Husna Novel by Huma Waqas – Episode 5

0
حسنیٰ از ہما وقاص – قسط نمبر 5

–**–**–

دیکھو تم ہر دفعہ میری بات رد کرتی ہو۔۔۔۔۔۔ حازق ایک جھٹکے سے الگ ہوا تھا ۔۔۔
اور ناگوار سی شکل بنا کر چہرے کا رخ ایک طرف کیا تھا
حازق ۔۔۔ اب اس میں خفا ہونے والی کیا بات ہے ۔۔۔ حسنیٰ نے ہاتھ اس کے کندھے پر رکھ کر اپنے مخصوص لاڈ کے انداز میں کہا تھا۔۔۔
حازق نے ایک خفا سی نظر ڈالی تھی ۔۔۔
جتنی خوبصورت تھی اتنی ہی چھونے میں ریزرو تھی۔۔۔ ایک تو ان میڈل کلاس خوبصورت لڑکیوں کے یہ بڑے مسٸلے ہوتے ہیں ۔۔ پیار کر لیتی ہیں اقرار بھی کرتی ہیں لیکن حد نہیں ختم کرتی ہیں ۔۔۔ اور حازق کو بھی اب حسنیٰ سے یہی مسٸلہ تھا ۔۔ایک سال ہو گیا تھا اسے حسنی کے نخرے اٹھاتے ہوۓ اب تک وہ ہاتھ پکڑانے سے آگے نہیں آنے دیتی تھی ۔۔ اب وہ واپس اسلام آباد جانے سے پہلے ایک آخری داٶ اس پر آزمانا چاہتا تھا۔۔۔ وہ لاہور میں پڑھنے کی غرض سے آیا تھا اور یہاں بھی وہ ایک بہت ہی خوبصورت فلیٹ میں رہاٸش پزیر تھا۔۔۔ وہاب انجم کا پیسٹی ساٸڈز کا بہت بڑا بزنس تھا۔۔ جس کی شاخیں پورے پاکستان میں پھیلی ہوٸ تھیں اور ان کا ہیڈ آفس اور رہاٸش اسلام آباد میں تھی ۔۔۔
حازق وہاب اپنے باپ کا اکلوتا بیٹا تھا فوٹو گرافی وہ صرف شوق میں پڑھ رہا تھا۔۔۔ سنبھالنا اسے اپنے باپ کابزنس ہی تھا۔۔۔۔۔۔
وہ بلکل خاموش بیٹھا ساتھ بیٹھی حسنیٰ کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔ جسے اسے سر کرنا تھا۔۔۔ حسنیٰ اس کی زندگی میں آنے والی کوٸ واحد لڑکی نہیں تھی اس جیسی ہزاروں آٸ اور گٸ تھیں ۔۔۔ لیکن حسنیٰ کا انداز اور دلکشی سب سے الگ تھی یہی وجہ تھی کہ وہ آج ایک سال کے بعد بھی اس کے ساتھ تھا ۔۔۔
اچھا میں فضا سے بات کرتی ہوں ۔۔۔۔۔۔ حازق کو بلکل خاموش سوچ میں ڈوبا دیکھ کر وہ روہانسی ہو گٸ تھی ۔۔۔
مجھے نا نہیں سننی تم سے ۔۔۔ بتاٶ آج لنچ کہاں کرنے جانا ہے ۔۔۔۔۔۔ حازق کا موڈ ایک دم سے خوشگوار ہو گیا تھا ۔۔۔
جہاں تمھارا دل کرے ۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ اس کی آفر پر کھل اٹھی تھی ۔۔۔
چلو پھر آگے بیٹھو ۔۔۔ حازق نے اس کے ہاتھ کو پکڑ کر لبوں سے لگایا تھا ۔۔۔
حسنیٰ نے جھینپ کر ہاتھ پیچھے کیا تھا۔۔۔۔
حسنی کے ہاتھ پیچھے کھینچنے پر حازق نے اپنی بدمزگی کو چھپایا تھا اور زبردستی لبوں پر مسکراہٹ سجاٸ تھی ۔۔۔
***********
روک۔۔۔۔ روک۔۔۔۔ گاڑی موڑ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔روبن نے ساتھ بیٹھے علی کا کندھا جھنجوڑ دیا تھا ۔۔۔
وہ علی کے ساتھ کار کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھا تھا ۔۔۔ ابھی وہ بابر بخت کی ایک وصولی کروا کر واپس لوٹے تھے ۔۔۔ داور نے اسے اپنا مشیر خاص بنا لیا تھا ۔۔۔روبن اب بابر بخت کے لیے کام کرنے لگا تھا ۔۔۔وہ ہر وقت داور کے ساتھ ہوتا تھا ۔۔۔رات کو سونے کے لیے وہ کرسٹن کے پاس جاتا تھا ۔۔۔
وہ گھر چھوڑ چکا تھا لیکن ایک دن منب نے کرسٹن کا بتایا کہ وہ بہت بیمار ہے اور ولسم اب گھر نہیں آتا ۔۔۔ تب وہ کرسٹن کے پاس گیا تھا۔۔۔ کرسٹن نے اسے گلے لگایا تھا اور وہ بھی کہاں کرسٹن سے دور رہ سکتا تھا ۔۔۔ جو بھی تھا کرسٹن نے اسے ہمیشہ دل سے لگا کر رکھا تھا اور اسے ان باٸیس سالوں میں بہت محبت دی تھی ۔۔۔
کرسٹن یہی سمجھتی تھی کہ ولسم گھر نہ دینے پر اس سے ناراض ہو کر چلا گیا ہے ۔۔لیکن آج روبن نے ولسم کو ایک عورت کے ساتھ کار میں بیٹھے دیکھا تھا وہ ہنس رہا تھا ۔۔۔ قہقے لگا رہا تھا ۔۔۔ یہ سب دیکھ کر روبن کے دماغ کی نسیں پھول گٸ تھیں ۔۔۔ ویسے بھی جب سے اسے پتہ چلا تھا وہ ایک ایسا بچہ ہے جسے معاشرے کے لوگ نالی کے کیڑے سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے ہیں وہ اپنی برداشت ختم کر چکا تھا ۔۔۔ اور داور کو ایسے ہی ٹوٹے ہوۓ دل پر مہر لگانی تھی اور وہ لگا چکا تھا ۔۔۔ ہر خطرناک سے خطرناک کام روبن بنا کسی ڈر سے کرتا تھا ۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔۔ علی نے اس کے یوں حواس باختہ ہو کر کندھا ہلانے پر بوکھلا کر اس کی طرف دیکھا تھا
ابے۔۔۔۔ گاڑی موڑ ۔۔۔۔ یہیں سے ٹرن لے ۔۔۔ سامنے وہ سفید مہران کے پیچھے لے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روبن نے زور زور سے اس کے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔
روبن کے چہرے پر عجلت تھی۔۔۔ بے چینی تھی۔۔۔۔ تجسس تھا ۔۔
اوکے ۔۔۔۔۔۔۔۔علی نے فوراً حکم کی تعمیل کی تھی ۔۔۔
روبن نے بے زار ہو کر اس کی طرف دیکھا تھا اور پھر سپیڈ بورڈ کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔۔
اس کے دانت ایک دوسرے میں پیوست تھے ۔۔۔ بالوں کی لمبی لٹ منہ پر تھی۔۔۔ ایک کان میں بالی تھی اور گردن کے پاس سلیب کے نشان کا ٹیٹو تھا ۔۔۔ گلے میں جھولتا چین اور اس میں داٸیں باٸیں حرکت کرتا ہوا سلیب کے نشان کا لاکٹ ۔۔۔ سرخ و سفید ماتھے پر شکن اور گہری اداس آنکھوں میں سامنے جاتی ہوٸ سفید مہران کا عکس تھا ۔۔۔
اوۓ روک۔۔۔۔ روک ۔۔۔۔۔۔۔ روبن نے ڈیش بورڈ پر زور سے ہاتھ مارا تھا ۔۔۔
اب کیا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔ علی نے سٹیرنگ کو سنبھالتے ہوۓ حیران سی شکل بنا کر دیکھا تھا ۔۔۔
اور روبن کے غصے کو دیکھ کر بریک لگا دی تھی۔۔۔
نکل باہر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روبن نے اس کی طرف کا دروازہ کھول کر اسے دھکا دیا تھا ۔۔۔۔
کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ تیزی سے اترا تھا روبن اب اس کی جگہ سٹیرنگ سیٹ پر آ رہا تھا وہ کار کے اندر ہی سیٹ بدل رہا تھا ۔۔۔
رک مجھے اس طرف سے آنے دے میں ساتھ جاٶں گا ۔۔۔۔ علی عجلت میں بھاگتا ہوا دوسری طرف آیا تھا ۔۔۔
جیسے ہی وہ دوسری طرف سے آ کر ابھی سیٹ پر بیٹھا ہی تھا اس کے دروازہ بند کرنے سے پہلے ہی روبن زناٹے سے کار کو دوڑا چکا تھا ۔۔۔ بڑی مشکل سے علی نے خود کو سنبھالا تھا ۔۔۔
روبن آنکھوں کو سکیڑ ے اتنی تیز کار ڈراٸیو کر رہا تھا اور ٹریفک کو کٹ مارتا ہوا نکل رہا تھا کہ علی کو اپنے آپکو سنبھالنے کے لیے کار کی سیٹ کو مضبوطی سے پکڑنا پڑا تھا ۔۔۔ سفید مہران ایک رہاٸشی سوساٸٹی میں داخل ہوٸ تھی اور پھر وہاں موجود ایک بہت ہی خوبصورت مگر چھوٹے سے گھر کر سامنے کار رک چکی تھی ۔۔۔ روبن بھی کچھ فاصلے پر کار روک چکا تھا ۔۔۔
روبن نے اپنی ہڈ کو کھینچ کر اپنے منہ کو اور چھپایا تھا اور پھر کار سے اتر کر پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالتا ہوا وہ آگے بڑھ رہا تھا علی بھی کار سے اتر چکا تھا ۔۔۔
ولسم کار سے نیچے اتر کر اب گیٹ کھول چکا تھا جیسے ہی اس نے کار پورچ میں کی تھی روبن اور علی بھی ساتھ داخل ہو چکے تھے ۔۔۔
ولسم نے بوکھلا کر روبن کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔ روزی جلدی سے گھبرا کر گاڑی سے باہر آ چکی تھی ۔۔۔
ولسم گڑ بڑا سا ہی گیا تھا اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ روبن کہاں سے ٹپک پڑا تھا۔۔۔ وہ تو کرسٹن کے ساتھ ناراض ہونے کی گیم کھیل رہا تھا تاکہ وہ اپنا گھر بھی اس کے نام کر دے ۔۔۔ کرسٹن کے بہت فون آتے تھے اور وہ اسے جان بوجھ کر تڑپا رہا تھا کہ وہ کسی طرح مان جاۓ بس۔۔۔ لیکن اب روبن پر ساری حقیقت کھل چکی تھی ۔۔۔
تو ۔۔۔ یہ سب ۔۔۔ ہاں ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ روبن نے روزی کی طرف اشارہ کر کے ناک چڑھا کر کہا
یہ سب کرنے کا ۔۔۔ تو مام کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔ روبن نے آگے بڑھ کر ولسم کا کندھا تھام لیا تھا۔۔۔
ولسم سے نفرت تو بچپن سے ہی تھی لیکن اب جب سے پتہ چلا تھا کہ اس کا ولسم سے کوٸ رشتہ نہیں ہے تو مجبوری کا وہ احترام بھی ختم ہو چکا تھا ۔۔۔
تم پاگل ہو گیا ہے روبن ۔۔۔۔۔۔۔ ولسم نے زور سے روبن کے ہاتھ کو جھٹکا تھا ۔۔
ہاں ۔۔۔ پاگل ہو گیا ہیں میں۔۔۔ میری مام بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روبن نے ولسم کے گریبان کو پکڑ کر زور سے جھٹکا دیا تھا۔۔۔
کوٸ مام نہیں وہ تمھاری اور نہ میں تمھارا باپ۔۔۔ ولسم نے طنز بھرے لہجے میں کہا
ارے۔۔۔۔ نیں چاٸیں ۔۔۔۔ نیں ۔۔۔ چاٸیں۔۔۔ ایسا باپ مجھے ۔۔۔ پر وہ میری مام ہے سمجھا۔۔۔ تم اس کو دھوکا دے رہا۔۔۔ روبن کی نسیں پھول گٸ تھیں ازلی غصہ چہرے کو سرخ کر گیا تھا ۔۔۔
نکل یہاں سے اور جا کر بتا دے اپنی مام کو بھی مجھے نہیں رہنا اب اس کے ساتھ سمجھا۔۔۔ ولسم نے پوری قوت سے روبن کو دھکا دیا تھا ۔۔۔
علی بھاگ کر آگے آیا تھا اور پسٹل نکال کر ولسم کے سر پر تان لی تھی ۔۔۔
بول روبن اس کو مارنے کا ہے کیا۔۔۔ علی نے دھاڑتے ہوۓ پیچھے مڑ کر روبن کی طرف دیکھا تھا جو اب اٹھ کر اپنے کپڑے جھاڑ رہا تھا۔۔
ولسم کانپ گیا تھا۔۔۔ فوراً سے اس کے دونوں ہاتھ جڑ چکے تھے ۔۔۔
بول۔۔۔۔۔۔۔۔ علی پھر سے چیخا تھا۔۔۔
گاڑی میں سے اچانک کسی بچے کے رونے کی آواز آٸ تھی ۔۔۔
نہیں ۔۔۔ ۔۔۔۔۔ روبن نے ناک پھلا کر کہا تھا۔۔۔
اور تیزی سے گھر سے باہر نکل گیا تھا۔۔۔ علی کچھ دیر پسٹل تانے کھڑا رہا اور پر ولسم کو دھکا دے کر باہر نکل آ یا تھا۔۔۔
**********
نعمان سے ملنا مجھے۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ نے سپاٹ چہرےکے ساتھ کہا
وہ عبداللہ کے گھر کے دروازے پر کھڑی تھی ۔۔ وہ پہلے اس گھر میں گٸ تھی جہاں دس دن وہ اور نعمان رہے تھے ..لیکن وہاں کوٸ نہیں تھا۔۔۔
بھابھی۔۔۔۔ اوہ۔۔۔بھابھی۔۔۔۔۔۔ عبداللہ کی خوشی سے آواز نہیں نکل رہی تھی۔۔۔
اس نے اور نعمان نے کہاں کہاں نہیں تلاش کیا تھا حسنیٰ کو ۔۔ نعمان کی حالت اب عبداللہ سے دیکھی نہیں جاتی تھی ۔۔ عبداللہ کے پیچھے چلتی ہوٸ وہ اب عبداللہ کےگھر کے پورچ میں داخل ہوٸ تھی ۔۔
کیا میرا نعمان کے ساتھ نکاح ہو چکا ہے ۔۔۔ حسنیٰ نے آنکھیں سکیڑ کر عبداللہ سے سوال کیا تھا ۔۔
وہاب انجم نے ایک ڈراٸیور اور کار حسنیٰ کو دی تھی تا کہ وہ کھل کر شاپنگ کرے اور حسنیٰ آج اس ڈراٸیور کو لے کر لاہور آ گٸ تھی ۔ دل میں ایک پھانس تھی کہ نعمان سے اس کا نکاح ہے یا نہیں کیونکہ نکاح پر نکاح وہ نہیں کر سکتی تھی ۔ اور یہی بے چینی آج اسے یہاں کھینچ لاٸ تھی ۔۔۔۔
مطلب۔۔۔۔۔۔۔۔ عبداللہ نے آگے بڑھتے قدم پورچ کی سیڑھیوں میں روک دیے تھے اور پیچھے مڑ کر نا سمجھی سے دیکھا ۔۔۔
مطلب یہ کہ کیاوہ مسلم تھا مجھ سے نکاح کرنے سے پہلے کیونکہ ہم دونوں کے نکاح کے گواہ صرف تم ہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔
حسنیٰ نے بڑے ناز سے سینے پر ہاتھ باندھے تھے
وہ بڑی سر شار تھی کل سے ایسے جیسے ہواٶں میں اُڑ رہی تھی ۔۔ حازق وہاب جیسا لکھ پتی ۔۔۔ شخص جلد ہی اس کا شوہر بننے والا تھا ۔۔ اس کے سارے خواب پورے ہونے والے تھے۔۔۔
وہ نکاح سے ایک دن پہلے اسلام قبول کر چکا تھا ۔۔۔۔۔۔ عبداللہ نے گہری سانس لی تھی ۔۔
مجھے نعمان سے ملنا ہے۔۔۔ حسنیٰ نے دو ٹوک انداز میں کہا
بھابھی ابھی۔۔۔ ابھی ۔۔ لے چلتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ عبداللہ جلدی سے آگے آیا تھا ۔۔۔
میرے پاس گاڑی ہے ۔۔۔ حسنیٰ نے گردن اکڑا کر کہا تھا
عبداللہ کے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہاتھ ایک دم کو رکے تھے ۔۔۔
اور مجھے کہیں باہر ملنا ہے اس سے ۔۔۔ حسنیٰ نے اگلی شرط عاٸد کی تھی ۔۔۔
عبداللہ نے موباٸل کان کو لگایا تھا ۔۔۔
وہ لوگ نعمان کے گھر کے قریبی ریسٹورانٹ میں موجود تھے ۔۔۔ نعمان ان کے آنے سے پہلے ہی وہاں موجود تھا حسنیٰ کو دیکھتے ہی وہ تیزی سے آگے بڑھا تھا ۔۔ شیو اب کافی حد تک بڑھ چکی تھی حسنیٰ آج پورے پانچ دن بعد اس کے سامنے تھی ۔۔۔۔۔
مجھے ۔۔۔۔ تم سے طلاق چاہیے ۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ نے سپاٹ چہرے کے ساتھ کہا تھا۔۔۔
نعمان کے لبوں کی مسکراہٹ غاٸب ہوٸ تھی۔۔۔ تو نعمان وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔۔ دل میں ایک ٹیس اٹھی تھی ۔۔
تم ۔۔۔۔۔ کہاں تھی۔۔۔ ٹھیک ہو نہ۔۔۔۔۔۔ اس کی بات کو ان سنی کرتا وہ اس کے بلکل قریب آ چکا تھا۔۔۔
مجھے تم سے طلاق چاہیے ۔۔۔۔مجھے آزاد کرو۔۔۔حسنیٰ نے سختی سے کہتے ہوۓ چہرے کا رخ موڑا تھا۔۔۔
نہیں کر سکتا۔۔۔ نعمان نے تھوک نگلا تھا۔۔۔
گہری آنکھیں حسنیٰ کے چہرے کا طواف کر رہی تھیں ۔۔جس چہرے پر موجود آنکھوں نے بس ایک نظر ہی تو ڈالی تھی نعمان پر اور اس نظر میں کیا کچھ نہیں تھا۔۔
حقارت۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نفرت۔۔۔۔۔۔۔۔ ناگواری۔۔۔۔۔۔۔۔ گھن۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیکھو اس وقت میں مجبور تھی ۔۔لیکن اب حازق مان گیا ہے میری اس کے ساتھ شادی ہے اگلے ہفتے ۔۔۔۔۔حسنیٰ نے ہنوز اسی انداز میں کہا تھا۔۔۔
نعمان خاموش کھڑا تھا۔۔۔
تو یہ بھی تمھاری نہیں ۔۔۔ کوٸ بھی تو تمھارا نہیں ۔۔۔ ابھی تو اسے اس تلخ حقیقت کا علم نہیں کہ میں کسی کی ناجاٸز اولاد ہوں اور جس دن یہ حقیقت اس کے سامنے آۓ گی اس دن کیا ہو گا
مجھے آزاد کرو۔۔۔۔۔۔۔حسنیٰ نے چڑ کر کہا تھا۔۔۔
نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔۔ کتنی گھٹی سی آواز تھی ۔۔۔
کیوں نہیں کر سکتے تمھارا میرا رشتہ ہی کیا ہے ۔۔۔ نہ میں تمہیں جانتی تھی نہ تم مجھے ۔۔۔ حسنیٰ نے تنک کر کہا تھا۔۔۔
میں جانتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ وہی گھٹی سی آواز ۔۔۔
جسٹ سٹاپ اٹ ۔۔۔۔ مجھے آزاد کرو۔۔۔ ۔۔۔۔۔ حسنیٰ نے دانت پیس کر کہا تھا
وہ جلد سے جلد یہ سب ختم کرنا چاہتی تھی ۔۔۔ بے زار سی صورت بناۓ
کیسے کر دوں ایسا بولو۔۔۔ نعمان نے لب بھینچے تھے ۔۔۔
ایک دنیا میں وہ واحد تھی جس پر آج تک اسے غصہ نہیں آیا تھا ۔۔۔
کیسے کیا عارضی تھا سب بس اب ختم تو سب ختم ۔۔۔مجھے تمھارے ساتھ نہیں رہنا حازق سے محبت کرتی تھی کرتی ہوں اور اسی کے ساتھ رہنا ہے مجھے ۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ نے ناگواری سے کہا تھا
میں تم سے محبت کرتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے آہستہ مگر جزبات میں ڈوبے الفاظ ادا کیے تھے ۔۔
ہا۔۔۔۔۔۔ا۔ا۔۔۔۔ا محبت ۔۔۔ بات سنو ۔۔۔ چار گھنٹے کی ملاقات میں میری خوبصورتی پر مر مٹنے کے نام کو تم محبت کہتے ہو ۔۔۔ حسنیٰ کا لہجہ تلخ تھا ۔۔
ماتھے پر بل تھے ۔۔ بیگ بازو میں جھول رہا تھا ۔۔۔ جبڑے باہر کو واضح ہو رہے تھے ۔۔۔
میں نہ تو اس رشتے کو مانتی ہوں نہ تو محبت کو ۔۔۔ حسنی نے بے زاری ظاہر کی تھی ۔۔۔
پر میں مانتا ہوں ۔۔۔ نعمان نے اسی لہجے میں کہا تھا ۔۔۔
تو مانتے رہو۔۔۔ اب تو حازق ہی آ کر تم سے بات کرے گا۔۔۔ حسنیٰ نے چڑ کر کہا تھا ۔۔ اور ناک پھلا کر مڑی تھی ۔۔
نعمان نے اب پھر حازق کے نام پر مٹھی بھینچی تھی ۔۔۔ اور پھر سارا قابو ختم ہو چکا تھا ایک جست میں اس نے حسنیٰ کی نازک کلاٸ کو دبوچا تھا ۔۔۔
تم کہیں جاٶ گی تو حازق آۓ گا نہ ۔۔۔ ۔۔۔۔ کلاٸ کو اتنی زور کا جھٹکا پڑا تھا
حسنیٰ ہل کر رہ گٸ تھی۔۔۔
مطلب۔۔۔۔۔۔۔۔ غصے اور حیرت سے پہلی دفعہ وہ نعمان کا یہ روپ دیکھ رہی تھی ۔۔۔
تم کہیں نہیں جا رہی ۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے ارد گرد دیکھتے ہوۓ آواز کو آہستہ کیا تھا ۔۔۔
یہ بھول ہے تمھاری ۔۔۔ تم میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے ہو ۔۔۔۔۔۔ حسنی نے غصے سے ارد گرد نظر دوڑاٸ تھی ۔۔۔
چھوڑو ہاتھ میرا ۔۔۔۔۔۔۔۔ حسنی نے جھک کر نعمان کے ہاتھ پر دانت گاڑ دیے تھے۔۔۔
اففف۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تکلیف سے ایک دم گرفت ڈھیلی ہوٸ تھی ۔۔۔ حسنیٰ بھاگ کر الگ ہوٸ تھی اور تیزی سے ریسٹورانٹ کے داخلی دروازے کی طرف بھاگی تھی ۔۔۔
حسنیٰ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعمان پیچھے لپکا تھا ۔۔۔
یہ آدمی مجھے تنگ کر رہا ہے ۔۔۔ حراساں ۔۔۔کر رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ نے ایک دم سے پاس کھڑے ویٹر کو اور دو تین آدمیوں سے کہا تھا ۔۔۔ سب کے سب کچھ دیر میں ہی ایک ہو کر اب نعمان کو عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔۔۔حسنیٰ اب باہر نکل چکی تھی لیکن پاکستانی عوام کے ہمیشہ سے عورت کو مظلوم تصور کرنے والے جوشیلے نوجوان اب نعمان پر امڈ پڑے تھے ۔۔۔ لوگ نعمان کو گھونسے اور دھکے دے رہے تھے ۔۔۔ اور نعمان ریسٹورانٹ سے باہر نکل کا کار میں بیٹھتی حسنیٰ کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔ آج سے پہلے اسے حسنیٰ سے کبھی نفرت محسوس نہیں ہوٸ تھی ۔۔۔
عبداللہ بھاگتا ہوا ریسٹورانٹ میں داخل ہو رہا تھا ۔۔۔
تم پاگل ہو گٸ ہو کیا ۔۔۔ ہر گز نہیں منع کرو اسے تم بلکل بھی نہیں جاٶ گی کسی فارم ہاوٸس پر ۔۔۔ فضا نے ماتھے پر بل ڈال کر اسے گھورا تھا۔۔۔
وہ یونیورسٹی کے لان میں بیٹھی تھیں فضا کے ماتھے پر شکن اور چہرہ ناگوار تھا جبکہ حسنیٰ روہانسی صورت بناۓ بیٹھی تھی ۔۔۔اور حازق کی ناراضگی سے گھبراٸ ہوٸ حسنیٰ فضا کو کوٸ منصوبہ بنانے کا کہہ رہی تھی ۔۔حازق اسے دو دن کے لیے اپنے دوست کے فارم ہاوٸس پر دعوت دے رہا تھا ۔۔۔اس کے بہت سے دوستوں کے کپل وہاں جا رہے تھے ۔۔۔ لیکن حسنیٰ کو پتہ تھا عامر اور حسن کبھی بھی اسے جانے کی اجازت نہیں دیں گے ۔۔۔ لیکن فضا اگر چاہیے تو بہت کچھ ہو سکتا تھا کیونکہ فضا اس کی ایسی دوست تھی جس سے سب گھر والے اچھی طرح واقف تھے بلکہ حسن کی شادی پر اس کے سب گھر والے انواٸٹ تھے ۔۔۔ اس لیے حسنیٰ فضا کو جھوٹ بولنے پر مجبور کر رہی تھی کہ وہ ٹرپ کا کہے سب کو لیکن فضا نے صاف انکار کر دیا تھا ۔۔۔
فضا۔۔۔ پلیز ۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ بری طرح لب کچلتی ہوٸ روہانسی ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
ہلکے سے گلابی رنگ کے جوڑے میں وہ پریشان حال بیٹھی خود بھی ہم رنگ لگ رہی تھی ۔۔۔ ستواں ناک چڑھاۓ ۔۔۔ خوبصورت لبوں کو بچوں کی طرح باہر نکالے ۔۔ وہ فضا کو معصوم نہیں بیوقوف لگ رہی تھی۔۔۔
تمھارا دماغ خراب ہے۔۔۔ بات سنو میری تم ۔۔۔ یہ جو فروا اور شازر کا ریلیشن ہے تمہیں پتہ ہے یہ کیا ہے سب۔۔۔۔۔۔ فضا نے حسنیٰ کے بازو کو زور کا جھٹکا دے کر اپنی طرف متوجہ کیا تھا ۔۔۔
اور حسنیٰ کے ہاتھ میں پکڑا پن گھاس پر گرا تھا جسے وہ کب سے بنا کسی مقصد کے اٹھاۓ بیٹھی تھی ۔۔۔
فضا نے دانت پیستے ہوۓ اس کو گھورا تھا جو بے حال اداس حسینہ بنی بیٹھی تھی ۔۔۔
کیا ہے۔۔۔ دونوں نکاح کر چکے ہیں اتنا پیارا ریلشن دونوں کا ۔۔اتنی محبت کرتا شازر اس سے ۔۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ نے حسرت بھری سانس لیتے ہوۓ کہا
اور سر جھکا کر پھر سے گھاس کو زمین پر سے اکھڑانا شروع کر دیا تھا ۔۔۔ان کی طرح بہت سی لڑکیاں دسمبر کی کبھی کبھی نکلنے والی دھوپ میں آس پاس ٹولیوں کی صورت میں بیٹھی ہوٸ تھیں ۔۔۔
کچھ نہیں جانتی تم ۔۔۔ یہ سب بکواس ڈھونگ ہے ۔۔۔۔ فضا نے حقارت سے کہا ۔۔۔
مطلب۔۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ نے نا سمجھی کے انداز میں دیکھا تھا ۔۔۔
ہاتھ بھی پل بھر کے لیے گھاس پر تشدد چھوڑ چکے تھے۔۔
یہ چند جو فروا جیسی چھوٹے شہروں سے آٸ ہوٸ لڑکیاں ہیں۔۔ یہ عارضی نکاح کرتی ہیں شازر جیسے امیر لڑکوں کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔ فضا نے دانت پیستے ہوۓ سرگوشی کے انداز میں کہا تھا ۔۔۔
وہ تھوڑا سا کھسک کر حسنیٰ کے اور قریب ہو گٸ تھی جبکہ نظریں ارد گرد جانچ رہی تھیں کہ کہیں کوٸ ان کی باتوں کی طرف تو متوجہ نہیں ۔۔۔
عارضی۔۔۔۔ ۔۔۔۔حسنیٰ حیران ہوٸ تھی ۔۔۔۔
فضا نے فوراً اسے آواز آہستہ رکھنے کا اشارہ کیا تھا ۔۔۔
جی۔۔۔۔ بیو قوف لڑکی میں ہاسٹل میں رہتی ہوں اور اس طرح کی بہت سارے گند سے واقف ہوں میں ۔۔۔ فضا نے پھر سے سرگوشی کا انداز اپنایا تھا ۔۔۔
لیکن ایسا کرنے کی کیا ضرورت پڑی ہے ان کو ۔۔۔۔۔۔۔حسنیٰ یہ سب پہلی دفعہ سن رہی تھی ۔۔۔
وہ کبھی ہاسٹل میں نہیں رہی تھی ۔۔ فضا کے بابا کا ٹرانسفر ملتان ہو گیا تھا جس کہ وجہ فضا تین سال سے ہاسٹل کی زنگی بسر کررہی تھی اور آج اس عجیب غریب کھیل کا انکشاف بھی وہی اس سے کر رہی تھی ۔۔۔
پڑتی ہے ضرورت ۔۔۔ نام کے مسلم جو ہوۓ ہم ۔۔۔ یہ کانٹریکٹ شادی ہوتی ہے ۔۔۔ یہ لڑکیاں نکاح کے لبادہ اوڑھتی ہیں جتنے سال ادھر رہتی ہیں امیر لڑکے کو خوش کرتی ہیں اور وہ ان کو پر آساٸیش زندگی دیتے ہیں یہاں ۔۔۔۔۔۔۔ فضا ناگواری بھرے تاثر چہرے پر سجاۓ بول رہی تھی
اور جب وہ پڑھاٸ مکمل ہونے کے بعد جانے لگتی ہیں تو ۔۔۔ فضا اس کی طرف دیکھتے ہوۓ چپ ہو گٸ تھی
طلاق۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ کی حیرت میں ڈوبی آواز نکلی تھی
حسنی کی آنکھیں پھیلی ہوٸ تھیں اور منہ حیرت سے کھلا تھا ۔۔ جسے تھورڈی سے پکڑ کر فضا نے بند کیا تھا۔۔۔
لیکن سب لڑکیاں ایسی نہیں ہوتی یہ چند ایک لڑکیوں کی وجہ سے ہم جیسی لڑکیوں پر بھی ہاسٹل میں رہنا ایک اذیت سے کم نہیں ہوتا۔۔۔ فضا نے ماتھے پر شکن ڈالے اور ارد گرد نظر دوڑاٸ ۔۔۔
مجھے یقین نہیں ہو رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔حسنیٰ نے اپنی دونوں ہتھیلوں کو اپنے گالوں پر رکھا تھا ۔۔
نہ ہو۔۔۔۔ یہ امیر لڑکے خوبصورت مڈل کلاس لڑکیوں کے ساتھ وقت تو گزارتے ہیں پر کبھی بھی اسے اپنی بیوی کا درجہ دے کر گھر کی زینت نہیں بناتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ فضا نے ناک پھلا کر اس پر حقیقت آشکار کی تھی
حازق ایسا نہیں ہے ۔۔۔ وہ مجھ سے بہت محبت کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ حسنی نے دھک سے دل کے ساتھ کہا تھا
تو ٹھیک ہے آزما لو ۔۔۔ ۔۔۔۔ فضا ہنوز اپنی بات پر قاٸم تھی ۔۔۔
کیسے ۔۔۔ حسنی نے حیران ہو دیکھا تھا
انکار کر دو فارم ہاوس جانے سے ۔۔۔ فضا نے سانس خارج کی ۔۔۔
لیکن وہ ناراض ہو جاۓ گا۔۔۔ حسنیٰ روہانسی ہو گٸ تھی بچوں کی طرح ہونٹ باہر نکلاۓ ۔۔۔
ہونے دو ۔۔۔۔۔۔۔ فضا کا لہجہ اور انداز سخت تھا۔۔۔
ناراض ہی ہو گا نہ محبت کرنا تو نہیں چھوڑ دے گا نہ۔۔۔۔۔۔۔ فضا نے ناک پھلا کر کہا تھا۔۔۔
اسے کہو رشتہ بھیجے تمھارا ۔۔۔ فضا نے دو ٹوک انداز میں کہا تھا۔۔۔
اور وہ کھوٸ سی بیٹھی تھی۔۔۔۔لب کچلتی ۔۔۔ ہاتھوں کو مڑوڑتی ۔۔۔
*********
آپ اتنے دن سے کیوں نہیں آ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔ ہیر نے ہچکچاتے ہوۓ روبن کی طرف دیکھا
وہ کتنا عجیب سا ہو گیا تھا آج دو ہفتے بعد روبن ریاض کے بہت اسرار پر ملک اطہر کے گھر آیا تھا ۔۔۔روبن کے پڑھانے سے انکار کر دینے پر ملک اطہر تین ٹیوٹرز کا انتظام کر چکا تھا جن میں سے دو خود نہیں ٹکے تھے اور ایک ہیر کو اچھا نہیں لگا تھا ۔۔۔ اس نے بس ایک ہی ضد لگا رکھی تھی کہ اسے روبن کی بہت اچھی سمجھ آتی تھی اور اب جب اس کے امتحانات نزدیک ہیں تو اسے روبن ہی چاہیے اس طرح ریاض نے روبن کو بہت مشکل سے صرف چند مہینے پڑھانے پر راضی کیا تھا ۔۔روبن صرف ریاض کے بار بار ضد کرنے پر راضی ہوا تھا اور اب وہ بے دل بے حال سا ہیر کے سامنے بیٹھا تھا ۔۔۔
ذہن تو ولسم پر اٹکا ہوا تھا کل شام کا منظر ذہن میں گھوم رہا تھا ۔۔۔ کرسٹن کو بتانے کی ہمت نہیں تھی ۔۔۔ وہ بکھر جاٸیں گی ۔۔۔ وہ کرسٹن سے بہت محبت کرتا تھا ۔۔ وہ ایسی عظیم ماں تھی جس نے اسے تب اپنایا تھا جب اس کی اپنی ماں نے اسے ٹھکرا دیا تھا اور کوڑے دان میں ایک کیڑے کی مانند پھینک دیا تھا ۔۔۔۔۔ ہیر کی آواز پر وہ چونک کر اپنے خیالوں سے باہر آیا تھا ۔۔۔
آں ۔۔ ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روبن کی آواز بہت دور سے آتی ہوٸ محسوس ہوٸ تھی۔۔۔
آپ آۓ نہیں اتنے دن سے ۔۔۔۔۔۔۔ ہیر نے بے چین ہو کر پھر سے سوال کیا تھا ۔۔۔
وہ ہر غلط بات سے انجان کچی عمر کی لڑکی بری طرح روبن سے محبت کر بیٹھی تھی ۔۔۔ ان دو ہفتوں میں وہ روبن کو دیکھے بنا پاگل سی ہو گٸ تھی ۔۔۔ اور اب جب وہ سامنے بیٹھا تھا جسے وہ دن رات سوچتی رہی آنے والے نۓ ٹیوٹرز کو تنگ کرکے بھگاتی رہی ۔۔۔ اس کی خوشی اس کے انگ انگ سے چھلک رہی تھی ۔۔۔
روبن کو ہیر کا انداز اس کی آنکھیں عجیب لگ رہی تھیں ۔۔۔ ہیر کی کم سن عمر کی بے قراری چھپاۓ نہیں چھپی تھی ۔۔۔
بکس کھولیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ روبن نے کھردری سی آواز میں کہا تھا۔۔۔۔
جی۔۔۔۔۔۔۔۔ ہیر جو روبن کے دیدار سے اپنی آنکھیں سیک رہی تھی ایک دم سے گڑ بڑا گٸ تھی ۔۔۔
روبن اسے سمجھا رہا تھا جبکہ وہ کبھی اس کے کان کی بالی کبھی اس کے مضبوط ہاتھوں کی جنبش کبھی لمبے بالوں کی پونی کبھی اس کے کسرتی مضبوط کندھے اور کبھی تھکی سی اداس آنکھوں کو دیکھنے میں مصروف تھی۔۔۔۔
کیا مسٸلہ ہے آج آپ کے ساتھ آپ توجہ نہیں دے رہی ہیں ۔۔۔روبن نے بھنویں اچکاٸ تھیں
لب بھینچ کر پن کو کتاب کے کھلے ورق پر پٹخا تھا۔۔۔۔وہ کب سے ہیر کی آنکھوں کی تپش اپنے چہرے پر محسوس کر رہا تھا ۔۔۔ فواد اپنی کتابوں پر جھکا ہوا تھا ۔۔۔
وہ۔۔۔۔ کہ۔۔۔ کچھ نہیں ۔۔۔ ہیر نے جلدی سے گھنگرالے بالوں کو کان کے پیچھے آڑا کر پزل ہوتے ہوۓ کہا تھا ۔۔۔
توجہ دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روبن نے بھاری ہوتی ہوٸ آواز میں کہا ۔۔۔
وہ اتنی زور سے بولا کہ ہیر کا چڑی سا دل کانپ گیا
جی جی۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ گڑ بڑا کر کاپی پر ایسی جھکی تھی کہ پھر سر اوپر نہیں اٹھایا تھا ۔۔۔۔
*********
یہ کیسا ڈریس ہے حازق۔۔۔ حسنیٰ نے ساڑھی کے چھوٹے سے بلاٶز کو ہاتھوں میں لے کر حازق کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔
ایک بڑا سا ڈبہ صوفے کے سامنے پڑے میز پر کھلا ہوا تھا جس میں سرخ رنگ کی قیمتی ساڑھی ادھ کھلی باہر کو میز پر ڈھلک رہی تھی ۔۔۔ بلکل سامنے ایک طرف حازق منہ پر انگلیاں سجاۓ بھنویں اچکا کر حسنی کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔
کیوں جان کیسا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنی خوبصورت ساڑھی ہے ۔۔۔ حازق نے ہاتھ کا اشارہ سامنے میز پر پڑے ڈبے کی طرف اشارہ کیا تھا ۔۔۔
مطلب یہ۔۔ ایسا۔۔ کبھی میں نے پہنا نہیں پہلے ۔۔۔۔۔۔۔۔حسنیٰ نے گھبراٸ سی آواز میں کہا تھا
کیونکہ ساڑھی کا بلاوز ایسا تھا جس سے پیچھے سے ساری پشت کمر اور آگے سے پیٹ برہنہ ہی رہنا تھا۔۔۔۔۔۔ حازق اس کے لیے ساڑھی گفٹ لیا تھا ساتھ ایک پارلر والی تھی جس کو حسنیٰ کو تیار کرنا تھا ۔۔۔حازق اسے انٹروڈیوز کروانے کی غرض سے کسی بزنس پارٹی میں لے کر جانا چاہتا تھا ۔۔
تو جان۔۔۔ چند دنوں میں ہماری شادی ہو گی میں تمہیں پارٹیز میں لے کر جاٶں گا ہمارے ہاں ایسے ہی ڈریسز ہوتے۔۔۔۔۔۔۔۔ حازق ہاتھ کو داٸیں باٸیں جنبش دیتے ہوۓ کہہ رہا تھا ۔۔۔
پہن کر آو جلدی دیکھو ارم ویٹ کر رہی تمہیں تیار کرنا پھر ۔۔ حازق نے کلاٸ پر باندھی گھڑی پر ایک نظر ڈالی
10
حازق میں کمفرٹیبل۔۔۔۔۔۔۔حسنیٰ نے روہانسی ہو کر ایک نظر ساڑھی پر اور پھر ایک نظر سامنے بیٹھے حازق کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔
جو بھی تھا۔۔وہ جتنی بھی بولڈ تھی لیکن اس نے کبھی بھی بدن کو برہنہ رکھنے والا لباس زیب تن نہیں کیا تھا ۔۔اسے عجیب سی الجھن ہو رہی تھی۔۔۔۔ وہ بری طرح لب کاٹ رہی تھی ۔۔۔
جان۔۔۔۔۔ تم تو پہلی سیڑھی پر ہی پیچھے ہو رہی ہو ۔۔۔ میرے ساتھ پوری زندگی کیسے گزارو گی چلو جلدی سے ۔۔۔حازق بڑے انداز سے صوفے پر سے اٹھا تھا ۔۔۔
وہ سیاہ پینٹ کوٹ میں ملبوس نک سک سے تیاری کیے ہوۓ تھا ۔۔۔
حسنیٰ پریشان حال سی کمرے کی طرف چل پڑی تھی آدھے گھنٹے کے بعد وہ بلکل تیار باہر نکلی تھی ۔۔۔ سنہری بلاٶز پر سرخ رنگ کی ساڑھی اسے کے چندن بدن کو جگہ جگہ سے جھلکاتی اسے ماوراٸ دنیا کی کوٸ اپسرا بنا رہی تھی ۔۔۔
آہ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا لگ رہی ہو تم ۔۔۔۔ قسم سے ۔۔۔۔۔۔۔۔ حازق کی آنکھیں دنگ رہ گٸ تھیں ۔۔۔
پارلر والی نے اس کے ہر نقش کو اتنی خوبصورتی سے سنوارا تھا کہ حازق کی آنکھیں اٹک کر رہ گٸ تھیں ۔۔۔
آج ہی کر لیتے ہیں نہ نکاح ۔۔۔۔ حازق نے اس کے قریب جا کر خمار آلودہ آواز میں کہا تھا ۔۔۔
حازق یہ بلاوز بہت چھوٹا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ حسنی پلو سے بار بار اپنے پیٹ کو ڈھک رہی تھی ۔۔۔
وہ عجیب الجھن کا شکار تھی۔۔۔۔ لیکن حازق کو یوں اس پر فدا ہوتا دیکھ کر دل کی تھوڑی ہمت بندھی تھی ۔۔۔
او۔۔۔ کم آن۔۔۔ پلو ہے نہ اوپر کرو اسے ۔۔۔۔۔۔۔ حازق نے بڑے لاڈ سے اس کے پلو کو درست کیا تھا ۔۔۔
حازق سے ہی شادی ہونی ہے اگر اس کو ایسے کپڑے پسند ہیں تو مجھے بھی ان کی عادت ڈالنی ہو گی ۔۔۔۔حسنیٰ نے گہری سانس خارج کی تھی ۔۔۔
وہ اب حازق کے ساتھ کار میں بیٹھی تھی ۔۔۔ کار ایک بہت ہی بڑے ہوٹل کے سامنے رکی تھی ۔۔۔اور اس ہوٹل کے وسیع و عریض لان میں پارٹی تھی لان جگمگا رہا تھا اور رنگے برنگے لوگ قہقے عرانیات شراب ۔۔۔۔حسنیٰ تو حیرت سے ارد گرد دیکھنے میں مصروف تھی یہاں آ کر اسے عجیب لگنا تھوڑا کم ہو گیا تھا کیونکہ یہاں موجود سب عورتوں کے لباس ایسے ہی تھے۔۔۔ وہ حازق کے ساتھ قدم سے قدم ملاتی سب لوگوں کے بیچ آٸ تھی حازق اس کا ہاتھ تھام کر اسے ایک پچاس سال کے لگ بھگ آدمی کے پاس لے آیا تھا ۔۔ وہ عجیب ڈول اور جسم کا بدھی شکل کا شخص تھا ۔۔۔ آنکھیں سرخ تھیں بس اس کا لباس اس کی امارات کا گواہ تھا
یہ حسنیٰ ہے ۔۔ میری ہونے والی واٸف حسنیٰ۔۔۔ یہ جبار وسیم ہیں ۔۔۔حازق نے پچاس سالہ آدمی کی طرف مسکراتے ہوۓ دیکھا۔۔۔
جو اب حسنیٰ پر نظریں آر پار کر رہا تھا۔۔۔
حسنیٰ۔۔۔۔۔ اپنے نام کی طرح حسین ہیں ۔۔۔۔ جبار نے ہاتھ مصاحفے کے لیے بڑھایا تھا ۔۔
حسنیٰ نے حازق کی طرف دیکھا جو مسکرا رہا تھا ۔۔ حسنیٰ کو کچھ پل میں ہی جبار کی اپنے اوپر پڑتی نظروں سے کوفت ہونے لگی تھی ۔۔۔
حسنیٰ۔۔۔ ان کے ساتھ ہماری بہت بڑی بزنس ڈیل ہونے جا رہی ہے اچھے سے بات کرنی ہے ان کے ساتھ میں آتا ہوں ۔۔۔ حازق نے جبار کو آنکھ ماری تھی ۔۔۔
جبار کا فلک شگاف قہقہ اور عجیب گھن زدہ نظریں حسنیٰ کی ریڑھی کی ہڈی میں خوف کی لہر کا سبب بن گٸ تھی ۔۔۔
مہ۔۔۔میں کیابات کروں گی حازق۔۔۔ حسنیٰ نے خوف سے کانپتی آواز کے ساتھ جلدی سے حازق کے بازو کو تھام لیا تھا ۔۔
یار بس کمپنی دینی ان کو ۔۔۔ جیسے وہ کہیں کرتی جاٶ ۔۔۔۔۔۔ حازق نے پچکارتے ہوۓ حسنیٰ کے گال کو تھپتھپایا تھا ۔۔۔
میں باقی لوگوں کو دیکھتا ہوں ۔۔۔۔۔حازق اسے وہاں جبار کے پاس چھوڑتا آگے بڑھ گیا تھا ۔۔۔
حسنیٰ روہانسی شکل بنا کر حازق کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔
مس حسنیٰ ۔۔۔۔ حازق بہت لکی ہے ۔۔۔ آپ جیسی حسین لڑکی ۔۔۔۔۔۔۔۔ جبار کی آواز پر حسنیٰ نے بڑی مشکل سے لبوں پر مسکراہٹ سجاٸ تھی
جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گھٹی سی آواز نکلی تھی ۔۔۔
جبار اب لان میں لگے دیدہ زیب صوفے پر بیٹھ چکا تھا ۔۔۔اور سگار سلگا رہا تھا ۔۔
بیٹھیں میرے پاس ۔۔۔۔۔۔۔۔ بڑی ہی عجیب نظر اور عجیب مسکراہٹ کے ساتھ جبار نے اپنے ساتھ جگہ پر ہاتھ رکھا تھا ۔۔
جی۔۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ نے ارد گرد نظر دوڑاٸ تھی حازق کہیں نہیں تھا ۔۔۔
ہاں۔۔۔۔۔ ہاں۔۔۔ ادھر میرے پاس بیٹھیں ۔۔۔۔ حسنی کو سامنے بیٹھتے دیکھ کر جبار نے بازو پکڑکر اسے اپنے ساتھ بیٹھا لیا تھا ۔۔۔
حسنیٰ نے سختی سے بازو اس کی گرفت سے چھڑوایا تھا ۔۔۔
کیا کیا شوق ہیں آپکے ۔۔۔ سگار کو بڑی خباثت سے جبار نے ہونٹوں سے لگایا تھا۔۔۔
جی۔۔۔۔ ڈاٸزاینگ کرتی ہوں ۔۔۔حسنیٰ بہت مشکل سے چہرے پر ابھرنے والی بے زاری کو چھپا رہی تھی ۔۔۔
جبار نے بڑی بے باکی سے حسنیٰ کے گود میں دھرے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیا تھا ۔۔۔
ہمممممم۔۔۔ بٹیوفل ہینڈز ۔۔۔۔۔۔۔ اپنے انگوٹھے سے وہ اس کے ہاتھ کی پشت کو سہلا رہا تھا
حسنی نے ایک جھٹکے سے ہاتھ چھڑوایا تھا اور اٹھ کر کھڑی ہوٸ تھی ۔۔۔
میں دیکھتی ہوں حازق کہاں ہیں ۔۔۔۔۔ تیز تیز سانس لیتی وہ پورے لان میں حازق وہاب کو تلاش کر رہی تھی ۔۔
حازق کچھ لوگوں کے ساتھ کھڑا قہقے لگا رہا تھا وہ تیز تیز قدم اٹھاتی اس کی پشت تک آٸ تھی ۔۔۔
حازق۔۔۔ ۔۔۔ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اس نے پھولی سانس کے ساتھ کہا ۔۔
تم ادھر کیوں آ گٸ ہو پاگل ان کو اکیلا چھوڑ آٸ ہو ۔۔۔ حازق نے ماتھےپر شکن ڈالے تھے۔۔۔
حازق مجھے گھر جانا ہے ۔۔۔ حسنیٰ کے چہرے پر بے زاری اور الجھن صاف ظاہر تھی
نہ۔۔نہیں آج یہیں سٹۓ ہے تمھارا میری جان دیکھو تو کتنا بڑا ہوٹل ۔۔۔۔۔۔۔۔ حازق نے مصنوعی محبت جتلاتے ہوۓ اس کے ہاتھ کو تھاما تھا
کیوں ۔۔۔۔ایسا کیوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ نے حیرت سے حازق کی طرف دیکھا تھا
سمجھاتا ہوں آٶ ادھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حازق حسنیٰ کا ہاتھ تھامے اسے اپنے ساتھ لے کر چل پڑا تھا۔۔۔
لان عبور کرنے کے بعد اب وہ ہوٹل کے لاونج میں موجود تھے ۔۔۔ حازق نے کاونٹر سے کوٸ چابی لی تھی اور پھر مسکرا کر دوبارہ اس کا ہاتھ تھامے وہ اب لفٹ میں لے آیا تھا۔۔ شیشیے کی بنی شفاف لفٹ اوپر جا رہی تھی جس میں نیچے لان میں موجود پارٹی کی رنگینیاں نظر آ رہی تھیں ۔لفٹ پانچویں فلور پر رکی تھی ۔۔۔ حازق پھر اس کا ہاتھ تھامے آگے بڑھ رہا تھا اور وہ نا سمجھی کی حالت میں بس چلتی ہی جا رہی تھی۔۔۔ اب وہ ایک کمرے کا لاک کھول رہا تھا۔۔۔
دروازہ کھلتے ہی ایک خوبصورت بیڈ روم آنکھوں کو تو خیرہ کر گیا تھا لیکن حسنیٰ اب بھی الجھن کا ہی شکار تھی۔۔۔
دیکھو جان میری ۔۔۔۔ یہ جو جبار ہے نہ ۔۔۔اس کا کانٹریکٹ ہماری کمپنی کے لیے بہت ضروری ہے ۔۔۔ کمرے کے درمیان میں لے جا کر حازق نے حسنیٰ کو دنوں کندھوں سے تھاما تھا۔۔
تو ۔۔۔۔۔ حسنیٰ اب بھی الجھن اور نا سمجھی کا شکار تھی ۔۔
تو یہ۔۔۔ کہ تمہیں آج رات اس کو خوش کرنا ہے ۔۔۔۔۔۔حازق نے حسنیٰ کی لٹ کو کان کے پیچھے کرتے ہوۓ سرگوشی کی تھی
کہ۔۔۔ کیا مطلب ۔۔۔ حسنیٰ بدک کر پیچھے ہوٸ تھی ۔۔۔
مطلب تم سمجھ گٸ ہو ۔۔۔ میں صبح آ کر تمہیں لے جاٶں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ حازق نے موباٸل پر نظریں جما کر لا پرواہ انداز میں کہا تھا۔۔۔
وہ ساکن ہوٸ تھی کانوں پر جیسے یقین نہیں آ رہا تھا۔۔۔
حازق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ نے ایک زور دار تھپڑ حازق کی گال پر جڑ دیا تھا۔۔
تھپڑ کیوں مارا بیوقوف عورت ۔۔۔۔ ہماری سوساٸٹی میں ایسا ہی ہوتا ہے میری بیوی بننا ہے تو یہ سب باتیں ماننی پڑیں گی ۔۔۔۔ حازق نے زور سے اس کے بالوں کو دبوچا تھا اور دھاڑنے کے سے انداز میں کہا۔۔
حازق ۔۔۔۔۔۔۔۔ تکلیف سے آواز بھی نہیں نکل رہی تھی ۔۔۔
کیا حازق۔۔۔۔۔۔۔ تم انوکھی ہو کیا باقی سب کی واٸفز بھی یہ سب کرتی ہیں ۔۔۔۔۔۔ حازق نے دانت پیس کر کہا تھا۔۔۔
مجھے نہیں کرنا یہ۔۔۔۔ حسنیٰ نے اپنے بال چھڑواتے ہوۓ گھٹی سی آواز میں کہا تھا۔۔۔
بے بی دیکھو میرے لیے ۔۔۔۔ جتنا وہ خوش ہو گا ہمیں اتنا ہی فاٸدہ ہو گا ۔۔۔۔۔۔ حازق نے اس کے بال چھوڑ کر کہا۔۔۔
حازق مجھے گھر جانا ہے ۔۔۔۔ مجھے ۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ ایک جھٹکے سے حازق کے ساتھ لپٹ گٸ تھی ۔۔۔۔
تمہیں مجھ سے شادی کرنی ہے نہ یہ عیش عشرت کیا نہیں چاہیے یہ سب بولو ۔۔۔ حازق نے کان میں سرگوشی کی
نہ۔۔۔نہیں چاہیے کچھ بھی پلیز حازق ۔۔۔۔ حسنیٰ خوف زدہ ہو کر الگ ہوٸ تھی ۔۔۔
تمہیں یہ کرنا ہے ۔۔۔ وہ اتنا خوش ہو گیا ہے تمہیں دیکھ کر پاگل ۔۔۔ ۔۔۔ حازق اس وقت اسے کوٸ ذہنی مریض لگ رہا تھا۔۔۔
میری جان میں اتنا خوش ہوں یہ کانٹریکٹ اب ہمارا ہی ہے ۔۔۔
حازق ۔۔۔۔پلیز۔۔۔۔ ۔۔۔۔ حسنیٰ نے ہاتھ جوڑے تھے۔۔۔
نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔حازق نے چیختے ہوۓ کہا تھا۔۔
مجھے جانا ہے مجھے نہیں کرنی تم سے شادی ۔۔۔ حسنیٰ تیزی سے دروازے کی طرف بڑھی تھی
پاگل ہو گٸ ہو کیا اتنا قریب آ کر دور جا رہی ہو ۔۔۔ وہ آ رہا ہے
بس ۔۔۔ حازق نے ایک جھٹکے سے بازو کھینچ کر اسے روکا تھا۔۔۔
چھوڑو مجھے ۔۔۔۔ چھوڑو۔۔۔۔ حسنیٰ اپنی پوری قوت سے بازو چھڑوا رہی تھی ۔۔۔
جسٹ سٹاپ اٹ ۔۔۔ آرام سے بیٹھو یہاں ۔۔۔حازق نے پوری قوت سے اسے بیڈ پر دھکیلا تھا ۔۔۔
نہیں ۔۔۔۔۔ مجھے جانے دو پلیز۔۔۔۔ حسنیٰ کو جیسے ہوش آ گیا تھا حازق کے پاٶں پکڑ لیے تھے۔۔۔
پاگل مت بنو ۔۔۔حسنیٰ ۔۔۔ بیٹھو ادھر۔۔۔ حازق نے اسے اٹھا کر بیڈ پر بیٹھایا تھا
اور یہ تو شروعات ہے جان مجھے تو اندازہ ہی نہیں تھا تم کتنی لکی ہو میرےلیے ۔۔۔بس فیصلہ ہو گیا ۔۔۔ صبا سے میرے بچے ہوں گے لیکن تم۔۔۔۔ تم ایسے ہی رہو گی ۔۔۔۔ حسین ۔۔ پیاری ۔۔۔۔ ہر کانٹریکٹ ہمارا ہو گا۔۔۔۔۔۔۔
ص۔۔۔صبا۔۔۔۔۔ کون۔۔۔۔ حسنیٰ کی زبان لڑکھڑا گٸ تھی۔۔۔
جس سے میری منگنی تھی کل۔۔۔۔ اچھا چلو اب یہ آنسو صاف کرو ۔۔۔۔ آرہا جبار مسیج آ گیا اس کا ۔۔۔ حازق نے ٹشو اس کی طرف بڑھایا تھا۔۔۔
اور پھر وہ اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گیا تھا ۔۔۔ حسنیٰ لپک کر دروازے پر پہنچی تھی۔۔۔ دروازہ لاک تھا ۔۔۔
حازق۔۔۔۔ حازق۔۔۔۔۔ دروازہ کھولو۔۔۔۔۔۔ دروازہ کھولو ۔۔۔۔ وہ پاگلوں کی طرح دروازہ پیٹ رہی تھی ۔۔۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: