Husna Novel by Huma Waqas – Episode 3

0
حسنیٰ از ہما وقاص – قسط نمبر 3

–**–**–

چلے جاٶ ۔۔۔ جس محبت کے دعوی اس دن کر رہے تھے ان کو پورا کرو اور مر گٸ وہ ہمارے لیے سمجھے تم ۔۔۔۔۔۔۔ شزا نے اتنی زور سے دروازہ بند کیا تھا کہ سامنے کھڑے نعمان کی آنکھیں بے ساختہ بند ہوٸ تھیں ۔۔۔ لب اس نے بھینچ لیے تھے ۔۔۔
مطلب حسنیٰ یہاں بھی نہیں تھی تو حسنی کہاں تھی ۔۔۔ صبح سے شام ہو چکی تھی ۔۔۔ وہ تھک چکا تھا۔۔۔آفس سے بہت بار فون آ چکا تھا لیکن ۔۔۔ ان کو نعمان نے طبیعت ناساز ہونے کا کہا تھا۔۔۔ ذہن ساٸیں ساٸیں کرنے لگا تھا ۔۔۔ عبداللہ کے پیچھے باٸیک پر وہ پریشان صورت لیے بیٹھا تھا۔۔۔۔
************
اوہ ۔۔۔۔ خدایا ۔۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ کی چیخ نما آواز نکلی تھی ۔۔
اس کی آنکھیں باہر کو امڈ آٸ تھیں اور نظر اپنے کیچڑ سے لت پت شرٹ کو دیکھ رہی تھیں ۔۔۔
یونیورسٹی کی راہداری سے ابھی وہ نکلی ہی تھیں جب ایک کار نے بلکل پاس سے گزر کر حسنی کے کپڑوں کو کیچڑ سے سجا دیا تھا۔۔۔ حسنی بجلی کی سی رفتار سے گاڑی کے آگے آٸ تھی گاڑی کیوں کہ پہلے ہی آہستہ ہو چکی تھی اس لیے اب اس کے آگے آنے کی وجہ سے رک چکی تھی ۔۔۔
نکلو۔۔۔۔ نکلو ۔۔۔ باہر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ نے کار کا شیشہ پیٹ ڈالہ تھا وہ چیخ ہی تو رہی تھی ۔۔۔
یہ شکر تھا کہ وہ اس وقت گھر کے لیے جارہی تھیں ۔۔ فاٸن آرٹس ڈاٸزنگ میں اس کا ایڈمیشن ہو چکا تھا اسے یونیورسٹی آۓ دو ہفتے ہو چکے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ اس نے کار کا شیشہ اتنی زور سے پیٹا تھا کہ اندر موجود نفوس کو شیشہ نیچے کرتے ہی بنی تھی ۔۔۔ سلور گرے رنگ کی کرولا کا شیشہ بڑی آہستگی سے نیچے ہوا تھا۔۔۔ سن گلاسز چہرے پر سجاے حازق وہاب نے کھڑکی کے باہر آگ بگولہ چہرے پر بال بکھراۓ اس حسینہ کو حیرانگی سے دیکھا تھا جس کے کپڑے گھٹنوں سے لے کر پاٶں تک کیچڑ میں لت پت تھے اور وہ آنکھیں سکیڑے ناک پھلاۓ غصے سے لال چہرہ لیے حازق کو گھور رہی تھی ۔۔۔
جی کیا مسٸلہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مسکراہٹ دباتے ہوۓ انجان بن کر حازق نے پوچھا تھا۔۔
اس کے اس لا پرواہ انداز پر حسنیٰ کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا تھا آنکھیں اور سکیڑ کر اس نے ایک نظر حازق پر ڈالی اور ناک پھلا کر پھر انگلی کے اشارے سے اپنی شرٹ کی طرف اشارہ کیا تھا۔۔۔
مسٸلہ!!!!!! اندھے ہو کیا تمہیں نظر نہیں آ رہا کیا ۔۔۔۔۔کیا ہے تم نے ۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ کی آواز ایک دم سے پھٹ کر بھاری ہوٸ تھی سامنے گاڑی میں بیٹھے شخص کی زبردستی روکی ہوٸ مسکراہٹ اس سے اور فضا سے مخفی نہیں تھی ۔۔۔
کیا۔۔۔رستے میں کھڑی ہوں گی تو یہی ہو گا نہ پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حازق نے کندھے اچکا کر ہونٹ باہر نکالے تھے ۔۔۔
بات سنو ۔۔۔۔ تم غلط ٹریک پر کار لے کر آۓ ہو سمجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ حسنی نے دانت پیس کر انگلی حازق کی آنکھوں کے درمیان میں نچاٸ تھی ۔۔۔
تو اب کیا کروں!!!!!! ۔۔۔ کپڑے دھو کر دوں تمھارے کیا ۔۔۔۔۔۔ بڑے معنی خیز انداز میں کہتے ہوۓ حازق نے ایک بھرپور نظر سر سے لے کر پاٶں تک حسنی پر ڈالی تھی ۔۔۔
کِھلتے ہوۓ پیلے رنگ کے جوڑے میں دمکتی چندن جیسی رنگت لیے وہ کسی سورج مکھی کے پھول سے کم دلکش نہیں لگ رہی تھی ۔۔۔ ہے کون یہ پھلجھڑی ۔۔۔ آج سے پہلے تو یونیورسٹی میں نظر نہیں آٸ ۔۔۔ حازق وہاب یونیورسٹی میں فاٸن آرٹس فوٹو گرافی کے چوتھے سمسٹر کا طالب علم تھا ۔۔اور اب حسنیٰ جیسی خوبصورت دوشیزہ کو اپنی یونیورسٹی کے گیٹ کے آگے دیکھ کر اچنبھے کی حالت میں تھا ۔۔۔
ماٸنڈ یور لینگوج۔۔۔۔۔۔۔۔ حسنی کو اس کی کپڑے دھونے والی بات انتہاٸ ناگوار گزری تھی ۔۔۔
تو آپ کا مسٸلہ کیا ہے پھر۔۔۔۔۔۔۔اب ہو گیا سو ہو گیا کیا کروں پھر میں اب ۔۔۔ حازق ہنوز پرسکون انداز میں اس کے چہرے پر نظریں جماۓ سن گلاسز کی ایک ٹانگ منہ میں دباۓ بیٹھا تھا ۔۔۔
آپ کیا اس کے لیے معافی بھی نہیں مانگ سکتے۔۔۔۔۔ فضا نے آہستہ سے حسنیٰ کو کندھے سے پکڑ کر پیچھے کیا تھا اور خود آگے ہو کر حازق کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا ۔۔۔
اسے حازق کا حسنیٰ کو دیکھنے کا انداز ایک آنکھ نہیں بھا رہا تھا ۔۔۔اور حسنیٰ تھی کہ اس کی نظروں میں موجود ستاٸش سے بلکل بے خبر بس جوش سے اسے باتیں سنانے میں اور غصہ دکھانے میں مصروف تھی اور وہ محترم تو اس کے ہر انداز سے لطف اندوز ہوتے ہوۓ بات کو طول دینے میں مصروف تھے ۔۔۔۔
میں نے جان بوجھ کر تو کچھ بھی نہیں کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ حازق نے پھر سے مسکراہٹ دباٸ تھی ۔۔۔
حسنیٰ۔۔۔ چھوڑو فضول بحث چلو یہاں سے چلتے ہیں ۔۔۔ فضا نے فورا مڑکر حسنیٰ کا بازو دبوچا تھا ۔۔۔
رکیں ۔۔۔ رکیں ۔۔۔۔ میں اپنی غلطی کا یہ خمیازہ بھر سکتا ہوں کہ آپ کو اپنی کار میں بیٹھا کر گھر تک ڈراپ کر دیتا ہوں ۔۔۔ حازق نے تیزی سے کار کا دروازہ کھول کر ان کے پیچھے بھاگتے ہوۓ انھیں روکا تھا ۔۔۔
جی۔۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔ مہربانی آپ کی ۔۔۔۔۔۔۔ فضا نے ناک پھلا کر کہا تھا
دیکھیں ۔۔۔ میں معافی مانگتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ حازق صرف حسنیٰ کو دیکھتے ہوۓ بات کر رہا تھا ۔۔۔
حسنی ایک دم سے رکی تھی ۔۔۔ کیونکہ فضا اس کا بازو دبوچے اسے کھینچتے ہوۓ لے کر جا رہی تھی وہ فضا سے بازو چھڑواتی ایک دم تنک کر رکی تھی ۔۔۔
اوکے ۔۔۔۔ ایسا کریں ۔۔۔ کیب کے پیسے دیں ۔۔۔ بس میں جانے والی حالت نہیں ہماری ۔۔۔۔۔۔۔ حسنی نے مزے سے ناک پھلا کر حازق سے کہا تھا۔۔۔
فضا کا منہ حیرت اور حسنی کی بیوقوفی پر کُھل گیا تھا ۔۔۔۔اس نے زور سے حسنیٰ کا بازو جھنجوڑ ڈالا تھا ۔۔۔ جبکہ وہ سپاٹ چہرہ لیے صرف حازق کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی تھی ۔۔۔
حسنیٰ ۔۔۔ پاگل ہو کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ فضا نے دانت پیس کر حسنی کے کان میں کہا تھا ۔۔۔
تم چپ ۔۔۔ حسنی نے گھور کر فضا کی طرف دیکھا تھا اور پھر ناک پھلا کر حازق کی طرف دیکھا ۔۔۔
میرا نقصان نہیں ہوا کیا ۔۔۔ نکالیں کیب کے پیسے ۔۔۔۔ ناک پھلاۓ دھونس جماتی وہ حازق وہاب کے اندر گدگدی کر گٸ تھی ۔۔۔
حسنی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فضا مسلسل اسے منع کرنے اور یہاں سے نکلنے کے لیے گھور رہی تھی ۔۔۔۔
یہ لیں ۔۔۔ ۔۔۔ حازق نے پانچ ہزار کا نوٹ آگے بڑھایا تھا ۔۔۔۔
فضا کا منہ پھر سے کھل گیا تھا ۔۔۔ جبکہ حسنیٰ بڑے آرام سے پانچ ہزار کا نوٹ تھام چکی تھی ۔۔۔
گڈ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔حازق کی مسکراہٹ اور پھیل گٸ تھی ۔۔۔
فضا غصے سے گھسیٹتے ہوۓ حسنیٰ کو لے کر آگے بڑھی تھی جبکہ حازق وہاب وہیں کھڑا پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے مسکرا رہا تھا۔۔۔۔
حسنیٰ پاگل ہو کیا تم ۔۔۔ کیوں لیے اتنے سارے پیسے اس سے ۔۔۔ ۔۔۔ فضا نے غصے سے دانت پیستے ہوۓ حسنی سے کہا تھا ۔۔۔
جو آرام سے مسکرا رہی تھی اور اپنی اس حرکت پر سرشار تھی ۔۔۔۔
کچھ نہیں ہوتا دیکھا نہیں تھا کتنا امیر تھا وہ یہ پانچ ہزار اس کے آگے کچھ بھی نہیں ۔۔۔ چلو اب آرام سے ۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ نے بڑے لاپرواہ انداز میں کہا اور پاس سے گزرتی ٹیکسی کو ہاتھ کے اشارے سے روکا تھا۔۔۔۔
فضا منہ بسور کہ ہی رہ گٸ تھی ۔۔۔
***********
میم ۔۔۔ بس رہاٸش کا تھوڑا پرابلم تھا تو وہ گھر دیکھ رہا تھا کوٸ ۔۔۔۔ نعمان نے آنکھیں چرا کر جھوٹ بولا تھا۔۔
وہ مسز واصف کے آفس میں موجود ایک کرسی پر پریشان حال بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔ وہ کل اس کے نا آنے کی وجہ پوچھ رہی تھیں۔۔۔۔ اور وہ حسنیٰ والی بات گول کر چکا تھا۔۔۔
اوہ اچھا ۔۔۔۔ اٹس اوکے جاٸیں آپ ۔۔۔۔۔۔ مسز واصف نے مسکرا کر کہا تھا۔۔ جبکہ ان کا انداز تھوڑا پر سوچ تھا۔۔
تھنکیو میم ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعمان معدب انداز میں کرسی سے اٹھاتھا اور باہر نکل گیا تھا۔۔۔
جبکہ مسز واصف فون ملا رہی تھیں ۔۔۔۔
اس کو واپس آفس میں آۓ ابھی ایک گھنٹہ ہی گزرا تھا جب اس کے آفس میں ہلکے سے دستک پر سر اٹھا کر اس نے اندر آنے کی اجازت دی تھی ۔۔۔
سر ۔۔۔۔۔ یہ آپ کے لیے ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ایک چابی کے ساتھ کچھ کاغزات نعمان کے سامنے موجود میز پر اس لڑکی نے رکھے تھے ۔۔۔
یہ۔۔۔۔ کیا!!!!!!۔۔۔۔ نعمان نے حیران ہوتے ہوۓ لڑکی کی طرف دیکھا تھا۔۔
وہ مسز واصف کی پی۔اے تھی ۔۔۔ اور اب اس کے سامنے بڑے سلیقے سے ہاتھ باندھے مسکرا رہی تھی ۔۔۔
سر یہ کمپنی کی طرف سے آپکو اپارٸٹمنٹ دیا گیا ہے ۔۔۔۔۔۔ بڑے پریم سے وہ گویا ہوٸ چہرے پر ہنوز مسکراہٹ تھی۔۔۔۔
کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نعمان کی حیرت زدہ آواز نکلی تھی جبکہ آنکھیں پھیل گٸ تھیں ۔۔۔
جی یہی ہے سر ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ پھر سے اسی انداز میں گویا ہوٸ ۔۔۔
دیکھیں یہ ۔۔۔ کیسے رکھ سکتا ہوں میں ۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے رک رک کر تھوڑے پریشان سے لہجے میں استفسار کیا تھا۔۔۔
سر آپ میم ۔۔۔ سے بات کر سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ لڑکی پھر ربوٹ کی طرح کہہ کر اب اس سے جانے کی اجازت لے رہی تھی ۔۔۔
لڑکی کے جانے کے بعد وہ کچھ دیر یوں ہی الجھا سا بیٹھا رہا پھر چابی اور لفافہ اٹھاتا وہ مسز واصف کے آفس کی طرف رواں دواں تھا ۔۔۔
میم ۔۔۔ کم ان۔۔۔ ۔۔۔۔ ہلکی سی دستک کے بعد وہ دروزہ کھول کر اجازت طلب لہجے میں پوچھ رہا تھا۔۔۔
مسز واصف نے اپنے مخصوص محبت بھرے انداز میں اسے دیکھا اور سر ہاں میں ہلا دیا تھا۔۔۔ نعمان کے اندر آنے تک وہ اپنے مخصوص انداز میں چشمہ اتار کر ایک طرف رکھ کر دونوں بازو کراس کی شکل میں سامنے پڑے میز پر جما چکی تھیں ۔۔
میم۔۔۔ یہ گھر میں افورڈ نہیں کر پاٶں گا۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے شرمندہ سے لہجے میں کہتے ہوۓ چابی اور لفافہ میز پر دھرا تھا۔۔۔
مطلب۔۔۔۔۔۔۔ مسز واصف نے ایک نظر لفافے پر اور دوسری نظر سامنے کھڑے نعمان پر ڈالتے ہوۓ۔۔۔ مصنوعی حیرت ظاہر کی تھی ۔۔۔
5
میم ۔۔۔ میں اس کا رینٹ کیسے پے کر سکوں گا۔۔۔ نعمان کا انداز ہنوز شرمندگی والا تھا۔۔۔
رینٹ ۔۔۔ مسٹر نعمان ۔۔۔ آپکو کوٸ رینٹ پے کرنے کی ضرورت نہیں یہ کمپنی کی طرف سے آپکو دیا گیا ہے ۔۔۔ آپکی پے میں سے آہستہ آہستہ ڈیڈکشن کرتے رہیں گے آپکو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔ بڑی نرمی سے مسکراتے ہوۓ مسز واصف کہہ رہی تھیں ۔۔۔
وہ اس پر احسان در احسان کرتی جا رہی تھیں ۔۔۔ اگر یہ واقعی میں حسن کا بیٹا ہے تو یقناً آج سے چوبیس سال پہلے اس کی مرنے کی خبر مجھ تک جھوٹ پہنچی تھی میں اس لڑکے کے ذریعے سے ہی حسن تک پہنچ پاٶں گی لیکن اگر یہ حسن کا ہی بیٹا ہے تو یہ ایسے در بدر کیوں ۔۔۔ مسز واصف اپنے ذہن میں ابھرتے سوالوں سے الجھ رہی تھیں ۔۔۔
جی۔۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے حیرت سے واپس چابی اور لفافہ اٹھایا تھا اور باہر کا رخ کیا تھا۔۔۔
*********
سر یہ سولو کر دیں ۔۔۔ ہیر نے آج پھر بڑے انداز میں نوٹ بک روبن کے آگے پھینکی تھی
وہ جو فواد کی طرف متوجہ تھا ایک دم سے چونک گیا تھا ۔۔ ہیر بڑے انداز میں چیونگم چباتی طنز بھری نظروں سے روبن کو گھور رہی تھی ۔۔۔ روبن کو ملک اطہر کی حویلی میں ٹیوشن پڑھاتے آج تیسرا دن تھا اور ہیر مسلسل تین دن سے روبن کے ساتھ یہی رویہ رکھے ہوۓ تھی ۔۔وہ کچھ عجیب و غریب میتھ کے سوالات نیٹ سے کھوج کر اس کے لیے لاتی تھی اور آج بھی وہ ایسا ہی کر رہی تھی ۔۔۔ وہ بڑے تیکھے سے نقوش والی جازب نظر صورت کی لڑکی تھی اس کے گھنگرالے بال اور گالوں میں پڑتے گڑھے اسے منفرد بناتے تھے ۔۔۔ لیکن اس کے چہرے پر اپنی عمارت کا غرور اور روبن کی غربت کی حقارت موجود تھی ۔۔۔
یہ کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ روبن نے سنجیدہ انداز میں لب بھینچ کر کہا تھا ۔۔۔
میتھ کا کوسچن ۔۔۔اور کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہیر نے کندھے اچکا کر کہا ۔۔۔
بڑے انداز سے سولہ سالہ ہیر نے چیونگم چباتے ہوۓ اپنے گھنگرالے بال کندھے سے پیچھے کیے تھے ۔۔۔
لیکن یہ آپکے سلیبس کا تو ہر گز نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ روبن نے نظریں نیچے رکھی کاپی کے کھلے ورق پر جماتے ہوۓ کہا ۔۔۔
وہ کوٸ بہت ہی مشکل آٸ کیو لیول جانچنےکا حسابی سوال تھا ۔۔۔
تو کیا ۔۔۔ آپ اسے حل نہیں کر سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ ہیر نے ہلکا سا طنز بھرا قہقہ لگایا تھا ۔۔۔
دیکھیں میں آپکو یہاں آپکے نصاب کا پڑھانے آتا ہوں نہ کہ یہ فضول کویز سولو کرنے ۔۔۔۔۔۔۔ روبن نے تھوڑے سخت لہجے میں مگر دھیمی سی آواز میں کہا تھا ۔۔۔
اس کا مطلب ہے ۔۔۔ آپ نہیں کر سکتے ہیں یہ ۔۔۔ یہی نہ۔۔۔۔۔۔۔ ہیر نے آنکھیں سکیڑی تھیں ۔۔۔
فواد اپنا کام چھوڑے منہ میں قلم دباۓ اب بڑی دلچسپی سے اپنی بڑی بہن اور روبن کی طرف دیکھنے میں مصروف تھا ۔۔۔ فواد ساتویں جماعت کا طالب علم تھا اور ہیر دسویں جماعت کی ۔۔۔ ہیر پڑھاٸ میں کافی حد تک ذہین تھی لیکن فواد اتنا ہی لا پرواہ اور نکما تھا ۔۔۔
روبن نے جھٹکے سے سامنے رکھی کاپی کو اٹھایا تھا ۔۔۔ ہیر نے طنز بھری مسکراہٹ سے کلکیولیٹر روبن کی طرف بڑھایا تھا ۔۔۔ یہ آٸ کیو لیول کا مشکل ترین سوال تھا جس کو بہت کم لوگ حل کر پاتے تھے ۔۔۔
یہ رکھیں اپنے پاس ہی ۔۔۔۔۔۔۔ روبن نے گھور کر ہیر کے کلکیولیٹر پکڑے ہاتھ کی طرف دیکھا اور پھر کاپی پر جھک گیا تھا ۔۔۔
صرف پانچ منٹ کے بعد وہ اپنا تیز تیز کاپی پر چلتا ہاتھ روک کر اپنا سر اوپر کر چکا تھا
یہ لیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ روبن نے اسی انداز میں ہیر کے آگے کاپی کو پٹخا تھا جیسے تھوڑی دیر پہلے ہیر نے اس کے سامنے کاپی کو پھینکا تھا ۔۔۔
ہیر پھٹی پھٹی آنکھوں سے کاپی پر حل شدہ درست جواب کے ساتھ موجود سوال کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
میرا خیال ہے اگر میری ذہانت کی جانچ پڑتال آپ نے ان تین دنوں میں اچھے سے کر لی ہو تو کچھ پڑھاٸ پر توجہ دے لیتے ہیں اب کیا خیال ہے ۔۔۔۔۔۔ روبن نے لفظ چبا چبا کر ادا کیے تھے ۔۔۔ ہیر نے حیرت میں ڈوبے ہوۓ انداز میں سر کو ہلایا تھا ۔۔۔
اور آپ۔۔۔ اپنا کام کرو ۔۔۔۔۔۔۔ روبن نے گھور کر اب فواد کی طرف دیکھا تھا جس کے چہرے پر بھی اب طنز بھری مسکراہٹ نہیں تھی ۔۔۔
جی سر۔۔۔۔ ۔۔۔ فواد فورا اس کے گھورنے سے گھبرا کر اپنی کاپی پر جھکا تھا ۔۔۔
**********
میں نہیں مانتی یہ کہ وہ کریسچن ہی ہے ۔۔۔ فضا نے حیرت سے آنکھیں پھلاٸ تھیں ۔۔
وہ فضا کے گھر اس کے کمرے میں موجود بیڈ پر سرخ چہرہ لیے بیٹھی نعمان کی وہ اصلیت کھول رہی تھی جو اسے بھی ایک دن پہلے ہی معلوم ہی تھی ۔۔۔ وہ اسلام آباد میں فضا کے سسرالی گھر میں موجود تھی ۔۔۔
ہے۔۔۔ ہے ۔۔۔ اس کا دوست آیا تھا اس نے مجھے صاف صاف الفاظ میں بتایا ہے کہ وہ تو مسلمانوں سے اس قدر نفرت کرتا ہے کبھی مسلم ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتا ۔۔۔ حسنیٰ نے چبا چبا کر کہا ۔۔۔
لیکن ۔۔۔ اس دن ۔۔۔ ۔۔۔۔ فضا کو ابھی بھی اس کی بات پر رتی برابر یقین نہیں تھا
وہ سب فریب تھا دھوکا تھا ۔۔۔ وہ عجیب ہے میرے ساتھ کوٸ گیم کھیل رہا ہے میں ڈر گٸ تھی وہاں سے بنا بتاۓ بھاگ آٸ ہوں یہاں تمھارے پاس۔۔۔حسنیٰ واقعی پریشان حال تھی ۔۔۔
لیکن ۔۔۔ حسنیٰ۔۔۔۔۔۔۔فضا نے پھر سے بولنے کے لیے منہ کھولا تھا ۔۔
وہ کیا پاگل تھا جو دو گھنٹے میرے پاس بیٹھ کر اسکا بتاتا رہا تھا ۔۔۔ حسنیٰ کو اب فضا کے نہ یقین کرنے پر غصہ آگیا تھا ۔۔۔
وہ کوٸ نعمان نہیں ہے ۔۔۔ وہ روبن ولسم ہے ۔۔۔ ایک مسیح ۔۔۔ حسنیٰ نے دانت پیستے ہوۓ کہا تھا

 

حسنیٰ مجھے اس سے بات کرنی ہے مجھے اس کا نمبر دو ۔۔۔ فضا نے پاس پڑے حسنیٰ کے موباٸل کو اٹھایا تھا۔۔۔
اس کے چہرے کے تاثرات افسوس کرنے جیسے تھے ۔۔۔حسنیٰ ایک انتہاٸ احمق لڑکی تھی اور جو حرکت وہ اب کر نے کے بعد اس کے گھر آٸ بیٹھی تھی فضا کو اس حرکت کی اس سے قطعً توقع نہیں تھی ۔۔۔
میرے پاس کیوں ہو گا اس کا نمبر ۔۔۔۔۔۔حسنیٰ نے بے زاری سے کندھے اچکاۓ تھے اور جلدی سے فضا کے ہاتھ سے اپنا موباٸل چھین لیا تھا۔۔۔
کیوں ہو گا۔۔۔۔ بیو قوف لڑکی دس دن سے اس کے ساتھ تھی میاں بیوی کی طرح ۔۔۔۔۔۔۔ فضا نے حیران ہو کر اس کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
او۔۔۔۔ ہیلو ۔۔۔ کوٸ میاں بیوی نہیں ۔۔۔ ایسا کچھ نہیں تھا ہمارے بیچ ۔۔۔ میں نے اسے ہاتھ لگانا تو دور کی بات اس سے ڈھنگ سے بات بھی کرنا شروع نہیں کی تھی ان دنوں میں اور شکر ہی ہوا نہیں کی تھی شروع ۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ نے چہرے پر آتے بالوں کو پیچھے کیا اور بیڈ پر تکیے کی ٹیک سے ڈھے سی گٸ تھی۔۔۔
یہ فضا کے گھر کا گیسٹ روم تھا جہاں وہ کل سے آ کر سو رہی تھی اور اب جا کر آنکھ کھلنے پر اس نے اپنے یہاں آنے کی ساری رام کہانی فضا کو گوش گزار کی تھی ۔۔ جو اس کی اس بیوقوفانہ حرکت پر تپی بیٹھی اسے گھور رہی تھی ۔۔۔
توبہ۔۔۔۔ اس کا نمبر تک نہیں ۔۔۔ گھر کا ایڈریس دو میں خود جاٶں گی اس کے پاس ۔۔۔۔۔۔۔۔ اب کی بار فضا اٹھ کر کھڑی ہو چکی تھی ۔۔۔
نہیں ہر گز نہیں میں اسے چھوڑ چکی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ ایک دم پھر سے سیدھی ہو بیٹھی تھی چہرے پر زمانے بھر کی ناگواری سجی تھی ۔۔۔
پر حسنیٰ تم یوں بنا تصدیق کیے اپنے نکاح سے منکر نہیں ہو سکتی کیا پتا وہ ہی سچ کہہ رہا ہو اور وہ نکاح سے پہلے مسلم ہو گیا ہو۔۔۔۔فضا نے اسے سمجھانے کے انداز میں ماتھے پر بل ڈال کر کہا تھا ۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے مان لیا کہ وہ شوہر ہے میرا ایسا شوہر جو اچانک سے میری زندگی میں آ گیا جسے نہ میرے دل نے قبول کیا اور نہ ابھی تک میرا دماغ شاک سے نکلا ۔۔۔ حسنیٰ اپنے مخصوص انداز میں اپنے بے تکے دلاٸل دے رہی تھی اور ان دس دن میں تو وہ عفت کے غم سے بھی اچھی خاصی باہر آ چکی تھی ۔۔۔
اگر ان سب باتوں کو نظر انداز کر بھی دوں تو اس کے پھٹے ہوۓ جوتے اس کی بوسیدہ شرٹ ۔۔۔ اور خالی جیب ۔۔۔۔ یہ سب کیسے اگنور کروں۔۔۔ میں ہر گز اس کے ساتھ پوری زندگی نہیں گزار سکتا ۔۔۔۔۔۔۔ وہ پھر سے ٹیک لگا کر بازو سینے پر باندھ چکی تھی اور چہرے کا رخ بھی فضا کی طرف سے موڑ لیا تھا ۔۔۔
اور اس کی صورت ۔۔۔ اس کی سیرت ۔۔۔ حسنیٰ ۔۔۔ تم نے اس کی آنکھیں دیکھی تھیں ۔۔۔ میں نے اپنی زندگی میں اتنا خوبصورت اور مکمل حسن رکھنے والا مرد نہیں دیکھا۔۔۔۔ اور جیسے اس وقت اس نے تمہیں بچایا ایسا کون کرتا آجکل۔۔۔ فضا کو اس کی عقل پر افسوس ہو رہا تھا لیکن اس کا یہ انداز اس کی خود غرضی یہ سب فضا کے لیے نیا نہیں تھا ۔۔۔
لیکن افسوس تم اس وقت شادی شدہ تھی ۔۔۔ مجھے اس کی حالت نے کبھی اس کی شکل دیکھنے کا موقع نہیں دیا اور تمہیں پتا ہے میں شکل کو اتنی اہمیت نہیں دیتی ۔۔۔ حسنیٰ ہنوز اسی بات پر ڈٹی بیٹھی تھی ۔۔۔
ہاں ۔۔۔ پتہ ہے ۔۔ اس حازق کے بعد ۔۔۔ ۔۔۔ فضا نے ناگواری سے ناک چڑھاٸ
اور پھر ایک دم سے آنکھ سکیڑ کر بیڈ پر بیٹھ کر حسنی کو گھورا تھا ۔۔۔
اب کیا پھر سے اسی کے پیچھے تو یہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔ فضا نے اپنا خدشہ ظاہر کرتے ہوۓ رک رک کر کہا تھا اور پھر حسنیٰ کی حالت پر یک دم بات کرتے کرتے رک گٸ تھی
حسنیٰ لب کچل کر روہانسی شکل بناۓ فضا کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
اوہ۔۔۔۔ میرے خدا ۔۔۔۔ بس کر دے بد دماغ لڑکی ۔۔۔۔۔۔۔۔فضا نے افسوس کے انداز میں اپنا سر پیٹ ڈالا تھا ۔۔۔
کیوں کر دوں بس ۔۔۔۔ مجھے ایک بار کیا بار بار اسے یاد دلانا ہے کہ وہ مجھ سے کتنی محبت کرتا تھا ۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ نے پر سوچ لہجے میں کہا تھا ۔۔۔
تمھارا کچھ نہیں ہو سکتا حسنیٰ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فضا کی آواز بہت مدھم ہو گٸ تھی ۔۔۔
ہو سکتا ہے اگر حازق لوٹ آۓ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ نے گہری سانس لی تھی۔۔۔
فضا اس پر افسوس بھری نظر ڈال کر باہر جا چکی تھی ۔۔۔
***********
جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عورت نے حیرت سے آنکھیں پھیلا کر کہا تھا ۔۔
وہ دروازے کے ایک پٹ کو کھولے جسم کو سار اس کے پیچھے چھپاۓ صرف چہرہ باہر نکال کر پوچھ رہی تھی ۔۔۔ ایک نظر سامنے کھڑی شاندار کار پر اور پھر ایک نظر مسز واصف پر ڈالے وہ سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
یہ ولسم وسٹن کا گھر ہے ۔۔۔۔۔۔ بڑے ہی نرم لہجے میں مسز واصف نے کہا
جی۔۔۔۔۔۔ ہمیں تو شفٹ ہوۓ ابھی تین ماہ ہوۓ ہیں شاٸد اس سے پہلے وہ یہاں رہتے ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ عورت اب بھی مسز واصف کو ستاٸشی نظروں سے دیکھتی ہوٸ پر سوچ انداز میں بولی تھی ۔۔۔
ہممم ۔۔۔ آپ کچھ نہیں جانتی کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ مسز واصف نے پر امید انداز میں پوچھ تھا۔۔۔
نہیں جی ۔۔۔ ہم کو تو کچھ نہیں معلوم۔۔۔۔ لیکن یہ باقی لوگ شاٸد بتا سکیں ہم نۓ ہیں یہاں ۔۔۔۔۔۔ عورت نے ساتھ والے گھر کی طرف اشارہ کیا تھا ۔۔
اوکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مسز واصف نے بڑے انداز سے سن گلاسز پھر سے چڑھاۓ تھے ۔۔۔
وہ آج صبح کی فلاٸٹ سے کراچی پہنچی تھیں ۔۔۔اور گیارہ بجے کے قریب ہی وہ ولسم کی کھوج میں روبن کے ڈاکیومنٹس سے چراۓ گۓ پتے کے حساب سے اس گھر تک پہنچ گٸ تھیں ۔۔ لیکن اتنی محنت کے بعد بھی مایوسی ہو رہی تھیں۔۔
اے_ڈی۔۔۔۔ یہ اگلے گھر کی ڈور بل دو ذرا ۔۔۔۔۔۔۔۔ مسز واصف نے معدب انداز میں ہاتھ باندھے ڈراٸیور سے کہا تھا ۔۔۔
جو حکم ملتے ہی لپک کر ساتھ موجود گھر کی گھنٹی کو بجا چکا تھا جبکہ پہلے گھر کی عورت ابھی بھی کھڑی سارا ماجرا دیکھ رہی تھی ۔۔
جی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پوچھنے پر دروازہ کھولے اب پھر ایک عورت باہر نکلی تھی ۔۔۔
مجھے یہ ساتھ والے گھر والوں کے بارے میں پوچھنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ مسز واصف نے سامنے کھڑی عورت کی آنکھوں میں سوال دیکھتے ہوۓ کہا تھا ۔۔۔
ولسم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عورت نے فوراً کہا۔۔۔
جی جی ۔۔۔ ولسم سٹیون ۔۔۔ ۔۔۔۔۔ مسز واصف نے عجلت میں پورا نام لیا تھا۔۔۔اور گلاسز پھر سے اتار دیے تھے۔۔۔ان کے ہر انداز سے بے چینی جھلک رہی تھی
ولسم تو کب کا چھوڑ گیا تھا کرسٹن کو ۔۔۔ پھر روبن کہیں چلا گیا۔۔۔ ان کا بیٹا ایک ہی بیٹا تھا ۔۔ کرسٹن بہت روتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ عورت پوچھے گۓ سوال سے زیاد ہی انفارمیشن اس کے گوش گزار کر رہی تھی ۔۔۔
اب کہاں ہے کرسٹن۔۔۔۔۔۔۔۔ مسز واصف نے کھوجتی نظروں کے ساتھ اگلا سوال پوچھا تھا ۔۔۔
نہیں معلوم ۔۔۔ بس بولی کہ میرے کچھ رشتہ دار ہیں ان کے پاس جا کر رہوں گی اب ۔۔۔۔۔ یہ عورت بھی اب پہلی عورت کی طرح مسز واصف کو بغور دیکھنے میں مصروف تھی
آپ کے پاس اس کا نمبر ۔۔۔ کچھ پتہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مسز واصف نے پھر کچھ امید باندھی تھی
نہیں جی روبن کا نمبر تو ہے میرےلڑکے کے پاس لیکن کرسٹن کے پاس تو موباٸل ہی نہیں تھا۔۔۔۔۔۔ عورت اب حیران ہو رہی تھی ۔۔۔
تو ولسم کا کچھ پتہ چل سکتا ہے کیا ۔۔ ۔۔۔۔ مسز واصف پھر سے استفسار کر رہی تھیں اور ارد گرد نظریں دوڑا رہی تھیں ۔۔
اس حرامی ۔۔۔ نے تو دوسری شادی رچا لیا تھا اس کے بعد کوٸ پتا نہیں اس کا تین سال ہونے کو آۓ ہیں ۔۔۔ عورت نے حقارت بھرے انداز میں ولسم کے بارے میں آ گاہی دی ۔۔۔
ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔ مسز واصف نے سن گلاسز پھر سے آنکھوں پر ٹکاۓ تھوڑا سا مڑی لیکن پھر واپس پلٹی ۔۔۔
یہاں کوٸ ایسا جن سے ان کا زیادہ ملنا جلنا ہو۔۔ اپنے ذہن میں امڈ آنے والا اگلا سوال وہ عورت کے دروازے بند کرنے سے پہلے پوچھ چکی تھیں ۔۔۔
عورت نے مایوسی سے نفی میں سر ہلا دیا تھا۔۔۔ عجیب بات تھی کیا لوگ اتنی معلومات نہیں رکھتے تھے ایک دوسرے کی ۔۔۔ وہ گم سم سی گاڑی کی پچھلی سیٹ پر براجمان تھی ۔۔
میم صاب اب۔۔۔ کدھر ۔۔۔۔۔۔۔ اے۔ڈی نے بیک مرر سے دیکھتے ہوۓ سوال کیا تھا۔۔۔
بابا کی طرف۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک گہری سانس خارج کرتے ہوۓ مسز واصف نے کہا تھا۔۔۔
************
روبن ہے یہ۔۔۔۔۔ لڑکی نے مینا کے کان کے قریب سرگوشی کی تھی ۔۔۔
روبن ۔۔۔۔منب ۔۔۔داور۔۔۔۔اور علی کار میں سے اترے تھے سیاہ رنگ کی بڑی سی گاڑی داور کی تھی ۔۔ روبن اور منب کی یونیورسٹی میں داور سے دوستی ہوٸ تھی وہ کافی امیر لیکن اشتہاری قسم کے خاندان سے تعلق رکھنے والا لڑکا تھا۔۔ روبن کے بارے میں اسے روبن کے پرانے ہم جماعت سے پتہ چلا تھا کہ روبن کے آگے آج تک کوٸ نہیں ٹک سکا تھا۔۔۔ اسے روبن جیسا سٹریٹ فاٸٹر قسم کا لڑکا اپنا داٸیں بازو بنانا تھا۔۔۔۔ روبن بہت جلد کسی کو دوست نہیں بناتا تھا خاص طور پر کسی مسلم کو لیکن داور نے اس کے دل میں گھر کر ہی لیا تھا۔۔۔ وہ اب بے حد سنجیدہ ہو چکا تھا۔۔۔ ولسم کی گھر میں آۓ دن جھڑپ ہوتی رہتی تھی وہ اب کرسٹن پر ہاتھ اٹھانے لگا تھا روبن عجیب ذہنی کشمکش کا شکار ہو چکا تھا اپنی پڑھاٸ وہ ہر گز نہیں چھوڑنا چاہتا تھا جس کے لیے وہ ایک دو ہوم ٹیوشنز پکڑ چکا تھا۔۔۔
واٶ۔۔۔۔۔۔ کیا بات ہے ۔۔۔۔ کیوں ڈرتے سب اس سے اتنا ۔۔۔۔۔۔۔۔ مینا روبن کو دیکھ کر ہی فدا ہو چکی تھی ۔۔۔
پنچ مارتا ہے سیدھا منہ پر اور دانت باہر سنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ردا نے آنکھ ماری تھی
روبن بلیک ہڈ پہنے پینٹ کی جیبوں میں میں ہاتھ ڈالے بہت سی لڑکیوں کے دلوں کو روندتا ہوا آ رہا تھا۔۔۔اس کے فرنٹ کے بالوں کی لمبی بھوری لٹ چہرے پر آ رہی تھی جس سے وہ بلکل ایسے ہی بے نیاز تھا جیسے وہ اپنے ارد گرد لڑکیوں کی گھومتی گردنوں سے ۔۔۔۔۔۔ گہری اداسی سے بھری گرے آنکھیں ۔۔سپاٹ چہرہ ۔۔۔
اس کے پیچھے پیچھے چلتے اب وہ کلاس میں پہنچ چکی تھیں جہاں وہ چاروں لڑکے اب روز کے معمول کے مطابق لاسٹ بینچ سنبھال چکے تھے ان چاروں میں سے صرف ایک روبن ہی تھا جو کتابوں پر جھکا ہوا تھا باقی تو اس کے چیلوں کی طرح ارد گرد بیٹھے تھے ۔۔۔
6
ہمیشہ۔۔۔ لاسٹ بینچ پر کیوں بیٹھتا ہے ۔۔ مینا نے رادا کو پھر سے کہنی ماری تھی۔۔۔
مینا ویٹنگ لسٹ پر لیٹ ایڈمیشن تھی بی۔ایس۔سی۔ایس میں اور دو دن میں ہی وہ ہر لڑکی کی طرح روبن ولسم کی اسیر ہو چکی تھی اس کا جان لیوا انداز اس کی کھوج پر مجبور کر دیتا تھا ۔۔ اور یہی وجہ تھی کہ وہ اب ردا سے اس کے بارے میں ساری انفارمیشن لے رہی تھی ۔۔۔
معلوم نہیں ۔۔۔ لیکن میرڈ لسٹ میں نیم سب سے اوپر تھا اس کا ۔۔۔ردا نے بھی الجھتے ہوۓ اس کے سب سے آخری بینچ پر بیٹھنے کے بارے میں کہا۔۔۔
پرفیسر بخت نے سی آر شپ کے لیے بھی کہا تھا اسے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ردا اور مینا کا آج کا سارا دن روبن ولسم کی باتوں میں ہی گزر رہا تھا ۔۔۔
پر صاف انکار ۔۔۔۔ کبھی کسی سے بات تک نہیں کرتا ۔۔۔۔۔۔ ردا مسلسل مینا کے کان میں سرگوشی کی شکل میں روبن کی ساری آگاہی دے رہی تھی ۔۔۔
بس یہ تین لڑکے ہوتے اس کے ساتھ ۔۔۔ ان سے ہی بات کرتا ۔۔۔۔۔۔ ردا نے کن اکھیوں سے سنجیدہ سپاٹ چہرے لیے تین لڑکوں کو دیکھا تھا ان کی شکلیں ہی اتنی رعب دار تھیں کہ کوٸ خود بھی ان کے پاس نہیں پھٹکتا تھا۔۔۔
کاش ۔۔۔ مسلمان ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مینا تو فدا ہی ہو چکی تھی۔۔۔ ایک ٹھنڈی سانس خارج کی اور ایک نظر پھر سے روبن پر ڈالی ۔۔۔
تو کر لے مسلمان اسے ۔۔۔ یہ بھی سنا پہلے ایم جے۔۔۔ سکول کا پڑھا ہوا ہے مسلمانوں سے بات تک کرنا پسند نہیں کرتا ۔۔۔۔۔۔۔ صرف ردا ہی اس کے بارے میں اتنا کچھ نہیں جانتی تھی بلکہ یونیورسٹی کی بہت سی دل ہاری ہوٸ لڑکیاں اس کے بارے میں بہت کچھ جان چکی تھیں ۔۔۔
پیور۔۔۔مطلب ۔۔۔ کٹر مسیح۔۔۔۔ گلے میں لاکٹ دیکھ اس کے ۔۔۔۔۔ ردا نے لب کا کونا دانتوں میں دبا کر روبن کی طرف دیکھا تھا اور مینا بھی اس کی نظروں کا تعاقب کیے اب روبن کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
اسے لڑکیوں کے لوگوں کے یوں دیکھنے کی اب عادت ہو چکی تھی وہ جیسے جیسے بڑا بڑا ہو رہا تھا اس کی شخصیت نکھر گٸ تھی اور لڑکیوں کا اس پر یوں فدا ہو کر آہیں بھرنا اس کے لیے نیا نہیں تھا ۔۔۔
ہممم۔۔۔۔۔ چل اس کا مطلب ہے ہماری پہنچ سے بہت دور ہے ۔۔۔۔۔۔ مینا کے لہجے میں اداسی در آٸ تھی
اور کیا ۔۔۔۔ تجھے سب اس لیے بتا رہی کیونکہ تو اس دن سے لٹو ہو رہی جب سے آٸ ہے ۔۔۔۔۔ ردا نے ہنسی دباٸ ۔۔۔
تم تو جیسے نہیں ہو ۔۔۔ اتنی انفارمیشن اکھٹی کر رکھی ہے اس کی ۔۔۔ مینا نے مصنوعی غصہ دکھایا تھا ۔۔۔
پروفیسر کے کلاس پر آنے پر ہی دونوں کی کھی کھی بند ہوٸ تھی۔۔۔
************
کیسی ہیں آپ ۔۔۔۔۔۔۔۔مسز واصف نے دھیرے سے گلے ملتے ہوۓ کہا۔۔۔
ادھیڑ عمر خاتون نے ہلکا سااپنا جسم اوپر اٹھا کر مسز واصف کےساتھ لگایا تھا اور پھر نیچے لیٹ گٸ تھیں ۔۔۔ اعلی شان حویلی کا شاندار وسیع عریض کمرہ تھا جس کے اندر موجود بڑے سے بیڈ پر وہ ادھیڑ عمر خاتون لیٹی ہوٸ تھیں ۔۔۔
بس گزر رہی ہے ۔۔۔۔۔۔تم کیسی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ نقاہت بھری آہستہ سے آواز
بس گزر رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ مسز واصف نے زبردستی کی مسکراہٹ چہرے پر سجاٸ تھی ۔۔۔
اسی لمحے یونیفارم میں ملبوس دو لڑکیاں کمرے میں ہاتھ باندھے داخل ہوٸ تھیں ۔۔۔۔
امی۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کے ملازم کیوں کم لگ رہے ہیں آپ کے پاس تو تین لڑکیاں تھی نہ۔۔۔ مسز واصف نے ماتھے پر شکن ڈالتے ہوۓ پوچھا تھا۔۔۔
وہ۔۔۔۔۔۔۔۔ صابرہ کی آواز کچھ بتاتے بتاتے تھم گٸ تھی
مسز واصف کے ماتھے کے شکن اور گہرے ہو گۓ تھے ۔۔۔ لب ایک دوسرے میں پیوست ہوۓ تھے۔۔۔
صنم بھابھی نے کیا نہ سب۔۔۔ آپ نے انھیں بتایا کیوں نہیں ۔۔ اب ان ملازموں کو اس کا میاں نہیں میں پے کرتی ہوں ۔۔۔۔۔۔ مسز واصف نے دانت پیستے ہوۓ کہا تھا۔۔۔
شہروزی۔۔۔۔ جانے دو ۔۔۔۔ چھوڑو۔۔۔۔ بس یہ دو بہت ہیں ۔۔۔ صابرہ نے مسکرا کر اسے غصہ کم کرنے کا کہا تھا۔۔۔
امی دو بہت نہیں ہیں آپ کے لیے میں بات کرتی ہوں بھابھی سے ۔۔۔۔۔۔۔ مسز واصف تنک کر اٹھی تھیں ۔۔۔
شہروزی ۔۔۔ رک جاٶ بیٹا ۔۔۔۔ بس میرے پاس بیٹھو ۔۔ کیسے آنا ہوا کراچی۔۔۔۔۔۔۔ صابرہ نے فوراً اسے دوسری باتوں میں لگایا تھا۔۔۔
وہ۔۔۔۔ بس کچھ کام تھا ۔۔۔۔۔۔۔ مسز واصف نے کھوۓ سے انداز میں کہا تھا
آپ بتاٸیں مجھے کیا کرتی ہیں سارا دن ۔۔۔۔۔۔۔ سانس خارج کر کے صنم پر آۓ ہوۓ غصے کو کم کیا تھا۔۔
اسلام علیکم۔۔۔۔ پھپھو۔۔۔۔۔۔ چہکتی ہوٸ آواز کے ساتھ دروازہ کھلا تھا اور وہ بھاگتی ہوٸ مسز واصف کے گلے میں جھول گٸ تھی۔۔۔
لو آ گٸ تمھاری لاڈلی ۔۔۔ اب تم لگ جاٶ اس کے ساتھ۔۔۔۔۔۔ صابرہ نے خفگی بھرے انداز میں کہا۔۔۔
جس پر اداسی بھرے کمرے میں قہقوں کے جلترنگ بج اٹھے تھے ۔۔۔۔
**************
اس دن پھر خیریت سے گھر پہنچ گٸ تھیں آپ ۔۔۔حازق نے حسنیٰ کے کندھے کے قریب ہو کر آہستہ سی آواز میں کہا تھا۔۔۔
وہ مگن سے انداز میں پینٹنگ کر رہی تھی اسے خبر بھی نہیں ہو کب اس کے عقب میں حازق وہاب آ کر کھڑا ہوا تھا۔۔۔ سب لوگ کلاس سے جا چکے تھے لیکن وہ پینٹنگ کو مکمل کرنے میں اتنی مگن تھی کہ اب کلاس میں صرف دو لڑکیاں ہی بچی تھیں ایک وہ تھی اور دوسری کوٸ اور لڑکی جو کافی دور اپنے کسی پروجیکٹ کو مکمل کرنے میں لگی تھی ۔۔
بڑی مشکل سے آج دو دن کے مسلسل تلاش کے بعد حازق وہاب حسنیٰ کو تلاش کرنے میں کامیاب ہوا تھا۔۔
عقب سے آتی آواز پر وہ اچھل کر سیدھی ہوٸ تھی اور اپنے پیچھے کھڑے مسکراتے ہوۓ حازق کو وہ پل بھر میں پہچان گٸ تھی ۔۔۔
اوہ۔۔۔۔ آپ۔۔۔۔ جی بلکل ۔۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ نے آنکھیں سکیڑی تھیں اور ناک پھلایا تھا۔۔۔
ہممم۔۔۔۔ گڈ۔۔۔۔۔۔۔ حازق کی مسکراہٹ گہری ہوٸ تھی ۔۔۔
وہ عام سی شکل کا لڑکا تھا لیکن اس کی ڈریسنگ اور چہرے سے جھلکتا اس کا امیر پن اسے جازب نظر بناۓ ہوۓ تھا
آپ کا نام نہیں پوچھ سکا تھا میں اس دن غالبًا۔۔۔۔۔۔حازق نے بڑے انداز میں کہا ۔۔ وہ سینے پر ہاتھ باندھے دلچسپی سے حسنی کو دیکھ رہا تھا
جو اپنی بناٸ ہوٸ پینٹنگ کی طرح ہی دلفریب لگ رہی تھی۔۔۔۔ سیاہ رنگ کے دید زیب لباس میں وہ کوٸلے سے نکلے ہیرے کی مانند دمکتی ہوٸ حازق وہاب کی آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی ۔۔۔
جی میں نے خود ہی بتانا مناسب نہیں سمجھا ۔۔۔۔۔۔ حسنی نے بڑی ادا سے کہا
حسنیٰ اس کی توجہ کو بھرپور طریقے سے جج کر چکی تھی ۔۔۔ اس کی مسحور کن آنکھیں پسندیدگی کا عنصر لیے ہوۓ تھیں
بہت اچھی پینٹینگ کر لیتی ہیں آپ ۔۔۔ حازق نے بازو گھوما کر ہاتھ منہ پر رکھتے ہوۓ دلچسپی سے اس کی بناٸ ہوٸ پینٹنگ کی طرف دیکھا
دماغ کی مرمت بھی بہت اچھی کرتی ہوں ۔۔۔ حسنیٰ نے پینٹنگ برش کو آہستہ آہستہ لبوں پر مارتے ہوۓ شرارت سے کہا ۔۔۔
اسے حازق وہاب جیسے امیر کبیر کی یہ توجہ بھلی لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ کہانیوں ناولوں کے کتنے مناظر ذہن میں گھومنے لگے تھے ۔۔۔
یہ تو بہت اچھی معلومات دی آپ نے مجھے ایکچولی ۔۔ میرا بھی دو دن سے دماغ ہلا ہوا ہے ۔۔۔ حازق نے بھرپور انداز میں قہقہ لگایا تھا
اچھا ۔۔۔۔۔تو دماغ درست کروانے آۓ ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ نے ماتھے پر بل ڈالے ۔۔۔
جی ۔۔۔۔۔ حازق نے مسکراہٹ دباٸ تھی
میں ہلے دماغ کا علاج کرنا اچھے سے جانتی ہوں ۔۔۔ آپ کیا سمجھتے ہیں اس دن پانچ ہزار دے کر آپ نے خرید لیا مجھے اور اب آپ با آسانی مجھ سے رغبت بڑھا سکتے ہیں ۔۔۔۔ حسنیٰ نے بڑے انداز سے اپنے بالوں کو جھٹکا تھا
آپ بلکل غلط سمجھی ہیں ۔۔۔ بندہ پرور تو آپ کے بے پناہ حسن کا ایسا اسیر ہوا ہے ۔۔۔۔ حازق نے لہک کر کہا
اوہ۔۔۔۔اچھا ۔۔۔ تو اس بندہ پرور کو میں یہ ریلاٸز کروا دیتی ہوں کہ میں اس طرح کے چھچھورے ہتھکنڈوں میں پھنسنے والی نہیں ۔۔۔ حسنیٰ نے پاس پڑے بیگ کو کندھے پر رکھ کر ناک چڑھاٸ تھی
حازق نے بے ساختہ اس کی اس ادا پر دل تھاما تھا ۔۔۔
راستہ چھوڑیں میرا ۔۔۔۔۔۔۔ بڑی مشکل سے وہ اپنی مسکراہٹ چھپاۓ ہوۓ تھی۔۔۔
دل تیزی سے اتھل پتھل ہونے لگا تھا ۔۔۔۔ اوہ خدا ۔۔۔ اوہ خدا ۔۔۔۔ حازق جیسا امیر لڑکا اس کو اتنا بھاٶ دے رہا تھا۔۔۔وہ اپنے اندر کی اچھلتی خوشی کو چھپاتی بے نیازی برتتی وہاں سے جا چکی تھی ۔۔۔
اور حازق وہاب وہیں کھڑا اپنے لبوں پر دھیرے دھیرے انگلی پھیر رہا تھا آنکھیں حسنیٰ کے بے تحاشہ حسن میں مدھوش سی ہو رہی تھیں ۔۔
**********
ہیر آپ کیا کر رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ روبن نے جھاڑنے کے انداز میں کہا
سامنے موباٸل کو روبن پر سیٹ کیے ہوۓ ہیر سٹپٹا گٸ تھی ۔۔۔ وہ روبن کی ویڈیو بنا رہی تھی جو اس نے اپنی دوست کو دیکھانے کا وعدہ کیا تھا ۔۔۔ وہ اپنی دوست سے سکول میں سارا دن روبن کی باتیں کرتی رہتی تھی ۔۔۔ روبن سر ایسے ہیں ویسے ہیں ۔۔۔وہ بہت بری طرح روبن کی ذہانت اور شخصیت کے سحر میں جکڑی گٸ تھی کچا ذہن کچھ بھی سوچے سمجھے بنا ہر وقت روبن کو سوچتا رہتا تھا اور اب بھی وہ اپنی دوست کے لیے روبن کو اپنے کیمرے میں قید کرنے میں مصروف تھی جب اچانک روبن کی نظر اس پر پڑی تھی ۔۔۔
کہ۔۔۔کچھ نہیں سر ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہیر نے فوراً موباٸل فون ایک طرف رکھ دیا تھا۔۔
تو آپ پڑھ نہیں رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔ روبن نے آنکھیں سکیڑ کر دیکھا تھا ۔۔۔ وہ جان چکا تھا کہ ہیر اس کی ویڈیو بنا رہی تھی لیکن اس نے کچھ ظاہر نہیں کیا تھا البتہ چہرے پر سختی بڑھ گٸ تھی ۔۔۔
آج دل ہی نہیں چاہ رہا ہے سر ۔۔۔۔۔۔ ہیر نے آہستہ آہستہ جھولنے کے انداز میں لاڈ سے کہا تھا ۔۔۔
ہاں نہ سر دل میرا بھی نہیں چاہ رہا ہے چلیں باتیں کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ فواد نےفوراً چہکتے ہوۓ ہیر کی بات کا ساتھ دیا تھا ۔۔
نہیں کوٸ فضول وقت ضاٸع نہیں کرے گا ۔۔۔ ہیر حل کریں جو دیا ہے آپکو ۔۔۔ روبن نے ماتھے پر بل ڈالے اور سخت لہجے میں کہا۔۔۔
سر آپکا نمبر مل سکتا ہے کیا ۔۔۔۔۔۔ ہیر نے کھوۓ کھوۓ سے انداز میں کہا تھا۔۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: