Husna Novel by Huma Waqas – Episode 18

0
حسنیٰ از ہما وقاص – قسط نمبر 18

–**–**–

” نعمان آ جاٸیں اب “
حسنیٰ نے کھانے کے میز ہر باٶل رکھتے ہوۓ دور سے ہی پکارا تھا۔
” ہمممم آ یا بس “
نعمان نے فون ہر ہاتھ رکھ کر کہا ۔ اور پھر سے کان سے لگایا
” پرسوں پہلے والے کو چھوڑنا ہے “
نعمان نے لبوں کے قریب داٸیں ہاتھ کی انگلیوں کو چلاتے ہوۓ پرسوچ انداز میں کہا۔۔ آنکھیں سکیڑ کر گہری سانس لی ۔ ایک نظر حسنیٰ پر ڈالی ۔ وہ آفس سے آنے کے بعد کپڑے تبدیل کر کے لاونج میں آیا تھا تو فون آ گیا تھا
” کیا سر ایسے ہی “
فون کی دوسری طرف سے حیران سی آواز ابھری تھی ۔۔۔
” ہمممم جتنا کہا بس اتنا ہی کرو پہلے والے کو چھوڑنا ہے “
نعمان نے حسنیٰ کو اپنی طرف آتا دیکھ کر آواز کو تھوڑا دھیما رکھ کر دانت پیستے ہوۓ کہا ۔ وہ پر جوش انداز میں مسکراتی ہوٸ اس کی طرف آ رہی تھی ۔ سیاہ رنگ کے جوڑے میں دمکتی رنگت لیے بڑے سلیقے سے ہلکے سے بناٶ سنگہار کے ساتھ وہ غضب ڈھا رہی تھی وہ ہر روز اس کے آنے سے پہلے یوں ہی اہتمام سے تیار ہوتی تھی ۔
” جی سر “
دوسری طرف شرمندہ سی آواز ابھری تھی ۔ داور نے پوری غنڈوں کی ٹولی اس کی مدد کو روانہ کر دی تھی۔ جو بھر پور طریقے سے نعمان کے اشاروں پر کام کر رہی تھی ۔
” پھر بات ہوتی ہے “
نعمان نے عجلت میں کہہ کر فون بند کیا ۔اس وقت تک حسنیٰ مسکراتی قریب پہنچ چکی تھی ۔جسے جوابی مسکراہٹ دے کر وہ جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا ۔
وہ بازو سے کھینچتی کھانے کے میز پر لے آٸ تھی ۔آج اس نے کچھ سپیشل اٹیلین ڈیش تیار کی تھی جس کے لیے وہ بہت پر جوش ہو رہی تھی
” کیسا بنا ہے “
نعمان کے پہلے چمچ پر ہی وہ جوش سے تھورڈی کے نیچےہاتھ رکھتے ہوۓ بچوں کی طرح پوچھ رہی تھی۔۔
چمچ منہ میں جاتے ہی عجیب سے ٹیسٹ سے زبان ہمکنار ہوٸ تھی ۔ ایسا ٹیسٹ نعمان کی بے چاری زبان نے زندگی میں کبھی نہیں چکھا تھا ۔ اٹیلین کھانوں کا وہ بہت شوقین تھا ۔ کرسٹن بہترین کھانے بناتی تھی لیکن آج جو وہ کھا رہا تھا کیا یہ واقعی کوٸ اٹیلین ڈش ہی تھی وہ ہلکے ہلکے منہ چلاتے ہوۓ سوچ رہا تھا
نعمان نے حسنیٰ کے سوال پر بچارگی سے اس کے چہرے کی طرف دیکھا وہ گلابی ہلکی سی سرخی سے مزین کیے لبوں کو بڑے پرجوش انداز میں دانتوں میں دباۓ بڑے خوشگوار موڈ میں بیٹھی ہوٸ تھی ۔
نعمان نے بمشکل تھوک نگلنے کے انداز میں اس عجیب سے مواد کو گلے سے نیچے کیا اور پھر زبردستی کی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر دانتوں کی نماٸش کی ۔۔۔
” ہا۔۔۔ہاں بہترین بہت اچھا “
گھٹی سی آواز سرخ ہوتا چہرہ اور زبردستی کی مسکراہٹ سجا کر اس نے سامنے بیٹھی حسنیٰ کی طرف دیکھا۔
” شکر ہے اتنی محنت سے بنایا “
حسنیٰ نے فوراً تھورڈی کے نیچے ہاتھوں کو پر جوش انداز میں اٹھایا اور تالی کی شکل میں دونوں ہاتھوں کو ملا کر جوش اور محبت سے نعمان کی طرف دیکھا
” تم محنت کرو اور وہ اچھا نہ بنے یہ کیسے ہو سکتا ہے “
نعمان نے بمشکل ہنسی کو دبایا اور کھانا زہر مار کیا۔۔ وہ بڑے مزے سے اب صوفے پر دونوں ٹانگوں کو سمیٹے ٹی وی کے آگے بیٹھ چکی تھی ۔ نعمان نے بھی باقی کا اٹلین نامی عجیب غریب مواد چھوڑا پانی کے دو گلاس پیے اور سگریٹ کی ڈبی کو جیب سے نکالتا ہوا ٹیرس کی طرف بڑھا
” وہاب حیدر میرے ساتھ گیم کر رہا ہے ۔ میں نے اس کے بیٹے کو غاٸب نہیں کروایا لیکن اب میرا بیٹا لا پتہ ہونے میں سرا سر اسی کا ہاتھ ہے “
ٹی وی سکرین پر جبار ماٸک کے آگے بول رہا تھا۔ اور سامنے صوفے پر حسنیٰ کا ہاتھ ریموٹ پکڑے جامد ہوا تھا چہرے پر وہی خوف اور گھن موجود تھی ۔
” سر لیکن ان کے بیٹے کی فون کال ریکارڈنگ میں وہ آپکا نام لے رہا ہے “
اینکر نے جبار سے سوال کیا ۔ وہ عدالت کے سامنے بہت سے اینکرز کے درمیان پریشان حال سا کھڑا تھا۔
” جھوٹ سرا سرجھوٹ ۔۔۔۔۔ “
جبار چیخ اٹھا . حسنیٰ نے حیران سی صورت بنا کر ایک نظر نعمان پر ڈالی جو بھنویں اچکاۓ سگریٹ کو انگلیوں میں گھما رہا تھا حسنیٰ کے دیکھنے پر فوراً اپنا انداز بدلہ۔
” بے بیناد سب اس نے ابھی میرا نام ہی لیا آگے کوٸ بات تک نہیں کی اور اس بنا پر مجھ پر شک کیسے “
جبار نے ماتھے ہر بل ڈال کر غصے میں اینکر کو جواب دیا
” میری اپیل یہی ہے ۔ وہاب حیدر سے میرا بیٹا باز یاب کروایا جاۓ میں بے قصور ہوں “
جبار نے ماٸک کو ہاتھ میں لے کر کیمرہ سکرین کی طرف دیکھ کر کہا نعمان نے آگے بڑھ کر حسنیٰ کے ہاتھ سے ریموٹ لیا اور ٹی وی کو آف کر دیا ۔۔حسنیٰ نے چونک کر سر اوپر اٹھا کر نعمان کی طرف کھوجتی نظروں سے دیکھا اسے کے چہرے پر عجیب سا سکون تھا
” ایسے ہی دونوں پاگل بڈھے “
نعمان نے ہاتھ میں پکڑا سگریٹ لبوں میں دبایا ۔ سگریٹ لبوں میں ہونےکی وجہ سے آواز تھوڑی تبدیل ہوٸ ۔ حسن نے بے یقینی سے نعمان کی طرف دیکھا
” مجھے تو لگتا اپنی ہی کوٸ گیم ان دونوں کی ایویں دنیا کو الو بنا رہے “
نعمان نے اس کے بے یقین چہرے کو دیکھ کر کندھے اچکاۓ ۔ لبوں کو اس انداز سے باہر نکالا جیسے اس سے بڑا انجان اور کوٸ نہ ہو
” لیکن مجھے کچھ اور لگتا ہے “
حسنیٰ نے پھیکی سی آواز میں کہا۔۔ اور کھوجتی نظر اپنے سامنے کھڑے اس اداکار پر ڈالی جو وہ بات شاٸد بھول چکا تھا کہ وہ حسنیٰ کو بتا چکا ہے کہ وہ ایک نامی گرامی غنڈا بھی رہ چکا ہے۔ حسنیٰ کے دل میں عجیب سا خوف سراٸیت کر رہا تھا ۔ نعمان اگر یہ سب کر رہا ہے تو یہ لوگ بہت خطرناک اور امیر کبیر ہیں ۔
” کیا۔۔۔۔۔۔“
بڑے انداز میں بھنویں اچکا کر حسنیٰ سے سوال کیا۔ حسنیٰ کی عجیب شاکی سی نظروں میں نظریں گاڑیں
” کچھ نہیں “
حسنیٰ نے گہری سانس لی ۔ اور ٹی وی پھر سے آن کر کے چینل تبدیل کیا نعمان مسکراتا ہوا سیٹی بجاتا ٹیرس کی طرف چل دیا ۔وہ روز رات کے کھانے کے بعد ٹیرس پر کھلی ہوا میں سگریٹ پیتا تھا۔ وہ اپنے ہر انداز سے حسنیٰ کو یہ باور کروانے کی کوشش کر رہا تھا کہ اسکا اس سب معاملے جوٸ تعلق نہیں ہے
حسنیٰ بھی سر جھٹک کر کھانےکے میز سے برتن اٹھانے کے لیے اٹھ چکی تھی ۔۔
*************
” کیا بکواس کر رہی ہو یہ“
ملک انور نے غصے سے دھاڑتے ہوۓ اپنے سامنے کھڑی صابرہ کو کھا جانے والی نظروں سے گھورا جس نے نکاح کا بتا کر ملک انور کے سر پر بم پھوڑ ڈالا تھا ۔
” ملک صاب ۔۔۔ ۔۔۔“
صابرہ نے ہاتھوں کو مسلتے ہوۓ روہانسی آواز میں کہا۔ التجاٸ نظر اپنے شوہر پر ڈالی کہ شاٸد نکاح کا سن کر ان کو شہروزی پر رحم آ جاۓ ۔ شہروزی کو کمرے میں بند کیے تین ہفتے ہو چلے تھے ۔ اور اس کی حالت اب رو رو کر غیر ہو چکی تھی ۔ صابرہ کی ممتا کا دل پھٹنے کو آتا تھا۔ وہ چاہتی تھیں کہ شہروزی نے غلطی تو کر ہی لی ہے لیکن اب ملک انور ہی اپنا غصہ تھوک کر اس لڑکے کو قبول کر لیں ۔
وہ اپنے وسیع عریض کمرے کے وسط میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے تھے۔ ملک انور اپنے مخصوص انداز میں سفید رنگ کے کلف لگے قمیض شلوار میں اکڑے کھڑے تھے۔ اور صابرہ سر پر دوپٹہ اوڑھے ان کے غصے کے آگے چھوٸ موٸ سی بنی کھڑی تھیں ۔
” بکواس نہیں ہے یہ سچ ہے “
گھٹی سی شرمندہ سی آواز میں کہتے ہوۓ صابرہ نے اپنی آنکھیں اپنے کانپتے ہاتھوں پر مرکوز کیں
” گلا دبا دوں اس لڑکی کا میں “
ملک انور چیختے ہوۓ آگے بڑھے آواز اتنی اونچی تھی کہ کمرے کی درو دیوار ہلنے کو آ گٸ تھیں ۔ صابرہ کا سارا وجود ان کے غصےکے خوف سے کانپ گیا
” ملک صاب ۔۔۔۔۔۔۔ خدارا ملک صاب ایسا کچھ نہیں کریں “
وہ تیزی سے ہاتھ جوڑتیں ان کے سامنے آ گٸ
” میں اس نکاح کو نہیں مانتا اور جھوٹ بول رہی ہے یہ کوٸ نکاح نہیں ہوا ہے اس کا “
ملک انور نے بپھر کر کہا ماتھے پر ہزاروں بل تھے اور ضبط سے چہرہ سرخ ہو چلا تھا
” ملک صاب نکاح کو جھٹلایا نہیں جا سکتا ہے “
صابرہ نے سر جھکا کر کہا ۔
” جب وہ لڑکا ہی نہیں رہے گا تو کیسا نکاح “
ملک انور نے ہاتھوں کو ملتے ہوۓ پر سوچ انداز میں کہا۔ صابرہ دھک سے رہ گٸ تھی ۔۔
**************
” فاٸق صاحب آپ میرے ساتھ چلیں گے “
نعمان نے فاٸل سے نظر اٹھا کر سامنے کھڑے فاٸق رضا سے کہا ۔
” جی سر “
فاٸق رضا نے معدب انداز میں نعمان کی بات پر سر کو ہاں میں جنبش دی ۔ نعمان اپنے آفس میں پانچ آدمیوں کے سامنے بیٹھا تھا جن میں سے ایک فاٸق رضا تھے۔
” اور آپ باقی لوگ آپ لوگوں سے پھر بات ہوتی ونٹر آرٹیکل پر “
نعمان نے مسکرا کر فاٸل بند کی اور ان میں سے ایک آدمی کی طرف فاٸل کو بڑھایا۔ سب لوگ سر کو ہلاتے ہوۓ باری باری اٹھ کر آفس سے باہر نکلے۔
” فاٸق صاحب آپ کچھ آرٹیکل ساتھ لے آٸیں میں باہر آپکا انتظار کر رہا ہوں واصف ولاز جانا ہے “
نعمان نے کھڑےہو ۓ کر کار کی چابی کو میز پر سے اٹھایا ۔ اورمسکرا کر فاٸق کی طرف دیکھا ۔
” جی سر ابھی آیا میں “
فاٸق مہدب انداز میں کہتے ہوۓ اٹھے ۔
” آپ مجھے سر مت کہا کریں بیٹا کہا کریں مجھے اچھا لگے گا “
نعمان نے مسکرا کر محبت سے فاٸق کی طرف دیکھا ۔ وہ چونک کر رکے محبت سے نعمان کی طرف دیکھا اور نرم سی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر اثبات میں سر ہلاتے باہر نکل گۓ ۔
نعمان کو گاڑی میں بیٹھے تھوڑی دیر ہی ہوٸ تھی جب وہ ایک ملازم کے ساتھ ایک باکس سمیت کار کی طرف آۓ ۔ملازم نے باکس کار میں رکھا اور پچھلی سیٹ پر جبکہ فاٸق اگلی سیٹ پر نعمان کے ساتھ بیٹھ گۓ ۔
” حسنیٰ کیسی ہے “
فاٸق نے محبت سے نعمان کی طرف دیکھتے ہوۓ پوچھا ۔ نعمان کے چہرے پر فوراً دلکش مسکراہٹ ابھر آٸ ۔ آنکھیں چمک اٹھی ۔
” بلکل ٹھیک آپ نے تو چکر ہی نہیں لگایا پھر “
لب بھینچ کر فاٸق کی طرف دیکھا اور پھر نظریں سامنے جماٸیں
” بس بیٹا تھک جاتا ہوں بہت گھر جا کر آرام بس “
” چلیں پھر میں حسنیٰ کو لے کر آ جاٶں گا کسی دن آپ کی طرف “
نعمان نے مسکراہٹ گہری کرتے ہوۓ کہا۔ سٹیرنگ کو موڑتے ہوۓ محبت بھرے انداز میں فاٸق کی طرف دیکھا
” تمھارا ہی گھر ہے بیٹا “
گاڑی واصف ولاز کے گیٹ پر پہنچ چکی تھی ۔ وسیع عریض گیٹ گارڈ نے کھولا تھا اور نعمان کی گاڑی پورچ میں آ کر رکی ۔
” آٸیں ۔۔۔۔۔۔۔ “
نعمان نے فاٸق کی طرف کا دروازہ کھولا اور بہت عزت سے ان کو باہر آنے کے لیے کہا۔
دونوں کو مہمان خانے میں بیٹھے ابھی چند لمحے ہی گزرے تھے جب شہروزی سلیقے سے کندھے پر دوپٹہ سنبھالتی داخلی دروازے سے اندر آٸ ۔
فاٸق نے نظر اٹھا کر دیکھا اور پھر آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گٸیں ۔ سامنے سے آتی ہوٸ عورت کا چہرہ وہ کیسے بھول سکتا تھا ۔ یہ وہ چہرہ تھا جس نے اس کی ہنستی کھیلتی زندگی میں آگ لگا دی تھی دنیا میں اگر اس نے کسی سے نفرت کی تھی تو وہ سامنے مسکراتی ہوٸ آتی عورت تھی ۔
اس کو واصف ٹیکسٹاٸل میں کام کرتے ہوۓ تیسرا ماہ جا رہا تھا لیکن مسز واصف شہروزی ہے یہ حقیقت آج سامنے آٸ تھی ۔ اور بہت سے الجھتے ہوۓ سوال حل کر گٸ ۔
” میم یہ کچھ آرٹیکل “
نعمان نے فاٸل شہروزی کی طرف بڑھاٸ جسے وہ مسکراتی ہوٸ پکڑ رہی تھی دونوں فاٸق کی حالت سے یکسر بے خبرتھے ۔ شہروزی نے فاٸق کو بلکل نہیں پہچانا تھا۔ اس کے چہرے پر موجود داڑھی اور اتنےسالوں کی کٹھن جیل کی مشقت کے آثار نے چہرے کو بدل کر رکھ دیا تھا۔
” میم یہ مینول ایمبراٸڈری ڈیپارٹمنٹ کے مینجر ہیں “
نعمان نے مسکرا کر فاٸق کی طرف دیکھا اور پھر سامنے بیٹھی شہروزی کی طرف ۔ شہروزی نے بڑی دلکش مسکراہٹ سجا کر زرد سپاٹ چہرہ لیے بیٹھے فاٸق کی طرف دیکھا
” فاٸق رضا “
نعمان نے نام لیا ۔ شہروزی نے چونک کر اچٹتی نظر اپنے سامنے بیٹھے شخص پر ڈالی کچھ لمحے کے لیے آنکھوں کی پتلیاں سکڑی تھیں اور پھر پھیل گٸ تھیں چہرہ زرد ہوا ۔۔اب حیران ہونے کے باری شہروزی کی تھی یہ نام کیسے بھول سکتی تھی وہ اور پھر فاٸق کے چہرے پر موجود سارے بدلے ہوۓ آثار کے باوجود وہ پہچان چکی تھیں کہ ان کے سامنے بیٹھا فاٸق رضا کوٸ اور نہیں وہی فاٸق رضا ہے ۔
” میم شہروزی ! کسی تعریف کی محتاج نہیں ہیں آپ “
فاٸق نے آنکھوں کی حیرت پیچانتے ہوۓ ۔ معنی خیز مسکراہٹ چہرے پر سجاٸ ۔
” جی !!!!!“ شہروزی نے تھوک نگلا ۔۔
اس کے بعد شہروزی کا وہاں بیٹھنا مشکل ہو گیا تھا ۔ فاٸق کی زہر خندہ مسکراہٹ اور سپاٹ چہرہ ماضی کی ریل کو گھوما گیا تھا ۔ وہ جلدی سے کام نمٹا کر وہاں سے گھبراٸ سے اجازت لے کر چل دی تھیں ۔ جبکہ فاٸق کی خاموش نظروں نے بہت دور تک اس کا تعاقب کیا ۔
*************
” کون ہو تم لوگ “
وہاب نے گھبرا کر سر پر تانی پسٹل کی طرف دیکھا اس کا چہرہ پل بھر میں ہی فق ہوا تھا ۔
وہ آفس سے نکل کر اپنی کار میں پچھلی سیٹ پر بیٹھا تھا ۔ نڈھال سا حازق کے بارے میں سوچ رہا تھا جب کار ایک سنسان سڑک پر رکی۔ وہاب نے چونک کر ڈراٸیور کی طرف دیکھا ۔ اور جیسے ہی ڈراٸیور نے یونیفارم کیپ اتار کر گردن موڑی وہاب حیدر کی ریڑھی کی ہڈی میں خوف کی لہر دوڑ گٸ ۔ وہ اس کا ڈراٸیور نہیں تھا اسی لمحے ایک آدمی گن لے کر پچھلی سیٹ پر وہاب کے ساتھ جبکہ دوسرا فرنٹ سیٹ پر بیٹھ چکا تھا ۔
” اور ۔۔۔۔اور یہ کیا کر ہوتم لوگ “
وہاب کی لرزتی آواز نکلی ۔ گاڑی عجیب سی سنسان سڑک پر تیزی سے رواں تھی۔
” منہ بند سمجھا“
وہاب کے ساتھ بیٹھے آدمی نے پسٹل کو وہاب کے سر پر رکھا ۔
وہاب کا سانس خشک ہوا ۔ اور اس کے بعد کوٸ آواز نہیں نکلی۔ گاڑی مسلسل تین گھنٹے سڑک پر رواں رہی اور وہاب حیدر پسینے میں نہاۓ بیٹھا تھا۔۔ گاڑی اب پھر سے شہر میں آ چکی تھی آدمی نے پسٹل اب چھپا کر وہاب کی پسلی پر تان لی تھی
گاڑی اے ون پسٹی ساٸیڈ کے سامنے رکی۔ آفس کے آگے موجود گارڈ بے ہوش حالت میں پڑا تھا۔ پسٹل سر پر تانے وہ تینوں آدمی وہاب کو اس کے آفس میں ہی لے آۓ تھے ۔ آفس سنسان تھا ۔ سب لوگ جا چکے تھے ۔ اور جتنے لوگ وہاں اس وقت موجود ہوتے تھے سب کے سب بے ہوش تھے ۔
سرپر پسٹل تانے شخص اس کو اسی کے آفس میں لے آیا تھا جہاں پہلے سے ہی کوٸ میز پر ٹانگیں کراس شکل میں رکھے کرسی پر بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا ۔
آدمی نے جھنجوڑتے ہوۓ وہاب کو لا کر اسی کی کرسی پر بیٹھا یا تھا ۔ وہاب نے گھبرا کر سامنے بیٹھے شخص کی طرف دیکھا۔
وہ چھبیس سال کے لگ بھگ خوبصورت نقش کے چہرے کا مالک شخص تھا ۔ سفید رنگت گہری گرے آنکھیں ۔ مڑی ہوٸ لمبی گھنی پلکیں ماتھے پر پڑے بلوں سے بل کھاتی بھنویں کھڑی ستواں ناک بڑھی شیو اور بھرے ہوۓ لبوں کے اوپر گھنی رعب دار مونچھیں ۔۔ چوڑی جسامت گھنے بال
” کیسے ہیں آپ “
وہ کھردری بھاری آواز میں بولا ۔۔ وہاب رضا کے پسینے چھوٹ گۓ تھے ۔ حالت رحم کے قابل تھی ۔ زبان گنگ ہو چکی تھی ۔
” گھبراٸیں نہیں بلکل بھی “
نعمان نے جسم کو تھوڑا سا خم دیا اور جیب سے پسٹل نکال کر اپنے سامنے میز پر رکھا ۔ ٹانگوں کو میز پر سے گھوما کر باری باری اتارا اور گہری سانس لی ۔ پسٹل تانے آدمی کو ہاتھ سے باہر جانے کا اشارہ کیا ۔ وہ فوراً سر کو ہاں میں ہلاتا باہر نکل گیا ۔ وہاب نے خوف سے باہر جاتے آدمی کو دیکھا اور پھر سامنے بیٹھے نعمان کو جسے وہ اپنی زندگی میں پہلی دفعہ دیکھ رہا تھا
نعمان نے سگریٹ کو منہ میں دبایا اور پاس پڑے لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلا کر ایک ہاتھ سے بڑے انداز میں گھومایا ۔ سکرین اب وہاب کے سامنے تھی
” یہ دیکھیں “
نعمان نے سگریٹ کو ہاتھ سے پکڑ کر منہ سے باہر نکالا اور دھویں کو ہوا میں چھوڑا ۔ وہاب کی آنکھیں پھٹ کر باہر آٸ تھیں ۔ سکرین پر انیس سال کے لگ بھگ لڑکی رو رہی تھی اسے کرسی سے باندھا ہوا تھا۔
” یہ ۔۔۔۔۔یہ ۔۔۔۔۔ میری بیٹی “
وہاب کی گھٹی سی بے یقین آواز نکلی۔
” معلوم ہے آپکی بیٹی ہے اگلی باری اس کی ہے وہ کیا ہے نہ جبار کو اس کی اگلی ڈیل کے بدلے۔۔۔۔۔ “
نعمان نے بھنویں اچکا کر فقرہ ادھورا چھوڑا ۔
” جسٹ شٹ اپ بیٹی ہے یہ میری “
وہاب نے کھولتے ہوۓ میز پر ہاتھ مارے ۔۔ نعمان نے غصے سے سامنے پڑی پسٹل اٹھا کر تانی
” تو وہ بھی کسی کی بیٹی ہی تھی جس کو آپ نے پچھلی ڈیل کے بدلے جبار کے آگے پیش کیا تھا “
نعمان اتنی زور سے دھاڑا کہ وہاب کانپ گیا ۔ اور ڈھنے کے سے انداز میں خوف سے کرسی ہر گرا
” کہ۔۔۔کہ۔۔۔۔ کون ہو تم اور کیسے جانتے ہو یہ سب میری دوسری شادی اور یہ سب “
وہاب کی زبان لڑ کھڑا گٸ ۔۔۔ ماتھا گردن چہرہ سب پسینے سے شرابور تھے۔
” وہ بھی بتاٶں گا کہ میں کون ہوں ۔ پر پہلے تو یہ بتا دوں کہ میں کیسے اتنا کچھ جانتا ہوں “
نعمان نے پسٹل سے ماتھے پر خارش کی۔ لبوں کو بھینچ کر خونخوار نظر سامنے بیٹھے شخص کے مکروہ چہرے پر ڈالی
” کوٸ بھی شخص اپنے بیٹے کو ایک عدد رکھیل بیوی رکھنے کا مشورہ ایسے ہی تو نہیں دے سکتا نہ“
نعمان نے دانت پیس کر کہا ۔۔۔
”تجربہ ہو گا تو ہی ایسی بات کر سکتا ہے “
نعمان نے معنی خیز مسکراہٹ چہرے پر سجاٸ ۔ وہ ہمیشہ سے بہت ذہانت سے ہوم ورک کر کے چلنے والا انسان تھا ۔ اور وہاب کی دوسری شادی کا پتہ چلانا باٸیں ہاتھ کا کھیل تھا ۔ وہاب کی ایک عدد بیوی اور تھی جسے وہ بزنس ڈیلز کے لیے پیش کرتا رہا تھا اس میں سے وہاب کی ایک عدد انیس سال کی خوبصور ت بیٹی تھی ۔ دنوں ماں بیٹی اسلام آباد کے ایک روہ پوش علاقے میں عیش کی زندگی گزار رہی تھیں ۔
” اب بتاتا ہو ں میں کون ہوں “
نعمان نے پسٹل پھر سے میز پر رکھا ۔ وہاب نے تھوک نگلا
” مسٸلہ یہ ہے کہ تم لوگوں جیسے امیر بھیڑیے امارات کی آڑ میں یہ جو گھناٶنے کھیل کھیلتے ہو تم لوگوں کو یہ سب تمھاری سو ساٸٹی کا حصہ لگتا ہو گا “
” حسنیٰ کی طرح بہت سی لڑکیوں کو شرعی رشتے میں رکھ کر اپنی بزنس ڈیل کے عوض رات گزارنے کے لیے پیش بھی کرتے ہو گے کیونکہ تم لوگوں کو یہ کوٸ غلط کام نہیں لگتا “
نعمان نےدانت پیس کر ماتھے پر بل ڈال کر لفظ چبا چبا کر ادا کیے
” لیکن حسنیٰ کی دفعہ تھوڑا مسٸلہ ہو گیا حسنیٰ غلط چوز کی آپ نے “
نعمان نے پسٹل کو دھیرے سے گھومایا ۔۔۔ پسٹل میز پر چکر کھانے لگی۔
”حسنیٰ کے ساتھ جو بھی کیا اس میں جتنے لوگ انولو تھے ان کی سزا موت ہے صرف “
نعمان نے پسٹل پر نظریں جما کر پر سکون لہجے میں کہا ۔ وہاب کا خون خشک ہوا۔۔ دھل کر سامنے بیٹھے نعمان کی طرف دیکھا ۔
” کیوں مت کرو ایسا جتنا پیسا لینا ہے لے لو “
وہاب نے لرزتے ہوۓ ہاتھ جوڑے وہ بری طرح کانپ رہا تھا ۔۔۔
” پیسہ اس کی عزت اور میرا سکون واپس نہیں لا سکتا “
نعمان ہنوز ویسے ہی گھومتی پسٹل پر نظر جماۓ بول رہا تھا ۔
” کون ہو تم “
وہاب کی رونے جیسے آواز نکلی ۔۔۔
” حسنیٰ کا شوہر “
نعمان نے پسٹل اٹھا کر ۔ وہاب کی طرف بڑھاٸ
” شوٹ یور سیلف راٸٹ ناٶ“
بڑے نڈر انداز میں کہا ۔ وہاب نے چونک کر اس کی طرف دیکھا جو پسٹل اس کی طرف بڑھا رہا تھا
” نہیں ۔۔۔۔ میں یہ نہیں کر سکتا ہوں “
وہاب نے حیرت سے اس کے ہاتھ ہر رکھی پسٹل کی طرف دیکھا۔
” ٹھیک ہے پھر تم اپنی بیٹی کے ساتھ وہی کچھ ہوتا دیکھ سکتے ہو کیا“
نعمان نے تھوڑا آگے ہو کر طنز بھرے لہجے میں کہا ۔
” نہ نہیں پلیز میری بیٹی کے ساتھ کچھ بھی نہ کرنا میرے بیٹے کو بھی چھوڑ دو “
وہاب نے ہاتھ جوڑے۔۔۔
” ٹھیک ہے تمھاری بیٹی کو کچھ نہیں کروں گا ۔ شوٹ کرو خود کو “
نعمان نے پسٹل وہاب کے منہ میں رکھی ۔۔۔۔اور ہاتھ زبردستی پکڑکر ٹرگر پر وہ کانپ رہا تھا ۔۔۔ ٹانگیں اتنی تیزی سے کانپ رہی تھیں کہ ایک دوسرے سے ٹکرا رہی تھیں۔۔
حسنیٰ مونال کی اونچاٸ پر کھڑی نظر آ رہی تھی۔۔
” شوٹ یور سیلف ۔۔۔۔۔۔“
نعمان نے اس کے کان کے قریب ہو کر سر گوشی کی ۔۔۔ وہ جوں کا توں کانپ رہا تھا منہ سے تھوک رال کی شکل میں ٹپک رہا تھا
حسنیٰ نے کودنے کے لیے قدم آگے بڑھاۓ وہ ہوٹل کی چھت پر کھڑی تھی۔۔۔
” شوٹ۔ٹ۔ٹ۔ٹ۔ٹٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“
نعمان اتنی زور سے چیخا کہ وہاب کا ہاتھ لرز کر ٹرگر کو دبا گیا اور پھر دھماکے کی آواز کے ساتھ چھینٹے دور دور تک پڑے تھے ۔۔۔

 

” شہروزی اپنا حلیہ درست کرو واصف کی امی ملنا چاہتی تم سے “
صابرہ نے کمبل شہروزی کے اوپر سے اٹھایا تھا وہ بے حال اپنے بستر میں زندہ لاش کی طرح پڑی تھی ۔ حسن کی موت کا صدمہ اس کے لیے جان لیوا تھا چار ماہ ہونے کے آۓ تھے لیکن وہ ایسے ہی بے حال لیٹی رہتی تھی نہ کسی سے بات کرتی تھی ۔ ملک انور نے اس کا کہیں بھی آنا جانا اور کسی کا بھی اس سے ملنا سب بند کروا دیا تھا۔
” بھول جاٶ اب اسے اور سوگ منانا بند کر دو تمھاری شادی کی تاریخ رکھ دیں گے آج تمھارے بابا “
صابرہ نے اس کے پاس بیٹھ کر اس کے چہرے پر نرمی سے ہاتھ پھیرا تھا۔ مخملی سی جلد اب ویسی نہیں لگ رہی تھی مرجھاٸ سی تھی ۔ ملک انور تو سرے سے اس کے نکاح کو مانتے نہیں تھے لیکن صابرہ کے بہت اسرار پر انھوں نے عدت تک کے وقت کا انتظار کیا تھا اور اب جب عدت کو دس دن باقی تھے تو وہ جلد از جلد شادی کی تاریخ رکھ دینا چاہتے تھے
شہروزی نے سوزش سے بھاری ہوٸ پلکیں اوپر اٹھاٸ تھیں اداسی سے بھری بے رونق آنکھیں تھیں جن میں رو رو کر اب زخم سے سرخ سرخ لکیریں واضح تھیں ۔۔
وہ سامنے بیٹھی صابرہ کو ایسے دیکھ رہی تھی جیسے سب سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو چکی ہو ۔
” شادی ہو جاۓ ایک دفعہ بس پھر سب ٹھیک ہو جۓ گا“
صابرہ نے مسکراتے ہوۓ اس کے بکھرے بالوں کو سمیٹا تھا ۔ وہ پاگلوں کی طرح صابرہ کے چہرے کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔ایک دم سے دل پھر سے خراب ہونے لگا تھا ۔۔ ابکاٸ اور عجیب سا من بوجھل ہو رہا تھا ۔۔ اٹھتی تھی تو بڑے بڑے چکر آتے تھے اور اب تو دس دن سے بری طرح ابکاٸ آتی کچھ بھی کھاتی متلی سی محسوس ہوتی اور پھر سب کھایا پیا باہر ہو جاتا ۔۔۔ وہ ڈاکٹر بن رہی تھی اور چار ماہ پہلے ہی اسے خبر ہو چکی تھی کہ اس کے ساتھ یہ سب کیا ہو رہا ہے ۔ پر سب سے چھپاتی رہی پر اب حالت زیادہ خراب ہونے کو تھی لگ بھگ پانچ ماہ ہونے کو تھے ۔
وہ جلدی سے کمبل کو کونے سے پکڑ کر خود سے اچھالتی کمرے سے ملحقہ واش روم کی طرف بھاگی تھی ۔ وہ بری طرح ابکاٸ کر رہی تھی ۔ صابرہ کا چہرہ زرد ہوا ۔۔ بھاگ کر واش روم تک آٸیں ۔اور پھر جو وہ پچھلے پانچ ماہ سے چھپا رہی تھی اپنی ماں سے پل بھر میں واضح ہو گیا۔ صابرہ دم بخودہ کھڑی کی کھڑی رہ گٸ پھر تیزی سے اس کے سر پر پہنچیں
” شہروزی ۔۔۔ شہروزی ۔۔۔۔ کیا ہوا تمہیں “
صابرہ نے جھکی ہوٸ شہروزی کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تھا ۔ جبکہ آواز انجانے سے خوف سے کانپ رہی تھی شہروزی کی حالت بہت کچھ باور کروا رہی تھی ۔ وہ اب منہ پر پانی کے چھینٹے مار رہی تھی۔ صابرہ کی ہر بات کو ان سنی کرتے ہوۓ
” میری طرف دیکھو ۔۔“
صابرہ نے بازو سے پکڑ کر اسے سیدھا کیا تھا۔ وہ چہرے کا رخ ابھی بھی دوسری طرف کیے ہوۓ تھی
” ادھر دیکھو میری طرف “
صابرہ نے غصے سے شہروزی کے چہرے کو پکڑ کر اپنی طرف کیا۔ اور اس کی آنکھوں میں جھانکا ۔
” تم اس کے ساتھ ۔۔۔۔“
صابرہ کی آواز کسی کھاٸ میں سے آتی ہوٸ محسوس ہو رہی تھی ۔ شہروزی نے آنکھوں میں آنسو بھر کر اثبات میں سر ہلا دیا
” اوہ !!!! خدایا “
صابرہ سر پر ہاتھ رکھ کر ڈھنے کے سے انداز میں دیوار کے ساتھ لگی تھیں۔۔۔ چہرہ زرد ہوا ۔ اور خوف سے رونگٹے کھڑے ہوۓ تھے۔ پھر پاگلوں کی طرح شہروزی پر جھپٹی تھیں
” کتنا عرصہ گزر چکا ہے ۔۔۔ بول “
صابرہ نے جھنجوڑ دیا تھا اسے بازٶں سے پکڑ کر
” پانچ ماہ “
شہروزی نے بڑے پر سکون لہجے میں کہا ۔ صابرہ کا ہا تھ مخصوص انداز میں سینے پر گیا اور وہ بجلی کی سی تیزی سے کمرے سے باہر نکلی تھیں تیز تیز قدم اٹھاتی مہمان خانے تک آٸیں اور پھولتے سانس کے ساتھ کواڑ پکڑ کر ہمت جمع کی
” ملک صاب ۔۔۔۔۔۔ “
گھٹی سی آواز میں کہا ۔ ملک انور جو میر اسفند سے باتوں میں مگن تھے ۔ رعب سے نظر اٹھا کر دیکھا ۔
*********
” کب آۓ آپ ؟“
آنکھوں کو ملتی وہ اٹھ کر بیٹھی تھی۔ نعمان شاٸد وضو کے بعد واش روم سے نکلا تھا ۔ نہانے کی وجہ سے بال گیلے تھے۔ آسمانی رنگ کے کرتے کے ساتھ سفید شلوار پہنے تھکی سی آنکھیں اور سنجیدہ چہرا لیے وہ چلتا ہوا سنگہار میز تک آیا ۔
رات کو حسنی کو آفس کے لیٹ ناٸٹ کام کا فون آ جانے کے باوجود وہ تین بجے تک نعمان کا انتظار کرتی رہی تھی۔ اور اب پانچ بجے آنکھ کھلی تو وہ نماز کے لیے تیار ہو رہا تھا۔
” رات کو “
نعمان نے کرتے کے وضو کے لیے موڑے ہوۓ بازو نیچے کرتے ہوۓ مصروف سے انداز میں کہا۔ پلکیں تک ابھی بھیگی ہوٸ تھیں ۔۔ گیلے بالوں سے ننھی ننھی بوندیں گردن پر اور شیو پر لگی تھیں ۔
” کب ؟ تین بجے تک تو میں جاگتی رہی آپکا انتظار کرتی رہی “
حسنیٰ نے خفگی کے سے انداز میں کہا ۔ کمبل کو ایک ہاتھ سے خود سے اتارا اور سفید پنڈلیوں کو ٹرایوزر نیچے کھینچ کر ڈھکا
” تو جندم ۔۔۔ میں نے تو کہا تھا نہ سو جانا میں لیٹ ہوں آج “
نعمان نے سر پر ٹوپی رکھ کر مسکراہٹ سجا کر دیکھا ۔ خود کو حسنیٰ کے سامنے نارمل ہی رکھنا تھا ۔
” ڈر لگ رہا تھا ۔ نہیں آ رہی تھی نیند مجھے “
بچوں کی طرح لاڈ جیسی آواز نکالی ۔ نعمان نے محبت سے اس کے شفاف نیند کے خمار سے ہلکی سی سوزش لیے چہرے کو دیکھا وہ جب بھی سو کر اٹھتی تھی اس کی آنکھیں ناک گال سب پر ہلکی سی سوزش آ جاتی تھی جس سے وہ نعمان کو اور حسین لگنے لگتی تھی ۔جازب نظر مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ وہ قریب آ گیا تھا
” مجھے ڈرپوک بیوی نہیں چاہیے “
اپنے مخصوص انداز میں اس کی چھوٹی سی ناک کو دو انگلیوں میں لے کر کھینچا
” مطلب ۔۔۔۔۔۔“
حسنیٰ نے نا سمجھی کے انداز میں کہا اور دوپٹہ سینے پر پھیلاتی اپنی جگہ سے اٹھی ۔ مخملی سفید گداز سے پاٶں بن دیکھے چپل آڑس رہے تھے
” مطلب مجھے بہادر بیوی چاہیے مضبوط کسی سے بھی نہ ڈرنے والی زندگی کی ہر مشکل ہر پریشانی کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے والی “
نعمان نے نرم سی آواز میں کہا اور کندھوں سے پکڑ کر اسے اپنے سامنے کیا ۔
” آپ ہیں نہ مجھے ایسا بننے کی کیا ضرورت ہے پھر “
حسنیٰ نے محبت سے کندھوں پر رکھے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھام لیا۔ مضبوط ہاتھوں کو اپنے نازک سے ہاتھوں میں لیا کتنا تحافظ کا احساس تھا ۔ سامنے کھڑا یہ شخص اس کا سب کچھ تھا۔ اس کی روح اس کا دل اس کی جان سب
” اگر میں نہ رہا ۔۔۔“
نعمان نے ہلکی سی آواز میں کہا ۔ لہجہ سنجیدہ تھا حسنیٰ نے تڑپ کر دیکھا۔ ایسا لگا اس بات پر جیسے کسی نے دل مٹھی میں لیا ہو۔ یہ وہ بات تھی جس کا تصور بھی اب اس کے لیے سوہان روح تھا۔
” نعمان ۔۔۔۔۔۔۔۔“
حسنیٰ نے چیخنے جیسے انداز میں کہا اور صورت روہانسی بناٸ۔ سپاٹ چہرے کے ساتھ نعمان کے ہاتھ چھوڑ کر ماتھے پر بل ڈال کر بیڈ پر ڈھنے کے سے انداز میں بیٹھی ۔
” اچھا اچھا ۔۔۔ سنو ! “
نعمان نے اس کے اس انداز پر ہلکا سا قہقہ لگایا اور اس کے چہرے کو محبت سے اوپر کیا ۔۔ حسنیٰ نے غصے سے ہاتھ جھٹکا۔
” مجھے مت بلاٸیں ۔۔ آپکو پتہ بھی ہے آپکے سوا میرا دنیا میں ہے کون آپ ایسی باتیں کریں گے تو !!!!“
وہ باقاعدہ رو دی تھی ۔ موٹے موٹے آنسو گال بھگو رہے تھے ۔ نعمان جلدی سے ساتھ بیڈ پر بیٹھا ۔ لبوں پر اس کی اتنی محبت کی سر شاری میں گہری مسکراہٹ تھی ۔ گہرا سانس لیا
” اچھا ۔۔۔ اچھا بابا آٸیندہ ایسی کوٸ بات نہیں ہو گی پرامس “
ایک بازو کو حسنیٰ کے گرد حاٸل کیا اور اپنے ساتھ لگا کر گرفت مضبوط کی ۔ حسنیٰ نے خفگی سے دیکھ کر کندھے پر سر رکھا۔
*********
” فاٸق مجھے معاف کر دو “
شہروزی نے ہاتھ جوڑ کر سر نیچے جھکایا۔ فاٸق سپاٹ چہرہ لیے واصف ٹیکسٹاٸل کے شاندار آفس میں کھڑا تھا ۔ وہ آفس میں لگے میز کے ایک طرف جبکہ شہروزی دوسری طرف کھڑی تھی زرد بنا میک اپ کے چہرہ لیے پریشان حال سی صورت ایسی تھی جیسے ساری رات سو نہ سکی ہو ۔ آنکھیں ویران سی تھیں جن کے کونوں میں آج بے تحاشہ جھریاں واضح ہو رہی تھیں ۔
شہروزی نے آج آفس آتے ہی فاٸق کو اپنے آفس میں بلایا تھا اور وہ تو پہلے ہی جیسے اس سے بات کرنے کے لیے تیار تھا اپنے ساتھ اپنا ریگزینیشن لیٹر کا لفافہ تھامے وہ آفس میں داخل ہوا تھا۔
معاف کر دوں ۔۔ہن۔ہ۔ہ۔ہ “
ماتھے پر بل ڈال کر چہرے پر ناگواری سجاۓ فاٸق نے دانت پیسے تھے ۔
” کتنا آسان ہے تمھارے لیے یہ کہہ دینا کہ میں تمہیں معاف کر دوں “
” آج تک میں وہ رات نہیں بھول پایا ہوں جب میں فاٸر کی آواز سے اٹھا “
فاٸق کی آواز میں درد در آیا تھا۔ اور آنکھیں کھو سی گٸ تھیں ماضی کی اس رات کی یاد میں جس نے اس کی پر سکون زندگی کا رخ ہی بدل ڈالا تھا۔ شہروزی آنسوٶں سے چہرہ بھگوۓ شرمندہ سی سر جھکاۓمجرم بن کر کھڑی تھی
” میں نے دیکھا ۔۔۔۔ “
فاٸق نے کھوۓ سے انداز میں مدھم سی آواز میں بات جاری رکھی
” میں نے دیکھا حسن خون میں لت پت پڑا ہے “
فاٸق کی آنکھیں اس دن کی یاد میں سکڑ رہی تھیں اور گلے سے گھٹی سی آواز نکل رہی تھی ۔
” میں اس کے قریب گیا اسے ہلایا ۔۔۔ اسے بلایا حسن ۔۔۔۔ حسن میری جان ۔۔۔۔ حسن آنکھیں کھول ۔۔“
وہ روہانسی آواز میں کہہ رہا تھا۔ شہروزی نے تکلیف سے آنکھیں زور سے بند کیں ۔ پلکوں میں اٹکے آنسو تیزی سے گالوں پر لکیر بنانے لگے
” اسی لمحے میرے گھٹنے سے کوٸ چیز ٹکراٸ جیسے ہی میں نے اسے اٹھایا “
فاٸق کی آواز کانپ رہی تھی ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ ایک دفعہ پھر سے وہی لمحہ جی رہا ہو۔
” اسی لمحے پولیس دروازہ توڑتی میرے سر پر تھی ۔ میں نے اپنے ہاتھ کی طرف دیکھا۔۔۔۔“
فاٸق نے کھوۓ سے انداز میں اپنے بوڑھے ہاتھوں کی طرف دیکھا ۔ جو اُس وقت جوان مضبوط تھے اوپری جلد ہڈیوں کے ساتھ پیوست تھی۔ لیکن اب جلد ہڈیوں کو بے آسرا چھوڑے نیچے کو ڈھلک رہی تھی
35
” اور میرے ہاتھ میں آنے والی چیز پسٹل تھی۔۔۔“
گھبراٸ سی آواز میں کہا اور شہروزی کی طرف حواسوں کی دنیا میں واپس آتے ہوۓ دیکھا۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی ۔ وہ بلک رہی تھی ۔ روز میک اپ سے جوان نظر آ نے والے چہرے پر آج بیتی عمر کے آثار ہلکی ہلکی جھریوں کی شکل میں واضح ہو رہے تھے ۔
” اب ۔۔۔۔اب رونے کا کیا فاٸدہ جب اس وقت تم اسے بچا نہیں سکی اور بیان نہیں دے سکی میرے لیے “
” کہتا تھا اسے میں ۔۔۔۔کہتا تھا ۔۔۔۔ اس کی مسکراہٹ پر مت جا ۔۔۔۔مت جا “
فاٸق نے چبا چبا کر لفظ ادا کیے اور سامنے رکھی میز پر زور سے ہاتھ مارے ۔ جیسے بے بس ہو بیتے وقت کو واپس نہ لانے کے لیے شہروزی کو اس کے ہاتھوں کی آواز سے ہلکا سا جھٹکا لگا تھا اور پھر اس کے رونے کی رفتار اور بڑھ گٸ تھی
لیکن فاٸق تو جیسے پتھر بنا کھڑا تھا ۔ اپنے جان سے بھی پیارے دوست کے قتل کے الزام میں اس نے اپنی ساری جوانی جیل میں کاٹ دی تھی ۔ وہ پتھر نا بنتا تو کیا بنتا ۔ اس پر شہروزی کے رونے کا کوٸ اثر نہیں تھا ۔ وہ بلک رہی تھی لیکن فاٸق ہنوز سپاٹ ناگوار چہرہ لیے کھڑا تھا ۔
ملک انور نے سیاست کھیلی تھی ۔ بڑی آسانی سے اس نے حسن کو اپنے رستے سے نہ صرف ہٹایا تھا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ فاٸق پر اس کی موت کا الزام لگوا کر وہ ہر طرح سے اس معاملے سے بری الزمہ ہو گیا تھا ۔
کمرے میں ہلکی ہلکی سی شہروزی کے سسکنے کی آواز تھی ۔ فاٸق اپنے سامنے رکھے میز پر آہستہ سے انگلیاں پھیر رہا تھا ۔ ایک ہاتھ میں خاکی رنگ کا لفافہ تھا
” فاٸق یقین جانو مجھے کچھ علم نہیں تھا میں قید میں تھی “
شہروزی کی روہانسی بھیگی کانپتی آواز نے کمرے کا سکوت توڑا ۔
” جھوٹ ہے یہ سب جھوٹ “
فاٸق نے سپاٹ لہجے میں کہا ناگواری سے شہروزی کی طرف دیکھا۔ جو لبوں کو ملاۓ آنسو ضبط کرنے کی ناکام کوشش میں لگی تھی
” یہ میرا ریگزنیشن لیٹر میں اب یہاں مزید ملازمت نہیں کر سکتا “
فاٸق نے لفافہ دھیرے سے میز پر رکھا ۔اور نظر جھکا کر گہری سانس لی ۔ شہروزی نے چونک کر لفافے کی طرف دیکھا اور پھر فاٸق کی طرف جس نے اب قدم آفس کے داخلی دروازے کی طرف بڑھا دیے تھے ۔
” فاٸق ۔۔۔ فاٸق ۔میری بات سنو “
شہروزی ایک دم سے اپنی جگہ سے نکل کر فاٸق کی طرف آٸ ۔ جبکہ وہ سنی ان سنی کرتا تیزی سے آفس سے باہر جا چکا تھا ۔ شہروزی کا بازو جو فاٸق کو روکنے کے لیے اس نے بڑھایا تھا ہوا میں ہی معلق رہ گیا تھا
*********
” وہاب حیدر کی کل رات پرسرار موت “
نیوز ہیڈ لاٸنز پر اس کے ہاتھ کانپ کر رکے تھے۔ وہ کچن کے سنک پر برتن دھو رہی تھی نعمان کے آنے کا وقت تھا وہ ڈنر تیار کر چکی تھی ٹی وی پر نیوز چینل لگاتی وہ سنک میں پڑے برتن دھونے کی غرض سے کچن میں آٸ تھی لیکن کانوں میں پڑتی آواز نے اچانک اپنی طرف متوجہ کیا ۔گیلے ہاتھوں کو دوپٹے سے پونچھتی وہ تیز تیز قدم اٹھاتی لاونج میں لگے بڑے سے فلیٹ پینل ٹی وی کے سامنے آٸ ۔ ٹی وی سکرین پر وہاب حیدر کی تصویر کے ساتھ ہیڈ لاٸنز بار بار دہراٸ جا رہی تھیں ۔ اے ون پیسٹی ساٸیڈز کی عمارت کے ارد گرد جگہ جگہ پولیس کھڑی تھی ۔
” نعمان !!!! “
حسنیٰ کے منہ سے ہلکی سی سرگوشی نما آواز نکلی تھی ۔ دماغ می أیک دم سے ساٸرن بجا ۔
جندم آج آفس میں کچھ کام ہے لیٹ آوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نعمان کی آواز کی باز گشت ذہن میں گونجی تھی اور اس کے بازو کے مسام ابھر کر دانوں کی طرح پورے بازو پر واضح ہوۓ تھے۔
” حازق وہاب بہت بری حالت میں کل اپنےگھر کے سامنے ملے ۔ وہ ابھی ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہونے کی وجہ سے تا حال کوٸ سٹیمنٹ دینے سے قاصر ہیں ۔ البتہ مسز وہاب کے کہنے پر جبار کو حراست میں لے لیا گیا ہے “
نیوز کاسٹر روانی سے بول رہی تھی۔ اور وہ ساکن سی ٹی وی سکرین کے آگے بیٹھی تھی ۔ موٹی موٹی آنکھیں پھیلی ہوٸ تھیں لب تھوڑے سے کھلے ہوۓ تھے اور ماتھے کے درمیان میں شکن کی لکیریں تھیں۔ ذہن الجھ رہا تھا بہت سے سوچیں خود بخود آ رہی تھیں
اور اگر میں نہ رہا ۔۔۔
نعمان کی صبح کی گٸ بات کی بازگشت نے دل کو مٹھی میں دبوچ لیا۔ حسنیٰ کو ایسا لگا جیسے کوٸ گلا دبا رہا ہو ۔ تیز تیز سانس لیتی وہ کانپتے وجود کے ساتھ خود کو سنبھالتی اٹھی اور کھانے کے میز پر پڑے جگ میں سے پانی ساتھ پڑے گلاس میں انڈیلا ۔ اور تیزی سے گلاس کو لبوں سے لگا کر پانی حلق کے اندر اتارا جبکہ نظریں ابھی بھی سکرین پر جمی تھیں اور کان ٹی وی میں سے آنے والی آواز پر جمے تھے ۔
کانپتے ہاتھوں سے چینل بدلہ۔ اگلے چینل پر کوٸ آدمی ماٸک ہاتھ میں پکڑے وہاب حیدر کے گھر کے باہر کھڑا تھا
” دیکھیں جی موت بہت برے طریقے سے ہوٸ ہے وہاب حیدر کے منہ میں پسٹل رکھ کر گولی اوپر طرف کی چلاٸ گٸ ہے “
وہ روانی سے بولتے ہوۓ کمیرے کے آگے کھڑا تھا ۔ حسنی نے جھرجھری لے کر اگلا چینل بدلہ۔
” بہت بری طرح پھسایا جا رہا ہے جبار کو ان کے خود کے بیٹے ابھی تک لا پتہ ہیں “
تجزیہ کار گرم جوشی سے بول رہا تھا۔ ہر چینل پر اس وقت یہی خبر گردش میں تھی ۔ حسنیٰ نے کانپتے ہاتھوں سے چینل پھر سے بدلہ
” حازق وہاب پر بہت زیادہ تشدد کیا گیا ہے ۔ ان کے جسم پر جگہ جگہ نشان ہیں اور بہت دن تک کھانا نہ ملنے کی وجہ سے وہ بہت لاغر ہیں ابھی کوٸ بھی سٹیمنٹ نہیں دے سکتے “
ہاسپٹل کے سامنے اینکر کھڑا بول رہا تھا ۔
مین ڈور کے لاک کھلنے کی آواز پر حسنیٰ نے تیزی سے ٹی وی کو بند کیا ۔ نظر اٹھا کر گھڑی کی طرف دیکھا شام کے سات بج رہے تھے ۔ یہ نعمان کے گھر آنے کا وقت تھا ۔ آج وہ بھاگ کر روز کی طرح دروازے پر نہیں گٸ تھی بلکہ وہیں ساکن صوفے پر گود میں ہاتھ دھرے بیٹھی تھی ۔ سفید بازو کے مسام ابھی بھی دانوں کی شکل میں ہی ابھرے ہوۓ تھے ۔ جن پر وہ دھیرے دھیرے آنکھوں میں خوف بھر کر ہاتھ پھیر رہی تھی ۔
نعمان آہستہ آہستہ چلتا ہوا بلکل سامنے آیا ۔
کوٹ کو بازو میں ڈال رکھا تھا اور ٹاٸ کی ناٹ ڈھیلی کی ہوٸ تھی جو گلے میں جھول رہی تھی آنکھوں میں نا سمجھی سی تھی اس بات پر کہ وہ آج بھاگ کر مسکراتی ہوٸ اس کا کوٹ لینے کیوں نہیں آٸ ۔
” کیا ہوا حسنیٰ !!! از ایوری تھنگ اوکے جندم ؟“
پریشان سے لہجے میں پوچھتا وہ کوٹ ایک طرف رکھ کر اب حسنیٰ کے بلکل سامنے نیچے گھٹنوں کے بل بیٹھا تھا۔
” آپ یہ سب کیوں کر رہے ہیں نعمان “
گھٹی سی خوف زدہ آواز نکلی تھی ۔ نعمان نے چونک کر انجان بنتے ہوۓ بھنویں اچکاٸیں ۔
” کیا کر رہا ہوں میں ؟ “
بھنوں کو اوپر اٹھا کر رک رک کر پوچھا۔ حسنیٰ نے آنکھیں اوپر اٹھاٸیں اور نعمان کی آنکھوں میں جھانکا۔
” کل رات وہاب حیدر کو آپ نے مارا ہے نہ؟“
کانپتی سی آواز تھی ۔ نعمان نے گہری سانس لی گھٹنوں پر ہاتھ مارے اور اٹھ کر صوفے پر بیٹھ کر حسنیٰ کو اپنے ساتھ لگایا۔ حسنیٰ کا جسم لرز رہا تھا۔
” نہیں تو میں نے نہیں مارا اسے “
پرسکون لہجے میں حسنیٰ کے کان کے قریب ہو کر کہا۔ اور دھیر ے سے اس کے کندھے پر ہاتھوں سے مساج کیا۔ جیسے اس کے کانپتے وجود کو سکون دینے کی کوشش کر رہا ہو۔
” کھاٸیں ۔۔۔کھاٸیں میری قسم “
حسنیٰ نے روہانسی آواز میں کہا اور جھکی گردن پھر سے اٹھا کر نعمان کی آنکھوں میں دیکھا ۔
” تمھاری قسم اسے گولی میں نے نہیں ماری جندم “
نعمان نے گہری سانس لی اور حسنیٰ کے سر کو پکڑ کر اپنے سینے سے لگایا ۔
” مت سوچو کچھ بھی یہ سب ان کا آپس کا کوٸ چکر ہے جبار کا اور وہاب کا “
حسنیٰ کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ کہا ۔ حسنیٰ نے بے یقینی سے نعمان کی طرف دیکھا ۔ اچانک آنکھوں کے آگے اندھیرا سا آیا تھا ۔۔ اور سر جیسے گھوم سا گیا اس کے بعد ہوش نہیں رہا ۔ سامنے بیٹھے نعمان کا سراپا گہرے اندھیرے نے لیا تھا
وہ نعمان کی گود میں ڈھے گٸ تھی ۔۔وہ جو اس کے چہرے کے بدلتے آثار اور زرد ہوتی رنگت کو بغور دیکھ رہا تھا اچانک اس کے یوں لڑھک جانے پر بوکھلا کر رہ گیا ۔
” حسنیٰ !! حسنیٰ!!! “
حسنیٰ کے گالوں کو تھپتھپایا پر سب بے سود تھا ۔ وہ بے ہوش تھی
*************
” جی بلکل مجھے جبار نے ہی اغوا کروایا تھا۔ اور اب میرے والد کے قتل کا بھی وہی زمہ دار ہے “
حازق نے ماٸک کو ہاتھ سے پکڑ کر آگے کیا ۔ وہ پریس کانفرنس میں بیٹھاتھا ۔کمرے میں میڈیا کے تمام لوگ کرسیاں لگا کر اس کے سامنے بیٹھے تھے اور وہ بہت سے ماٸک میں نقاہت سے اپنا بیان دے رہا تھا ۔ جیسے ہی وہ اس قابل ہوا کہ وہ کچھ بیان دے سکے تو پولیس تو پہنچی ہی تھی ساتھ میڈیا والے بھی ہاسپٹل پہنچ چکے تھے ۔ اس کی آنکھیں اور ہونٹ ابھی بھی سوجے ہوۓ تھے بازو پر پلستر تھا اور سر پر بینڈیج تھی ۔
” جبار کا کہنا ہے کہ اس کا بیٹا آپ کے والد صاحب نے اغوا کروایا تھا “
سامنے بیٹھے ایک اینکر نے پن کو ہاتھوں میں گھوماتے ہوۓ ۔ حازق سے سوال کیا۔
” اس بات کا مجھے علم نہیں “
حازق نے درد سے کراہتے ہوۓ کہا۔ وہ حسنیٰ کی بات میڈیا پر ظاہر نہیں کر سکتا تھا ۔ اس نے کوٸ بھی وجہ نہ معلوم ہونے کا کہا ۔ کیونکہ حسنیٰ کی بات سامنے آتے ہی وہ اور بری طرح پھنس سکتا تھا ۔ جبکہ وہ یہ تک نہیں جانتا تھا کہ حسنیٰ زندہ ہے بھی یا نہیں ۔
سامنے بیٹھے صحافی سوال پر سوال کر رہے تھے اور وہ بے حال سا بیٹھا جواب دے رہا تھا ۔
*********
” ڈاکٹر ۔۔۔۔ میری مسز ؟“
نعمان تیزی سے ڈاکٹر کی طرف بڑھا تھا ۔ حسنیٰ کو ایمر جنسی میں گۓ دو گھنٹے گزرے تھے ۔ نعمان باہر پریشان حال چکر لگا رہا تھا ۔
حسنیٰ کا نروس سسٹم بہت ویک تھا تھوڑا سا سٹریس لینے سے وہ بے ہوش ہو جاتی تھی انھی سوچوں میں الجھا وہ کب سے باہر چکر لگارہا تھا جب ڈاکٹر کو اپنی طرف آتا دیکھا۔۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: