Husna Novel by Huma Waqas – Episode 19

0
حسنیٰ از ہما وقاص – قسط نمبر 19

–**–**–

”مبارک ہو شی از ایکسپکٹنگ “
ڈاکٹر پاس آ کر مسکراٸ تھی ۔ نعمان کا منہ بے ساختہ کھلا ۔ آنکھیں تھوڑی سی پھیل گٸ تھیں ۔ اس کو جیسے کانوں پر یقین نہیں آیا تھا ۔
” جی۔ی۔ی۔ی۔ی۔ی۔”
حیرانگی سے ڈاکٹر کی طرف دیکھا ۔ بات سمجھ آنے پر اب منہ تو بند ہو گیا تھا پر دانت سارے باہر آ چکے تھے ۔ باچھیں کھل گٸ تھیں اور آنکھیں اس انوکھی سی اچانک ملنے والی خوشی سے چمکنے لگی تھیں ۔
” آپ باپ بننے والے ہیں ڈاکٹر پھر سے مسکراٸ تھی “
نعمان کا دل کیا اس ڈاکٹر کو ہی پکڑ کر گول گول گھما ڈالے ۔ وہ بے ساختہ ہلکا سا قہقہ لگا گیا تھا آنکھیں اس خوشی پر ہلکی سی نم ہوٸیں ۔ اب بے تابی سے دل اس جان سے عزیز ہستی کو اپنے اندر سمانے کے لیے مچلنے لگا تھا جس نے اسے اس انمول خوشی سے ہمکنار کیا تھا ۔ ڈاکٹر نے شاٸد بے تابی بھانپ لی تھی ۔
” آپ مل سکتے ہیں ہوش آ گیا ہے انھیں اندر ہیں وہ تھوڑی سی ویکنس تھی میڈیسن لکھ دی ہے “
ڈاکٹر نے پری کاشانز پیج نعمان کی طرف بڑھاتے ہوۓ کہا ۔ نعمان نے لبوں کی مسکراہٹ کو قابو میں لاتے ہوۓ سنجیدہ سے انداز میں کاغز ڈاکٹر کے ہاتھ سے لیا ۔
” گھر لے جا سکتے ہیں آپ انھیں “
وہ مسکراتے ہوۓ کہہ رہی تھی اور نعمان جوش سے سر ہلا رہا تھا ۔ ڈاکٹر کے جاتے ہی وہ پر جوش ہو کر وارڈ کی طرف بڑھا تھا۔ بے تابی سے اندر جا کر نظریں چاروں اور گھوما کر حسنیٰ کو تلاش کیا وہ سامنے ہی بیڈ پر ٹیک لگاۓ بیٹھی مسکرا رہی تھی ۔ اور نعمان کی طرف ہی دیکھ رہی تھی ۔ چہرے پر موجود مسکراہٹ اور شرمایا سا انداز یہ باور کروا رہا تھا کہ ڈاکٹر اسے یہ خبر پہلے سے بتا چکی ہے ۔ کچھ دیر پہلے والی پریشانی اب اس کے چہرے پر بلکل موجود نہیں تھی ۔
نعمان مسکراہٹ دباتا گہری نظروں سے دیکھتا بیڈ کے قریب آیا ۔ حسنیٰ نے جھینپ کر مسکراہٹ دباٸ اور پلکوں کو لرزاتے ہوۓ لبوں کو دانتوں میں دبا کر نظر جھکا دی ایک انوکھی سی خوشی تھی دونوں طرف ۔ بس ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکراۓ جا رہے تھے دونوں ۔ ایک لمحہ اسی خاموش سی انوکھی خوشی کی سرشاری میں گزر گیا ۔
”چلیں گھر ؟ “
نعمان نے محبت سے گہری مسکراہٹ لبوں پر سجاۓ ہاتھ آگے کیا۔ دل تو چاہ رہا تھا ہاتھ پکڑے اور کھینچ کر خود سے لگا کر اپنی خوشی کا اظہار کر ڈالے ۔ اسے بتاۓ کہ وہ کیا محسوس کر رہا ہے ایسی خوشی زندگی میں پہلی بار ملی تھی ۔ لیکن یہ گھر نہیں تھا اس لیے جزبات کو قابو میں رکھتے ہوۓ وہ بس سرشار سا مسکرا ہی رہا تھا
” جی “
حسنیٰ نے خوشگوار سی مسکراہٹ کے ساتھ اپنا نازک ہاتھ اس کےمضبوط ہاتھ پر رکھ دیا۔ جسے تھام کر وہ اسے اپنے ساتھ ہاسپٹل سے باہر گاڑی تک لے آیا تھا ۔
گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھی وہ بار بار نعمان کے ہنسنے پر اور گہری نظروں سے دیکھنے پر جھینپ رہی تھی وہ گاڑی چلا رہا تھا اور محبت سے ایک نظر اپنے ساتھ بیٹھی حسنیٰ پر ڈالتا اور پھر سامنے دیکھ کر مسکرانے لگتا ۔۔ دونوں کے درمیان خوشگوار سی خاموشی تھی ۔ جسے حسنیٰ نے توڑا ۔ مسکرا مسکرا کر جبڑے دکھنے لگے تھے اب تو بولتے ہی بننی تھی ۔
” کیا ہے ایسے کیا دیکھے جا رہے ہیں مجھے شرم آ رہی ہے “
حسنیٰ نے لاڈ سے کہتے ہوۓ نعمان کے کندھے پر مکے کی شکل میں ہاتھ مارا۔ اور خفگی کے سے انداز میں شرما کر دیکھا
نعمان نے اس کے انداز سے محزوز ہو کر جاندار قہقہ لگایا۔ وہ گلابی سی ہوتی ہوٸ اس کے دل میں اتر رہی تھی ۔
” ارے بھٸ میں خوش ہو رہا ہوں پاگل میری “
نعمان نے ہنسی کو قابو میں کرتے ہوۓ کہا ۔ گاڑی ایک جگہ روک کر وہ اب سیٹ بیلٹ اتار رہا تھا ۔
” اب کہاں ؟“
حسنیٰ نے مسکراتے ہوتے ہوۓ حیرت سے پوچھا اور ارد گرد نظر دوڑاٸ گاڑی ایک پھولوں کی دوکان کے سامنے رکی تھی ۔ نعمان اب گاڑی سے اتر کر دوکان کے اندر جا چکا تھا ۔حسنیٰ نے مسکرا کر ہوا میں سر مارا انداز ایسا تھا جیسے خود سے کہہ رہی ہو یہ نہیں سدھرنے والے ۔
کچھ دیر میں نعمان بہت بڑے سے خوبصورت بکے کے ساتھ دوکان سے باہر نکلا تھا ۔ بکے میں مختلف رنگوں کے پھول بڑی مہارت سے سجاۓ گۓ تھے جو دیکھنے والے کی آنکھوں کو ایک نظر میں لبھا دیں ۔مسکراتے ہوۓ حسنیٰ کی طرف کا دروازہ کھولا اور تھوڑا جھکتے ہوۓ اسے بکے پیش کیا ۔
” نعمان۔ن۔ن۔ن۔ن “
حسنیٰ نے مصنوعی خفگی سے دیکھا اور کھلکھلاتے ہوۓ بکے کو اس کے ہاتھ سے تھاما۔ محبت سے پھولوں کو چھو کر دیکھا
” اٹس فار یو جندم مجھے دنیا کی سب سے بڑی خوشی دینے کے لیے “
نعمان نے مسکراتے ہوۓ کہا ۔ اور سینے پر ہاتھ باندھ کر پر سکون انداز میں اپنے سامنے بیٹھی اس خوبصورت عورت کو دیکھا جو اس کے دل کے نہاں خانوں میں بستی تھی ۔
” تھنکیو۔و۔و۔و۔و۔و “
حسنیٰ نے محبت سے ایک نظر بکے کو دیکھا اور پھر ایک نظر سامنے سرشار سے کھڑے نعمان پر ڈالی۔ اس کا یوں خوش ہونا کتنا اچھا لگ رہا تھا بچہ سا لگ رہا تھا وہ یوں چہکتے ہوۓ
وہ اب گھوم کر بچوں کی طرح چہکتا ہوا دوسری طرف سے گاڑی میں آ چکا تھا ۔ حسنیٰ کو اس کے اس انداز پر ہنسی بھی آرہی تھی اور خوشی بھی ہو رہی تھی ۔
” اور کچھ چاہیے ؟“
نعمان نے مسکراتے ہوۓ محبت سے کہا ۔ لبوں کو منہ کے اندر کیا اور پر جوش انداز میں ایسے پوچھا جیسے آج اگر وہ کچھ بھی مانگے گی تو وہ اس کے قدموں میں ڈھیر کر دے گا۔
” آسکریم“
حسنیٰ نے لاڈ سے زبان تھوڑی سی باہر نکال کر کہا ۔ نعمان نے اس کے انداز پر قہقہ لگایا ۔ حسنیٰ نے بھی قہقے کا بھرپور ساتھ دیا۔
” اوکے حکم حکم “
نعمان نے گاڑی کا سٹیرنگ آسکریم پارلر کی طرف گھوماتے ہوۓ شرارت سے کہا ۔
********
” کیسے ہو “
نعمان نے سامنے میز پر رکھے پیپر ویٹ کو دھیرے سے میز پر گھومایا تھا ۔ فون کان کو لگاۓ وہ آفس میں بیٹھا تھا ۔ اگلی چال چلنے کا وقت ہو چکا تھا ۔ جبار ضمانت لیے گھر آ چکا تھا حازق نے اپنے اغوا اور وہاب کی موت کا کیس کر رکھا تھا تو جبار نے اس پر زاہد جبار کے لا پتہ ہونے کا کیس کر رکھا تھا ۔
” کون ۔۔۔ ؟ پہچانا نہیں میں نے “
جبار نے ناسمجھی کے انداز میں استفسار کیا تھا ۔ نعمان نے گہری سانس لی پیپر ویٹ کو چھوڑا اور سگریٹ کی ڈبی میں سے سگریٹ نکالا۔
” ضرورت نہیں پہچاننے کی “
سپاٹ لہجے میں کہا ۔ کرسی کی پشت سے سر ٹکایا۔ اور سگریٹ کو منہ میں دبایا دوسری طرف اب جبار خاموش تھا ۔
” حازق نے اچھی گیم کھیلی واہ “
نعمان نے طنز بھرے انداز میں کہا اور قہقہ لگایا ۔ سگریٹ کو لاٸٹر کے شعلے سے جلایا تو لاٸٹر سے نکلنے والی آگ کے شعلے کا عکس نعمان کی آنکھ میں واضح ہوا ۔
” مطلب ۔۔۔؟“
دوسری طرف ہنوز جبار الجھن کا شکار ہی تھا ۔
” مطلب یہ کہ ۔۔۔۔ اپنے باپ کو بھی رستے سے ہٹا دیا اور تمہیں بھی پھنسا دیا “
بڑے انداز میں کہا۔ اور سگریٹ کا کش لگایا ۔ آفس کا وقت ختم ہو چکا تھا ۔ باہر خاموشی تھی ۔ وہ گہری نیلے رنگ کی شرٹ کے اوپر سیاہ کوٹ پہنے پر سکون انداز میں بیٹھا تھا ۔
” وہ کیوں کرے گا اپنے باپ کے ساتھ ایسا “
جبار نے حیرانگی سے سوال پوچھا ۔
” جب آپ کو یہ پتہ چلے کہ آپ کے باپ کی یہ ڈھیر ساری دولت کے آپ اکیلے حق دار نہیں ہیں کوٸ اور بھی ہے تو کیا کریں گے آپ “
نعمان نے لب بھینچے ۔ پر سکون انداز میں کہا ۔ سگریٹ کو ایش ٹرے کے کنارے سے پیار سے ٹکرایا ۔
”میں سمجھا نہیں “
جبار کی وہی ناسمجھی قاٸم تھی ۔ الجھن نعمان کے انداز سے اس کی باتوں سے بڑھ رہی تھی ۔
حازق وہاب کو اپنے باپ کی دوسری شادی کا علم ہو گیا تھا جو اس نے ساری دنیا سے چھپا کر رکھی ہوٸ تھی دولت کو بانٹنے کا حوصلہ نہ ہو تو حقیقت ڈسکلوز ہونے سے پہلے اس جڑ کو ختم کر دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے دولت دوسری طرف لٹاٸ جا رہی ہو “
نعمان روانی سے بول رہا تھا اور جبار ہمہ تن گوش تھا ۔
” اوہ ۔۔۔۔ لیکن تم کون ہو یہ سب کیسے جانتے “
دوسری طرف جبار کی حیرت میں ڈوبی آواز کے ساتھ ساتھ بے چینی تھی
” یوں سمجھ لو تمھارا خیر خواہ ہوں جو یہ سب جانتا ہے “
نعمان نے گہری سانس لی ۔ لبوں پر طنز بھری مسکراہٹ تھی اور سگریٹ کے دھواں تھا ۔
” میں اسے ۔۔۔اسے چھوڑوں گا نہیں “
جبار نے دانت پیس کر کہا۔ اس کا خون کھول اٹھا تھا ۔ اسے تاپانے کے بعد اب اگلا کام ٹھنڈا کرنے کا تھا ۔
” ہممممم ۔۔۔۔ پر ذرا آرام سے سوچ سمجھ کر تمھارا بیٹا ابھی اس کے قبضے میں ہے “
نعمان نے رازدار انداز میں اس کا خیر خواہ بنتے ہوۓ کہا ۔ اس سے پہلے کہ وہ کوٸ سوال کرتا اسے یوں ہی انتظار میں چھوڑ کر فون بند کرنا تھا اور اس سم کو ڈسٹراۓ ۔
نعمان نے فون بند کیا اور فون سے سم نکال کر پر سوچ انداز میں مضبوط انگلیوں میں سم کو گھومایا ۔
************
” مام آ رہی ہیں کل “
نعمان نے جوس کا گلاس حسنیٰ کی طرف بڑھایا ۔ حسنیٰ نے مسکرا کر گلاس کو تھاما تھا ۔ نعمان آفس سے آنے کے بعد اپنے ٹریوزر اور ٹی شرٹ کو پہنے ہوۓ تھا ۔
” اچھا پر “
حسنیٰ نے حیران ہوتے ہوۓ نعمان کی طرف دیکھا ۔وہ سمجھتی تھی کہ نعمان کے مسلمان ہونے کے بعد شاٸد اب کرسٹن اس کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تھیں ۔ اسے کیا پتہ تھا کہ نعمان نے ان کو ولسم سے چھپا کر سندھ میں رکھا ہوا ہے۔ اور وہاں ان کی ہر ضرورت و ہی پورا کرتا تھا ۔ لیکن اب اسے لگتا تھا کہ حسنیٰ کا اس حالت میں گھر میں اکیلے رہنا بلکل بھی ٹھیک نہیں اور جب اس نے کرسٹن سے اپنی خوشی بانٹی تھی وہ خود ہی آنا چا رہی تھیں
” جندم میری اب تمہیں آرام کرنا ہے تمھیں ایکسٹرا کیر کی ضرورت ہے “
حسنیٰ کی ناک کو پکڑ کر کھینچا اور بیڈ پر اس کے پاس بیٹھا ۔ حسنیٰ نے سر شار سا ہو کر گلاس کو منہ لگا کر آنکھوں
36
کو اوپر اٹھا کر نعمان کی طرف دیکھا ۔ جو محبت سے اسے ایسے دیکھ رہا تھا جیسے وہ کوٸ انوکھی ہی ماں بننے والی ہو ۔
” اور میری مام ایک گریٹ لیڈی ہیں ۔ تم ان سے ملو گی تمہیں بہت اچھا لگے گا “
مسکراتے ہوۓ کہا ۔ اور دیوار کی طرف دیکھ کر کھوۓ سے انداز میں تصور میں کرسٹن کا معصوم سا چہرہ دیکھا
” آپ کی تربیت سے اندازہ ہوتا ہے “
حسنیٰ نے جوس کے گلاس کو منہ سے لگا کر محبت بھرے لہجے میں کہا ۔ اور پھر گلاس نعمان کی طرف بڑھایا گلاس میں ابھی آدھے سے کم حصے میں جوس موجود تھا ۔ نعمان نے آنکھیں سکیڑ کر پہلے گلاس کی طرف اور پھر گھور کر ناک پھلا کر حسنیٰ کی طرف دیکھا جس نے فوراً دانتوں کی نماٸش کی ۔
” پورا ختم کرو بھٸ “
نعمان نے خفگی سے گھورا۔ اور ڈانٹنے کے انداز میں کہا ۔ حسنیٰ نے برا سامنہ بنا کر ایسے دیکھا جیسے تھوڑا سا جوس بھی اور پیے گی تو باہر نکل آۓ گا سب ۔ دو دن سے نعمان یہی سب کر رہا تھا اس کے ساتھ ۔ باورچی واپس رکھ لی تھی ۔ کپڑے دھوبی کے پاس جانے لگے تھے فریج پھلوں سے بھر گیا تھا جن کو وہ زبردستی حسنیٰ کے سامنے بیٹھ کر اسے کھلاتا تھا ۔ اور اب بھی آفس سے واپس آ کر کپڑے تبدیل کرتے ساتھ ہی فریش جوس نکال کر خود اسے اپنی سخت نگرانی میں پلا رہا تھا ۔ حسنیٰ کے برا سا منہ بنانے کی باوجود زبردستی پکڑ کر گلاس اس کے منہ کو لگا دیا وہ بچوں کی طرح منہ ادھر اُدھر کر رہی تھی اور وہ سختی سے ڈانٹتے ہوۓ پینے کے لیے کہہ رہا تھا ۔
” نعمان آپ نے تو !!! کیا ہے سب کے بچے ہوتے ہیں ایسے تھوڑی کوٸ کرتا ہے “
جوس زہر مار کرنے کے بعد حسنیٰ نے خفگی سے ماتھے پر بل ڈال کر کہا نعمان نے مسکرا کر محبت سے دیکھا اور گلاس بیڈ ساٸیڈ ٹیبل پر رکھا ۔
” سب کے بچے ہوتے ہوں گے ان کے لیے یہ بات اس لیے نارمل ہو گی کہ ان کے پاس پہلے سے بہت سے خونی رشتے ہوں گے “
بیڈ پر بلکل اس کے سامنے بیٹھ کر وہ اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لےکر محبت سے کہہ رہا تھا ۔
” پر میرا یہ واحد خونی رشتہ ہو گا تم کیا جانو تم مجھے زندگی کی کتنی بڑی خوشی دینے جا رہی ہو “
وہ جزب کے عالم میں سر شار سا بول رہا تھا آنکھیں چمک رہی تھیں۔ انداز کھویا کھویا سا تھا لبوں پر جاندار مسکراہٹ تھی اچانک حسنیٰ کی طرف دیکھا تو وہ رو رہی تھی ۔ موٹی موٹی آنکھیں پانی سے بھری پڑی تھیں ۔
” حسنی! “
پیار سے اس کی گال پر ہاتھ کیا رکھا وہ تو پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی ۔ نعمان گھبرا سا گیا تھا اس کے یوں رونے سے ۔۔ وہ اونچی آواز میں رو رہی تھی ۔
” کیا ہوا جندم ایسے کیوں رو رہی ہو “
محبت سے آگے ہو کر اس کے کندھوں پر محبت سے ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا۔ اور دھیرے سے ہاتھوں سے اس کے کندھوں پر تھپکی دی ۔
” امی ۔۔۔۔ بھاٸ۔۔۔۔ اور بہنیں یاد آ رہی ہیں “
وہ بری طرح روتے ہوۓ کبھی گال صاف کر رہی تھی تو کبھی ناک رگڑ رہی تھی ۔ آنسو تھے کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے وہ بہتے آنسو کی ایک لکیر کو رگڑتی دوسری لڑھکنا شروع ہو جاتی ۔
” میرا بھی تو کوٸ بھی خونی رشتہ میرے ساتھ نہیں ہے “
وہ ہچکیوں میں رو دی تھی ۔ لبوں کو باہر نکال کر آنکھوں کو سکیڑے وہ بچوں کی طرح رو رہی تھی۔
” میں ہوں نہ تمھارا “
نعمان نے نرمی سے اس کے گال پر سے آنسو صاف کیے تھے۔ اس کا یوں رونا تکلیف دے رہا تھا۔ لیکن وہ سمجھ سکتا تھا وہ اس وقت کس کیفیت سے گزر رہی ہے ۔ جس کو یہ معلوم ہو کہ اس کے خون کے رشتے اس دنیا میں موجود ہیں لیکن وہ پھر بھی ان سے مل نا سکتا ہو اس سے بڑا کیا دکھ ہو سکتا تھا ۔
” نعمان جب ہم لڑکیاں کسی غیر محرم سے محبت میں مبتلہ ہو جاتی ہیں تو سمجھتی ہیں سب کچھ یہ ہے اور پھر میری طرح اس ناجاٸز رشتے کے پیچھے “
روتے ہوۓ سر جھکا کر اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھا ۔ وہ بری طرح ہاتھوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مسل رہی تھی ۔
” اپنے سارے پیاروں کو کھو دیتی ہیں ۔ میرے بھاٸ میری بہنیں مجھ سے بہت بہت محبت کرتی تھیں “
” پتا ہے عمر بھاٸ نے تو ابو کے بعد مجھے اتنا پیار دیا کہ میں ابو کو یاد کر کے روتی نہ رہوں “
وہ بچوں کی طرح روتے ہوۓ نعمان کو بتا رہی تھی ۔ بار بار ہاتھ کی پشت سے گال رگڑ رہی تھی ۔
” امی کی میں جان تھی تو دونوں بہنیں جب گھر آتی تو مجھے ایسے لاڈ کرتی تھیں جیسے میں کوٸ شہزادی ہوتی ہوں “
وہ کھوٸ کھوٸ سی کہہ رہی تھی ۔ آواز بھیگی سی تھی مدھم سی تھی۔ آنسو نکل نکل کر گال تر ہوۓ پڑے تھے ۔
” حسن بھاٸ کا اور میرا اتنا مزاق تھا ۔ اتنا پیار تھا دونوں بھاٸیوں کو مجھ سے کہ میرے لیے اپنی بیوٶں سے لڑ پڑتے تھے “
پھیکی سی مسکراہٹ حسنیٰ کے لبوں پر تھی ۔ سر کو ہلکا سا جھٹکا دیا ایسے جیسے اس سے بڑھ کر بد نصیب کوٸ نہ ہو ۔ ہاں بد نصیب ہی ہوتی ہیں وہ لڑکیاں جو مہینوں کی محبت پر ساری عمر کی محبت قربان کرنے چل پڑتی ہیں ۔ تف ہے ان پر جو یہ سمجھتی ہیں کہ اس کے جسم سے چاہت کرنے والا اس کے خونی رشتوں سے زیادہ اس سے محبت کرتا ہے ۔ خونی رشتوں کی محبت تو ایسی ہوتی ہے جو آپ کے دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی آپکی روح سے قاٸم رہتی ہے ۔ وہ یاد کرتے ہیں بخشش کے لیے دعا کرتے ہیں روح کے سکون کی دعاٸیں کرتے ہیں ۔ تو جسموں سے محبت کرنے والے رحوٶں سے محبت کرنے والوں سے زیادہ معتبر کیونکر ہو جاتے ہیں ۔ نہیں ہونے چاہیے ۔۔۔۔۔ کبھی نہیں ہونے چاہیے ۔۔۔۔
” نعمان کیا ان کو بھی میری یاد آتی ہو گی “
لبوں کو باہر نکال کر وہ پھر سے پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔ عقل آٸ تھی پر بہت دیر کے بعد ۔ ٹھوکر کھا کر ذلت اور رسواٸ کے پھندے کے ساتھ ۔
نعمان نے کھینچ کر اسے سینے سے لگایا تھا ۔ غلطیاں ہو جایا کرتی ہیں ۔ انسان خطا کا پتلا ہے ۔ وہ دھیرے سے حسنیٰ کے لرزتے جسم کو محسوس کر رہا تھا
” کیا اب کبھی زندگی میں ۔۔۔میں ان پیارے خون کے رشتوں سے نہیں مل پاٶں گی “
نعمان کے سینے میں منہ چھپا کر وہ گھٹی سی آواز میں کہہ رہی تھی ۔ نعمان اس کی کسی بھی بات کا جواب نہیں دے رہا تھا بلکہ اسے رونے دے رہا تھا اس کے اندر کا غبار شرمندگی نکالنے دے رہا تھا ۔
*******
” کیا کہنا ہے اسے مجھ سے “
حازق کی تجسس بھری آواز ابھری تھی ۔
” سر بات ہی کرنی ہے آپ سے تو آ جاٸیں کل پھر آپ ان کے آفس میں “
آدمی نے مہدب لہجہ اپناتے ہوۓ کہا۔ سامنے بیٹھے نعمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا جو ٹانگ پر ٹانگ چڑھاۓ ہونٹوں پر ہاتھ رکھے کرسی پر بیٹھا تھا ۔
” پہنچ جاٶں گا میں “
حازق نے دانت پیستے ہوۓ کہا۔ جبار سے بہت سی باتوں کا حساب کتاب کرنا ضروری تھا۔
نعمان نے ہاتھ کے اشارے سے سامنے کھڑے آدمی کو فون بند کرنے کا کہا ۔ نعمان کا اشارہ ملتے ہی اس نے فون بند کیا ۔
وہ آدمی اب دوسرے فون کو جیب سے نکال کر ایک اور نمبر ملا رہا تھا۔ فون کان کو لگاۓ ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی جب دوسری طرف سے فون اٹھا لیا گیا ۔
” ہیلو ۔۔۔۔۔ “
جبار کی کھردری سی آواز فون سے ابھری تھی ۔
” حازق ملنا چاہتا آپ سے “
آدمی نے کمر پر ہاتھ رکھ کر کہا۔ نعمان کی طرف ایسے دیکھا جیسے پوچھ رہا ہو ٹھیک ہے سب نعمان نے لب بھینچ کر ہاتھ کے اشارے سے اوکے کیا ۔
” ملنا تو میں بھی چاہتا ہوں اس سے “
جبار نے لفظ چبا چبا کر ادا کیے تھے ۔۔
” تو کل سر آپ کے آفس آ رہے ہیں تین بجے “
” ٹھیک ہے “
جبار نے مختصر کہا آدمی نے اشارہ ملتے ہی فون بند کیا۔
نعمان نے گہری سانس لی اور آنکھیں سکیڑ کر پر سوچ انداز میں سامنے کھڑے آدمی کی طرف دیکھا۔
” زہریلی ریپڈ ٹوتھ پکس تیار کرواٶ بوٹولیم ٹاکسن زہر سے تیار شدہ “
نعمان نے رعب سے سامنے کھڑے آدمی سے کہا ۔ جبڑے سختی سے بند کیے وہ پر سوچ انداز میں بول رہا تھا ۔ یہ زہر دنیا کا سب سے خطرناک ترین زہر تھا جو پنتالیس منٹ کے اندر اندر شخص کو ڈھیر کر دیتا تھا۔
یہ والا ریپ پیپر ہونا چاہیے ۔ آدمی نے لیپ ٹاپ سے ایک تصویر اس آدمی کے سامنے کی ۔ تصویر میں کسی میز پر ریپ کی ہوٸ ٹوتھ پک کی کلوز تصویر تھی ۔
******
” آپ نے جاب سے راٸزاٸن کر دیا پر کیوں انکل “
نعمان نے فاٸق کے پیچھے پیچھے چلتے ہوۓ پریشان سے لہجے میں کہا ۔وہ سر جھکاۓ آگے آگے چل رہے تھے
آج نعمان کو جب پتا چلا کہ تین دن سے فاٸق رضا واصف ٹیکسٹاٸل نہیں آ رہے اور وہ ملازمت چھوڑ چکے ہیں تو وہ آج گھر جانے کے بجاۓ سیدھا ان کے گھر آ یا تھا ۔ وہ دروازہ کھول کر اسے دیکھ کر خاموشی سے گہری سانس لیتے ہوۓ اندر کی طرف بڑھ گۓ تھے اور نعمان وجہ جاننے کے لیے سوال کرتا ہوا ان کے پیچھے آ رہا تھا ۔
” تمھاری ماں کی وجہ سے “
فاٸق نے مڑ کر سپاٹ لہجے میں کہا ۔ فاٸق کی آنکھوں میں آج نعمان کے لیے کوٸ محبت نہیں تھی وہ ساکن آنکھوں اور سپاٹ چہرے سے نعمان کو تک رہے تھے نعمان نے ماتھے پر ناسمجھی کے بل ڈالے۔
” میری ماں “
حیرانگی سے الجھ کر کہا۔ فاٸق کی بات سمجھ سے باہر تھی وہ کیا کہہ رہے تھے ۔ کون سی ماں
” ہاں میں اس کی کمپنی میں اسکے انڈر کام نہیں کر سکتا ہوں “
فاٸق نے صوفے کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ اسے بیٹھنے کے لیے کہا۔ لہجہ تلخی لیے ہوۓ تھا انداز بے حد سنجیدہ تھا نعمان حیرت زدہ سا الجھا سا ان کو دیکھتا ہوا صوفے پر بیٹھ چکا تھا ۔
” مجھے نہیں پتا تھا وہ اونر ہے “
فاٸق نے ضبط سے لبوں کو ایک دوسرے میں پیوست کیا ۔چہرے پر ابھی بھی ناگواری موجود تھی ۔
” آپ کہہ کیا رہے ہیں مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا ہے مسز واصف کی وجہ سے آپ نے راٸیزاٸن دیا ؟“
٣٦
نعمان نے الجھتے ہوۓ حیرت زدہ انداز میں پوچھا ۔ماتھا ابھی بھی سمجھنے کی کوشش سے دوچار ہوتے ہوۓ شکن آلودہ تھا
” ہاں اسی شہروزی کی وجہ سے سوری ٹو سے تمہیں برا لگا ہو گا کیونکہ تمھاری ماں ہے پر میرے ساتھ اس کی بہت سی تلخ یادیں جڑی ہیں “
فاٸق نے ناگواری سے کہا ۔ ہاتھ اٹھا کر نعمان کی طرف اشارہ کیا انداز روکھا سا تھا ۔
” واٹ !!!!!!“
نعمان نے حیرت سے منہ کھولا ۔ یہ کیا سمجھ بیٹھے تھے انکل نعمان نے سر کو افسوس کے انداز میں ہوا میں مارا
” کیا کہہ رہے ہیں آپ مسز واصف اور میری مدر ۔۔۔۔انکل آپکو کوٸ بہت ہی بڑی غلط فہمی ہوٸ ہے میں ان کا بیٹا کہاں ہوں “
نعمان نے کھولا منہ بند کیا اور بازو ہوا میں اٹھاتے ہوۓ سر کو ایسے جھٹکا دیا جیسے کہہ رہا ہو کہ آپ کیا سمجھ بیٹھے ہیں
” میں تو ان کی کمپنی میں ملازمت کر رہا ہوں پچھلے ایک سال سے “
پر سکون سے لہجے میں کہا ۔ اور کندھے اچکاۓ فاٸق نے چونک کر دیکھا ۔ اچھا تو شہروزی نے آج تک اسے الگ رکھا خود سے اور نہیں بتایا کہ یہ اسکا اور حسن کا بیٹا ہے ۔ فاٸق نے سوچتے ہوۓ آنکھوں کی پتلیوں کو سکیڑا
” کیا مطلب تمہیں یہ معلوم نہیں کہ وہ تمھاری ماں ہے ۔۔۔۔ “
فاٸق نے پریشان سا ہو کر انگلی ہوا میں اٹھاٸ
” انکل مجھے تو آپ کی سمجھ نہیں آ رہی آپ کیا کہہ رہے ہیں “
نعمان نے افسوس اور حیرت کے ملے جلے تاثر میں کہا۔
” رکو ۔۔۔۔ رکو ۔۔۔۔ ایک منٹ “
فاٸق ہاتھ کے اشارے سے نعمان کو رکنے کا کہہ کر صوفے سے اٹھے تھے اور پھر سامنے موجود دو کمروں میں سے ایک کمرے میں گم ہوۓ ۔ کچھ دیر بعد وہ کچھ تصاویر ہاتھ میں پکڑے واپس آۓ ۔۔۔۔ نعمان عجیب سی الجھن کا شکار حیرت زدہ سا وہیں بیٹھا تھا ۔
” یہ دیکھو “
حسن کی تصویر نعمان کی طرف بڑھاٸ ۔

 

” یہ باپ تمھارا حسن میرا دوست “
فاٸق نے مدھم سی آواز میں کہا ۔ اور وہ تو جیسے تصویر ہاتھ میں پکڑے جامد ہوا تھا ۔ سب کچھ رک گیا تھا۔ صرف دل کے دھڑکنے کی آواز تھی ۔ وہ تصویر میں اپنے باپ کو دیکھ رہا تھا۔ وہ ہو بہو ان کی کاپی تھا ۔وہی چہرہ ماتھا بال آنکھیں موچھیں جسامت قدرت نے یہ رنگ و روپ شاٸد آج کے دن کے لیے ہی اتنا متشابہ رکھا تھا ۔ نعمان نے تصویر پر انگلیوں کی پوروں سے حسن کے چہرے کو چھوا تھا ۔ عجیب سی کیفیت تھی دل پھٹنے کی حد تک دھڑک رہا تھا ۔
” اور یہ حسن اور شہروزی کی نکاح کی تصویر “
فاٸق نے اگلی تصویر نعمان کی طرف بڑھاٸ جسے ایک ٹرانس میں وہ تھام چکا تھا ۔ تصویر میں گلاب کے ہار گلے میں پہنے شہروزی اور حسن کھڑے مسکرا رہے تھے ۔ گلے میں کوٸ گولہ سا اٹکا تھا ۔ گھٹن کا احساس تھا نعمان نے لبوں پر زبان پھیری اور گلے میں بندھی ٹاٸ کو بے دردی سے داٸیں باٸیں گھوما کر ڈھیلا کیا تھا کہ شاٸد اس کو ڈھیلا کرنے سے ہی سانس آۓ شہروزی آج بھی ویسی ہی تھی ۔ بس عمر کے آثار تھے جو تھوڑے سے اب چہرے پر واضح تھے ۔ یہ دولت مند لوگ تو وقت کو بھی دھوکا دے دیتے ہیں اتنی آساٸیشوں میں زندگی گزارتے ہیں کہ وقت کی دھول ان کے چہرے پر پڑتی ہی نہیں ۔
” تمھارے نانا سے چھپ کر نکاح کیا تھا ان دونوں نے “
فاٸق نے گہری سانس لی اور ایک اور تصویر نعمان کی طرف بڑھاٸ جس میں فاٸق حسن کے ساتھ کھڑا تھا ۔ دونوں ہنس رہے تھے فاٸق نے حسن کے گرد بازو حاٸل کیے ہوۓ تھے اور دونوں پورا منہ کھولے کسی بات پر قہقہ لگا رہے تھے ۔ چہرے پر آنے والی آفتوں کے کوٸ آثار نہیں تھے ۔
” اور جب ملک انور کو خبر ہوٸ تو بس پھر “
فاٸق کی آواز میں درد تھا۔ تکلیف تھی جس دوست کے گرد وہ بازو حاٸل کیے محبت سے ہنس رہا تھا اس دوستوں نے انہی بازوٶں میں زندگی کی بازی ہار دی تھی ۔
” حسن کو جان سے ہی مار دیا ظالموں نے “
فاٸق نے روہانسی آواز میں کہا۔ وہ جو ابھی تک بے یقینی کی سی کفیت میں کھڑا تھا ۔ ایک دم سے جیسے ہوش میں آیا تھا ۔ چونک کر نم آنکھوں پھٹتے دل سے فاٸق کی طرف دیکھا ۔ بولنے کی کوشش کی پر آواز نکل نہیں رہی تھی۔ تھوک نگل کر گلے میں پھنسے گولے کو نگلا ۔
” مہ۔۔۔۔میں ان کا “
گھٹی سی بے یقین آواز تھی ۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا اس لمحے وہ ماتم مناۓ یا خوش ہو کیسا لمحہ تھا جس نے اس کے اندر کی دنیا ہلا کر رکھ دی تھی ۔ وہ جو ساری عمر یہی سمجھتا رہا وہ ناجاٸز اولاد ہے کسی کی ۔ ایسی اولاد جو شرمندگی کا باعث بنتی ہے جسے غیرت مند لوگ رات کے اندھیروں میں پھینک دیتے ہیں ۔ پر آج یہ حقیقت سوہان روح تھی کہ لوگ جاٸز اولاد کو بھی پھینک دیا کرتے ہیں ۔
” ہاں تم ان دونوں کے بیٹے ہو حسن کے گزر جانے کے بعد تم پیدا ہوۓ میں جیل میں تھا تب تمھارے والد کے قتل کا الزام ان ظالموں نے میرے سر تھوپ دیا تھا“
فاٸق نے سر جھکا کر کہا۔ وہ نعمان کو شہروزی اور حسن کی داستان سنا رہے تھے ۔ حسن کی زندگی کے آخری دن کے بارے میں بتا رہے تھے اور وہ ساٸیں ساٸیں کرتے دماغ کے ساتھ ساکن سپاٹ زرد چہرہ لیے کھڑا تھا ۔
” شہروزی نے کیا تمہیں کبھی نہیں بتایا کہ تم اس کے بیٹے ہو؟ “
فاٸق نے سر اٹھا کر نعمان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ پوچھا ۔ وہ خاموش کھڑا تھا بلکل خاموش۔۔۔۔ساکن ۔۔۔۔ زرد۔۔۔۔ بے حس و حرکت۔
” کیا تمہیں الگ رکھا ہمیشہ اس نے “
فاٸق کچھ نہیں جانتا تھا کہ اس کی زندگی میں اس نے کیا کچھ دیکھا اور کیسے وہ شہروزی سے ملا ۔ اور کن حالات میں ملا ۔ وہ تو یہ سوچ رہا تھا کہ شاٸد شہروزی اسے الگ رکھ کر پالتی رہی اور بتایا نہیں کہ وہ اسی کا بیٹا ہے نعمان نے تصویروں کو دھیرے سے میز پر رکھا اور داخلی دروازے کی طرف قدم بڑھاۓ ۔
” نعمان ۔۔۔۔۔۔۔“
فاٸق نے اسے پیچھے سے آواز دی تھی ۔ وہ ابھی اسے حسن کی فیمیلی کے بارے میں آگاہی دے رہے تھے ۔ اسے بتا رہے تھے کہ اس کی دادی یعنی حسن کی ماں زندہ ہے اس کی تین عدد پھپھو ہیں ۔ لیکن نعمان ان کو بولتا چھوڑ کر ربوٹ کی طرح آگے بڑھا تھا ۔
” نعمان رکو تو “
فاٸق دروازے تک اس کے پیچھے گۓ تھے ۔ لیکن وہ تیز تیز قدم اٹھاتا باہر نکل چکا تھا ۔ یہ رات اس پر بہت بھاری تھی ۔ جو اس کے علاوہ اور کوٸ نہیں جان سکتا تھا ۔ دل بھاری تھا آنکھیں نم تھیں ۔ ذہن انگنت بازگشت سے پھٹ رہا تھا ۔ وہ گاڑی سے ٹیک لگاۓ سنسان سی جگہ پر کھڑا تھا ۔ ہاتھ میں سگریٹ تھی جو جل رہی تھی ۔
”رکو ۔۔ کون ہو تم ۔۔۔ “
”آپ کل سے ہی واصف ٹیکسٹاٸل میں جواٸنگ دیں “
” یہ فلیٹ آپکو کمپنی کی طرف سے دیا جا رہا ہے “
” آپ ڈیزرو کرتے ہیں کار آپ کو بونس کی طور پر دی جا رہی ہے “
” میں آپکو کمپنی کا ایم ڈی بنا رہی ہوں “
سگریٹ سلگ رہی تھی ۔ دل بھی سلگ رہا تھا کتنے ہی جملوں کی بازگشت ذہن میں گڈ مڈ ہو رہی تھی ۔ کیا ایسی بھی کوٸ ماں ہوتی ہے جو اپنے بچے کو پھینک دے ۔ دل پھٹ رہا تھا ۔ اور جب پھر خود کی کوٸ اولاد نہیں ہوٸ تو مجھ پر محبتیں لٹا دیں ۔ یہ محبت تب کہاں تھی ۔ وہ رو رہا تھا۔
بازو کے آستین سے بچوں کی طرح گال رگڑ ڈالے تھے جن پر آنسو آنکھ کے کونے سے لڑھک کر نیچے آ گۓ تھے ۔
*********
” ہاں بڑا گیم کھیلا تم نے “
جبار نے کن اکھیوں سے اپنے سامنے بیٹھے حازق کی طرف دیکھا ۔ حازق تین بجے سے پہلے ہی اپنے دو عدد سکیورٹی گارڈز کے ہمراہ جبار کے آفس میں موجود تھا ۔ حازق کے گارڈز نے جبار کی اور جبار کے گارڈز نے حازق کی تلاشی لی تھی اور پھر آفس میں وہ دنوں آمنے سامنے موجود تھے ۔ دونوں کے گارڈز اب باہر موجود تھے جو ہر طرح کی سیچویشن کے لیے چوکنا تھے ۔
” مطلب ۔۔۔ گیم تو تم کھیل رہے ہو “
حازق نے ماتھے پر بل ڈال کر دانت پیستے ہوۓ ناگواری سے کہا ۔ خونخوار نظر سے سامنے بیٹھے اپنے باپ کے قاتل کو دیکھا ۔ وہ اپنی مکروہ شکل لیے اپنے خوبصورت نام کا کوٸ پاس نہ رکھے ہوۓ بیٹھا تھا ۔
”اپنے بیٹے کو خود چھپا رکھا ہے تم نے “
حازق نے ناک پھلا کر سامنے میز پر ہاتھ مارا تھا ۔ دل تو کر رہا تھا کہ گریبان سے پکڑ کر اس شخص کا سر میز پر پٹخ ڈالے ۔ لیکن وہ ضبط کرتے ہوۓ مٹھی بھینچ کر بیٹھا ہوا تھا ۔ باپ کی اچانک موت اور اتنے دن قید کی تکلیف نے بے حال سا کر دیا تھا ۔ شیو بڑھی ہوٸ تھی آنکھیں رتجگوں کی چغلی کھا رہی تھیں وہ بےسکون تھا ۔
” تم اپنی چال مجھ پر مت تھوپو اپنے باپ کو خود مروایا ہے تم نے اور الزام میرے سر تھوپ دیا “
جبار نے دھاڑتے ہوۓ کہا ۔ بیٹے کا لا پتہ ہونا ذہنی اذیت بن چکا تھا وہ کہاں ہے کس حال میں ہے۔ سارا سارا دن یہ سوچ سوچ کر وہ پاگل ہو گیا تھا ۔ ایک پل کا چین نہیں تھا ۔ حازق ماننے کو تیار نہیں تھا اور وہاب کی ناگہانی اچانک موت سب راز ساتھ لے ڈوبی تھی ۔
کمرے کے دروازے پر ہلکی سی دستک ہوٸ ۔ دروازہ ہلکی سی چرچراہٹ سے کھلا تھا۔ سفید یونیفارم پہنے نپکن پہنے ہاتھوں پر دستانے پہنے ایک چھوٹی سی ٹرے ہاتھ میں پکڑے ایک آدمی اندر داخل ہوا تھا ۔ وہ شاٸد آفس کے کچن میں کام کرنے والا کوٸ ملازم تھا ۔ ہاتھ میں پکڑی ٹرے میں ایک عدد سافٹ ڈرنک اور کچھ ٹوتھ پکس پڑے تھے ۔
( بڑی بڑی مونچھوں والا آدمی نعمان کے آگے کمر پر ہاتھ دھر کر کھڑا تھا ۔ اور نعمان کے سامنے لیپ ٹاپ پڑا تھا ۔
” جبار کی مخصوص عادات میں سے ایک عادت یہ ہے کہ وہ کھانے کے بعد ٹوتھ پک لازمی استعمال کرتا ہے اور اس کو بہت دیر تک منہ میں رکھ کر گھوماتا ہے . “
نعمان کو وہ شخص کچھ تصاویر دکھا رہا تھا جس میں جبار منہ میں ٹوتھ پک لیے بیٹھا تھا ۔ نعمان آنکھیں سکیڑے بغور ان تصاویر کو دیکھ رہا تھا )
ہاتھ ٹرے میں پکڑے آدمی آہستہ سے آگے بڑھا تھا ۔ حازق کے پاس جا کر سافٹ ڈرنک کا گلاس نفاست سے حازق کے سامنے رکھا جسے حازق نے ناگواری سے خود سے دور کیا تھا ٹرے کو میز پر رکھنے کے غرض سے آدمی نے ٹرے آگے کی اسی لمحے آدمی کا ہاتھ دھیرے سے لڑکھڑایا اور ٹوتھ پکس حازق کے اوپر ڈھیر ہوٸ تھیں ۔ کچھ اس کے کوٹ پر اور کچھ ٹانگوں پر ۔
” سوری سر “
آدمی شرمندہ سا ہو کر خجل ہوا ۔ اور پریشان شکل بنا کر حازق کی طرف دیکھا ایسے جیسے وہ اس انجانی غلطی پر گھبرا گیا ہو۔ روہانسی صورت بناۓ وہ ٹرے کو پکڑے حازق کے سر پر کھڑا تھا ۔
” اٹس اوکے “
حازق نے سپاٹ چہرے کے ساتھ کہا اور ٹوتھ پکس اپنے اوپر سے چننا شروع کر دی تھیں ۔ اس نے ساری سفید کاغز میں ریپڈ ٹوتھ پکس ایک ایک کر کے واپس چھوٹی سی ٹرے میں رکھیں جسے وہ آدمی مہزب انداز میں تھامے کھڑا تھا ۔
اس آدمی نے نرمی سے ٹرے جبار کے سامنے کی اور سرجھکاتا آفس سے باہر نکل گیا۔
جبار نے ایک ٹوتھ پک اٹھاٸ اس کے اوپری کور کو انگلیوں کی پور سے اتارا اور فوراً اسے منہ میں رکھا ۔ اس کے ٹیبل پر ہر وقت یہ ٹوتھ پکس موجود رہتی تھیں اور جب ختم ہوتیں تو دوبارہ سے ریفل کراٸ جاتی تھیں ۔ جس نے کچن میں کام کرنے والا لڑکا تک خرید لیا تھا اس کے لیے آفس میں سے ٹوتھ پکر میں سے ٹوتھ پک ختم کروانا کوٸ مشکل کام نہیں تھا جبار اپنے مخصوص انداز میں ٹوتھ پک کو منہ میں داٸیں باٸیں حرکت دے رہا تھا ۔ سامنے بیٹھا حازق ناگواری چہرے پر لیے بیٹھا اس آدمی کا جیسے باہر جانے کا انتظار کر رہا تھا جیسے ہی وہ باہر گیا اس نے باتوں کا سلسلہ وہیں سے جوڑا تھا جہاں رکا تھا ۔
” اپنی بکواس بند کرو تم نے مجھے اغوا کروایا تھا وہ تمھارے بندے تھے جو مجھ سے وہی لڑکی مانگ رہے تھے تمھارے لیے جو پہلے ڈیل کے بدلے تمہیں دی تھی میں نے “
حازق نے دانت پیستے ہوۓ کہا ۔ چہرہ ضبط سے سرخ ہو رہا تھا ۔
” واٹ۔ٹ۔ٹ۔ بکواس سب میرے کوٸ آدمی نہیں سمجھے تم “
37
جبار نے ناسمجھی کے انداز میں کہا ۔ اور ہاتھ کو ناگواری سے ہوا میں چلایا ۔
” تم نے میرے باپ کو ہی مار ڈالا “
حازق کی آواز میں ایک دم سے دکھ بھر آیا تھا ۔ ضبط آخری حد کو پہنچ چکا تھا ۔ گھر کا ماتم نظروں کے سامنے سے گھوم گیا ۔
” وہ کیس ابھی ثابت نہیں ہوا ہے میں نے تمھارے باپ کو نہیں مارا ہے “
جبار نے غصے سے منہ میں ڈالی ٹوتھ پک کو پاس پڑی ڈسٹبن میں تھوکا ۔ ٹوتھ پک عجیب سا ذاٸقہ لیے ہوۓ تھی کڑوا سا ۔ جو ناگوار سے آثار اس کے چہرے پر چھوڑ گیا تھا ۔ اب وہ دوسری ٹوتھ پک کھول رہا تھا ۔
” تم نے ہی مارا ہے تم اب کسی بات سے مکر نہیں سکتے سمجھے “
حازق غصے سے اٹھ کر کھڑا ہوا تھا ۔ میز پر دانت پیستے ہوۓ اتنی زور سے ہاتھ مارے کے سامنے بیٹھا جبار ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کرنے پر مجبور ہو گیا ۔
” مجھے میرا بیٹاواپس کرو سمجھے تم “
جبار نے بھی اسی غصے سے دیکھ کر کہا ۔ لبوں کو بھینچا ۔ دوسری ٹوتھ پک بھی ویسی ہی کڑوی تھی اس نے جھنجلا کر اسے بھی منہ سے نکال کر پھینکا ۔
” مجھے کوٸ خبر نہیں اس کی “
حازق نے چڑ کر دھاڑتے ہوۓ کہا انگلی اکڑا کر جبار کے آگے کی ۔ حازق کے دھاڑنے کی دیر تھی دونوں کے باہر کھڑے گارڈ آ کر مخالف سمت میں بندوق تان چکے تھے ۔
” اۓ۔۔۔۔۔ “
جبار نے اسی کے انداز میں انگلی کھڑی تھی ۔
” طاقت صرف تمھارے پاس نہیں میرے پاس بھی ہے اور میں یہ ثابت کر کے رہوں گا کہ میرے باپ کو تم نے قتل کیا ہے “
”اور میں یہی کہنے یہاں آیا تھا تمھارے آدمیوں سے بھی کہتا رہا مجھے اس لڑکی کا کوٸ پتہ نہیں ہے وہ کہاں ہے “
حازق نے رعب سے نڈر انداز میں کہا ۔۔
” میرا بیٹا سیدھے طریقے سے دے دیناتم ۔۔۔نہیں تو میرے پاس اور بہت سے طریقے ہیں “
جبار نے ماتھے پر بل ڈال کر کہا ۔ اور ہاتھ کے اشارے سے حازق کو جانے کے لیے کہا ۔
” دیکھ لیں گے “
حازق نے کوٹ کو جھٹکا دیا ۔ پیر پٹخا اور باہر کی طرف قدم بڑھاۓ ۔ جبکہ جبار ہوا میں سر مارتا ہوا اپنی کرسی پر واپس بیٹھ گیا تھا ۔ حازق کے گارڈز اس کے پیچھے چل پڑے تھے ۔
********
” نعمان ! ! ! ! “
شہروزی تڑپ کر آگے بڑھی تھی ۔ نعمان نے ریگزنیشن لیٹر میز پر پٹخا تھا ۔ وہ تھکا سا چہرہ لیے بکھرے بال لیے بے حال کھڑا تھا ۔ وہ ساری رات گھر نہیں گیا تھا ۔ ایک سنسان پارک میں سگریٹ پھوکتے ہوۓ اس نے رات گزار دی تھی اور اب سیدھا آفس آ کر پہلے اپنا ریگزنیشن لیٹر تیار کروایا تھا ۔ اس نے شہروزی کو صرف مختصر یہ کہا کہ وہ رات کو فاٸق سے ملا تھا اور اب وہ ساری حقیقت جان گیا ہے اس آفس میں یہاں ان کے ساتھ یہ سب جاننے لینے کے بعد وہ ایک پل بھی نہیں رکے گا ۔ اور لیٹر گاڑی کی چابی اور فلیٹ کے کاغزات وہ میز پر رکھ چکا تھا ۔
” تم ایسے نہیں جا سکتے ہو “
شہروزی نے نعمان کے بازو کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا ۔ نعمان کل رات والے ہی کپڑوں میں موجود تھا البتہ اب گلے میں ٹاٸ نہیں لگی ہوٸ تھی ۔ وہ تڑپ رہی تھی ۔ آواز اور جسم دونوں کانپ رہے تھے ۔ آنکھیں انجانے سے خوف سے پھٹ رہی تھیں اتنے سال بعد ممتا کی ٹھنڈک جو ملی تھی وہ نعمان کو دیکھ دیکھ کر جینے لگی تھیں وہ چھن جاۓ گی پھر سے یہ خوف جان لیوا تھا ۔ نعمان نے ایک جھٹکے سے بازو چھڑوایا ۔ اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں ۔
” اگر آپ چھبیس سال پہلے مجھے کوڑے کے ڈھیر پر پھینک سکتی ہیں تو میں بھی جا سکتا ہوں“
نعمان نے دانت پیسے ناک پھلا کر قدم آگے بڑھاۓ ہی تھے کے شہروزی دونوں بازو پھلاۓ اس کے سامنے آ گٸ تھی۔ کاجل آنسوٶں سمیت ہلکے سے جھریوں زدہ گال بھگو رہے تھے۔
” نعمان مجھے معاف کر دو میری بات سنو“
شہروزی نے اپنے دونوں کانپتے ہاتھ نعمان کے آگے جوڑے تھے ۔ آواز میں موجود لڑ کھڑاہٹ اس کے اندر کی توڑ پھوڑ کی گواہ تھی ۔
” معاف کر دوں ۔۔۔ “
نعمان طنزیہ انداز میں ہنسا تھا ۔ آنکھیں پھر سے نم تھیں لیکن ان آنکھوں میں سامنے کھڑی اس سفاک عورت کے لیے بے پایاں نفرت تھی ۔
” کتنا آسان ہے نہ آپ کے لیے یہ کہنا معاف کر دو ذرا یہ سوچیں کتنا مشکل تھا میرے لیے جاٸز ہوتے ہوۓ بھی یہ سہنا کہ میں ایک ناجاٸز اولاد ہوں ۔“
وہ دانت پیس کر شہروزی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑا تھا ۔ ہاتھ کی دو انگلیوں کو ملا کر وہ شہروزی کی ناک کی سیدھ میں تان کر نفرت بھرے لہجے میں کہہ رہا تھا ۔
” نہ۔۔نہیں تم ناجاٸز نہیں تھے جان میری “
شہروزی نے دل پر ہاتھ رکھ کر کہا ۔ اور دوسرے ہاتھ سے پھر سے نعمان کے بازو کو تھاما ۔ تڑپ ۔ خوف ۔ بے بسی ۔ کیا کچھ نہیں تھا شہروزی کے لہجے میں ۔
” میں تھا ۔۔۔۔۔ میں تھا۔۔۔۔۔۔ میں ساری عمر ایسے ہی لیبل کے ساتھ رہا اور اب بھی ہوں “
نعمان نے نفرت سے ہاتھ جھٹکا تھا ۔ اسے اس وقت کچھ بھی نہیں نظر آ رہا تھا نہ تو شہروزی کی محبت نہ ممتا نہ تڑپ ۔
” نہیں ہو تم “
شہروزی نے کانپتی آواز میں کہا ۔
” نہیں ہوں تو آپ نے یہ سچ جان لینے کے بعد بھی مجھے کیوں نہیں بتایا ۔ چھپ چھپ کر محبتیں لٹاٸیں پر دنیا کو تب بھی نہیں بتایا کہ میں آپکا جاٸز بیٹا ہوں تو نا جاٸز ہی ہوا نہ “
نعمان پھٹ ہی تو پڑا تھا ساری رات وہ کیا کچھ نہیں سوچتا رہا تھا ۔ زہر ۔۔۔ زہر ۔۔۔ ہی بھرتا رہا اس کے اندر ساری رات ۔
” نعمان پلیز مت جاٶ “
شہروزی کانپ رہی تھی بلک رہی تھی اپنی ممتا کا واسطہ دے رہی تھی ۔ لیکن وہ تو جیسے برسوں کا زہر لیے کھڑا تھا ۔ بہت کچھ کھویا تھا اس نے ایک ایک آنسو رات یاد آیا تھا جو وہ بچپن سے بہاتا آیا تھا ۔ پہلے ولسم کی نفرت کی وجہ سے پھر اپنی کڑوی سچاٸ جان لینے پر ۔
” مجھے نفرت ہے آپ سے آپ جیسی عورت کو صرف محبت کرنا آتی تھی نبھانا نہیں “
نعمان نے بنا دیکھے کہا اور تیزی سے قدم باہر کی طرف بڑھا دیے تھے ۔ وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا اپنے اور شہروزی کے درمیان کا فاصلہ بڑھا رہا تھا ۔
” نعمان !!!!! رک جاٶ “
شہروزی کی بلکتی روتی آواز اسے اپنے عقب سے سناٸ دے رہی تھی ۔ لیکن یہ ممتا کھوکھلی تھی جو اس کے قدموں کی زنجیر نہیں بن پاٸ تھی ۔
” نعمان !!!!!!!“
وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی زمین پر بیٹھتی چلی گٸ تھی ۔
**********
” فرانسسک رپورٹ کے مطابق موت زہریلی ٹوتھ پکس منہ میں لینے سے ہوٸ ہے “
جبار کے آفس کے سامنے کھڑا صحافی ماٸک ہاتھ میں تھامے روانی سے بول رہا تھا ۔ کچھ دیر پہلے جبار کے منہ سے اچانک جھاگ نکلنا شروع ہوٸ اور جب تک وہ ہاسپٹل پہنچا وہ اس دنیا سے اپنے برے اعمال سمیت جا چکا تھا ۔ خبر چند گھنٹوں میں آگ کی طرح پھیل گٸ تھی اور اب رات گۓ تک انویسٹیگیشن بھی مکمل ہو چکی تھی ۔
” ٹوتھ پکس ان کے آفس تک حازق وہاب کے ذریعے پہنچیں ان کے فرنگ پرنٹس پاۓ گۓ ہیں ان پر وہ آج جبار سے ملنے ان کے آفس آۓ تھے “
تحقیقاتی ٹیم پولیس لوگوں کی بھیڑ ۔ صحافی کیمرہ مین سب جبار کی کمپنی کے ارد گرد جھمگٹا ڈالے ہوۓ تھے ۔ افرا تفری سی مچی ہوٸ تھی اور اندر سے آتی خبریں صحافی روانی سے کیمروں کے سامنے بول کر لوگوں تک پہنچا رہے تھے ۔
”پولیس حازق وہاب کو حراست میں لے چکی ہے تحقیق تحال جاری ہے کیمرہ مین حمید چوہان ایم جے چینل لاہور “
صحافی سپاٹ لہجے میں کیمرے کے آگے کھڑا بول رہا تھا ۔ اور پیچھے آٹھ منزلہ آفس کی عمارت تھی ۔ جو جبار کے جانے کے بعد بھی وہیں موجود تھی ۔
*************
” نعمان جا کہاں رہے ہیں ہم لوگ “
حسنیٰ پریشان سے لہجے میں کہتی نعمان کے پیچھے پیچھے گھوم رہی تھی جو بے حال سا سوجی آنکھوں سپاٹ چہرے کے ساتھ کپڑوں کو الماری سے نکال نکال کر بیگ کے اندر رکھ رہا تھا ۔ ایک طرف حیران سی کرسٹن کھڑی تھی وہ بھی حسنیٰ کی طرح ہی نعمان کی اس حالت پر پریشان تھی ۔ لیکن حسنیٰ تو جلے پاٶں کی بلی کی طرح نعمان کے پیچھے گھوم رہی تھی ۔ جو کچھ بھی نہیں بول کر پریشانی بڑھا رہا تھا دونوں کی ۔
” تم اور مام فلحال انکل فاٸق کی طرف اور میں حیدر آباد جا رہا ہوں “
ایک دم سے وہ کمر پر ہاتھ رکھ کر رکا تھا لب بھینچ کر ناک پھلا کر سپاٹ لہجے میں کہا ۔ شرٹ کے آگے کے دو بٹن کھلے تھے بازوکے کف فولڈ کیے ہوۓ تھے آنکھیں تھکاوٹ سے بے حال ادھ کھلی سی تھیں ۔
” لیکن ہوا کیا ہے آپ اتنے پریشان کیوں ہیں “
حسنیٰ پھر سے پیچھے تھی ۔ اب آواز اور روہانسی ہو چکی تھی اس نے آج تک نعمان کو اس قدر مضطرب نہیں دیکھا تھا ۔ نعمان کی یہ حالت اسے پریشان کر رہی تھی ۔
” حسنیٰ ۔۔۔ابھی میں کسی سے بات کرنے کے موڈ میں نہیں ہوں جتنا کہا اتنا کرو پیکنگ کرو فلیٹ چھوڑ رہے ہیں ہم “
نعمان ناک پھلا کر رکا اور پھر چیختے ہوۓ کہا۔ حسنیٰ نے دبک کر آنکھیں بند کی تھیں وہ غصہ بھی تو پہلی دفعہ ہی کر رہا تھا اس پر ۔ لیکن وہ اس کے اندر ہوٸ توڑ پھوڑ سے انجان تھی تو وہ یہ سب بتانے کی پوزیشن میں نہیں تھا ۔ حسنی خفگی سے دیکھتی منہ پھلا کر اب پیکنگ شروع کر چکی تھی وہ گھر آٸ ملازمہ کی مدد سے ضروری سامان سمیٹ رہی تھی ۔
” نعمان پر تم ہم دنوں کو کچھ تو بتاٶ نہ“
حسنیٰ کے منہ بنانے پر اب کرسٹن محبت سے بولی تھی ۔ وہ چلتی ہوٸ نعمان کے پاس آ گٸ تھیں جو اب بیڈ کے ساٸیڈ ٹیبل پر جھکا اس میں سے سامان نکال رہا تھا ۔
” تم کیوں چھوڑا اتنی اچھی جاب میرا بچہ “
کرسٹن نے محبت سے نعمان کے سر پر ہاتھ پھیرا تھا ۔ نعمان نے کوٸ جواب دیے بنا جیب سے موباٸل نکال کر نمبر ملایا تھا ۔
” ہیلو عبداللہ ۔۔۔ ہممم تم لے کر جاٶ ذرا مام اور حسنیٰ کو انکل فاٸق کی طرف “
دوسری طرف عبداللہ کے فون اٹھاتے ہی وہ عجلت میں بولا تھا ۔ کرسٹن پاس کھڑی بس اس کے چہرے کو دیکھ رہی تھی۔ حسنیٰ پھر اے کمرے میں آ چکی تھی لب کچلتی وہ اب پھر سے نعمان کے سر پر کھڑی تھی۔
” نعمان!!!! نعمان سب ٹھیک ہے نہ میرا دل گھبرا رہا ہے وہ حازق والا معاملا “
پریشان سے لہجے میں نعمان پر کھوجتی سی نظر ڈال کر کہا ۔
” میرا اس سے کوٸ لینا دینا نہیں ہے سمجھ کیوں نہیں آ رہا تمہیں مجھے کچھ نہیں ہوا بس حیدر آباد کسی سے ملنے جانا ہے “
نعمان نے آواز کو قابو میں رکھتے ہوۓ لفظ چبا چبا کر ادا کیے
تھے ۔
” آ کر بندوبست کرتا ہوں میں کہیں اور جاب دیکھوں گا اور گھر “
گہری سانس لی ۔ حسنیٰ کی موٹی موٹی آنکھوں میں آنسو آ چکے تھے ۔ لیکن اس وقت نعمان کے لیے وہ آنسو پونچھنے سے زیادہ ضروری یہاں سے نکلنا تھا ۔
” حسنیٰ !!! کم از کم اس وقت مجھے تمھارا ساتھ چاہیے تمھاری پریشانی نہیں پلیز “
نعمان نے پریشان سے لہجے میں کہتے ہوۓ اس کے آگے ہاتھ جوڑے تھے۔
” عبداللہ آ رہا ہے ہر چیز لے لیں دونوں یہاں سے “
نعمان نے پھر سے سمجھانے کے سے انداز میں انگلی کھڑی تھی ۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: