Husna Novel by Huma Waqas – Episode 20

0
حسنیٰ از ہما وقاص – قسط نمبر 20

–**–**–

” ارے بھٸ آ رہی ہوں کیا دروازہ توڑ ڈالو گے“
یاسمین بیگم آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی آ رہی تھیں ۔ دروازہ کب سے بج رہا تھا ۔ سمیرا شاٸد چھت پر تھی جو دروازہ کھولنے نہ گٸ تھی ۔ وہ عصر کی نماز کے بعد تسبیح کر رہی تھیں جب بار بار دستک کی وجہ سے اٹھنا ہی پڑا ۔ وہ اتنی عمر رسیدہ تھیں کہ اپنی ساری کوشش کے باوجود اتنا تیز نہیں چل سکتی تھیں ۔ اس لیے دروازہ بار بار بج رہا تھا ۔
” کون “
دروازے پر بوڑھا جھری دار ہاتھ دھر کر پوچھا ۔ باہر سے کوٸ آواز نہیں آٸ تھی۔ یہ بچے بھی نہ ذہن میں بچوں کا خیال آتے ہی ان کے بوڑھے ہاتھوں نے تیزی سے کنڈی کھولی ۔ آج تو دیکھ کر رہوں کون موہ ہے دل میں سوچتے ہی کواڑ کا پٹ کھولا یہ بہت ہی تنگ سے محلے کا چھوٹا سا گھر تھا جس کی پرانی عمارت اس کے اوپر ٹوٹے غموں کے پہاڑ کی گواہ تھی ۔ جس گھر کا سربراہ اور اس کی کفالت کرنے والا اکلوتا سپوت ایک ہی سال میں چل بسیں ان مکانوں کی حالت ایسی ہی ہوتی ہے جیسی اس کی تھی فاٸق رضا سے اپنے والد کے گھر کا پتہ لے کر وہ حیدر آباد آیا تھا ۔ اور اب دروازہ کھولنے والی یاسمین بیگم اس کی دادی تھیں ۔ بوڑھی آنکھیں سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر جیسے پھیل گٸیں ۔ زبان گنگ ہوٸ تو لب کپکپا اٹھے ۔ حیرت سے پھٹی آنکھیں جھری زدہ چہرہ سلیقے سے لیا دوپٹہ چہرے پر نور ۔ ہاں وہ ان کا خون تھا ۔
” ح۔۔حہ۔۔۔۔حسن “
یاسمین کےحلق سے گھٹی سی سرگوشی نکلی ۔ یاسمین بیگم نے ساکن سی حالت میں آگے بڑھ کر نعمان کو کندھوں سے تھام لیا ۔
وہ تھا ۔۔۔۔۔ ہاں اس دفعہ خواب نہیں تھا ۔ ان کے ہاتھ لرز گۓ
ہاتھ اس کے کندھوں سے نیچے بازو کا سفر طے کر رہے تھے۔ بوڑھے ہاتھ اب اس کے ہاتھوں کو حیرانی سے پکڑ کر دیکھ رہے تھے ۔ پھر تیزی سے اس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں لے لیا ۔ بوڑھی آنکھوں میں حیرت کا سمندر تھا تو سامنے کھڑے نعمان کے گال آنسوٶں سے بھیگے ہوۓ تھے
بوڑھے ہاتھ اب آنکھوں کو چھو رہے تھے ۔ نعمان نے آنکھیں بند کر لیں ان کا لمس کتنا شفقت بھرا تھا آج پہلی دفعہ اس کا کوٸ بہت اپنا اسے چھو رہا تھا ۔ ہاں دادی اگر سب کچھ ٹھیک ہوتا تو شاٸد ان ہاتھوں نے مجھے بچپن میں بھی ایسے ہی چھوا ہوتا ۔۔۔ وہ سوچ رہا تھا دل پھٹ رہا تھا وہ رو رہا تھا
بوڑھے ہاتھ اب گال چھو رہے تھے ۔۔۔ اس کے بھیگے گال بوڑھے کپکپاتے ہوتھوں کو بھگو گۓ تھے ۔ ۔ پھر ہاتھ ہونٹوں پر آۓ تھے نعمان نے ہونکا بھرا اور لب بچوں کی طرح روتے ہوۓ باہر آۓ ہاتھ اب گردن کو چھو رہے تھے ۔ پھر چوڑا سینہ ۔ یاسمین بیگم نے میکانکی انداز میں کھینچ کر نعمان کو اپنے ساتھ لگایا ۔
” حسن میرا حسن ۔۔۔ آ گیا ۔۔۔ حسن ۔۔“
وہ رو رہی تھیں بوڑھے ہاتھ نعمان کی پشت کو سہلا رہے تھے ۔ ان کا جسم کپکپا رہا تھا ۔ نعمان بھی پھوٹ پھوٹ کر رو دیا تھا ان کی طرح ہی ۔ ایک لمحہ یوں ہی گزرا تھا ۔ نعمان نے اپنے آنسو صاف کیے گہری سانس لی
” حسن نہیں ان کا بیٹا ہوں میں دادی آپکا پوتا “
نعمان نے ان کے کان میں ٹھہر ٹھہر کر لفظ ادا کرتے ہوۓ سر گوشی کی ۔ وہ پہلے ساکن ہوٸیں پھر دھیرے سے نعمان سے الگ ہو کر حواسوں میں واپس آٸ تھیں ۔ نعمان کو حیران ہو کر دیکھا ۔
” اللہ!!!!!! اللہ!!!!!! “
بلکتے ہوۓ سینے پر ہاتھ مارے ۔ جسم ایک طرف کو ڈھلک سا جا رہا تھا ۔ نعمان ان کو تھامنے کے لیے تیزی سے آگے بڑھا ان کا یوں شاکڈ ہونا بنتا بھی تھا ۔
” دادی ۔۔۔ سنبھالیں خود کو “
نعمان نے کندھوں سے پکڑ کر سنبھالہ ۔ دروازے کی اوڑھ کسی کے قدموں کی چاپ بڑھ رہی تھی ۔
” امی کون تھا ۔۔۔۔“
سمیرا بازو پر دھلے کپڑے ڈالے سامنے کھڑی تھی ۔ چالیس سال کے لگ بھگ خاتون تھیں یہ اس کی سب سے چھوٹی پھپھو تھیں نعمان نے آنکھیں اٹھا کر سامنے دیکھا اور وہ تو جیسے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر مجسمہ بن گٸ تھیں ۔
” حسن۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
ایک دم سے بازو ڈھلک کر سیدھے ہوۓ اور دھلے کپڑے زمین بوس ۔
*************
” مجھے پہلے ہی معلوم تھا میرا بیٹا تو گاڈ کا گفٹ ہے اینجل ہے “
کرسٹن نے روہانسی آواز میں کہا۔دوپٹے کے پلو سے آنسو صاف کۓ ۔فاٸق کے گھر میں چھوٹے سے لاونج میں لگی لکڑی کی کرسیوں پر ان کے سامنے حسنیٰ اور کرسٹن بیٹھی تھیں ۔ حسنیٰ کے گال بھیگے ہوۓ تھے ناک رو کر سرخ ہو رہا تھا نعمان کا دکھ سن کر دل پھٹنے کو تھا اس کی تکلیف اپنے اندر محسوس ہو رہی تھی ۔ فاٸق نے ان کو سب کچھ بتا دیا تھا۔ کہ نعمان کس کا بیٹا تھا اور اسے اس بات کی خبر تک نہیں تھی ساری زندگی وہ خود کو لاوارث سمجھتا رہا۔ ۔
” لیکن وہ کیسی ظالم ماں تھی جس نے اپنا بیٹا جاٸز ہونے پر بھی کوڑے کے۔۔۔“
کرسٹن نے بات ادھوری چھوڑ کر دوپٹہ لبوں پر رکھا ۔ فاٸق نے چونک کر کرسٹن کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ اور پھر کرسٹن نے انھیں بتایا کہ وہ کس طرح اسے ہاسپٹل کی ڈسٹبن میں ملا تھا۔
” یہ امیر کبیر لوگ ایسے ہی سفاک ہوتے ہیں ۔ یہ ہم جیسے لوگوں کو کیڑے مکوڑے جو سمجھتے ہیں “
فاٸق نے دانت پیس کر کہا ۔ اس کی زندگی بھی انھی کی نظر ہوٸ تھی ۔ وہ کیسے بھول سکتا تھا ۔ وہ سر جھکا گۓ تھے
” بابا۔۔۔۔ نعمان سے پھر بات کریں نہ وہ خیریت سے ہیں “
حسنیٰ نے آنسو ہاتھ کی پشت سے صاف کیے تھے ۔ اور معصومیت سے کہا۔ ناک رو رو کر سرخ ہو رہا تھا ۔ لمبی پلکیں بھیگی ہوٸ تھیں ۔
” بیٹا وہ اپنے خون کے رشتوں سے ملنے گیا ہے خیریت سے کیوں نہیں ہو گا“
فاٸق نے محبت سے دیکھ کر کہا ۔ اور پھر اٹھ کر حسنیٰ کے سر پر ہاتھ رکھ دیا ۔ حسنیٰ نے جلتی آنکھیں دھیرے سے بند کیں ان کو کیسے بتاتی کہ وہ اس شخص کے بنا اب ایک پل بھی نہیں رہ سکتی اور اب تو دوسرا دن تھا۔
” اچھا ۔۔۔ میں نماز کے لیے جا رہا ہوں آپ دونوں کو کسی چیز کی ضرورت ہے تو بتا دیں “
فاٸق نے کرسٹن کی طرف دیکھ کر کہا۔ وہ کرسٹن اور حسنیٰ کو کوٸ بھی کمی اور تکلیف نہیں دینا چاہتے تھے نعمان اتنے مان سے ان دونوں کو فاٸق کے حوالے کر کے گیا تھا۔
” نہیں ۔۔۔نہیں بہت شکریہ “
کرسٹن نے مہدب انداز میں کہا۔ اور گردن اٹھا کر مسکرا کر فاٸق کی طرف دیکھا فاٸق سر پر نماز کی ٹوپی سجاتے داخلی دروازے کی طرف بڑھ گۓ ۔
اور کرسٹن نے اٹھ کر حسنیٰ کو گلے لگا لیا تھا ۔ جو کچھ دیر گلے لگے رہنے کے بعد لاڈ سے کرسٹن کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گٸ تھی ۔ یک ٹک چھت کو گھورتے وہ نعمان کو یاد کر رہی تھی ۔ پاس پڑے موباٸل کو اٹھا کر پھر سے دیکھا ۔ کوٸ مسیج نہیں تھا۔
*********
” ہاں یہ سہی کہہ رہی ہے وہ بچہ زندہ تھا “
صابرہ نے ٹھنڈی سانس بھر کر ملک اطہر کی طرف دیکھا ۔ اور شہروزی کی بات کی تاٸید کی ۔ ملک اطہر ایک لمحے کو چپ ہو گیا تھا ۔ وہ جو شہروزی پر چیخ رہا تھا صابرہ کی بات پر جامد سا ہوا کیونکہ شہروزی پریس کانفرنس بلوا کر میڈیا کے سامنے اپنی اور حسن کی ساری کہانی ڈسکلوز کر کے نعمان کو اپنانا چاہتی تھی ۔
” تمھارے باپ نےاسے زندہ کو ہی۔۔۔۔ “
صابرہ نے آنکھوں میں آنسو بھر کر بات کو ادھورا چھوڑا ۔ وہ وہیل چیر پر بیٹھی تھیں ۔ شہروزی صوفے پر اور ملک اطہر کمر پر ہاتھ دھرے کھڑا تھا ۔۔ حویلی کے وسیع عریض کمرے میں اس وقت یہی تین نفوس موجود تھے ۔ شہروزی کا رو رو کر برا حال تھا۔
” چلیں وہ بات سہی ہے امی جان پر یہ اب جو کہہ رہی ہے اس میں بہت بدنامی ہے“
ملک اطہر کمر پر ہاتھ دھرے کمرے میں بے چینی سے چکر کاٹ رہا تھا۔ اور ہاتھ کا اشارہ شہروزی کی طرف ناگواری سے کرتے ہوۓ کہا ۔
” کوٸ بدنامی نہیں ہے میں اپنا نکاح نامہ شو کرواٶں گی اپنی تصاویر نکاح کی جو آج بھی موجود ہیں اور فاٸق رضا ہو گا وہاں حسن کا دوست “
شہروزی نے سپاٹ لہجے میں کہا اور ملک اطہر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں ۔ وہ فیصلہ کر چکی تھی اور اس کے چہرے کی سختی بتا رہی تھی وہ پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں ہے ۔
” کوٸ گناہ نہیں تھا وہ “
مدھم سی آواز میں کہہ کر وہ پھر سے رونے لگی تھی ۔ سر نیچے جھکا کر ہاتھوں پر نظریں گاڑیں ۔
” تو اس سے جو بابا کے نام پر حرف آۓ گا وہ “
ملک اطہر نے دانت پیس کر کہا ۔ چہرہ غصے سے لال ہو رہا تھا وہ کوٸ عام شخصیت نہیں تھا اور آج تک بہت سے لوگ اسے صرف ملک انور کے حوالے سے ہی جانتے تھے ۔ ملک انور کی بدنامی اس کی بدنامی تھی ۔
” کوٸ حرف نہیں آۓ گا ۔ لیکن شاٸد یہ ضرور ہو گا کہ ان کی مغفرت ہی ہو جاۓ گی “
شہروزی نے سخت لہجے میں کہا ۔ آج مرے ہوۓ باپ کے لیے چہرے پر کوٸ نرمی نہیں تھی ۔
” وہ اپنے گناہوں کی سزا بھگت کر تو گۓ ہیں دس سال“
ملک اطہر نے سر ہوا میں مارتے ہوۓ کہا ۔ مالک انور دس سال فالج کی وجہ سے چلنے پھرنے سے معزور رہے بستر پر پڑے پڑے ان کا بدن گلنے لگتا تھا وہ اٹھ بھی نہیں پاتے تھے نہ بول سکتے تھے بس روتے رہتے تھے ۔ لیکن موت تھی کہ وہ بھی نہ آتی تھی اسی طرح سسک سسک کر وہ دس سال بعد اس جہان فانی سے کوچ کر گۓ تھے ۔
” اطہر بھاٸ میں یہ سب کروں گی اس سے مجھے اب کوٸ نہیں روک سکتا“
شہروزی نے دانت پیس کر کہا اور اٹھ کر کھڑی ہوٸ ۔
” ٹھیک ہے کرو ۔۔۔ میں اس سب میں تمھارا ساتھ نہیں دوں گا ۔ مجھ سے میری ماں سے رشتہ ختم کرنا ہو گا تمہیں “
ملک اطہر نے دھاڑ کر دو ٹوک بات کی تھی ۔ شہروزی نے گھور کر اطہر کو اور پھر صابرہ کی طرف دیکھا جو سر جھکا گٸ تھیں ۔ شہروزی نے افسوس سے ماں کی طرف دیکھا جو پہلے شوہر اور اب بیٹے کی غلام تھیں ۔
” مجھے منظور ہے ۔۔۔“
شہروزی نے ناک پھلا کر کہا اور پاس پڑا پرس اپنے کندھے پر لٹکایا ۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتی نۓ عزم سے کمرے کے دروازے کی طرف بڑھی
” سنو ۔۔۔ یہ سب کرنے کے بعد بھی وہ لڑکا تمھارے پاس نہیں آۓ گا میں جانتا ہوں اسے بہت خود دار لڑکا ہے “
ملک اطہر کی طنز بھری آواز اس کے عقب سے آٸ تھی جس پر ایک لمحے کے لیے شہروزی کے قدم رکے تھے ۔
” وہ میری قسمت ۔۔۔۔“
گہری سانس لے کر اس نے کہا اور پھر باہر نکل گٸ ۔جبکہ صابرہ پرسوچ انداز میں بیٹھی تھی اور ملک اطہر جلے پیر کی بلی کی طرح کمرے میں گھوم رہا تھا ۔
” نہیں چاند میں تمھارے ساتھ نہیں جا سکتی “
یاسمین بیگم نے محبت سے نعمان کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا تھا ۔ وہ ان کے پلنگ پر ان کے بلکل سامنے بیٹھا تھا ۔ حسن کے ہی کرتا شلوار میں ملبوس تھا ۔ یاسمین نے آج تک حسن کی ہر چیز سنبھال کر رکھی ہوٸ تھی ۔ سفید کرتا شلوار میں وہ نکھرا نکھرا سا یاسمین کو ہوبہو حسن لگ رہا تھا ۔جسے وہ محبت سے دیکھ رہی تھیں ۔
چھوٹے سے گھر میں بے انتہا گہما گہمی تھی اس کی تین عدد پھپھو اپنے بچوں سمیت گھر میں تھیں اسے حیدر آباد آۓ آج چار دن ہو گۓ تھے اتنی محبت مل رہی تھی کہ اس کے پاٶں زمین پر نہیں ٹک رہے تھے ۔ آخر کو برسوں بعد اس گھر کو ایسی خوشی ملی تھی ۔
اس کی تینوں پھپھیاں کچن میں گھسی اس کے لیے پکوان تیار کر رہی تھیں ۔ وہ اپنے اچانک مل جانے والے ڈھیر سارے کزنوں کے ساتھ کافی دیر سے بیٹھا گپ شپ لگا رہا تھا اور اب اٹھ کر یاسمین کی کمرے میں آیا تھا یاسمین تو چار دن سے بار بار شکرانے کے نوافل ہی ادا کر رہی تھیں ۔
نعمان بضد تھا کہ یاسمین ان کے ساتھ لاہور چلے ۔ یہاں حسن کی چھوٹی بہن سمیرا اپنے میاں کے ساتھ یاسمین کے پاس رہتی تھیں ۔ لیکن یاسمین ایسے اپنا گھر چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھیں وہ بچوں کو قرآن پاک پڑھاتی تھیں ۔ سمیرا کسی چھوٹے سے نجی سکول میں استاد تھی اور اسکا شوہر کسی نجی کمپنی میں معمولی سی ملازمت کرتا تھا اس طرح تینوں مل کر گھر کا خرچ اٹھاتے تھے۔ سمیرا کے اپنے دو بچے تھے ایک بیٹا اور ایک بیٹی ۔
” یہاں خوش ہوں بس تم آ جایا کرنا اور اگلی دفعہ جب آٶ تو حسنیٰ کو ساتھ لے کر آ نا “
یاسمین نے مسکراتے ہوۓ نعمان کے ماتھے پر بوسہ لیا تھا ۔ بوڑھی آنکھیں پھر سے محبت میں نم ہوٸ تھیں ۔
” دادو بس ۔۔۔۔ اب نہیں “
نعمان نے محبت سے یاسمین کے آنسو اپنی مضبوط ہتھیلی میں جزب کیے تھے اور ان کو اپنے ساتھ لگایا ۔ ایک عجیب سی محبت تھی جو اسے یہاں سب سے مل رہی تھی ایک پل کو بھی یہ نہیں لگا کہ وہ ان سب سے برسوں بعد پہلی دفعہ ملا ہے ۔
” نعمان چلو کھانا لگ گیا “
ثمرین نے دروازے پر آ کر محبت سے کہا ۔ وہ مسکراتا ہوا یاسمین سے الگ ہوا تھا ۔ اور پھر یاسمین کو اپنے بازوٶں کے حصار میں باہر لے آیا تھا جہاں نیچے بڑا سا دسترخوان سجا کر سارا خاندان جمع تھا ۔
” یہ صبا نے بنایا ہے “
ثمرین نے پلاٶ آگے کیا ۔ پورے کا پورا خاندان دستر خوان پر موجود تھا ۔ تین عدد پھپھو صبا ، ثمرین ، اور سمیرا پھر ان کے بچے سمیرا کے دو بچے علی اور سنبل جو ابھی سکول میں ہی پڑھ رہے تھے ان کی شادی بہت دیر سے ہوٸ تھی کیونکہ وہ ایسے شخص سے شادی کرنا چاہتی تھیں جو ان کے ساتھ ان کی ماں کے گھر میں رہے اور پھر احمد کی شکل میں انھیں ایسا نیک دل شوہر مل ہی گیا تھا ۔ صبا منجھلی تھیں ان کے تین بچے تھے دو بیٹیاں عاٸشہ اور عدیلہ اور ایک بیٹا دانش عاٸشہ بڑی تھی اس لیے اس کی شادی ہو چکی تھی ۔ سب سے بڑی ثمرین تھیں ۔ ان کے دو بیٹے تھے حمزہ اور اسد جس میں سے حمزہ شادی شدہ تھا۔
وہ روتا تھا کہ اس کا ایک بھی خون کا رشتہ نہیں اور خدا نے جھولی بھر کر اسے رشتے دے دیے تھے اور سب لوگ اس پر ایسے محبتیں نچھاور کر رہے تھے کہ وہ سرشار ہو گیا تھا ۔ پھپھیاں تو برسوں سے بچھڑے بھاٸ کی آخری نشانی پر آتے جاتے صدقے واری جا رہی تھیں ۔
” یہ سمیرا نے بنایا “
ثمرین نے قورمے کی طرف اشارہ کیا ۔ نعمان نے مسکراتے ہوۓ سمیرا کی طرف دیکھا تھا۔
” اور یہ میں نے “
کسٹرڈ محبت سے آگے رکھتے ہوۓ ثمرین نے جھک کر نعمان کے سر پر بوسہ لیا تھا۔
” پھپھو آپ سب نے کیا اب پورے چھبیس سال کا کھلا دینا مجھے آج “
نعمان نے ہلکا سا قہقہ لگایا تھا ۔ سب لوگ کھلکھلا کر ہنس دیے تھے۔
” تمہیں کیا پتا ہم کتنے خوش ہیں “
صبا نے محبت سے کہا ۔ اور نعمان کے گال کو کھینچا تھا ۔
” میں خوش نہیں ۔۔۔“
عدیلہ نے خفگی اور شرارت سے کہا ۔ وہ ایسی ہی تھی چلبلی سی۔ سب لوگوں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا ۔
” ہیں کیوں ؟“
اسد نے حیران ہو کر کہا۔ باقی سب بھی سوالیہ انداز میں اب عدیلہ کی طرف دیکھ رہے تھے۔ جو مصنوعی خفگی چہرے پر سجاۓ شرارتی سے موڈ میں بیٹھی ہوٸ تھی ۔
” شادی جو کی ہوٸ جناب نے کیا پہلے نہیں مل سکتے تھے “
عدیلہ نے منہ پھولہ کر کہا ۔ سب لوگوں نے با آواز بلند قہقہ لگایا تھا۔
” چپ کر بے شرم کہیں کی “
صبا نے زور سے عدیلہ کے کندھے ہر چپت لگاٸ تھی ۔ جو اب شرارت سے ہنستی ہوٸ بازو سہلا رہی تھی ۔
” نعمان بھاٸ اگلی دفعہ ہماری بھابھی ساتھ ہونی چاہیے “
عاٸشہ نے اپنے بیٹے کے منہ میں نوالہ ڈال کر کہا۔ نعمان گہری مسکراہٹ چہرے پر سجا کر مسکرا دیا
**********
” تمام گواہوں اور ثبوتوں کو مدنظر رکھتے ہوۓ یہ عدالت حازق وہاب کو عمر قید کی سزا سناتی ہے “
جج نے عینک کی اوٹ سے میز پر پڑے کاغز پر نظریں جماٸیں اور دھیرے سے قلم کو چلایا ۔ کٹہرے میں کھڑے حازق کا چہرہ فق ہوا تھا تو سامنے بیٹھے زاہد جبار کے چہرے پر نم آنکھوں سے مسکراہٹ در آٸ تھی۔
” یہ سب جھوٹ ہے جج صاحب میری بات کا یقین کریں “
حازق وہاب چیخ رہا تھا آج پورے پندرہ دن کے بعد اس کا وکیل کیس ہار چکا تھا۔ جج اپنی کرسی سے اٹھ کر ایسے اس کے پاس سے گزر گیا تھا جیسے وہ پاگل ہو ۔ سارے کا سارا معاملا اس کے خلاف گیا تھا حتی کہ وہاب حیدر کی موت کا الزام بھی اسی پر لگ گیا تھا۔
(حازق پلیز۔۔۔۔ حازق تم تو مجھ سے محبت کرتے ہو تم میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہو مجھے یہاں نہیں رہنا مجھے گھر لے چلو ۔۔۔ حسنیٰ ہاتھ جوڑے حازق سے بھیک مانگ رہی تھی ۔ )
” چلیں ۔۔۔ “
پولیس کی وردی پہنے ایک آدمی نے سختی سے ہتھکیڑیوں میں جکڑے حازق کے ہاتھ پکڑے تھے ۔ وہ دہاٸ دے رہا تھا اور کوٸ نہیں سن رہا تھا۔
” مبارک ہو آپکو کیس جیت لیا آپ نے “
آدمی زاہد جبار سے بغل گیر ہو رہے تھے ۔ وہ سر شار سا کھڑا مختلف لوگوں سے گلے مل رہا تھا ۔ اور حازق وہاب کو پولیس گھسیٹتے ہوۓ باہر لے کر جا رہی تھی ۔
**********
” مل جاۓ گی جاب بھی آپ بس پریشان نہیں ہوں گے “
حسنی نے دھیرے سے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوۓ کہا ۔ وہ بیڈ سے ٹیک لگاۓ ایک گھٹنا باہر کی طرف نکالے بیٹھی تھی اور نعمان اسی گھٹنے پر سر رکھے لیٹا تھا ۔ وہ اسے حیدرآباد کے سب لوگوں کے بارے میں بتا رہا تھا ۔ بچوں کی طرح کبھی اداس سا ہو جاتااور کبھی مسکرانے لگتا ۔ اور بتاتے بتاتے باتوں کا رخ ملازمت کی طرف ہو گیا تھا۔ نعمان بہت جگہ اپلاٸ کر چکہ تھا لیکن ابھی تک کہیں سے جواب نہیں آیا تھا ۔ ابھی وہ لوگ فاٸق کے گھر میں ہی تھے ۔ نعمان کے بہت اسرار کے باوجود فاٸق ان لوگوں کو کہیں بھی جانے نہیں دے رہا تھا ۔
” ہمممم۔۔۔۔“
نعمان نے سنجیدہ سے لہجے میں کہا ۔ اور حسنیٰ کے ہاتھ کو پکڑ کر اپنے ہاتھ میں لیا ۔ اس کی روح بے سکونی کا شکار تھی وہ اندر سے ٹوٹا ہوا تھا ۔ روز اپنی کرچیاں چنتا تھا اور روز بکھر جاتی تھیں ۔حسنیٰ ان حالات میں اس کا بھرپور ساتھ دے رہی تھی یہی وہ لمحہ تھا جس میں اسے نعمان سے سچی محبت ثابت کرنی تھی
نعمان حسن کے تمام کپڑے اپنے ساتھ لے آیا تھا ۔اور ابھی ان میں سے ہی ایک ہلکے نیلے رنگ کے کرتا شلوار کو زیب تن کیے ہوۓ تھا ۔
” نعمان آپ نے حازق اور جبار کو سزا دینے کا جو راستہ چنا وہ خطرناک نہیں۔۔۔۔۔میرا مطلب قانون۔۔۔۔“
حسنی نے جھجکتے ہوۓ بات کو ادھورا چھوڑا تھا۔ ہاتھ بھی جو نرمی سے نعمان کے بالوں میں پھیر رہی تھی تھم گیا تھا ۔
یہ وہ بات تھی جسے وہ بہت دن سے نعمان سے کرنا چاہتی تھی ۔
حازق کو جیل ہو جانے کے بعد حسنیٰ نے نعمان کے موباٸل پر آۓ داور کے چند پیغامات پڑھ لیے تھے اور پھر نعمان کو پوچھنے پر آخر کار اسے اثبات میں سر ہلانا ہی پڑا تھا۔۔ نعمان جو سکون سے آنکھیں موندے لیٹا ہوا تھا ۔ آنکھیں کھول کر حسنیٰ کی طرف دیکھا پر سکون چہرے پر ناگوار ی در آٸ تھی
” مجھے سکون نہیں مل رہا تھا ۔ جس سے میں محبت کرتا ہوں اس کی عزت کے لٹیرے میرے سامنے دندانتے پھیریں “
نعمان نے اپنے مخصوص انداز میں حسنیٰ کی گداز سی مخروطی انگلیوں میں اپنی مضبوط انگلیاں الجھا کر لب بھینچ کر کہا ۔ نظریں حسنیٰ کے ہاتھوں پر جمی تھیں ۔
” اور رہی قانون کی بات میں تمہیں کیوں عدالتوں میں رسوا ہونے دیتا اور بعد میں ہونا کچھ نہیں تھا یہ لوگ اتنے طاقتور تھے کہ ان کی جڑیں ہلانے کا یہی طریقہ تھا “
نعمان نے گہری سانس لی ۔ آنکھیں اوپر چڑھا کر حسنیٰ کی طرف دیکھا جو مضطرب سی بیٹھی تھی ۔ جانتا تھا وہ اسے کھونے سے ڈرنے لگی ہے ۔
” اور جہاں ہر روز بہت سے بے گناہ معصوم لوگ مارے جاتے ہیں وہاں ان جیسے تین سفاک لوگ اپنے انجام کو پہنچیں تو کیا برا ہے “
نعمان نے لفظ چبا چبا کر ادا کیے تھے ۔ اس کا چہرہ ایسے تھا جیسے بہت کچھ برداشت کر رہا ہو۔
” آٸ لو یو لیکن مجھے ڈر لگتا ہے “
حسنیٰ نے گھبراٸ سی آواز میں کہا ۔ اور محبت سے نعمان کے بالوں میں پھر سے انگلیاں چلاٸیں ۔
” کس بات کا ڈر میں نے پیچھے کوٸ کلو ہی نہیں چھوڑا اور تمہیں اب کوٸ ڈر نہیں ہونا چاہیے باہر جانے میں لوگوں کو فیس کرنے میں “
نعمان نے چہرے کی سختی کو چھپایا اور محبت سے کہا۔ اس کے ہاتھ پر اپنا دوسرا ہاتھ بھی رکھ کر اپنے ساتھ کے تحافظ کا احساس دلایا ۔
” چلو تھک گٸ ہو گی کب سے بیٹھی ہو ایک ہی پوزیشن میں “
وہ جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھا تھا ۔ کرتے کو جھٹک کر سیدھا کیا ۔ اور حسنیٰ کے گال کو محبت سے تھپتپایا ۔ حسنیٰ جانتی تھی اس کی زندگی کا یہ سب سے مشکل مرحلہ ہے ۔ جو بھی تھا شہروزی ماں ہے ۔ دھتکار کر تو وہ آ گیا تھا لیکن چین ایک پل کا نہیں تھا اسے حیدر آباد سے آۓ اتنے دن ہو چکے تھے وہ ساری ساری رات نہیں سوتا تھا ۔ سگریٹ پیتا رہتا تھا ۔چپ چپ سا کھویا کھویا سا ۔ حسنیٰ کے پاس جانے پر بھی زبردستی کی مسکراہٹ چہرے پر سجا لیتا تھا۔ ملازمت کی اور گھر کی الگ سے پریشان تھی ۔
” مام کہاں ہیں نظر نہیں آ رہی ہیں “
کھڑے ہو کمر پر ہاتھ رکھ کر پوچھا ۔ اور نظر ارد گرد دوڑاٸ ۔
” وہ فاٸق انکل سے قرآن سنتی ہیں اس وقت وہ تلاوت کرتے ہیں اور مما پاس بیٹھی رہتی ہیں “
حسنیٰ نے مسکراتے ہوۓ کہا ۔ نعمان کی آنکھوں میں خوشگوار سی حیرت در آٸ تھی ۔ لب اتنے دن کے بعد دھیرے سے مسکرا دیے تھے۔
” اچھا دیکھوں تو ذرا “
لبوں پر نرم سی مسکراہٹ سجاۓ وہ باہر آیا تھا ۔ چھوٹے سے لاونج میں لگی کرسیوں میں ایک کرسی پر فاٸق رضا قرآن کی تلاوت کر رہے تھے تو کرسٹن دوسری کرسی پر بیٹھی سن رہی تھیں ۔ آنکھیں بند تھیں اور گال آنسوٶں سے بھیگے ہوۓ تھے ۔ ہاتھ گود میں دھرے سر پر دوپٹہ اوڑھے وہ کھوٸ ہوٸ تھیں ۔
” مام ۔۔۔۔۔۔ “
۔نعمان ان کے گھٹنوں میں بیٹھا ۔ اور دھیرے سے ان کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لیا ۔کرسٹن نے آنکھیں کھولیں۔ نعمان کے ہاتھوں پر گرفت مضبوط کی ۔ وہ کانپ رہی تھیں ہاتھ ٹھنڈے تھے۔
” نعمان مجھے اسلام قبول کرنے کا “
کرسٹن نے روہانسی آواز میں کہا ۔ اور پھر پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھیں ۔
*********
” تم یہ غلط کر رہے ہو اطہر “
شہروزی نے چیخ کر کہا۔ وہ بیڈ پر ڈھیر پڑی تھی اور سامنے کمر پر ہاتھ دھرے اطہر غصے میں لال کھڑا تھا ۔ اطہر نے ابھی ابھی اسے لا کر بیڈ پر پٹخا تھا ۔ اطہر نے زبردستی شہروزی کو پریس کانفرنس سے پہلے ہی واصف ولاز سے اٹھوا لیا تھا ۔ اور اب اسے فارم ہاوٸس میں لا کر قید کرنا چاہتا تھا۔
” کچھ بھی غلط نہیں ہے تمھارا تو دماغ خراب ہے “
اطہر نے چیختے ہوۓ برابر جواب دیا تھا ۔ اس کا چہرہ سرخ تھا ۔جس پر اپنی اس ماں جاٸ کے لیے کوٸ محبت نہیں موجود تھی ۔
” الیکشن قریب ہیں تم میری ساری محنت پر پانی پھیر دو گی “
اطہر نے دھاڑتے ہوۓ کہا ۔ وہ یہ کیسے برداشت کر سکتا تھا ۔کہ الیکشن سے پہلے ملک انور اور اس پر کوٸ بھی اس طرح کی بات آۓ کہ انھوں نے ایک معصوم غریب لڑکے کے ساتھ کیا کیا تھا ۔
” اطہر ۔۔۔۔اطہر ۔۔۔ پلیز ایسا مت کرو میرا بیٹا مجھے چاہیے “
شہروزی نے ہاتھ جوڑے تھے ۔آج سے بہت سال پہلے ایسے ہی ہاتھ اس نے اپنے باپ کے سامنے بھی جوڑے تھے۔ تب یہ ہاتھ وہ اپنے شوہر کی زندگی کی بھیک کے لیے جوڑ رہی تھی اور آج اپنے بیٹے کے لیے ۔
” کچھ دن یہاں رہو گی میرے پاس عقل ٹکانے آ جاۓ گی تمھاری “
اطہر نے دانت پیس کر کہا۔ اور تیز تیز قدم باہر کی طرف بڑھا دیے ۔ شہروزی اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کے پیچھے بھاگی لیکن جب تک وہ دروازے پر پہنچی اطہر باہر سے دروازے کو لاک کر کے جا چکا تھا ۔
” اطہر ۔۔۔۔ اطہر ۔۔۔۔ دروازہ کھولو “
وہ رو رہی تھی اور دروازہ پیٹ رہی تھی ۔ پر کوٸ بھی نہیں سن رہا تھا ۔
***********
” آپ کون “
حسنیٰ نے حیرت سے دیکھ کر پوچھا تھا ۔ ویل چیر پر ایک ادھیڑ عمر عورت بیٹھی تھی اور ویل چیر پکڑے ایک اکیس سال کی لڑکی پینٹ شرٹ میں ملبوس کھڑی تھی۔ حسنیٰ نے آج سے پہلے کبھی ان دونوں کو نہیں دیکھا تھا ۔
” نعمان ہے گھر “
ہیر نے گلا صاف کرتے ہوۓ دھیمے سے لہجے میں کہا۔ نظریں سامنے کھڑی حسنیٰ کو رشک سے دیکھ رہی تھیں ۔ نعمان کی محبت اور پسند کو دل اک پل میں داد دے گیا تھا ۔ سامنے سادہ سے حلیے میں کھڑی لڑکی بلا کی حسین تھی ۔ موٹی آنکھیں معصوم خوبصورت چہرہ اسے اپنا آپ ایک دم سے پھیکا لگا ۔
” جی ہیں آپ ۔۔۔۔“
حسنیٰ نے اثبات میں سر ہلایا اور انگلی کا اشارہ کرتے ہوۓ اپنی حیرت کو ظاہر کیا ۔
” ہمیں ملنا ہے نعمان سے “
ہیر نے سنجیدگی سے کہا ۔ اور ویل چیر کے ہینڈل پر اپنی گرفت گھوماٸ۔ جب کے ویل چیر پر موجود عورت اداس چہرے کے ساتھ خاموش ہی بیٹھی تھی ۔بس ان کے گود میں دھرے ہاتھ دھیرے دھیرے کانپ رہے تھے ۔
” آٸیں اندر آٸیں ۔۔“
حسنیٰ نے پریشان سے انداز میں دروازے کے ایک طرف ہوتے ہوۓ ان کو اندر آنے کے لیے جگہ دی تھی ۔ ہیر کے لیے آفس کے ریکارڈ میں سے فاٸق رضا کا پتہ تلاش کرنا مشکل نہیں تھا ۔ وہ ارد گرد دیکھتے ہوۓ ویل چیر کو چلاتی ہوٸ گھر میں داخل ہوٸ ۔ نعمان سامنے ہی لاونج میں لگی کرسی پر اخبار ہاتھ میں پکڑے بیٹھا تھا ۔ نظر اٹھا کر سامنے دیکھا تو فوراً اپنی جگہ سے اٹھا ۔
” تم ۔۔۔۔۔۔ “
آنکھوں میں حیرت اور چہرے پر ناگواری لا کر کہا ۔ اور پھر حیران سا ہو کر ویل چیر پر موجود اس عورت کی طرف دیکھا جس کی بوڑھی آنکھیں اس پر مرکوز تھیں اور ان میں آنسو تھے ۔ ایک پل کے لیے خاموشی چھا گٸ تھی ۔
” نعمان بیٹا “
نقاہت سے کانپتی آواز میں صابرہ نے خاموشی کو توڑا ۔ صابرہ نے بوڑھے کپکپاتے ہاتھ اٹھاۓ اور نعمان کے سامنے کرتے ہوۓ معافی کے انداز میں جوڑ دیے ۔
” آج تیری ماں کی ماں تیرے سامنے ہاتھ جوڑے التجا کرتی ہے “
وہ روتے ہوۓ بمشکل کانپتی آواز میں الفاظ ادا کر رہی تھیں ۔ نعمان کا چہرہ فق ہوا ۔ پر وہ اپنی جگہ سے ہل نہیں سکا تھا ۔
” بیٹا آج سے چھبیس سال پہلے جو بھی ہوا تیری ماں کا تیرے باپ کو محبت میں پاگل کر دینے کے علاوہ اور کوٸ جرم نہیں تھا “
وہ بول رہی تھیں اور باقی سب لوگ ساکن مجسم تھے ۔ ان کی آواز میں کیا کچھ نہیں تھا ۔ ندامت ۔۔۔ دکھ۔۔۔ درد۔۔۔۔بیٹی کی چاہت ۔۔ کرب
” اسے محبت ہوٸ ۔ اس نے حسن کے بہت منع کرنے پر بھی واپسی نہیں لی ۔ حسن کو گھٹنے ٹیکنے ہی پڑے شہروزی نے یہی سوچا کہ نکاح ہو جاۓ گا تو اس کا باپ کچھ نہیں کر سکے گا مجبور ہو کر اسے رخصت کر ہی دے گا “
ان کے جڑے ہاتھ دھیرے دھیرے کانپ رہے تھے ۔ آواز لڑ کھڑا رہی تھی ۔
”پر وہ نہیں جانے تھی کہ اس کا باپ ایک سفاک ترین انسان ہے ۔ “
بوڑھی آنکھوں سے آنسو گال پر سفر طے کر رہے تھے ۔ ہیر کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے وہ لب بھینچے اپنے آنسو ضبط کر رہی تھی ۔ اور بڑے بڑے ناخن والے سفید ہاتھ ویل چیر کے ہینڈل کو اضطراب سے گھوما رہے تھے ۔
” شہروزی کو ہم نے بتایا کہ تم مردہ حالت میں پیدا ہوۓ اور تمھاری ایک جھوٹی قبر بھی بنا دی “
صابرہ نے سر شرمندگی سے جھکا لیا تھا ۔۔۔۔ ہاتھ بھی تھوڑے سے جھک سے گۓ
” شہروزی کا کوٸ قصور نہیں تھا تم سے جدا ہونے میں بیٹا “
پھر سے سر اٹھا کر التجاٸ انداز میں نعمان کی طرف دیکھا جو بے حس و حرکت کھڑا تھا ۔
” اور اب جب وہ پوری دنیا کے سامنے یہ سچ تسلیم کرنے جا رہی تھی تو اس کا بھاٸ بلکل وہی کچھ کر رہا اس کے ساتھ جو اس کے باپ نے کیا تھا تب ۔“
نعمان نے چونک کر ہیر کی طرف دیکھا جو لب بھینچ کر اثبات میں سر ہلا گٸ تھی۔
” اطہر نے شہروزی کو قید کر رکھا ہے ۔ میں بے بس ہوں بیٹا اپنی ماں کو بچا لے اسے معاف کر دے بیٹا “
وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھیں۔ فارم ہاوس پر موجود ملازم نے خفیا طور پر صابرہ سے رابطہ کر کے اسے بتا دیا تھا کہ اطہر نے تین دن سے شہروزی کو قید کر رکھا ہے ۔ اور پھر صابرہ نے ہیر کو سب بتا کر اسے اپنا ساتھ دینے پر راضی کیا اور ڈاکٹر کو چیک کروانے کے بہانے سے وہ فلاٸٹ پکڑ کر کراچی سے لاہور آ گٸ تھیں ۔ نعمان نے تڑپ کر آگے ہو کر صابرہ کے جڑے ہاتھ تھام لیے تھے ۔
” کہاں ہیں وہ؟“
آہستہ سے صابرہ کے گھٹنوں میں بیٹھ کر مدھم سی آواز میں کہا ۔
” وہ بابا نے فارم ہاوٸس میں رکھا ہوا انھیں کراچی “
ہیر نے جلدی سے ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کیے تھے ۔

 

” کیسا ہے جگر “
داور جوش میں کہتا ہوا نعمان سے بغل گیر ہوا تھا۔ نعمان اس وقت بخت ہاوٸس کےنام سے اعلی شان بنگلے میں داور کے سامنے موجود تھا۔ یہاں سب لوگ گیٹ کے گارڈ سے لے کر گھر کے ملازم تک اسے جانتے تھے دو سال تک وہ یہاں بخت کا مشیر خاص رہا تھا داور اس کے گلے لگا اس کی پیٹھ کو تھپک رہا تھا ۔ پھر دھیرے سے اس سے الگ ہوا ۔ اور مسکرا کر نعمان کے چہرے کی طرف دیکھا جبکہ ہاتھ ابھی بھی نعمان کے کندھوں کو تھامے ہوۓ تھے ۔
” پتا ہے کتنی خوشی ہو رہی تمہیں یہاں دیکھ کر مجھے “
داور ہلکا سا قہقہ لگا کر بولا اور سامنے صوفے کی طرف نعمان کو بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔ وہ ویسا ہی تھا بڑی بڑی مونچھوں کو تاٶ دیا ہوا کلف لگی قمیض شلوار پر بڑی شال کو گلے میں گھمایا ہوا ہاتھوں میں بہت سے انگوٹھیاں ۔
” میں ٹھیک ہوں ۔۔۔ تیرے لیے ایک آفر لے کر آیا ہوں “
نعمان نے گہری سانس لی ٹانگ پر ٹانگ چڑھاٸ ۔ نعمان پہلے سے یکسر بدل چکا تھا ۔ لمبے بال اب وہ حسنیٰ کی وجہ سے نہیں رکھتا تھا ہاں البتہ شیو ضرور بڑھا رکھی تھی اور مونچھیں بھی داوار کی طرح بہت بڑی نہیں تھیں ۔ ہاں رنگ روپ اب اور نکھرا ہوا تھا ۔
” اچھا ایسا کیا برو“
داور نے بھنویں اچکاٸیں اور دلچسپی ظاہر کی جبکہ نعمان اب لبوں پر دلکش مسکراہٹ سجاۓ بیٹھا تھا۔
” تمھارے سارے احسانات کا قرض اتارنے کا وقت آن پہنچا میری جان ملک اطہر کے بارے میں ایسی خبر ہے کہ الیکشن سے پہلے ہی وہ تو سمجھو تیرے راستے سے صاف “
نعمان کے چہرے پر تو گہری مسکراہٹ تھی پر اب بات سن کر سامنے بیٹھے داور کی باچھیں کھل گٸ تھیں ۔
” سچ کیا خبر ہے “
داور نے جلدی سے ٹانگ پر سے ٹانگ اتاری اور تھوڑا سا آگے ہو کر تجسس سے پوچھا ۔ اس کی آنکھیں چمک اٹھی تھیں۔ کیونکہ اس دفعہ الیکشن میں بخت کی جگہ وہ کھڑا ہوا تھا ۔داور نے سامنے پڑے سنہری رنگ کے دلکش سے سگریٹ کیس میں سے سگریٹ نکال کر نعمان کی طرف بڑھایا۔
” خبر میں دوں گا آگے کا کام تیرا ہے “
نعمان نے مسکراہٹ دباٸ اور اس کے ہاتھ سے سگریٹ پکڑا اور بڑے انداز میں اپنی انگلیوں میں گھمایا۔
” خبر تو بتا ابے “
داور پرجوش انداز میں بولا ۔ ایسے جیسے اب صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا تھا۔ نعمان نے اس کی بے چینی پر ہلکا سا قہقہ لگایا ۔ پھر تھوڑا سا آگے ہو کر رازدانہ انداز اپناتے ہوۓ کہا ۔
” ملک اطہر نے اپنی ہی بہن کو گھر میں قید کر رکھا ہے “
بات بتا کر نعمان مسکراتا ہوا پیچھے ہوا صوفے سے ٹیک لگایا جبکہ داور پورے دانت نکالتا ہوا اب تھورڈی پر ہاتھ پھیر تھا ۔
*************
” مما!!!!!! “
نعمان نے ہلکی سی آواز میں کہا۔ وہ دروازے کے اوپر ہاتھ رکھے کھڑا تھا ۔ دلخراش آواز تھی۔ جو شہروزی کی سماعتوں سے ٹکراٸ ۔
شہرزوی نے گھٹنوں میں جھکا سر اٹھایا ۔ اور ایک لمحے کو ساکن ہو گٸ ۔ نعمان اس کے سامنے کھڑا تھا۔ نم آنکھیں لیے نظریں ملیں ممتا تڑپ اٹھی۔ اس کا شہزادہ اس کی کل کاٸنات سامنے تھا۔
ملک اطہر کو حراست میں لے کر ان کے فارم ہاوٸس پر ریڈ کیا گیا تھا۔ شہروزی کو بازیاب کروانے کے لے پولیس کے ساتھ نعمان بھی فارم ہاوٸس آیا تھا ۔ داور نے ملک اطہر کے خلاف پرچہ کروا کر پورے میڈیا میں ڈھنڈورا پیٹ دیا تھا ۔ اس کی واہ واہ ہو گٸ تھی ۔ اور یہ بات ملک اطہر کے لیے اس کی ساری ساکھ خراب کر گٸ تھی ۔
شہروزی کو یہاں پانچ دن ہوچکے تھے وہ بے حال سی گھٹنوں میں چہرہ دے کر بیٹھی ہوٸ تھی جب اسے نعمان کی آواز سناٸ دی اور پھر وہ اسے پہلی دفعہ مما پکار رہا تھا ۔ کانوں کو یقین نہیں آ رہا تھا ۔وہ حیرت کے سمندر میں غوطہ زن کھڑی ہوٸ ۔بھاگتی ہوٸ پاگلوں کی طرح نعمان کی طرف لپکی ۔
بنا کسی میک اپ کے رنجیدہ سا پژمردہ چہرہ بکھرے سے بال پانچ دن سے ایک ہی جوڑے میں ملبوس وہ بے حال سی تھی آنکھیں رو رو کر سوجی ہوٸ تھیں ۔ لب خشک تھے ۔
” نعمان مجھے معاف کر دو بیٹا مجھ سے جھوٹ بولا گیا تھا کہ تم زندہ نہیں ہو میرا کوٸ قصور نہیں تھا میرے بچے میں نے تو تمھیں پانچ ماہ تک کوک میں سب سے چھپا کر ہی اس لیے رکھا تھا کہ میں تمہیں اس دنیا میں لانا چاہتی تھی شادی نہ کر کے ساری زندگی صرف تمھارے ساتھ گزارنا چاہتی تھی ۔۔۔۔“
وہ پاگلوں کی طرح رو رہی تھی اور بولے جا رہی تھی اپنے دونوں ہاتھوں سے نعمان کا چہرہ تھامے اور وہ تو ہوش میں نہیں تھا ۔ وہ تو اپنی ماں کے چہرے کا طواف کر رہا تھا ۔ ان کے ہاتھوں کو نرمی سے پکڑ کر پہلے لبوں سے لگایا .اور پھر آنکھوں سے لگایا۔ آنکھوں میں اٹکے کتنے ہی شہروزی کے ہاتھ بھگو گۓ تھے ۔شہروزی حیران سی ہوٸ لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھری۔
” کچھ مت بولیں بس ۔۔“
نعمان نے آنسو پہلے شہروزی کی صاف کیے پھر اپنے گال رگڑے اور محبت سے شہروزی کے گرد بازو حاٸل کیا ۔ اپنی جنت کو اپنی آغوش میں لیا ۔ایسی خوشبو نے اپنے حصار میں لیا ایسا لمس تھا جو اس دنیا میں کبھی اسے ملا ہی نہیں تھا ۔
” چلیں گھر چلیں “
نعمان نے شہروزی کو ساتھ لگا کر چلتے ہوۓ کہا ۔ وہ نعمان کے سینے پر ہاتھ رکھے اس کے مضبوط وجود کے حصار میں سرشار سی اس کے ساتھ چل دی تھی ۔
**********
” میرے والد نے مجھ سے میرے بیٹے کو دور کیا مجھ سے جھوٹ بولا کہ وہ مردہ پیدا ہوا ہے “
شہروزی نے اپنے سامنے رکھے بہت سے ماٸکس میں جھک کر مدھم سی آواز میں کہا۔ سامنے لگی نشستوں پر صحافی ہاتھوں میں ریکارڈرز پکڑے قطاروں میں بیٹھے سر ہلا رہا تھے۔ شہروزی کے ساتھ ایک نشست پر نعمان اس سے اگلی نشست پر یاسمین اور ان کے ساتھ فاٸق رضا بیٹھے تھے۔ یاسمین بار بار اپنی نم آنکھیں پونچھ رہی تھیں ۔
صحافیوں کی نشستوں کے پیچھے بہت سے کیمرے یہ منظر موجودہ وقت میں منظر عام پر لا رہے تھے ۔ جس کو پورا پاکستان دیکھ سکتا تھا ۔ واصف ٹیکسٹاٸل کا بزنس پورے پاکستان میں پھیلا ہوا تھا ۔ شہروزی ایک بہت بڑی بزنس ٹاٸکون تھی جس نے اپنے شوہر میر واصف کی وفات کے بعد بزنس کو انٹرنیشنل لیول تک انٹروڈیوز کروایا تھا ۔ ان کا برانڈ اب نا صرف پاکستان بلکہ بہت سے دوسرے ممالک میں بھی جانا جاتا تھا ۔
شہروزی نے اپنی اور حسن کی پوری داستان اور ملک انور کے سارے ظلم بیان کیے تھے ۔
” میں آج ساری دنیا کے سامنے اپنے بیٹے کو اپناتی ہوں ۔ اپنی اور اپنے والد کی غلطیوں کو اعتراف کرتی ہوں جن کی وجہ سے ایک غریب گھرانہ اجڑا اور ایک بےگناہ انسان کو ساری عمر جیل میں سزا کاٹنی پڑی “
شہروزی نے بولتے ہوۓ گہری سانس لی اور سر جھکا لیا ۔ ایک پل کے لیے خاموشی ہوٸ ۔ پریس کانفرنس میں موجود ہر نفوس نم آنکھیں لیے بیٹھا تھا۔ ایک ماں اور بیٹے کی جداٸ کی داستان ہی ایسی تھی ۔ نا چاہتے ہوۓ بھی آنکھیں پرنم ہوٸ تھیں۔
” حسن کی ساری فیمیلی کو تاحیات سپورٹ کروں گی ۔ آج سب کے سامنے میں اپنے بیٹے کی کسٹڈی لیگلی طور پر لیتی ہوں “
شہروزی نے نرم سے لہجے میں کہا اور نم آنکھوں سے اپنے ساتھ بیٹھے نعمان کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لے کر اپنے لبوں سے لگایا ۔ نعمان کے ہاتھ چھوڑے اور دھیرے سے مسکرا کر آنکھیں صاف کرتی ہوٸ پھر سے ماٸک کو پکڑا ۔
” نعمان حسن میرا اکلوتا بیٹا ہے اور میری ساری دولت کا وارث “
شہروزی نے نرم آواز میں کہا اور بات ختم کر دی۔ اور نشست کی پشت سے کمر ٹکا دی
اب صحافی باری باری سامنے سٹیج پر بیٹھے تمام نفوس کا بیان لے رہے تھے ۔ کچھ قلمبند کر رہے تھے تو کچھ ریکارڈ کر رہے تھے ۔
*********
” سنا تھا زندگی میں معجزے ہوا کرتے ہیں لیکن دیکھا آج ہے ۔ نعمان نامی ایک معمولی لاوارث لڑکا کڑوڑوں کی جاٸیداد کا اکلوتا وارث نکلا“
ٹی وی اینکر مسکراتی ہوٸ پرجوش آواز میں کہہ رہی تھی ۔
” جی ہاں آپ کو بھی سن کر حیرانی ہو گی نعمان حسن مشہور انڈسٹریل اور سیاست دان ملک انور کے نواسے اور واصف ٹیکسٹاٸل کی اونر شہروزی واصف کے بیٹے ہیں “
اینکر نے آنکھیں پھیلا کر لبوں پر مسکراہٹ سجا کر کہا ۔
” نعمان حسن ان کے سابقہ مرحوم شوہر حسن میں سے ہیں جن سے ستاٸیس سال پہلے انھوں نے خفیا شادی کی تھی مرحوم ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے ..“
اینکر مسلسل بول رہی تھی اور سامنے بیٹھی شزا اور مہرین کی آنکھیں پھٹنے کی حد تک باہر آ چکی تھیں جبکہ عمر سر جھکا گیا تھا ۔
*************
” نعمان “
ہیر اپنی کمر کے پیچھے ہاتھ باندھے کمرے میں آٸ تھی ۔ نعمان نے چونک کر سنگہار میز میں اس کے عکس کو دیکھا وہ شرمندہ سے چہرے کے ساتھ لب کاٹ رہی تھی ۔ نعمان نے لب بھینچے اور آہستہ سے ہاتھ میں پکڑا ہیر برش سنگہار میز پر رکھا ۔ اور رخ ہیر کی طرف موڑا یہ واصف ولاز کا سب سے خوبصورت کمرہ تھا جو نعمان اور حسنیٰ کو ملا تھا ۔
” ہممم بولو “
نعمان نے پوری توجہ اس کی طرف مرکوز کرتے ہوۓ کہا ۔ اس کے چہرے پر ہیر کے لیے کوٸ بھی نفرت اور ناگواری موجود نہیں تھی ۔
چیک شرٹ کے نیچے جینز زیب تن کیے گیلے سے بال سنوارے وہ سنجیدہ سا چہرہ لیے کھڑا تھا ۔ سب واقعات کے بعد ہیر سے آج سامنا ہوا تھا ۔ واصف ولاز آج بھرا پڑا تھا شام کو بہت بڑی تقریب تھی جس میں شہروزی نعمان کو سب سے ملوانے والی تھی اور واصف ٹیکسٹاٸل کا اونر ڈکلیر کرنے والی تھی ۔
فیمیلی کے لوگ کل سے ہی گھر میں موجود تھے سنسان سا واصف ولاز آج قہقوں اور اتنے لوگوں کی آوزوں سے گونج رہا تھا ۔
یاسمین کو تو شہروزی اُسی دن لے آٸ تھی اپنے ساتھ جس دن پریس کانفرنس تھی یاسمین ایک بڑے دل کی مالک خاتون تھیں جنہوں نے بڑھ کر شہروزی کو اپنے سینے سے لگا لیا تھا۔ اور مدھم سی آواز میں کہا جسے میرا بیٹا اتنی محبت کرتا تھا میں اس سے نفرت کیونکر کروں ۔۔
آج صبا ، ثمرین ، اور سمیرا اپنے بچوں اور خاوند سمیت گھر میں موجود تھیں ۔ ہیر نے جب دیکھا کہ سب میں نعمان موجود نہیں ہے تو وہ چپکے سے اس کے کمرے میں آ گٸ تھی ۔ جہاں وہ فریش ہونے کے بعد بس نیچے جانے کو تیار ہی تھا ۔
” مجھے معاف کر دیں پلیز “
ہیر نے سر جھکا کر روہانسی سی شرمندہ آواز میں کہا ۔ نعمان کے ساتھ بہت کچھ ایسا کر چکی تھی کہ اب نظریں نہیں ملا سکتی تھی ۔نعمان سینے پر ہاتھ باندھے خاموش کھڑا تھا ۔
” ایکچولی ہم جیسی لڑکیوں کو ۔۔۔۔ جن کے قدموں میں ہر چیز ان کے ایک بول پر لا کر رکھ دی جاتی ہے یہی لگتا ہے کہ انسان بھی ان چیزوں کی طرح ہی ہیں بس ہمیں جو اچھا لگے ہمارا ہو جاۓ “
وہ سر جھکاۓ بول رہی تھی۔ اور آج نہ تو اس کی آواز میں غرور تھا اور نہ ہی رعب وہ تو بہت نرم اور بھیگے سے لہجے میں بول رہی تھی۔ زندگی میں پہلی دفعہ نعمان کو اسے سننا اچھا لگ رہا تھا ۔
” ہم صرف اپنے دل اپنی چاہت کے بارے میں سوچتی ہیں جیسے ستاٸیس سال پہلے میری پھپھو نے کیا جب انھیں حسن انکل پسند آ گۓ تھے “
دھیرے سے بالوں کو کانوں کے پیچھے کیا ۔ اور گہری سانس لی ۔ نعمان بلکل خاموش تھا ۔ وہ آج اسے سننا چاہتا تھا ۔
” لیکن میں وہ خود غرضی پھر سے نہیں دہرانا چاہتی مجھے عقل آ گٸ ہے پیار میں زبردستی اور جنون نہیں بلکہ صبر اور احساس ہونا چاہیے “
مدھم سی آواز میں کہا۔ اور پہلی دفعہ نظر اٹھا کر نعمان کی طرف دیکھا جس میں آج نعمان کو کہیں بھی وہ جنونی محبت نہیں دکھاٸ دی تھی بلکہ احترام تھا اس کے لیے۔
” مجھے معاف کر دیں پلیز “
ہیر نے لب کاٹ کر التجاٸ انداز میں کہا۔ نعمان دھیرے سے مسکرا دیا تھا ۔ اور پھر آہستہ سی آواز میں گلا صاف کیا ۔ چند قدم آگے بڑھاۓ اور بلکل ہیر کے سامنے آ کر کھڑا ہوا ۔
”خوشی ہے تمہیں احساس ہو گیا صیح غلط کا بھول جاٶ سب “
ہلکی سی تھپکی دی تھی ہیر کے کندھے پر ۔ اور پھر دنوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرا دیے ۔ ہیر نے ایسے گہری سانس لی جیسے دل پر سے بہت بڑا بوجھ اتر گیا ہوا۔
بوجھ ہی تو تھا ۔ کم عمری کی نادانی میں وہ جنون کی حد پر چلی گٸ تھی اور نعمان کو ایک انسان نہیں بس ایک من چاہا کھلونا سمجھنے لگی تھی ۔لیکن اب جب شہروزی کی ساری کہانی سامنے آٸ تو جیسے آنکھیں کھل گٸیں کہ انجانے میں کتنی زندگیاں برباد ہوٸ تھیں ان کی ایک نام نہاد جنونی محبت کی وجہ سے ۔ جس کی سزا وہ ساری عمر بھگتتی رہی تھیںش ۔ بے اولاد رہیں پھر شوہر بھی چل بسا اتنا بڑا گھر اتنا بڑا بزنس اور جان لیوا تنہاٸ یہ سزا ہی تو تھی ۔
” چلو سب باہر انتظار کر رہے ہیں“
نعمان نے نارمل سے انداز میں سر کو ہلا اشارہ کیا وہ بھی کھلے دل سے مسکرا دی تھی ۔ اور پھر دونوں ایک ساتھ چلتے ہوۓ نیچے بڑے سے لاونچ میں آۓ تھے جہاں شوروغل اور ادھم مچا ہوا تھا ۔ شہروزی یاسمین کے ساتھ بغل گیر بیٹھی مسکرا رہی تھی تو ثمرین حسن کے بچپن کا کوٸ قصہ سنا رہی تھی ۔ کرسٹن جو اب اسلام قبول کرنے کے بعد فرحین بن چکی تھیں ثمرین کے بلکل ساتھ بیٹھی مسکرا رہی تھیں ۔
صبا کچن میں تھی جہاں وہ ڈھیر سارے ملازموں سے لنچ تیار کروا رہی تھیں ۔ بچہ پارٹی کیرم بورڈ پر موجود تھے ۔ مرد حضرات سارے جس میں فاٸق رضا بھی شامل تھے ایک طرف بیٹھے سیاست پر اور ملکی حالات پر بحث کر رہے تھے ۔ اور سمیرا ان کو چاۓ سرو کروا رہی تھی ۔
” ہیر کہاں چلی گٸ تھی گیم چھوڑ کر یار آٶ نہ “
عدیلہ نے خفگی سے ہیر سے کہا۔ ہیر مسکراتی ہوٸ بچہ پارٹی کی طرف چل دی تھی ۔
” ہاں ہاں آٸ اسد چیٹ بہت کرتا اس کو نکالو پہلے “
ہیر نے جاندار قہقہ لگاتے ہوۓ کہا۔ جس پر اسد کے ماتھے پر بل پڑ گۓ تھے ۔
” نعمان بیٹا کہاں ہو حسنیٰ کی اپاٸنٹمنٹ ہے لے کر جاٶ اسے کب سے ویٹ کر رہی تمھارا“
شہروزی نے ڈانٹنے کے سے انداز میں کہا ۔ سب لوگ اب اس ہر دل شہزادے کی طرف متوجہ ہوۓ تھے ۔ یاسمین نے ہاتھ کے اشارے سے قریب بلایا اور اسکے آنے پر اسے کندھے سے پکڑ کر سر پر پھونک مار کر ماتھا چوما نعمان نے بھی سرشار سا ہو کر دادی کے ماتھے پر بوسہ لیا ۔اور پھر ساتھ بیٹھی شہروزی کے ماتھے پر ۔
” جی اسی لیے آیا ہوں پر ہے کہاں ہےآپکی بہو صاحبہ “
نعمان سیدھا ہوا اور کمر پر ہاتھ دھر کر ارد گرد نظر دوڑاٸ ۔
” حسنیٰ!!!!!!!!!!“
نعمان نے وہیں کھڑے ہو کر ہانک لگاٸ ۔ اور وہ مسکراتی ہوٸ چمکتی آنکھوں کے ساتھ کچن سے برآمد ہوٸ ۔
” چلیں ادھر کچن میں تھی تھوڑا دیکھ رہی تھی صبا پھپھو تو بہت اچھی کوکنگ کرتی ہیں بھٸ “
بڑی بڑی آنکھوں کو رشک سے پھیلاتی وہ سب کے بیچ آ کر کہہ رہی تھی۔ نعمان نے شرارت سے مسکراہٹ دبا کر دیکھا ۔ سرخ رنگ کے جوڑے میں میڈیم پوری طرح تیار غضب ڈھا رہی تھیں ۔
” دیکھنا بس سیکھنا مت “
نعمان نے مسکراہٹ دبا کر شرارت سے کہا ۔ جس پر باقی سب تو قہقہ لگا گۓ تھے جبکہ وہ خفگی سے ناک پھلا کر گھور رہی تھی ۔
” آتا ہے مجھے اس دن بناٸ نہیں تھی اٹیلین ڈش “
بڑے انداز میں جتاتے ہوۓ نعمان کی طرف دیکھا ۔ جس کا فلک شگاف قہقہ برآمد ہوا تھا اس بات پر ۔ بڑی مشکل سے اپنی بے اختیار ہنسی کو دبا کر اسے چلنے کا اشارہ کیا ۔ جو دادی سے جھک کر پیار لیتی نعمان کے ساتھ قدم سے قدم ملاتی واصف ولاز کے پورچ کی طرف بڑھ گٸ تھی ۔
*************
” کیا ہوا ہے ان کے بےبی کو “
حسنیٰ نے پریشان سی شکل بنا کر کاونٹر پر موجود ریسیپشنسٹ سے پوچھا۔ لبوں کو دانتوں میں دبا کر بے دردی سے کچلا ۔
وہ لوگ ہاسپٹل پہنچے ہی تھے جب حسنیٰ کی نظر سامنے کھڑے حسن اور مہرین پر پڑی تھی ۔ ریسپشن پر موجود لڑکی ان کو پیسوں کا کہہ رہی تھی اور حسن پریشان حال کھڑا پہلے منتیں کرتا رہا پھر سر جھکا کر ابرہیم کو اٹھاۓ وہ ایک طرف چل دیے تھے ۔
حسنیٰ تیز تیز قدم اٹھاتی کاٶنٹر پر پہنچی تھی ۔ دل تیز تیز دھڑک رہا تھا تو سانس پھولی ہوٸ تھی ۔ نعمان بھی اس کے پیچھے پیچھے تھا ۔
” بہت پریشان ہیں بچے کے ٹیسٹ کروا رہے ہیں لیور کا کوٸ مسٸلہ ہے اب ایڈمیٹ کے پیسے نہیں ہیں جو ایڈوانس میں جمع کروانے ہوتے “
ریسپشن پر موجود لڑکی روانی سے بول رہی تھی ۔ اور حسنیٰ کا دل اچھل کر حلق میں آیا تھا ۔ ننھے سے ابراہیم کا معصوم سا چہرہ آنکھوں کے آگے لہرا گیا تھا ۔نعمان نے دھیرے سے حوصلہ دینے کے انداز میں اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔
حسنیٰ تیز تیز قدم اٹھاتی حسن اور مہرین کی طرف لپکی تھی جو سر جھکاۓ ہاسپٹل کے داخلی دروازے کی طرف بڑھ رہے تھے ۔
” حسن بھاٸ “
حسنیٰ نے زور سے آواز دی تھی ۔ آواز آنسوٶں سے پھٹی سی اور بھاری تھی۔ حسن اور مہرین نے چونک کر پیچھے مڑ کر دیکھا ۔حسنیٰ تیز تیز قدم اٹھاتی پاس آٸ نعمان بھی لب بھینچے اس کے پیچھے آ چکا تھا ۔
” کیا ہوا ابراہیم کو ؟“
حسنیٰ نے بے چین سی ہو کر مہرین کی گود میں لیے ابراہیم کے سر پر ہاتھ پھیر کر پریشان سے لہجے میں کہا ۔ آنکھیں اتنے سے لمحے میں ہی نم ہو چکی تھیں وہ اب ایسے ہی حساس سی تو ہو گٸ تھی وہ خود غرض حسنیٰ تو کب کی مر چکی تھی ۔ اپنوں کی جداٸ نے بہت کچھ سیکھا دیا تھا ۔
” حسنیٰ !!!!!“
مہرین تڑپ کر حسنیٰ کے گلے لگی تھی اور پھر پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی ۔

 

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: