Husna Novel by Huma Waqas – Episode 7

0
حسنیٰ از ہما وقاص – قسط نمبر 7

–**–**–

یہ کیسے ممکن ہے ۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے حیران ہو کر کہا تھا ۔۔
بہت گہری نظر سے حازق کی طرف دیکھا ۔۔۔ حازق نے لبوں پر زبان پھیری تھی ۔۔۔
آپ جا سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ حازق نے خود کو مصروف ظاہر کرتے ہوۓ فون کو اٹھایا تھا۔۔۔
ہممممم۔۔۔۔۔۔۔۔ پر سوچ انداز میں نعمان اپنی جگہ سے اٹھا تھا۔۔۔
حازق نے نظریں چراٸ تھیں کیونکہ سامنے والا شخص اتنا بارعب تھا کہ اس کی شخصیت ہی سامنے کھڑے انسان کو دبا دے ۔۔۔ شیوہلکی سی بڑھنے کی وجہ سے وہ اور بارعب دکھنے لگا تھا۔۔۔ پھر تھوڑے سے بڑے ہوۓ بالوں کی پونی اور کسرتی کندھے چوڑا سینا مضبوط ہاتھ ۔۔۔ حازق تو اس کے سامنے چھوٸ موٸ سا دکھتا تھا۔۔۔
اس کی ایک دوست ہے یہاں فضا اس کا نمبر مل سکتا ہے کیا۔۔۔
کچھ سوچتے ہوۓ نعمان پھر سے مڑا تھا۔۔۔
حازق جو اس کے چلے جانے پر شکر ادا کر رہا تھا ایک دم گڑ بڑا گیا تھا۔۔۔۔۔۔ فضا کے پاس تو وہ نہیں تھی وہ یہ سب پتا کروا چکا تھا اور فضا کو تو اس نے یہ تک نہیں بتایا تھا کہ وہ حازق کے پاس ہے ۔۔۔ لیکن یہ نعمان کو جو وہ سب بتاآٸ تھی یہ اب بہت بڑا مسٸلہ بن سکتاتھا۔۔۔ حازق کا سانس خشک ہو رہا تھا۔۔۔ اگر اس نے خود کو کوٸ نقصان ۔۔۔ اففف
جی۔۔۔ ہے ۔۔۔۔ نوٹ کریں ۔۔۔۔ حازق کو فوراً فیصلہ کرنے میں مسٸلہ ہوا کیونکہ وہ ایسے کھڑا تھا جیسے اپنی نظروں سے اس کا دماغ ہی پڑھ لے گا۔۔۔
حازق نمبر لکھوا رہا تھا اور وہ بار بار اس کے چہرے کو بغور دیکھ رہا تھا۔۔۔
گہری سی پر سوچ آنکھیں ۔۔۔ ماتھے پر سوچ کے شکن ۔۔۔
***********
کیا کر رہی ہو یہ۔۔۔۔روبن نے ایک جھٹکے سے ہیر کا ہاتھ جھٹکا تھا۔۔
وہ مصروف سے انداز میں کاپی پر جھک کر ہیر کو حساب کا سوال سمجھا رہا تھا جب اچانک اسے احساس ہوا ہیر نے اسے کے بالوں کی لمبی لٹ کو دھیرے سے چھوا ہے ۔۔۔ جیسے ہی اس نے نظر اٹھا ٸ تھی ماتھے پر بل پڑ گۓ تھے ہیر اتنی محبت سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
سر مجھے آپ اچھے لگتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ایسے بول رہی تھی جیسے کھوٸ ہوٸ ہو۔۔
روبن نے حیرت سے آنکھیں کھول کر دیکھا تھا ۔۔۔ اسے شک تو بہت دن سے اس کی حالت پر ہوتا تھا لیکن اس سے اتنی زیادہ بے باکی کی امید اسے نہیں تھی۔۔۔
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر روبن کے قریب آ گٸ تھی ۔۔۔۔۔۔ روبن نے ارد گرد دیکھا تھا ۔۔ آج فواد نہیں آیا تھا۔۔اس کا سکول ٹرپ گیا تھا اور آج ۔۔۔ ہیر بلکل پاس آ گٸ تھی ۔۔۔ اس کی صورت رونے والی تھی لب کانپ رہے تھے اس کی حالت غیر تھی ایسے جیسے اس کو خود پر کوٸ قابو نہ ہو ۔۔۔
کیا مطلب پیچھے ہو جاٶ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روبن نے بھونیں اچکاٸ تھیں او کھردرے لہجے میں کہا
میں بہت پیار کرتی ہوں آپ سے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہیر بری طرح گلابی لب کچلتی بے تاب سے ہو کر پھر سے قریب آٸ تھی ۔۔۔
یہ کیا بیہودگی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ روبن نے ایک جھٹکے سے اسے دور کیا تھا اور خود فورا صوفے سے اٹھ کر کھڑا ہوا تھا ۔۔۔
سفید رنگت سرخ ہو گٸ تھی ۔۔۔ رگیں تن گٸ تھیں اور جبڑے باہر کو واضح ہو رہے تھے آنکھیں اپنے مخصوص سے انداز میں سکڑ سی گٸ تھیں ۔۔
نہیں یہ پیار ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ مدھر سی بچگانہ آواز میں ہیر کہتی ہوٸ آگے بڑھی تھی ۔۔۔
ڈھیلی سی سفید رنگ کی پتلی ٹی شرٹ کے نیچے چست جینز پہنے وہ آگے آ رہی تھی ۔۔۔ گھنگرالے بال کندھوں پر بکھراۓ بنا کسی دوپٹے کے وہ بے باکی کی تمام حدیں عبور کر رہی تھی روبن کی جگہ کوٸ بھی اور ہوتا تو بہک جاتا ۔۔۔ وہ بے صبری سے آگے بڑ ھ کر روبن کی کمر میں بازو حاٸل کرتی اس کے ساتھ لگنے کو تھی۔۔۔
چھوڑو ۔۔۔۔مجھے اور بات سنو میری ۔۔۔ روبن نے اسے پھر سے بے دردی سے خود سے دور کیا تھا اور پھر انگلی سختی سے اس کی آنکھوں کے سامنے کھڑی کرتے ہوۓ کہا
چاہوں تو ابھی اسی وقت جا کر سب تمھارے باپ کو بتا دوں ۔۔۔ لیکن نہیں تمھاری عزت کا خیال ہے مجھے ۔۔۔ اس لیے نہیں بتاٶں گا۔۔۔۔۔۔ روبن دانت پیستے ہوۓ آواز کو بمشکل مدھم رکھے ہوۓ تھا ۔۔
اور رہی تمھاری محبت کی بات ۔۔۔ میں آج کے بعد تمہیں پڑھانے نہیں آٶں گا ۔۔۔۔۔۔۔ روبن نے عجلت میں میز پر پڑا اپنا موباٸل اٹھا کر اپنی جیب میں ڈالا تھا ۔۔۔
ہیر پاگل سی ہو گٸ تھی ۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ کیا کرے وہ کیسے روکے روبن کو اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ آج محبت کا اظہار کر چکی تھی۔۔۔ جس طرح کے ماحول میں وہ پلی بڑھی تھی وہاں لڑکیاں بہت جلد ذہنی طور پر بالغ ہو جایا کرتی ہیں ۔۔۔ بچپن سے ہی بہت ایڈوانس گھرانے میں پلی بھڑی باہر کے ممالک میں آنا جانا ایسے تھا جسیے ایک شہر سے دوسرے شہر میں جانا ہو ۔۔۔ ماں باپ کا سیاست سے تعلق تھا آۓ دن پارٹیز گھر کے ملازموں کے رحم و کرم پر بچوں کو چھوڑنا۔۔۔ فلموں ڈراموں میں محبت کے قصوں کو دیکھنا ۔۔۔ اس سب نے یہ تو سیکھا دیا تھا کہ کسی لڑکے کے لیے دل میں تھرتھراہٹ محسوس کرنا محبت کہلاتا ہے اسکا ہر وقت یاد آنا چاہت کہلاتا ہے ۔۔۔ پر یہ کچھ نہیں پتا تھا کہ ہمارے مزہب نے تو کسی مسلم سے بھی اس طرح کی بے باک محبت سے منع فرمایا ہے تو روبن تو مسیح تھا۔۔۔ وہ بےحال سی کھڑی روبن کو اپنی تڑپ بتا رہی تھی
کل تک تو میں اس لیے آتا رہا کہ مجھے لگتا تھا تمہیں واقعی پڑھاٸ کی فکر تھی اس لیے تم نے اپنے باپ سے میری ضد کی لیکن اب مجھے سب سمجھ آ رہا ہے ۔۔۔ روبن نے دانت پیس کر کہا اور مڑا ۔۔۔
سر پلیز ۔۔۔ میں پاگل ہو جاٶں گی ۔۔۔۔۔ ہیر تڑپ کر روبن کے آگے آٸ تھی اور اس کے آگے ہاتھ جوڑ دیے تھے ۔۔۔
ہو جاٶ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روبن نے لاپرواہی سے اسے ایک طرف دھیکلا تھا۔۔۔
ہیر کا دھان پان سا وجود اس کے ہلکے سے جھٹکے سے ہی لڑ کھڑا گیا تھا اور وہ پاس پڑے میز پر بری طرح ٹکراٸ تھی ۔۔
روبن نے مڑ کر اس کی طرف دیکھا تک نہیں تھا ۔۔۔ ہیر کا سر بری طرح میز سے ٹکرا گیا تھا۔۔۔
************
نعمان بھاٸ میرے گھر سے وہ ایک ماہ پہلے جا چکی تھی میں تو خود پریشان ہو گٸ ہوں ۔۔۔ فضا نے ہاتھوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مسلتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔
نعمان فضا کے گھر کے مہمان خانے میں موجود تھا۔۔۔ بڑی امید سے وہ فضا کے پاس آیا تھا کہ حسنیٰ اس کے علاوہ اور کہاں جا سکتی ہے لیکن حسنیٰ یہاں نہیں تھی۔۔۔ دل کو عجیب سی کشمکش نے گھیر لیا تھا۔۔۔گھٹن بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔ بے چین سا ہو کر وہ صوفے پر سے اٹھا تھا۔۔۔
حسنیٰ جا کہاں سکتی ہے ۔۔۔ پھر اب ۔۔۔ اپنے ہاتھوں کی تین انگلیوں کو جوڑ کر وہ ماتھے پر پھیر رہا تھا۔۔۔ چہرے پر بلا کی پریشانی امڈ آٸ تھی ۔۔۔
وہ حازق کے پاس ہی تھی اگر اس نے آپ سے یہ سب کہا تھاآ کر تو وہ حازق کے پاس ہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ فضا نے پر سوچ انداز میں کہا تھا۔۔۔
لیکن حازق کا یہ کہنا ہے وہ اس سے شادی نہیں کرنے والا تھا۔۔ پر وہ کہہ رہی تھی وہ کرنے والا ہے ۔۔۔ ۔۔۔۔ نعمان کسی ٹرانس میں بول رہا تھا۔۔۔
عجیب بات تھی ۔۔۔ حسنیٰ کیا پھر جھوٹ بول کر اس سے طلاق لینے آٸ تھی ۔۔ اسے مجھ سے اتنی نفرت ہے کہ وہ مجھ سے چھٹکارے کے لیے اتنا بڑا جھوٹ بول گٸ تھی ۔۔۔ آنسو کا گولہ سا تھا جو گلے میں اٹکنے لگا تھا ۔۔۔
اوہ میرے خدا کہاں ہے وہ پاگل لڑکی ۔۔۔ فضا نے سر پر ہاتھ مارا تھا۔۔۔
وہ پریشان حال سی ٹہل رہی تھی۔۔۔ اور نعمان بھی پریشان حال ہی کھڑا تھا۔۔۔
میرا تو وہ فون تک نہیں اٹھاتی تھی ۔۔۔ مجھے تو اس نے یہ کہا تھا میں نعمان کے پاس واپس چلی گٸ ہوں مجھے تسلی ہو گٸ تھی ۔۔۔ ۔۔فضا بڑبڑانے کے انداز میں بول رہی تھی ۔۔۔
اور کوٸ دوست آپ دونوں کی ۔۔۔ نعمان نے گہری سانس لی تھی پینٹ کی جیبوں میں دنوں ہاتھوں کی انگلیاں آڑٸ تھیں ۔۔۔
نہیں میں صرف اس کی دوست ہوں شروع سے وہ اتنا قریب کسی سے بھی نہیں تھی کہ اس کے پاس چلی جاۓ اور اسکے بعد یہ حازق منحوس اس کی زندگی میں آیا تھا۔۔۔ فضا نے چبا چبا کر آخری الفاظ ادا کیے تھے ۔۔۔
آپ کے پاس ہے یہ جان کر میں خوش ہو گٸ تھی فضا نے نعمان کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا تھا ۔۔۔
نہیں وہ میرے پاس صرف ڈاٸیورس کا کہنے آٸ تھی۔۔۔۔ نعمان نے دھیمے سے انداز میں کہا تھا ۔۔۔
اب کیا کریں گے آپ ۔۔۔ ۔۔۔۔ فضا اتنی ہی پریشان تھی جتنا کہ نعمان وہ حسنیٰ سے بہت محبت کرتی تھی ۔۔۔
کچھ دن اور انتظار وہ رابطہ کرے گی مجھ سے ۔۔۔۔۔۔ نعمان کے لہجے میں درد تھا
ہاں وہ رابطہ کرے گی اور اب کی بار وہ جب آۓ گی میں اس کو چھوڑ دوں گا۔۔۔ نعمان نے گھٹی سی آواز میں کہا اور پھر وہ وہاں رکا نہیں تھا
تیز تیز قدم اٹھاتا وہ باہر نکل گیا تھا ۔۔۔
فضا نے روکا بھی نہیں تھا ۔۔۔۔۔
**********
زیور نکال۔۔۔۔ روبن نے سر کے درمیان میں پسٹل تانی تھی ۔۔۔
روزی کانپ گٸ تھی ۔۔۔۔ ۔سیاہ رنگ کے کپڑے سے چہرے پر نقاب کیے وہ ۔۔۔ علی اور وقار روزی کے گھر میں موجود تھے ۔۔۔اور اب روبن اس سے کرسٹن کا زیور مانگ رہا تھا۔۔۔
مہ۔۔۔مہ۔۔۔میرے پاس کچھ نہیں ہے ۔۔۔ روزی نے کانپتی ہوٸ آواز میں کہا تھا۔۔۔ بچہ پاس بیٹھا رو رہا تھا شام کے چار بجے تھے ولسم ابھی بنک میں تھا ۔۔۔ وہ گھر کی پچھلی گلیری کود کر گھر کے اندر آۓ تھے ۔۔۔
زیور نکال سمجھی ۔۔۔۔ تمھارے پاس ہے زیور ۔۔۔ روبن نے دانت پیس کر کہا تھا۔۔۔
کرسٹن کا گھر تو بچ گیا تھا ولسم کی حقیقت کھل جانے پر لیکن روبن اپنی ماں کا زیور کیسے چھوڑ سکتا تھا ۔۔۔ جب کرسٹن نے اسے زیور کا بتایا تھااس کے اسی دن تن بدن میں آگ لگ گٸ تھی اور وہ ہر حالت میں زیور کرسٹن کو واپس لا کر دینا چاہتا تھا۔۔۔
نہیں ہے بولا نہ۔۔۔۔ روزی زور سے چیخی تھی ۔۔۔۔
وہ شکل سے ہی انتہاٸ مکار اور لالچی عورت دکھاٸ دے رہی تھی ۔۔۔
روبن اسے چھوڑ کر اب گھر کی تلاشی لینے لگا تھا ۔۔۔ مختلف الماری اور کیبن اور بیڈ کے اطراف کے میز سب چھان مارے تھے علی روزی پر گن تان کر کھڑا تھا جبکہ روبن اور وقار نے چند منٹ میں ہی گھر کا حشر نشر کر ڈالا تھا ۔۔۔ لکڑی کی الماری کے اندر کے خفیہ لاکر کو دیکھتے ہی روبن تیزی سے روزی کی طرف پلٹا تھا ۔۔
لاکر کی چابی ۔۔۔ روبن نے روزی کی سر پر جا کر دھاڑنے کے انداز میں کہا تھا۔۔۔ اور ہاتھ اس کے سامنے کیا تھا جبکہ دوسرے ہاتھ میں پسٹل تھا ۔۔۔
روزی نے تھوک نگلا پر ٹس سے مس نہیں ہوٸ تھی۔۔۔نظریں پسٹل پر جمی تھیں ۔۔۔
لاکر کی چابی۔۔۔۔ روبن نے گن بچے کے سر پر تانی تھی۔۔۔ اور غرانے کے انداز میں کہا
روزی گھبرا کر کچن کی طرف بھاگی تھی اور پھر چاۓ دان میں ہاتھ ڈال کر ایک چابی نکالی تھی ۔۔۔
یہ لو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روزی نے جلدی سے چابی روبن کی طرف بڑھاٸ تھی ۔۔۔
لاکر میں جتنا زیور تھا وہ سب روبن نے نکال لیا تھا ۔۔۔ روزی کی جان پر بن آٸ تھی کیونکہ اس میں نہ صرف کرسٹن کا زیور تھا بلکہ اس کا اپنا بھی بہت تھا ۔۔ ولسم نے اسے کتنی دفعہ کہا تھا اتنا زیور گھر پر نہیں رکھتے ہیں میں بنک کے لاکر میں رکھوا دیتا ہوں لیکن اسے ولسم پر ذرا برابر اعتبار نہیں تھا ۔۔۔ اور اب اس کی جان پر بن آٸ تھی ۔۔۔
پلیز مت لے کر جاٶ۔۔۔۔ وہ روبن کے ہاتھ پر جھپٹ پڑی تھی ۔۔۔
پاگل ہو کیا ہٹو پیچھے ۔۔۔
روبن نے اس سے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی تھی ۔۔ اسی ہاتھ میں پسٹل تھا ۔۔۔ روزی کی نظر اچانک روبن کی گردن پر بنے ٹیٹو پر پڑی تھی۔۔۔ اور پھر تو جیسے اس میں اور طاقت آ گٸ تھی اسے اس دن والا روبن یاد آ گیا تھا ۔۔۔ اور پھر تو جیسے اس میں ہمت آ گٸ تھی ۔۔۔
روزی کو تو جیسے لالچ نے اندھا کیا ہوا تھا وہ جھپٹ کر زیور پر پڑی تھی اور مسلسل منت سماجت کر رہی تھی۔۔ وقار آگے بڑھ کر روزی کو پیچھے کر رہا تھا ۔۔۔اسی چھینا جھپٹی میں روبن سے پسٹل کا فاٸر ہوا تھا اور گولی روزی کی کمر میں لگی تھی ۔۔۔ وہ ساکن سی ہو کر ایک طرف کو لڑھک گٸ تھی۔۔۔ روبن کا ہاتھ ہوا میں ہی معلق رھ گیا تھا ۔۔۔ بچہ اونچی آواز سے رونے لگا تھا ۔۔۔ ایک لمحے کے لیے تو تینوں کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا تھا ۔۔۔ اور پھر جیسے علی کو ہوش آیا تھا ۔۔
ابے اوۓ ۔۔۔۔ روبن چل یار۔۔۔۔ علی نے ساکت کھڑے روبن کو جھنجوڑ ڈالا تھا۔۔۔
اور پھر تینوں برق رفتاری سے بے سدھ پڑی روزی کو چھوڑ کر بھاگ گۓ تھے ۔۔۔
***********
اچھا نا بابا ۔۔۔۔ تھوڑا سا تو وقت دیں نہ مجھے ۔۔۔ .۔۔۔۔ حسنیٰ نے بے چارگی سے کہا تھا ۔۔۔
فون کان کو لگاۓ لب کچلتی وہ چھت پر پڑی کرسی پر بیٹھی تھی ۔۔۔حازق کی اگلی فرماٸش پر پریشان حال تھی
جان ۔۔۔ تم بہت تنگ کرتی ہو ۔۔۔ پہلے شازر کی طرف آنے سے منع کیا پھر نکاح سے اور اب اس بات سے ۔۔۔ حازق نے مصنوعی خفگی دکھاٸ تھی۔۔۔
حازق ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ روہانسی ہو گٸ تھی
حازق نے پہلے کبھی ایسے ملنے پر زور نہیں دیا تھا باہر لے کر جاتا تھا شاپنگ کرواتا تھا فضا ساتھ ہوتی تھی ۔۔ لیکن اس دفعہ وہ فلیٹ پر ملنے پر بضد تھا ۔۔۔
کیا حازق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پتہ ہے نہ بس چند ہفتے پڑے ہیں مجھے جانے میں ۔۔۔ بس ایک دفعہ ملنا ہے مجھے تم سے ۔۔۔۔۔۔ حازق کی خفگی میں اب غصہ بھی شامل ہو گیا تھا ۔۔
حازق پر ایسے کیسے ۔۔۔ ۔۔۔ حسنیٰ پریشان سی ہوٸ تھی ۔۔۔
کرسی سے اٹھ کر ٹہلنے لگی تھی ۔۔۔
ارے کیا پتہ چلے گا کسی کو تم بس میرے فلیٹ پر آ نا اور ۔۔۔ حازق نے چڑ کر وہی بات دھراٸ تھے جو وہ بار بار اس سے کر رہا تھا ۔۔
وہ حسنیٰ کو فلیٹ پر ملنے کے لیے بلا رہا تھا ۔۔ لیکن حسنیٰ فضا سے ذکر کر بیٹھی تھی پہلے اس نے فضا کے کہنے پر شازر کی طرف جانے سے انکار کیا پھر نکاح سے اور اب حازق فلیٹ پر ملنا چاہتا تھا ۔۔۔
لیکن فضا میرا کوٸ ساتھ نہیں دے رہی اس معاملے میں حازق گھر والوں کو پتہ ہے میں اس کے علاوہ کسی کے ساتھ کہیں نہیں جاتی گھر میں کیا بتاٶں گی ۔۔۔۔۔ حسنیٰ بھی بار بار وہی دلیل دے رہی تھی ۔۔۔
کچھ بھی میں کچھ نہیں جانتا ۔۔۔ حازق کو اب غصہ آ گیا تھا ۔۔۔
وہ جو بے حال سی ہو کر پلٹی تھی سامنے شزا کھڑی تھی ۔۔۔
تم کس سے بات کر رہی ہو ۔۔۔۔۔۔ شزا نے آنکھیں سکیڑی تھیں ۔۔۔

 

کیا مطلب ۔۔۔ آپ اپنے کام سے کام رکھیں ۔۔۔ فضا کے علاوہ کون ہو سکتا ہے ۔۔۔ حسنی نے تھوک نگل کر خود کو نارمل ظاہر کیا ۔۔
شزا کی آنکھیں سکڑ گٸ تھیں ۔۔۔ اور ناک کے نتھنے پھول گۓ ۔
فضا نیچے آٸ ہے تمہیں بلا رہی ہے یہی بتانے آٸ تھی تمہیں میں ۔۔۔ شزا نے الفاظ چبا چبا کر ادا کیے ۔۔۔
حسنیٰ کا چہرہ فق ہوا ۔۔ جلدی سے خود کو نارمل کیا۔۔۔ کرسی پر پڑا دوپٹہ اٹھا کر کندھوں پر ڈالا ۔۔۔ چور نظروں سے شزا کی طرف دیکھا ۔۔۔ جو ہنوز گھور رہی تھی ۔۔۔
اوہ۔۔۔ اچھا پہنچ گٸ ۔۔۔۔۔۔۔ خود سے بڑ بڑاتی وہ تیزی سے زینے کی طرف بڑھی تھی۔۔۔
اپنی پشت پر بھی شزا کی گھورتی آنکھوں کی تپش محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔
مروا دیا تم نے آج ۔۔۔ بتا نہیں سکتی تھی تم آ رہی ہو ۔۔۔ زور سے فضا کے کندھے پر چپت لگا کر وہ آگے آٸ تھی ۔۔۔
فضا حسنیٰ اور عفت کے مشترکہ کمرے میں پڑی اکلوتی کرسی پر بیٹھی تھی نظریں سامنے ناول اور رسالوں کے عنبار پر جمی تھی۔۔۔حسنیٰ کی بات پر خفگی سے ماتھے پر شکن ڈالے ۔۔۔
بتا ۔۔۔ فون دو گھنٹے سے مصروف جا رہا ہے تمھارا ۔۔۔ فضا نے خفگی سے دیکھا۔۔۔
اھاں ۔۔۔۔ وہ حازق بات کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ سرگوشی کی فضا کے قریب ہو کر ۔۔۔
سنو ۔۔۔ میں تیار ہوں تمھارے ساتھ جانے کے لیے ۔۔۔ لیکن حازق سے کہو باہر ملے میرے سامنے فلیٹ میں نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ فضا نے منہ پھلا کر کہا۔۔۔
ہاۓ۔۔۔۔۔ فضا ۔۔۔۔ لو یو ۔۔۔۔۔۔۔ چہک کر وہ فضا کے گلے لگی ۔۔۔
میں ابھی تیار ہو کر آتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ وہ تیزی سے مڑی
فضا نے بے چارگی سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔
کیا کروں اس لڑکی کا حازق شروع سے ہی فضا کو ایک آنکھ نہ بھایا تھا۔۔۔ پر کیا کروں حسنیٰ سے اتنی ہی محبت بھی تو ہے ۔۔۔ اور اس کی محبت پر ہی اس کی حازق سے محبت وہ قبول کر رہی تھی دل ابھی بھی حازق کو پسند نہیں کرتا تھا اور یہ بھی پتا تھا اس بیوقوف کو بھی حازق سے محبت تھوڑی ہے ۔۔۔ یہ تو میڈل کلاس زندگی گزار گزار کر تنگ آٸ ہوٸ خواب سجانے والی ایک لڑکی جسے صرف حازق کی امارات نظر آتی ہے ۔۔۔ اور کچھ نہیں دولت اس کے سارے عیب پر پردے ڈال رہی ہے لیکن فضا شروع سے ہی اس سے سمجھدار اور حقیقی دنیا میں رہنے والی لڑکی تھی۔۔
اب پتا نہیں کتنی دیر لگاۓ گی محترمہ۔۔۔ فضا نے خفگی سے دوڑتی بھاگتی حسنیٰ کی طرف دیکھا ۔۔۔
************
میم۔۔۔ کرسٹن نامی خاتون ہیں میر پور خاص کے متوسط طبقے کی رہاٸشی ہے ۔۔… زبیر نے مدھم سے لہجے میں کہا اور کچھ تصاویر شہروزی کے سامنے میز پر رکھی ۔۔
شہرزوی نے ہاتھ بڑھا کر تصاویر کو اٹھایا ۔۔۔ اور آنکھوں کے سامنے کیا ۔۔ اب اس کے ہاتھ ایک ایک تصویر کو بغور دیکھتے ہوۓ ان کو پلٹ رہے تھے۔۔۔
ہممم ۔۔۔ نعمان سے کیا رشتہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔ نظریں تصویروں پر ہی جماۓ سوال کیا ۔۔۔
میم۔۔۔ ماں ہے اس کی ۔۔۔۔۔۔۔ زبیر نے گلا صاف کرنے کے بعد جواب دیا ۔۔
شہروزی نے چونک کر نظر اٹھاٸ ۔۔ایک لمحے پر سوچ انداز میں زبیر کی طرف دیکھا پھر تصویر کو دیکھا ۔۔۔
نعمان نے تو کہا تھا وہ چھوڑ چکا ہے اپنے پیرنٹس کو ۔۔۔ شہروزی نے سوچتے ہوۓ گہری سانس لی اور آہستہ سے تصاویر کو میز پر دھرا ۔۔۔
اچھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دنوں ہاتھوں کی انگلیوں کو پسٹل کی صورت لبوں پر مارتے ہوۓ کہا
سنو زبیر مجھے ملنا ہے اس عورت سے ۔۔۔۔۔۔۔ انداز پر سوچ تھا
جی میم ۔۔۔ زبیر نے سینے پر ہاتھ رکھ کر سر کو نیچے کی طرف خم دیا ۔۔
کل صبح۔۔۔ اوکے ۔۔۔۔۔۔۔۔ شہروزی نے کرسی کو دھیرے سے گھومایا ۔۔۔
زبیر نے پلٹنے کے لیے رخ موڑا تھا جب ایکدم سے شہروزی نے گھومتی کرسی کو میز پر ہاتھ رکھ کر روکا ۔۔۔
اور ہاں ۔۔۔ نعمان کو کار دیں آج ہی ۔۔ ۔۔۔۔۔ شہروزی کی آواز پر زبیر پلٹا۔۔۔
جی۔۔۔ میم کہنا کیا ہے۔۔۔۔ زبیر نے معدب لہجے میں سوال کیا ۔۔۔
کیونکہ بلاجواز نعمان کار کیسے قبول کر سکتا تھا ۔۔۔ اور ویسے بھی زبیر کو یہ محسوس ہو چلا تھا کہ نعمان کو اب یقین ہے کہ کوٸ مسلسل اس کی جاسوسی کر رہا ہے ۔۔۔وہ اب کہیں بھی ہو کھوجتی نظروں سے ارد گرد کا جاٸزہ لیتا رہتا تھا ۔۔۔ اور گھر میں بھی چھپے کیمروں کو بھی کبھی کبھی وہ ایسے گھورتا ہوا محسوس ہوتا تھا جیسے اسے پتہ چل چکا ہے کہ اپارٸٹمنٹ کے لاونج میں لگا کلاک کیمرہ ہے ۔۔۔ کچن میں پڑے واز کے پھولوں کے اندر کیمرہ چھپا ہے ۔۔۔ اور اس طرح مختلف جگہوں پر خفیہ کیمرے نصب تھے۔۔۔
اس سے کہیں ۔۔۔۔ کمپنی کی ہے ۔۔۔ آپ کی نہیں صرف یوز کے لیے دے رہے ہیں ۔۔شہروزی نے ہلکی سی مسکراہٹ لبوں پر سجا کر کہا
اوکے میم۔۔۔۔ زبیر نے مخصوص انداز میں جھک کر کہا ۔۔۔
***********
یہ کیس ہی بے بنیاد ہے جھوٹی ہے وہ لڑکی ۔۔۔ روبن نے سرخ چہرے کے اوپر آۓ بھورے سنہری بالوں کو جکڑا تھا ۔۔۔
حالت ایسی تھی جیسے ابھی آنکھوں سے خون نکل آۓ گا ۔۔
داور کے فارم ہاوس کے لاونج میں وہ پریشان حال کھڑا تھا ۔۔۔ علی ۔۔۔منب اور داور بھی ارد گرد کھڑے تھے
۔ملک اطہر نے روبن پر ہیر کے ریپ ایٹمپٹ کا کیس کر دیا تھا ۔۔۔ ۔۔ پولیس پہلے یونیورسٹی میں روبن کو پکڑنے آٸ تھی جس کی وجہ سے منب کو پتہ چل گیا تھا اس نے روبن کو بھی داور کے پاس رکنے کا کہا اور کرسٹن کو بھی اپنے گھر لا کر چھپا دیا تھا۔۔۔۔۔ معاملا صرف ملک اطہر کا ہی نہیں تھا روزی بھی زندگی موت کی کشمکش میں ہاسپٹل میں موجود تھی۔۔۔ اور ولسم کو وہ تھوڑا سا ہوش میں آ کر روبن کا نام بتا چکی تھی ۔۔۔
ابے یار ہمیں پتا ہے وہ جھوٹی ہے تمہیں پتا ہے ۔۔۔پر دنیا والوں کو تو نہیں پتا نہ بس تو غاٸب ہو جا کچھ عرصے کے لیے ۔۔۔ داور نے روبن کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔
اس کی تو ۔۔۔۔ میرے کردار کی دھیجیاں اڑا دیں ۔۔۔ روبن نے پاس پڑے گلاس پر زور سے ہاتھ مارا ۔۔۔
دل کر رہا تھا ہیر کا منہ ہی نوچ ڈالے ۔۔۔ ضبط سے ہاتھوں کی مٹھیاں بند تھیں تو جبڑے ایک دوسرے میں پیوست تھے ۔۔۔ رگیں پھولی ہوٸ تھیں۔۔۔۔ ماتھے پر شکن تھے ۔۔۔
یہ ہیچ وجہ۔۔۔ مسلمان لوگ سے نفرت مجھے ۔۔۔ ضمیر ہی نہیں ان کا ۔۔۔۔۔۔۔ دانت پیستے ہوۓ وہ خود کلامی کر رہا تھا۔۔۔
وقار دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تھا ۔۔۔ علی داور اور منب نے سوالیہ انداز میں اس کی طرف دیکھا ۔۔ وقار کو انھوں نے ہیر کی خبر کے لیے بھیجا تھا۔۔۔ وہ ہاسپٹل میں تھی ۔۔۔
اس کے سر پر کافی گہرا زخم ہے بیرو۔۔۔۔۔۔۔ وقار نے کمر پر ہاتھ دھر کر سب کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔۔۔
ہاں اسی کو تو وہ جواز بنا رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔ داور نے لبوں پر انگلی پھیر کر کہا۔۔۔
وقار تو آنٹی کو لے کر نکل ۔۔۔ ادھر سے ولسم نے بھی کیس کر دیا ہے ۔۔ منب تو روبن کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔ داور نے منب کے پیچھے تھپکی دی ۔۔۔
ایک نظر روبن کی طرف دیکھا۔۔۔ جو اب بھی اسی حالت میں کھڑا تھا۔۔۔
جانا کہاں داور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منب نے لب بھینچ کر پوچھا
ابے پنجاب چلا جا نہ ۔۔۔ ۔۔۔۔ دوار نے پر سوچ لہجے میں کہا۔۔۔۔ لیکن پھر رک کر کچھ سوچتے ہوۓ پلٹا
سن ۔۔۔ لاہور ۔۔۔ ہاں لاہور جا گھر کا انتظام ہو جاۓ گا ۔۔۔۔۔۔۔ داور نے پھر سے منب کے کندھے کو تھپکا تھا
میرا پروجیکٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔ روبن نے سپاٹ لہجے میں کہا
سب نے پلٹ کر اس کی طرف دیکھا ۔۔۔ کچھ لمحے کے لیے خاموشی چھا گٸ تھی ۔۔کیونکہ وہ سب جانتے تھے کہ وہ پڑھاٸ کو لے کر کوٸ کمپروماٸز نہیں کرتا تھا ۔۔۔ اب صرف پروجیکٹ رہتا تھا ۔۔۔۔
میں ہوں نہ۔۔۔۔۔ تو نکل یہاں سے بس ۔۔۔ داور نے مسکرا کر کہا اور پھر زور سے روبن کو گلے لگایا تھا
روبن نے بابر بخت کے اور داور کے اتنے بڑے بڑے کام سدھارے تھے کہ داور اب اسے کسی قیمت کھونا نہیں چاہتا تھا۔۔۔ اور اس طرح کی حالت میں جب ایک وقت میں روبن پر دو دو کیس چل رہے ہوں ۔۔۔
روبن نے زور سے میز پر پڑے شیشے کے جگ کو ٹانگ ماری تھی جگ گھومتا ہواجا کر سامنے دیوار سے ٹکرا کر کرچی کرچی ہو گیا تھا ۔۔۔
************
کیسے یاد کیا میرے جگر۔۔۔ داور کی چہکتی ہوٸ آواز نعمان کے کان سے لگے فون سے ابھری تھی…..۔
داور ایک کام ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے پونی نما ہیر بینڈ اتارا تو بال گردن پر بکھر گۓ تھے ۔۔۔
چہرا اداس تھا ۔۔ آنکھیں بوجھل اور لب خشک تھے ۔۔۔بڑھی ہوٸ شیو أوپر والے ہونٹ کو تھوڑا سا ڈھکتی ہوٸ مونچھیں ۔۔۔اس کا چہرہ پر وقار تھا ۔۔ مضبوط ہاتھوں کی انگلی میں ہیر بینڈ گھوم رہا تھا اور آنکھوں کی پتلیوں میں اس کا عکس ۔۔۔
وہ واصف ٹیکسٹاٸل میں اپنے آفس کی کرسی پر موجود تھا ۔۔ اسلام آباد سے واپس آ کر اسے ایک پل چین نہیں تھا ۔۔۔ حازق کا پریشان سا گھومتا چہرہ نظروں کے سامنے آ رہا تھا بار بار ۔۔۔ کچھ تو عجیب تھا جو کھٹک رہا تھا ۔۔۔ آج پورے آٹھ ماہ بعد اس نے داور سے مدد لینے کے لیے فون کیا تھا ۔۔۔ جب سے حسنیٰ سے محبت ہوٸ تھی تب سے ہی سوچ لیا تھا کہ وہ اب داور کے لیے کوٸ کام نہیں کرے گا لیکن آج بہت مجبور ہو کر اسے داور کو فون کرنا پڑا تھا ۔۔۔
ارے سو کام میری جان ۔۔۔ بول تو بس۔۔۔ اور یہاں کی فکر نہ کر معاملا بیٹھ گیا ہے ۔۔۔ داور نے خوشدلی سے کہا ۔۔۔
داور نے اسے ہر طرح کی پروٹیکشن دی تھی ملک اطہر اگر سیاست میں تھا تو بابر بخت اور داور اس کے بھی باپ تھے ۔۔۔
ہاں ۔۔۔ پر ولسم والا معاملا نہیں اب بھی ۔۔۔ نعمان نے بلیک کلر کے ہیر بینڈ کو انگلی میں گھومایا تھا اور نظریں بھی اس پر ہی گاڑ رکھی تھیں ۔۔۔
روزی اب چلنے پھرنے کے قابل نہیں رہی تھی اس کی کمر پر گولی لگنے کی وجہ سے اس کی ٹانگیں نکارہ ہو چکی تھیں ۔۔۔ ولسم بری طرح نعمان کی تلاش میں تھا ۔۔ داور نے کیس تو کلوز کروا دیا تھا لیکن ولسم کی آگ اب بھی ٹھنڈی نہیں ہوٸ تھی اور منب کو اس کے مسلمان ہو جانے کے بعد اس پر اتنا غصہ تھا کہ وہ اس سے سب تعلق توڑ کر اس کے خلاف ہو گیا تھا اور ولسم کو کہا کہ وہ روبن
14
کے خلاف گواہی دے گا ۔۔۔
اس کی ایسی کی تیسی جو تم تک پہنچے ۔۔۔ بس منب کی غداری کو ہینڈل کرنا تھوڑا مشکل ہو رہا پر تو فکر نیں کرنے کا
بتا کیا کام ہے ۔۔۔ داور نے جوش میں کہا تھا
حازق وہاب۔۔۔۔ اے ون پیسٹ ساٸڈز کا مالک اس کی ساری انفارمشن چاہیے پچھلے ایک ماہ کی اور اب کی بھی وہ کہاں کہاں گیا کس کس کے ساتھ رہا ۔۔۔ نعمان نے مدھم سے لہجے میں رک رک کر کہا
تو سمجھ ہو گیا ۔۔۔ ۔۔۔۔ داور نے محبت سے کہا
ہممم۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نعمان اداس سے لہجے میں مختصر ہی کہہ سکا
حسنیٰ کا یوں لا پتہ ہو جانا اور پھر کوٸ رابطہ نا کرنا اس کے لیے ایک اضطراب بن گیا تھا ۔۔۔ آخر کو وہ پھر سے طلاق کا مطالبہ لے کر کیوں نہیں آٸ ۔۔۔ اب تو اسے اسلام آباد سے واپس آۓ ہوۓ بھی ایک ہفتہ ہو رہا تھا ۔۔۔۔
اور بتا۔۔۔ ۔۔۔ داور کے آواز اسے خیالوں سے باہر لاٸ تھی
اور کچھ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت مختصر جواب تھا
بھابھی کیسی ہیں ۔۔۔ ۔۔۔۔ داور نے کھوجنے کے سے انداز میں کہا
نعمان کے لہجے کی اداسی چھپی نہیں رہ سکی تھی ۔۔۔
دوسری طرف گہری خاموشی چھا گٸ تھی ۔۔۔ پھر نعمان کے سانس کی آواز آٸ تھی ۔۔۔
ہممم ٹھیک ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے دل کی گھٹن پر قابو پا کر جھوٹ بولا۔۔۔
ہے۔۔۔۔ نعمان ۔۔۔۔ خوش نہیں تو یار ۔۔۔۔ داور نے جانچتے ہوۓ کہہ ہی دیا آخر کو
آں ۔۔۔ ہاں ۔۔۔خوش ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے کرسی سے اٹھ کر اپنی آواز کو نارمل رکھتے ہوۓ کہا
بس یہ کام ہو جاۓ گا فکر نہ کر ۔۔۔ داور نے تسلی دی
چل ۔ پھر ۔۔ اللہ حافظ ۔۔۔۔ نعمان نے فون بند کیا اور جیب میں رکھا ۔۔۔
پھر میز پر پڑی کار کی چابی اٹھاٸ تھی ۔۔۔۔۔ جو کچھ دیر پہلے اسے کمپنی کی طرف سے ملی تھی ۔۔۔ اتنی بڑی خوشی بھی دل کو کوٸ خوشی نہیں دے رہی تھی ۔۔۔ وہ بے زار سا بیٹھا کیرنگ کو ہوا میں جھولتا دیکھ رہا تھا ۔۔۔ جس کی ہر داٸیں سے باٸیں جنبش پر حسنیٰ کے خوبصورت چہرے کے مختلف منظر گھوم رہے تھے ۔۔۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: