Husna Novel by Huma Waqas – Episode 16

0
حسنیٰ از ہما وقاص – قسط نمبر 16

–**–**–

” یہاں آج کیسے۔۔۔۔ حازق وہاب نظر نہیں آ رہا“ جبار نے قریب ہو کر خباثت سے کہا۔۔۔
اس کی آنکھیں غلاظت سے بھری ہوٸ تھیں ۔۔۔ لب مسکرا رہے تھے ۔۔۔ حسنیٰ کی آنکھوں کے آگے سے سارے لمحے گزر گۓ ۔۔۔
وہ لرز گٸ تھی۔۔۔ چہرہ زرد اور قدم جامد ہوۓ تھے۔۔۔نعمان مسکراتا ہوا آ رہا تھا اس کا ہر اٹھتا قدم حسنیٰ کی روح فنا کررہا تھا ۔۔۔ گلابی سے گال سفید ہوۓ تھے ۔۔۔ وہ چند قدم کی دوری پر تھا اور اسے لگ رہا تھا وہ یہیں گر جاۓ گی ۔۔۔
” یا کسی کے کنٹرکیٹ میں ہو آجکل۔۔۔۔میں ایک اور ڈیل فاٸنل کرنے جا رہا ہوں وہاب پسٹی ساٸیڈز کے ساتھ “ جبار نے اپنے داہنے ہاتھ کی انگلیوں کو خباثت سے لبوں کے نیچے پھیرا ۔۔۔
وہ نعمان کی آمد سے بلکل انجان حسنیٰ پر غلیظ نظریں گاڑے کھڑا تھا ۔۔۔
نعمان قریب پہنچ چکا تھا۔۔۔۔ اور حسنیٰ کا دماغ ساٸیں ساٸیں کرنے لگا ۔ ۔۔۔۔۔۔ ایک دم سے دل میں حبس سا ہوا۔۔۔ ایسے جیسے کوٸ گلا گھونٹ رہا ہو ۔۔۔ ماتھے پر پسینے کے قطرے ابھر گۓ تھے۔۔۔
” حسنی۔۔۔۔۔۔“ نعمان دلکش مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ ان کے بلکل سامنے آ کر کھڑا ہوا۔۔۔
” اوہ ۔۔۔۔۔۔ تو اس کے ساتھ۔۔۔۔ “ جبار نے معنی خیز انداز میں کہا اور شیطانی انداز میں ایک آنکھ کے آبرو کو اوپر چڑھایا ۔۔۔
حسنیٰ نے چونک کر نعمان کی طرف دیکھا ۔۔۔ دماغ میں سیٹی بجی۔۔۔۔۔۔نعمان نے نا سمجھی کے انداز میں اس کے پریشان چہرے کی طرف دیکھا اور پھر جبار کی طرف دیکھا ۔۔۔
حسنیٰ حواس باختہ ہو چکی تھی ۔۔۔ بس ختم سب کچھ ۔۔۔ذہن کی یہ آخری بازگشت تھی ۔۔۔ اس کے بعد وہ ماٶف ہو گیا بس پھر تو ایک انجان سی طاقت آٸ تھی جس کے زیر اثر وہ بھاگی تھی وہاں سے ۔۔۔
حسنیٰ تیز تیز قدم اٹھاتی وہاں سے چلی تھی ۔۔۔۔ وہ پنڈال کی رہداری سے باہر کی طرف قدم اٹھا رہی تھی۔۔۔۔
” حسنیٰ۔۔۔۔۔۔۔۔حسنیٰ ۔۔۔۔۔ “ نعمان نے نا سمجھی کے انداز میں ایک نظر جبار پر ڈالی جو اب کسی اور آدمی کے آنے پر اس کے گلے مل رہا تھا ۔۔۔
نعمان حیران سا کھڑا رہ گیا تھا۔۔۔۔۔ بازو ہوا میں معلق تھا جو اس نے حسنیٰ کو روکنے کے لیے بڑھایا تھا۔۔
اتنی دیر میں حسنیٰ پنڈال کے داخلی حصے تک پہنچ چکی تھی ۔۔۔ نعمان نے پریشان سا ہو کر اس کے پیچھے دوڑ لگاٸ تھی ۔۔۔
” روکو۔۔۔۔۔ کیا ہوا ۔۔۔۔ حسنیٰ۔۔۔۔ “ وہ اسے آوازیں دے رہا تھا لیکن وہ تو جیسے دیوانہ وار بھاگی جا رہی تھی ۔۔۔
پنڈال سے نکل کر وہ ہوٹل کے کوریڈور کی طرف بھاگ رہی تھی ۔۔۔ یہ بہت بڑا فاٸیو سٹار ہوٹل تھا جو سات منزلہ عمارت پر مشتمل تھا ۔۔۔
” کہاں جارہی ہو یہ۔۔۔۔“ نعمان نے اونچی آواز میں کہا ۔۔۔ اور اپنے قدم اور تیز کیے ۔۔۔
حسنیٰ پیچھے مڑ کر دیکھ تک نہیں رہی تھی ۔۔۔وہ پاگلوں کی طرح آوازیں دے رہا تھا۔۔۔ لیکن حسنیٰ کو اس لمحے کچھ بھی سناٸ نہیں دے رہا تھا۔۔۔۔ یہ بلکل وہی کفیت تھی جو اس رات اس پر مونال میں طاری ہوٸ تھی۔۔۔ وہ ایسے تھی جیسے کسی نے ہپنوٹاٸز کر رکھا ہو۔۔۔۔
کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا آخر کو اسے ہوا کیا ۔۔ وہ کیوں اس طرح انجان جگہ پر بھاگ رہی تھی اور ہوٹل سے باہر جانے کے بجاۓ اندر کی طرف کیوں بھاگ رہی تھی ۔۔۔ جیسے ہی نعمان اس کے پیچھے کوریڈور میں پہنچا وہ مین ھال کی لفٹ کی طرف بڑھ رہی تھی ۔۔۔
” حسنیٰ کیا ہوا ہے تمہیں ۔۔۔۔ “ نعمان نے کوریڈور کے داخلی دروازے کے پاس کھڑے ہو کر آواز لگاٸ
وہ جتنی قوت سے بول سکتا تھا اتنی قوت لگا رہا تھا۔۔۔۔
لکین وہ تو جیسے ٹرانس میں تھی ۔۔۔ اسے سن ہی نہیں رہی تھی ۔۔۔ لفٹ بند ہو چکی تھی جب تک نعمان لفٹ تک پہنچا ۔۔۔ تیزی سے سیڑھیوں کا رخ کیا۔۔۔ ہر منزل پر لفٹ رکنے کے بجاۓ اوپر جا رہی تھی ۔۔۔ نعمان ہانپتا ہوا سیڑھیاں چڑھ رہا تھا ۔۔۔
وہ بےحال تھا۔۔۔۔۔ ذہن پریشان تھا تو دل کی حالت عجیب ہوٸ تھی ۔۔۔۔
وہ اتنی رفتار سے چڑھ رہا تھا ۔۔۔ کہ اس کا سانس بری طرح پھولنے لگا تھا ۔۔۔
آخری منزل پر لفٹ رکنے کے بعد وہ ہوٹل کے چھت پر آ چکی تھی ۔۔۔ ساکن چہرہ ۔۔۔ زرد رنگت لیے ہوۓ ۔۔ جبار کے قہقے ۔۔۔ ذہن میں گونج رہے تھے ۔۔۔۔ حازق کے الفاظ ۔۔۔۔۔ اس کی ہنسی ۔۔۔۔۔ مونال کی اونچاٸ ۔۔۔۔ اس کی درد بھری چیخیں ۔۔۔۔
بدبو کے بھبکے ۔۔۔۔ گھن زدہ لمس ۔۔۔۔ روح کی بے حرمتی ۔۔۔ بند کمرہ۔۔۔۔۔۔ کمرہ کے باہر گارڈ۔۔۔۔ پارلر کا چینجنگ روم ۔۔۔۔۔ سیاہ گاٶن۔۔ تیزی سے آتی گاڑی ۔۔۔۔ اور اس کا اچھل کر ایک طرف گرنا۔۔۔۔۔
مجھے زندہ نہیں رہنا ۔۔۔۔ وہ چھت کی چھوٹی سی چار دیواری کی طرف بڑھ رہی تھی ۔۔۔
سب ختم ہو گیا ۔۔۔۔ سوچا تھا نعمان سے سب چھپا کر نۓ سرے سے ایک زندگی شروع کروں گی لیکن ۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔ مجھ جیسی لڑکی کی سزا اتنی کم کیسے ہو سکتی ہے ۔۔۔۔ کیسے۔۔۔۔۔ آج اس شخص کی نظر میں بھی میرے لیے نفرت ہو گی جس کی آنکھوں میں میں نے بے پناہ پیار دیکھا اپنے لیے ۔۔۔۔
نہیں ۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔۔ مجھے یہ سب دیکھنے سے پہلے ہی مر جانا چاہیے ۔۔۔۔ وہ دیوار کے کنارے کے بلکل پاس آ چکی تھی ۔۔۔۔
چھت ہر ہوا کا دباٶ بہت زیادہ تھا ۔۔۔بال بری طرح اڑ رہے تھے ۔۔۔۔
” حسنیٰ۔۔۔۔۔۔۔ کیا۔۔۔۔۔ کیا کر رہی ہو یہ۔۔۔۔ کیا ہوا ہے تمہیں “ نعمان پوری قوت سے چیخا تھا ۔۔۔
وہ بے حال سا پیٹ پر ہاتھ رکھے کچھ فاصلے پر کھڑا ہانپ رہا تھا ۔۔۔حسنیٰ ایک لمحے کو ساکن ہوٸ تھی لیکن اس کے بعد وہ ایک پاوں دیوار پر رکھ چکی تھی۔۔۔
نعمان کے رونگٹے کھڑے ہوۓ تھے ۔۔۔۔۔حیرت سے آنکھیں باہر تھیں ۔۔۔۔ وہ بری طرح پسینے میں بھیگا ہوا تھا ۔۔۔ ایک لمحے کی بھی دیر کیے بنا وہ حسنیٰ کے کودنے سے پہلے اس کے بازو کو دبوچ کر پوری قوت سے اپنی طرف کھینچ چکا تھا ۔۔۔
” مجھے مرنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ مجھے مرنا ہے ۔۔۔۔۔“ وہ پاگلوں کی طرح چیخی تھی ۔۔۔۔
اور اپنی پوری قوت لگا کر نعمان سے اپنا بازو چھڑوا رہی تھی ۔۔۔
نعمان کی پینٹ کی جیب میں رکھا فون بل بجا رہا تھا۔۔۔۔۔
” حسنیٰ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا ہے ۔۔۔ کیوں کہہ رہی ایسے “ نعمان اسے پکڑ کر دیوار سے دور لے کر جا رہا تھا ۔۔۔۔
وہ پاگلوں کی طرح بازو چھڑوانے میں کوشاں تھی ۔۔۔ بال بکھر گۓ تھے ۔۔۔ آنسو سے کاجل پھیل چکا تھا ۔۔۔
فون کی رنگ بند ہوٸ تھی بج بج کر ۔۔۔۔
” مجھے مر جانے دو ۔۔۔۔۔۔ میں اس قابل نہیں کہ میں زندہ رہوں ۔۔۔“ بھاری آواز میں بلکتے ہوۓ حسنیٰ نے کہا ۔۔
وہ اس وقت کسی ذہنی مریض کی سی لگ رہی تھی ۔۔۔ نعمان حیرت اور پریشانی کی حالت میں بری طرح اسے قابو کرتے ہوۓ دیوار سے دور لے آیا تھا۔۔۔
” اس دن بابا نے کیوں بچایا مجھے ۔۔۔۔۔“ وہ بلک رہی تھی ۔۔۔۔۔اور بری طرح بازو کھینچ رہی تھی ۔۔۔
اس کے رونے کی آواز بلکل ایسے تھے جیسے کوٸ جانور زبح کرنے کے وقت آواز نکالتا ہے ۔۔۔۔
نعمان نے بازو چھوڑ کر اس کو کمر سے جکڑ لیا تھا۔۔۔۔ وہ پاگلوں کی طرح رو رہی تھی اونچا اونچا ۔۔۔۔ نعمان کا دل دہل گیا ۔۔۔
” حسنیٰ۔۔۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔ مجھے بتاٶ سب ٹھیک تھا اچانک کیا ہوا “ پریشان حال آواز میں کہا ۔۔۔۔
وہ رو رہی تھی اونچا ۔۔۔۔اونچا۔۔۔۔۔ جیسے کوٸ بچہ بلک رہا ہو۔۔۔ گلے سے آواز پھٹنے جیسی نکل رہی تھی ۔۔۔ نعمان خوف زدہ ہوا۔۔۔
اسے جھنجوڑنے پر بھی وہ ہوش میں نہیں آ رہی تھی ۔۔۔اسی انداز میں روۓ چلی جا رہی تھی ۔۔۔ نعمان بے حال سا ہو چلا تھا اسے سنبھالتے ہوۓ ۔۔۔۔۔۔۔وہ مسلسل اپنے آپ کو چھڑوانے کی کوشش میں تھی ۔۔۔
نعمان کی جیب میں فون کی رنگ پھر بجنے لگی تھی۔۔۔۔۔
نعمان کے ضبط کا پیمانہ لبریز ہوا۔۔ ایک جھٹکے سے اس کی کمر چھوڑ کر اس کو بازو سے پکڑ کر سیدھا کیا ۔۔۔
” حسنیٰ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “ اپنی پوری قوت سے اس نے تھپڑ لگایا تھا۔۔۔
یہ آخری حل تھا اس کو اس حالت سے باہر لانے کا ۔۔۔وہ ایک دم سے ساکن ہوٸ تھی ۔۔۔ تڑپتا جسم جیسے مجسمے میں تبدیل ہوا ہو ۔۔۔
نعمان کا تھپڑ اتنا زور دور تھا حسنیٰ کا کان بند ہو گیا تھا اور ایک سیٹی جیسی آواز گونج رہی تھی بس
” بتاٶ مجھے ۔۔۔۔۔ “ نعمان پوری قوت سے دھاڑا تھا ۔۔۔
وہ لرز کر ہوش میں آٸ ۔۔۔۔
” میں آپ کے قابل نہیں ہوں ۔۔۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔۔ کسی کے قابل نہیں ہوں ۔۔۔۔“ وہ بھی اسی انداز میں چیخی تھی۔۔۔۔
آواز پھٹ رہی تھی۔۔۔ آنکھیں سرخ تھیں بال چھت پر چلنے والی ہوا کی وجہ سے بکھر گۓ تھے کاجل بری طرح گالوں پر بہہ رہا تھا ۔۔۔
” ایسے کیوں کہہ رہی ہو۔۔۔“ نعمان نے حیرت زدہ انداز میں کہا ۔۔۔
اور ذہن عجیب کشمکش کا شکار ہو چکا تھا۔۔۔ حسنیٰ مردہ جیسی حالت میں آ گٸ تھی ۔۔۔ اب وہ رو نہیں رہی تھی چیخ نہیں رہی تھی ۔۔۔ نعمان حیرت اور نا سمجھی سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ خاموشی جیسے وحشت کا منظر پیدا کر رہی تھی ۔۔۔
چھت اندھیرے میں ڈوبی ہوٸ تھی ۔۔۔ اور حسنیٰ اس وقت عجیب سی بد روح جیسی لگ رہی تھی ۔۔۔
” جب میں آپ سے طلاق کا کہہ کر واپس حازق کے پاس گٸ ۔۔۔ “ وہ سپاٹ لہجے میں بولی تو جیسے چھن سے خاموشی کا سکوت ٹوٹا ۔۔۔
نعمان جو خیالات کے تانے بانے میں الجھا کھڑا تھا چونک کر ہم تن گوش ہوا۔۔۔
” تو وہ مجھے ایک بہت بڑی بزنس پارٹی میں لے کر گیا ۔۔۔۔ اور “ حسنیٰ کی آواز گھٹ گٸ تھی ۔۔۔۔۔
” اور کیا۔۔۔۔۔ “ نعمان کی آواز کسی کنویں سے آتی محسوس ہوٸ تھی۔۔۔
حسنیٰ پھر سے اونچا اونچا رونے لگی تھی ۔۔۔اتنا اونچا کہ نعمان کے رونگٹے کھڑے ہو چکے تھے۔۔۔
” اور کیا۔۔۔۔ حسنیٰ۔۔۔۔۔ بولو۔۔۔۔۔۔ اور کیا۔۔۔ “ وہ بری طرح حسنیٰ کو جھنجوڑ رہا تھا۔۔۔
” اس نے ایک ڈیل کے بدلے مجھ۔۔۔ مجھے۔۔۔۔ “ بلکتے ہوۓ بچوں کی طرح کہا ۔۔۔
” مجھے جبار کے حوالے کر دیا تھا۔۔۔۔۔ “ آخری جملہ بولتے ہی نعمانکے ہاتھ کی اس کے بازو پر سے گرفت ڈھیلی ہوٸ تھی ۔۔۔
اور وہ تو جیسے اس کے پکڑنے کی وجہ سے ہی کھڑی تھی جیسے ہی گرفت ڈھیلی ہوٸ وہ بے جان کپڑے کے پتلے کی طرح زمین پر گری تھی۔۔۔
30
” ۔۔۔۔۔ ۔۔میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہی ۔۔۔۔ میں خود سے بھی نظر ملانے کے قابل نہیں رہی“ وہ بڑ بڑاٸ تھی اور پھر چت زمین پر ایک طرف کو لڑھک گٸ تھی ۔۔۔
نعمان جو ساکن کھڑا تھا ۔۔۔ اس کے یوں ایک دم سے ڈھیر ہونے پر تڑپ کر گھٹنوں کے بل نیچے بیٹھا ۔۔
” حسنیٰ۔۔۔۔ “ اس کے گال تھپتھپاۓ ۔۔۔
وہ بے ہوش ہو چکی تھی شاٸد ۔۔۔ نعمان کی ریڑھ کی ہڈی میں جیسے خوف کی لہر دوڑ گٸ تھی ۔۔۔
فون پھر سے بج اٹھا تھا۔۔۔۔ اس نے عجلت میں پینٹ کی جیب سے فون نکال کر کان کو لگایا۔۔۔۔
” ہیلو“ ۔۔۔ پریشان سی گھٹی سی آواز میں کہا
” میم ۔۔۔۔ میری مسز کی طبیعت کچھ اپ سیٹ ہو گٸ ہے۔۔۔معزرت مجھے جانا ہو گا“ جلدی سے کہہ کر فون بند کیا۔۔۔۔
دوسری طرف شاٸد شہروزی تھی جو اس کے یوں اچانک سے غاٸب ہو جانے پر استفسار کر رہی تھی ۔۔۔
نعمان کو خود نہیں پتا چل رہا تھا وہ کیا بول رہا ہے ۔۔۔ موباٸل کو پھر سے جیب میں رکھنے کے بعد حسنیٰ کو گود میں اٹھاۓ وہ لفٹ کی طرف بڑھ رہا تھا ۔۔۔
*************
” شہروزی۔۔۔۔ یہ پاگل پن ہے صرف“ حسن نے ایک جھٹکے سے کتاب پر سے شہروزی کے ہاتھ کو جھٹکا تھا۔۔۔ چور نظر سے ارد گرد دیکھا ۔۔۔
اور دانت پیستے ہوۓ سرگوشی کے انداز میں کہا۔۔۔
وہ اس وقت لاٸبریری میں بیٹھا تھا ۔۔۔ جب شہروزی اس کے سر پر آ کر کھڑی ہو چکی تھی ۔۔۔ اور اس کی کتاب جو وہ اپنے سامنے کھولے بیٹھا تھا اس پر شہروزی نے ہاتھ رکھ کر اسے بند کر دیا تھا ۔۔۔ لاٸبریری میں اس وقت بہت کم طالب علم موجود تھے اس لیے خاموشی بھی زیادہ تھی ۔۔۔ شہروزی سفید رنگ کے جوڑے میں زرد سی رنگت لیے اس کے سامنے کھڑی تھی ۔۔۔ باریک سا نیٹ کا دوپٹہ گلے میں جھول رہا تھا ۔۔۔ جس یکسر بے نیاز وہ بے حال سی کتاب پر ہاتھ دھرے حسن کی آنکھوں میں جھانکنے کی کوشش میں تھی جبکہ وہ نظریں مسلسل چرا رہا تھا۔۔۔
حسن کو حیدر آباد سے واپس یونیورسٹی آۓ آج چار دن ہو چکے تھے اور شہروزی اس کے آگے پیچھے گھوم رہی تھی جبکہ وہ اس سے بلکل بے زاری ظاہر کر رہا تھا ۔۔
اب بھی وہ لاٸبریری میں اس سے چھپ کر ہی بیٹھا تھا ۔۔۔لیکن وہ یہاں بھی پہنچ چکی تھی ۔۔۔
” اتنی محبت اگر پاگل پن ہے تو ہاں میں پاگل ہوں “ شہروزی نے روہانسی آواز میں کہا
وہ اس کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ چکی تھی ۔۔۔ عشق میں ڈوبی ترسی نگاہوں سے سامنے بیٹھے اس پتھر کے صنم کو دیکھا جس سے سر پھوڑ پھوڑ کر وہ تھکنے لگی تھی ۔۔۔۔وہ لب بھینچے نیلے رنگ کی سادہ سی شرٹ میں نظریں چراتا اسے تڑپا رہا تھا ۔۔۔ اس کے کرسی پر بیٹھتے ہی حسن تیزی سے اٹھا تھا ۔۔۔ شہروزی بھی تیر کی سی تیزی سے اٹھ کر اس کے بلکل سامنے آ چکی تھی ۔۔۔
حسن نے زچ آ جانے والے انداز میں گہری سانس لی تھی ۔۔۔ وہ اس سے نظریں چرا رہا تھا ۔۔۔ اور اپنے جزبات کو اس سے چھپا رہا تھا۔۔۔ جو شہروزی کے گڑ گڑانے پر دل کو نرم کر رہے تھے ۔۔۔ جو بھی تھا ۔۔۔ شہروزی وہ پہلی لڑکی تھی جو اس کی دل کی زمین پر اتری تھی ۔۔۔ وہ لاکھ چاہ کر بھی اس نازک سی تیکھے نقوش رکھنے والی مغرور حسینہ کو اپنے دل سے نہیں نکال پایا تھا ۔۔۔ پر ذہن حقیقت کو تسلیم کرتا تھا ۔۔۔ اور فاٸق کی باتیں دل کے جزبات پر پانی پھیر دیتی تھیں ۔۔۔ اور دل جیتیتے جیتیتے پھر ہار جاتا تھا
” راستہ چھوڑو میرا۔۔۔“ حسن نے لب بھینچ کر کہا۔۔۔
وہ نازک سا سراپا لیے اس کے بلکل سامنے کھڑی تھی۔۔۔ آنکھیں آنسوٶں سے لبریز تھیں۔۔۔۔
” پلیز۔۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔۔ حسن مجھے اس تکلیف سے نکالو۔۔۔“ وہ ہاتھ جوڑ کر رو دی تھی۔۔
وہ پزمردہ سی بیمار سی لگ رہی تھی ۔۔۔ چہرہ زرد ۔۔۔ دھلا ہوا ۔۔۔ آنکھوں کے نیچے حلقے اور لب خشک تھے ۔۔۔ جن پر پپڑی جمی ہوٸ تھی ۔۔۔اس کی یہ حالت ہی اس کے عشق کے سچے ہونے کی گواہ تھی ۔۔۔
” یہ تکلیف تمھاری خود کی پیدا کی ہوٸ ہے ۔۔۔۔ تم خود ہی اس میں سے نکل سکتی ہو“ حسن نے چہرے کا رخ موڑ لیا تھا۔۔۔
اس سے اتنی سختی برتنے پر تکلیف اپنے دل میں بھی اٹھ رہی تھی ۔۔۔
اس سے شہروزی کی یہ حالت دیکھی نہیں جاتی تھی ۔۔ وہ کب کیسے اس کے عشق میں اتنی بری طرح گرفتار ہوٸ اسے خبر تک نہیں ہوٸ تھی ۔۔۔
” نہیں ۔۔۔۔ تمہیں پیار ہے مجھ سے ۔۔۔ میں نے تمھاری آنکھوں میں دیکھا ہے ۔۔۔“ شہروزی نے پاگلوں کی طرح حسن کا بازو تھاما تھا ۔۔۔
” نہیں مجھے نہیں ہے ۔۔۔ اور اب میرا راستہ چھوڑو ۔۔۔۔“ اس کے یوں بازو پکڑنے ہر حسن سٹپٹا گیا تھا ۔۔۔
چور نظر سے ارد گرد بیٹھے لوگوں کو دیکھا ۔۔۔۔اور پھر ماتھے پر مصنوعی بل سجا کر سامنے کھڑی شہروزی کی طرف دیکھا ۔۔۔
ایک جھٹکے سے اس کا ہاتھ ہٹا کر اسے ایک طرف کرتا ہوا وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا لاٸبریری سے باہر جا رہا تھا۔۔۔
اور وہ ویران سی آنکھیں لیے ۔۔۔ اسے جاتا دیکھ رہی تھی ۔۔۔
*************
” مجھے ۔۔۔۔۔ مرنا ہے ۔۔۔۔۔ مجھے“ حسنیٰ نے نیم بے ہوشی کی حالت میں سرگوشی کی ۔۔۔
وہ جو کرسی کی پشت سے بے حال سا سر ٹکاۓ بیٹھا تھا تڑپ کر آگے ہوا تھا۔۔۔
حسنیٰ کو بریک ڈاٶن ہوا تھا۔۔۔ اس کے اعصاب شل ہوۓ تھے ۔۔۔ اب پورے ایک دن بعد اس کو ہوش آیا تھا۔۔۔نعمان نے ایک رات اور ایک دن کتنا سوچا تھا اس بات کو لے کر ۔۔۔ وہ کس عزاب سے گزری تھی ۔۔۔ کتنی تکلیف میں رہی تھی ۔۔۔ اس کی اذیت پر دل خون کے آنسو تک رو دیا تھا۔۔۔
وہ حسنیٰ سے بے انتہا پیار کرتا تھا ۔۔ اور یہی وہ وقت تھا جب اسے اپنا سچا پیار ثابت کرنا تھا ۔۔۔
مرد جان بوجھ کر بھی باہر کسی عورت سے تعلق رکھے اس سے زنا کا مرتکب تک ہو جاۓ بیوی تب بھی اسے معاف کرتی ہے ۔۔۔ اس کے لوٹ آنے پر اسے سینے سے لگاتی ہے ۔۔ تو کیا شوہر بیوی کی اسی غلطی کو معاف نہیں کر سکتا جو اس نے جان بوجھ کر بھی نہ کی ہو۔۔۔ ۔۔۔
اگر ہم خود سے جوڑی عورتوں کو ان غلطیوں پر معاف کر کے نۓ سرے سے جینے کا حوصلہ نہیں دیں گے تو ہر عورت کے ساتھ ساتھ ایک نسل بھی تباہ ہو گی ۔۔ کچھ تو دل برداشتہ ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں اور کچھ اپنے دھتکار دینے پر باغی ہو کر غلط راستے پر چل پڑتی ہیں ۔۔۔ ایک لمحے کے لیے اگر ہم اسے صرف عورت سمجھنے کے ساتھ ساتھ انسان بھی سمجھ لیں تو شاٸد ۔ شاٸد ۔۔ مردوں کے بڑے سے بڑے گناہ معاف کر دینے کی طرح ہم اپنی عورتوں کو بھی معاف کر کے گلے لگا سکیں۔۔ ان کو سب بھلا کر نۓ عزم سے جینے کا حوصلہ دے سکتے ہیں ۔۔۔ اس طرح ہمیں رات کے اندھیروں میں بچوں کو کوڑے کے ڈھیروں پر پھینکنے نہیں جانا پڑے گا ۔۔۔
ایک دفعہ ٹھوکر کھاٸ ہوٸ عورت کو اگر اور پستی میں دھکیلنے کے بجاۓ ہم گلے سے لگا لیں تو وہ مضبوط ہو جاتی ہے ۔۔۔ اور مضبوط عورت ایک مضبوط نسل بناتی ہے ۔۔۔
دھتکاری ہوٸ عورتیں ۔۔۔ ذلت کی پستی میں روز روز مرتی عورتیں کمزور اور ڈرپوک نسل دیتی ہیں ۔۔۔
نعمان کو پتہ بھی نہ چلا کب اس کے آنسو اس کے گال بھگو گۓ تھے۔۔۔ حسنیٰ نے دھیرے سے آنکھیں کھولی تھیں ۔۔۔ نعمان جلدی سے آنسو صاف کرتا ہوا اس کے قریب ہوا تھا ۔۔۔
” حسنیٰ۔۔۔۔ “ نعمان نے دھیرے سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا تھا ۔۔۔
حسنیٰ نے سوجی ہوٸ آنکھیں کھولی تھیں اور پھر تڑپ کر چہرے کا رخ موڑ لیا تھا ۔۔۔
” حسنیٰ۔۔۔۔۔۔ ادھر ۔۔۔۔ میری طرف دیکھو ۔۔۔“ نعمان نے نرمی سے اس کے چہرے کا رخ اپنے ہاتھ کی مدد سے اپنی طرف کیا تھا ۔۔۔
حسنیٰ نے زور سے آنکھیں بند کی تھیں ۔۔۔ اس کے ہونٹ پھر رونے کے سے انداز میں بچوں کی طرح باہر کو نکلے تھے ۔۔۔
” تمہیں کیا لگتا ہے ۔۔۔ تم بہت گندی ہو ۔۔۔“ نعمان نے روہانسی آواز میں اس کے چہرے کو اپنی دونوں ہتھیلیوں میں لیا تھا ۔۔۔
اس کے گال پھر سے آنسوٶں سے بھیگ گۓ تھے ۔۔۔ پر آج وہ بے آواز رو رہی تھی ۔۔۔ لیکن اس کے اندر ہونے والی توڑ پھوڑ کی تکلیف اس کے چہرے سے واضح تھی ۔۔۔
” میری ۔۔۔۔ طرف دیکھو ۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔ میں تم سے بھی زیادہ گندہ ہوں “ نعمان کی آواز رونے کی وجہ سے بھاری ہوٸ تھی ۔۔
” تمہیں ۔۔۔۔ تمہیں پتہ ہے میری حقیقت کیا ہے “ وہ رو رہا تھا ۔۔۔
حسنیٰ ۔۔۔۔ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی ۔۔۔ اس کا گلا بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔
” سنو۔۔۔۔۔ مجھے ۔۔۔۔ سنو ۔۔۔ ڈیمڈ “ نعمان نے جھنجوڑ دیا تھا اسے ۔۔۔
” میں ۔۔۔۔۔ کسی کی نا جاٸز اولاد ہوں۔۔۔۔۔ “ وہ چیخا ہی تو تھا۔۔۔
حسنیٰ کے رونے کو بریک لگی تھی۔۔۔ اتنی بڑی بات وہ جھوٹ تو نہیں کہہ سکتا تھا ۔۔۔
” ایسی ناجاٸز اولاد ۔۔۔۔۔۔ جسے لوگ رات کے اندھیرے میں کوڑے کے ڈھیر پر پھینک جاتے ہیں ۔۔۔۔“ وہ رو رہا تھا۔۔۔ اور بمشکل بول رہا تھا۔۔
حسنیٰ حیرت سے اس کے چہرے کو دیکھ رہی تھی ۔۔ ایک لمحے کو وہ اپنا غم بھول گٸ تھی ۔۔ نعمان جیسا مضبوط مرد اس کے سامنے رو رہا تھا۔۔
” تم کیا میرے قابل ہو گی ۔۔۔۔۔ میں تمھارے قابل نہیں ۔۔۔۔ “ شرمندہ سے انداز میں کہتے ہوۓ وہ نظریں جھکا گیا تھا۔۔۔
” ہمیشہ تم سے یہ سچ چھپاتا رہا ۔۔۔ “ گھٹی سی آواز تھی ۔۔۔
” لیکن اب ڈر گیا ۔۔۔۔ تھا ۔۔۔۔ “ اپنے مضبوط ہاتھوں کی پشت سے آنسو صاف کیے تھے ۔۔۔
وہ بلکل چھوٹا سا بچہ لگ رہا تھا۔۔۔ حسنیٰ کو اس کے رونے سے تکلیف ہو رہی تھی ۔۔ سامنے بیٹھے اس شخص سے اس کا دل بے پناہ محبت کرنے لگا تھا۔۔۔ اور جس سے محبت ہو جاۓ اس کا دکھ اپنا دکھ لگنے لگتا ہے ۔۔۔
” تمھارے ساتھ جو بھی ہوا۔۔۔ انجانے میں ہوا۔۔۔۔ میرے ساتھ جو بھی ہوا ۔۔۔ اس میں میرا کوٸ قصور نہیں تھا “ وہ اب حسنیٰ کے ہاتھ کو پکڑ کر اس کی انگلیوں کو اوپر نیچے کر رہا تھا ۔۔
جب کے نظریں جھکی ہوٸ تھیں ۔۔۔
” جب مجھے میری زندگی کے بیس سال گزر جانے کے بعد یہ سچ معلوم پڑا تو ۔۔۔ میں ٹوٹ گیا تھا مکمل طور پر “ ہلکی سی نرم آنسوٶں میں بھیگی آواز میں کہا ۔۔۔
” میں اگر چاہتا تو ۔۔۔۔ تو ۔۔۔ میں بھی تمھاری طرح سوساٸیڈ ایٹمپٹ کر سکتا تھا ۔۔۔ “ وہ بول رہا تھا۔۔۔
اور وہ سن کر گرم گرم آنسوٶں سے گال بھگو رہی تھی ۔۔۔۔
” تمھارا راز تو ساری دنیا کو معلوم نہیں ۔۔۔۔ پر ۔۔۔ میرا قصہ تو میرے اپنوں نے ہی عام کر ڈالا تھا “ نعمان کی آنکھ سے پھر سے آنسو ٹپکا تھا۔۔۔
” لیکن میں ۔۔۔۔ میں نے اپنے آپ کو ختم کر دینا اس کا حل نہیں سمجھا “ بچوں کی طرح گال کو رگڑا۔۔۔
حسنی کے لب پھر سے باہر کو نکل آۓ تھے ۔۔۔ اب وہ اپنے لیے نہیں اپنے سامنے بیٹھے اس شخص کے لیے رو رہی تھی۔۔۔
” میں مضبوط بنا ۔۔۔۔۔ لوگوں کا اس سچاٸ کے ساتھ سامنا کیا “ نعمان نے آنسوٶں کو نگلا تھا۔۔۔۔
اور پہلی دفعہ نظر اٹھا کر حسنیٰ کی آنکھوں میں دیکھا ۔۔۔ وہ اسی کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔ محبت سے ۔۔۔ پیار سے ۔۔۔۔ تڑپ سے ۔۔۔۔ دکھ سے ۔۔۔
” ہاں ۔۔۔۔ اس وقت ۔۔۔ خود کو سنبھالنے کے لیے میں کچھ لوگوں کے ہاتھوں غلط استعمال ہوا ۔۔۔“
اب وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بول رہا تھا۔۔۔ جب کے ہاتھ ویسے ہی حسنیٰ کی ملاٸم مخروطی انگلیوں کو اپنی انگلیوں میں الجھا الجھا کر چھوڑ رہے تھے۔۔۔
” کیونکہ ہر کوٸ تمھاری طرح خوش قسمت نہیں ہوتا کہ اسے فاٸق انکل جیسے انسان مل جاٸیں۔۔۔۔ “
” میں ایک سیاسی پارٹی کے لیے گنڈا گردی کا کام کرتا رہا ہوں ۔۔۔ دو سال تک ۔۔۔ “
نظریں پھر سے جھک گٸ تھیں ۔۔۔۔
” مجھے ۔۔۔۔ تم ۔۔۔۔ ہر حال میں ۔۔۔ “ پھر سے نظر اٹھا کر حسنیٰ کی طرف دیکھا ۔۔۔
لب بھینچے ۔۔۔ تھوک نگلا ۔۔۔
” ہر صورت میں قبول ہو ۔۔۔ مجھے تمھاری روح ۔۔۔۔ تمھارے دل ۔۔۔ اور اس صورت سے پیار ہے ۔۔۔۔“ محبت میں ڈوبے الفاظ تھے۔۔۔
حسنیٰ ۔۔۔ رو دی تھی ۔۔۔
” مجھے تم سے بہت پیار ہے ۔۔۔۔۔۔“ نعمان نے اس کے ہاتھ کو پکڑ کر اپنے گال سے لگایا تھا۔۔۔
” میں تمہیں کھونا نہیں چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔“ وہ رو دیا تھا ۔۔۔
سر اس کے ہاتھ کی پشت سے ٹکا کر چہرہ نیچے جھکا لیا ۔۔۔
” پلیز۔۔۔۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔۔ خود کو دور مت کرو مجھ سے ۔۔۔۔۔“
آواز کسی کھاٸ سے آتی ہوٸ محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔
” میں ۔۔۔ تمہیں چھوڑنا نہیں چاہتا اس سچ کے بعد بھی۔۔۔ لیکن “
وہ رکا تھا۔۔۔ نظریں چراٸ ۔۔۔
” کیا ۔۔۔۔ تم میری سچاٸ جان لینے کے بعد میرے ساتھ رہنا چاہتی ہو ۔۔۔ “ حسنیٰ کی طرف دیکھا ۔۔۔
حسنیٰ نے دھیرے سے سر ہاں میں ہلایا تھا۔۔۔ نعمان نے بے اختیار اس کے ہاتھوں کو اپنی آنکھوں سے لگایا تھا ۔۔۔
وہ رو رہی تھی۔۔۔۔ اپنے لیے نہیں۔۔۔ اپنے سامنے بیٹھے اس پیارے سے شخص کے لیے ۔۔۔

 

” وہ بہت بیمار ہے ۔۔۔۔ “ کرن نے روہانسی صورت بنا کر کہا۔۔۔
حسن نے چونک کر آنکھیں اوپر اٹھاٸ تھیں ۔۔شہروزی دس دن سے یونیورسٹی نہیں آ رہی تھی ۔۔۔ حسن بری طرح یہ محسوس کر رہا تھا کہ اس دن بہت ڈانٹنے کے بعد سے وہ نہیں آ رہی ہے لیکن وہ خود پر اور اپنے جزبات پر جبر کیے ہوۓ تھا ۔۔۔ لیکن آج کرن بے حال سی اس کے سامنے آ کھڑی ہوٸ تھی ۔۔۔ شہروزی بہت بیمار تھی اور ہاسپٹلاٸز تھی ۔۔۔ ڈاکٹرز کا کہنا تھا ویکنس بہت زیادہ ہو گٸ ہے ۔۔۔ وہ کھانا پینا چھوڑ چکی تھی ۔۔۔ اور اب کرن حسن سے ہاسپٹل جانے کی ریکوسٹ کر رہی تھی کہ ایک دفعہ اس سے جا کر مل لے ۔۔۔ وہ بار بار حسن سے ملنے کا کہتی تھی ۔۔۔
” ہاسپٹل میں ہے ۔۔۔۔ تم سے ملنا چاہتی ہے ۔۔۔“ کرن نے التجاٸ نظر ڈالتے ہوۓ کہا ۔۔۔
حسن خاموش کھڑا تھا ۔۔۔ دل شہروزی کی حالت سن کر تڑپ اٹھا تھا۔۔۔ وہ آخر کو اس کی محبت تھی ۔۔۔ لاکھ چاہنے کے باوجود اسے دل سے تو نہیں نکال پایا تھا وہ ۔۔۔
” آپ چلیں میرے ساتھ ۔۔۔ پلیز۔۔۔“ کرن نے دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے سے پیوست کر کے حسن کے آگے کیے ۔۔
حسن نے دھیرے سے سر اثبات میں ہلایا ۔۔ فاٸق نے کچھ بولنے کی کوشش کی تھی جسے حسن نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا ۔ ..وہ لب بھینچ کر ہی رہ گیا ۔۔۔ اور حسن کرن کے ساتھ چل دیا ۔۔۔
وہ جب ہاسپٹل پہنچا تو کرن اور اس کی دوستیں پہلے اسے کمرے کے باہر چھوڑ گیں پھر کرن شہروزی کی امی کو بہانے سے کمرے سے باہر لے آٸ تھی ۔۔۔ وہ ان کے ساتھ ریسپشن کی طرف چلی گٸ تھی۔۔۔ حسن کمرے میں اکیلا گیا تھا۔۔۔
شہروزی آنکھیں موندے زرد رنگت لیے بیڈ پر لیٹی تھی۔۔۔ وہ بہت کمزور لگ رہی تھی ۔۔۔ زرد رنگت خشک ہونٹ ۔۔ بے رونق چہرہ ۔۔۔
” شہروزی۔۔۔۔۔ “ حسن نے اس کے پاس جا کر مدھم سی آواز میں کہا
وہ داٸیں طرف بلکل شہروزی کے سر پر کھڑا تھا ۔۔۔شہروزی نے اس کی آواز پر تڑپ کر آنکھیں کھولی ۔۔۔
وہ ساکن سی ہوٸ ۔۔۔ ایسے جیسے کسی پیاسے کو برسوں بعد بارش مل جاٸے ۔۔۔
” آپ ۔۔۔ خود کے ساتھ یہ سب بہت غلط کر رہی ہیں “ حسن نے نرم لہجے سے کہا
جبکہ دل شہروزی کی اس حالت پر کٹ گیا تھا۔۔ دل کو عجیب سی گھٹن ہونے لگی تھی ۔۔ ہنستی کھیلتی اس پیاری سی لڑکی کی اس حالت کا نا چاہتے ہوۓ بھی وہ زمہ دار تھا ۔۔
” کچھ نہیں جانتی ۔۔۔۔ میرے بس میں کچھ نہیں ہے “ شہروزی کی آنکھیں فوراً ڈبڈبا گٸ تھیں ۔۔۔
” میں تھک گٸ ہوں ۔۔۔۔ “ وہ رو رہی تھی ۔۔۔ اپنے دانتوں سے لب کاٹ رہی تھی ۔۔۔ ایسے جیسے تکلیف کو برداشت کر رہی ہو
” میں نہیں بھول پا رہی ہوں ۔۔۔۔ میں نے بہت کوشش کی ہے ۔۔۔“ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی ۔۔۔ حسن تڑپ گیا تھا ۔۔ ضبط ٹوٹ گیا تھا۔۔۔ اور جزبات کا لاوا پورے بدن میں سارے بندھن توڑ کر بہنے لگا تھا ۔۔۔ وہ اس سے اتنی محبت کرتی تھی ۔۔۔اس کے بار بار دھتکار دینے کے باوجود وہ دل سے اسے نہیں نکال پاٸ تھی ۔۔۔
” مجھ سے شادی کریں گی ۔۔۔۔ “ حسن نے بھاری آواز میں کمرے کی خاموشی توڑ دی تھی۔۔۔
***********
” کھانا۔۔۔۔۔ “ نعمان ٹرالی کو گھسیٹتا کمرے میں داخل ہوا ۔۔۔ اور لبوں پر نرم سی مسکراہٹ سجا کر سامنے بیڈ پر ساکت سی بیٹھی حسنیٰ کی طرف دیکھا ۔۔۔۔
وہ نظریں فوراً جھکا کر اپنے ہاتھوں پر مرکوز کر چکی تھی۔۔۔ نعمان نے ٹرالی بیڈ کے پاس کی ۔۔۔ اور خود کرسی پر آ گیا۔۔۔۔ وہ کچھ دیر پہلے آفس سے آیا تھا ۔۔۔ ڈھیلی سی ٹی شرٹ کے نیچے ٹرایوزر پہنے دھلے چہرے کے ساتھ وہ آج پچھلے دو دونوں کی نسبت تھوڑا پر سکون لگ رہا تھا ۔۔۔
” کھاٶ ۔۔۔۔۔ “ بہت نرم سی آواز میں کہا ۔۔۔۔
اور بھنویں اچکا کر سامنے بیٹھی حسنیٰ کا جاٸزہ لیا ۔۔۔ زرد سے چہرے کے ساتھ نظریں جھکاۓ بیٹھی تھی ۔۔۔ شرمندہ سی ۔۔۔ پریشان سی ۔۔۔
ذہن میں تو دو دن سے بہت کچھ ٹھان چکا تھا وہ ۔۔ لیکن سب سے پہلے حسنیٰ کی حالت کو نارمل کرنا تھا ۔۔ اور اس کا حل صرف محبت کا احساس دلانا تھا۔۔ میاں بیوی کی قربت بہت سی رنجشیں مٹا دیتی ہے ۔۔۔ اور اب پہلے یہی کرنا تھا ۔۔
حسنیٰ نے خاموشی سے ٹرے میں رکھے چاول پلیٹ میں ڈالے تھے ۔۔۔ آج دوسرا دن تھا اس خاموشی کو ۔۔۔ ایک دوسرے سے نظریں چرانے کو ۔۔۔ وہ چپ چاپ اٹھ کر آفس چلا جاتا تھا اور رات کو دیر سے تھکا سا آ کر اپنے کمرے میں چلا جاتا تھا ۔۔۔حسنیٰ کی خود سے ہمت ہی نہیں ہوتی تھی کہ کوٸ بات کرے اور وہ ہمت بھی آج نعمان نے ہی کی تھی ۔۔۔
کھانا کھا لینے کے بعد وہ ٹرالی کو کمرے سے باہر لے گیا تھا۔۔۔ حسنیٰ واش روم جانے کے لیے اٹھی تو عجیب سا چکر آیا ۔۔۔ کمزوری ہو رہی تھی شاٸد ۔۔۔ وجہ شاٸد ان دنوں میں کم کھانا تھا ۔
جب واپس آٸ تو نعمان بیڈ پر ٹیک لگاۓ بیٹھا تھا۔۔۔ بالوں کو جوڑے کی شکل میں فولڈ کرتے حسنیٰ کے ہ ہاتھ رک گۓ تھے۔۔۔ اور نظریں نعمان کی گہری نظروں سے ملی تھیں ۔۔۔ وہ دلکش مسکراہٹ لبوں پر سجاۓ بڑے پر سکون انداز میں بیٹھا تھا ۔۔۔
” ادھر۔۔۔۔ میرے پاس آٶ ۔۔۔۔ “ نعمان نے سر بیڈ کی پشت سے ٹکا کر گہری سانس لی تھی ۔۔۔
کشن کو اٹھا کر اپنی گود میں رکھا اور اپنے ایک طرف اشارے سے آنے کو کہا ۔۔۔
ایک لمحے میں جیسے ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوٸ تھی۔۔۔ نعمان کی نظریں عجیب ہی تاثر لیے ہوۓ تھیں ۔۔۔ اور لبوں کی مسکراہٹ معنی خیز تھی ۔۔۔
چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی وہ بیڈ کی دوسری طرف بیٹھ چکی تھی ۔۔۔وہ بیڈ پر بچھی چادر پہ بنے پھول پر انگلی پھیر رہی تھی نظریں بھی جھکی ہوٸ تھیں ۔۔۔
نعمان نے کہنی کے بل تھوڑا سا آگے ہو کر چادر پر انگلی کے ساتھ رقص کرتے ہوۓ ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں تھام لیا ۔۔۔
” تم ۔۔۔۔۔ میرے لیے آج بھی ۔۔۔۔ ویسی ہو۔۔۔ جیسی پہلی تھی “ اپنی انگلیوں سے اس کی انگلیوں کو الجھا کر نرم سے لہجے میں کہا ۔۔۔
” ان سب ۔۔۔۔ لمحات کو۔۔۔۔ ایک بھیانک خواب سمجھ کر بھول جاٶ ۔۔۔ “ دونوں کی نظریں اب اپنے جڑے ہوۓ ہاتھوں پر مرکوز تھیں
” سنو ۔۔۔۔“ نعمان کی آواز نے خاموشی کو توڑا ۔۔۔
” جی ۔۔۔۔۔ “ ہلکی سی مدھر آواز۔۔۔
” مجھے بدلنا ہے سب ۔۔۔۔ “ بے خود سی آواز تھی ۔۔۔
حسنیٰ نے نا سمجھی کے انداز میں نظر اٹھاٸ اور پھر آنکھوں میں موجود چاہت کی تاب نا لا سکی فوراً سے نظریں جھکا دیں۔۔۔
” آج دھکا دیا۔۔۔ تو ماروں گا بھی “ بے خود سی سرگوشی تھی
***************
” مجھے ۔۔۔۔ اغوا ہی کروانا ہے ۔۔۔۔ “ نعمان نے لب بھینچے ۔۔۔
کرسی کی پشت سے ٹیک لگاۓ آفس کی چھت کی طرف دیکھا۔۔۔ اپنے مخصوص انداز میں ٹاٸ کی ناٹ کو داٸیں باٸیں غصے سے جنبش دی ۔۔۔
” سیدھا سیدھا مروا ہی دیتے ہیں ۔۔۔ حکم کر جگر۔۔۔۔ “ داور نے قہقہ لگایا تھا۔۔۔
” نہیں ۔۔۔۔۔ مجھے زندہ چاہیے۔۔۔۔“ نعمان نے جبڑے ایک دوسرے میں پیوست کیے تھے ۔۔۔
دماغ کی رگیں پھولی ہوٸ تھیں ۔۔۔ چہرہ سرخ ہو رہا تھا ۔۔۔ ہاتھ میں پکڑا قلم مضبوط ہاتھوں کے ظلم کا شکار تھا۔۔۔
” ٹھیک ہے ۔۔۔ کتنا وقت “ داور نے گہری سانس خارج کی تھی ۔۔۔
” جتنا جلدی ہو سکے “ ایک دم سے سیدھا ہو کر سامنے میز پر کہنیاں ٹکاٸ تھیں ۔۔۔
” آ ہاں۔۔۔۔۔۔ چل بے فکر ہو جا۔۔۔ “ داور نے تسلی دی
” ہممممم ۔۔۔۔۔“ پرسوچ انداز میں لبوں کو منہ کے اندر کیا۔۔۔
سگریٹ کی ڈبی اٹھاٸ ۔۔۔ اور آفس سے ملحق چھوٹے سے ٹیرس پر آ گیا تھا۔۔۔
ماتھے کے شکن گہری سوچ کا پتہ دے رہے تھے ۔۔۔ اور ٹیرس کی گرل پر ہاتھ اپنی گرفت اور مضبوط کر رہے تھے ۔۔۔۔
**************
” تو ۔۔۔۔ پاگل ہے کیا ۔۔۔۔ چھپ کر نکاح کر لے گا “ فاٸق نے دانت پیس کر غصے سے گھورا ۔۔۔
” ہاں۔۔۔۔۔ “ سر جھکا کر ہلکی سی آواز میں کہا۔۔۔
” ۔۔۔۔ارے حسن مت مار کلہاڑی اپنے پاٶں پر ۔۔۔ جانتا ہے نا ان ملک لوگوں کو ۔۔۔“ فاٸق نے چڑ کر اس کے سامنے آتے ہوۓ کہا۔۔۔
چھوٹے بوسیدہ سے فلیٹ کے کمرے میں حسن دونوں ہاتھ سینے پر باندھے کھڑا تھا۔۔۔ اور فاٸق اس کے بلکل سامنے سر پر افسوس کےانداز میں ہاتھ کو دھر کر کھڑا تھا۔۔۔ حسن اور شہروزی چھپ کر نکاح کر رہے تھے۔۔۔ شہروزی کی نسبت بہت پہلے سے پاکستان کے بہت بڑی ٹیکسٹاٸل کمپنی کے اونر کے اکلوتے بیٹے سے ہو چکی تھی ۔۔۔ اور شہروزی کا کہنا تھا کہ ایک دفعہ جب نکاح ہو جاۓ گا وہ اپنے باپ کو خود رضا مند کر لے گی ۔۔۔حسن سے اس کی حالت اب دیکھی نہیں جاتی تھی اور پھر اس کی اس حالت نے ایسا اثر چھوڑا تھا کہ سب بند ٹوٹ کر اب بس اس کے اندر محبت کا سمندر ٹھاٹھیں مارنے لگا تھا۔۔۔
” بہت اچھے سے ۔۔۔“ حسن نے گہری سانس لے کر جواب دیا۔۔۔
” تو پھر ۔۔۔ یہ پاگل پن کیوں۔۔۔“ فاٸق نے دانت پیسے اور غصے سے دیکھا
” وہ مر رہی ہے پل۔۔۔پل۔۔۔۔ اور میں گھل رہا ہوں پل پل۔۔۔“ گھٹی سی تھکی سی آواز
” سب بکواس ۔۔۔۔ سب بکواس۔۔۔ یہ ایک دماغی بیماری ہے ۔۔۔ علاج کر اس کا ڈاکٹر بن رہا ہے “ فاٸق نے کمر پر ہاتھ رکھ کر اس کے آگے بے چینی سے چکر لگاۓ ۔۔۔
” وہ علاج ہے میرا۔۔۔۔“ حسن نے ٹھان لی تھی اب کہاں محبت کا پڑا ہوا پردہ چاک ہو سکتا تھا
ّ” بس ۔۔۔۔ بس۔۔۔۔ ہو گیا نہ پاگل ۔۔۔ گیا اب تو کام سے بچہ“ فاٸق نے ہوا میں ہاتھ چلا کر افسوس سے کہا
حسن کے لبوں پر اس کے انداز سے بے ساختہ مسکراہٹ ابھر آٸ تھی ۔۔۔ آگے ہو کر محبت سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔ فاٸق کی اس کے لیے یہ بے لوث محبت بہت انعمول تھی ۔۔۔ وہ جانتا تھا وہ یہ سب بھی اس کی محبت میں کر رہا ہے ۔۔۔ لیکن وہ ہر حال میں ہر قدم پر حسن کا ساتھ دے گا ۔۔۔
31
” چل اب بس کر ۔۔۔ کرن کے گھر جانا ہے ۔۔۔ چل انتظام کر گواہان کا ۔۔“ حسن نے لبوں پر مسکراہٹ گہری کی
پھر اس کا رخ موڑ کر اسے زور سے گلے لگا کر بھینچ ڈالا ۔۔۔ کچھ دیر فاٸق کے ہاتھ نیچے بے جان سے لٹکتے رہے پھر آہستہ سے اٹھے تھے اور اس نے بھی حسن کے گرد بازٶں کو مضبوطی سے باندھ لیا تھا
*********
” یہ تیسرا دھکا تھا ہاں “ نعمان نے شرارت سے مصنوعی خفگی دکھاٸ اور کچن کی شیلف سے ہاتھ ٹکا کر خود کو گرنے سے بچایا ۔۔۔
” تو کیوں کر رہے تنگ پھر ۔۔۔ نظر نہیں آ رہا کام کر رہی ہوں “ حسنیٰ نے لبوں کو منہ کے اندر کیا اور بمشکل نعمان کی اس حالت پر ہنسی کو دبایا۔۔۔
وہ کچن کی شیلف پر آلو کاٹنے میں مصروف تھی ۔۔۔ جب پیچھےسے کسی کے قدموں کی چاپ سناٸ دی اس سے پہلے کہ بازو اس کی کمر کے گرد حاٸل ہوتے حسنیٰ نے اسی لمحے شرارت سے مڑ کر دھکا دیا تھا۔۔۔ سامنے والا بھی ڈھٹاٸ کا مظاہرہ کرتا پھر آگے بڑھا ۔۔ اور حسنیٰ نے قہقہ لگاتا ہوۓ پھر دھکا دیا تھا ۔۔۔
وہ منہ ہاتھ دھوۓ بکھرے سے بالوں میں نیند کے خمار سے آدھ کھلی آنکھیں لیے ہی باہر آ گیا تھا ۔۔۔ آنکھ کھلی تو حسنیٰ کمرے میں نہیں تھی ۔۔۔اتوار کی چھٹی ہونے کے وجہ سے وہ آج فجر کی نماز کے بعد پھر سے سو گیا تھا اور اب بارہ بجے اٹھ کر باہر آیا تھا ۔۔۔
” یار ۔۔۔۔ سبزی تو ڈھنگ سے کاٹو ۔۔۔ کک کو کیوں فارغ کیا “ نعمان نے شیلف سے کمر ٹکا کر سبزی پر ہوتے ظلم کو دیکھتے ہوۓ روٹھے سے انداز میں کہا ۔۔۔
حسنیٰ نے گھور کر خفگی سے دیکھا ۔۔۔ آنکھوں کو سکیڑ کر چھوٹی سی ناک پھلاٸ ۔۔۔ ایک ہفتے میں ہی وہ کتنی پر سکون اور مضبوط ہو گٸ تھی۔۔۔ نعمان کی بے انتہا محبت ہر خوف پر غالب آ گٸ تھی۔۔
” میں کل سوچ رہی تھی ۔۔۔ کہ میرے مزے ہیں بھٸ ۔۔۔ نا ساس ادھر ہے ۔۔ نہ کوٸ نند ہے “ چھری کو ہوا میں گھوماتے ہوۓ حسنیٰ نے بڑے انداز سے کندھے اچکاۓ
نعمان لبوں پر گہری مسکراہٹ سجاۓ دلچسپی سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ کچن ایپرن پہنے بالوں کا بے ترتیب سا جوڑا بناۓ وہ پر سکون سی اس کے اندر تک سکون اتار رہی تھی ۔۔۔ مکمل وہ ہوٸ تھی تو سرشار وہ بھی تھا ۔۔۔
” پر میں غلط تھی ۔۔۔ آپ ہی میری ساس ہیں ۔۔ ہر کام میں نقص “ حسنیٰ نے خفگی سے کہا
سامنے کھڑا یہ شخص اس پر جان تک لٹا سکتا ہے یہ احساس ہی اسکی زندگی کی سب سے بڑی خوشی بن گیا تھا ۔۔۔اور جب آپکو یہ پتہ ہو کہ اس شخص کی زندگی آپ سے شروع ہو کر آپ پر ہی ختم ہے تو سکون خود بخود آ جاتا ہے
” تو مت کرو نہ ۔۔۔ کام تمہیں کام کرنے کے لیے تھوڑی لایا ہوں “ نعمان نے شرارت اور محبت بھرے لہجے میں کہا
اور پھر سے باہیں پھلا کر آگے ہوا ۔۔۔ چہرہ بلکل بچوں کی طرح بنایا ہوا تھا جیسے یہ لیے بنا جاۓ گا نہیں ۔۔۔
” پر مجھے اچھا لگتا ہے ۔۔۔ “ ایک اور دھکا ۔۔۔۔ حسنیٰ نے دانت نکالے اور ناک چڑھاٸ
نعمان تھوڑا سا پیچھے ہو کر خود کو سنبھالا ۔۔۔ اور پھر کسی سوچ کے زیر اثر آنکھوں میں شرارت امڈ آٸ اور لب مسکراہٹ دبانے لگے ۔۔۔
” اچھا سنو ۔۔ میرے کپڑے بھی تم پرس کر رہی ہو کیا آجکل “ نعمان نے کان کھجایا
” جی ۔۔۔۔ “ بڑے فخر سے مسکرا کہا
اور لاڈ سے نعمان کی طرف دیکھا ۔۔۔ کتنا اچھا لگتا تھا اسے نعمان کا ہر کام خود کرنأ ۔۔ کک۔۔۔۔ دھوبی سب کو فارغ کر دیا تھا ۔۔۔ اور گھر کے کاموں میں مصروف رکھنا اپنے آپکو اب اسے اچھا لگتا تھا ۔۔۔
” تو ۔۔۔ کالر تو اچھی طرح پرس کیا کرو “ نعمان نے ہنسی دباتے ہوۓ کہا
جبکہ وہ جو تعریف سننے کے غرض سے کھڑی مسکرا رہی تھی ایک دم سے منہ کھلا تھا اور ماتھے پر بل پڑ گۓ تھے ۔۔
” کل سے دھوبی ہی کرے گا “ ناک پھلا کر بچوں کی طرح خفا ہوتے ہوۓ کہا
نعمان کا جاندار قہقہ گونجا تھا۔۔۔ اور وہ مزید منہ پھلا چکی تھی ۔۔۔
” ارے۔۔۔۔ارے۔۔۔۔ غصہ مت کرو سیکھو ۔۔۔۔“ نعمان نے بمشکل قہقے کو قابو کیا ۔۔۔
وہ اب ناراض سی سبزی پر اور ظلم ڈھانے لگی تھی ۔۔۔
************
” چھوڑو ۔۔۔۔۔ چھوڑو مجھے۔۔۔۔ کون ہو تم لوگ ۔۔۔ یہاں کیوں لاۓ مجھے“ حازق بری طرح اپنے بازو چھڑوا رہا تھا۔۔۔
منہ پر سے پٹی اترنے کے کی تکلیف ابھی بھی تھی ۔۔۔ دو ہٹے کٹے سے آدمی اب اسے کار کی ڈگی میں سے نکال کر بازٶں سے پکڑتے ایک ویران سے گھر میں لے جا رہے تھے ۔۔۔ اسے نہیں معلوم وہ تقریباً چار سے پانچ گھنٹے مسلسل سفر میں رہا تھا۔۔۔
اب وہ دو لوگ بت کی طرح اس کی کوٸ بھی بات سنے بنا اسے ایک کرسی کے ساتھ باندھ رہے تھے ۔۔۔ اس کے ہاتھ پاٶں مضبوطی سے باندھے گۓ تھے ۔۔۔ وہ بس مسسلسل یہی پوچھے جا رہا تھا کون ہو تم لوگ اور مجھے یہاں کیوں لاۓ ہو۔۔۔ پر وہ ایسے کام میں مصروف تھے جیسے کچھ بھی سناٸ نہیں دے رہا ہو۔۔
وہ اسے باندھ کر اس چھوٹے سے کمرے سے باہر جا چکے تھے ۔۔۔ وہ بڑے عجیب طریقے سے اغوا ہوا تھا۔۔۔ وہ ہر وقت سکیورٹی میں ہی رہتا تھا۔۔۔ لیکن رات جب وہ اپنے دوستوں کے ساتھ لیٹ ناٸٹ سنیما میں گیا تو اس کے گارڈز باہر ہی تھے ۔۔۔ سنیما میں موی انٹرول میں وہ واش روم گیا تھا۔۔ اور جیسے ہی وہ اس سے باہر نکلا کسی نے منہ پر رومال رکھ دیا تھا۔۔۔
اور جب اسے ہوش آیا وہ کسی کار کی ڈگی میں بند تھا ۔۔۔ ہاتھ بندھے ہوۓ تھے منہ پر ٹیپ تھی ۔۔۔ اور اسی حالت میں مسلسل سفر کے بعد اب وہ یہاں اس ویران سے گھر میں باندھ گۓ تھے ۔۔۔
دروازہ کھلا تھا اور اندھیرا کمرہ پھر سے روشن ہو گیا تھا۔۔۔ کوٸ بہت ہی لمبے قد کا آدمی تھا ۔۔ سخت سپاٹ چہرہ لیے اس کے قریب آیا۔۔۔
” کون ہو تم لوگ۔۔۔۔ کہ۔۔۔کیا چاہتے ہو “ حازق نے سامنے کھڑے شخص کا اوپر سے نیچے جاٸزہ لیا تھا۔۔
اس نے زور سے کرسی پر اس کے بازو پر ٹانگ رکھی اور حازق کے منہ کو اپنے بھاری سے ہاتھ میں دبوچ لیا۔۔۔
” حسنیٰ ۔۔۔۔ چاہیے ۔۔۔ “ کھردری سی بھاری آواز میں کہا۔۔
حازق نے تڑپ کر نظر اٹھاٸ

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: