Husna Novel by Huma Waqas – Episode 2

0
حسنیٰ از ہما وقاص – قسط نمبر 2

–**–**–

جی۔۔۔جی ۔۔… نعمان کو اپنے کانوں پر یقین نہیں تھا۔۔۔۔ فون کان کو لگاۓ وہ آج کتنے عرصے کے بعد کھل کر مسکرایا تھا ۔۔۔ وہ لڑکی اسے واصف ٹیکسٹاٸل میں جواٸنگ کے لیے کہہ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ بے یقینی کے عالم میں مسکرا رہا تھا ۔۔
اور اللہ نے میری آزماٸش ختم کی ۔۔۔ وہ شکر گزار تھا۔۔۔۔۔دل کے دھڑکنے کی رفتار خوشی کی وجہ سے زیادہ ہو چکی تھی ۔۔۔
اوکے کل گیارہ بجے میم ملنا چاہتی آپ سے ۔۔۔۔۔۔۔ اس لڑکی نے اپنے مخصوص انداز میں اگلی بات سے اسے آگاہ کیا تھا۔۔۔
میں۔۔۔ میں ۔۔۔ پہنچ جاٶں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گردن پر ھاتھ پھیرتے ہوۓ لبوں پر اپنی مخصوص مسکراہٹ سجاۓ وہ شکر گزار انداز میں گویا ہوا تھا ۔۔۔
فون بند ہو چکا تھا اور وہ بس بیٹھا مسکرا ہی رہا تھا ۔۔پانچ ماہ کی انتھک کوشش کے بعد آج حسنیٰ کے ساتھ ساتھ اسے بہت اچھی نو کری بھی مل گٸ تھی ۔۔۔ اور یہ سب اس سکون کے آگے کم تھا جو سکون اسے اس عمل کی وجہ سے ملا تھا ۔۔۔ جس نے اسے پہچان دی تھی ایک نام دیا تھا ۔۔۔۔ روبن ولسم کی کوٸ شناخت نہیں تھی کوٸ سکون نہیں تھا اس جینے میں ۔۔۔ نعمان کے اندر سکون تھا ۔ روح کو تسکین ملی تھی ۔۔۔۔ ۔۔ اب غصہ نہیں آتا تھا اب زندگی کا کچھ مقصد سمجھ آتا تھا ۔۔ ایک ہفتہ سے پہلے تک کتنی بے سکونی تھی زندگی میں اس کو اپنا وجود اس دنیا میں بے کار لگنے لگا تھا ۔۔۔
چھوٹا سا فلیٹ تھا جس میں داخلی دروازہ کھلتے ہی ایک چھوٹا سا لاونج اور اس کے اندر ہی دو کمرے اور داٸیں طرف اوپن کچن تھا ۔۔۔ایک کمرے میں حسنیٰ سوتی تھی اور دوسرے کمرے میں وہ۔۔۔۔ حسنیٰ نے روز کے معمول کے مطابق اندر سے دروازہ لاک کیا ہوا تھا ۔۔۔ وہ اب اس خوشی کو کسی سے بانٹنے کی بے تابی میں حسنی کے کمرے کے سامنے کھڑا تھا دھیرے سے دروازے پر دستک دی تھی اور اس پورے ہفتے میں یہ پہلا دن تھا کہ اس نے یوں جا کر اس کے کمرے کی دستک دی تھی ۔۔۔ کچھ دیر کی دستک کے بعد بعددروازہ کھولا گیا تھا ۔۔۔
حسنیٰ اپنے مخصوص انداز میں دوپٹہ چہرے تک اوڑھے کھڑی تھی ۔۔۔ خوبصورت ہاتھ دوپٹے کی اوٹ بناۓ ہوۓ تھے ۔۔۔ نعمان نے گلا صاف کیا تھا ۔۔۔ محرم ہونے کے باوجود بھی وہ اس سے نامحرم جیسا ہی برتاٶ کرتی تھی ۔۔۔
سنیں۔۔۔۔ ۔۔۔۔ نعمان نے دھیرے سے بات شروع کی تھی ۔۔۔
جی۔۔۔۔۔ وہی مختصر جواب اور وہی روکھا سا انداز ۔۔
مجھے جاب مل گٸ ہے ۔۔۔۔۔۔ نعمان نے مسکرا کر پر مسرت انداز میں کہا تھا ۔۔
اچھا۔۔۔۔۔ دوسری طرف نہ تو کوٸ خوشی تھی نہ کوٸ جوش بس مختصر اچھا !!! کہا تھا
آپ کھانا نہیں کھاٸیں گی کیا۔۔۔۔۔۔۔ حسنی کو پھر سے دروازہ بند کرتا دیکھ کر نعمان نے جلدی سے دروازے پر ہاتھ رکھ کر سوال پوچھا تھا ۔۔۔
ہلکے سبز رنگ کے سادہ سے جوڑے میں بھی وہ اتنی ہی دلکش لگ رہی تھی جتنی وہ ہمیشہ سے اسے لگتی تھی ۔۔۔
نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ حسنی نے اب کی بار سختی سے کہا ۔۔۔ اور تیزی سے دوازہ لاک کر کے اس سے پشت ٹکا دی ۔۔۔
تو حسنیٰ عابد علی یہ تھی تمھاری قسمت ہاں!!!!! ۔۔۔ ایک مسکین ۔۔۔۔ غربت سے مارا ہوا شخص ۔۔۔سارے خواب قصے کہانیوں کے شہزادے منہ کے بل زمین بوس تھے ۔۔۔ اور وہ دروازے کے ساتھ لگتی زمین پر بیٹھتی چلی گٸ۔۔۔ وہی زندگی وہی دو وقت کی روٹی پیٹ بھر اور چھوٹا سا گھر ۔۔۔۔ میڈل کلاس تھی ۔۔۔۔ میڈل کلاس ہی رہوں گی ۔۔ دروازے کے باہر گہری گرے آنکھیں سکڑ گٸ تھیں ۔۔۔ وہ کیا تھی اس کے لیے سمجھ نہیں پا رہا تھا قسمت نے اسے اس کا ہمسفر بنا دیا تھا ۔۔۔جس میں اس نے ایک بار بھی تو اس کی رضا نہیں پوچھی تھی کہ وہ کیا چاہتی ہے ۔۔۔ بس اپنی ہی کرتا چلا گیا ۔۔۔۔اب اس کا یوں سزا دینا تو بنتا تھا ۔۔۔
بوجھل قدم اٹھاتا وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا ۔۔۔
**********
اس کو عقل نہیں آنے کی ۔۔۔۔ تمہیں بولا میں نے بہت دفعہ ۔۔۔ ولسم نے ایک ہاتھ سے پکڑ کر روبن کو دھکا دیا تھا گھر کے داخلی دروازے سے ۔۔۔
جو تھوڑی دور جا کر خود کو لڑ کھڑانے سے اب سنبھال چکا تھا ۔۔۔ اور اب ماتھے پر بل ڈالے آنکھیں سکیڑے اپنے کالر کو درست کر رہا تھا ۔۔۔
آنکھیں دیکھ کیسے نکال رہا مجھے ۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ولسم نے انگلی سے روبن کی طرف اشارہ کیا تھا اور پھر غصے سے کرسٹن کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔
وہ ناسمجھی کی حالت میں حواس باختہ کھڑی تھی ۔۔۔ کبھی ہاتھوں کو ایک دوسرے میں پیوست کیے ولسم کی طرف اور کبھی روبن کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔
آج پھر کالج والوں نے مجھے کمپلین کیا اور بنک سے مجھے چھٹی لے کر اس کے کالج جانا پڑا ۔۔۔ اتنے امیر باپ کا بیٹا ہے وہ جس کے گلے میں اس نے بیلٹ ڈال کر اسے اتنا مارا ۔۔۔ ولسم دھاڑتے ہوۓ اونچی آواز میں کرسٹن کو روبن کے بارے میں بتا رہا تھا ۔۔۔
کالج میں آج پھر منب کی وجہ سے کچھ لڑکوں کے ساتھ اس کی جھڑپ شروع ہوٸ تھی پھر اس نے ایسا طول پکڑا کہ وہ خطرناک لڑاٸ میں تبدیل ہو چکی تھی ۔۔۔
جبکہ وہ اپنی صفاٸ میں ایک لفظ بھی نہیں کہنا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ خاموشی سے سرخ چہرے گہری آنکھوں اور پھولے ناک کے ساتھ خاموش کھڑا تھا ۔۔۔
ولسم۔۔۔۔ غصہ نہیں کرنے کا پلیز ۔۔ بچہ ہے ابھی ۔۔۔۔۔۔۔ کرسٹن نے آگے بڑھ کر ولسم کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا ۔۔۔
وہ ہمیشہ سے ولسم کا روبن کے لیے غصہ یوں ہی ختم کرتی تھی اور آج بھی ایسا تھا۔۔۔۔ جیسے جیسے روبن بڑا ہو رہا تھا ولسم اور روبن کے اندر کا کھنچاٶ بڑھتا جا رہا تھا ۔۔۔
کوٸ بچہ نہیں کالج پہنچ چکا ۔۔۔ میں اس پر اتنا پیسہ لگا رہا اور اس کو دیکھو کیا بن رہا گنڈا بن رہا یہ۔۔۔۔ گنڈا ۔۔۔۔۔۔ولسم غصے میں اتنا اونچی بول رہا تھا کہ اس کا تھوک فوارے کی شکل میں نکل رہا تھا۔۔۔
ولسم ایسے مت بولو ۔۔۔ تمہیں پتہ ہے کتنا اچھا ہے یہ پڑھاٸ میں ۔۔۔ سوفٹ ویر انجنٸیر بنانے کا مجھے اپنے بیٹے کو ۔۔۔۔۔۔۔ کرسٹن اپنے مخصوص انداز میں ولسم کے سینے پر آہستہ آہستہ محبت سے ہاتھ پھیر رہی تھی ۔۔۔
اس کی حرکتیں ہیں ایسی بولو تم خود ۔۔۔۔۔۔۔ ولسم نے پھر سے بازو سے اشارہ روبن کی طرف کیا تھا آنکھوں کو سکیڑے اور تیوری چڑھاۓ وہ ناگواری سے روبن کو دیکھ رہا تھا۔۔
روبن اپنے ڈیڈی سے فورا معافی مانگو تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کرسٹن نے مصنوعی غصہ دکھاتے ہوۓ کہا تھا ۔۔
روبن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روبن کو غصے سے مڑتا دیکھ کر پیچھے سے کرسٹن نے چیخ کر کہا تھا ۔۔۔۔۔۔
لیکن روبن وہاں نہیں ٹھہرا تھا ۔۔۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتا سیڑھیاں پھلانگ چکا تھا ۔۔۔
یہ ۔۔۔یہ ۔۔۔۔ تم نے کیا ہے اس کی تربیت ۔۔۔۔ بولا تھا ۔۔۔ مجھے یہ بچہ نہیں پالنے کا ہے کس کا خون ہے کون ہے ۔۔۔ ولسم نے دانت پیس کر آواز کو آہستہ رکھتے ہوۓ کہا تھا ۔۔۔
کرسٹن نےگھبرا کر سیڑھیوں کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔ اور پھر گھور کر ولسم کی طرف ۔۔ ولسم کو ہر بار جب غصہ آتا تھا وہ پھر سے بیس سال پہلے کہ اس واقعی کو یاد کر کے اسے یہ احساس دلاتا تھا کہ اس نے یہ غلطی کی تھی ۔۔۔
تم ہوٸیں گا ایسا ظالم میں نہیں ۔۔۔ ادھر اس کو مرنے کے واسطے میں کیسے چھوڑ دیتی ۔۔۔۔انسان کا بچہ تھا وہ ۔۔۔اور میں ممتا کی ترسی ہوٸ۔۔۔۔ کرسٹن بھی ہر دفعہ کے دہراۓ ہوۓ الفاظ کا ردوبدل کر کے پھر سے دہرا رہی تھی ۔۔۔
تو دیکھ پھر ۔۔۔ اس سے اچھا ہم اکیلے تھے ۔۔۔ ۔۔۔۔ ولسم پیر پٹختا ہوا اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا ۔۔۔
******************
یار اففف۔۔۔۔۔کیا ہینڈسم ہے ۔۔ اور فاٸٹ دیکھی تھی اس کی ۔۔۔۔۔۔۔ سموسے کے پیس کو منہ میں رکھے حسنیٰ نے بچوں کی طرح آنکھیں چمکاٸ تھیں ۔۔۔
ہاں میرا بھی فوریٹ ہے ۔۔۔ ۔۔۔۔ فضا نے بھی ناک سکیڑی تھی ۔۔۔
کالج کی کنٹین کی کرسیوں پر براجمان دونوں آپس میں رات کے کسی ڈرامے پر بات کر رہی تھیں ۔۔۔
فضا اس کی سکول کے زمانے کی دوست تھی ۔۔حسنی کو زیادہ دوستیں بنانے کی عادت نہیں تھی ۔۔۔فضا اس کی ایسی دوست تھی جسے وہ ہر بات بلا جھجک کر لیا کرتی تھی ۔۔
حقیقت سے بہت دور کی بات ہے یہ مس صاحبہ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ فضا نے اپنے مخصوص عقل مندانہ انداز میں کہا تھا ۔۔۔ ۔۔۔۔
ہممم۔۔۔۔ جانتی ہوں ۔۔۔ پر میرے لیے کوٸ شہزادہ ہی آۓ گا۔۔۔۔ حسنیٰ نے شرارت سے آنکھ دباٸ تھی اور سموسے کا ایک پیس منہ میں رکھا ۔۔۔
ہاں آۓ گا تیرا کوٸ کزن ہو گا ۔۔۔ فیصل آباد کا ۔۔۔ فضا نے منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسی روکی ۔۔۔
یا پھر تیر ی گلی کا کوٸ لڑکا ۔۔۔۔۔۔۔۔ بوتل کو اٹھا کر سپ لیا ۔۔۔
نہیں جی ایسا کچھ نہیں ہونے والا ۔۔۔ ۔۔۔ میں حسنی ہوں سمجھی تم۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنی خوبصورت چھوٹی سی ناک اوپر کو اٹھا کر اس نے شان سے کہا تھا ۔۔۔
وہ ایسی ہی تھی اسے اپنے دلکش چہرے اپنے جان لیوا سراپےپر بڑا ناز تھا ۔۔۔۔خود کو ہر طرح کے فیشن سے آراستہ رکھتی تھی وہ متوسط طبقے کے ہونے کے باوجود اچھا اوڑھنے اور کھانے کی شوقین تھی ۔۔۔ وہ ناول ڈراموں کی شیداٸ تھی اور اسے اس بات کا یقین تھا کہ کوٸ ایسا ہی امیر کبیر لڑکا اس کے عشق میں ایک دن ضرور گرفتار ہو گا اس لیے وہ عام لڑکوں کو گھاس تک نہیں ڈالتی تھی ۔۔۔
ہمممم۔۔۔۔۔ پتہ ہے ۔۔۔۔ جی۔۔۔۔ پر امیر لڑکے بھی آجکل صرف حسن نہیں دیکھتے سمجھی ۔۔۔۔۔۔۔ سموسے کی پلیٹ کو خالی کر کے فضا نے اسے آگے کی طرف دھکیلا تھا ۔۔۔اور پھر بوتل ہاتھ میں لے کر پیچھ ہو کر سیٹ کی پشت سے خود کو ٹکا لیا تھا ۔ اسے ہر دفعہ کی طرح آج بھی حسنی کے انداز پر ہنسی آ رہی تھی ۔۔۔3
اچھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہیں دیکھاٶں گی مجھے لینے تو کو ایسا ہی آۓ گا ۔۔۔۔۔۔۔۔حسنیٰ نے کندھے اچکاۓ ۔۔۔
اچھا ۔۔۔۔ ۔۔۔ جہان یا سالار۔۔۔۔۔ فضا نے پھر سے قہقہ لگایا تھا ۔۔۔
ہو گا ہی ان جیسا ہی کوٸ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ نے بے پرواہی سے کہا تھا ۔۔۔ بوتل ختم کر کے ٹیبل پر رکھی۔۔۔
اے سن ۔۔۔۔ آج پھر بوتل توڑ دیتے ہیں ۔۔۔ حسنی کی آنکھوں میں شرارت چمک رہی تھی ۔۔۔
ارے یار مجھ سے نہیں بھاگا جاتا اتنا اور اکبر بھاٸ نے اب وہ لڑکا رکھ لیا ہے چھوٹا اپنے ساتھ وہ اس کو بھاگا دیں گے ہمارے پیچھے اور ہم دونوں پکڑی جاٸیں گے ۔۔۔۔فضا نے اس دفعہ اس کا ساتھ دینے سے صاف انکار کر دیا تھا ۔۔۔
اچھا سن تم ذرا یہ خیالوں کی دنیا میں کم رہا کر ۔۔۔فضا نے بات کا رخ پھر سے پچھلی بات کی طرف موڑ دیا تھا ۔۔۔
ان جیسا کوٸ نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔ یہ سب قصے ہیں کہانی ہیں اور کچھ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ کینٹین کے اندر موجود لڑکے کو اشارہ کر کے پاس بلایا۔۔
میرا دل نہیں مانتا ۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ نے کھوۓ کھوۓ سے انداز میں کہا تھا ۔۔۔
تم تو ویسے ہی الٹی کھوپڑی کی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ فضا نے مصنوعی خفگی سے کہا اور پیسے لڑکے کو پکڑاۓ ۔۔۔
ہاں ہوں تو ۔۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ نے ناک پھلا لیا تھا ۔۔۔
چلو اٹھو اب کیا لاسٹ لیکچر بھی مس کرو گی ۔۔۔۔ فضا نے اس کے گھورنے کی پرواہ نا کرتے ہوۓ کہا۔۔۔
وہ ایسا ہی کرتی تھی کسی کسی دن اس کا دماغ بہت آسمانوں میں ہوتا تو وہ ایک بھی کلاس نہیں لیا کرتی تھی اور آج بھی صرف دو لیکچر کے بعد ہی وہ ڈھیٹ بن گٸ تھی ۔۔۔ پر فضا کے بہت اسرار سے بازو کھینچنے پر وہ عجیب بے زاری بھری شکل بنا کر اٹھی تھی ۔۔۔۔
اچھا بابا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بچوں کی طرح ہونٹ نکالتی وہ اس کے پیچھے تھی ۔۔۔۔
*************
بیٹھیں ۔۔۔۔۔ ۔۔۔ مسز واصف نے اپنے سامنے سیٹ کی طرف اشارہ کیا تھا ۔۔۔
یہ بہت بڑا اور نفیس آفس تھا ۔۔۔۔ہر چیز اپنی مثال آپ تھی ۔۔۔ اور مسز واصف کوٸ پچاس سال کے لگ بھگ خاتون بمشکل چالیس کی لگ رہی تھیں وہ بہت نفیس خاتون تھیں ۔۔۔ ۔۔اور وہ ایک پرانی سی شرٹ اور پینٹ میں ملبوس اسی پرانے جوتوں کے ساتھ کرسی کو کھینچتے ہوۓ بیٹھ چکا تھا ۔۔۔
آپ۔۔۔۔ کے ڈاکیومنٹس دیکھیں ہیں میں نے ۔۔۔۔۔۔۔ مسز واصف نے نفاست سے اپنی آنکھوں پر ٹکے قیمتی چشمے کو اتار کر میز پر رکھا تھا ۔۔۔
جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے سنجیدہ سے انداز میں ٹاٸ کو درست کیا تھا ۔۔۔
آپ نے ایک ہفتہ پہلے اسلام قبول کیا راٸٹ ۔۔۔۔ مسز واصف نے پر تجسس انداز میں کہا ۔۔
جی ایسا ہی ہے ۔۔۔اسلامک نیم ۔۔۔ نعمان ہے اب ۔۔۔نعمان نے مسکرا کر کہا تھا ۔۔۔
دل تیزی سے دھڑک رہا تھا کہ اب کیا ہو گا کہیں جاب نہ ملی اس بات پر تو ۔۔۔ کیونکہ ڈاکیومنٹس سارے روبن ولسم کے نام سے ہی تھے ۔۔۔
نعمان۔۔۔۔ اسلام قبول کیا آپ نے بہت اچھی بات ہے ۔۔ لیکن آپ کے پیرینٹس۔۔۔ مطلب ولسم وسٹن ۔۔۔ اور کرسٹن ۔۔۔ ۔۔۔۔ مسز واصف نے کھوجتی نظروں سے دیکھا اور پر سوچ انداز میں پوچھا ۔۔۔
میم وہ میرے پیرینٹس نہیں تھے ۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے گلا صاف کیا ۔۔۔ آواز بہت مدھم ہو گٸ تھی۔۔۔
دے آیڈاپٹڈ می ۔۔۔۔۔۔۔ لبوں کو بھینچ کر ضبط کرتے ہوۓ کہا ۔۔۔دل پھر سے تکلیف سے بھرنے لگا تھا ۔۔۔
مسز واصف بلکل خاموش ہو گٸ تھیں کچھ دیر اس کے چہرے پر عجیب سی نظریں جماۓ وہ ساکت بیٹھی تھی ۔۔۔ کوٸ کسی سے اتنا کیسے مل سکتا ۔۔۔ وہی چہرہ وہی خدو خال وہی لہجہ وہی آنکھیں بال ۔۔۔۔ افف خدا یہ کیا ماجرا ہے ۔۔۔۔ کیا حسن زندہ ہے۔۔ پر یہ سب ۔کیسے۔۔۔۔۔۔ دل عجیب الجھن کا شکار تھا کوٸ بھی سرا ہاتھ آنے کو نہیں تھا ۔۔۔
اوہ۔۔۔۔ آٸ سی ۔۔۔۔۔۔۔۔ گہری سانس خارج کی تھی مسز واصف نے ۔۔۔
اوکے میں نے آپکو اس پوسٹ پر نہیں رکھا جس کا آپ نے کہا تھا ۔۔۔آپ کو میں نے ایڈورٹیزمنٹ ڈپارٹمنٹ کا مینیجر اپاٸنٹ کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ مسز واصف نے مسکرا کر اپاٸنٹمنٹ لیٹر آگے بڑھایا تھا۔۔۔
جی۔۔۔کیا ۔۔۔۔ ۔۔۔ کیا ۔۔۔۔۔۔۔ حیرت اور خوشی سے نعمان کے الفاظ اٹک کر رہ گۓ تھے ۔۔۔
جی ۔۔۔ ایسا ہی ہے ۔۔۔ آپ آج سے ہی جواٸن کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔ مسز واصف نے مسکرا کر دیکھا اور فون اٹھا کر نفاست سے نمبر دباۓ ۔۔۔
اندر آٸیں ۔۔۔۔ نرمی سے کہہ کر وہ ریسیور رکھ چکی تھیں ۔۔۔
دروازہ کھلا تھا اور ایک لڑکا مہزب انداز میں اجازت لیتا ہوا اندر آیا تھا ۔۔۔
فہد ۔۔۔ یہ نعمان ہیں انہیں ان کا آفس دکھاٸیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مسز واصف نے ایک اور حیرت کا پہاڑ توڑا ۔۔۔
آفس ۔۔۔۔۔۔۔ نعمان کی آنکھیں حیران تھیں تو زبان گنگ تھی ۔۔۔
میم۔۔۔۔۔ تھنکیو سو مچھ ۔۔۔۔۔۔۔ بڑی مشکل سے مسکراتے ہوۓ وہ اٹھا تھا ۔۔۔
تھنکیو کس بات کا آپ کی قابلیت کے بنا پر آپکو اس پوسٹ کے لیے سلیکٹ کیا ہے میں نے ۔۔۔ مسز واصف نے بڑے انداز سے جھوٹ بولا تھا۔۔۔
اس کی صورت نے انھیں کل شام سے سونے نہیں دیا تھا ۔۔۔ایک عجیب الجھن تھی۔۔۔ انہیں کراچی جانا تھا۔۔۔ ولسم سے ملنا تھا۔۔۔ وہ کچھ سوچتے ہوۓ کرسی کو گھوما رہی تھیں ۔۔۔۔
*************
یہ۔۔۔۔ یہ۔۔۔ سب کیا ہے۔۔۔۔ ۔۔۔ حسنی نے شناختی کارڈ نعمان کےآگے کیا تھا۔۔۔۔
وہ جو مٹھاٸ کا ڈبہ لیے اس کے پیچھے پیچھے چلتا ہوا خوشی سے اندر آیا تھا ۔۔۔ حیران سا ہو کر اب اس کے بڑھے ہوۓ ہاتھ کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔
مطلب ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گھٹی سی آواز نعمان کے حلق سے نکلی تھی۔۔۔
وہ اس کے دل میں دھڑکن بن کر دھڑکنے والی ماتھے پر شکن ڈالے سرخ چہرہ لیے کھڑی تھی۔۔۔۔
مطلب ۔۔ یہ کہ۔۔۔ تم کریسچن ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنی زور سے وہ چیخی تھی کہ نعمان ہل گیا تھا ۔۔۔
نہ۔۔نہیں ۔۔۔ تھا۔۔۔۔۔۔۔ اب مسلم۔۔۔۔ نعمان کی آواز گھٹ گٸ تھی ۔۔۔
بکواس بند کرو اپنی ۔۔۔ یہ سب کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ نے باٸبل کی کتاب لاکٹ اور ڈاکیومنٹس بیڈ پر پٹخنے کے انداز میں رکھے تھے ۔۔۔
حسنیٰ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے پھر سے صفاٸ میں کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا تھا ۔۔۔
وہ ابھی رات کو ہی آفس سے واپس آیا تھا وہ بہت خوش تھا اور وہ اپنی خوشی حسنیٰ کے ساتھ بانٹنا چاہتا تھا۔۔۔ گو کہ وہ اس سے بات تک نہیں کرتی تھی کھنچی کھنچی رہتی تھی۔۔۔
میرا نام نہ لو اپنی زبان سے ۔۔۔ ۔۔۔ حسنیٰ نے دانت پیس کر کہا تھا ۔۔۔
مطلب ۔۔۔۔ ہمارا کوٸ نکاح نہیں ہوا۔۔۔ میں ۔۔۔ ۔۔۔۔ حسنیٰ نے روہانسی ہو کر منہ پر دونوں ہاتھ دھر لیے تھے ۔۔۔۔
اوہ میرے خدا۔۔۔۔ جھوٹے ہو تم بھی ۔۔۔ سب ایک جیسے ہیں ۔۔۔۔۔ حسنی نے چیخ کر کہا۔۔۔۔۔
آواز پھٹ رہی تھی۔۔۔ وہ ابھی تک اس اچانک کے رشتے کو قبول نہیں کر پاٸ تھی کہ آج یہ حقیقت سامنے آ گٸ تھی کہ وہ کوٸ نعمان نہیں ہے بلکہ ایک مسیح ہے روبن ولسم ۔۔۔ اور وہ اسے اس دن صرف چار گھنٹے سے نہیں جانتا تھا ۔۔۔ بہت پہلے سے جانتا تھا ۔۔۔
حسنیٰ میں نے کو ٸ جھوٹ نہیں بولا تم سے کبھی بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے بے چینی سے التجا بھرا انداز اپنایا تھا ۔
بولا ہے ۔۔۔ تم نے میرے بھاٸیوں سے کیوں کہا کہ وہ تم ہی ہو ۔۔۔ کیوں نکاح کیا تم نے۔۔۔۔۔۔۔ حسنی خونخوار انداز میں پھر سے وہی سوال دہرا رہی تھی جو وہ ہر دفعہ اس کے سامنے آنے پر اس سے کرتی تھی۔۔۔۔
نعمان چپ کھڑا تھا بلکل چپ ۔۔۔۔ کوٸ بات کوٸ جواب کیا کہے اسے ۔۔۔
بولو ۔۔۔۔ یہ جھوٹ کیوں بولا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ حسنیٰ نے آنکھیں نکالی ۔۔۔
کیونکہ وہ لوگ مجھے وہی سمجھے تھے ۔۔۔۔ نعمان نے سر جھکایا تھا ۔۔۔
تم نےکیوں نہیں کہا تم وہ نہیں ہو ۔۔۔۔ آج وہ بری طرح اس پر حاوی ہو رہی تھی اس دن سے تو قسمت کا کھیل سمجھتی رہی اس کو اپنا مدد گار سمجھتی رہی لیکن آج منب کی زبانی کچھ اور ہی حقیقت آشکار ہوٸ تھی۔۔جو کبھی وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی ۔۔۔
تم ۔۔۔ تم۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ کب سے جانتے تھے مجھے۔۔۔ حسنیٰ نے انگلی اس کے آنکھوں کے سامنے کی تھی ۔۔۔۔۔۔
نعمان نے نظریں جھکا دیں تھی ۔۔۔ اب وہ اس کو کیا بتاتا ۔۔۔ہاں وہ اسے چار گھنٹے سے نہیں جانتا تھا ۔۔۔۔
مجھے تمھارے ساتھ نہیں رہنا ۔۔۔ مجھے جانا ہے یہاں سے ۔۔۔ حسنیٰ نے ایک دم سے آنکھوں کو سکیڑ لیا تھا ۔۔۔
سنو ۔۔۔ سنو ۔۔۔۔ کہاں جاٶ گی ۔۔۔ تم میرے نکاح میں ہو میں سچ کہہ رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے اس کے ہاتھ کو تھاما تھا اس سے پہلے کے وہ تیزی سے کمرے سے باہر جاتی ۔۔
کریسچن سے نکاح نہیں ہوتا ۔۔۔ حسنی نے بری طرح اپنی بازو کو موڑا تھا تاکہ وہ نعمان کی گرفت سے آزاد ہو سکے ۔۔۔
میں مسلم ہوں ۔۔۔ وہ ہنوز ابھی بھی التجاٸ انداز میں کہہ رہا تھا ۔۔۔
جبکہ حسنیٰ کے بازو پر گرفت بہت سخت تھی ۔۔ جس کو بے چینی سے بازو گھوما کر چھڑوانے کی کوشش میں بےحال ہو رہی تھی ۔۔۔
بکواس بند کرو اپنی ۔۔۔۔ تمھارا دوست دے کر گیا ہے یہ سب چیزیں تمھاری ۔۔۔۔ حسنیٰ نے اپنے دوسرے ہاتھ کے ناخن اس کے بازو پر گاڑ دیے تھے ۔۔۔
منب۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ اوہ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ نعمان کو فورا سمجھ آگٸ تھی آخر کو ماجرا کیا ہوا ہے ۔۔۔ ۔۔۔۔ جبکہ کے اس کے ناخن گاڑنے سے کوٸ تکلیف نہیں ہوٸ تھی۔۔۔۔
تو منب تم سے برداشت نہیں ہوا اور تم نے تلاش کر ہی لیا ۔۔۔۔ اب ولسم کو یہاں پہنچنے میں بھی دیر نہیں ہو گی ۔۔۔ اس کا مطلب یہ گھر بھی کل ہی چھوڑنا پڑے گا۔۔۔۔
دیکھو حسنیٰ۔۔۔۔ محبت سے اس کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔
مجھے کچھ بھی نہیں دیکھنا ۔۔۔ سنا تم نے مجھے جانا ہے یہاں سے مجھے تمھارے ساتھ نہیں رہنا ہے ۔۔۔ ۔۔۔۔ وہ اب روہانسی ہو رہی تھی ۔۔۔
ہاں تو کہاں جاٶ گی ۔۔۔ حازق کے پاس ۔۔۔۔۔۔۔ ایک دم سے کھینچ کر اسے اپنے ساتھ لگایا تھا۔۔۔
نہیں ۔۔۔۔ کہیں بھی جاٶں تم سے مطلب ۔۔۔۔تم ہوتے کون ہو ۔۔۔
چار گھنٹے کی ملاقات کے بعد سے میرے سر پر مسلط کر دیے گۓ اور آج مجھے پتہ چلتا ہے تم مسلمان نہیں ہو ۔۔۔۔ ۔۔۔ حسنیٰ نے اس کی طرف دیکھے بنا ناک پھلا کر کہا تھا چہرہ اتنا قریب تھا کہ وہ الجھن کا شکار ہو چکی تھی۔۔۔
اس نے اب تک اسے غور سے دیکھا ہی کہاں تھا ۔۔۔ نظر آۓ تھے تو اس دن اس کے پھٹے جوتے پرانی سی شرٹ ۔۔۔۔لٹی پھٹی سے حالت میں وہ شخص جو ایک مصیبت میں پھنسی لڑکی پر ترس کھا کر اس سے نکاح کر لے اور بعد میں پتہ چلے کہ یہ نکاح ہوا ہی نہیں اور حقیقت اس کے برعکس ہے ۔۔۔۔
میں تمہیں نہیں جانے دوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلی دفعہ وہ اس کو اتنا قریب کیے ہوا تھا۔۔۔
اور وہ اس کے جزبات اس کی خاموش چاہت سے انجان بس کبھی ناخن گاڑ کر اور کبھی بازو کھینچ کر خود کو چھڑوانے کی کوششش میں لگی تھی۔۔۔۔
چھوڑو میرا بازو ۔۔۔۔۔۔۔۔ آواز پھٹ کر بھاری ہو گٸ تھی ۔۔۔
کیا وہ ایسی تھی کہ کوٸ اس پر ترس کھاتا ۔۔۔ وہ تو ایسی تھی کہ کوٸ اس پر مر مٹتا۔۔۔ تو وہ کیوں اس کے ترس پر زنگی گزار دے اور وہ بھی وہی غربت بھری گھٹی سی زندگی ۔۔۔۔اب بس۔۔۔۔
نہیں چھوڑ سکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہی انداز وہی لہجہ۔۔۔۔۔
مجھے نہیں رہنا تمھارے ساتھ۔۔۔۔ حسنیٰ چیخی تھی۔۔۔
مجھے فضا کے پاس جانا ہو گا اسے جا کر یہ سب بتانا ہو گا۔۔۔۔ اسی نے راضی کیا تھا نہ مجھے ۔۔۔۔ حسنی کے ذہن میں منصوبے بننے شروع ہو چکے تھے۔۔۔
کمرے میں چلو ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے اب اس کے بازو کو کھینچتے ہوۓ کمرے کا رخ کیا تھا۔۔۔
کون ہو تم ۔۔۔۔۔ کیوں کر رہے ہو ایسا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ چیخ رہی تھی اور نعمان پرسکون انداز میں اسے کمرے میں لا چکا تھا۔۔۔
سب بتاٶں گا ایک دن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے آہستہ سے بازو چھوڑا تھا۔۔۔۔
اور پھر اپنے کمرے کی طرف چل دیا تھا۔۔۔۔۔اس بات سے بلکل بے خبر کہ وہ اب اپنے دل میں بہت کچھ ٹھان چکی ہے ۔۔۔
*************
میرا بجٹ نہیں اس یونیورسٹی کا تم کو بولا اتنی بار میں نے ۔۔۔ ولسم نے ٹاٸ کی ناٹ کو ڈھیلا کیا تھا۔۔
وہ ابھی بنک سے واپس آیا تھا ۔۔۔داخلی دروازے سے تھوڑا آگے آتے ہی کرسٹن نے بے چینی سے آج پھر وہی بات شروع کر دی تھی ۔۔۔ وہ ولسم کا کوٹ پکڑے اس کے پیچھے پیچھے اس سے التجاٸ انداز میں پوچھتی ہوٸ آ رہی تھی روبن نے آٸ سی ایس کر لیا تھا ۔۔۔ اور بہت اچھے نمبر لیے تھے کرسٹن اب اسے سوفٹ ویر انجنیرینگ کروانا چاہتی تھی جس کے لیے یونیورسٹی میں داخلے کی بات وہ روز ولسم سے کر رہی تھی ولسم سب پتا کر چکا تھا لیکن بجٹ بہت اوٹ تھا اور وہ اب روبن پر ہر گز پیسہ نہیں لگانا چاہتا تھا ۔۔ جب سے زندگی میں روزی آٸ تھی وہ تب سے ہی کرسٹن اور ولسم سے بے زار ہونے لگا تھا روزی کی اس سے ملاقات بنک میں ہوٸ تھی وہ اپنے اکاونٹ کے سلسلے میں بنک آتی تھی جسے ولسم ڈیل کرتا تھا اور آہستہ آہستہ ان کی فون پر بات ہونے لگے تھی اور پھر یہ بات چیت ولسم کی خفیہ دوسری شادی کا سبب بن گٸ تھی اور اب تو اسے روزی سے اولاد کی خوشی بھی مل چکی تھی ۔۔۔ اب وہ کرسٹن سے روبن کے لیے ٹال مٹول کرتا رہتا تھا ۔۔ روبن اس کا خون نہیں تھا اور اس کو کبھی بھی اس سے وہ لگاٶ نہیں ہو پایا تھا جو کرسٹن کو تھا۔۔۔ وہ بنک کے بہانے سے بہت دیر سے گھر آنے لگا تھا چھٹی والے دن بھی وہ باہر کسی کام کا بہانہ بنا کر روزی کی پاس چلا جاتا تھا ۔۔۔
تو مجھ کو نرسنگ کرنے دے پھر سے ۔۔۔۔۔۔وہ پرایویٹ ہاسپٹل ہے نہ ساتھ والی گلی میں مجھے رکھ لیں گے میں نے بات کیا ہے ڈاکٹر سے ۔۔۔ کرسٹن نے خوشی سے بتایا تھا ۔۔۔
اب وہ دونوں چلتے ہوۓ لاونج میں پہنچ چکے تھے ۔۔۔ ولسم نے ناک چڑھا کر اسے پانی کا اشارہ کیا تھا ۔۔۔
وہ ولسم کی ہر حرکت سے یکسر بے خبر بس یہی سوچتی تھی کہ روبن ان کا اکلوتا سہارا ہے وہ اسے اچھا پڑھا لکھا دیں گے تو ان کا مستقبل بھی بہتر ہو جاۓ گا ۔۔۔۔۔۔۔ پانی کو جگ سے گلاس میں انڈیل کر وہ گلاس اب ولسم کی طرف بڑھا رہی تھی
تم کو وہ کتنا دے دیں گے بولو چھوٹا سا ہاسپٹل ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ولسم نے پانی کا گلاس خالی کر کے ایک طرف رکھا تھا ۔۔۔۔ٹاٸ اتار کر ایک طرف رکھ دی تھی ۔۔۔۔ اب وہ شرٹ کے بازو فولڈ کر رہا تھا ماتھے پر ناگواری کے بل تھے ۔۔۔
روبن ایک دم سے سیڑھیاں اتر کر نیچے آیا تھا ۔۔۔ اور سپاٹ چہرے کے ساتھ کھڑا تھا۔۔۔۔دونوں نے چونک کر ایک دم سے اس کی اس آمد کو اور اب اس کے سخت چہرے کو دیکھا تھا ۔۔۔
تم دنوں کو لڑنے کا نہیں ہے ۔۔۔۔۔مجھے ایک جگہ ٹیوشن پڑھانے کے کام ملا ہے ۔۔۔ مجھے میرے سر نے بتایا ہے ۔۔۔ میں بی ایس سی ایس کر لے گا ۔۔ روبن سنجیدہ شکل اور سپاٹ لہجے کے ساتھ بات کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔
میں اپنا کچھ خرچہ خود اٹھا سکتا ہوں اب ۔۔۔روبن نے ولسم کے نفرت بھرے انداز کی طرف دیکھ کر کہا
ولسم نے ناگواری سے ہوا میں سر ہلایا تھا ۔۔۔۔
روبن پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کرسٹن نے بے چین ہو کر روبن کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔
مام ۔۔۔ مجھ نہیں سافٹ ویر انجنیرنگ کرنے کا۔۔۔ تم گھر میں رٸنینگی کوٸ نرسنگ کرنے کا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ روبن نے دو ٹوک انداز میں کہا اور گھر کے داخلی دروازے کی طرف بڑھ گیا تھا۔۔۔
ڈیڈی۔۔۔۔ہے ۔۔۔ڈیڈی ۔۔۔۔ ایسے ہوتے ڈیڈی ۔۔۔ آج تک کبھی نا تو مجھے گلے لگایا نہ کبھی پیار سے بات کی کیوں اتنے سخت ہیں کے زندگی میں کبھی انھیں مجھ پر پیار آیا ہی نہیں ۔۔۔ روبن کا دل آج بھی پھٹ رہا تھا ۔۔۔۔
پر روبن ۔۔۔۔ روبن ۔۔۔۔۔ روبن ۔۔۔۔ کرسٹن کی سب آوازیں بے کار تھیں
وہ چیخ چیخ کر اسے آوازیں دے رہی تھی ۔۔۔۔
ارے رہنے دے نہ ۔۔۔ جب وہ خود نہیں کرنا چاہتا تو تم کو کیا مسٸلہ ہے ۔۔۔ ولسم نے گھور کر کرسٹن کی طرف دیکھا اور دانت پیس کر کہا تھا ۔۔۔
***************
کیا ہوا ہے کہاں جا رہی ہیں آپ ۔۔۔.۔۔۔۔۔ بے زاری سے آنکھیں ملتی وہ اٹھی تھی ۔۔۔
عفت اسے سرہانے کھڑی چادر اوڑھ رہی تھیں ان کے تیسری دفعہ جھنجوڑنے پر حسنیٰ بے زار سی شکل بنا کر اٹھی تھی ۔۔۔ اور اب حیرت سے عفت کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔ آج کیوں انھوں نے اسے جلدی اٹھا دیا تھا انھیں پتہ تھا کہ وہ دس بجے سے پہلے نہیں اٹھتی تھی ۔۔۔ انٹر میڈیٹ کے امتحانات سے وہ فارغ ہو چکی تھی اور اب گھر میں سارا دن سونا ناول پڑھنا ڈرامے دیکھنا عفت کو تنگ کرنا بچوں کے ساتھ مل کر دھماکا چوکڑی مچانا یہ سب آجکل اس کے مشغلے تھے عامر کو بہت شوق تھا کہ وہ آگے پڑھے اسے ڈیزانگ میں بہت دلچسپی تھی اس لیے اب وہ فاٸن آرٹس یونیورسٹی میں ایڈمیشن لینے کی خواہش کا اظہار عامر سے کر چکی تھی ۔۔۔ ابھی وہ میرڈ لسٹ
4
کا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔
مہرین کی بڑی بھابھی کی ڈیتھ ہو گٸ ہے ۔۔۔ ۔۔۔ عفت نے اسے اپنے تیار ہونے کا سبب بتایا تھا ۔۔۔
باہر سے مہرین کے اونچا اونچا رونے کی آواز آ رہی تھی ۔۔۔ مہرین حسنیٰ کے چھوٹے بھاٸ حسن کی بیوی تھی۔۔۔ شزا کے دو بچے تھے حبا اور عادل جبکہ مہرین کا ایک ہی دو سال کا بیٹا تھا ابراہیم ۔۔۔
اچھا وہ ساٸرہ کی ۔۔۔۔ اوہ ۔۔۔ افسوس ہوا۔۔۔ پر یہ مہرین بھابھی کیوں اتنے ٹسوے بہا رہی ہیں ویسے تو ان کی براٸ کرتے نہیں تکھتی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ نے ناگواری سے باہر سے مہرین کی آتی آوازوں پر ناک چڑھایا تھا ۔۔۔
چپ کر پاگل کہیں کی سن لیں گی ۔۔۔۔ اس کے بھاٸ کے بچے نہیں کیا تین چھوٹے چھوٹے سب سے چھوٹا تو ابھی سال کا بھی نہ ہوا تھا ۔۔۔ عفت نے افسوس کے انداز میں مہرین کے رونے کی وجہ اس کے بھاٸ کے بچوں کو بنایا تھا ۔۔۔
مہرین کے بڑے بھاٸ احمد کی بیوی اپنے تین چھوٹے چھوٹے بچوں کو چھوڑ کر اس جہان فانی سے کوچ کر گٸ تھی ۔۔
اچھا میں جا رہی ہوں اور شزا بھی ہمارے ساتھ جا رہی ہے ۔۔۔ بچوں کو کھانا بنادینا۔۔۔ عفت نے اسے سمجھانے کے انداز میں کہا تھا ۔۔۔
حسنیٰ سٹپٹا گٸ تھی۔۔۔ کام سے تو جان جاتی تھی اس کی پہلے بختاور اور ماہ رخ ہوتی تھیں وہ اس کو کوٸ کام نہیں کرنے دیتی تھیں اور پھر جب شزا اور مہرین گھر میں آٸیں تو پھر وہ ڈھیٹ بن گٸ تھی کچن کا کام تو اسے بلکل پسند نہیں تھا ۔۔۔اور اب عفت اسے کچن کا کام ہی سونپ کر جا رہی تھیں ۔۔۔۔۔۔
بات سنیں اماں ۔۔۔مجھ سے نہیں کھلایا جاۓ گا ۔۔۔ اور ابراہیم کو ساتھ لے کرجا رہی ہیں نہ بھابھی مجھ سے نہیں سنبھالا جاۓ گا وہ ۔۔۔۔۔ حسنیٰ کے اوسان خطا ہوۓ تھے ۔۔۔
ہاں ہاں ۔۔۔۔۔ اسے لے کر جا رہے ہیں مر نا جانا کہیں ۔۔۔ حبا اور عادل سکول سے آٸیں گے انھیں کھانا دے دینا ہمیں دیر ہو سکتی ہے ۔۔۔۔عفت نے گھور کر اسے دیکھا تھا اور باہر کی طرف قدم بڑھا دیے تھے ۔۔۔
اچھا ابھی تو سونے دیں ۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ نے پیچھے سے ہانک لگاٸ تھی اور پھر چادر تان کر لیٹ چکی تھی ۔۔۔
*********
میں نے ناشتہ بنا دیا ہے ۔۔۔ حسنیٰ۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے دروازے پر ہلکی سی دستک دی تھی ۔۔۔
لیکن یہ کیا دروازہ کھل گیا تھا اس دستک پر ۔۔۔ وہ روز صبح نکلنے سے پہلے اپنا اور حسنی کا ناشتہ بناتا تھا آج بھی بریڈ گرم کر نے کے بعد فراٸ انڈے کے ساتھ ناشتہ کچن کی شلف پر رکھ کر وہ روز کے معمول کے مطابق حسنی کو بتانے آیا تھا کہ ناشتہ بن چکا ہے ۔۔۔پر آج اس کے کمرے کا دروازہ روز کے معمول کے مطابق بند نہیں کھلا تھا۔۔۔۔
حسنیٰ۔۔۔۔ حسنیٰ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ وہ آہستہ سے آوازیں دیتا کمرے میں داخل ہوا تھا ۔۔۔
کمرے میں کوٸ موجود نہیں تھا چھوٹا سا خالی کمرہ جس میں ایک عدد سادہ سا پلنگ اور ایک ریگزین کا صوفہ موجود تھا۔۔۔ اب اس کا منہ چڑا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ رات ہی کسی پہر یا پھر جب وہ صبح فجر کی نماز کے لیے نکلا تھا وہ جا چکی تھی ۔۔۔
اوہ میرے خدا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک دم سے نعمان کے ہاتھوں نے سر کو جکڑا تھا ۔۔۔
”اب ہماری بہن کا ہم سے کوٸ ناطہ نہیں ہے ۔۔۔ اس کو ہمیشہ کے لیے یہاں سے لے جاٶ ۔۔۔“
بازگشت کانوں میں گونج گٸ تھی اور وہ اور پریشان ہو رہا تھا ۔۔۔
”دیکھو ۔۔۔۔۔۔۔ ہماری بہن ہم نے لاڈٶں میں پالی ہے ۔۔۔“
مختلف آوازیں ذہن میں گونج رہی تھیں ۔۔۔ وہ جلدی سے عبداللہ کا نمبر ملا رہا تھا ۔۔۔
” اس کا مطلب ہمارا کوٸ نکاح نہیں ہوا۔۔۔ “۔۔۔۔
”کریسچن سے نکاح نہیں ہوا کرتا۔۔۔۔“
نعمان نے پریشانی میں دوسری دفعہ نمبر ملایا تھا ۔۔۔ اب کی بار عبداللہ نے فون اٹھا لیا تھا ۔۔۔
عبداللہ ۔۔۔ گھر آ سکتے ہو کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے فون اٹھاتے ہی عجلت اور گھبراہٹ بھرے لہجے میں نعمان نے کہا تھا
عبداللہ کے ساتھ مل کر وہ پاس کی ہر جگہ پر حسنیٰ کو پاگلوں کی طرح تلاش کر رہا تھا ۔۔۔ اس بات کا بھی کوٸ ہوش نہیں تھا کہ اس کی جاب کا آج دوسرا دن ہے سر پر سوار تھی تو حسنیٰ۔۔۔ حسنی کو لگتا تھا کہ وہ اب بھی غیر مسلم ہے جبکہ ایسا نہیں تھا وہ نکاح سے پہلے اسلام قبول کر چکا تھا ۔۔۔ منب اس سے کیا کہہ کر گیا تھا کیسی باتیں کی تھیں وہ ان سب سے یکسر انجان تھا ۔۔۔
حسنیٰ کہیں نہیں تھی ۔۔۔۔ بس آخری امید اب اسکا گھر تھا جہاں سے اس کے بھاٸ اسے بے دخل کر چکے تھے ۔۔۔۔
بیچ سڑک نعمان لبوں کو کچلتا پریشان حال کھڑا تھا ۔۔۔۔
**************
آپ بیٹھیں ملک صاحب آتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ ملازم نے دیدہ زیب نفیس صوفوں کی طرف اشارہ کیا تھا۔۔۔۔
یہ ایک بہت ہی بڑی حویلی تھی ۔۔۔ اپنی تعمیر کے انداز سے پرانی لگتی تھی لیکن اس کی آراٸش و زیباٸش اعلیٰ شان تھی ۔۔۔ روبن نے اپنی پوری زندگی میں ایسا خوبصورت اور اتنا بڑا گھر نہیں دیکھا تھا۔۔۔ ہر چیز ایسی تھی جو دیکھنے والے انسان کی آنکھ کو خیرہ کر دے یہ بہت وسیع و عریض ڈراٸنگ روم تھا ۔۔۔ جس میں ہر چیز قیمتی تھی صوفے ۔۔۔ پردے ۔۔۔ سجاوٹی نفیس گلدان ۔۔۔ دیواروں پر لگیں پینٹنگ ۔۔۔ ہر چیز۔۔۔ یہاں کے مکیں کی بے پناہ دولت کا منہ بولتا ثبوت تھیں ۔۔۔۔ وہ ریاض کے ساتھ صوفے پر بیٹھ چکا تھا لیکن نظریں ستاٸشی انداز میں ارد گرد کاجاٸزہ لےرہی تھیں ریاض اس کے بہت ہی پرانے اور رحم دل استاد تھے جن کا وہ پسندیدہ طالب علم تھا ۔۔۔ اور اب ولسم کے رویے سے دل برداشتہ ہو کر وہ ان سے ہی مدد لینے گیا تھا کہ وہ اسے کوٸ کام بتا دیں تاکہ وہ اپنی پڑھاٸ کو جاری رکھ سکے۔۔۔۔
ملک اطہر کمرے میں داخل ہوۓ تھے ۔۔۔ وہ ان سب چیزوں کی طرح ہی نفیس اور دیدہ زیب شخصیت کے مالک شخص تھے… سیاست میں ان کا ایک خاص مقام تھا وہ جدی پشتی رٸیس تھے۔۔۔۔ریاض ان کے اندر داخل ہوتے ہی جھٹکے سے معدب انداز میں اپنی جگہ سے اٹھے تھے
اسلام علیکم ۔۔۔۔۔۔ ریاض نےمسکرا کر تھوڑا سا جھک کرکہا تھا ۔۔۔
وعلیکم سلام ۔۔۔ ہاں بھٸ ریاض کیسے ہو ۔۔۔ اتنا انتظار ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ملک اطہر بڑے انداز میں مسکراتے ہوۓ سامنے لگے صوفے پر بیٹھ چکے تھے ۔۔۔
بس ملک صاحب ۔۔۔ آپ کے بچوں کے لیے کسی اچھے ٹیچر کا انتظام کرنا تھا ۔۔۔ اسی لیے بڑا سوچ سمجھ کر آیا ہوں ۔۔۔ ریاض نے بڑی تہزیب بھرے انداز میں جواز پیش کیا تھا ۔۔
ہاں تو پھر بتاٶ ۔۔۔ یار بچوں کا بہت حرج ہو رہا ہے پہلے سے ۔۔۔۔۔۔ ملک ریاض نے سگار کو سلگایا تھا ۔۔۔
بہت سارے لوازمات سے سجی ٹرالی گھسیٹتا سفید یونیفارم میں ملبوس ایک ادھیڑ عمر شخص داخل ہوا تھا اور ٹرالی ان تک لانے کے بعد اب وہ اس پر موجود لوازمات کو باری باری شیشے کی بنی نفیس میز پر رکھ رہا تھا جو روبن اور ریاض کے سامنے پڑی ہوٸ تھی ۔۔۔
ملک صاحب یہ ۔۔۔ روبن ولسم ہے ۔۔۔ میرا بہت ہی ہونہار طلب علم رہا ہے ۔۔۔ یہ آپکے بچوں کو پڑھاۓ گا۔۔۔ ریاض نے بڑے نرم لہجے میں روبن کو ملک اطہر سے متعارف کروایا تھا ۔۔۔
ہمممم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ملک اطہر ایک دم سے خاموش ہوۓ تھے ۔۔ جب کے نظریں سامنے بیٹھے بیس سالہ روبن پر ٹکی تھیں ۔۔۔
ریاض ۔۔۔ مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے ۔۔۔ میرے ساتھ چلو ۔۔۔۔۔۔۔ اپنے کلف لگے قیمض کو درست کرتے ہوۓ ملک اطہر اٹھے اور تیزی سے ڈراٸنگ روم سے باہر نکلے تھے
ریاض نے ہاتھ سے روبن کو بیٹھے رہنے کا اشارہ کیا تھا اور باہر آ گۓ تھے۔۔۔
اوہ یار یہ کیا کوٸ بچہ سا اٹھا لاۓ ہو ۔۔۔ ہیر بڑی ہے پتا ہے میٹرک میں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ملک اطہر نے ماتھے پر بل ڈال کر کہا تھا۔۔۔
ملک صاحب ۔۔۔۔ بلکل فکر نہیں کریں ۔۔۔ بہت ہی شریف بچہ ہے بہت زیادہ ضرورت مند ہے ۔۔۔ ریاض نے تسلی دلانے والے انداز میں کہا تھا۔۔۔
وہ روبن کو بچپن سے جانتے تھے ۔۔۔ کرسٹن نے ضد سے روبن کو ہمیشہ بہت اچھے سکولوں میں پڑھایا تھا۔۔۔ اور کرسٹن کی یہ محنت رٸیگاں نہیں گٸ تھی روبن بہت ہونہار طالب علم تھا۔۔۔
اوہ نہیں نہ ۔۔۔۔ مجھے یہ نہیں چاہیے ۔۔۔۔۔۔ ملک اطہر نے ماتھے پر شکن ڈالے تھے ۔۔۔
ملک صاحب بے فکر ہو جاٸیں میری گارنٹی ہے ۔۔۔ اور ہیر اکیلی تھوڑی پڑھے گی فواد بیٹا بھی ساتھ ہو گا ۔۔۔ دیکھیں میری مجبوری نہ ہوتی تو میں ہر گز آپکو انکار نہیں کرتا ۔۔۔۔۔۔۔ ریاض نے التجاٸ انداز میں گزارش کی تھی ۔۔۔۔
پڑھا اچھا لے گا نہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ملک اطہر نے تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد اب گہری سانس لیتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔
بے فکر ہو جاٸیں جناب ۔۔۔۔ بس ایک گزارش تھی ۔۔۔ ریاض کے چہرے پر ایک دم مسرت آ گٸ تھی ۔۔۔۔
اس کو موازہ ہر ماہ نہیں اسے اپنے سمسٹر پر لینا ہے ۔۔۔ دراصل بچہ اپنی پڑھاٸ جاری رکھنا چاہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ریاض نے درخواست کی تھی ۔۔۔اور امید بھری نظروں سے ملک اطہر کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
کریسچن ہے ۔۔۔۔ ملک اطہر نے بھنویں اچکاٸ تھیں ۔۔۔۔
جی۔۔۔ جی۔۔۔۔ لیکن بچہ بہت قابل ہے ۔۔۔ اے لیول اور او لیول کلاس کی ساری بکس بھی پڑھتا تھا جبکہ اس کے والد نے اس میں ایڈمیشن دلانے سے انکار کر دیا تھا بچپن سے جانتا ہوں ۔۔۔۔
ٹھیک ہے ۔۔۔ دیکھ ریاض صرف تیرے بھروسے ۔۔۔ بچی کا معاملہ ہے ۔۔۔ ۔۔۔ ملک اطہر نے ایک دفعہ پھر سے تنبہیہ کے انداز میں انگلی کھڑی کی تھی ۔۔۔
بے فکر ۔۔۔۔ جناب۔۔۔۔ بچہ ایسا بلکل نہیں ہے ۔۔۔۔۔ ریاض نے سینے پر ہاتھ رکھ کر جھک کر کہا تھا۔۔۔
چل پھر آجاۓ کل سے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ملک اطہر نے ریاض کے کندھے پر تھپکی دی تھی ۔۔
*******
کوٸ پیسہ نہیں ملے گا سمجھا تو ۔۔۔ چل نکل یہاں سے۔۔۔ مر گٸ ہے وہ ہمارے لیے ۔۔۔۔۔۔ شزا نے دانت پیس کر غرانے کے انداز میں کہا تھا ۔۔۔
٤
نعمان پریشان حال دروازے کے آگے کھڑا تھا جسے شزا نے کھولا تھا اور اسے دیکھتے ہی وہ آگ بگولہ ہو گٸ تھی ۔۔۔ اور پھر اس سے پہلے کے دروازہ بند کرتی نعمان نے دروازے پر ہاتھ رکھاتھا ۔۔۔
ایک منٹ ۔۔۔ ایک منٹ ۔۔۔ مجھے کوٸ پیسہ نہیں چاہیے ۔۔۔۔ آپ غلط سمجھ رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ نعمان کے انداز سے اس کی پریشانی جھلک رہی تھی ۔۔۔
حسنیٰ۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے ابھی حسنیٰ کا نام لے کر بات شروع ہی کی تھی کہ
خبردار ۔۔۔ خبردار اگر اس کو یہاں بھیجنے کا سوچا بھی تو ۔۔۔ اس دن تو بڑا اکڑ اکڑ کر آگے آ رہے تھے ۔۔۔ آج دس دن بعد ہی بس ہو گٸ ۔۔۔ اتر گیا خمار ۔۔۔ ۔۔۔ شزا نے خونخوار نظروں سے گھورا تھا ۔۔۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: