Husna Novel by Huma Waqas – Episode 6

0
حسنیٰ از ہما وقاص – قسط نمبر 6

–**–**–

کوٸ ہے دروازہ کھولو ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ اپنی پوری قوت لگا کر وہ چیخ رہی تھی ۔۔۔دروازے پر اتنی زور سے ہاتھ مار رہی تھی کہ ہتھیلی سرخ ہو رہی تھی ۔۔۔۔ دل تھا کا پھٹ کر باہر آ رہا تھا۔۔۔۔
دماغ شل تھا ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ ایک بھیانک خواب ہو۔۔۔۔۔ وہ رو رہی تھی چیخ رہی تھی دہاٸ دے رہی تھی پر کوٸ سن کر نہیں دے رہا تھا۔۔۔ حازق اس کے ساتھ مزاق کر رہا ہو گا۔۔۔ہاں وہ ایسا نہیں کر سکتا اس کے ساتھ ۔۔۔ ابھی دروازہ کھولے گا اور قہقہ لگاۓ گا ۔۔۔
دروازہ کھلا تھا اور جبار اندر آ یا تھا حسنیٰ لپک کر دروازے کی طرف بڑھی تھی اس سے پہلے کے وہ دروازے تک پہنچتی جبار اس کا بازو تھام چکا تھا۔۔۔ اور دوسرے ہاتھ سے وہ دروازے کو لاک کر رہا تھا۔۔۔
وہ بڑے قد بھاری جسامت اور خوفناک شکل کا مالک تھا جسے دیکھ کر ہی گھن آ جاۓ ۔۔۔ اس کے ہاتھ نے اتنی مضبوطی سے اس کی نرم بازو کو دبوچا تھاکہ وہ تکلیف سے کراہ اٹھی تھی وہ ۔۔۔۔ مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی اور وہ خباثت سے دانت نکالتے ہوۓ اس کے تڑپنے سے لطف انداوز ہو رہا تھا۔۔۔۔
ششش۔۔۔۔ شور نہیں کرتے زیادہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک جھٹکا دے کر اس نے حسنیٰ کو گلے سے پکڑ کر پاس کیا اور کان میں سر گوشی کی ۔۔۔
اس کے منہ سے بدبو کے بھبکے اڑ رہے تھے ۔۔۔ حسنیٰ کو ابکاٸ ہوٸ تھی۔۔۔
مہ۔۔۔مجھے جانے دو پلیز۔۔۔۔۔ وہ منمناٸ تھی۔۔۔۔ خوف آنے لگا تھا ۔۔۔ اس کے ہاتھوں کی جنبش دل لرزا رہا تھی ۔۔۔
مجھے۔۔۔۔۔ میں۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔۔ شادی شدہ ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسنی نے گھٹی سی آواز میں کہا تھا۔۔۔
تو کیا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جبار نے فلک شگاف خوفناک قہقہ لگایا تھا۔۔
شیطانیت سے اس کی سرخ آنکھیں باہر کو ابل رہی تھیں ۔۔۔۔ حسنیٰ ایک پتلے سے شفون کے پلو میں خود کو کتنا چھپا سکتی تھی
ایک ہی جست میں سب ختم تھا۔۔۔
گھن۔۔ بد بو۔۔۔ خوف۔۔۔ بے سود تھی ہر کوشش ۔۔۔۔ بس اک ہی شخص کا چہرہ گھوم گیا تھا اسی کا نام لے کر وہ چیختی ہی رہ گٸ تھی بس ۔۔۔۔
نعمان۔۔۔۔۔۔ نعمان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نعمان۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ نعمان۔۔۔۔۔۔۔ ن۔۔۔ع۔۔۔۔م۔۔۔ا۔۔۔ن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*************
تو کیوں چپ کھڑا رہا ہاں ۔۔۔۔۔ بول ۔۔۔ تیرے تو ایک پنچ کی مار تھے سارے ۔۔۔ عبداللہ نے غصے سے نعمان کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
عبداللہ نعمان کے فلیٹ پر موجود تھا۔۔کل حسنیٰ کے جانے کے بعد لوگ اسے مار رہے تھے اور وہ ساکن لب بھینچے کھڑا رہا تھا۔۔۔ بس آنکھیں دور جاتی حسنیٰ کی کار پر جمی تھیں ۔۔۔ عبداللہ نے آ کر اسے لوگوں سے چھڑوایا تھا جو ایک جھوٹی عورت کی ہمدردی میں آ کر اس کے محرم رشتے کی جاٸز جسارت پر ہی اسے مار رہے تھے ۔۔۔
نعمان کے ہونٹ زخمی ہوۓ تھے ۔۔۔ نعمان نے گھر آ کر اس کی ڈریسنگ کی تھی اور پھر اسی کے پاس وہ رک گیا تھا ۔۔۔ اور اب صبح سے وہ گم سم سا بیٹھا تھا
۔حسنیٰ اس سے محبت نہیں کرتی تھی اور کل جو اس نے اس کے ساتھ کیا وہ برداشت سے باہر تھا ۔۔۔ ۔۔۔۔
نعمان۔۔۔۔ نعمان۔۔۔۔۔۔۔۔ عبداللہ نے بازو ہلایا تھا ۔۔۔
نعمان ایک دم سے جیسے ہوش کی دنیا میں واپس آیا تھا ۔۔۔
سنو مجھے حسنیٰ کو طلاق دینی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے گہری سانس لی تھی ۔۔۔
کیا۔۔۔ پاگل ہو گیا ہےکیا ۔۔۔۔۔۔۔ عبداللہ نے حیرت سے دیکھا تھا ۔۔
وہ بے حال سا بیٹھا تھا آج آفس بھی نہیں گیا تھا ۔۔۔ساری رات شاٸد جاگتا رہا تھا آنکھیں سوج رہی تھیں ۔۔۔ اور بہت کوشش کی باوجود بہت کم کھل رہی تھیں ۔۔۔
نہیں ہوش میں اب آ یا ہوں ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ نعمان نے بالوں کو دونوں ہاتھوں کے پنجوں میں جکڑ کر پیچھے کیے تھے ۔۔۔ سر کو پیچھے کیا تو گردن کے پاس کا زخم واضح ہوا تھا ۔۔۔ رگیں پھول گٸ تھیں سفید رنگت سرخ ہو گٸ تھی ۔۔۔
بکواس مت کر یار ۔۔۔ تو بہت پیار کرتا ہے اس سے۔۔۔عبداللہ نے قریب آ کر اسے دنوں کندھوں سے تھام کر کہا تھا۔۔۔
ہاں پر وہ نہیں کرتی ہے ۔۔۔۔ نعمان ایک آنکھیں اوپر اٹھاٸ تھیں ۔۔۔
عبداللہ دنگ تھا ۔۔۔ اس کی آنکھوں میں پانی تیر رہا تھا۔۔۔ وہ مضبوط قد وقامت رکھنے والا ۔۔۔ جس کی ایک چپت پر بڑے بڑے ڈھیر ہو جاٸیں وہ ایک بے وفا چھوڑ کر چلی جانے والی لڑکی کے لیے آنکھوں میں آنسو لیے کھڑا تھا۔۔۔
کوٸ اچھا وکیل ہے جاننے والا کیا۔۔۔۔۔۔ جلدی سے گلے میں پھنسے آنسو نگلے تھے ۔۔۔۔۔۔
عبداللہ بس خاموش کھڑا تھا بلکل خاموش ۔۔۔
***************
کیوں لے کر جا رہے ہو میرے بیٹے کو چھوڑو اس کو ۔۔۔ کرسٹن نے پیچھے بھاگتے ہوۓ ہانپ کر کہا تھا۔۔۔
دو وردی میں ملبوس پولیس آفیسر روبن کو گھر سے پکڑ کر لے کر جا رہے تھے ۔۔۔ولسم نے روبن کے خلاف گھر میں آ کر اسلحہ دکھا کر حراساں کرنے کی رپورٹ درج کرواٸ تھی ۔۔۔
او بی بی ۔۔۔ آرام سے تھانے آ کر بات کریں ۔۔۔ پولیس آفیسر نے کرسٹن کو جھٹکا تھا۔۔۔
روبن نے دانتوں کو پیوست کیا تھا اور جبڑے باہر کو نکل آۓ تھے ۔۔وہ بہت مشکل سے اپنے غصے کو کنٹرول کر رہا تھا۔۔۔
رات کے گیارہ بج رہے تھے ۔۔۔ اور روبن سو رہا تھا جب وہ لوگ آۓ تھے ۔۔۔
دیکھیں میرے بیٹے نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا ۔۔۔۔ ۔۔۔ کرسٹن ان کے پیچھے بولتے ہوۓ دروازے تک آ گٸ تھیں ۔۔۔
مام۔۔۔۔ کچھ نہیں ہوۓ گا میرے کو پریشان کیوں ہوتا تم ۔۔۔ روبن نے کرسٹن کی طرف دیکھ کر جھنجلاتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔
پولیس والے اب اسے جیپ میں بیٹھا رہے تھے ۔۔۔
روبن۔۔۔۔ کرسٹن بولتی ہوٸ باہر نکل آٸ تھی اور اب جیپ کے پاس کھڑی تھی ۔۔۔
مجھے ساتھ جانے کا اس کے مجھے ساتھ لے جاٶ ۔۔۔۔۔۔۔ کرسٹن پھر سے پریشان حال ہاتھ جوڑے کھڑی تھی ۔۔۔
لیکن جیپ ایک زناٹے سے آگے بڑھی تھی۔۔۔ منب نے فون کان کو لگایاتھا۔۔۔
***********
حازق پلیز۔۔۔۔ بات کو سمجھا کرو نہ ۔۔۔ حسنیٰ نے چھت پر رکھی کرسی پر بیٹھ کر روہانسی شکل بنا کر کہا تھا۔۔
حازق تین دن سے اس سے بات نہیں کر رہا تھا۔۔ فضا کہ کہنے میں آ کر وہ اسے شازر کے فارم ہاوٸس جانے سے انکار کر چکی تھی جس پر وہ بہت بری طرح اسے خفگی دکھا رہا تھا۔۔۔ وہ تین دن اس سے چھپ چھپ کر معافی تلافی کر رہی تھی لیکن وہ تھا کہ اپنی ناراضگی ختم نہیں کر رہا تھا۔۔۔
حسنیٰ اس کو منانے کے چکر میں نڈھال ہوٸ پڑی تھی ۔۔۔
کیا سمجھا کرو سمجھا کرو ۔۔۔ تمہیں جانا ہے میرے ساتھ کہ نہیں بولو ۔۔۔ حازق آج بھی اسی بات پر اٹکا ہوا تھا ۔۔۔ اب شازر کی فارم ہاوٸس والی پارٹی کو ایک دن باقی تھا۔۔۔
نہیں جا سکتی ہوں ۔۔۔۔ ایسے پلیز ۔۔۔۔ ۔۔۔ حسنی نے بے چینی سے ارد گرد دیکھا تھا اور پھر سیڑھیوں کی طرف دیکھا تھا۔۔
مجھ سے بات مت کرنا دوبارہ ۔۔۔۔حازق نے غرانے کے انداز میں کہا تھا۔۔۔
حازق یہ کیا بات ہوٸ ۔۔۔ وہ رو دینے کے قریب تھی ۔۔۔
بکھرے سے بال ۔۔۔ اونچی سی شرٹ کے ساتھ گھیرے دار شلوار پہنے دوپٹے سے بے نیاز وہ چھت پر ڈھلتے سورج کی روشنی میں دمک رہی تھی ۔۔۔
آپ رشتہ بھیجیں نہ گھر پھر میں آپکی ہو جاٶں گی نہ۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ نے فضا کے سمجھاۓ ہوۓ الفاظ ادا کیے تھے ۔۔۔
مجھ سے بات مت کرو ۔۔۔ حازق کی سختی سے کہے گۓ الفاظ اس کے دل کو اداس کر گۓ تھے۔۔۔
حازق۔۔۔ ۔۔۔۔۔ روتے ہوۓ اس نے اسے آواز دی تھی۔۔۔
لگتا تھا کہ حازق اس کے آنسو نہیں دیکھ سکے گا اور فورا اس کے آگے گھٹنے ٹیک دے گا ۔۔۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا وہ ہنوز اسی طرح رہا تھا
اپنا خیال رکھنا ۔۔۔ حازق نے دانت پیس کر کہا ۔۔۔
فضا کے مشورٶں پر عمل کرو بس۔۔۔۔ لفظ طنز بھرے تھے ۔۔۔
حازق۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ حازق۔۔۔۔۔ آوازیں دینا بے سود تھا وہ فون بند کر چکا تھا
وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔۔۔ اب کرے تو کیا کرے سارے خواب بکھرتے ہوۓ نظر آ رہے تھے جو وہ حازق کے ساتھ بنا چکی تھی ۔۔۔
************
عبداللہ۔۔۔ بات سن۔۔ نعمان کی نے عجلت بھرے انداز میں کہا تھا ۔۔۔
اور کھڑکی کا پردہ ہٹا کر نیچے سڑک کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔اس کا فلیٹ تیسرے فلور پر تھا ۔۔۔وہ بہت دن سے کچھ عجیب قسم کی حرکات اپنے ساتھ محسوس کر رہا تھا ۔۔۔ جیسے ہر وقت کوٸ اس پر نظر رکھے ہوۓ ہے ۔۔ کوٸ اسے کھوج رہا ہے ۔۔۔ اور آج تو جب وہ آفس سے واپس آیا تو اسے ایسا محسوس ہوا جیسے اس کے فلیٹ پر اس کی غیر موجودگی میں کوٸ آیا تھا ۔۔۔
ہممم۔ خیریت۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عبداللہ کی پریشان حال سی آواز آٸ تھی ۔۔۔
حسنیٰ والی بات کو ابھی ایک دن ہی تو گزرا تھا اور کل رات وہ نعمان کے ساتھ رکا تھا اور آج گھر آیا تھا کہ رات کے ایک بجے نعمان کی کال آ گٸ تھی ۔۔۔
کوٸ میرا پیچھا کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔نعمان نے آنکھوں کو سکیڑ کر ارد گرد دیکھا تھا ۔۔۔
کیا مطلب۔۔۔ عبدأللہ نے نا سمجھی سے کہا تھا ۔۔۔
ہاں نہ یار کوٸ ہے جو پیچھا کر رہا مسلسل کون ہو سکتا۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے لب کو دانتوں میں دبایا تھا ۔۔۔
پھر بے چین ہو کر سگریٹ کی ڈبی اٹھاٸ تھی ۔۔۔ وہ جب بھی ذہنی اذیت کا شکار ہوتا تھا اسے سگریٹ کی طلب ہونے لگتی تھی ۔۔۔سگریٹ کو منہ میں دباۓ وہ کان اور کندھے کے درمیان فون کو دباۓ بیٹھا تھا ۔۔۔
مجھے ہر وقت محسوس ہوتا ہے کہ کوٸ مجھے دیکھ رہا ہے ۔۔۔ وہ عبداللہ کو اپنی پریشانی سے آگاہ کر رہا تھا ۔۔۔
بات سن داور سے بات کروں ۔۔۔ عبداللہ نے اس کی پریشانی کے ذیر اثر کہا تھا
نہ۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔ مجھے لگتا مجھے ایک دفعہ مام سے ملنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔نعمان نے پر سوچ انداز میں کہا تھا ۔۔۔
شہروزی کا آدمی نعمان پر نظر رکھے ہوۓ تھا اور یہ بات اسے بہت دن سے محسوس ہو رہی تھی ۔۔ آفس سے اسے ایک قیمتی موباٸل فون بھی گفٹ کیا گیا تھا ۔۔ لیکن وہ اپنی بہت خاص کالز کے لیے اسے بلکل استعمال نہیں کر رہا تھا ۔۔۔
تو اب تم وہاں۔۔۔۔ عبداللہ نے گہری سانس لی تھی ۔۔۔
ہاں میر پور جاٶں گا۔۔۔۔۔۔ نعمان نے پر سوچ لہجے میں کہا تھا ۔۔
********
آرام سے آرام سے جان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حازق نے حسنیٰ کے چلتے ہاتھوں کو قابو کرتے ہوۓ کہا تھا
وہ روتے ہوۓ زور زور سے حازق کے منہ پر تھپڑ لگانے کی کوشش میں اس کے بازو پیٹ رہی تھی ۔۔ گزری شب اس کی عصمت پامال کر چکی تھی ۔۔ ساری رات گھٹنوں میں منہ دیے وہ روتی رہی تھی ۔۔۔ جبار اسے چھوڑ کر جب کمرے سے نکلا تو وہ دوڑتی ہوٸ باہر کی طرف لپکی تھی پر باہر کھڑے گارڈ کو دیکھ کر پھر سے کمرے میں آ گٸ تھی ۔۔۔۔
تم سے نفرت ہے مجھے ۔۔۔۔۔ وہ اتنی زور سے چیخی تھی کہ حازق نے مصنوعی ڈرنے کی ایکٹنگ کی تھی ۔۔۔
اور پھر قہقہ لگایا تھا۔۔۔
نہیں تم پیار کرتی ہو مجھ سے اور اب یہی کرنا ہے ساری زندگی مجھ سے پیار ۔۔۔۔ میرے لیے پیار سمجھی تم ۔۔۔۔۔۔ وہ دانت نکالتا ہوا ایک طرف پڑی اس کی ساڑھی کو سمیٹ رہا تھا۔۔۔
گھٹیا ہو تم۔۔۔۔ میں تمہیں چھوڑٶں گی نہیں ۔۔۔ حسنیٰ بھوکی شیرنی کی طرح اس پر جھپٹی تھی ۔۔۔
کاجل پھیلا خوبصورت چہرہ آج عبرت کا نشان بنا ہوا تھا ۔۔۔
ہاں تو مت چھوڑنا کس نے بولا کے چھوڑو مجھے ۔۔۔ چلو اب حلیہ درست کرو گھر جانا ہے ۔۔۔ ساڑھی اس کے منہ پر زور سے مارتا ہوا وہ ایک طرف جا کر کھڑا ہوا تھا ۔۔
مجھے تمھارے ساتھ کہیں نہیں جانا ہے ۔۔۔ مجھے پولیس سٹیشن جانا اور یہ سب بتانا جو تم نے میرے ساتھ کیا۔۔ حسنیٰ چنگھاڑ رہی تھی ۔۔۔
کیا بتاٶ گی ۔۔۔ ہاں کیا بتاٶ گی ۔۔۔ حازق ایک جست میں اس تک پہنچا تھا اور اس کے منہ کو دبوچ لیا تھا ۔۔۔
میں تمہیں زبردستی لے کر آیا۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔۔ تم خود آٸ تھی پہلی دفعہ بھی اور اب بھی ۔۔۔ حازق نے اتنی زور سے اس کے چہرے کو ہاتھوں میں جکڑا ہوا تھا کہ وہ تکلیف سے تڑپ اٹھی تھی ۔۔۔
اور مجھ سے شادی کا شوق تمہیں چڑھا ہوا تھا مجھے نہیں سمجھی تم ۔۔۔۔ ایک جھٹکے سے اسے چھوڑا تھا وہ لڑ کھڑاتی ہوٸ ایک طرف ہوٸ تھی ۔۔۔
میرے گھر میں آ کر مجھ سے شادی کی بھیک مانگنے والی تم تھی ۔۔۔ حازق کمر پر ہاتھ دھرے دھاڑ رہا تھا ۔۔
جاٶ ۔۔۔۔ جاٶ ۔۔۔۔ اب یہ سب بتاٶ سب کو علان کرو ۔۔۔ حازق نے طنز بھرے لہجے میں کہا
وہ بلک بلک کر رو دی تھی۔۔۔ اور اس شیطان پر کوٸ اثر نہیں تھا وہ آرام سے کھڑا تھا ۔۔۔
اٹھو۔۔۔ جلدی اب۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ رعب سے اس کے سر پر کھڑا کہہ رہا تھا ۔۔۔
پرسوں ہمارا نکاح ہے اس کے بعد بنکاک جا رہے ہم ۔۔۔ ایک بہت بڑی ڈیل فاٸنل کروانی ہے تمہیں جان ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ حازق نیچے اس کے چہرے کی طرف جھکا تھا ۔۔۔

 

ایسا ہی ہے مام ۔۔۔۔۔۔۔ روبن نے نظریں جھکا کر کہا تھا ۔۔۔
کرسٹن ساکن ہوٸ تھی ۔۔۔ چہرہ زرد بے یقینی کی حالت میں تھا ۔۔ وہ لڑ کھڑاٸ تھی روبن نے جلدی سے تھام کر صوفے پر بیٹھایا تھا ۔۔۔روبن نے کرسٹن کو آج ولسم کی حقیقت کا بتا دیا تھا ۔۔ وہ ہر وقت روتی رہتی تھی ولسم کو یاد کرتی رہتی تھی ۔۔۔ روبن سے اب یہ سب برداشت نہیں ہوتا تھا ۔۔
روبن وہ ایسے کیسے کر سکتا ہے میرے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بلکل ساکن گود میں ہاتھ دھرے سامنے دیوار کو تکتے ہوۓ کھوۓ کھوۓ سے لہجے میں گویا ہوٸ ۔۔۔
مام کر سکتا نہیں وہ کر چکا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ روبن نے کرسٹن کے کندھے پر اپنا سر رکھ دیا تھا۔۔
جانتا تھا کرسٹن کے اندر ایک طوفان ہے جو کسی بھی لمحے باہر امڈ آۓ گا یہ خاموشی یہ ساکن پن خطرے کی علامت تھا ۔۔ اسے اب کرسٹن کو سنبھالنا تھا وہ پوری طرح اہنے ذہن کو تیار کر چکا تھا ۔۔۔
اس دن جیل سے تو آدھے گھنٹے کے اندر ہی داور اسے چھڑوا کر لے آیا تھا ۔۔ لیکن اس کے بعد اب ولسم کا جھوٹ کرسٹن سے نہیں چھپایا جا سکتا تھا ۔۔۔ آج ہمت جمع کرنے کے بعد وہ سب کرسٹن کو بتا چکا تھا ۔۔۔
اور پھر ایسا ہی ہوا تھا کرسٹن پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی ۔۔۔ روبن نے اسے اپنی مضبوط باہوں میں بھینچا ہوا تھا ۔۔ کرسٹن کی تڑپ کے ضبط میں اس کی رگیں پھول گٸ تھیں ۔۔
پلیز نہ اب چپ کرنے کا ۔۔ایسے شخص کے لیے رونے کی کوٸ ضرورت نہیں آپکو ۔۔۔۔۔۔ وہ مسلسل کرسٹن کو تھپک رہا تھا ۔۔۔
وہ خبیث میرا سارا زیور بھی اسی کو دیا ہوٸنیگا۔۔۔۔۔ کرسٹن نے سرخ چہرے کے ساتھ کہا ۔۔۔
وہ روبن سے الگ ہو کر اپنے گال رگڑ رہی تھی ۔۔۔۔ اور روبن اس کی بات میں اٹک گیا تھا کہ ولسم کرسٹن کا سارا زیور بھی لے گیا تھا ۔۔۔اس کا سر پھٹنے پر تھا ۔۔۔ چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا ۔۔۔
کیا مطلب ۔۔۔۔۔۔۔۔ کرسٹن کو کندھوں سے تھام کر غصے سے پوچھا تھا ۔۔۔
میرا سارا زیور لے گیا تھا وہ حرامی۔۔۔۔۔۔۔۔ کرسٹن چیخ اٹھی تھی ۔۔۔
مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا اس نے میں کبھی معاف نہیں کرینگا اس کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کرسٹن دانت پیس کر کہہ رہی تھی اور پھر سے روبن کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی ۔۔۔
پر وہ تو کسی اور ہی سوچ کے زیر اثر لب بھینچے آنکھوں کو مخصوص انداز میں سکیڑے بیٹھا تھا ۔۔۔
***********
فضا تمھاری وجہ سے ناراض ہوا ہے وہ ۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ نے روہانسی آواز میں کہا تھا ۔۔
کینٹن کے ٹیبل پر چاۓ کا کپ سامنے رکھے وہ بے حال سی بیٹھی تھی۔۔ اس کے بلکل سامنے فضا ناک پھلاۓ بیٹھی تھی اور غصے سے حسنیٰ کو گھور رہی تھی ۔۔۔ حازق اس سے بلکل بات نہیں کر رہا تھا اور اب یونیورسٹی میں بھی اس کا لاسٹ پروجیکٹ چل رہا تھا جس کے پورا ہوتے ہی اسے جانا تھا۔۔۔۔ فضا کی بات مان کر وہ فارم ہاوٸس تو نہیں گٸ تھی لیکن اب حازق کی ایک نٸ فرماٸش آ چکی تھی ۔۔۔
اچھا میری وجہ سے ۔۔۔ پاگل لڑکی وہ بس ملنا چاہتا تھا تم سے پتا نہیں وہاں کیا کیا کرتا تمہارے ساتھ ۔۔۔۔۔ فضا نے ناگواری سے ناک چڑھایا تھا
مجھے لگتا مجھے مان لینی چاہیے تھی بات ۔۔۔ حسنیٰ نے بے چین ہو کر لب کچلے تھے ۔۔۔
ہلکے نیلے رنگ کے جوڑے میں وہ سادہ چہرے کے ساتھ بے حال بیٹھی بھی کوٸ خوبصورت نازک سی مورت لگ رہی تھی ۔۔۔
فضا نے بے زاری سے سر جھٹکا تھا ۔۔ حازق کا نشہ ایسا چڑھا تھا اس کے سر پر کہ اتر کر ہی نہیں دے رہا تھا ۔۔۔ فضا جتنا اسے حازق سے بچانے کی کوشش کرتی تھی وہ اتنا ہی حازق کے قریب ہو رہی تھی ۔۔۔
اچھا سنو وہ مجھ سے کہہ رہا نکاح کر لیتے ہیں پھر مل لیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ نے ڈرتے ڈرتے حازق کی اگلی فرماٸش کا ذکر کیا تھا ۔۔۔
فضا نے چونک کر دیکھا تھا اور پھر چاۓ کا کپ سامنے میز پر رکھ کر گہری سانس لیتے ہوۓ ہاتھ سینے پر باندھ لیے۔۔
ارے واہ ۔۔۔۔ وہی نکاح ۔۔۔ گناہ کے اوپر لبادہ اوڑھنا ارے بس کرو یار تم لوگوں نے تو مزہب کو بھی مزاق بنا ڈالا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ فضا نے حقارت بھرے لہجے میں کہا اور ناک پھلا کر چہرے کا رخ دوسری طرف موڑ لیا ۔۔۔
نکاح تو ثواب ہے نہ۔۔۔ حسنیٰ نے بے چارگی سے دیکھا تھا ۔۔۔
حسنیٰ تم کیوں اس کی امارات پر اتنی مر مٹی ہو کہ تمہاری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو گٸ ہے ۔۔۔ یہ نکاح وہی نکاح ہے جو شازر نے فروا سے کر رکھا ہے ۔۔۔ فضا نے افسوس کے انداز میں کہا
اسے سامنے بیٹھی اپنی اس اکلوتی دوست سے بہت ہمدردی تھی۔۔۔۔ لیکن وہ صرف اور صرف خوبصورت تھی عقل سے پیدل حسن کے غرور میں سر شار اور دولت کے خواب دیکھنے والی ۔۔ ناول کی دنیا میں جینے والی جس میں ایک امیر کبیر شخص اس پر مر مٹے اور پھر اس سے شادی کر لے ۔۔۔ یہ سب اسے حازق کی نظروں کا حوس نہیں دیکھنے دیتا تھا ۔۔۔اس کو اگر نظر آتا تھا تو بس اس کی بڑی سی گاڑی اس کے قیمتی جوتے کپڑے اس کا بنک بیلنس ۔۔۔
نہیں یہ ہمیشہ والا نکاح ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔حسنیٰ نے لفظ چبا چبا کر ادا کیے تھے ۔۔۔
فضا نے بے چارگی سے اس کی طرف دیکھا ۔۔۔فضا کو وہ زہر لگ رہی تھی ۔۔۔
جاٶ پھر کر لو۔۔۔۔۔۔۔۔ فضا ایک جھٹکے سے کرسی کو پیچھے دھکیلتے ہوۓ اٹھی تھی
میں تمھارا کوٸ ساتھ نہیں دوں گی بلکہ میں عامر بھاٸ اور سب کو بتا دوں گی ۔۔۔ فضا نے تھوڑا سا جھک کر انگلی اس کی آنکھوں کے آگے کھڑی کی تھی اور دانت پیس کر کہا
پھر وہ پلٹی نہیں تھی غصے سے تیز تیز قدم اٹھاتی وہ کینٹین سے باہر جا رہی تھی
رکو ۔۔۔۔ رکو ۔۔۔۔ فضا۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ اپنی چیزیں عجلت میں سمیٹتی وہ فضا کو پکار رہی تھی ۔۔۔
*********
وہ لڑکی کہاں گٸ پھر۔۔۔ ۔۔۔ شہروزی نے کرسی کو آہستہ آہستہ گھوماتے ہوۓ پر سوچ انداز میں سامنے بڑی سی میز کے دوسری طرف کھڑے شخص سے پوچھا تھا ۔۔۔
واصف ٹیکسٹاٸل کے اس بہت بڑے آفس میں پر سکون خاموشی تھی شہروزی میز کے سامنے لگی کرسی پر پر وقار انداز میں براجمان تھی جبکہ سامنے کھڑا شخص مہدب انداز میں ہاتھ باندھے کھڑا تھا ۔۔
میم ۔۔۔۔ مجھے تب نعمان سر کی فکر لگ گٸ تھی اور جب تک میں واپس آیا وہ لڑکی نکل چکی تھی۔۔۔۔۔۔ زبیر نے سر نیچے جھکا لیا تھا ۔۔۔
وہ شہروزی کو دو دن پہلے ہوۓ واقع سے آگاہ کر رہا تھا جب حسنیٰ نعمان کو ہوٹل میں چھوڑ کر بھاگ گٸ تھی۔۔۔
شہروزی نے زبیر کو صرف نعمان پر کڑی نظر رکھنے کے لیے رکھا ہوا تھا ۔۔۔ زبیر کے پاس اس کے اپارٸٹمنٹ کی اضافی چابی تک موجود تھی ۔۔۔ وہ اس کام میں بہت مہارت رکھتا تھا وہ آرمی سے راٸٹاٸر آفیسر تھا جو اب لوکل انویسٹی گیشن کا کام کرتا تھا ۔۔۔
وہ لڑکی لڑ رہی تھی اتنا جانتا ہوں میم۔۔۔۔ ۔۔۔۔ شہروزی کو بلکل خاموش دیکھ کر وہ پھر سے گویا ہوا ۔۔۔
ہمممم۔۔۔۔۔ چلو اس کا بھی پتہ لگ جاۓ گا۔۔۔۔۔۔۔ شہروزی نے گہری سانس لی اور ہاتھ میز پر دھرے ۔۔۔
کالز ریکارڈ ہوٸیں ۔۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ شہروزی نے پر سکون لہجے میں اگلا سوال دغا تھا ۔۔۔
جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زبیر نے فوراً ڈسک کا لفافہ سامنے رکھا تھا
میم لیکن کوٸ خاص تو نہیں بس ایک دو کالز ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ وہ لفافہ رکھنے کے بعد سیدھے ہوتے ہوۓ بولا
اوکے جاٶ تم۔۔۔۔۔۔۔۔ لفافے کو اٹھا کر شہروزی نے مصروف سے انداز میں ہاتھ کو ہلکی سی جنبش دی تھی ۔۔۔
زبیر ہلکا سا سر کو جھکا کر باہر نکل گیا تھا ۔۔۔اور وہ سامنے رکھے لیپ ٹاپ کی سی ڈی ڈراٸیو کو کھول رہی تھی ۔۔۔
************
کیا حالت بناٸ ہوٸ تم نے ۔۔۔۔ حازق نے حسنیٰ کو بازو سے پکڑ کر کھڑا کیا تھا ۔۔۔
وہ بے حال تھی لٹی پٹی صورت بکھرے بال دو دون سے ایک نوالہ حلق سے نہیں اترا تھا ۔۔۔ روح تک چھلنی ہوٸ پڑی تھی۔۔۔۔ عفت کی روح سے شرمسار بلک بلک کر کبھی اللہ سے معافی مانگتی تو کبھی اپنی ماں کی روح سے ۔۔۔۔۔۔۔ کیا کر بیٹھی تھی وہ خود کے ساتھ اور اب آگے کتنی ذلت بھری زندگی تھی اس کی یہ سوچ کر خوف آنے لگتا تھا۔۔۔ اس میں اور چکلے پر بیٹھی طواٸف میں کیا فرق رہ جاۓ گا ۔۔۔ کاش کاش نعمان اس دن زبردستی اسے گھر لے جاتا۔۔۔ یہ خیال بار بار ستا رہا تھا ۔۔۔
کاش وہ مجھے مارتا مجھے پیٹتا ۔۔۔۔ وہ اتنے دن اس کے ساتھ اس اکیلے گھر میں رہی اور اس نے پورا حق رکھتے ہوۓ بھی اس کو ہاتھ تک نہیں لگایا تھا ۔۔۔ اور حازق نے اسے ایک درندے کا نوالہ بنا دیا تھا ۔۔۔ جس نے اس کی روح تک کو جھنجوڑ دیا تھا ۔۔۔ اور اب دو دن سے حازق نے اسے قید میں رکھا ہوا تھا ۔۔۔
اٹھو ۔۔۔ اب ۔۔۔ ۔۔۔ حازق نے ایک جھٹکے سے کھڑا کیا تھا ۔۔۔
تم نے مجھے قید کر کے کیوں رکھا ہے ۔۔۔ مجھے تم سے شادی نہیں کرنی ۔۔ ہزار دفعہ بتا چکی ہوں میں شادی شدہ ہوں ۔۔۔ حسنیٰ کی آواز پھٹ رہی تھی ۔۔۔
حازق سے محبت تو کبھی تھی ہی نہیں بس اس کی دولت سے محبت تھی۔۔۔ جو عصمت لٹتے ہی ہوا ہو گٸ تھی ۔۔۔ اسے ایسی زندگی تو نہیں چاہیے تھے اور نہ کبھی ایسی زندگی کی خواہش کی تھی ۔۔ اور ایسی غلاضت بھری زندگی کس لڑکی کو چاہیے خوشی سے چاہے اس کے آگے دولت کے عنبار لگا دو ۔۔۔ اس کا لالچ اس کا غرور پل بھر میں راکھ کی طرح زمین بوس ہوا تھا ۔۔۔
بکواس بند کرو کوٸ شادی شدہ نہیں سمجھی ۔۔۔ ہاں یہ ضرور ہے اب میرے علاوہ کسی کے قابل نہیں رہی تم ۔۔۔ حازق نے اپنے مخصوص انداز میں اس کے چہرے کو دبوچ لیا تھا ۔۔۔
میں سچ کہہ رہی ہوں۔۔۔ میری شادی ہو چکی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔حسنیٰ نے گھٹی گھٹی سی آواز میں کہا تھا ۔۔۔
جھوٹ ۔۔۔ یہ اب بتا رہی ہو تم ۔۔۔۔۔۔۔ حازق نے ایک جھٹکے سے اس کے منہ کو چھوڑا تھا۔۔
وہ لڑ کھڑا گٸ تھی ۔۔۔۔
میں اس دن لاہور اسی سے ملنے گٸ تھی اسے یہ کہنے کہ
مجھے طلاق دے ۔۔۔ حسنیٰ چیختی ہوٸ سیدھی ہوٸ تھی ۔
اب ایک گناہ تو ہو چکا تھا اب وہ نکاح پر نکاح نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔ بلکہ وہ تو مرنا چاہتی تھی ۔۔۔ جینا ہی نہیں چاہتی تھی ۔۔۔ نہ کوٸ اپنا تھا اور نہ وہ اب کسی اپنے کے قابل رہی تھی ۔۔۔ اپنے ہی وجود کو چاہنے والی کو آج خود سے ہی گھن آ رہی تھی الجھن ہو رہی تھی ۔۔
اچھا۔۔۔۔۔ اچھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ چلو ابھی حلیہ درست کروانا تمھارا۔۔۔ وہ اس کی ہر بات کو ان سنی کرتا اسے گھسیٹتا ہوا لے کر جا رہا تھا ۔۔۔
گاڑی میں میں بھی وہ دہاٸ دیتی رہ گٸ تھی پر کسی نے نہیں سنی تھی ۔۔۔ گاڑی ایک پارلر کے آگے رکی تھی ۔۔ حازق اسے کھینچتا ہوا اندر لایا تھا ۔۔۔
ارم حلیہ درست کرو اس کا باہر انتظار کر رہا ہوں ۔۔۔ حازق نے ایک جھٹکے سے اسے ارم کے حوالے کیا تھا ۔۔
اچھا تو یہ ہے ان شریف زادوں کا بازار ۔۔۔ نکاح میں اپنے رکھتے ہیں اور پیش طواٸف کی طرح سب کو ہوتی ہے ۔۔۔ افف میرے خدا مجھے ہمت دے مجھے نکال دے ۔۔۔ مجھے معاف کر دے مجھے یہ زندگی نہیں جینی ہے ۔۔۔ میں نے یہ خواب نہیں دیکھا تھا میں نے حازق کا ساتھ ایسا تو نہ چاہا تھا ۔۔۔۔خوشبوٶں میں بسا چمکتا پارلر تھا ۔۔۔ ارم نے لا کر اسے ایک سیٹ پر بیٹھا دیا تھا ۔۔پھر پاس کھڑی لڑکی کو کچھ سمجھا کر وہ خود وہاں سے چلی گٸ تھی ۔۔۔
وہ لڑکی اب آ کر اس کے بکھرے بالوں کو کیچ کر رہی تھی ۔۔۔
سنیں ۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ نے خود کو نارمل رکھتے ہوۓ کہا تھا ۔۔
اس لڑکی نے اس کی طرف پارلر گاٶن بڑھایا تھا ۔۔۔ کام آسان ہو گیا تھا وہ اس سے ابھی واش روم کا ہی کہنے والی تھی ۔۔۔لیکن اس نے گاٶن پکڑا کر کام آسان کر دیا تھا ۔۔۔
وہ لفٹ ہینڈ پر چینجنگ رومز ہیں میم گاٶن پہن آٸیں پلیز ۔۔۔ لڑکی بڑی نرماہٹ سے کہتی ہوٸ ایک طرف ہو کر دوسری عورت کے پاس جا کر کھڑی ہوٸ تھی ۔۔۔ اور عورت کے چہرے پر مساج کرنے لگی تھی ۔۔ اس عورت نے بھی بلکل اسی طرح کا بڑے گلے اور بازو کے بنا پارلر گاٶن زیب تن کیا ہوا تھا ۔۔۔
بلکہ وہاں موجود ہر کسمٹر نے وہی پہنا ہوا تھا ۔۔۔
وہ چور سی نظر سب پر ڈالتی کانپتے ہاتھوں کے ساتھ باٸیں طرف موجود چینجنگ رومز کی طرف بڑھ گٸ تھی ۔۔۔ بہت بڑا پارلر تھا اس میں ایک پوری قطار میں کو دس چینجنگ رومز تھے ۔۔۔۔۔چینجنگ رومز میں بہت سی عورتوں کے لباس لٹک رہے تھے ۔۔۔ اچانک ذہن میں جیسے ایک خیال کا جھماکہ ہوا تھا ۔۔۔ وہ جلدی جلدی سب کپڑوں پر نظر دوڑا رہی تھی جب اچانک نظر سیاہ آبایا پر تھم گٸ تھی ۔۔۔
پارلر گاٶن ہاتھ سے پھسل کر زمین بوس ہوا تھا ۔۔۔ کانپتے ہاتھوں اور دھڑکتے دل کے ساتھ اس نے آبایا پہنا تھا اور چہرے کا نقاب کرنے کے بعد وہ تیز تیز قدم اٹھاتی پارلر سے نکل آٸ تھی ۔۔۔وہاں کسٹمرز کا اور کام کرنے والی لڑکیوں اور لڑکوں کا اتنا ہجوم تھا کسی نے توجہ نہیں دی تھی ۔۔۔ پر اس کا دل اتنی تیزی سے کانپ رہا تھا ۔۔۔ پارلر سے باہر نکلتے ہی سامنے کار میں حازق بیٹھا تھا وہ کسی سے فون پر بات کرنے میں مصروف تھا حسنیٰ نے خود کو نارمل رکھا اور درمیانی رفتار کے قدم اٹھاتی وہ آگے کھڑی ہوٸ ٹیکسی تک آن پہنچی تھی ۔۔۔
چلیں گے ۔۔۔ گھبراٸ سی آواز میں کہہ کر وہ تیزی سے ٹیکسی میں بیٹھی تھی۔۔۔
میم کہاں جانا آپکو۔۔۔ آدمی نے مرر سے اس کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔
مونال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی کھاٸ میں سے آتی ہوٸ آواز تھی ۔۔
********
جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حازق نے کن اکھیوں سے سامنے کھڑے اس شخص کو دیکھا ۔۔۔
میں نعمان ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ مصاحفے کے لیے ہاتھ آگے بڑھا کر نعمان نے سپاٹ لہجے میں کہا تھا ۔۔۔
وہ اے ون پیسٹی ساٸیڈ کے بہت بڑے آفس میں موجود تھا ۔۔۔ آفس کے میز کے پیچھے لگی کرسی پر حازق وہاب براجمان تھا ۔۔ حسنیٰ نے اس سے دوبارہ کوٸ رابطہ ہی نہیں کیا تھا ۔۔ تین ہفتے گزر چکے تھے وہ آج پریشان ہو کر اسلام آباد پہنچا تھا ۔۔ حازق وہاب کوٸ عام شخص تو تھا نہیں کہ اسے تلاش کرنا نعمان کے لیے فضا کو تلاش کرنے جیسا مشکل ہوتا ۔۔۔
جی۔۔۔ کہیں ۔۔۔۔۔۔۔ حازق کی آنکھوں میں اب بھی حیرت تھی ۔۔۔
حسنیٰ سے ملنا مجھے ۔۔۔ میں اسے ڈایورس دینے کے لیے تیار ہوں ۔۔۔ ۔۔۔۔ نعمان نے بہت مشکل سے لفظ ادا کیے تھے ۔۔۔
حازق کے چہرے کی ہواٸیاں اڑ گٸ تھیں ۔۔۔ وہ ایک لمحے کے لیے ساکن ہوا تھا۔۔۔ تو اس دن حسنیٰ ٹھیک کہہ رہی تھی ۔۔۔ اس نے بہت جلدی خود کو نارمل کیا تھا ۔۔ حسنی کو تو وہ خود ڈھاٸ ہفتے سے تلاش کر رہا تھا اس دن وہ پارلر سے ایسے غاٸب ہوٸ کہ پھر اسے کہیں نہیں ملی تھی ۔۔۔
کون حسنیٰ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حازق نے مصنوعی حیرت چہرے پر سجاٸ تھی ۔۔۔
سامنے بیٹھے شخص کو دیکھ کر وہ حیرت کے سمندر میں غوطہ زن تھا۔۔۔ انتہاٸ خوبصورت شخص ۔۔۔ بہت دلکش ڈریسنگ ۔۔چہرے پر عجیب سا وقار ۔۔۔ چمکتی مگر اداسی سے بھری گرے آنکھیں ۔۔۔ مضبوط کسرتی کندھے ۔۔۔ لمبا قد ۔۔۔ حسنیٰ اگر اس سے شادی کی بات کر رہی تھی تو کیا حسنیٰ سچ میں صرف مجھ سے محبت کرتی تھی میری دولت سے نہیں کرتی تھی ۔۔۔۔ وہ عجیب کشمش کا شکار تھا کیونکہ سامنے بیٹھا مغربی حسن رکھنے والا وہ شخص اتنا خوبرو تھا کہ وہ اس کے آگے کچھ بھی نہیں تھا ۔۔۔
آپ۔۔۔۔ آپ۔۔۔ حازق وہاب ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے تھوڑی حیرت میں آگے جھکتے ہوۓ کہا تھا ۔۔۔
جی۔۔۔۔۔۔۔ حازق نے تھوک نگلا تھا ۔۔۔
وہ تو یہی سمجھ کر حسنیٰ پر ظلم کے پہاڑ توڑتا رہا تھا کہ اس کا اب کوٸ نہیں ہے ۔۔۔ پر یہ کیا اپنے سامنے بیٹھے مضبوط شخص کی آنکھوں میں حسنیٰ کے لیے محبت دیکھ کر وہ کانپ ہی تو گیا تھا ۔۔۔
تو حسنیٰ آپکے پاس ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ با رعب آواز ۔۔۔۔
نہیں میرے پاس نہیں ہے وہ ۔۔۔۔۔۔۔ ماتھے پر ہلکے سے پسینے کی بوندیں نمودار ہوٸ تھیں ۔۔۔
مطلب وہ شادی ۔۔۔ مطلب وہ کہہ رہی تھی کہ آپ شادی کرنے والے اس سے ۔۔۔۔۔۔ نعمان نے آنکھیں سکیڑ کر پریشان اور حیران سے لہجے میں پوچھا
جی نہیں ۔۔۔ میں اس سے کوٸ شادی نہیں کرنے والا اور میں نہیں جانتا وہ کہاں ہے ۔۔۔ حازق نے تھوک نگلا اور نارمل لہجے میں کہا۔۔۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: