Husna Novel by Huma Waqas – Episode 4

0
حسنیٰ از ہما وقاص – قسط نمبر 4

–**–**–

جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روبن کو اس کی ہمت پر حیرانی ہوٸ تھی ۔۔۔آنکھیں حیرت سے کھلی تھیں گھور کر اس نے ہیر کو دیکھا تھا
جی۔۔۔ کبھی کچھ پوچھنا پڑ سکتا ہے ۔۔۔۔۔ مطلب کچھ سمجھنا پڑ سکتا ہے ۔۔۔ ہیر روبن کا غصے سے بھرا چہرہ دیکھ کر گھبرا گٸ تھی ۔۔۔
نہیں میں اپنا نمبر کسی کو نہیں دیتا آپ کو جو پوچھنا ہو جو سمجھنا ہو وہ اسی تین گھنٹے میں پوچھیں کیونکہ مجھے انہی تین گھنٹوں کا موازہ دیا جاتا ہے ۔۔۔ روبن نے دانت پیستے ہوۓ دو ٹوک انداز میں کہا تھا ۔۔۔
جی۔۔۔۔۔۔۔ ہیر نے خجل ہوتے ہوۓ گھنگرالے بالوں کی لٹ کو کانوں کے پیچھے کیا تھا ۔۔
سوال حل کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روبن کا لہجہ اتنا سخت تھا فواد بھی سٹ پٹا گیا تھا ۔۔۔
************
مجھے حازق وہاب سے ملنا ہے ۔۔۔…۔۔۔کاونٹر پر ہاتھ رکھ کر بے چینی سے کہا ۔۔
وہ اے۔ ون پیسٹی ساٸیڈ کمپنی کے بہت بڑے آفس میں کھڑی تھی ۔۔ بھر پور طریقے سے وہ تیار ہو کر آٸ تھی ۔۔۔ ہلکے فیروزی رنگ کے سٹاٸلش سے جوڑے میں اپنے گھنے بالوں کو کندھے پر بکھراۓ مناسب اور نفیس میک اپ سے اپنے دلکش چہرے کے نقوش کو سنوارے وہ کسی کو بھی ڈھیر کر دینے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔۔گلے میں دوپٹہ لاپرواہی سے جھول رہا تھا ۔۔۔
آپکا گڈ نیم ۔۔۔۔۔۔ کاونٹر کے دوسری طرف بیٹھی لڑکی نے مسکراتے ہوۓ پوچھا تھا جبکہ اس کا دوسرا ہاتھ پاس پڑے فون کے ریسور کو اٹھا چکا تھا ۔۔۔
حسنیٰ عابد ۔۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ نے زبردستی چہرے پر مسکراہٹ سجا کر کہا تھا
اوکے میم ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ لڑکی اب کچھ نمبر دبا رہی تھی ۔۔
سر مس حسنیٰ عابد ہیں کوٸ آپ سے ملنا چاہتی ہیں ۔۔۔۔۔۔ بڑے مہدب انداز میں وہ دوسری طرف موجود حازق وہاب کو اس کی آمد سے آگاہ کر رہی تھی ۔۔۔
لڑکی نے ایک عجیب سی نظر اٹھا کر حسنیٰ کی طرف دیکھا تھا۔۔ پتہ نہیں حازق نے ایسا کیا کہا تھا اسے
اوکے سر ۔۔۔۔۔۔۔۔ لڑکی نے لب بھینچ کر فون کو رکھا اور معزرت والے انداز میں حسنیٰ کی طرف دیکھا تھا
میم۔۔۔۔۔۔۔۔وہ آپ سے ملنا نہیں چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ بڑی شرمندہ سی آواز تھی
دیکھیں مجھے ان سے ملنا ہے ضروری میری بات کرواٸیں پلیز ان سے ان سے کہیں ایک دفعہ بس میری بات سن لیں ۔۔۔ حسنیٰ بے چین ہو گٸ تھی ۔۔۔
میم۔۔۔۔ سوری ۔۔۔۔ بار بار انہیں ڈسٹرب کرنے کی پرمیشن نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ لڑکی نے ہنوز نرمی سے معزرت کے انداز میں کہا تھا
ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ کا ناک پھول چکا تھا ۔۔۔ لب آپس میں پیوست ہوۓ تھے اور آنکھیں سکڑ کر اپنے حجم سے چھوٹی ہوٸ تھیں ۔۔۔
وہ تیزی سے حازق کے آفس کی طرف چل پڑی تھی ۔کاونٹر پر موجود وہ لڑکی اچھل کر اپنی جگہ سے اٹھی تھی ۔۔
میم۔۔۔ رکیں۔۔۔۔ رکیں ۔۔۔ آپ یوں نہیں جا سکتی ہیں روم میں ۔۔۔۔ لڑکی نے کاونٹر سے ہی جھکتے ہوۓ اونچی آواز لگاٸ تھی
لیکن حسنیٰ کچھ بھی سنے بنا تیزی سے آفس کی طرف قدم بڑھا رہی تھی
میم۔۔۔۔۔۔۔۔ لڑکی اب کاونٹر سے باہر نکل کر اس کی طرف بڑھ رہی تھی۔۔۔
لیکن تب تک حسنی آفس کا دروازہ کھولتے ہوۓ اندر داخل ہو چکی تھی ۔۔۔
پرسکون پرستاٸش آفس کے اندر موجود نفیس صوفے پر حازق بڑے رومانوی انداز میں بیٹھا ہوا تھا اور ایک نہاٸت ہی جدید فیشن سے لیس لڑکی اس کے بلکل سامنے انتہاٸ قریب اس کی ٹاٸ کو تھامے بیٹھی تھی ۔۔۔ جیسے ہی حسنیٰ نے دروازہ کھولا تھا وہ سٹپٹا کر اٹھی تھی جبکہ حازق وہاب کے ماتھے پر شکن کی لکیریں عمودی طرف ابھر گٸ تھیں اسکا چہرہ سرخ ہو گیا تھا ۔۔۔
اوہ۔۔۔۔۔۔ تو اس لیے ۔۔۔۔۔۔۔اس لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم مجھ سے ملنا نہیں چاہتے ۔۔۔۔۔۔ بڑے انداز میں طنزیہ ہنسی ہنستے ہوۓ حسنیٰ نے کہا اور لبوں کو باہر نکال کر اس لڑکی کو سر سے پاٶں تک دیکھا تھا۔۔۔ جو اب حیران سی کھڑی حسنیٰ کو دیکھ رہی تھی
جسٹ شٹ اپ ۔۔۔۔ تمہیں اندر کس نے آنے دیا ۔۔۔ حازق نے دھاڑتے ہوۓ کہا تھا۔۔
حسنیٰ اس کے غصے کی پرواہ کیے بنا اس کے اور اپنے درمیان کا فاصلہ عبور کرتی ہوٸ اب بلکل اس کے سامنے کھڑی تھی ۔۔۔
تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے حازق تم مجھے نہیں چھوڑ سکتے یوں ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ حسنیٰ اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کے کوٹ کو تھام چکی تھی ۔۔
وہ بات کرتے ہوۓ اس کے کوٹ کو جھٹکے دے رہی تھی ۔۔۔
حازق کون ہے یہ جاہل۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ساتھ کھڑی لڑکی حسنیٰ کی اس حرکت ہر تنک کر گویا ہوٸ تھی ۔۔۔
نہیں جانتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔حازق نے ایک جھٹکے سے اپنا آپ حسنیٰ سے چھڑوایا تھا چہرہ ویسا ہی سخت تھا ۔۔۔
جھوٹا ہے یہ جانتا ہے مجھے یہ تمہیں بھی چھوڑ دے ۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ چیختے ہوۓ ابھی اپنی بات بھی مکمل نہیں کر پاٸ تھی کہ آفس کا داخلی دروازہ کھولتے ہوۓ دو گارڈ اندر داخل ہو کر تیزی سے اس کی طرف بڑھے تھے ۔۔
لے جاٶ اسے اور دھکے مار کر میرے آفس سے نکالو ۔۔۔۔۔۔۔حازق وہاب نے اونچی آواز میں کہا تھا اور بازو لمبا تان کر انگلی سے اشارہ دروازے کی طرف کیا تھا ۔۔۔
گارڈز حسنیٰ کے بازو تھام کر اب اسے آفس کے دروازے کی طرف گھسیٹ رہے تھے ۔۔۔
حازق ۔۔۔۔ تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے پلیز حازق تمہیں میری محبت کی قسم ۔۔۔۔ حسنیٰ چیخ رہی تھی ۔۔۔
حازق وہاب کمر پر ہاتھ دھرے کھڑا تھا ۔۔چہرے پر ناگواری تھی ۔۔۔
حسنیٰ کو گیٹ سے باہر لا کر چھوڑ دیا گیا تھا ۔۔۔۔ وہ روہانسی ہو گٸ تھی ۔۔۔ اس کو اسلام آباد آۓ آج تیسرا دن تھاجب وہ حازق کے آفس میں آٸ تھی لیکن آج پھر اُس نے دھتکار دیا تھا۔۔۔۔ اب حازق کو زندگی میں واپس لانا جیسے ایک ضد بن گیا تھا۔۔۔حازق کو کھو دینا اس کی زندگی کی سب سے بڑی بیوقوفی لگ رہی تھی اسے اور نعمان کا اس کی زندگی میں آ جانا اس کی بد نصیبی ۔۔۔ وہ فضا سے چھپ کر حازق کے آفس پہنچی تھی کیونکہ اگر اس کو خبر ہوتی تو وہ کبھی بھی حسنیٰ کو نہ آنے دیتی ۔۔۔۔۔حسنٰی نے بے دلی سے کیب کو روکا تھا ۔۔
***********
نعمان سنو ۔۔۔۔ میں نے اپنی بہن سے بات کی ہے وہ ہماری کچھ مدد کر سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔ عبداللہ کی آواز فون میں سے ابھری تھی۔۔۔
وہ آفس میں کرسی کی پشت سے سر ٹکاۓ پریشان حال بیٹھا تھافون کان کو لگاۓ بے حال سا جس کو محبت ملنے کے بعد پھر جداٸ مل جاۓ اس کا حال ایسا ہی ہوتا ہے جیسا اس کا تھا اس وقت آج تیسرا دن تھا اور حسنیٰ کی کوٸ خبر تک نہیں اور کتنی عجیب بات تھی اس کے پاس حسنیٰ کا موباٸل نمبر تک نہیں تھا ۔۔۔ وہ کسی مصیبت میں نہ ہو ۔۔۔ اگر لاہور میں ہی ہےتو کہاں ہو گی وہ اس کی دوست کا بھی تو نہ تو ایڈریس تھا اس کے پاس اور نہ ہی کوٸ رابطہ نمبر ۔۔۔ گھر اس کو حسنیٰ کی بھابیاں نہیں گھسنے دیتی تھیں ۔۔۔ لیکن اب عبداللہ نے ہی اپنی بہن کے ذریعے اس کا پتہ لگانے کا سوچا تھا ۔۔۔
کیسے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نعمان ایک دم سے سیدھا ہوا تھا اور بازو سامنے پڑے میز پر ٹکاۓ تھے ۔۔۔
حسنیٰ کی دوستوں کے بارے میں انفارمشن کے لیے ۔۔۔ عبداللہ نے گہری سانس خارج کی تھی ۔۔۔
لیکن یہ سب ہو گا کیسے ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے بالوں کو جکڑ کر ماتھے پر سے ہٹایا تھا ۔۔۔
شیو کافی حد تک بڑھ چکی تھی ۔۔۔۔آنکھیں تین دن سے نہ سونے کی وجہ سے تھک گٸ تھیں ۔۔۔وہ اپارٸٹمنٹ میں شفٹ ہو چکا تھا ۔۔فل فرنشڈ اپارٸٹمنٹ تھا ۔۔۔ اور وہ حیران تھا کہ واصف ٹیکسٹاٸل اپنے نۓ آنے والے امپلاٸ کا اگر اتنا کرتے ہیں تو جو لوگ یہاں سالوں سے کام کر رہیں ہیں ان کا کتنا کرتے ہوں گے
مجھ پر چھوڑ دو فریال آج ان کے گھر جاۓ گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عبد اللہ نے اسے تسلی دی تھی۔۔۔
ہممم ٹھیک ہے ۔۔۔ سنو کچھ لوگ میرا پیچھا کرتے یہاں آٸیں گے ان کو میرے گھر کے بارے میں بلکل نہیں پتا چلنا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے گہری سوچ میں ڈوب کر کہا تھا۔۔
تم فکر ہی نہ کرو میری جان داور مجھے پہلے ہی آگاہ کر چکا تھا اچھا سنو داور کہہ رہا تھا چھوٹا گھوڑا چاہیے ۔۔۔۔۔۔ عبداللہ کا انداز رازدار ہو گیا تھا ۔۔
نہ۔۔۔نہیں داور کو بلکل منع کر دو اب ایسا کوٸ کام نہیں کرنا مجھے ۔۔۔میرا پرسنل پسٹل ہے ابھی میرے پاس۔۔۔ نعمان نے آفس کے دروازے کی طرف دیکھتے ہوۓ آواز کو سرگوشی میں تبدیل کیا تھا ۔۔۔ داور سے اب وہ کسی قسم کی کوٸ مدد نہیں لینا چاہتا تھا۔۔۔ پانچ ماہ وہ اتنا خوار ہوا تھا لیکن اس نے داور سے کوٸ مدد نہیں لی تھی ۔۔اور نکاح کے لیے اس کے پاس داور کا سہارا لینے کے علاوہ اور کوٸ چارہ نہیں بچا تھا ۔۔۔
اوکے۔۔۔۔۔۔ فکر نہیں ۔۔ یہاں عبداللہ ہے نہ۔۔۔ چل اب نماز کا وقت ہونے والا ہے عصر قضا نہیں کرتے ۔۔۔ عبداللہ نے محبت بھرے لہجے میں کہا تھا ۔۔۔
ہاں ۔۔۔ یاد ہے ۔۔۔ خسارے میں ہے وہ جس نے نمازِ عصر چھوڑی ۔۔۔ نعمان نے مدھم سی آواز میں کہا
ماشااللہ۔۔۔۔اللہ تم سے راضی ہو میرے بھاٸ۔۔۔ عبداللہ نے دعا دی تھی۔۔
عبداللہ ۔۔۔ تم بہت اچھے ہو ۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے غیر مرٸ نقطے پر نظر جماٸ ۔۔۔ بے شک وہ داور کے ریفرینس سے ہی ہفتہ پہلے عبداللہ سے ملا تھا لیکن عبداللہ اور داور میں زمین آسمان کا فرق تھا ۔۔۔گو کہ عبداللہ داور کا ہی خاص بندہ تھا لیکن اس کا مزیب کی طرف جھکاٶ اور اس کا رحمدل ہونا اسے داور سے کہیں زیادہ اچھی سنگت دے گیا تھا ۔۔۔
او۔۔۔۔ نہیں میری جان تم بہت اچھے ہو ۔۔۔۔۔۔۔ عبداللہ نے قہقہ لگایا تھا ۔۔
اچھا ۔۔۔ رکھتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے مسکراتے ہوۓ کہا۔۔۔
اور فون بند کرنے کے بعد ۔۔۔ لبوں پر آٸ مسکراہٹ پھر سے غاٸب ہوٸ تھی ۔۔۔ نکاح والے دن کے بعد آج اس کے لب مسکراۓ تھے ۔۔۔
***********
تم کیا کر رہی تھی چھت پر ۔۔۔۔ عفت نے ماتھے پر بل ڈال کر کہا تھا ۔۔۔
حسنیٰ بال کھولے بنا دوپٹےچھت کے زینے سے لہراتی ہوٸ
7
نیچے آ رہی تھی وہ کسی گانے کو گنگناتی سر شار سی نیچے آ رہی تھی ۔۔۔ عفت کے گھور کر سوال کرنے پر وہ پل بھر کے لیے ٹھٹھکی تھی کیونکہ دل میں تو چور تھا ہی وہ حازق وہاب سے بات کر رہی تھی
ویسے ہی چاۓ لے کر گٸ تھی۔۔۔ گھٹی سی آواز میں جھوٹ بولا تھا ۔۔۔
حازق اب یونیورسٹی میں اس کے آگے پیچھے پھرنے لگا تھا۔۔۔ وہ تو ویسے بھی دولت کی پجاری تھی حازق کی تھوڑی سی توجہ پر ہی ڈھیر ہو گٸ تھی ۔۔۔اور حازق اس کے حسن سے آنکھیں سیکتا تھا اور اسے وہ محبت کا نام دیتا تھا ۔۔۔ اور اب تو یونیورسٹی کے بعد بھی وہ ہر وقت حسنیٰ سے بات کرتا تھا ۔۔ حسنیٰ کے گھر کا ماحول ایسا نہیں تھا اور چھوٹے سے گھر میں ہر وقت بھابیاں کان کھڑے رکھتی تھیں اس لیے وہ حازق سے بات کرنے کے لیے چھت کا سہارا لیتی تھی ۔۔۔اب بھی وہ بات کرنے کے بعد حازق کی میٹھی باتوں سے سرشار نیچے آ رہی تھی جب عفت کو دیکھ کر تھوڑی دیر کے لیے وہ گھبراٸ تھی لیکن اگلے ہی لمحے وہ سنبھل چکی تھی۔۔۔
امی کیا دقیانوسی باتیں لے کر بیٹھ گٸ ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ بڑے آرام سے اتر کر اب وہ عفت کے بلکل سامنے کھڑی تھی
دقیانوسی نہیں ہیں ہر لحاظ سے ٹھیک ہیں یہ۔۔۔۔ دینی لحاظ سے بھی اور دنیاوی کے حساب سے بھی۔۔۔۔ عفت نے ناک پھلا کر اس پر ناگوار نظر ڈالی تھی ۔۔۔
اچھا امی بس کریں لیکچر دینا مجھے ۔۔کھانے میں کیا بنا رہی ہیں آپ کی بہوٸیں آج دونوں گھسی ہوٸ ہیں کچن میں خیر ہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔ بڑے لاڈ سے وہ عفت کے گلے میں باہیں ڈال کر جھول گٸ تھی ۔۔۔
اچھا بس تم سے اچھی ہی ہیں کام تو کرتی ہیں ۔۔۔ تجھے بھی سسرال میں جا کر پتہ چلے گا ۔۔۔ عفت نے بے زاری سے اسے خود سے الگ کیا تھا
نا بھٸ ۔۔۔ مجھے تو بہت ہی امیر لڑکے سے شادی کرنی ہے جہاں یہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ ملازموں کی لاٸن لگی ہو گی ۔۔۔ آنکھیں چمکا کر اس نے اپنے بازو کھولے تھے اور مسکراتے ہوۓ وہ تصور میں حازق کا اعلیٰ شان گھر دیکھ رہی تھی
ھاۓ۔۔۔۔ امی مزا ہی آ جاۓ ۔۔۔ نرم بڑا سا بیڈ ہو ۔۔۔ اس کے آگے یہ لمبی چوڑی ہوم سینیما سکرین ٹی وی ہو ۔۔۔ میری پسند کی مووی ہو میرے ہاتھ میں ریموٹ ہو اور پھر ملازم کھانے کی سجی ٹرے لاۓ ناشتہ لاۓ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کھوۓ کھوۓ لہجے میں لہک لہک کر بولے جا رہی تھی ۔۔
عفت کی گھورتی آنکھوں اور ماتھے پر پڑتے بل سے بلکل بے نیاز تھی وہ
آ جا باہر بس اب۔۔۔ نماز پڑھا کر یہ اول فول نہیں آۓ گا دماغ میں اپنے اچھے نصیب کی دعا کیا کر ۔۔ ۔۔۔عفت نے اس کے کھلے بازو کو زور کا جھٹکا دیا تھا
آپ ہیں نہ میرے لیے دعاٸیں کرنے کو ۔۔۔ وہ پھر سے لاڈ میں عفت کو گلے لگا چکی تھی
اور جو میں نہ رہی ۔۔۔۔۔۔۔ عفت نے مدھم سے لہجے میں کہا ۔۔
اماں۔۔۔۔۔آپ تو ہمیشہ رہیں گی ۔۔ اور میرے نصیب کی فکر مت کریں ۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ نے فوراً عفت کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا ۔۔
کیوں نہ کروں بیٹی ہو ۔۔۔ عامر کو ہی پڑی تمہیں پڑھانے کی میں تو چاہتی تھی اپنی زندگی میں ہی تمہیں تمھارے گھر کا کر دوں ۔۔۔ عفت نے فکر مندی سے دیکھا تھا اس کی طرف ۔۔۔
جو اب ان کا چہرہ چومتی مسکرا رہی تھی۔۔۔ لاپرواہی بے فکری اس کے انگ انگ سے جھلک رہی تھی ۔۔۔
**********
ہممم کچھ بنا ۔۔۔ نعمان نے چاۓ کا کپ عبداللہ کے سامنے رکھا تھا۔۔۔
نہیں فریال کہتی ہے اس کی بھابیاں بہت چالاک ہیں مجھے گھر بھی نہیں گھسنے دیا ۔۔ عبداللہ نے شرمندہ سے لہجے میں کہا اور سر نیچے جھکا لیا تھا۔۔۔
وہ نعمان کے اپارٸٹمنٹ کے لاونج میں بیٹھا تھا ۔۔۔ نعمان اس کے بلکل سامنے آ کر بیٹھ گیا تھا۔۔۔
نعمان ۔۔۔ داور کو ہی کہتے ہیں ۔۔ عبداللہ نے لب بھینچے تھے ۔۔۔
ارے۔۔۔۔ نہیں یار تمہیں پتہ ہے نہ میں نے اس سے کسی بھی قسم کی مدد لینا چھوڑ دیا ہے اور یہ والی تو بلکل نہیں ۔۔۔
حسنیٰ کے کسی معاملے میں نہیں داور کو لا سکتا ہوں ۔۔۔ نعمان نے چاۓ کے کپ کے کنارے پر انگلی پھیری تھی ۔۔۔ اور پھر گہری سانس لے کر جیسے خود کو تسلی دی تھی ۔۔۔ اس کا چہرہ روبن سے نعمان بننے کے بعد اور نکھر گیا تھا وجہیہ چہرے پر ہلکی سی بڑھی ہو شیو اسے اور خوبرو بنا گٸ تھی ۔۔
جس کے لیے یہ سب کیا وہ ہی چھوڑ کر چلی گٸ تجھے ۔۔۔ ۔۔۔ عبداللہ نے مدھم سے لہجے میں کہا تھا
نہیں گٸ ۔۔۔ نکاح میں ہے میرے کہیں نہیں جانے دوں گا بس ڈور ڈھیلی چھوڑ رہا ہوں اسے بھی پتا ہے سب یہ کہ نکاح جھوٹا نہیں تھا ۔۔۔ وہ سنا عبداللہ کو رہا تھا لیکن تسلی اپنے دل کو دے رہا تھا۔۔۔
چاۓ کا کپ ویسے ہی پڑا تھا۔۔۔ اور اس سے اب بھاپ اڑنا بند ہو چکی تھی ۔۔۔
تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عبداللہ نے مدھم سی آواز میں کہا تھا۔
تو انتظار کروں گا ۔۔۔ وہ آۓ گی۔۔۔۔۔۔ رک رک کھوۓ سے انداز میں کہا تھا۔۔۔
ہاں آۓ گی یہ کہنے مجھے آزاد کر دو ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعمان کو اپنی آواز کسی کھاٸ سے آتی ہوٸ محسوس ہوٸ تھی ۔۔۔
************
نہیں کیوں ایسا کیوں کرنے کا مجھے ۔۔۔۔۔۔۔ کرسٹن نے عجیب سے انداز سے ولسم کو دیکھا تھا۔۔۔
میز پر حیدرآباد والے گھر کے کاغزات پڑے تھے یہ وہ گھر تھا جو کرسٹن کے فادر نے اسے دیا تھا۔۔۔
تو خرچہ کیسے چلاٶں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولسم نے چیخ کر کہا اور ہاتھ میں پکڑے پن کو زور سے میز پر پٹخا تھا۔۔۔
جیسے بھی کر کے ۔۔۔ پر وہ گھر میں تم کو نہیں دینے کا۔۔۔ کرسٹن آدھے گھنٹے سے اس بات پر اڑی بیٹھی تھی ۔۔۔
دینا پڑیں گا ۔۔۔ شوہر ہوں تمھارا تمہیں ہی مدد کرنا ہوگی ۔۔۔ ولسم نے دانت پیس کر کہا تھا۔۔
وہ اپنی جاب کے ختم ہونےکا بہانہ بنا کر کرسٹن سے اس کا گھر لینا چاہتا تھا۔۔۔ اس سے پہلے وہ زیور بھی لے چکا تھا کرسٹن سے جو وہ روزی کو گفٹ کی صورت میں دے کر اسے خوش کر چکا تھا۔۔۔
لیکن وہ گھر ہی کیوں تمھارا بھی تو دوکان ہے اس کو بیچ لو تم ۔۔۔۔۔۔۔ کرسٹن نے منہ پھلا کر کہا تھا۔۔
اب یہ ایک گھر ہی تو تھا جو وہ روبن کے نام کرنا چاہتی تھی اور اب ولسم اتنے دن سے ضد لگا کر بیٹھ گیا تھا ۔۔۔اور آج تو وہ کاغزات بھی تیار کروا کر لے آیا تھا اور اب کرسٹن سے دستخط کرنے کا کہہ رہا تھا۔۔۔
نہیں وہ نہیں بیچنے کا مجھے ۔۔۔۔۔۔۔ کرسٹن نے سپاٹ چہرے کے ساتھ کہا تھا۔۔۔
مجھے میرا گھر نہیں بیچنے کا ۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ولسم کے گھورنے پر کرسٹن نے پھر سے چبا چبا کر کہا تھا۔۔۔
ولسم کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔ آنکھیں غصے سے سکڑ گٸ تھیں اور بھنویں اکھٹی ہو کر ان کے درمیان میں شکن پڑ چکے تھے ۔۔۔
تو کیا یہ بھی اس حرامی کو دیں گا تم ۔۔۔ ولسم دھاڑا تھا۔۔۔
اتنی اونچی آواز تھی کہ کرسٹن نے خوف سے ایک جھٹکا لیا تھا۔۔۔
نہیں ہے وہ حرامی میرا بیٹا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ کرسٹن نے آرام سے کہا تھا۔۔
نہیں ہے وہ ہمارا بیٹا ۔۔۔ ہاسپٹل کی ڈسٹبن میں پڑا کسی کے گندے کام کا نتیجہ تھا وہ جس کو اٹھا کر سینے سے لگایا تم نے ۔۔۔۔۔۔۔ ولسم نے اتنی زور سے کہا تھا کہ اس کے دماغ کی رگیں پھولنے لگی تھیں ۔۔۔
ولسم۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ کرسٹن نے آنکھیں نکالی تھیں ۔۔۔
کیا ولسم ہاں ۔۔۔۔.۔۔۔۔۔ ایسا اچ ہے ۔۔۔ وہ گند ہے کسی کا اور میں یہ ہر گز برداشت نہیں کرنے کا تو اس کو دے یہ گھر ۔۔۔ ولسم نے ناک پھلا کر کہا تھا اور اٹھ کر کھڑا ہو گیا تھا۔۔۔
وہ گند نہیں ۔۔۔ وہ گفٹ ہے گاڈ کا جو تم کو ملا مجھ کو ملا۔۔۔۔۔۔۔ کرسٹن کی آواز درد سے پھٹ گٸ تھی ۔۔۔
اتنا پیارا۔۔۔۔ اس کو دیکھا کبھی کیسے اینجل جیسا صورت اس کا۔۔۔ ۔۔۔۔۔ کرسٹن کی آواز روہانسی ہو گٸ تھی ۔۔۔
صورت سے کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔۔ پہچان سے ہوتا ۔۔۔ بول کیا پہچان ہے اس کا بول ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ولسم ہاتھ نچا نچا کر کرسٹن سے کہہ رہا تھا ۔۔
کرسٹن نے روہانسی شکل بنا کر ابھی بات شروع کرنے کے لیے نظر اٹھاٸ ہی تھی ۔۔کہ سامنے کھڑے روبن کو دیکھ کر اس کی روح فنا ہوٸ تھی منہ کھلے کا کھولا رہ گیا تھا ۔۔۔
وہ زرد سپاٹ چہرہ لیے ایک مجسمے کی مانند کھڑا تھا جس کی آنکھیں ساکن تھیں اور خون جیسے کسی نے جسم سے نچوڑ لیا ہو وہ ایک لاش لگ رہ تھا ۔۔۔
لاش۔۔۔۔۔۔ زندہ لاش۔۔۔۔۔ جس کی سانس چل رہی تھی دل دھڑک رہا تھا اور بس ۔۔۔ ۔۔۔۔۔
روبن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کرسٹن بجلی کی سی تیزی سے روبن کے پاس پہنچی تھی ۔۔۔۔
ولسم طنزیہ مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ کھڑا تھا ۔۔۔
روبن۔۔۔۔۔ یہ پاگل ہے ۔۔۔۔ یہ۔۔۔ یہ ۔۔۔ ۔۔۔۔ کرسٹن کی آواز اس کی زبان کا ساتھ نہیں دے رہی تھی ۔۔۔
منہ خشک ہو کر زبان بار بار تلوے سے چپک رہی تھی ۔۔۔
روبن تم میرا بیٹا ہے باٸ گاڈ ۔۔۔ میرا سن ہے میرا۔۔۔۔۔۔۔۔ کرسٹن نے اپنی چھاتی پیٹی تھی۔۔۔۔ وہ روبن کو جھنجوڑ رہی تھی ۔۔۔ اسے کندھوں سے پکڑ کر ہلا رہی تھی ۔۔۔
لیکن وہ ساکن تھا ۔۔۔۔ مجسمہ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گند۔۔۔۔۔
کسے کے گندے کاموں کا نتیجہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حرامی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوٸ آری سے کاٹ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ کوٸ خون سک کر رہا تھا ۔۔۔۔ دماغ ساٸیں ساٸیں کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ ہونٹ خشک ہو رہے تھے ۔۔۔ آنکھوں کے پتلے مردہ انسان جیسے ہو گۓ تھے۔۔۔
روبن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوٸ بہت دور سے پکار رہا تھا ۔۔۔۔
ولسم ۔۔۔تم بولو نہ اس کو یہ سب تم غصے میں بولا بولو ولسم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ کچھ آوازیں اس لمحے کی تھیں اور باقی سب اور تھیں ۔۔۔
یہ تو تمھارا بیٹا نہیں لگتا۔۔۔
پیسے نہیں میرے پاس اس کے ایڈمیشن کے ۔۔۔
گنڈا بنیں گا یہ گنڈا ۔۔۔۔۔

 

بھاری قدموں اور بوجھل دل کے ساتھ وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھا تھا۔۔۔ اور پھر اس کے قدم ولسم کے بلکل سامنے جا کر تھم گۓ تھے ۔۔۔
کون ہوں میں ۔۔۔ روبن کی آواز کسی کھاٸ سے آتی ہوٸ محسوس ہوٸ تھی ۔۔۔
لبوں ایک دوسرے میں بھینچے بس چھلکنے ہی والی بھری آنکھوں پر کپکپاتی پلکوں کو لیے وہ ضبط کی آخری سیڑھی پر کھڑا تھا ۔۔۔
گند۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ولسم نے حقارت سے دیکھا تھا ۔۔ لبوں پر طنز بھری مسکراہٹ تھی ۔۔۔
روبن کے گلے سے کچھ نیچے کی طرف اٹک گیا تھا ایسے جیسے آنسوٶں کا گولہ ہوتا ہے۔۔۔ دل میں ایک ٹیس اٹھی تھی ۔۔۔۔ اور آنکھ کے کنارے ہلکی سی جنبش پر ہی آنسو ٹپکا گۓ تھے ۔۔۔
تم ہمارا بیٹا نہیں ہے ۔۔۔ تم کرسٹن کو ہاسپٹل کے ڈسٹبن سے ملا تھا ۔۔۔ ولسم زہر اگل رہا تھا ۔۔۔ ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہہ رہا تھا
اور زہر روبن کے وجود میں کانوں سے رستا ہوا دل کی رگوں میں بہتے خون کو منجمند کر رہا تھا۔۔۔ ولسم اسے بتا رہا تھا۔۔۔ کہ کرسٹن جس ہاسپٹل میں نرسنگ کرتی تھی اسی کے لان کے ڈسٹبن میں سے اسے تمھاری رونے کی آواز آٸ تھی تم ادھ مری سی حالت میں تھے جسے فورا کرسٹن ہاسپٹل لے گٸ تھی ۔۔۔ وہ سن رہا تھا ۔۔۔۔۔بکھر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ٹوٹ رہا تھا۔۔۔ کرسٹن کی آواز گلے میں گھٹ گٸ تھی ۔۔۔
میں نے اسے اس وقت بھی بولا کہ مجھے یہ بچہ نہیں رکھنے کا۔۔۔پر اس ۔۔۔ ولسم چیخ رہا تھا اس سے پہلے کے اس کی بات مکمل ہوتی
روبن کا وہاں کھڑا رہنا اب دشوار ہوچلا تھا ۔۔ سرخ چہرے اور تیز تیز قدموں سے وہ اوپر جانے والے زینے کی طرف مڑا تھا ۔۔۔
روبن ۔۔۔ روبن ۔۔۔۔ میری بات سننے کا ۔۔۔ میرا بچہ۔۔۔ کرسٹن لڑکھڑاتی ہوٸ پیچھے بھاگی تھی ۔۔۔
وہ حواس باختہ تھی کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ حقیقت روبن پر یوں آشکار ہو گی ۔۔۔ ولسم کی زہریلی مسکراہٹ اور گہری ہو چکی تھی۔۔۔
روبن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گھٹنے پر ہاتھ رکھے چہرہ اوپری زینے کی طرف اٹھاۓ کرسٹن چیخی تھی ۔۔۔۔ پر بے سود تھا سب۔۔۔۔۔۔۔ اوپر روبن کے کمرے کا دروازہ زور سے بند کرنے کی آواز آٸ تھی۔۔ جس پر دھک سے چہرے کے ساتھ کرسٹن کا ہاتھ اس کے سینے پر آ گیا تھا ۔۔۔
گھٹنوں میں چہرہ دیے ٹانگوں کو سمیٹے وہ رو رہا تھا۔۔۔ وہ جو جس کی کوٸ پہچان نہیں تھی کوٸ شناخت نہیں تھی ۔۔۔ وہ سسک رہا تھا۔۔۔ ۔۔۔ ٹوٹ گیا تھا۔۔۔ بکھر گیا تھا۔۔۔
تنگ آ گئے ہیں کیا کریں اس زندگی سے ہم
گھبرا کے پوچھتے ہیں اکیلے میں جی سے ہم
مجبوریوں کو اپنی کہیں کیا کسی سے ہم
لائے گئے ہیں، آئے نہیں ہیں خوشی سے ہم
دن ہی پہاڑ ہے شب غم کیا ہو کیا نہ ہو
گھبرا رہے ہیں آج سر شام ہی سے ہم
چھیڑا عدو نے روٹھ گئے ساری بزم سے
بولے کہ اب نہ بات کریں گے کسی سے ہم
تم سن کے کیا کرو گے کہانی غریب کی
جو سب کی سن رہا ہے کہیں گے اسی سے ہم
*******
تمہارا دماغ ٹھیک ہے یہ کیا کرتی پھر رہی ہو تم ۔۔۔ ۔۔۔ فضا نے ایک جھٹکے سے حسنیٰ کے ہاتھ میں پکڑے موباٸل کو چھینا تھا ۔۔۔
وہ فضا کے گیسٹ روم میں موجود بیڈ پر نیم دراز فون پر نظریں جماۓ اداس لیٹی ہوٸ تھی ۔۔۔ جب ایک جھٹکے سے دروازہ کھول کر غصے میں لال چہرہ لیے فضا کمرے میں داخل ہوٸ تھی اور اب اس کے سر پر کھڑی تھی ۔۔۔
کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔ اداسی بھری آہستہ سی آواز میں اس نے کہا تھا جبکہ اسے معلوم تھا کہ وہ کس بارے میں بات کر رہی ہے ۔۔۔ اسے معلوم تھا کہ حازق نے اب اس کے بارے میں ضرور فضا کو بتایا ہو گا کہ وہ اب حازق کا پیچھا کیوں نہیں چھوڑ رہی ہے ۔۔۔
تم کل اس کے آفس گٸ تھی ۔۔۔۔۔۔۔ فضا نے ماتھے پر بل ڈال کر اس کے فون کو ایک طرف بیڈ پر پٹخا تھا ۔۔
تو پہنچ گٸ تم تک بھی خبر ۔۔۔ ہاں گٸ تھی وہ مجھے ایسے نہیں چھوڑ سکتا ۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ گہری سانس لے کر اٹھی تھی اور ہاتھ بڑھا کر ابھی ابھی پھینکے گۓ فون کو اٹھایا ۔۔
حسنیٰ ۔۔۔۔سکتا کیا۔۔۔۔ وہ چھوڑ چکا ہے تمہیں پاگل لڑکی کیوں وقت برباد کر رہی ہو تم اس کے پیچھے ۔۔۔۔۔۔ فضا نے افسوس کا اظہار کرتے ہوۓ کمر پر ہاتھ دھرے تھے۔۔
فضا کو حازق کا فون آیا تھا اور اس نے حسنیٰ کو ان حرکتوں سے باز رہنے کی دھمکی دی تھی۔۔۔۔
نہیں ۔۔۔ وہ مجبور ہے صرف ۔۔۔۔۔۔ بڑے انداز سے اپنے بکھرے بالوں کو سمیٹتے ہوۓ وہ کہہ رہی تھی
کوٸ مجبور نہیں ہے تمہیں شاٸد خبر نہیں ہے اس کی کل منگنی کی تقریب ہے شہر کے بہت بڑے بزنس مین کی بیٹی سے ۔۔۔۔۔۔۔ فضا نے بمب پھوڑا تھا اس کے سر پر ۔۔۔
کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ کی آنکھوں میں حیرت پھیل گٸ تھی ۔۔ بالوں کے سمیٹتے ہاتھ ایک دم کو جو رکے تھے ریشم جیسے بال پھر سے پشت پر ناگن کی طرح لہراتے ہوۓ بکھر گۓ تھے ۔۔
ہاں ۔۔۔ اور مجھے یہ بتاٶ اس سب تماشے کا آخر مطلب کیا ہے ۔۔۔ میں شام کو تمہیں لے کر لاہور جا رہی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ فضا نے دو ٹوک لہجے میں کہا تھا ۔۔
مجھے نہیں جانا وہاں اس غیر مسلم کے پاس ۔۔۔۔۔۔حسنیٰ تنک کر گویا ہوٸ تھی ۔۔۔ آنکھیں سکیڑ کر ناک پھلا لیا تھا ۔۔
دل تھا کہ حازق کی شان و شوکت چھوڑ کر نعمان کے ساتھ اس ڈربے نما گھر میں جانے کے لیے ہر گز تیار نہیں تھا ۔۔۔
وہ مسلمان ہے۔۔۔ پاگل مت بنو پیکنگ کرو ۔۔۔۔فضا بھی اسی کے انداز میں چیخی تھی ۔۔۔
وہ ٹھان چکی تھی کہ وہ زبردستی حسنیٰ کو لے کر لاہور جاۓ گی اور وہاں سے پھر نعمان کے حوالے کرے گی ۔۔۔ حسنی آنکھیں سکیڑے فضا کو گھور رہی تھی اور وہ اس کے گھورنے کی پرواہ نہ کرتی ہوٸ
تیز تیز قدم اٹھاتی کمرے سے باہر نکل گٸ تھی ۔۔۔
**********
ہے۔۔۔۔ہے ۔۔۔۔پیچھے ہٹو۔۔۔۔۔۔۔۔داور نے منب اور ھادی کو پیچھے کرتے ہوۓ راستہ بنایا تھا۔۔۔
فالکن پارک میں لگے بنچ پر روبن سر جھکاۓ بے حال بیٹھا تھا ۔۔۔ وہ کل رات سے یہاں اسی حالت میں بیٹھا تھا ۔۔۔ یہ پارک ان کے گھر سے کچھ ہی فاصلے پر تھا وہ رات گھر چھوڑ کر یہاں آیا تھا۔۔۔ کرسٹن بھاگتی ہوٸ منب کے پاس گٸ تھی اور منب نے کچھ دیر میں ہی اس کا ٹھکانا تلاش کر لیا تھا ۔۔۔۔۔۔ منب اس لمحے اس کی ڈھارس کی طرح تھا جس کے ساتھ لگ کر وہ بلک بلک کر رو دیا تھا اور سب کچھ اسے بتا دیا تھا ۔۔۔۔۔ منب سے اسے اس حالت میں اکیلے سنبھالنا بہت مشکل ہو گیا تھا اس لیے اس نے یہاں داور اور علی کو بھی بلوا لیا تھا ۔۔۔اب سب روبن کے گرد جھمگٹے کی شکل میں کھڑے تھے۔۔۔
اے۔۔۔۔اے۔۔۔۔ ماٸ بواۓ۔۔۔ روبن۔۔۔ داور نے روبن کے جھکے سر کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر اوپر اٹھایا تھا
داور ان سب لڑکوں میں بڑا تھا۔۔۔۔ سفید رنگ کے کلف لگے قمیض شلوار کے ساتھ پشاوری چپل پہنے گردن سے نیچے آتے بالوں۔۔۔۔ بڑھی ہوٸ شیو پر رکھی تاٶ کھاتی مونچھوں اور بھاری سے نیلم جڑی انگوٹھی پہنے وہ ایک رعب دار شخصیت کا مالک تھا ۔۔۔
ادھر دیکھ ۔۔۔ میری طرف۔۔۔۔۔۔۔۔داور اس کے جھکے چہرے کو بار بار اوپر اٹھا رہا تھا لیکن وہ ڈھلک کر پھر نیچے گر جاتا تھا۔۔۔
ادھر دیکھ ۔۔۔یہ داور۔۔۔ یہ منب ۔۔۔ یہ علی ۔۔۔ وقار۔۔۔۔ ھادی ۔۔۔ یہ اچ تیری فیمیلی۔۔۔۔۔۔۔۔داور نے سب کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ اپنے مخصوص ٹپوری سے انداز میں کہا
روبن نے پہلی دفعہ چہرہ اوپر کیا تھا۔۔۔ آنسوٶں سے بھیگی آنکھیں۔۔۔۔۔ بکھرے بال ۔۔۔۔۔۔خشک پپڑی جمے ہونٹ لٹا پٹا سا انداز تھا۔۔۔۔۔ وہ ایسا مسافر تھا جس کی کوٸ منزل نہیں تھی اسے معلوم نہیں تھا کہ اسے کہاں جاناہے پھر بھی وہ سٹیشن پر بیٹھا تھا کسی ٹرین کے انتظار میں ۔۔۔
ہم تیری فیمیلی ۔۔۔۔ داور نے ہاتھ اپنے سینے پر رکھ کر مسکراتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔
روبن کا چہرہ ویسے ہی سپاٹ تھا۔۔۔ کوٸ تاثر نہیں تھا۔۔۔ بس خاموش ۔۔۔ تھا وہ اور پچھلے دس گھنٹے سے وہ مسلسل چپ تھا۔۔۔سب کچھ تو لٹ گیا تھا ۔۔۔ کچھ بھی نہیں رہا تھا اس کے پاس ۔۔۔
تجھے اپنی پہچان خود ڈھونڈنے کا سمجھا۔۔۔۔۔۔۔ داور نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا ۔۔۔
سب دوست اس کے گرد پریشان حال کھڑے تھے ۔۔۔
تو عام لوگاں کی طرح نیں ہے یار ۔۔۔ تو بوت خاص ہے رے۔۔۔۔ داور اب اس کے بلکل برابر بنچ پر بیٹھ چکا تھا ۔۔۔
تو ہم سب میں سے خاص ہے ۔۔۔۔۔۔۔ داور نے سب کی طرف نظر ڈالی تھی ۔۔۔ اور پھر زور سے روبن کو گلے لگا لیا تھا ۔۔۔ کتنی ہی دیر وہ یونہی روبن کو گلے لگا کر بیٹھا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ کچھ دیر بعد داور روبن سے الگ ہوا تھا ۔۔۔ اسے دونوں بازوٶں سے پکڑ کر جھنجوڑا تھا ۔۔۔
ہے چل اٹھ ۔۔۔ اٹھ نا تجھے آج ابا سے ملوانے کا مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ داور نے ایک دم سے روبن کو کھڑا کیا تھا ۔۔۔
بابر بخت سے ملیں گا آج تو ۔۔۔۔۔۔۔۔ داور نے اسے اپنی بغل میں دبا لیاتھا۔۔۔۔
وہ روبن کو یونہی بغل میں دباۓ کار کی طرف چل دیا تھا ۔۔۔
*******
تم ۔۔۔ تم کیا کر رہی ہو یہاں ۔۔۔۔۔۔ حازق نے دانت پیس کر کہا تھا اور تیزی سے حسنیٰ کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔
مجھے تم سے بات کرنی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ تیزی سے آگے بڑھی تھی۔۔۔
پاگل ہو کیا تم ۔۔۔ نکلو باہر ۔۔۔۔۔۔۔ حازق نے حسنی کے بازو کو دبوچا تھا ۔۔۔
کون ہے یہ ۔۔۔ حازق ۔۔۔۔۔۔ وہاب کی عقب سے آتی آواز پر دونوں ٹھٹھک گۓ تھے۔۔۔
میں حسنیٰ ہوں ۔۔۔ اور آپ کے بیٹے کی محبت ہوں ۔۔۔ بڑے ہی پر سکون انداز میں حسنیٰ نے کہا تھا۔۔۔
سامنے کھڑے وہاب انجم کی آنکھیں حیرت سے پھیل گٸ تھیں ۔۔۔حسنیٰ حازق وہاب کے اعلیٰ شان بنگلے کے لاونچ میں پرسکون انداز میں سینے پر ہاتھ باندھے کھڑی تھی۔۔۔ حازق کی بری طرح گھورتی نظروں سے بلکل بے نیاز وہ نک سک سے تیار ہوٸ اس کے باپ کو سوچ میں ڈال گٸ تھی۔۔۔
8
وہ اپنی ضد کی پکی تھی جب فضا نے اسے حازق کی منگنی کے بارے میں بتایا تو اس کے سینے پر سانپ لوٹ گۓ تھے ۔۔۔اور وہ کچھ دیر بعد ہی اسلام آباد کے پر ستاٸش علاقے میں وہاب ولاز پہنچ چکی تھی ۔۔۔
بکواس بند کرو اپنی ۔۔۔۔۔۔۔ حازق غصے سے کھولنے کے انداز میں دانت پیس کر آگے بڑھا تھا ۔۔۔
حازق ۔۔۔۔ سٹاپ اٹ ۔۔۔ سٹاپ ۔۔۔۔۔۔۔ وہاب انجم نے بازو کی آڑ بنا کر حازق کے قدم روکے تھے
تم بولو ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہاب نے حسنیٰ کی طرف دیکھا تھا
آپ کے بیٹے نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا۔۔۔ میں نے اس کی محبت میں اپنا گھر بار سب چھوڑا ۔۔۔ میرے اپنوں نے مجھے گھر سے نکال دیا ہے ۔۔۔حسنیٰ نے کھوۓ سے انداز میں التجا کی تھی
میں نے نہیں کہا تھا تم سے کہ تم چھوڑو سب۔۔۔۔۔۔ حازق نے چیخنے کے انداز میں کہا تھا ۔۔۔
وہاب نے حازق کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔
حازق تم خاموش رہو ۔۔۔۔۔۔۔ حازق کو گھور کر دیکھا وہاب نے ۔۔۔
بولو لڑکی ۔۔۔ وہاب نے پھر سے رعب دار انداز میں حسنیٰ کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔
میرے گھر والوں نے مجھے نکال دیا ۔۔۔ میں اب کیا کروں حازق کے سوا میرا کوٸ نہیں اس دنیا میں ۔۔۔ اور یہ مجھے اپنانے سے انکار کر رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ کی جیسے ڈھارس بندھ گٸ تھی ۔۔۔
یہ جھوٹ بول رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ حازق نے اپنے باپ کی طرف ڈرتے ہوۓ دیکھا تھا
میں جھوٹ نہیں بول رہی ہوں میرے پاس سب ثبوت ہیں ۔۔
ساری چیٹ ہے ہماری ۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ نے دانت پیس کر کہا
تو ۔۔۔میں نہیں کرتا تم سے اب محبت ۔۔۔ حازق نے طنز بھرے انداز میں حقارت سے دیکھتے ہوۓ کہا تھا
تم کرتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ کرتے ہو ۔۔۔۔۔ حسنیٰ پاگلوں کی طرح چیخی تھی۔۔۔
حازق۔۔۔۔میری بات سنو ۔۔۔ وہاب نے حازق کے قریب ہو کر رعب دار انداز میں کہا تھا ۔۔
ڈیڈ آپ اس کی کسی بات کا یقین مت کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔ حازق نے ڈرتے ہوۓ وہاب کی طرف دیکھا تھا
تم میری بات سنو ۔۔۔۔۔۔۔ وہاب نے اونچی آواز میں کہا
وہاب نے حازق کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما تھا۔۔۔
تم بیٹھو لڑکی ۔۔۔۔۔۔۔۔ رعب دار انداز میں حسنی کو کہتے ہوۓ وہاب حازق کا ہاتھ پکڑے اسے وہاں سے لے جا چکا تھا ۔۔۔
وہ لب کچلتی وہاں موجود صوفے پر بیٹھ چکی تھی ۔۔۔ تھوڑی دیر وہ یونہی بیٹھی حسرت بھری نظروں سے ارد گرد کی چیزوں کو دیکھتی رہی۔۔۔ تھوڑی دیر بعد حازق اور وہاب پر سکون چہرے کے ساتھ واپس آۓ تھے۔۔۔
سنو۔۔۔۔ حازق تم سے شادی کرے گا ۔۔۔ اس کے قریب آ کر وہاب نے رعب دار انداز میں کہا تھا
جی۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ اچھل کر کھڑی ہوٸ تھی ۔۔۔ اور حیران ہو کر حازق کی طرف دیکھا جو اب مسکرا رہا تھا۔۔
تھوڑی دیر پہلے کی تلخی کے اس کے چہرے پر کوٸ آثار نہیں تھے ۔۔۔
ہاں ۔۔۔ تم ۔۔۔ بس تیاری کرو ۔۔۔۔۔۔ وہاب نے مخصوص انداز میں کہا
حازق اسے اپنے فلیٹ میں لے جاٶ ۔۔۔ ادھر رہے گی کچھ دن ۔۔۔ وہاب کا رخ اب حازق کی طرف تھا ۔۔۔
انکل۔۔۔۔ تھنکیو۔۔۔۔ ۔۔۔۔ حسنیٰ کی خوشی دیدنی تھی وہ بار بار کبھی حازق کی طرف دیکھ رہی تھی اور کبھی وہاب کی طرف
اور یہ پیسے شاپنگ کرو جی بھر کر اور خود کو سنوارو ۔۔۔۔۔ وہاب نے کریڈٹ کارڈ حسنیٰ کی طرف بڑھایا تھا
حسنی نے حیرانگی سے منہ کھول کر دیکھا تھا۔۔ یہ سب کیا تھا قسمت ایک دم سے اتنی مہربان ہو گٸ تھی ۔۔۔
شادی ہے تمہاری۔۔۔۔۔۔۔۔ وہاب انجم نے اس کی حیرت پر پہلی دفعہ ہلکا سا مسکرا کر جواب دیا تھا
وہ حازق کے ساتھ حیران سی بے یقین سی چلتی ہوٸ کار میں آ کر بیٹھ چکی تھی کار چل پڑی تھی لیکن اس کی حیرت تھی کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی ۔۔۔ حازق نے ہلکے سے گلا صاف کیا تھا تا کہ وہ ہوش کی دنیا میں واپس آ جاۓ ۔۔۔
حازق ۔۔۔۔ حازق ۔۔۔ آٸ لو یو ۔۔۔۔۔۔ حیران سی خوشی میں ڈوبی ہوٸ آواز کے ساتھ وہ حازق سے کہہ رہی تھی ۔۔
آٸ لو یو ٹو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حازق نے مسکرا کر اسی محبت سے دیکھا تھا جس کو کھو کر وہ پاگل ہو گٸ تھی ۔۔۔
سنو ۔۔۔۔۔۔۔ ڈیڈ کا ہی ڈر تھا مجھے وہ مان گۓ ہیں تو۔۔۔ آٸ ایم سوری یار ۔۔۔۔ حازق نے معصوم سے انداز میں کہا تھا۔
اوہ۔۔۔ حازق میں آج اتنی خوش ہوں مجھے کچھ بھی یاد نہیں ہے ۔۔۔حسنیٰ سرشار تھی ۔۔۔مست تھی ۔۔۔
فضا کو کچھ مت بتانا ابھی شادی کے بعد بتاٸیں گے اوکے ۔۔۔ حازق نے محبت بھرے لہجے میں کہا تھا
جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ تو آج قربان تھی ۔۔۔ چہک کر گویا ہوٸ۔۔۔۔
کار میں مدھم سروں میں بجتی موسیقی اور امارت کی ایک عجیب سی خوشبو نے اسے مدھوش کر دیا تھا ۔۔۔بس دل میں اب ایک پھانس تھی ۔۔۔ نعمان سے نکاح کی ۔۔۔
***************
مجھے اس آدمی کی ساری انفارمیشن چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ پیپرز شہروزی نے ٹیبل پر کسھکا کر سامنے کھڑے نفوس تک پہنچاۓ تھے ۔۔۔
جی۔۔۔ میم۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سامنے کھڑے سفدر نے مہدب انداز میں کہا تھا ۔۔۔
یہ واصف ٹیکسٹاٸل کا شاندار آفس تھا جس میں مسز واصف ۔۔۔ شہروزی ملک ۔۔۔ کرسی پر براجمان پر سوچ انداز میں سامنے کھڑے سفدر سے بات کر رہی تھیں ۔۔۔
جلدی چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔ شہروزی نے رعب دار انداز میں کہا تھا
اور تمہیں کہا تھا کہ نعمان پر نظر رکھنی ہے ۔۔۔۔۔۔ شہروزی نے کرسی کو گھومایا تھا ۔۔۔
میم وہ بندہ ارینج ہو گیا ہے ۔۔۔ آپ بے فکر رہیں ۔۔۔۔۔۔ سفدر نے سینے سے تھوڑا نیچے ہاتھ رکھ کرجھکتے ہوۓ کہا۔۔۔
ہاں نعمان جہاں بھی جاۓ ۔۔۔ جس سے بھی بات کرے ۔۔
سنو ۔۔۔ اسے سیل فون گفٹ کیا میں نے جو کہا تھا۔۔ ۔۔۔۔ شہروزی بات کرتے کرتے ایک دم رک کر سوالیہ نظروں سے اب سفدر کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
سوری میم ۔۔۔ ۔۔۔۔ سفدر نے شرمندہ ہوتے ہوۓ سر جھکایا تھا ۔۔۔
آج ہی کرو۔۔۔ اور اس نمبر سے آنے جانے والی ہر کال ریکارڈ ہو۔۔۔۔۔۔۔ شہروزی نے لب بھینچ کر حکم دینے کے انداز میں کہا تھا ۔۔
جی میم۔۔۔۔۔۔۔ سفدر مخصوص معدب انداز میں گویا ہوا۔۔۔
جا سکتے ہو ۔۔۔ شہروزی نے نرمی سے کہا اور سامنے رکھے موباٸل کو اٹھایا تھا ۔۔۔
***********
ہیلو ۔۔۔ سر ۔۔۔۔۔۔۔ سریلی سی بچکانہ آواز کانوں میں پڑی تھی ۔۔۔
کون ۔۔۔۔۔۔۔ سنجیدہ سے انداز میں روبن نے کہا ۔۔۔۔
وہ یونیورسٹی کی لاٸبریری میں بیٹھا تھا ۔۔۔آنکھیں ادھ کھلی سی کتنی رتجگوں کی داستان سنا رہی تھیں ۔۔۔ بکھرے سے بال ۔۔۔ تھکا سا انداز آج ایک ہفتہ ہونے کو آیا تھا ۔۔ لیکن وہ ابھی بھی ایک عجیب ٹروما میں تھا ۔۔۔۔۔۔ اسے خود سے ہی گھن آنے لگی تھی ۔۔۔ وہ جینا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔ لیکن داور ۔۔منب۔۔۔ اس کا سایہ بن بیٹھے تھے ۔۔۔ اسے یہ تو یاد تک نہیں تھا وہ ملک اطہر کے گھر ہیر کو پڑھانے بھی جاتا ہے۔۔۔ آج جب ہیر کا فون آیا تو جیسے یاد آیا ۔۔۔
سر میں ہیر بات کر رہی ہوں ۔۔۔ آپ آ کیوں نہیں رہے ۔۔۔۔۔۔ ہیر رک رک کر کہہ رہی تھی ۔۔۔
آپکو میرا نمبر کہاں سے ملا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کھردری سی آواز تھی ۔۔۔۔ جس میں اب تلخیوں کے ساتھ ساتھ دکھوں کی بھی سختی تھی
یہ میری بات کا جواب تو نہیں ۔۔۔۔۔۔ ہیر نے اٹکتے ہوۓ کہا تھا۔۔
مجھے آپکو جواب دینا بھی نہیں آپکے فادر سے بات ہو چکی ہے میری ۔۔۔۔۔۔۔ روبن نے تنک کر ترکی بہ ترکی کہا تھا ۔۔۔
تو مجھے بھی بتا دیں میرا ٹیسٹ ہے کل ۔۔۔ ہیر ہنوز ہر بات سے انجان مزے سے مزاق میں بول رہی تھی۔۔
ایک ہفتے سے روبن نے نہ آ کر اسے بے چین کر دیا تھا ۔۔۔ ایک عجیب ہی کوٸ تڑپ تھی جو بڑھتی ہی جا رہی تھی ۔۔۔ اسے ایک پل سکون نہیں تھا وہ دن رات بس روبن کو سوچنے لگی تھی ۔۔۔ اور اب جب وہ ایک ہفتے سے نہیں آیا تھا تو وہ پاگل سی ہونے لگی تھی ۔۔۔ ملک اطہر کا موباٸل چرا کر اس نے وہاں سے روبن کا نمبر لیا تھا ۔۔۔
روبن دوسری طرف سے کوٸ بھی جواب دیے بنا روبن فون کاٹ چکا تھا ۔۔۔
ہیلو ۔۔۔ سر ۔۔۔ ہیلو ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہیر پاگلوں کی طرح ہیلو ہیلو کرتی رہ گٸ تھی
اس کے ایک دو دفعہ کال دوبارہ ملانے کے بعد روبن کا نمبر بند ہو چکا تھا ۔۔۔ اور وہ بے حال سی بیٹھی تھی ۔۔۔
********
مجھے ملنا ہے۔۔۔۔۔۔ حازق نے بازو سے پکڑ کر حسنیٰ کو ساتھ لگایا تھا۔۔۔
وہ حازق کے ساتھ اس کی کار میں اس کے ساتھ پچھلی سیٹ پر بیٹھی تھی ۔۔۔
تو ملتے تو ہیں روز یونیورسٹی میں ۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ نے مسکراتے ہوۓ بازو چھڑوایا تھا ۔۔۔
نہیں ۔۔۔۔۔ شازر کے فارم ہاوٸس پر ملنا مجھے ۔۔۔۔۔۔ حازق نے اس کے چہرے کو قریب کیا تھا اور چہرے پر لہراتی آوارہ لٹ کو دھیرے سے کان کے پیچھے کیا تھا ۔۔۔
حسنیٰ جھینپ گٸ تھی ۔۔۔ تھوڑا سا پیچھے ہو کر اس نے سینے پر دوپٹے کو درست کیا تھا ۔۔۔ دل تیزی سے دھڑکنے لگا تھا ۔۔ ایک تو حازق وہاب کے مہنگے کلون کی خوشبو نے پاگل سا کر دیا تھا اوپر سے اس کی بے باکی دل کی دھڑکنوں کو بے ترتیب کر رہی تھی ۔۔۔
مجھے گھر سے اجازت نہیں ملے گی ۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ نے لب دانتوں میں دبایا تھا ۔۔۔
حازق کے ساتھ اسے سال ہونے کو آیا تھا ۔۔ حازق کا لاسٹ سمسٹر ختم ہو چکا تھا اب وہ یونیورسٹی چھوڑ رہا تھا لیکن اس سے پہلے وہ حسنیٰ کے ساتھ باہر ملنے پر باضد تھا ۔۔۔
کیوں فضا کو کہنا وہ ہیلپ کرے گی تمھاری ۔۔۔۔۔۔ حازق نے کھینچ کر اسے پھر سے ساتھ لگایا تھا۔۔۔
فضا ۔۔۔ اچھا دیکھتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ نے تھوڑا سا دور ہوتے ہوۓ مسکرا کرکہا تھا ۔۔۔
دیکھو ۔۔ سنو میری بات ۔۔۔ وہاں شازر بھی جا رہا فروا کے ساتھ اور جواد بھی ہے ۔۔ ۔۔۔ حازق نے ناک پھلاتے ہوۓ کہا ۔۔۔
لیکن ۔۔۔ حازق وہ ہاسٹل گرل ہیں ان کو میری طرح پرمیشن نہیں لینی ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ نے اسے ناراض ہوتے دیکھ کر روہانسی آواز میں کہا تھا ۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: