Husna Novel by Huma Waqas – Episode 17

0
حسنیٰ از ہما وقاص – قسط نمبر 17

–**–**–

” تم ۔۔۔ کیسے یہاں۔۔۔ “ حسن نے جلدی سے پاس پڑی شرٹ اٹھا کر پہنی تھی۔۔۔۔ حیرت سے منہ بھی کھلا تھا اور آنکھیں بھی ۔۔۔
شہروزی نے منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسی دباٸ ۔۔۔ حسن کی اس کو یوں اچانک دیکھ کر امڈ آنے والی گھبراہٹ دلچسپ تھی ۔۔۔
حسن فلیٹ پر اس وقت اکیلا تھا ۔۔۔ گرمی کی وجہ سے شرٹ اتار کر ایک طرف رکھے وہ بنیان اور شلوار پہنے ملگجے سے حلیے میں پڑھ رہا تھا جب اچانک شہروزی آ کر سامنے کھڑی ہوٸ ۔۔۔ وہ سرشار سی دلکش مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ کھڑی تھی ۔۔۔
ان کے نکاح کو دو ہفتے ہو چلے تھے ۔۔۔ آج کل سب طلبہ پڑھاٸ میں مصروف رہتے تھے۔۔۔ آج یونیورسٹی آف تھی تو حسن پڑھنے میں مصروف تھا۔۔۔۔ وہ پڑھنے میں اتنا مگن تھا کہ خبر ہی نہیں ہوٸ کب شہروزی بلکل پاس آ کر کھڑی ہوٸ ۔۔۔
” کیوں ۔۔۔ منع ہے کیا میرا آنا ۔۔۔“ شہروزی نے شریر سی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر کہا تھا ۔۔۔ نچلا لب دانتوں میں دباۓ زمانے بھر کی خوشی چہرے پر سجاۓ وہ دنیا کی حسین ترین لڑکی لگ رہی تھی۔۔۔
حسن کا مل جانا اس کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی تھی۔۔۔ اور ابھی تو اس کے مل جانے اور اسکا ہو جانے کا احساس اتنا خوشگوار تھا کہ کچھ بھی آگے کا اور سوچنے کا خیال تک نہیں آتا تھا۔۔۔۔ اس نے جو کہا حسن مان گیا تھا۔۔۔ اب بھی یونیورسٹی میں بظاہر وہ دونوں ایک دوسرے سے الگ الگ رہتے تھے ۔۔۔ پر ایک دوسرے کے سے محبت بھری نظروں کا تبادلہ سرشار کر دیتا تھا ۔۔۔
شہروزی کی دوستوں میں سے کرن اور حسن کی طرف سے فاٸق اور وسیم ان کے نکاح کے بارے میں جانتے تھے۔۔۔۔
” نہیں تو۔۔۔۔ “ حسن نے گہری جزب کرتی نظریں شہروزی پر گاڑ کر کہا ۔۔
وہ موتیا رنگ کے جوڑے میں گلابی سی شرماٸ سی شرارت بھری آنکھیں لیے اس کا دل کی دھڑکن کو بے ترتیب کر رہی تھی ۔۔۔ شہروزی اس کے یوں دیکھنے پر جھینپ سی گٸ ۔۔۔ نظریں چرا کر ارد گرد دیکھا ۔۔۔ نکاح کے بعد وہ دونوں آج پہلی دفعہ یوں کسی دوست کی موجودگی کے بنا مل رہے تھے ۔۔۔
” فاٸق اور وسیم۔۔۔۔ “ شہروزی نے اس کی محبت برساتی نظروں سے خجل ہوتے ہوۓ لبوں کو دانتوں میں دبا کر ارد گرد دیکھا ۔۔۔
چھوٹا سا فلیٹ بے ترتیب سا کمرہ تھا۔۔۔ اس پورے منظر میں اس کو پر شوق محبت بھری نظروں سے دیکھتا حسن ہی سب سے حسین تھا ۔۔۔
” فاٸق ۔۔۔ اپنے گھر گیا ہے ۔۔۔اور وسیم جاب پر رات کو آۓ گا “ حسن نے دھیرے دھیرے قدم اٹھاتے ہوۓ دونوں کے درمیان کا فاصلہ عبور کیا تھا۔۔۔
زلف راتوں سی ھے رنگت ھے اُجالوں جیسی
پر طبیعت ھے وھی بھولنے والوں جیسی
اک زمانے کی رفاقت پہ بھی رم خوردہ ھے
اس کم آمیز کی خُوشبو ھے غزالوں جیسی
ڈھونڈتا پھرتا ھوں لوگوں میں شباھت اسکی
کہ خوابوں میں بھی لگتی ھے خیالوں جیسی
کس دل آزار مسافت سے میں لوٹا ھوں کہ ھے
آنسوؤں میں بھی تپک پاؤں کے چھالوں جیسی
اسکی باتیں بھی دل آویز ہیں صورت کی طرح
میری سوچیں بھی پریشاں ہیں میرے بالوں جیسی
اسکی آنکھوں کو کبھی غور سے دیکھا ھے فراز
رونے والوں کی طرح جاگنے والوں جیسی
” حسن ۔۔۔۔ بہت ڈر لگتا ہے اگر بابا نہ مانے تو “ حسن کے ہاتھ کو اپنے گال سے تھام کر اپنے ہاتھوں میں لے کر کہا ۔۔۔
” یہ سب تو پہلے سوچنے کی باتیں تھیں ۔۔۔ محترمہ “ حسن نے شہروزی کے ہاتھ پر گرفت مضبوط کی ۔۔۔
آنکھوں میں آنکھیں ڈالی ۔۔۔
” ایسے تو دل مت جلاٸیں ۔۔۔“ شہروزی نے روہانسی آواز میں خفگی سے دیکھا ۔۔۔
” ہمممم۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ تو چلو پھر ۔۔۔۔ اس جلتے دل پر مرہم رکھ دیتے ہیں “ حسن نے کان کے قریب سرگوشی کی تھی ۔۔۔
*********
” کتنی دفعہ بتا چکا ہوں میں نہیں جانتا وہ کہاں ہے ۔۔۔ “ حازق نے لڑھکا ہوا سر پھر سے اٹھایا ۔۔ چیخنے کے انداز میں سامنے کھڑے آدمی سے کہا ۔۔۔
حازق کے منہ پر ان گنت نیل کے نشان تھے جو اس بات کے گواہ تھے کہ اس پر بہت تششد ہوتا رہا ہے۔۔۔ لمبے قد بھاری جسامت اور خوفناک شکل کا مالک آدمی اس کے سر پر کھڑا بار بار کل سے دہرایا ہوا سوال دہرا رہا تھا ۔۔۔۔
حسنیٰ کہاں ہے ۔۔۔۔حسنیٰ کہاں ہے ۔۔۔۔۔
” کیوں۔۔۔ تو نے تو کہا تھا کہ تیری ہونے والی بیوی ہے “ سامنے کھڑے آدمی نے پھر سے حازق کے منہ کو دبوچ کر اوپر اٹھایا تھا۔۔۔
” ہاں کہا تھا۔۔۔۔۔ پر ۔۔۔۔ پر ۔۔۔۔ میری شادی نہیں ہوٸ تھی اس سے “ حازق نے پریشان سا ہو کر اس آدمی کی طرف دیکھا ۔۔۔
” پھر کہاں ہے وہ ۔۔۔ چاہیے باس کو دوبارہ “ سامنے کھڑے آدمی نے پھر سے بری طرح حازق کے گریبان کو پکڑ کر جھنجوڑ ڈالا تھا۔۔۔۔
حازق نے حواس باختہ ہو کر دیکھا ۔۔۔ اور پھر اس کے ذہن میں جیسے جھماکہ ہوا تھا ۔۔۔ جبار کا چہرہ سامنے آ گیا تھا ۔۔۔ تو کیا جبار نے مجھے ۔۔۔۔ لیکن کیوں ۔۔۔۔حسنیٰ ۔۔۔۔۔
حازق کے ذہن میں حسنیٰ کا دلکش سراپا گھوم گیا ۔۔۔۔ ہاں وہ ایسی تھی کہ اس کو پانے کے لیے کوٸ ایسے پاگل ہو جاۓ ۔۔۔
” دوبارہ ۔۔۔۔ مطلب ۔۔۔۔ تم لوگ جبار کے آدمی ہو“
حازق نے تھوک نگل کر خوف سے سامنے کھڑے آدمی کی طرف دیکھا ۔۔۔
” چپ۔۔۔۔۔ ایک لفظ بھی زبان سے نکالا نا تو ۔۔۔۔“ آدمی نے حازق کے بال پیچھے سے پکڑ کر جھٹکا دیا تھا ۔۔۔
” اپنے ۔۔۔۔ باپ سے بات کرے گا “ آدمی نے طنز بھرے لہجے میں کہا ۔۔۔
حازق نے ترسی سی نگاہیں اٹھاٸ تھیں ۔۔۔
” رک ۔۔۔۔۔ ذرا“ وہ اب جیب سے چھوٹا سا موباٸل نکال کر نمبر ملا رہا تھا ۔۔۔
”ابے۔۔۔۔۔ او۔۔۔۔ بڈھے ۔۔۔۔ اپنے بیٹے کی آواز سنے گا“ رعب سے کہا دوسری طرف سے وہاب نے شاٸد فون اٹھا لیا تھا ۔۔۔
” کہاں ہے میرا بیٹا ۔۔۔۔۔ کون ہو تم ۔۔۔ لوگ “ وہاب کی تڑپتی آواز ابھری تھی۔۔۔
”پکڑ ۔۔۔۔ باپ تیرا ۔۔ “ آدمی نے وہاب کی کسی بھی بات کا جواب دینے کے بجاۓ فون حازق کے کان سے لگایا ۔۔۔
” بابا ۔۔۔۔۔۔ “ حازق نے تڑپ کر کہا ۔۔۔
اس کے ہاتھ کرسی سے باندھے ہوۓ تھے ۔۔۔
” حازق۔۔۔۔ کہاں ہو ۔۔۔ تم ۔۔۔۔ بیٹا ۔۔۔ کون لوگ ہیں یہ۔۔۔۔ “ دوسری طرف سے وہاب نے سوالوں کی بوچھاڑ کر ڈالی ۔۔۔
” بابا ۔۔۔ جبار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ حازق نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ آدمی نے فوراً فون بند کر دیا اور پوری قوت سے حازق کی گردن پر ایک تھپڑ لگایا تھا ۔۔۔
” ابے۔۔۔۔۔اوۓ۔۔۔۔۔۔ سالے۔۔۔۔۔ شان پتی کرتا مارے ساتھ۔۔۔۔“
فون ایک طرف اتنی زور سے پھینکا کہ وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ۔۔۔
” مارو اس کو خبیث کی اولاد کو۔۔۔ اور اگلواٶ سارا کہاں ہے حسنیٰ“ پاس کھڑے آدمیوں کو غصے سے کہتا ہوا وہ باہر آ گیا ۔۔۔
جیب سے دوسرا موباٸل نکالا نمبر ملایا ۔۔۔ اور کان کو لگایا ۔۔۔
” سلام۔۔۔۔۔ صاب ۔۔۔ کام ہو گیا ۔۔۔ جے ۔۔۔۔ “ دوسری طرف سے فون اٹھاتے ہی کہا
” گڈ ۔۔۔۔ بھوکا رکھو اس کو ۔ ۔۔۔۔ “ بھاری آواز اور سپاٹ لہجہ ۔۔۔
” جو حکم “ آدمی نے آنکھوں کو بند کیا ۔۔۔
*********
” ہیر ۔۔۔۔ ہیر ۔۔۔ کیا حالت بنا لی ہے اپنی تم نے۔۔۔۔ “ شہروزی نے کمبل ایک طرف کرتے ہوۓ کہا ۔۔۔
ہیر نے سوجی ہوٸ آنکھوں کے ساتھ نظر اوپر اٹھاٸ ۔۔۔ پژمردہ سا چہرہ تھا اس کا ۔۔۔ وہ کمرے میں اندھیرا کیے لیٹی ہوٸ تھی وہ نعمان کی شادی کا پتہ چلنے کے بعد سے کمرے تک محدود ہو گٸ تھی ۔۔۔ بس کالج جاتی تھی پھر واپس آ کر کمرے بند نا اب شہروزی کے ساتھ آ کر بیٹھتی تھی اور نہ ہی کوٸ بات کرتی تھی ۔۔۔۔
” کیا ہوا ہے ۔۔۔ بے بی ۔۔۔۔ تمہیں۔۔۔ “ شہروزی نے محبت سے اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لیا تھا۔۔۔
وہ اس کے سامنے بیڈ پر بیٹھ چکی تھیں۔۔۔۔آنکھوں میں ہیر کی اس حالت کو لے کر بے حد پریشانی تھی ۔۔۔
” ایونٹ اتنے شوق سے آرگناٸز کروایا تھا تم نے اتنی محنت کی لیکن اس پر بھی تم نہیں گٸ “ شہروزی نے خفگی سے دیکھا۔۔۔۔
ہیر تکیے کے سہارے اٹھ کر بیٹھی تھی ۔۔۔اور بالوں کو سمیٹا ۔۔۔ چہرہ ویسا ہی تھا۔۔۔ سپاٹ سا ۔۔۔ بے رونق سا ۔۔۔ جس پر جینے کی کوٸ رمق نہیں دکھاٸ پڑتی تھی ۔۔۔۔وہ نظریں چرا رہی تھی ۔۔۔
” تمہیں کیا ہو گیا ہے ۔۔۔ کیوں اس طرح خود کو کمرے میں بند کر لیا ہے ۔۔۔۔ “ شہروزی نے پھرسے اس کے چہرے کا رخ اپنی طرف کیا۔۔۔
” کل اطہر اور فواد آ رہے ہیں لاہور تمہیں ایسے دیکھے گا اطہر تو کیا سوچے گا میں نے تمہیں اس حال میں رکھا ہوا ہے ۔۔۔ “
شہروزی نے ڈانٹنے کے انداز میں کہا۔۔۔
ہیر نے نظر اٹھا کر شہروزی کی طرف دیکھا ۔۔۔ وہ ویسی ہی تھیں خوش خوش تازہ دم ۔۔۔ یہ تو کہتی تھیں نعمان کی مجھ سے شادی کرواٸیں گی ۔۔۔ اب اس کی شادی کا ان کو کوٸ دکھ نہیں جیسے مجھے دکھ ہے ۔۔۔ ایک پل کو بھی چین نہیں تھا۔۔۔ ہیر کو عجیب سی کیفیت تھی ۔۔۔گھٹن تھی کہ بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔ دل کرتا تھا نعمان کو چھین کر کہیں لے جاۓ اور چھپا لے بس ۔۔۔
وہ بے زاری سے شہروزی کی طرف دیکھتے ہوۓ سوچ رہی تھی ۔۔۔
” پھپھو۔۔۔۔ بس دل نہیں چاہ رہا۔۔۔ “ ہیر نے لب کاٹتے ہوۓ نظریں جھکا لی تھیں ۔۔۔
” ہوا کیا ۔۔۔ بتاٶ مجھے ۔۔۔“ شہروزی نے کندھے سے پکڑ کر جھنجوڑ ڈالا
کچھ دن تک تو ویسے ہی یہ سمجھتی رہی تھیں کہ وہ سٹڈی میں بزی ہے اس لیے یوں ہے لیکن اب تین ہفتے ہونے کو آۓ تھے اور ہیر کمرے سے باہر نہیں آ رہی تھی ۔۔۔
ہیر کی آنکھوں میں پانی بھر گیا تھا۔۔۔شہروزی کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ وہ اس بری طرح نعمان کی بات کو لے کر سنجیدہ ہو جاۓ گی ۔۔۔
” نعمان۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “ ہیر کی گھٹی سی آواز نکلی ۔۔۔۔
شہروزی ایک دم سے ساکن ہوٸ ۔۔۔ اففف خدا ۔۔۔
ہیر کی آنکھوں میں نعمان کے لیے بے پناہ محبت دیکھ کر شہروزی خوف سے کانپ گٸ تھی ۔۔۔۔
*********
” یہ کیا کر رہی ہو۔۔۔۔۔ ہاں۔۔۔“ نعمان نے نیند سے بوجھل آنکھیں دھیرے سے کھولتے ہوۓ بھاری ہوتی ہوٸ آواز میں کہا۔۔۔
نعمان کی گردن کے پاس کچھ گدگدی سی ہونے پر اس کی
آنکھ کھلی تھی ۔۔۔حسنیٰ اس کےسر کے بلکل پاس بیٹھی تھی ۔۔۔رخ بھی نعمان کی طرف تھا ۔۔۔
” کہ۔۔۔کچھ نہیں ۔۔۔۔ “ حسنیٰ نے جلدی سے بازو پیچھے کیے ایسے جیسے کچھ چھپایا ہو ۔۔۔۔
” کچھ۔۔۔۔۔۔ تو ۔۔۔۔۔ ہے۔۔۔۔“ نعمان نے بھنویں اچکا کر اس کی طرف دیکھا
وہ مسکراہٹ دبا رہی تھی ۔۔۔۔گلابی چہرہ شرارت سے اور گلابی ہو رہا تھا ۔۔۔ چہرہ دھلا ہوا اور تازہ دم تھا مطلب وہ روز کی طرح فجر کے بعد نہیں سوٸ تھی جبکہ وہ مسجد سے آ کر سو جاتا تھا ۔۔۔
نا سمجھی کے انداز میں اٹھ کر بیٹھا تو عجیب سا احساس ہوا ۔۔۔ چونک کر اپنے سر کے پیچھے ہاتھ رکھا۔۔۔ اس کی پونی بالوں سمیت غاٸب تھی ۔۔۔
” حسنیٰ۔۔۔۔ا۔۔۔۔ا۔۔۔۔۔ا۔۔۔۔“ وہ چیخا تھا ۔۔۔۔۔۔ چیخ ہولناک تھی ۔۔۔ دکھ سے بھری ۔۔۔
وہ اچھل کر بیڈ سے اتر گٸ تھی ۔۔۔۔ اور اب بچوں کی طرح شرارت سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
نعمان تیزی سے سنگہار میز کی طرف ننگے پاٶں بھاگا ۔۔ اور پھر صدمے کی حالت میں کھڑا رہ گیا ۔۔۔۔ حسنیٰ اس کے سارے بال کاٹ چکی تھی ۔۔۔ ظالم نے پونی ہی پکڑ کر کاٹ ڈالی تھی ۔۔۔ نعمان کے بال بہت سیدھے تھے اور بڑھتے بھی جلدی تھے ۔۔۔ وہ بچپن سے ہی بڑے بڑے بال رکھنے کا شوقین تھا۔۔۔ سکول اور کالج میں تو سختی بہت ہوتی تھی جس کی وجہ سے وہ بال بڑھا نہیں سکتا تھا ۔۔۔ لیکن یونیورسٹی جاتے ہی اس نے اپنے بال بڑھانا شروع کر دیے تھے اور اب تک تو وہ کندھوں تک آنے لگے تھے۔۔۔۔
لیکن آج حسنیٰ نے گردن سے پکڑ کر کاٹ ڈالے تھے۔۔۔۔بالوں کو کاٹنے کی بات تو اس نے عبداللہ کی نہیں مانی تھی لیکن آج۔۔۔۔۔۔
” یہ۔۔۔۔ یہ۔۔۔۔ کیا ۔۔۔۔۔۔کیا ۔۔۔۔ تم ۔۔۔ “ دانت پیس کر کہا اور نعمان نے لب بھینچ کر حسنیٰ کی طرف دیکھا ۔۔۔
غصہ جیسے ایک دم سے ہوا ہو گیا تھا۔۔۔
جو اب بیڈ کی دوسری طرف کھڑی مجرم سی بنی لبوں کو کاٹ رہی تھی ۔۔۔ آنکھوں میں شرارت تھی ۔۔۔ پتہ تھا نعمان اس سے اتنی محبت کرتا ہے اس لیے نڈر ہو کر آرام سے اس کے بال کاٹ دیے تھے ۔۔۔ اور اب معصوم سی شکل بناۓ کھڑی تھی ۔۔۔
” نہیں اچھے لگتے تھے۔۔۔۔ مجھے ۔۔۔۔“ ہاتھ میں پکڑی پونی کو ہوا میں لہرایا ۔۔۔
” ابے۔۔۔۔۔ یار۔۔۔۔۔۔۔۔ “ نعمان روہانسی شکل بنا کر رہ گیا ۔۔۔۔
کچھ دیر یوں ہی کمر پر ہاتھ دھر کر حسنیٰ کی طرف دیکھتا رہا ۔۔۔ پھر اسے پکڑنے آنے کے انداز میں آگے بڑھا۔۔۔ حسنیٰ نے چیخ ماری اور ایک طرف بھاگی ۔۔۔۔
” کیا ہے ۔۔۔۔۔ “ وہ قہقہ لگا رہی تھی ۔۔۔ اور نعمان جس طرف کو بھی آنے کی کوشش کرتا وہ دوسری طرف کو ہنستی ہوٸ بھاگتی ۔۔۔
” کیا ۔۔۔۔۔ ہے ۔۔۔۔۔ “ خفگی سے نعمان کی طرف دیکھا جو اب بیڈ پر چڑھ کر کھڑا تھا ۔۔۔
مسکراہٹ دباۓ شرارت سے اب اسے پکڑنے کے لیے وہ بیڈ پر گھوم رہا تھا ۔۔۔ حسنیٰ نے شریر نظر سے واش روم کی طرف دیکھا ۔۔۔ ہاں یہاں جا کر جان بچا سکتی ہوں ۔۔۔وہ قہقہ لگاتی اس طرف کو بھاگی تھی جب نعمان بیڈ سے چھلانگ لگا کر بلکل سامنے آ گیا تھا ۔۔۔
” رکو ۔۔۔ذرا ۔۔۔۔ بتاتا ۔۔۔ ہوں کیا ہے ۔۔۔۔“ نعمان نے مصنوعی غصہ دکھاتے ہوۓ کلاٸ کو پکڑا تھا ۔۔۔ اور دوسرا ہاتھ کمر کے گرد حاٸل کیا ۔۔۔
وہ ہنس رہی تھی ۔۔۔ زیادہ ہنسی نعمان کو چھوٹے بالوں میں دیکھ کر بھی آ رہی تھی ۔۔۔ وہ اور بھی ہینڈسم لگنے لگا تھا ۔۔۔
” تمھاری ۔۔۔۔ اس ہنسی پر ۔۔۔۔“ نعمان نے محبت سے اس کے گال پر ہاتھ رکھا ۔۔۔
حسنیٰ کی ہنسی کو یک دم بریک لگی ۔۔۔ آنکھیں نعمان کی آنکھوں سے ملی تھیں ۔۔۔
” یہ ۔۔۔۔۔ بال کیا ۔۔۔۔ جان بھی قربان ۔۔۔“ حسنیٰ کی چھوٹی سی ناک کو پکڑ کر کھینچا ۔۔۔
ہاں ۔۔۔۔ اس نے تو یہ سوچا نہیں تھا وہ کتنے عرصے بعد یوں کُھل کر ہنسی تھی ۔۔۔ اتنا اونچا قہقہ لگاۓ تو پتہ نہیں سال سے اوپر ہونے کو تھا ۔۔
محبت سے اپنے سامنے کھڑے اس شخص کو دیکھا اور پھر دونوں کھلکھلا کر ہنسے تھے ۔۔۔۔
*******
” پکڑ ۔۔۔۔۔۔ پکڑ ۔۔۔۔ اس کو ۔۔۔۔۔۔ “ ملک انور نے دھاڑنے کے انداز میں کہا اور گھوما کر شہروزی کو بیڈ پر صابرہ کے سامنے پھینکا۔۔۔
شہروزی اوندھے منہ بری طرح بیڈ پر گری تھی ۔۔۔ صابرہ سینے پر ہاتھ دھر کر فوراً کھڑی ہوٸ تھیں۔۔۔
باسط کو نا جانے کیسے شہروزی اور حسن کی محبت کا علم ہوا تھا۔۔۔ نکاح کا تو اسے نہیں پتہ چلا تھا ہاں البتہ اس کے دوستوں نے شہروزی کو حسن کے فلیٹ پر اکثر جاتے ہوۓ دیکھا تھا اور پھر وہ باہر بھی ملنے لگے تھے ۔۔۔اور باسط نے یہ بات ملک انور تک پہنچا دی تھی ۔۔۔ وہ شہروزی کو یونیورسٹی سے زبردستی گھر لے آۓ تھے ۔۔۔
” بابا۔۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔ پلیز میری بات سنیں ۔۔۔۔ “ شہروزی بالوں کو سمیٹتی ہچکیوں میں روتی ملک انور کی ٹانگوں سے چمٹ گٸ تھی ۔۔۔
” نہ۔۔۔نہیں سننی۔۔۔۔ سمجھی۔۔۔۔“ ملک انور نے ٹانگ کو اتنی زور سے مارا تھا کہ وہ لڑھک کر ایک طرف گری
وہ گاڑی میں فون کر کے حسن کو اٹھوانے کا کہہ چکے تھے ۔۔۔ جس سے شہروزی اور خوف زدہ ہو چکی تھی ۔۔۔
” بابا ۔۔۔ اسے چھوڑ دیں۔۔۔۔ “ شہروزی نے ہاتھ جوڑے ۔۔۔۔ وہ بلک رہی تھی چیخ رہی تھی ۔۔۔ حسن سے بے پناہ محبت اس کی تڑپ سے واضح تھی ۔۔۔
” گھر ۔۔ رکھ اس کو ۔۔۔ نہیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔بس بہت ہوا نہیں بنانا مجھے اسے کوٸ بھی ڈاکٹر “
ملک انور نے انگلی ہوا میں کھڑی کی اور غصے سے صابرہ کی طرف دیکھا
صابرہ ہونق بنی کھڑی تھی ۔۔۔ دھک سی رہ گٸیں اور بے یقینی سے شہروزی کی طرف دیکھا۔۔۔
” میر اسفند کو کہتا ہوں اس سال ہی رکھے اس کی اور واصف کی شادی۔۔۔ “ ملک انور نے لفظ چبا چبا کر ادا کیے
اور تیزی سے کمرے سے باہر نکل گۓ۔۔۔
” امی۔۔۔۔ امی۔۔۔ مجھے واصف سے شادی نہیں کرنی ہے ۔۔۔۔ “ شہروزی تڑپ کر فرش پر سے اٹھی اور بھاگتی ہوٸ صابرہ کے سامنے آ گٸ ۔۔۔
” چپ کر پاگل لڑکی ۔۔۔۔ پتا ہے نہ اپنے باپ کا ۔۔۔۔ “ صابرہ نے اسے کندھوں سے پکڑ کر سانبھالنے کے انداز میں کہا
بیٹی کا یہ روپ دل کو تکلیف دینے لگا تھا ۔۔۔ وہ بے حال ہو رہی تھی رو رو کر ۔۔۔
” امی۔۔۔۔۔ امی۔۔۔۔۔ پلیز مجھے جانے دو۔۔۔۔ میں ۔۔۔ میں۔۔۔۔۔۔حسن کے بنا نہیں رہ سکتی ۔۔۔“ شہروزی تو جیسے پاگل ہو چکی تھی ۔۔۔
بلکتے ہوۓ صابرہ کے آگے ہاتھ جوڑے۔۔۔
” شہروزی ۔۔۔۔ پاگل مت بن ۔۔۔ “ صابرہ نے تڑپ کر اس کے کانپتے بلکتے وجود کو اپنے ساتھ لگایا تھا ۔۔۔
” امی۔۔۔۔۔امی۔۔۔۔ بابا ۔۔۔ حسن کو مار دیں گے ۔۔۔۔ پلیز ۔۔۔۔ انھیں کہیں چھوڑ دیں اسے ۔۔۔ “ شہروزی چیخ رہی تھی ۔۔۔
” میں کسی صورت واصف سے شادی نہیں کر سکتی ہوں میں حسن کے نکاح ہو ہوں “ ۔۔۔۔۔ شہروزی نے پیچھے ہو کر سپاٹ لہجے نیں کہا
صابرہ کا منہ کھل گیا تھا ۔۔۔ اور آنکھیں حیرت سے ابل پڑی تھیں ۔۔۔
********
” کیا ۔۔۔۔ کر رہے ہو یہ۔۔۔۔“ جبار نے غصے سے ہاتھ جھٹکا ۔۔۔
” آپ کے خلاف اریسٹ وارنٹ ہے “ پولیس انسپکٹر نے بھنویں اوپر چڑھاٸیں ۔۔۔
” کیا مطلب ۔۔۔۔ کیوں “ جبار نے نا سمجھی کے انداز میں ارد گرد دیکھا ۔۔۔
” وہاب حیدر کے بیٹے کے اغوا کے شک میں “ پولیس انسپکٹر نے گہری سانس لے کر کہا ۔۔۔

 

” واٹ ۔۔۔۔۔ نان سنس۔۔۔۔۔۔ “ جبار غصے سے چیختا ہوا پیچھے ہوا۔۔۔
وہ سکون سے اپنے آفس میں بیٹھا تھا جب اچانک سے پولیس نے دھاوا بول دیا تھا ۔۔۔ اور اس پر الزام ایسا لگ رہا تھا جس کی اس کے فرشتوں تک کو خبر نہیں تھی ۔۔۔ اپنے آفس کی میز پر ہاتھ دھرے ماتھے پر ناگواری کے بل سجاۓ وہ پریشان حال کھڑا تھا ۔۔۔
” چلیں ۔۔۔۔ باقی بات وہاں جا کر کریں گے ۔۔۔“ پولیس انسپیکٹر نے مونچھوں کو تاٶ دیا تھا ۔۔۔
” ویٹ ۔۔۔۔اے ۔۔۔۔منٹ ۔۔۔۔ مجھے اپنے وکیل سے بات کرنی ہے ۔۔۔“ جبار نے بڑے رعب سے ہاتھ کا اشارہ کیا اور اپنی طرف بڑھتے ہوۓ پولیس والے کو روک دیا۔۔
جلدی سے میز پر پڑے فون کو اٹھایا ۔۔۔ اور نمبر ملانے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا ۔۔۔
”نہیں ۔۔۔۔ یہ سب اب پولیس سٹیشن جا کر ہی دیکھتے ہیں۔۔۔“ انسپیکٹر نے لب بھنچ کر کہا اور گردن ہلا کر پھر سے ہتھکڑی ہاتھ میں پکڑے پولیس والے کو اشارہ کیا
” گرفتار ۔۔۔۔ کرو سر کو ۔۔۔۔“ رعب سے کہا ۔۔۔
ایک پولیس والے نے آگے بڑھ کر موباٸل ہاتھ سے پکڑا تو دوسرے نے ہتھکڑی پہنانا شروع کر دی ۔۔۔
” دیکھیں ۔۔۔۔ یہ کوٸ بہت ہی بڑی غلط فہمی ہوٸ ہے اسے۔۔۔ میں بھلا کیوں حازق وہاب کو اغوا کروں گا “ پولیس والے کو ہتھکڑی لگانے سے روکتے ہوۓ کہا ۔۔۔
لیکن وہ تو جیسے کچھ بھی سننے سمجھننے سے قاصر تھے ۔۔۔ جبار اگر بہت اونچا انڈسٹریل تھا تو وہاب حیدر کا اپنا ایک نام تھا پورے پاکستان میں ۔۔۔ دونوں اپنی اپنی جگہ اونچی آسامی تھے۔۔۔ جن پر کوٸ عام بندہ ایسے نہ تو الزام لگوا سکتا تھا اور نہ ہی گرفتار کروا سکتا تھا ۔۔
” واٹ آ ربیش۔۔۔۔ آپ میری بات تک نہیں سن رہے۔۔۔“ جبار نے غصے سے دھاڑتے ہوۓ کہا۔۔۔
پولیس جبار کو اس کے آفس کےمین حال سے لے کر گزر رہی تھی ۔۔۔ اور جہاں جہاں سے وہ گزر رہے تھے لوگ منہ کھولے دیکھ رہے تھے ۔۔۔اور اپنی اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑے ہو چکے تھے ۔۔۔
**********
” ملک ۔۔۔۔ صاب بات سنیں ۔۔۔ یہ سب ایسے ٹھیک نہیں ہے الیکشن بھی قریب ہیں “ جمشید عوان پاس ہوا اور ملک انور کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کان کے قریب ہو کر کہا ۔۔۔
ملک انور نے بھنویں اچکا کر آنکھ اوپر اٹھاٸ ۔۔۔ کلف لگی اکڑی ہوٸ سفید قمیض شلوار پہنے بڑی بڑی مونچھوں کو تاٶ دیے وہ حویلی کے بڑے سے مہمان خانے میں لگے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ جماۓ بیٹھے تھے ۔۔۔ حسن کو کل سے سر عام پکڑ کر قید میں رکھا ہوا تھا اور اب ملک انور اسے مارنے کا کہہ رہے تھے ۔۔۔
” اس لڑکے کو ایسے مار دینا ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔“ جمشید نے ملک انور کی گھوری پر سر ہلاتے ہوۓ اپنی بات کی تاٸید کی ۔۔۔
اور اردگرد بہت کھڑے گارڈز کی طرف دیکھا ۔۔۔ جو بتوں کی طرح گردن اکڑاۓ ۔۔۔ ہاتھوں میں راٸفل لیے کھڑے تھے ۔۔۔
” تو ۔۔۔۔ میں اسے زندہ نہیں دیکھنا چاہتا ۔۔۔“ ملک انور نے دانت پیس کرکہا۔۔۔
آنکھوں میں ایسے تھا جیسے خون اتر رہا ہو۔۔۔ وہ ایک سیاسی پارٹی کے لیڈر تھے ۔۔۔ اور الیکشن بہت نزدیک تھے ۔۔ جمشید کو اب اس بات کی ہی فکر پڑ گٸ تھی کہ یہ بات کبھی چھپی نہیں رہے گی اگر انھوں نے ان دنوں میں کسی طالب علم کو مروا دیا۔۔۔ وجہ چاہے کوٸ بھی ہو ۔۔
” میں سمجھ سکتا ہوں ۔۔۔۔“ جمشید نے گہری سانس لی اور صوفے پر ساتھ رازدانہ انداز میں براجمان ہوا ۔۔۔ اور کان کے قریب ہوا۔۔۔
” پر اسکو اور انداز سے بھی تو حل کیا جا سکتا ہے ۔۔۔ آپ فلحال لڑکے کو تھوڑی پھینٹی شینٹی لگا کر تو چھوڑ دیں ۔۔“ جمشید نے مشورہ دیا۔۔۔
ملک انور نے پر سوچ انداز میں آنکھوں کو خم دے کر جمشید کی طرف دیکھا۔۔۔ وہ ان کا اہم رکن تھا بلکل مشیر خاص کی طرح وہ جمشید سے کوٸ بات نہیں چھپاتے تھے ۔۔۔
” بچی کی شادی کر دیں جلدی “ جمشید نے پھر سے سرگوشی کی ۔۔۔
” ہمممم۔۔۔ “ ملک انور کی آنکھیں تھوڑی سکڑ گٸ تھیں۔۔۔ وہ کسی گہری سوچ میں تھے ۔۔۔
**********
” بابا ۔۔۔۔ وہ سب جھوٹ تھا اس میں اس کا کوٸ قصور نہیں تھا “ ہیر نے نظریں ہاتھوں پر جھکا کر کہا ۔۔
اتنے عرصے کے جھوٹ کو سچ میں بدلتے ہوۓ ہیر کے ہاتھ دھیرے سے کانپ رہے تھے ۔۔۔ تب تو اطہر کے عتاب سے بچنے کے لیے اس نے سارا الزام روبن پر دھر دیا تھا یہ سوچے سمجھے بنا کہ ایک دن ایسا آۓ گا وہ خود بیٹھ کر اپنے بولے گے جھوٹ کو سچ میں بدل رہی ہو گی ۔۔۔
اطہر نے زور سے سر پر ہاتھ مارا تھا ۔۔۔ اور اپنی مٹھیاں ضبط سے بھینچی تھی دل تو کر رہ تھا ایک زور کا چماٹا اپنے سامنے بیٹھی اپنی اس بیٹی کے منہ پر رسید کر دے
ہیر کے بیڈ روم میں لگی کرسیوں پر اطہر اور شہروزی بیٹھے تھے ۔۔۔ اور وہ خود ان کے بلکل سامنے ٹانگیں جوڑے سر جھکاۓ ہاتھوں کو گود میں دھر کر بیٹھی ہوٸ تھی ۔۔۔
ہیر نے شہروزی کو اپنی اور نعمان کی ساری کہانی بتا دی تھی ۔۔کہ وہ اب سے نہیں بہت پہلے سے جانتی ہے نعمان کو اور اس پر وہ جھوٹا الزام بھی لگا چکی ہے جس کی وجہ سے وہ اب اس سے شدید نفرت کرتا ہے ۔۔۔ پر وہ کیا کرے جو اب اس کی شادی کا معلوم ہونے کے بعد بھی اسے بھول نہیں پا رہی تھی ۔۔۔ شہروزی نے اسے سمجھایا کہ سب سے پہلے تو وہ اطہر کو نعمان کی سچاٸ بتاۓ کہ وہ معصوم تھا اس وقت سارا قصور اس کا اپنا تھا۔۔۔
” سہی کہہ رہی ہے یہ ۔۔۔۔ وہ اتنا اچھا ہے اس کے ساتھ ایسا کر ہی نہیں سکتا تھا “ شہروزی نے جھجکتے ہوۓ کہا۔۔۔
ا طہر سرخ چہرہ لیے بیٹھا تھا۔۔۔ گھور کر شہروزی کو دیکھا انداز ایسا تھا جیسے کھا جاۓ گا دونوں کو۔۔۔
” پر ۔۔۔۔شہروزی ۔۔۔ تم کچھ نہیں جانتی اس کے بارے میں ۔۔۔ وہ تو اس چھوٹی سی عمر میں بھی گنڈا تھا پورا “ اطہر نے دانت پیس کر کہا
” لیکن اب ایسا نہیں ہے وہ سب چھوڑ چکا ہے ۔۔۔ “ شہروزی نے سر جھکا کر مدھم سی آواز میں کہا۔۔۔
اندر کی ممتا اس کو گنڈا کہنے پر تڑپ ہی تو گٸ تھی ۔۔۔ ہاں یہ سب حقیقت اسے آج اطہر سے معلوم ہوٸ تھی ۔۔۔ اور دل پھٹنے کو تھا ۔۔۔ اور جب بچے بن ماں باپ یوں در بدر ہوتے ہیں تو ایسا ہی انجام ہوتا ہے ۔۔۔
” پھر بھی ۔۔۔۔“ اطہر نے اونچی آواز میں غصے سے کہا۔۔
ہیر اپنی جگہ سے اٹھی اور زور زور سے پیر پٹختی کمرے سے باہر نکل گٸ تھی ۔۔۔
” اب مسٸلہ کیا ہے اس کا ۔۔۔ “ اطہر نے ماتھے پر ناگواری کے بل ڈال کر شہروزی کی طرف سوالیہ انداز میں دیکھا۔۔۔
” شادی کرنا چاہتی اس سے ۔۔۔“ شہروزی نے گھٹی سی آواز میں کہا۔۔۔
جبکہ نظریں اب بھی اپنے ہاتھوں پر جھکی تھیں ۔۔۔ اطہر کی آنکھیں حیرت سے باہر کو آٸ تھیں اور چہرہ مزید سرخ ہوا تھا
” پاگل ہے کیا ۔۔۔۔ یہ ۔۔۔اور تم۔۔۔۔۔ تم تو ہمیشہ سے عقل سے پیدل رہی ہو ۔۔۔ “ اطہر گرجا ہی تو تھا
” اس لڑکے کا نہ کوٸ خاندان ۔۔۔ نہ کوٸ پہچان ۔۔۔ “ وہ غصے میں سرخ ہو گیا تھا
شہروزی کا سانس خشک ہوا ۔۔ وہ بلکل ملک انور کی ہی کاپی تھا۔۔۔ اسی طرح کا غصہ ۔۔۔ دھاڑنا ۔۔۔ رعب دبدبا
” اس کو سمجھانے کے بجاۓ تم مجھے یہ کہہ رہی ہو کہ میں ۔۔۔۔ دماغ درست رکھو اپنا بھی اور اس کا بھی رہنے دو یہ سب تمھارے وجہ سے ابھی تک پتہ نہیں کہاں کہاں سر جھکانا پڑتا ہے ۔۔۔“ ملک اطہر ایک دم سے کھڑا ہوا لہجہ ناگواری سے بھرا تھا
” پڑھنے بھیجا اسے میں نے یہاں ۔۔۔ پڑھے اور واپس آۓ ۔۔۔“ اطہر نے کلف لگی کاٹن کی قمیض کے دامن کو جھٹکا دیا اور با ہر نکل گیا ۔۔۔
شہروزی وہیں شرمندہ سی شکل لیے بیٹھی رہ گٸ تھی ۔۔۔ ممتا اور ہیر کی محبت بار بار خود غرض کر رہی تھی ۔۔۔
********
” حسنیٰ ۔۔۔۔ کھانا کھاٶ نہ ۔۔۔ “ نعمان نے محبت سے نرم آواز میں سامنے سپاٹ بیٹھی حسنیٰ کو دیکھ کر کہا ۔۔
مدھم سی روشنی میں نہاۓ خوبصورت ہوٹل میں وہ آمنے سامنے بیٹھے ہوۓ تھے۔۔۔ درمیان میں لگے میز پر کھانا سجا تھا۔۔۔ آرڈر کو آۓ پانچ منٹ ہو چکے تھے اور حسنیٰ ویسے ہی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی تھی ۔۔۔ وہ سیاہ گاٶن میں۔۔۔ نقاب کیے بیٹھی تھی ۔۔۔۔
” کیسے ۔۔۔۔ کھاٶں ۔۔۔ نقاب میں ۔۔۔ “ معصوم سی روہانسی آواز میں کہا۔۔۔
کھانا کھاتے نعمان کے ہاتھ رک گۓ تھے ۔۔۔ اوہ یہ تو سوچا ہی نہیں۔۔۔ لا کر اسے اتنے بڑے ہوٹل میں بٹھا دیا ۔۔ نعمان نے پر سوچ انداز میں ماتھے پر تین انگلیاں دھریں
” کہا تھا مجھے نہیں جانا باہر ۔۔۔ “ حسنیٰ نے بے چارگی سے ارد گرد دیکھا ۔۔۔
نعمان نے ارد گرد نظر دوڑاٸ ۔۔۔ جدید فیشن سے لیس لوگ ہنستے مسکراتے باتوں میں مصروف تھے ۔۔۔ ہلکے ہلکے برتنوں اور چمچ کی آوازیں اور مدھم سی موسیقی ماحول کو پرفسوں بنا رہی تھی ۔۔۔
” رکو ۔۔۔۔۔۔۔ “ نعمان نے لب بھینچ کر ہاتھ سے اشارہ کیا۔
پھر اپنی جگہ سے اٹھ کر بلکل حسنیٰ کے برابر کرسی پر آ کر اسے تھوڑا سا خم دیا اور حسنیٰ کے اتنا قریب ہو گیا کہ اس کے چہرے کے بلکل آگے ہو کر بیٹھا تا کہ اس کا چہرہ اب کسی کو نظر نہ آۓ ۔۔۔
” اتارو نقاب ۔۔۔ “ مدھم سی آواز میں کہا ۔۔۔
” آپ بھی ۔۔۔ نہ ۔۔۔۔“ حسنیٰ نے ہلکا سا قہقہ لگایا ۔۔
ہاتھ سے پکڑ کر نقاب نیچے کیا۔۔۔ اور محبت سے اپنے سامنے بیٹھے اس پیارے سے شخص کو دیکھا جو اتنا لمبا اور چوڑا تھا کہ اس کا چہرہ واقعی میں اب کوٸ نہیں دیکھ پا رہا تھا ۔۔
اس دن جبار سے ملاقات ہو جانے کے بعد وہ کبھی بھی بے پردہ ہو کر باہر نہیں نکلی تھی ۔۔بلکہ نکلنا ہی کم کر دیا تھا ۔۔۔ آج زبردستی نعمان اسے ساتھ لے آیا تھا ۔۔۔ اور اب اسے کھانے میں دقت ہو رہی تھی جسے بہت خوبصورتی سے وہ ہل کر چکا تھا ۔۔۔
” کھلاٶں ۔۔۔ اپنے ہاتھ سے ۔۔۔۔ “ نعمان نے شرارت سے کہا ۔۔۔
” آرام ۔۔۔۔ سے ۔۔۔“ حسنی نے ہنسی دباٸ اور چور نظر سے ارد گرد دیکھا ۔۔۔
” آرام سے ۔۔۔ ہی کھلاٶں گا ۔۔۔ “ نعمان نے دلکش مسکراہٹ لبوں پر سجاٸ ۔۔۔
33
وہ چھوٹے بالوں میں اب اور بھی خوبرو لگنے لگا تھا۔۔۔ براٶن رنگ کی ڈریس شرٹ میں کھلا کھلا سا وہ حسنیٰ کے دل میں اتر رہا تھا ۔۔۔
” ارے ۔۔۔۔ بابا ۔۔۔ گھر نہیں ہے یہ۔۔۔۔“ حسنی نے شرما کر شرارت سے ہنسی دباٸ ۔۔
گھر میں اکثر نعمان محبت سے اسے اپنے ہاتھ سے نوالہ کھلاتا تھا ۔۔۔ اور پھر اسے کھلانے کے لیے کہتا تھا ۔۔۔
” چلو کھا ۔۔ لو ۔۔۔ “ نعمان نے تنگ کرنے کا ارداہ ترک کیا اور مسکراہٹ دباتے ہوۓ کہا ۔۔۔
” اتنے دن ۔۔۔ بعد تو کچھ ڈھنگ کا کھا رہے ہیں ہم دونوں ۔۔۔۔ “ شرارت سے کہا اور فوراً منہ کے آگے ہاتھ رکھ کر ہنسی کو روکا ۔۔۔
” مطلب کیا ۔۔۔۔۔۔اس بات کا۔۔۔۔۔۔ ہاں ۔۔۔“ حسنیٰ کے ہاتھ ایک دم سے رکے تھے۔۔۔
آنکھوں کو سکیڑ کر چھوٹا کیا اور گھور کر نعمان کی طرف دیکھا جو بڑی دلچسپی سے شرارتی انداز میں اپنے قہقے کو کنٹرول کر کے بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔ جیسے ہی حسنیٰ کا یہ ردعمل دیکھا بے ساختہ ہلکا سا قہقہ لگایا ۔۔
” کچھ ۔۔۔ کچھ ۔۔۔نہیں۔۔۔“ ہنسی کو بمشکل کنٹرول کیا ۔۔۔
” میں نہیں ۔۔۔ پکا رہی کل سے ۔۔۔ واپس رکھ لیں ۔۔۔ اپنی وہ کک۔۔۔ “ حسنیٰ نے ناک اور منہ پھلا کر کہا ۔۔۔
اور بچوں کی طرح روٹھے سے انداز میں پلیٹ پر چمچ داٸیں باٸیں گھومایا ۔۔۔
وہ بہت محنت اور محبت سے کھانا پکاتی تھی ۔۔۔ سارا دن نیٹ سے ویڈیوز دیکھ دیکھ کر ہلکان ہو جاتی تھی ۔۔۔ اور نعمان ہمیشہ اس معاملے میں تنگ کرتا تھا ۔۔۔ اور وہ روہانسی سی ہو جاتی تھی ۔۔۔ کیونکہ مسلسل تین ہفتے سے وہ یہ سب کام صرف نعمان کی محبت میں کرتی تھی لیکن پھر بھی دل چاہتا وہ اس کے ہر کام کی تعریف کرے ۔۔
” ارے۔۔۔۔ جِندم میری۔۔۔۔۔ مزاق کر رہا تھا ۔۔۔ ایکچولی ۔۔۔ یہ جو پھولا سا کیوٹ سا فیس بناتی ہو نہ۔۔۔ “ نعمان نے بچوں کو پیار کرنے کے سے انداز میں دانت کچکچاۓ ۔۔
حسنیٰ نے اور خفگی سے دیکھا ۔۔۔ دل تو کر رہا تھا کچھ اٹھا کر ہی دے مارے ۔۔۔
” ھاۓ۔۔۔۔ے۔۔۔۔ے۔۔۔۔ے۔۔۔“ نعمان نے اس کے ایسے دیکھنے پر دل پر ہاتھ رکھا
وہ اسے اکثر پیار سے جندم کہتا تھا ۔۔ ایک دن اس کے ہاتھ کو تھامے اس نے پہلی دفعہ جب حسنیٰ کو اس نام سے پکارا تو اس نے چونک کر دیکھا ۔۔۔ جس پر ہلکا سا قہقہ لگا کر وہ بولا تھا۔۔۔
اپنی محبت کو اپنی بیوی کو ۔۔۔کوٸ جان کہتا ۔۔ کوٸ جانو کہتا ۔۔ کوٸ جند کہتا ۔۔۔ تو کوٸ جانم کہتا ۔۔۔ لیکن میں ان سب کو ملا کر ایک لفظ بنا کر تمھیں پکارٶں گا ۔۔۔ اور وہ ہے جِندم ۔۔۔ تم میری جندم ہو۔۔۔ نعمان نے محبت میں کہتے ہوۓ اسے لقب دیا تھا ۔۔ جس پر پہلے تو وہ جی بھر کر ہنسی تھی ۔۔۔ پھر بار بار اس لفظ کو زیر لب دہرانے سے وہ اچھا لگنے لگا تھا ۔۔ کچھ الگ ہی تھا جس سے کبھی کسی نے اپنے پیار کو نہیں پکارا تھا ۔۔۔
جِن۔۔دم۔۔۔۔۔ جِندم ۔۔۔۔۔
” بس ۔۔۔ بس ۔۔۔ پتہ ہے سب اب مسکے لگانا شروع جناب ۔۔۔ “ حسنیٰ نے پانی کا گلاس منہ کو لگایا ۔۔۔
اور سر کو روٹھے سے انداز میں ہوا میں مارا
نعمان اس کے اس خفا سے انداز سے محزوز ہوتے ہوۓ ۔ بس مسکراۓ جا رہا تھا ۔۔۔
حسنیٰ اس طرح قہقہ لگانے اور ہنسنے کی وجہ سے اور چڑ رہی تھی۔۔۔
” جلدی کھاٸیں ۔۔۔ اور اب جا کر نوابوں کی طرح بیڈ پر ڈھیر مت ہو جاۓ گا ۔۔۔ کپڑے پریس کر لینا اپنے ۔۔۔ “ حسنیٰ نے خفگی سے منہ چڑاتے ہوۓ کہا ۔۔۔
” جندم۔۔۔۔۔ اب سزا دے رہی ہو ۔۔۔ “ نعمان نے بچوں کی طرح لاڈ سے کہا اور مسکراہٹ دباٸ
” ایسے ہی دوں گی ۔۔۔۔ “ حسنیٰ نے لا پرواہی سے کندھے اچکاۓ ۔۔۔
” سوچ لو ۔۔۔۔۔ “ نعمان نے شرارت سے قریب ہو کر کہا ۔۔۔
” کیا ۔۔۔۔ سوچ لوں ۔۔۔۔ “ غصے سے ناک چڑھا کر جتانے کے انداز میں کہا
” سونے کے لیے کہاں آنا ۔۔۔۔ “ شرارت بھری آنکھوں اور مسکراہٹ دباتے لبوں کے ساتھ مدھم سی سر گوشی کی
” خوش فہمی ۔۔۔۔ دوسرا کمرہ ہے ۔۔۔“ حسنیٰ نے زبان باہر نکال کر چڑانے کے انداز میں کہا
” یہ ظلم نہ کرنا ۔۔۔۔ مر جاۓ گا شوہر تمھارا۔۔۔۔“ نعمان نے ڈراماٸ انداز میں شرارت سے کہا
” نہیں آپ ۔۔۔ ساس بن لیں پہلے ۔۔۔۔“ حسنیٰ نے خفگی سے کہا۔۔۔
پھر نعمان کی شکل دیکھ کر مسکرا دی ۔۔۔
***********
” اس نے خود کہا ہے ۔۔۔ مجھے ۔۔۔“ وہاب نے پھٹنے کے سے انداز میں چیخ کر کہا ۔۔۔
اور خونخوار نظروں سے سامنے بیٹھے جبار کو دیکھا ۔۔۔ جو اب ضمانت کے کاغزات پر دستخط کر رہا تھا ۔۔۔ وہ وہاب کا الزام بار بار مسترد کر رہا تھا ۔۔۔ اس کے بلکل پاس اس کا وکیل معدب انداز میں کھڑا تھا ۔۔۔ جبار نے پانچ گھنٹوں میں ہی ضمانت کا انتظام کروا لیا تھا اور جب وہاب کو اس بات کا علم ہوا تو بپھرتا ہوا پولیس سٹیشن پہچ چکا تھا ۔۔۔
” دیکھو ۔۔۔۔ وہاب یہ غلط کر رہے ہو تم ۔۔۔۔ میں کہہ رہا ہوں ۔۔۔ میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کروایا ۔۔۔“ جبار نے آواز کو تھوڑا دھیما رکھتے ہوۓ وہاب کی طرف رخ کیا ۔۔
” میں پتا ۔۔۔ لگوا لوں گا ۔۔۔ سب ۔۔۔“ وہاب ہنوز غصے سے چیخا ۔۔۔
آج پورا ہفتہ ہونے کا آیا تھا ۔۔۔ اور حازق کا کوٸ اتہ پتا نہیں تھا ۔۔ اور نہ ہی اس دن کے بعد کوٸ کال ہی آٸ تھی ۔۔۔ وہاب حیدر پاگل سا ہو گیا تھا ۔۔۔ اسے کچھ بھی نہیں سمجھ آ رہا تھا ۔۔ ہر طرح کی کھوج کروا چکا تھا ۔۔۔ کون ہو سکتا تھا اگر جبار نہیں تو ۔۔۔ پھر اس دن حازق نے جبار کا نام کیوں لیا تھا اور جیسے ہی لیا تھا فون بند کیوں ہو گیا تھا۔۔۔ اور بنا کسی وجہ کوٸ ڈیمانڈ کیے بنا کوٸ کیوں اسے اپنے پاس رکھے گا ۔۔۔
جبار اب کوٹ سیدھا کرتا ہوا اٹھا تھا ۔۔۔ چہرے پر وہی خبیث مسکراہٹ تھی وکیل نے جلدی سے فاٸل اٹھا کر جبار کو ہاتھ کے اشارے سے باہر کی طرف جانے کے لیے کہا ۔۔۔
وہاب جھٹکے سے اٹھ کر جبار کے سامنے آیا ۔۔۔
” تمہیں چھوڑوں گا نہیں ۔۔۔ “ جبار کا کوٹ دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر پاگلوں کی طرح چیخ کر کہا۔۔۔۔
وہ ایسا ہی تو ہو گیا تھا ۔۔۔ بیوی الگ بیٹے کے غم میں نڈھال تھی تو ۔۔ بہو کے بچے کی پیداٸش کے دن قریب تھے ۔۔۔ وہ الگ سے برے حال میں تھی ۔۔۔۔
***********
” حازق وہاب ۔۔۔۔ ایک ہفتے سے لا پتہ ۔۔۔۔“ ٹی وی سکرین پر سرخ رنگ کا سٹیس ربن چل رہا تھا ۔۔
جس پر نظر پڑتے ہی وہ لرز کر رکی تھی ۔۔۔ عجیب سا احساس ہوا تھا حازق کا نام یوں ٹی وی پر دیکھ کر۔۔۔
” مشہور ۔۔۔ پیسٹی ساٸیڈز ۔۔۔ کمپنی کے مالک وہاب حیدر کے صاحب زادے حازق وہاب ایک ہفتے سے لا پتہ ۔۔“ نیوز کاسٹر ہیڈ لاٸنز پڑھ رہی تھی ۔۔۔
لاونج میں لگے ٹی وی پر نظریں جماۓ نعمان لبوں پر انگلی دھرے بیٹھا خبریں سن رہا تھا ۔۔۔ رات کو اچانک آنکھ کھلنے پر اسے احساس ہوا نعمان ساتھ نہیں لیٹا ہوا ہے ۔۔۔ بوجھل سی آنکھیں کھولتے ہوۓ موباٸل پر وقت دیکھا تو رات کے دو بج رہے تھے ۔۔۔ نعمان کو ہی تلاش کرتی جب وہ لاونج میں آٸ تو سامنے کے منظر نے قدم جما دیے تھے ۔۔۔ نعمان کو اندازہ نہیں ہوا تھا کہ وہ بلکل اس کے پیچھے کھڑی ہے ۔۔۔
” وہاب حیدر ۔۔۔ کے شک کی بنا پر مشہور انڈسٹریل جبار کو ہراست میں لیا گیا تھا ۔۔۔“ اگلی خبر پر حسنیٰ کی آنکھیں حیرت سے کھل گٸ تھیں ۔۔۔
آ پکو بتاتے چلیں ۔۔۔ جبار مشہور کلاتھ برینڈ شمی لان کے مالک زاہد جبار کے والد ہیں۔۔۔ ابھی وہ آج ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں ۔۔۔لیکن وہاب حیدر نے ان کے خلاف کیس فاٸل کیا ہے ۔۔ ان کا کہنا ہے کے انھیں سچ نہیں یقین ہے اغواکاران کی طرف سے موصول ہونے والی کال میں ان کے بیٹے نے بزات خود جبار کا نام لیا تھا ۔۔۔ اور اس دن کے بعد سے نا تو ان کی طرف سے کوٸ کال آٸ نہ ان کے بیٹے کی کوٸ خبر “ نیوز کاسٹر روانی سے خبریں پڑھنے میں مصروف تھی اور وہ حیرت سے گنگ کھڑی دیکھ رہی تھی ۔۔۔
نعمان کو شاٸد اچانک کسی کی موجودگی کا احساس ہوا ۔۔۔ مڑ کر پیچھے اسے دیکھا اور فوراً ٹی وی ریموٹ سے بند کیا ۔۔۔
” ۔۔۔ہمممم۔ کیا ہوا جندم ۔۔۔ “ بڑے پر سکون انداز میں پوچھا ۔۔۔
” یہ۔۔۔۔ سب۔۔۔۔ “ حسنیٰ نے گھٹی سی آواز میں ٹی وی کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا ۔۔۔
نعمان فوراً صوفے سے اٹھ کر اب اس کے پاس آیا ۔۔۔ رات کے ڈھیلے سے ٹراٸیوزر اور ٹی شرٹ میں ملبوس وہ لب ایک دوسرے میں پیوست کیے نارمل سے انداز میں اس کے پاس آ کر کھڑا ہوا۔۔۔
” ٹی وی۔۔۔آن کریں۔۔۔۔ “ حسنیٰ نے حیرت میں ڈوبی مدھم سی آواز میں کہا ۔۔۔
” میرا ۔۔۔ موڈ نہیں۔۔۔۔ چلو سوتے ہیں ۔۔۔“ حسنیٰ کے گرد بازو حاٸل کرتے ہوۓ گہری سانس لے کر کہا
حسنیٰ نے حیران ہو کر نعمان کی طرف دیکھا ۔۔۔ جو اپنے مخصوص انداز میں محبت سے اسے دیکھتے ہوۓ مسکرا رہا تھا ۔۔۔
” نعمان ۔۔۔۔ “ گھٹی سی حیرت میں ڈوبی آواز میں پکارا۔
نہیں یہ شخص ابھی نہیں پوری طرح کھلا مجھ پر ۔۔۔ پرت در پرت ۔۔۔ پرت در پرت۔۔۔ وہ کیا تھا ۔۔۔ کیوں تھا وہ ۔۔ اور یہ سب ۔۔۔ وہ الجھ کر رہ گٸ تھی۔۔۔۔
” یہ جو چہرہ ہے نہ۔۔۔۔ اس پر پریشانی نہیں ۔۔۔ چاہیے ۔۔۔ سمجھی ۔۔۔ برے لوگوں کا انجام برا ہی ہوتا“ نعمان نے دھیرے سے حسنی کے ناک کو ہاتھ میں پکڑ کر داٸیں باٸیں جنبش دی
” بس ۔۔۔ تمہیں کچھ نہیں سوچنا میرے علاوہ سمجھی تم ۔۔۔ “ بازو کی گرفت اس کے گرد مضبوط کی
” سمجھی۔۔۔۔“ حسنیٰ نے کھوٸ سی آواز میں کہا اور سینے پر سر رکھا ۔۔۔
سکون سے آنکھیں موند لیں تھیں ۔۔۔ نعمان کے کلون کی مہک ناک سے گھستی ہوٸ دل کو سکون دے گٸ تھی ۔۔۔ گہری سانس لی ۔۔۔
*******
” خبیث ۔۔۔۔ انسان ۔۔۔۔ تو نے بدلے میں میرا بیٹا اغوا کروا لیا۔۔۔ “ جبار پوری قوت سے چیخا تھا
وہاب ایک دم سے سیٹ پر سے اٹھا ۔۔۔ اور حیرت سے جبار کی طرف دیکھا ۔۔۔ جبار سرخ چہرہ لیے اس کے آفس کے بیچ و بیچ کھڑا اسے خونخوار نظروں سے گھور رہا تھا ۔۔۔
” نہیں ۔۔۔ کیا میں نے یہ ۔۔۔ “ وہاب نے حیرت میں ڈوبے الفاظ ادا کیے ۔۔۔
گارڈز نے بھاگ کر جبار کو گرفت میں لیا۔۔۔ جبار دندناتا ہوا آفس میں گھس آیا تھا ۔۔۔رات سے زاہد جبار گھر نہیں آیا تھا ۔۔۔ ہر جگہ سے لا پتہ تھا ۔۔۔ نہ اس کا فون لگ رہا تھا اور نہ ہی اس کی کار ٹریس ہو رہی تھی ۔۔۔ جبار بوکھلا گیا تھا۔۔ اور اسی بوکھلاہٹ میں وہ وہاب تک پہنچ چکا تھا۔۔۔
” میں۔۔۔ نہیں ۔۔۔ چھوڑوں گا تمہیں۔۔۔۔“ جبا ر نے گارڈز سے بازو چھڑوانے کی کوشش میں کہا ۔۔۔
” میں نے تمھارے بیٹے کو غاٸب نہیں کروایا ۔۔۔“ وہاب نے غصے سے سامنے پڑے میز پر ہاتھ مارے ۔۔۔
دماغ شل ہو رہا تھا ۔۔۔ آخر کو یہ ہو کیا رہا تھا۔۔۔ کونسا ایسا دشمن پیدا ہو گیا تھا جس کے بارے میں علم نہیں تھا ۔۔ ہر طرح سے وہ کھوج کروا چکا تھا۔۔۔ اور اب آج یہ جبار ایک نیا ڈرامہ بنا چکا تھا ۔۔۔
” جھوٹ ۔۔۔۔ تم جان بوجھ کر ایسا کر رہے ہو ۔۔۔ میں تمہیں بتا بتا کر تھک چکا ہوں میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا میں نے حازق وہاب کو اغوا نہیں کروایا ۔۔۔ “ جبار غصے میں چیخ رہا تھا ۔۔۔
گارڈز مسلسل اسے گھسیٹتے ہوۓ اب آفس کے دروازے تک لا چکے تھے ۔۔۔
” اور تم نے میرا بچے کو ۔۔۔۔“ جبار نے روہانسی آواز میں کہا ۔۔۔
” اب تو دیکھنا میں کیا کرتا ہوں “ جبار نے جھٹکے سے بازو چھڑواۓ ۔۔۔ اور رعب سے کہا ۔۔۔
پھر لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر جا چکا تھا ۔۔۔ جبکہ وہاب حیدر گرنے کے سے انداز میں کرسی پر بیٹھا تھا ۔۔۔ آخر کو یہ کیسی آفت تھی ۔۔۔۔
*******
” صاب ۔۔۔۔ دوسرے والے ۔۔۔ کو کھانا دینا ہے نہ۔۔۔۔“ آدمی کی آواز فون میں سے ابھری ۔۔۔
نعمان نے چونک کر کچن میں کھڑی حسنیٰ کی طرف دیکھا ۔۔۔ وہ مصروف سے انداز میں مسکراتی ہوٸ اس کے لیے ڈنر بنا رہی تھی ۔۔۔
” ہاں ۔۔۔۔ دینا ہے ۔۔۔ دونوں کو ایک دوسرے کی بھنک نہیں پڑنی چاہیے ۔۔ “ نعمان نے آواز کو مدھم رکھا ۔۔۔
” حکم ۔۔۔۔“ آدمی کی تسلی بخش آواز آٸ ۔۔۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: