میں واپسی ہوٸ ۔۔۔
” اوہ۔۔۔۔۔۔ پلیٹ دو ۔۔۔۔ “ جلدی سے املیٹ کو فراٸ پین میں ہی فولڈ کیا ۔۔۔ حسنیٰ نے بروقت یاد دلا دیا تھا ۔۔۔ ورنہ املیٹ واقعی ہی میں جل جاتا۔۔۔
حسنی نے شکر کی سانس لیتے ہوۓ ۔۔۔ جلدی سے پلیٹ اس کی طرف بڑھاٸ ۔۔۔ اس کی اتنی بے باک قربت سے حالت غیر ہو جاتی تھی ۔۔۔
اپنی سانسوں کی حالت بحال کرتے ہوۓ حسنی نے ٹوسٹر میں سے ٹوسٹ نکال کر پلیٹ میں رکھے ۔۔۔
” چلیں بیٹھیں ۔۔۔۔ “ امیلٹ کی پلیٹ کھانے کے میز پر رکھتے ہوۓ نعمان نے بھنویں اچکا کر کہا ۔۔۔
تھوڑی دیر پہلے والی خماری اب نعمان کی آنکھوں میں نہ دیکھ کر حسنیٰ نے سکھ کا سانس لیا
وہ حسنیٰ کے لیے کھانے کے میز کی کرسی کو پیچھے دھیکل کر اسے بیٹھنے کا اشارہ کر رہا تھا ۔۔۔ وہ مسکراتی ہوٸ کرسی پر بیٹھی اور میز پر کہنیوں کے بل چہرے کو ہاتھوں میں سجا کر دلچسپ انداز میں نعمان کو دیکھا ۔۔۔
کیا تھا۔۔۔ یہ شخص ۔۔۔۔۔ ایک تحفہ ۔۔۔ خدا کا ۔۔۔۔ اللہ ۔۔۔۔اللہ۔۔۔۔ کون سی نیکی ۔۔۔ کون سی بات میری ایسی تھی جو یہ محبتیں مل رہی مجھے ۔۔۔ میں تو گناہ گار ہوں ۔۔۔ خود غرض ۔۔۔ پتہ نہیں کتنے اپنوں کا دل دکھایا میں نے ۔۔۔ بھاٸیوں کو رسواٸ دی ۔۔۔ماں کی موت کا سبب بنی ۔۔۔ بہنوں کے لیے طعنوں کی وجہ بنی ۔۔۔ عصمت لٹاٸ ۔۔۔۔ اور یہ شخص ۔۔۔ یہ مجھے میری کس نیکی کے صلے میں ملا ہے ۔۔۔
” کھا خود لیں گی یا وہ کام بھی میں کروں ۔۔۔“ نعمان نے بھنویں اچکا کر دیکھا ۔۔۔
وہ جو کھوٸ سی بیٹھی تھی چونک کر ہوش میں آٸ ۔۔۔ نعمان ناشتہ کرنے میں مصروف تھا۔۔۔ وہ بھی بریڈ اپنی پلیٹ میں رکھنے لگی ۔۔۔
****************
” سنو ۔۔۔۔۔“ شہروزی نے جھجکتے ہوۓ کہا ۔۔۔
” جی ۔۔۔۔ کہیں ۔۔۔“ فاٸق نے چونک کر دیکھا اور پھر بھنویں حیرانگی کے انداز میں اچکا کر شہروزی کی طرف دیکھا ۔۔۔
وہ لیکچر کے کےبعد کلاس روم سے باہر نکل رہے تھے جب شہروزی نے فاٸق کو روکا ۔۔۔
” حسن ۔۔۔۔ حسن کیوں نہیں آ رہا یونیورسٹی ۔۔۔“ شہروزی نے پریشان سے لہجے میں لب کچلتے ہوۓ سامنے کھڑے فاٸق سے پوچھا ۔۔۔
ایک ہفتہ ہو گیا تھا ۔۔۔ حسن یونیورسٹی نہیں آ رہا تھا ۔۔ اس رات سے وہ بری طرح حسن کے بارے میں سوچنے لگی تھی ۔۔۔ باسط کو اور اس کے دوستوں کو پولیس گرفتار کر چکی تھی یونیورسٹی سے انھیں سپل کر دیا گیا تھا۔۔۔ اور یہ سب صرف حسن کی بدولت ممکن ہوا تھا ۔۔ وہ نہ چاہتے ہوۓ بھی حسن کی محبت میں گرفتار ہو چکی تھی ۔۔۔ روز یونیورسٹی میں اس دیکھنا شہروزی کو سکون دے جاتا تھا ۔۔۔لیکن اب ایک ہفتے سے وہ نظر نہیں آیا تھا تو وہ پاگل سی ہو گٸ تھی ۔۔۔ خود اپنی حالت ہی اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی ۔۔۔
” وہ ۔۔۔ حیدر آباد گیا ہے اپنے گھر “ فاٸق نے سنجیدہ سے لہجے میں مختصر جواب دیا ۔۔۔
” کب آۓ گا ۔۔۔۔ “ شہروزی کا وہی پریشان لہجہ تھا ۔۔۔
” اس کے فادر کی ڈیتھ ہو گٸ ہے ۔۔۔ کچھ کہہ نہیں سکتے ہیں ابھی “ فاٸق نے ماتھے پر بل ڈال کہا ۔۔۔
وسیم کی طرف دیکھا اور گردن ہلا کر اسے جانے کا اشارہ کیا ۔۔۔ انداز شہروزی سے بےزاری برتنے جیسا تھا ۔۔۔
” رکیں ۔۔۔۔۔۔“ شہروزی نے تیز تیز قدم ساتھ ملاتے ہوۓ پھر سے کہا ۔۔۔
29
” مجھے ان کے گھر کا فون نمبر چاہیے ۔۔۔۔ “ بے چینی سے فاٸق کی طرف دیکھا اور التجاٸ انداز میں کہا ۔۔۔
فاٸق نے ناک پھلا کر دیکھا۔۔۔ اسے یہ شہروزی اور کرن جیسی امیر کبیر لڑکیوں سے سخت نفرت تھی ۔۔۔ اسے لگتا تھا یہ لوگ غریب لوگوں کو انسان نہیں کیڑے مکوڑے سمجھتی ہیں ۔۔۔ جب چاہا سر پر بیٹھا لیا جب چاہا زمین پر پٹخ ڈالا
” پلیز ۔۔۔۔۔۔۔ “ شہروزی نے پھر سے منت کرنے کے انداز میں کہا
” میڈیم ۔۔۔ بات سنیں ۔۔۔۔ وہ ایک انتہاٸ شریف انسان ہے ۔۔۔ آپ اسے کسی مشکل میں ڈال دیں گی ۔۔۔ بہت اچھا ہو گا اگر آپ اس سے دور ہی رہیں گی تو ۔۔۔ “ فاٸق نے دانت پیستے ہوۓ کہا
” چلو وسیم۔۔۔۔۔“ ماتھے پر بل ڈال کر وسیم کی طرف دیکھا اور اسے جانے کا اشارہ کیا
شہروزی وہیں ہونق سی بنی انھیں جاتا دیکھ رہی تھی ۔۔۔ اب کہاں سے لوں نمبر ۔۔۔۔
*******
” بہت ہیلپ کر رہی ہے ویسے “ شہروزی نے مسکرا کر کہا۔۔
ایک نظر کچھ دور فاٸلز پر جھکی اور اپنے سامنے بیٹھی لڑکیوں کو ہدایت کرتی ہوٸ ہیر پر ڈالی اور پھر گہری سانس لے کر سامنے بیٹھے نعمان کی طرف دیکھا۔۔۔
نعمان نے کسمسا کرپہلو بدلہ۔۔۔۔ کوٹ کو اطراف سے پکڑ کر درست کیا جب کے لب ضبط کی وجہ سے ایک دوسرے سے ملے ہوۓ تھے۔۔۔
” جی۔۔۔۔ “ زبردستی لبوں پر مسکراہٹ سجا کر اس نے ہیر کی تعریف کی تاٸید کی ۔۔۔
ہیر کو کالج سے چھٹیاں تھیں اور وہ میگا فیشن ایونٹ کی تیاری کے سلسلے میں روز ہی شہروزی کی ساتھ آفس آ جاتی تھی ۔۔۔ نعمان اس سے چڑنے لگاتھا۔۔۔ وہ ہر وقت معنی خیز مسکراہٹ سجاۓ نعمان کو دیکھتی رہتی تھی ۔ ۔۔۔ اور مختلف جملے کس کر اس کے صبر کو آزماتی تھی
” نعمان ۔۔۔۔۔ آپ نے اپنی شادی کے بارے میں کیا سوچا ہے پھر ۔۔۔“ شہروزی نے گلا صاف کرتے ہوۓ نرم آواز میں کہا۔۔۔
وہ اب ہیر کو نعمان کے بہت قریب کرنے کی تمام کوششیں کر چکی تھی ۔۔۔ اب نعمان سے بات آگے بڑھانے کا وقت آ چکا تھا ۔۔۔ تو آج ہمت کر کے وہ نعمان سے اپنے دل کی بات کر ہی بیٹھیں تھی ۔۔۔
” میم۔۔۔۔۔ میں میرڈ ہوں ۔۔۔۔“ نعمان نے مسکرا کر کہا۔۔۔
وہ بلا وجہ اپنی پرسنل لاٸف کسی سے ڈسکس کرنے کا روادار نہیں تھا ۔۔۔ اس لیے آج سے پہلے اس نے مسز واصف کو کچھ بھی نہیں بتایا تھا ۔۔۔
” واٹ ۔۔۔۔ٹ۔۔۔ٹ۔۔۔۔۔ٹ۔۔۔۔“ شہروزی کی آنکھیں حیرت سے پھٹنے کو تھیں ۔۔۔
یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔ زبیر نے کبھی ایسی کوٸ بات نہیں بتاٸ تھی ۔۔۔کہ نعمان شادی شدہ ہے ۔۔۔ تو کیا اس نے ابھی ابھی شادی کی ہے ۔۔۔ اگر کی تو پھر بتایا کیوں نہیں ۔۔۔ ان گنت سوالات دماغ میں بھونچال مچانے لگےتھے ۔۔۔
” جی۔۔۔۔ میری شادی کو ایک سال ہو چکا ہے “ نعمان نے مسکراتے ہوۓ اگلا انکشاف کیا ۔۔۔
” یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔ مطلب تم تو اکیلے ۔۔۔“ شہروزی نے عجیب سے انداز میں پریشان ہوتے ہوۓ سوال کیا۔۔۔
چہرے ہر حیرت کے آثار ہنوز قاٸم تھے ۔۔۔
” نہیں ۔۔۔۔ میری مسز میرے ساتھ ہوتی ہیں ۔۔۔“ نعمان نے سنجیدہ سے انداز میں جواب دیا۔۔۔
” کب سے ۔۔۔۔“ ٹرانس میں شہروزی نے اگلا سوال کیا۔۔۔
سارا منصوبہ دھرا کا دھرا رہ گیا تھا۔۔۔ کتنا کچھ انھوں نے سوچا تھا کہ وہ ہیر سے شادی کروا کر نعمان کو گھر دآماد بنا لیں گی اور پھر آہستہ آہستہ سب کچھ اس کو سونپ دیں گی ۔۔۔ لیکن آج سب پر پانی پھر گیا تھا۔۔۔ دل عجیب سی اداسی کا شکار ہوا تھا۔۔۔
” وہ اپنے پیرنٹس کی طرف تھی ۔۔۔ابھی لاسٹ منتھ سے میرے ساتھ ہے“ نعمان کو ان کا کھویا کھویا سا انداز سمجھ میں نہیں آیا تھا۔۔۔ وہ ایسا کیوں کر رہی تھیں ۔۔۔
” آپ نے کبھی ۔۔۔ ذکر ۔۔۔۔“ شہروزی کی آواز گھٹی گھٹی سی تھی ۔۔
اچانک شہروزی کی نظر نعمان کے بلکل پیچھے ساکن کھڑی ہیر پر پڑی ۔۔۔ وہ کچھ کہتے کہتے رک سی گٸ تھیں ۔۔۔ وہ ان کی باتیں شاٸد سن چکی تھی ۔۔۔
” میم۔۔۔۔۔ ضرورت محسوس نہیں ہوٸ ۔۔۔“ نعمان نے معدب انداز میں کہا۔۔۔
اچانک رخ موڑ کر دیکھا تو ہیر ایسے کھڑی تھی جیسے جسم میں جان نہ ہو۔۔۔۔۔ زرد چہرہ لیے ۔۔۔ وہ اپنے مخصوص انداز میں تھی ۔۔۔ گھنگرالے بال کندھوں پے بکیھرے ۔۔۔ چھوٹی سی ٹی شرٹ کے نیچے تنگ جینز زیب تن کیے ۔۔۔۔
نعمان نے آنکھیں چرا کر شہروزی کی طرف دیکھا۔۔۔
” میم میں جاٶں ۔۔۔“ فاٸلز اور اپنے موباٸل کو اٹھاتے ہوۓ نعمان نے اجازت طلب نظروں سے شہروزی کی طرف دیکھا۔۔۔
” جی۔۔۔۔ جی۔۔۔۔ آپ جا سکتے ہیں ۔۔۔۔“ شہروزی نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔
اور گہری سانس لی ۔۔۔۔ اب کیا کروں گی میں ۔۔۔
نعمان ہیر کے چہرے پر ایک بھی نظر ڈالے بنا ۔۔۔ بے نیازی سے پاس سے گزر گیا تھا۔۔۔
اور وہ ساکت سی کھڑی تھی۔۔۔ یہ جھوٹ بول رہا ہے ۔۔۔ صرف مجھے سنا رہا ہے ۔۔۔ اس کی شادی کیسے ہو سکتی ہے ۔۔ ہیر کا ذہن الجھ کر رہ گیا تھا۔۔۔
اور سامنے کرسی کو گول گول گھوماتی شہروزی اپنی جگہ سوچ میں ڈوبی تھی ۔۔۔ جو بھی تھا نعمان ان کا بیٹا تھا۔۔۔ اور اب ان کے دل میں نعمان کی بیوی کو دیکھنے کی خواہش امڈ آٸ تھی ۔۔۔
***********
” ہیلو ۔۔۔“ خوبصورت سی مردانہ آواز فون میں سے ابھری تھی ۔۔۔
” ہیلو ۔۔۔۔۔۔“ شہروزی نے دھڑکتے دل کو سنبھالتے ہوۓ مدھر سی آواز میں کہا ۔۔۔
فاٸق کے بجاۓ ۔۔۔ وسیم کی منت کرنے پر شہروزی کو حسن کے گھر کا نمبر مل ہی چکا تھا ۔۔۔ اور اب دوسری طرف سے تین دفعہ نمبر ملانے کے بعد کہیں جا کر حسن کی آواز سناٸ دی تھی ۔۔۔ پہلے دو دفعہ کسی لڑکی نے فون اٹھایا تھا ۔۔ جس کی آواز سنتے ہی اس نے فون بند کر دیا تھا ۔۔۔
اس کی آواز سننے کے بعد دوسری طرف خاموشی چھا گٸ تھی ۔۔۔ حسن نے اس کی آواز پہچان لی تھی ۔۔۔
” میں شہروزی۔۔۔۔ بات کر رہی ہوں “ شہروزی نے خاموشی کے سکوت کو توڑا۔۔۔
وہ اپنی حویلی کے شاندار لاونج میں سنہری رنگ کے فون کے ریسور کو کان سے لگاۓ پاس پڑے صوفے پر بیٹھی تھی ۔۔۔
” آپ ۔۔۔۔ آپ کو کہاں سے ملا میرا نمبر ۔۔۔۔“ حسن کی آواز حیرت لیے ہوۓ تھے ۔۔۔
” آپ کے فادر کا سن کر بہت افسوس ہوا“ بہت آہستہ سی آواز میں شہروزی نے کہا
” جی۔۔۔۔۔۔ “ گہری سانس لی تھی حسن نے ۔۔۔
” حسن ۔۔۔۔ آپ کب واپس آٸیں گے ۔۔۔۔“ لب کچلتے روہانسی سی آواز میں پوچھا ۔۔۔
دوسری طرف پھر خاموشی تھی ۔۔۔ شہروزی کی ہلکی سی سسکی کی آواز ابھری تھی ۔۔۔ وہ دل کے ہاتھوں بری طرح مجبور ہو چکی تھی ۔۔۔
” شہروزی۔۔۔۔۔ شہروزی۔۔۔۔ رو کیوں رہی ہیں۔۔۔۔“ حسن کی بے چین سی آواز ابھری تھی۔۔۔
وہ جتنا بھی مضبوط تھا ۔۔۔ لیکن دل تو مضبوط مرد کا بھی اسی مٹی سے سینچا ہوتا ہے جس سے عورت کا ۔۔۔ وہ نا چاہتے ہوۓ بھی شہروزی کی محبت میں گرفتار تھا ۔۔۔
” معلوم ۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔ “ شہروزی نے آنسوٶں میں رندھی بھاری آواز میں کہا ۔۔۔
” پلیز ۔۔۔۔ رونا بند کریں ۔۔۔۔ مجھے پریشانی ہو رہی ہے ۔۔۔“ حسن کی آواز میں اس کے اندر کی گھبراہٹ صاف واضح تھی ۔۔۔
” آپ واپس کب ۔۔۔ آٸیں گے ۔۔۔“ وہ با قاعدہ رو رہی تھی ۔۔۔
” کچھ پرابلمز ہیں گھر میں ۔۔۔ “ وہ شہروزی کے جزبات سے گھبرا گیا تھا۔۔۔
بے شک وہ اپنے دل میں اس کے لیے جزبات پنپنے لگا تھا لیکن وہ اتنا مضبوط ضرور تھا کہ اپنے جزبات پر قابو پا سکتا تھا ۔۔۔ وہ جانتا تھا ۔۔۔ کہ اس میں اور شہروزی میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔۔۔ اور وہ چاہ کر بھی ایک نہیں ہو سکتے تو بے کار میں اس رشتے کو بڑھا کر تکلیف میں آنا عقل مندی نہیں تھی ۔۔۔
” کیا پرابلمز ہیں جو سولو نہیں ہو رہی ۔۔۔ پلیز جلدی آ جاٸیں ۔۔۔“ شہروزی نے آنسو صاف کرتے ہوۓ حق جتانے جیسے انداز میں کہا ۔۔
یہ حق جتانے کا احساس اسے شاٸد حسن کی نظروں میں سے جھلکتی محبت نے دیا تھا ۔۔۔
” دیکھیں میں تین بہنوں کا اکلوتا بھاٸ ہوں ۔۔۔ میرے ابو کی ڈیتھ ہوٸ ہے ریسنٹلی “ حسن نے زبردستی لہجے میں سختی لا کر کہا ۔۔۔
دوسری طرف حسن کے اتنے سخت رویے پر خاموشی سی چھا گٸ تھی۔۔۔۔
” میں سمجھ سکتی ہوں ۔۔۔۔ پر ۔۔۔ “ آہستہ سی روہانسی آواز میں کہا
” پر کیا ۔۔۔۔ “ حسن نے سخت لہجہ اپنایا ۔۔۔
” ۔۔۔آٸ ۔۔۔ مس یو ۔۔۔ “ شہروزی نے روتے ہوۓ کہا ۔۔۔
حسن نے فوراً ریسیور فون پر پٹخ دیا تھا ۔۔۔
********
” افف۔۔۔۔۔۔“ نعمان نے بے ساختہ ہاتھ کو دل پر رکھ کر ڈھنے کے سے انداز میں کہا ۔۔۔
آنکھوں میں شرارت اور لبوں پر دلکش مسکراہٹ دباۓ وہ حسنی کے بلکل سامنے آ کر کھڑا ہوا تھا ۔۔۔ راٸل بلیو لمبی فراک کو زیب تن کیے وہ سنگہار میز کے سامنے کھڑی سنہری چھوٹی چھوٹی جھمکیاں کانوں میں پہن رہی تھی جب نعمان گہرے گرے رنگ کے تھری پیس سوٹ میں غضب ڈھاتا ہوا کمرے میں داخل ہوا۔۔۔
” کیا ہوا۔۔۔۔۔“ نعمان کے والہانہ پن پر جھینپ کر گھٹی سی آواز ہی نکل پاٸ تھی۔۔۔
” مار ڈالنے کا ارادہ ہے کیا ۔۔۔۔“ سنگہار میز سے پشت ٹکا کر سینے پر ہاتھ باندھے اور گہری سانس لیتے ہوۓ کہا ۔۔۔
جبکہ گہری بے خود سی آنکھیں حسنیٰ کے جان لیوا سراپے کا جاٸزہ لینے میں مصروف تھیں۔۔۔
” نعمان۔۔۔۔۔ میرا جانا کیا بہت ضروری ہے ۔۔۔“ کانوں میں جھمکی ڈالتے ہوۓ صبح سے سو دفعہ پوچھا ہوا سوال وہ پھر سے نعمان سے پوچھ رہی تھی۔۔۔
نعمان نے آگے بڑھ کر جھمکی اس کے ہاتھ سے لے لی تھی جسے وہ پچھلے پانچ منٹ سے کانوں میں پہننے کے لیے کوشاں تھی ۔۔۔
آج واصف ٹیکسٹاٸل میں میگا فیشن ایونٹ تھا جو بہت بڑے پیمانے پر منعقد کیا گیا تھا ۔۔۔ جس میں پورے پاکستان اور کچھ فارنرز بڑے بڑے لوگوں کو مدعو کیا گیا تھا۔ شہروزی کو جس دن سے حسنیٰ کا معلوم ہوا تھا وہ اس دن سے نعمان کے ساتھ بضد تھیں کہ وہ اس تقریب پر اسے ضرور لے کر آۓ ۔۔۔
”مسز واصف ۔۔۔۔ بہت اسرار کر رہی ہیں ۔۔۔۔ وہ روز مجھے کہتی تھیں ۔۔۔ “ نعمان نے نرمی سے کان کے پیچھے جھمکی کے لاک کو بند کیا۔۔۔
حسنیٰ نے اس کی انگلیوں کی پوروں کے نرم لمس پر دھیرے سے آنکھیں بند کی تھیں ۔۔۔
” تمہیں بتا رکھا ہے نہ کتنے احسانات ہیں ان کے مجھ پر ۔۔۔۔“ نعمان نے اس کے اور اپنے سراپے کو ستاٸشی نظروں سے سامنے لگے شیشے میں دیکھا۔۔۔
” ہمممم۔۔۔۔“ حسنیٰ مسکرا دی تھی ۔۔۔
” چلیں اب ۔۔۔۔“ نعمان نے ہاتھ کا اشارہ دروازے کی طرف کیا ۔۔۔
” جی ۔۔۔۔۔ “ وہ سمٹی سی اس کے ساتھ چل پڑی تھی ۔۔۔
کتنے عرصے بعد وہ اتنا تیار ہوٸ تھی ۔۔۔ خود کو ہی عجیب سا لگ رہا تھا۔۔۔لیکن نعمان کا بار بار پر شوق نگاہوں سے دیکھنا دل کو بھا گیا تھا۔۔۔
کار ایک بہت ہی خوبصورت ہوٹل کے لیگژری پنڈال کے آگے رکی تھی ۔۔۔ وہ بڑے پرسکون انداز میں اپنے محافظ کے بغل میں چلتی ہوٸ اندر داخل ہوٸ تھی ۔۔۔
قہقے جلترنگ ہر جگہ روشنیاں اور خوشبویں تھیں ۔۔۔ بڑے سے ریمپ پر کچھ ماڈل رہیلسل کر رہی تھیں ۔۔۔ نعمان حسنیٰ کا ہاتھ تھامے مسز واصف کے بلکل سامنے آ گیا تھا ۔۔۔
” اسلام علیکم ۔۔۔۔۔ “ نعمان نے قریب جا کر مہدب انداز میں کہا ۔۔۔
شہروزی کسی سے بات کرنے میں مصروف تھیں چونک کر متوجہ ہوٸیں ۔۔۔
” وعلیکم سلام ۔۔۔۔۔ یہ ۔۔۔۔ حسنیٰ ۔۔۔“ ان کی آنکھیں خوشگوار حیرت لیے ہوۓ تھیں ۔۔۔ اور انگلی کا اشارہ حیران ہوتے ہوۓ حسنیٰ کی طرف کیا ۔۔۔
” جی۔۔۔۔۔ “ نعمان نے لبوں کو منہ کے اندر کرتے ہوۓ مسکراہٹ دباٸ ۔۔۔
اور ایک شریر سی نظر اپنے ساتھ کھڑی حسنیٰ پر ڈالی ۔۔۔
اور تھوڑا سا خجل ہو کر کان کھجایا۔۔۔۔
” آٸ ۔۔۔ایم ۔۔۔ سر پراٸزڈ نعمان ۔۔۔۔ شی از ۔۔۔۔ پریٹی ۔۔۔۔ “ شہروزی کی آنکھیں چمک رہی تھیں ۔۔۔
حسنیٰ نے مسکرا کر نظریں جھکا لیں تھیں۔۔۔ نعمان کا قہقہ فضا میں گونج کر اس کی دل کی خوشی کی گواہی دے گیا تھا ۔۔۔
” جی۔۔۔۔۔ “ وہ کِھل ہی تو اٹھا تھا حسنیٰ کی تعریف شہروزی سے سن کر ۔۔۔
” حسنیٰ۔۔۔۔ چلو میرے ساتھ ۔۔۔ سب سے ملواتی ہوں تمہیں۔۔۔“ شہروزی نے پر شوق انداز میں حسنیٰ کا ہاتھ تھاما تھا ۔۔۔
ایک انوکھا سا احساس تھا اس کے لیے ۔۔۔ نعمان سے جڑی ہر چیز اسے پیاری تھی ۔۔۔ بہت پیاری تھی ۔۔۔ وہ حسنیٰ کو مختلف لوگوں سے ملوانے کے لیے ہاتھ پکڑے نعمان سے دور لے گٸ تھیں ۔۔۔ وہ مسکراتی ہوٸ شہروزی کے ساتھ سب کو مل رہی تھی۔۔۔
کتنی عجیب بات تھی اسی کمپنی میں وہ ورکر تھی ۔۔۔ جس کی کوٸ حثیت نہیں تھی اور آج وہ اس کمپنی کے ایم ڈی کی مسز تھی اور لوگ اسے ستاٸشی نظروں سے دیکھتے ہوۓ سراہا رہے تھے ۔۔۔
” حسنیٰ ۔۔۔ تم رکو میں آتی ہوں ۔۔۔“ شہروزی اسے ایک صوفے پر بیٹھا کر ساڑھی کا پلو سنبھالتی کسی آدمی کی طرف بڑھ گٸ تھیں جو کچھ فاٸلز ان کو دکھا رہا تھا ۔۔۔
” واٹ ۔۔۔آا۔۔۔ ۔۔۔ پلیزنٹ سر پراٸیز ٹو سی یو ۔۔۔ ہیر ۔۔۔“ کھردری سی مردانہ آواز حسنیٰ کے اطراف سے ابھری تھی ۔۔۔
حسنیٰ نے آواز کے تعاقب میں گردن موڑی تھی ۔۔۔ اور آنکھیں پھٹنے کے انداز میں کھل گٸ تھیں ۔۔۔
جبار اپنے بھیانک سراپے کے ساتھ سامنے کھڑا تھا۔۔۔ ۔۔۔ وہی گندے سے دانت اور عجیب گھن زدہ وجود۔۔۔
حسنیٰ نے تڑپ کر ارد گرد نظر دوڑاٸ ۔۔۔ اور خون جیسے خشک ہوا۔۔۔ نعمان مسکراتا ہوا اس کی طرف ہی آ رہا تھا۔۔۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: