Husna Novel by Huma Waqas – Episode 8

0
حسنیٰ از ہما وقاص – قسط نمبر 8

–**–**–

ساری انفامیشن کسی بھی قسم کی کہیں سے لیک نہیں ہونی چاہیے ۔۔۔حازق نے سامنے کھڑے ڈراٸیور کو اور ملازموں کو انگلی کے اشارے سے تنبہیہ کیا تھا
وہ اور وہاب اپنے بنگلے کے بڑے سے لاونج میں کھڑے تھے ۔۔ سامنے تمام ملازموں اور ڈراٸیوروں کی قطار لگی ہوٸ تھی ۔۔ جس دن سے نعمان اس کے آفس سے ہو کر گیا تھا اس دن سے وہ بے چین ہو گیا تھا اسے نعمان کی شخصیت عام نہیں لگی تھی ایک عجیب سی دہشت تھی اس کی آنکھوں کی اداسی میں اور حسنیٰ کا نام لیتے ہوۓ اس کی آنکھوں کے اندر موجود وہ محبت ۔۔۔ کچھ کھٹکنے لگا تھا اسی ڈر کے زیر اثر اب وہ سارے وہ سراغ مٹانا چاہتا تھا ۔۔۔
جی سر ۔۔۔….۔۔۔۔ ایک قطار میں کھڑے تمام ڈراٸیور اور گھر کے ملازم سر جھکا کر سر ہلا گیا تھا۔۔۔
جا سکتے ہوۓ تم لوگ ۔۔۔ حازق نے انگلی سے اشارہ کیا تھا ۔۔۔ سب کے سب آہستہ آہستہ وہاں سے چل پڑے تھے ۔۔۔ حازق سر پر پریشانی سے ہاتھ ملتا ہوا ایک طرف صوفے پر بیٹھا تھا……
وہاب اس وقت سے خاموش کھڑا تھا اور اس کی بے چینی پر حیران ہو رہا تھا ۔۔۔ جبکہ وہاب نے حازق کو نعمان کی ساری انفارمیشن فراہم کر دی تھی ۔۔کہ وہ معمولی سا ایک ملازم تھا واصف ٹیکسٹاٸل میں ۔۔۔
حازق ڈونٹ وری معمولی سا امپلاۓ ہے وہ واصف ٹیکسٹاٸل میں کچھ بھی نہیں پتہ چلا سکتا ہے وہ تم کیوں ایسے گھبرا رہے ہو ۔۔۔ وہاب نے سر کو ہوا میں مارتے ہوۓ کہا اور سگار کو سامنے پڑے ایش ٹرے کے کنارے پر مارا تھا ۔۔۔
وہاب کو حازق کا یوں گھبرانا بلا وجہ لگ رہا تھا ۔۔۔۔حازق نے بھنویں اچکا کر اپنے باپ کی طرف دیکھا ۔۔۔۔
آپ نے اس کو دیکھا نہیں بابا اس لیے ایسے بات کر رہے ہیں ۔۔۔ حازق نے جھٹکے سے صوفے کی پشت سے ٹیک لگاٸ ۔۔۔
کیوں ایسا بھی کیا تھا گنڈا ہے کیا کوٸ ۔۔۔۔وہاب نےطنزیہ مسکراہٹ چہرے پر سجاٸ۔۔۔
معلوم نہیں لیکن ۔۔۔ وہ عجیب تھا اس کی آنکھیں ۔۔۔ حازق نے پر سوچ انداز میں کہا ۔۔
حازق نے اچانک کچھ یاد آ جانے پر موباٸل نکالا اور اب وہ نمبر ملا رہا تھا ۔۔۔
کیسے ہو۔۔۔۔ اچھا سنو غور سے ۔۔۔ حازق نے عجلت میں فون کی دوسری طرف موجود نفوس سے کہا ۔۔۔
کوٸ بھی آۓ اسے یہ بتانا ہے کہ یہ فلیٹ دو سال سے بند پڑا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ حازق نے رعب سے حکمانہ انداز میں کہا ۔۔۔
اور پھر فون رکھ کر سامنے بیٹھے وہاب کی طرف دیکھا ۔۔۔ جو بہت تسلی سے بیٹھے مسکرا رہا تھا حازق پر ۔۔۔
بابا عام بات نہیں ہے ۔۔۔ حسنیٰ لا پتہ ہے معلوم نہیں مر کھپ گٸ ہے یا زندہ ہے ہم بہت بری طرح پھنس سکتے ہیں مجھے اس کے اس نام نہاد شوہر کی آنکھوں میں جو دکھا ہے وہ میں آپ کو نہیں بتا سکتا۔۔۔
حازق ۔۔۔۔ تم بلاوجہ ڈر رہے ہو ۔۔۔میں سکیورٹی دے دیتا ہوں تمہیں ۔۔۔ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے وہاب نے تسلی دیتے ہوۓ کہا ۔۔۔
لیکن حازق اب بھی ویسے ہی بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔ تھورڈی پر ہاتھ پھیرتا ہوا پر سوچ ……
************
حازق۔۔۔ ۔۔۔۔ حسنیٰ جھینپ کر تھوڑا سا دور ہوٸ تھی ۔۔۔
حازق نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے قریب کیا تھا ۔۔ وہ حازق کے فلیٹ میں موجود تھی ۔۔ فضا کو ڈراٸنگ روم میں بیٹھا کر وہ اور حازق فلیٹ دیکھنے کے بہانے سے اب حازق کے بیڈ روم میں موجود تھے ۔۔ اتنا خوبصورت بیڈ روم دیکھ کر حسنیٰ کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گٸ تھیں یہ ایک لیگزری فلیٹ تھا جس کا میڈل کلاس فیملی کی لڑکیاں بس خواب ہی دیکھ سکتی ہیں ۔۔۔وہ کمرہ دیکھنے میں مصروف تھی جبکہ حازق اس کو دیکھنے میں مصروف تھا شہد رنگ کے جوڑے میں وہ دمک رہی تھی ۔۔۔۔ وہ بڑے اہتمام سے تیار ہوٸ تھی ۔۔۔ بڑی بڑی آنکھیں حسرت سے کمرے کو تک رہی تھیں تو اور خوبصورت لب ہلکے سے کھلے تھے ۔۔۔حازق اس کے حسن اور تنہاٸ سے بے قابو ہو چکا تھا ۔۔۔
فضا کو وہ بہت مشکل سے راضی کر سکی تھی حازق کے فلیٹ پر آنے کے لیے وہ تو بضد تھی کہ کہیں باہر ملے حازق اور اب بھی جب وہ حازق کے کہنے پر اس کا ساتھ اٹھی تھی گھر دیکھنے کے غرض سے تو فضا بری طرح اسے گھور رہی تھی ۔۔۔
کیا ہے ہاتھ ہی پکڑ رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ حازق نے حسنیٰ کے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر اپنی کمر کے قریب کیا تھا ۔۔
حازق باہر فضا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ نے کسمسا کر بازو چھڑوانے کی کوشش کی تھی ۔۔۔
تو ۔۔۔۔ تھوڑا سا تو قریب آٶ نہ ۔۔۔۔ یہ تو یونیورسٹی والا ہی حال ہوا نہ ۔۔۔۔۔۔ حازق نے ایک جھٹکا دے کر اپنے ساتھ لگایا تھا
اور حسنیٰ کی کمر کے گرد بازو حاٸل کیے تھے ۔۔
حازق ۔۔۔۔ کوٸ رشتہ تو نہیں ہے نہ ایسا ہم۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ نے تھوڑا جھجکتے ہوۓ پیچھے سے حازق کے ہاتھوں کی گرفت کو کھولنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔
میں نے تو کہا تھا رشتہ بنا لیتے ہیں ۔۔۔ اس میں بھی تم نے فضا کو ہی ترجیح دی مجھے نہیں ۔۔۔ حازق نے چہرہ قریب کیا تھا اور ہلکے سے گردن کے پاس ہو کر کان میں سرگوشی کی تھی ۔۔۔
آپ رشتہ بھجیں گے نہ اب جا کر۔۔۔۔۔۔۔حسنیٰ نے روہانسی آواز میں کہا۔۔۔
ہاں بابا۔۔۔۔۔۔۔۔ حازق کی مدھوش سی آواز کان کے قریب ابھری تھی ۔۔۔
حسنیٰ نے دھیرے سے بازو حازق کی کمر کے گرد حاٸل کیے تھے اور سر اس کے سینے پر رکھ دیا۔۔۔ حازق کو تو جیسے ہمت ملی تھی ۔۔۔ اب اس کے ہاتھ کمر سے اوپر کی طرف سرکنے لگے تھے ۔۔ حسنیٰ کو عجیب سی الجھن ہوٸ وہ اتنی بے باکی سے پہلی دفعہ حازق کے گلے لگی تھی ۔۔
دروازہ کھلا ہے فضا۔۔۔۔۔۔۔۔ کسمسا کر وہ حازق سے الگ ہونے کی کوشش کرنے لگی تھی
حازق تو جیسے ہوش کھوۓ سے انداز میں تھا ۔۔۔ اور گرفت اتنی مضبوط تھی کہ نازک سی حسنیٰ کا کسمسانا کوٸ اثر نہیں کر رہا تھا۔۔۔
دروازے پر ہلکی سی دستک پر حازق نے بدمزہ سی شکل بنا کر حسنیٰ کو خود سے الگ کیا ۔۔۔
دروازہ دستک کے فورا بعد کھل گیا تھا اور وہاں فضا ماتھے پر شکن ڈالے کھڑی تھی ۔۔۔ حسنی نے جلدی سے کندھوں پر دوپٹے کو درست کیا ۔۔۔اور چور سی شرمندہ نظر فضا پر ڈالی
حسنیٰ بہت دیر ہو گٸ ہے اب چلیں ۔۔۔ فضا نے گھور کر حسنیٰ کی طرف دیکھا۔۔
ہمممم آتی ہوں تم چلو۔۔۔ حسنیٰ نے لڑکھڑاتی سی آواز میں نظریں چراتے ہوۓ کہا
فضا دانت پیستے ہوۓ باہر نکلی اور ایک غصیلی نظر حسنیٰ پر ڈالی۔۔۔
حازق۔۔۔۔ آپ رشتہ بھیج دیں نا پتہ ہے نہ میری سٹڈی کمپلیٹ ہوتے ہی بھاٸ میری شادی کر دیں گے ۔۔۔ حسنیٰ نے لاڈ سے حازق کی طرف دیکھا ۔
جو اب منہ پھلاۓ ناراض سا کھڑا تھا۔۔۔۔ ایک تو اس دوست کو ساتھ ساتھ چپکاۓ پھرتی ہے ۔۔۔ حازق نے دانت پیس کر سوچا تھا اور پھر بے زار سی نظر حسنیٰ پر ڈالی تھی ۔۔۔
ہمممم بھیجوں گا۔۔۔ ۔۔۔۔ حازق نے مختصر جواب دے کر جان چھڑواٸ تھی
ایک تو اسے حسنیٰ کی رشتے کی بات سے کوفت ہوتی تھی وہ تو وقت گزار رہا تھا اور اس کے جیسے امیر لڑکوں کا یہ مشغلہ ہوتا ہے اور اب جب وہ واپس اسلام آباد جا رہا تھا تو حسنیٰ سے جان چھڑوانا چاہتا تھا۔۔۔ لیکن وہ تو گلے کا ہار ہی بنتی جا رہی تھی ۔۔۔
حسنیٰ مسکراتی ہوٸ کمرے سے باہر نکل گٸ تھی اور حازق اپنے مخصوص انداز میں لبوں پر انگلی پھیر رہا تھا۔۔۔
**********
گھر تو اچھا ہے ۔۔۔۔ منب نے کمر پر ہاتھ رکھ کر ارد گرد کا جاٸزہ لیا ۔۔۔
یہ لاہور کے مڈل کلاس طبقے کا پرانا علاقہ تھا جہاں وہ لوگ کسی مکان کے اوپر والے حصے میں موجود تھے ۔۔یہ پانچ مرلے پر مشتمل ڈبل سٹوری مکان تھا۔۔۔ مکان کی حالت پرانی تھی لیکن اس میں موجود سامان بہت قیمیتی تھا ۔۔۔ یہ داور کے خفیہ اڈے کے طور پر استعمال ہونے والا گھر تھا ۔۔۔جہاں اس نے روبن کو کچھ عرصے کے لیے چھپے رہنے کا کہا تھا ۔۔۔
ہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روبن نے کھوۓ سے انداز میں کہا۔۔۔۔ اور پھر گھوم کر گھر کا جاٸزہ لیا ۔۔۔
گھر پرانے طرز کا تھا دو کمروں کے آگے ایک چھوٹا سا برآمدہ اور پھر صحن تھا برآمدے میں ہی داٸیں طرف چھوٹا سا باورچی خانہ جس میں ضرورت کا ہر برتن موجود تھا ۔۔۔ صحن کے باٸیں اطراف اوپری چھت کا زینہ تھا ۔۔۔ جو قدرے تنگ تھا ۔۔۔ زینے پر ایک نظر ڈالتا روبن واپس کمرے میں آ گیا تھا جہاں منب اب ٹی وی چلانے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔
کیا سوچ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ٹی وی کے چینل بدلتے ہوۓ منب نے اچٹتی سے نظر اس پر ڈالی ۔۔۔
وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبا کھڑا تھا۔۔۔ زندگی نے عجیب بے سکونی کا موڑ لیا تھا ۔۔۔ وہ اپنی پڑھاٸ مکمل ہونے کا انتظار کر رہا تھا کہ جیسے ہی پڑھاٸ مکمل ہو اسے کوٸ اچھی ملازمت ملے وہ داور کے کام کرنا چھوڑ دے لیکن یہاں تو کچھ اور ہی رخ آ گیا تھا زندگی میں اب پتا نہیں کتنا عرصہ اسے یہاں قید رہنا پڑے گا ۔۔۔
کتنا عرصہ یہاں بلکل بند رہنا ہو گا۔۔۔ مجھے ۔۔۔۔۔۔۔ روبن نےگہری سانس لی اور الجھ کر منب کی طرف دیکھا
فکر نہ کر میری جان بہت جلد داور سب سنبھال لے گا۔۔۔۔۔ منب نے لب بھینچ کر تسلی دی
ہاں۔۔۔ ۔۔۔۔ بے زار سی شکل کے ساتھ مختصر جواب دیا ۔۔۔
ٹی وی دیکھ ۔۔۔ مزے کر ۔۔۔۔۔۔۔۔ منب نے انگلش چینل لگا کر آنکھ ماری
قید ہے یہ تو مزے کیا خاک ہوں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔ روبن نے سر کو جھٹکا دیا اور جیب میں ہاتھ ڈال کر سگریٹ کا پیکٹ نکالا ۔۔۔
وہ دھیرے سے چلتا ہوا پھر سے کمرے سے باہر کی طرف جا رہا تھا ۔۔۔
کہاں جا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ منب نے ٹی وی پر سے نظریں ہٹا کر آواز کو تھوڑا اونچا کیا اور گردن کمرے کے دروازے کی طرف موڑی ۔۔۔
چھت پر سگریٹ پینے ۔۔۔۔۔۔ مختصر جواب دیا
احتیاط سے جگر۔۔۔۔ پیچھے سے منب کی آواز کانوں میں پڑی تھی ۔۔۔
وہ چھت کا زینہ چڑھتا ہوا اوپر آ گیا تھا چھت کے چاروں اٶر چار دیواری تھی اور چھت کے بیچ و بیچ لوہے کی تین کرسیاں اور ایک میز پڑی تھی یہ دو کمروں اور ایک کچن پر بناٸ گٸ چھوٹی سی چھت تھی ۔۔۔تیسری منزل ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگوں کے گھروں کی چھتیں اور ان پر موجود لوگ نظر آ رہے تھے ۔۔۔
وہ سگریٹ کے کش لگاتا ہوا ارد گرد دیکھ رہا تھا ۔۔۔ کچھ چھتوں پر لڑکے پتنگ اڑا رہے تھے ۔۔۔ عصر کا وقت تھا اور گرمی کا موسم بہت سے لوگ اپنی چھتوں پر موجود تھے وہ بے وجہ نظریں گھوما رہا تھا جب ایک چھت پر نظریں تھمنے پر مجبور ہو گٸ تھیں ۔۔۔۔
***********
آپ کیسے جانتی ہیں نعمان کو ۔۔۔۔ کرسٹن نے گھبراٸ سی شکل کے ساتھ پوچھا ۔۔۔
اور آدھ کھلے دروازے کو تھوڑا سا اور بند کیا ۔۔۔
نعمان ہماری کمپنی میں ہی جاب کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ شہروزی نے جلدی سے کرسٹن کی گھبراٸ صورت دیکھ کر وضاحت دی تھی ۔۔
اس سے پہلے کے کرسٹن ڈر کر دروازہ بند کر دیتی ۔۔۔ سامنے کھڑی عورت کی بات سن کر کرسٹن کے لب مسکرا دیے تھے ۔۔۔
شہروزی میر پور خاص کے ایک متوسط طبقے کے چھوٹے سے محلے میں موجود ایک گھر کے آگے کھڑی تھی
اوہ۔۔۔۔ اچھا ۔۔۔ اندر آٸیں ۔۔۔۔ پلیز ۔۔۔۔ کرسٹن جلدی سے دروازے کھولتے ہوۓ ایک طرف ہوٸ تھی ۔۔۔۔
آپ بیٹھیں میں کچھ لے کر آتی ہوں آپکے لیے ۔۔۔ کرسٹن کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کیا کرے۔۔۔
نعمان کے حالات بدل جانے پر اور بہت اچھی جاب مل جانے پر اسے کتنی تسلی ملی تھی بے شک وہ مجبور تھی نعمان کے ساتھ نہیں رہ سکتی تھی لیکن نعمان ہر طرح سے اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھتا تھا ۔۔۔
رکیں ۔۔۔۔ رکیں مسز ولسم ۔۔۔اس سب کی کوٸ ضرورت نہیں ہے ۔۔۔ شہروزی نے ہاتھ کے اشارے سے کچن کی طرف جاتی کرسٹن کو روکا
کرسٹن مسکراتی ہوٸ رکی تھی اور حیران سی ہوتی ہوٸ واپس آٸ تھی ۔۔۔
مجھے آپ سے بات کرنی ہے نعمان کے بارے میں ۔۔۔۔۔۔۔ شہروزی نے مدھم سی آواز میں کہا اور کھوجتی سی نگاہ کرسٹن پر ڈالی
جی ۔۔۔۔۔۔۔۔ کرسٹن کچھ پریشان سی صورت لیے سامنے صوفے پر بیٹھی ۔۔۔
میں جانتی ہوں ۔۔۔ روبن مطلب نعمان ایڈاپٹڈ ہے ۔۔۔۔۔۔۔ آہستہ سی آواز میں شہروزی نے گلا صاف کیا اور بات کو شروع کیا
جی ۔۔۔ ایسا ہی ہے میرے کو گاڈ نے اولاد سے محروم رکھا ۔۔۔۔ کرسٹن کی آواز میں دکھ کی آمزیش ابھری
آپ مجھے اس یتیم خانے کا پتہ دے سکتی ہیں جہاں سے آپ نے اس بچے کو ایڈاپٹ کیا تھا۔۔۔ شہروزی نے التجاٸ انداز اپنایا۔۔۔
دوسری طرف بلکل خاموشی چھا گٸ تھی ۔۔۔ کرسٹن نے سر نیچے جھکا لیا تھا۔۔۔کچھ دیر یونہی گزر گٸ تھی ۔۔۔ شہروزی نے بے چین ہو کر کرسٹن کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
پلیز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شہروزی کی گھٹی سی آواز ابھری تھی ۔۔۔
کرسٹن نے حیران ہو کر سامنے بیٹھی شہروزی کی طرف دیکھا اس کی آنکھوں میں عجیب سی کھوج تھی ۔۔۔ کرسٹن نے گہری سانس لی ۔۔۔
یہ مجھے گاڈ کا تحفہ ملا تھا ۔۔۔۔ میں نے کسی یتیم خانے سے نہیں لیا تھا اس کو۔۔۔ ۔۔۔۔ گہری خاموشی کو توڑا تھا کرسٹن نے
کہاں سے ۔۔۔۔ کیا مجھے ان لوگوں کا ایڈریس دے سکتی ہیں ۔۔۔۔۔۔ شہروزی نے بے چینی سے کہا۔۔۔
روبن مجھے کوڑے دان میں سے ملا تھا۔۔۔۔۔۔ کرسٹن کی آواز بہت آہستہ ہوٸ تھی۔۔۔
کیا۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شہروزی کی آنکھیں حیرت سے اپنا حجم بڑھا چکی تھیں
جی میڈیم سچ بولتا میں ۔۔۔سارم ہاسپٹل کے باہر ایک بڑا ڈسٹبن میں ۔۔۔ کرسٹن کا سر جھکا ہوا تھا
مجھے اس دن ناٸیٹ ڈیوٹی کے بعد گھر جانا تھا۔۔۔ یہ 1993 دسمبر کی تین تاریخ کا رات تھا چار بجے فارغ ہوٸ تھی میں
شہروزی تو جیسے ساکن ہوٸ تھی ۔۔۔ چہرہ زرد ہو گیا تھا۔۔۔ ایسے جیسے بدن میں خون کا ایک قطرہ نہ رہا ہو ۔۔۔
ہاسپٹل سے ولسم میرے کو لینے آیا تھا۔۔۔ جب میں ہاسپٹل سے باہر نکلا تو رونے کی آواز آٸ ۔۔۔۔ ولسم نے بہت بولا رہنے دو مرنے دو ایسے بچے کوٸ اہمیت نہیں رکھتے ۔۔۔ پر میرے تو جیسے قدم ممتا نے جکڑ لیے تھے ۔۔۔ میں نے اسکو اٹھایا اور سینے سے لگا لیا۔۔۔۔۔۔۔ کرسٹن کی آنکھوں میں آنسو تھے۔۔۔
آپ بھی سوچتا ہو گا میڈیم میں نے آپکو بلا جھجک اپنے بیٹے کا سچ بتایا کہ وہ کہاں سے ملا تھا پر یقین جانے میرے لیے یہ بات کوٸ اہمیت نہیں رکھتی وہ کہاں سے ملا تھا اور وہ کیسے وہاں پہنچا تھا۔۔۔ میرے کانوں میں اس کی آواز کا پڑنا اور میرے قدموں کا تھم جانا یہ سب گاڈ کی طرف سے تھا۔۔۔
اور آج دیکھو میرا سب اپنا لوگ نے مجھے چھوڑ دیا اور کون ہے میرے پاس میرا بیٹا۔۔۔ کرسٹن نے مسکراتے ہوۓ آنسو صاف کیے تھے ۔۔۔
شہروزی ایک جھٹکے سے اٹھی تھی ۔۔۔۔اور داخلی دروازے کی طرف بڑھ گٸ تھی
میڈیم۔۔۔۔۔ میڈیم ۔۔۔۔۔ رکیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ کرسٹن پریشان سی ہو کر شہروزی کے پیچھے بھاگی تھی
دیکھیں میرے بچے کو نوکری سے مت نکالیے گا۔۔۔۔ پلیز وہ بہت پیارا ہے ۔۔۔ اس جیسا کوٸ بھی نہیں ۔۔۔ وہ ٹوٹ جاٸینگا پھر سے ۔۔۔۔۔۔۔ شہروزی کے بلکل سامنے آ کر کرسٹن نے روتے ہوۓ ہاتھ جوڑے تھے ۔۔
بے فکر رہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہو گا۔۔۔۔ شہروزی نے کرسٹن کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا تھا آواز ایسی تھی جیسے گلے میں آنسو اٹک گۓ ہوں ۔۔۔
وہ بوجھل دل اور بھاری قدم اٹھاتی وہاں سے نکل گٸ تھی۔۔۔

 

ستمبر بارہ تاریخ کو اس کی منگنی ہوٸ ہے ۔۔۔ فرہاد گروپ آف انڈسٹریز کی اکلوتی بیٹی صبا کے ساتھ ۔۔۔ ۔۔۔۔ وقار نے سامنے تصویر رکھی۔۔۔ تصویر میں ایک جدید فیشن سے لیس لڑکی خوبصورت مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ کسی لان میں کھڑی تھی ۔۔۔۔
نعمان نے صوفے کی پشت سے سر اٹھایا اور تھوڑا سا جھک کر سامنے میز پر دھری فوٹو گراف کو اٹھایا ۔۔
نعمان کے اپارٸٹمنٹ کے لاونج میں رکھے گۓ صوفے کی ایک طرف وہ خود موجود تھا دوسری طرف وقار بیٹھا تھا ۔۔وقار اسے حازق کی ساری انفارمیشن دے رہا تھا جو اس نے دو ہفتوں میں اکٹھی کی تھیں ۔۔
نعمان بے حال سا بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔ حسنیٰ کو اتنا تلاش کر چکا تھا کہ اب دل میں عجیب وسوسے آنے لگے تھے ۔۔۔ عجیب سے خیال کہ اس کو کچھ ہو نہ گیا ہو ۔۔ وہ کہاں جا سکتی ہے ۔۔۔ اس کے گھر سے بھی وہ فضا کے ذریعے پتا چلا چکا تھا وہ وہاں بھی موجود نہیں تھی۔۔۔
صبح کو دس بجے آفس جاتا ہے ۔۔۔ شام سات بجے گھر ۔۔۔ رات گۓ تک پارٹیز گھومنا پھرنا بہت سی لڑکیاں ہے اس کی فرینڈز جن کی لسٹ اور ان کے ایڈریسز یہ رہے ۔۔۔۔۔۔ کچھ کاغزات وقار نے رکھے تھے میز پر ۔۔۔
پانچ گاڑیاں ہیں اور تین ڈراٸیور ۔۔۔یہ گاڑیوں کے نمبر ۔۔۔۔۔۔اور لوکیشنز نہیں پتا چل سکتی لاسٹ منتھ کی لیکن اب کی ہر ایکٹیویٹی ٹریس ہو سکتی ۔۔۔ وقار نے مزید کچھ کاغزات میز پر دھرے تھے ۔۔۔
نعمان سپاٹ چہرے کے ساتھ باری باری سب کاغزات اٹھا رہا تھا اور ان کو بغور دیکھ رہا تھا ۔۔۔
اور فون کالز کی ریکارڈنگ ۔۔۔ نعمان نے بھنویں اچکا کر سامنے بیٹھے وقار کو دیکھا تھا۔۔۔
نہیں وہ ابھی بہت مشکل کام ہے وہ نہیں ہو سکتا۔۔۔ وقار نے معزرت کے انداز میں دیکھا تھا۔۔۔
ہممممم ۔۔۔۔۔۔۔۔ سب کاغزات دیکھ کر اس نے ان کو میز پر پھر سے رکھ دیا
سر کے بال گردن پر بکھرے تھے شیو مزید بڑھ گٸ تھی ۔۔۔ آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں ۔۔۔ ماتھے پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ اس کے ہاتھ رک گۓ تھے کچھ لمحے کے لیے وہ ساکن ہوا تھا ۔۔۔
ذہن میں اس دن ہوٹل سے باہر نکل کر کار میں بیٹھتی حسنیٰ نظر آ رہی تھی ۔۔۔ ماتھے پر شکن اور بڑھ گۓ تھے وہ گاڑی کی نمبر پلیٹ کو ذہن میں لا رہا تھا ۔۔۔ وہ اب دھیرے دھیرے سے تین انگلیوں کو ماتھے پر مار رہا تھا۔۔۔
اسکا میتھ بچپن سے ہی ایسا تھا وہ کہیں بھی کوٸ نمبر دیکھ لیتا تھا تو وہ کسی امیج کی صورت میں اس کے ذہن کے پنوں میں نقش ہو جاتا تھا اب بھی وہ اس دن کے پن کو پلٹ کر ذہن پر زور دے رہا تھا ۔۔۔
ایک منٹ ۔۔۔ ایک منٹ۔۔۔ گاڑی کی نمبر لسٹ دو ذرا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوا میں میں انگلی چلاتے ہوۓ اس نے سامنے بیٹھے وقار سے کہا تھا ۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وقار نے عجلت میں میز پر پڑے کاغزوں کو اتھل پتھل کرتے ہوۓ کچھ کاغز اس کی طرف بڑھاۓ تھے ۔۔جنہیں نعمان نے جھپٹ کر اپنی گرفت میں لیا تھا ۔۔۔۔
کچھ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہلکے سے بڑ بڑانے کے انداز میں گویا ہوا اور پھر لسٹ کو بغور دیکھنے لگا ۔۔۔
وقار اس کے جواب کے انتظار میں اسےدیکھے جا رہا تھا ۔۔۔ چند منٹس کے بعد نعمان ایک جھٹکے سے اٹھا تھا لب بھینچے ہوۓ تھے ۔۔۔ اور چہرہ سرخ ہو رہا تھا ۔۔۔ اس کے یوں اٹھنے پر وقار بھی تیزی سے ساتھ ہی کھڑا ہوا تھا ۔۔۔اور آنکھوں سے سوال کیا ۔۔
بس ہو گیا ہے کام ۔۔۔ تم جا سکتے ہو اب ۔۔۔ نعمان نے تیزی سے کار کی چابی اٹھا کر جیب میں ڈالی اور موباٸل جیب سے نکال کر عبد اللہ کا نمبر ملایا تھا۔۔۔
*************
کیا تو یار ۔۔۔۔ دور بین کیا کرنی تھی اتنی مشکل سے ملی۔۔۔ لے پکڑ۔۔۔ منب نے شاپنگ بیگ روبن کی طرف بڑھایا تھا ۔۔۔
روبن نے پھیکی سی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر شاپنگ بیگ کو ہاتھ میں لیا اور پھر اس میں سے ڈبے کو باہر نکالا تھا۔۔۔
ویسے ہی تو خود تو باہر چلا جاتا ہے میں جا نہیں سکتا سارا دن کیا کروں گھر بیٹھ کر ۔۔۔ روبن اب ڈبے میں سے جدید فوکس کی دوربین کو نکال کر غور سے دیکھ رہا تھا۔ ۔۔
کبھی اسے آنکھوں پر رکھ رہا تھا اور کبھی نیچے کر کے الٹ پلٹ رہا تھا۔۔ اسے اور منب کو لاہور میں آۓ پانچ دن ہو چلے تھے وہ ایک پل کے لیے بھی گھر سے باہر نہیں جا سکتا تھا ہاں ضرورت کی ہر چیز اسے منب فراہم کرتا تھا۔۔۔ وہ بند رہ کر گھٹن محسوس کرتا تھا اور پھر عصر کے وقت وہ چھت پر چلا جاتا تھا۔۔۔ اس مکان کی چھت سے دو گھر چھوڑ ایک چھت پر روز شام کو فون کان کو لگاۓ ایک لڑکی گھومتی تھی ۔۔۔ پہلی دفعہ اسے دیکھنے پر ہی وہ عجیب سے سحر میں جکڑا گیا تھا ۔۔۔ وہ بہت خوبصورت تو تھی ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک اور عجیب سی کشش تھی ۔۔۔ وہ روز شام کو اس کو تکتا رہتا تھا اور وہ اس سے بے خبر کبھی ہنستی تھی کبھی قہقہ لگاتی گھومتی پھرتی دوپٹے سے بے نیاز کبھی کرسی پر بیٹھ جاتی کبھی اٹھ جاتی ۔۔۔ روبن نے روز شام سگریٹ کے کش کے ساتھ اس کی اداٶں کو دیکھنا اپنا معمول بنا لیا تھا اور زندگی میں پہلی دفعہ تھا ایسا کہ روبن ولسم کسی کو اور وہ بھی لڑکی کو یوں گھنٹوں بلاوجہ دیکھتا تھا ۔۔۔ اب روبن اسے اور قریب سے دیکھنا چاہتا تھا اور دل کی اس عجیب خواہش کے زیر اثر وہ منب سے دوربین منگوا بیٹھا تھا ۔۔۔
ابے ۔۔۔۔ ٹی وی دیکھ یار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منب نے ٹی کا ریموٹ اٹھا کر ٹی وی چلایا تھا
نہیں مجھے کوٸ دلچسپی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روبن نے دوربین کو ہاتھ میں پکڑ کر دوسرے ہاتھ کی مدد سے جیب سے سگریٹ کا پیک نکالا
چل تیری مرضی۔۔۔۔ ۔۔۔ روبن نے کندھے اچکاۓ اور رخ ٹی وی کی طرف موڑ لیا تھا ۔۔۔
روبن کمرے کے دروازے کی طرف بڑھا ۔۔۔ تو منب نے پھر سے گردن کو اس کی طرف موڑا ۔۔۔
کہاں اب۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی پشت کو گھورتے ہوۓ سوال داغا ۔۔۔
چھت پر ۔۔۔۔ ۔۔۔ روبن نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا تھا ۔۔۔
تیزی سے زینہ چڑھتا ہوا وہ چھت پر آیا تھا اور پہلا کام اس چھت کو دیکھنا تھا ۔۔ ہاں وہ موجود تھی وہاں آج بھی ۔۔۔ سیاہ رنگ کے جوڑے میں دمک رہی تھی ۔۔۔۔ بال کھولے قہقہ لگاتی تو موتیوں جیسے دانت چہرے کی دلکشی کو اور بڑھا دیتے ۔۔۔۔ روبن نے جلدی سے سگریٹ سلگایا اور پھر ایک ہاتھ سے دوربین کو پکڑ کر دوسرے ہاتھ سے وہ سگریٹ کے کش لگا رہا تھا ۔۔۔ وہ چھت کی دیوار میں موجود ہوادان کے لیے بناۓ گۓ ڈاٸزاٸن میں سے اسے دوربین کے ذریعے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
اففف دوربین نے سارے فاصلے ختم کر دیے تھے ۔۔۔ اور وہ ایسے تھی جیسے وہ ہاتھ بڑھا کر اسے چھو لے ۔۔۔ وہ کرسی پر بیٹھ چکی تھی ۔۔۔ روبن اس کے چہرے پر فوکس سیٹ کر چکا تھا ۔۔۔ وہ قریب سے بھی اتنی ہی حسین تھی جتنی وہ دور سے تھی ۔۔۔ بڑی بادامی آنکھیں گھنی پلکیں ۔۔۔ بیضوی چہرہ گلابی گال بھرے بھرے سے ہونٹ اور پھر گردن فوکس اس کی گردن کی طرف آ گیا تھا ۔۔۔ لمبی سی صراحی شیپ گردن ۔۔۔ جس پر بالوں کی کچھ لٹیں اٹھکیلیاں کر رہی تھیں ۔۔۔ اور پھر دوربین سفر طے کر رہی تھی اور وہ سحر میں جکڑے دیکھے جا رہا تھا ۔۔۔ وہ خدا کا بنا ہوا مکمل حسن تھی ۔۔۔ سر سے لے کر پاٶں تک وہ ڈھیر کر دینے جیسی ظالم حسینہ تھی ۔۔۔
**********
حازق۔۔۔ رشتہ آ رہا آج ایک اور اماں پیچھے پڑی ہیں۔۔۔ ۔۔۔۔ اچانک یاد آنے پر حسنیٰ کے چہرے پر کھلتی ہنسی غاٸب ہوٸ تھی ۔۔۔
وہ چھت پر موجود کرسی پر براجمان تھی ۔۔۔ اور اب رشتے کی بات یاد آنے پر وہ لب چبا رہی تھی ۔۔۔
انکار کرو یار سمپل ۔۔۔۔۔۔۔ فون میں سے حازق کی آواز ابھری تھی اس کے لہجے میں حسنیٰ کے رشتے کو لے کر کوٸ پریشانی نہیں تھی ۔۔
حازق ۔۔۔تم کب بھیجو گے رشتہ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔حسنیٰ روہانسی سی ہوٸ تھی ۔۔۔
حازق کو اسلام آباد گۓ دو ہفتے ہو گۓ تھے۔۔۔ اور وہ تو وہاں جا کر ایسا بدلہ تھا کہ بس یہاں ہوتا تھا تو دن رات حسنی کو برقی پیغامات بھیجتا تھا ۔۔ فون کرتا تھا اور اب تو حسنی اگر فون کرے تو ٹھیک ورنہ وہ اس سے سارا سارا دن بات تک نہیں کرتا تھا۔۔۔
دیکھو جان ۔۔۔۔۔بابا کو منا رہا ہوں نہ جلد ہی آوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ حازق نے گہری سانس لے کر کہا
انداز جان چھڑوانے والا تھا اور اب یہ بات دونوں کے بیچ روز کی بحث بنتی جا رہی تھی ۔۔حازق بس یہ چاہتا تھا وہ اس سے پیار محبت کی بے باک باتیں کرتی رہا کرے اپنی تصاویر بھیجتی رہا کرے ۔۔ لیکن وہ چاہتی تھی کہ حازق اب جلدازجلد رشتہ بھیج دے ۔۔۔ اس کے خواب پورے ہوں وہ اس ڈربے نما گھر سے نکل کر حازق کے بڑے سے بنگلے میں شان سے رہے ۔۔۔
حازق ۔۔۔۔۔۔ میرا رشتہ ہو جاۓ گا ایسے سمجھا کرو نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بچوں کی طرح ہونٹ باہر نکال کر کہا ۔۔۔
جان ۔۔۔ فکر نہ کرو ۔۔۔۔ اچھا چلو اب پکس بھیجو اپنی پیاری سی ۔۔۔۔۔۔ حازق نے بات کو فورا پلٹا دیا تھا
حازق۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسنی نے بے چارگی سے اس کے نام کو لمبا کھینچا
حازق سنجیدہ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا اور اس کی جان پر بنی تھی ۔۔۔ اس کے اتنے رشتے آ رہے تھے اور اب عامر بھی کافی سنجیدہ ہو چکا تھا اس کی پڑھاٸ مکمل ہونے والی تھی اور عفت کے بار بار اسرار پر آۓ دن اس کا کوٸ نہ کوٸ رشتہ آتا رہتا تھا ۔۔۔
ارے میری جان دیکھنا ہے نہ تمہیں ۔۔۔۔۔ حازق نے محبت بھرے لہجے میں کہا
ٹھیک ہے آپ بھی بھیجو اپنی پکس ۔۔۔۔۔۔۔ حسنیٰ فورا سے پگھل گٸ تھی ۔۔۔
اور پھر چھت پر ہی وہ مختلف پوز لیتے ہوۓ اپنی تصاویر بنا رہی تھی ۔
*********
امی مجھے صرف اتنا بتاٸیں اس دن میرا بیٹا زندہ تھا کہ مردہ ۔۔۔۔ شہرزوی نے روندھی ہوٸ آواز میں کہا ۔۔۔
16
وہ صابرہ کے بڑے سے کمرے کے بیڈ پر موجود تھی اور صابرہ کا داٸیاں بڑھاپے سے کانپتا ہاتھ اپنے سر پر رکھے بیٹھی تھی۔۔۔۔
صابرہ کو حیرت کا جھٹکا لگا تھا ۔۔۔ وہ ایک دم سے شہروزی کے سر پر سے اپنا ہاتھ کھینچ بیٹھی تھیں ۔۔۔
شہروزی ۔۔۔ آج اتنے سالوں بعد۔۔۔۔۔۔۔۔ صابرہ نے نظریں چراتے ہوۓ دھیمی سی آواز میں کہا ۔۔۔
امی ۔۔۔۔ پلیز بتاٸیں مجھے وہ زندہ تھا یا مردہ۔۔۔۔۔۔۔۔ شہروزی کی آواز کے ساتھ ساتھ اس کا دل بھی پھٹ رہا تھا ۔۔
آنکھوں سے لگاتار آنسو جاری تھے ۔۔۔ جو صابرہ سے دیکھے نہیں جا رہے تھے ۔۔۔ شہروزی نے پھر سے صابرہ کے ہاتھ کو اٹھا کر اپنے سر پر دھر لیا تھا ۔۔۔اور بے چارگی سے صابرہ کی طرف دیکھا۔۔۔۔ صابرہ نے ایک نظر اٹھا کرشہروزی کے چہرے کو دیکھا تھا اور پھر پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھیں ۔۔۔ شہروزی نے ان کو گلے لگایا تھا ۔۔۔
زندہ۔۔۔۔ زندہ۔۔۔۔۔۔ زندہ ۔۔۔۔۔۔ وہ زندہ تھا۔۔۔۔۔۔ تمھارے باپ نے مار دیا اسے وہ رو رہا تھا۔۔۔وہ ننھی جان۔۔۔۔ ہاۓ۔۔۔۔۔۔۔۔اتنا بڑا گناہ کیا ۔۔۔ جس کی سزا میں بھی بھگت رہی ہوں ۔۔۔۔ وہ نقاہت بھری آواز میں کہہ رہی تھیں اور شہروزی کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا رہا تھا ۔۔۔
جسم صابرہ کے رونے کی وجہ سے ہل رہا تھا وہ خود تو لاش کی طرح ساکن تھی ۔۔۔۔ زرد۔۔۔۔مردہ ۔۔۔۔۔ ویران۔۔۔۔۔۔
قاتل تھے تمھارے ابا۔۔۔۔ قاتل۔۔۔۔۔ ۔۔۔ صابرہ بلک رہی تھیں۔۔
اور شہروزی کو آج پھر سے وہی تکلیف محسوس ہو رہی تھی۔۔۔ بچے کی پیداٸش کی تکلیف۔۔۔۔۔۔ چیخیں سناٸ دے رہی تھیں اسے خود اپنی ہی چیخیں سناٸ دے رہی تھیں ۔۔۔۔۔ آں۔۔ں۔۔۔ں۔۔۔۔ں۔ امی۔۔۔۔۔ی۔۔۔ی۔۔۔۔ی۔۔۔۔ی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ۔۔۔۔ہ۔۔۔۔ہ۔۔۔۔ہ۔۔۔۔ پیٹ کے اندر موجود ناف پھڑکنے لگی تھی ۔۔۔ ممتا دل کو پھاڑ کر باہر آنے کو تھی ۔۔۔
نہیں ۔۔۔ انھوں نے کوشش ضرور کی تھی پر وہ قاتل نہیں بن سکے وہ ظالم تھے امی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شہروزی نے کھوۓ سے لہجے میں کہا۔۔۔۔
آواز کسی کھاٸ سے آتی ہوٸ محسوس ہوٸ تھی ۔۔۔۔۔
نظریں سامنے دیوار پر کسی غیر مرٸ نقطے پر جمی تھیں ۔۔۔ آنکھوں سے آنسو متواتر گالوں کو بھگو رہے تھے ۔۔۔
کیا مطلب ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ صابرہ بے یقینی سے دیکھتے ہوۓ الگ ہوٸ تھی ۔۔۔ حیرت کا سمندر بوڑھی ڈھلکتی آنکھوں میں موجزن تھا ۔۔۔۔۔
میرا بچہ زندہ ہے امی ۔۔۔ میرے اور حسن کی محبت کی نشانی زندہ ہے امی۔۔۔۔۔ وہ بچہ زندہ ہے۔۔۔۔۔ میرا بیٹا زندہ ہے امی۔۔۔۔۔ شہروزی اونچی اونچی آواز میں رو رہی تھی اور صابرہ کو دونوں بازٶں سے تھام کر جھنجوڑ رہی تھی ۔۔۔
دل تھا کہ پھٹ رہا تھا ۔۔۔ آنکھیں تھیں کہ گرم نمکین سیال نکال رہی تھیں ۔۔۔لب تھے کہ کپکپا رہے تھے وہ پاگل سی لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ کاجل پھیل کر اس کے اس عمر میں بھی خوبصورت چہرے کو وحشت زدہ کر رہا تھا ۔۔۔
آپ نے کیوں ابا کا ساتھ دیا تب۔۔۔۔ کیوں مجھے اتنے سال میرے بیٹے سے دور رکھا بولیں ۔۔۔۔ کیوں رکھا۔۔۔۔ میں ترستی رہی بلکتی رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شہروزی نے صابرہ کو جھنجوڑ کر رکھ دیا تھا ۔۔۔
مجھے نہیں معلوم تھا ۔۔۔میری بچی میں یہ ہی سمجھتی رہی وہ قبر سچی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ صابرہ اس کو سنبھال رہی تھی ۔۔۔
حیران سی صابرہ اپنے بوڑھے کانپتے ہاتھوں سے بمشکل اپنی اکلوتی تڑپتی بیٹی کو سنبھال رہی تھی ۔۔۔۔۔
وہ پچاس سالہ خاتون بچوں کی طرح بلک رہی تھی۔۔۔ کمرہ چیخوں سے گونج رہا تھا ۔۔۔چیخیں ایسی تھی جیسے کوٸ زبح ہو رہا ہو ۔۔۔
************
دیکھیں سر ۔۔۔۔رکیں آپ یوں اندر نہیں جا سکتے ہیں ۔۔۔۔کاونٹر سے لڑکی بھاگتی ہوٸ آگے آۓ تھی ۔۔۔
نعمان کو تو جیسے کچھ بھی سناٸ نہیں دے رہا تھا وہ لب بھینچے ۔۔۔آنکھیں سکیڑے ماتھے پر شکن سجاۓ حازق کے آفس کی طرف بڑھ رہا تھا ۔۔۔
سر ۔۔۔رکیں ۔۔۔۔ لڑکی پیچھے آوازیں ہی دیتی رہ گٸ تھی ۔۔ اور نعمان حازق کے آفس کے دروازے کو ٹانگ مارتا ہوا اندر داخل ہوا تھا دروازہ زور کے دھماکے کے ساتھ دیوار سے ٹکرایا تھا ۔۔۔
حازق جھٹکے سے کرسی پر سے اٹھ کر کھڑا ہوا تھا منہ کھل گیا تھا دل تیزی سے دھڑکا تھا کان ایک دم سے بند ہوۓ تھے
ایسے جیسے اونچاٸ پر جانے سے ہو جاتے ۔۔۔ نعمان بھوکے شیر کی طرح اس پر جھپٹا تھا اس کے گریبان کو پکڑ کر اتنی قوت سے جھٹکا دیا تھا کہ حازق کے ہونٹ تک ہل گۓ تھے۔۔۔۔
حسنیٰ۔۔۔۔۔۔۔ کہاں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ غرایا ۔۔۔
آنکھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کی آنکھیں ۔۔۔۔ دہشت ۔۔۔۔ خوف۔۔۔۔ رعب۔۔۔۔۔ دکھ۔۔۔۔درد۔۔۔۔۔۔ خون۔۔۔۔ بغاوت۔۔۔۔۔۔۔ محرومی ۔۔۔۔۔ چھین لینا ۔۔۔ لڑ جانا۔۔۔۔ مار دینا۔۔۔۔۔۔ کیا کچھ نہیں تھا ان گہری آنکھوں میں ۔۔۔۔
اففف حازق اندر تک لرز گیا تھا ۔۔۔ تھوک نگلا تو گلے کی گلٹی اوپر سے نیچے کا سفر طے کرتی ہوٸ نظر آٸ ۔۔۔ ماتھے پر سوٸیاں سی چبھ گٸ تھیں ۔۔۔۔ بمشکل خود کو قابو کیا اور دماغ نے زبان کو بولنے کے لیے آمادہ کیا ۔۔۔
کیا مطلب۔۔۔ مہ۔۔۔۔ مہ۔۔۔ مجھے کیا پتا کہاں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ خوفزدہ آواز۔۔۔
بزدلی۔۔۔۔مکاری۔۔۔۔ بے شرمی۔۔۔۔ بے دینی۔۔۔۔ گھن۔۔۔۔۔ غلاظت۔۔۔۔ کیا کچھ نہیں تھا حازق کے چہرے پر ۔۔۔
وہ تمھارے پاس تھی ۔۔۔کہاں ہے وہ۔۔۔۔۔۔نعمان نے اسے گریبان سے پکڑ کر اتنا اوپر اٹھایا تھا کہ اس کا گلا گھٹنے لگا تھا اور دونوں پاٶں زمین سے اوپر ہو کر ہلنے لگے تھے ۔۔۔
اسی لمحے بھاگتے ہوۓ تین عدد سکیورٹی گاڈ۔۔۔۔ آگے بڑھے تھے اور برق رفتاری سے نعمان پر جھپٹے تھے نعمان تو حازق کا گریبان چھوڑ ہی نہیں رہا تھا ۔۔۔ اس پر عجیب پاگل پن سا سوار تھا چہرہ سرخ تھا بالوں کی پونی کر رکھی تھی جو اب گارڈز کے جھٹکے دینے سے ہل رہی تھی ۔۔۔ جس کی وجہ سے کنپٹی کی رگیں اور واضح ہو رہی تھیں ۔۔ جبڑے باہر کو نکلے ہوۓ تھے۔۔۔۔ بمشکل اسے گاڈز حازق سے دور لے جانے میں کامیاب ہوۓ تھے ۔۔۔ حازق کو کھانسی آنے لگے تھی آنکھوں میں پانی آ گیا تھا ۔۔۔۔ بڑی مشکل سے وہ اپنی حالت بحال کر پایا تھا ۔۔۔
جبکہ نعمان گاڈز سے خود کو چھڑوا رہا تھا دانت پیسے ہوۓ تھے ایسے جیسے حازق کو کچا چبا جاۓ گا ۔۔۔۔
وہ ۔۔۔۔آٸ تھی میرے پاس ۔۔۔ جب اس نے بتایا وہ شادی کر چکی ہے تم سے تو میں نے کہا اس سے ۔۔۔۔۔میں نہیں کر سکتا تم سے شادی ۔۔۔۔۔ حازق نے کھانستے ہوۓ رک رک کر جھوٹ بولا ۔۔۔
پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نعمان چیخا۔۔۔۔
پھر وہ چلی گٸ ۔۔۔ مجھے کیا پتا کہاں گٸ ۔۔۔۔ حازق نے بھی چیخ کر کہا تاکہ مصنوعی رعب جھاڑ سکے وہ ابھی بھی اپنے گلے کو سہلا رہا تھا ۔۔۔
لے جاٶ اسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حازق نے گارڈرز کو میز پر ہاتھ مارتے ہوۓ کہا ۔۔۔
تین گارڈز اب نعمان کو بمشکل گھسیٹ رہے تھے ۔۔۔
سنو ۔۔۔۔ مجھ سے جھوٹ مت بولنا ۔۔۔۔۔۔۔ نعمان نے خبردار کرنے کے انداز سے کہا تھا ۔۔۔
مجھے کیا ضرورت ہے ایک شادی شدہ لڑکی کو میں اپنے پاس رکھوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ حازق نے طنز بھری مسکراہٹ چہرے پر سجاٸ ۔۔۔۔
چھوڑو مجھے جا رہا ہوں میں ۔۔۔۔ نعمان نے دونوں بازوٶں کو اتنی زور سے جھٹکا تھا کہ تینوں گارڈز پیچھے لڑھکے تھے۔۔۔
نعمان نے دو انگلیوں سے وکٹری کا نشان بنایا پہلے ان کا رخ اپنی انکھوں کی طرف کیا اور پھر حازق کی طرف۔۔۔
حازق کے گلے کی گلٹی نے پھر سے اوپر سے نیچے کا سفر طے کیا تھا ۔۔۔
نعمان نے کوٹ کو زور کا جھٹکا دیا تھا اور پھر لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا تھا۔۔۔۔
********
تو کیا شام کو چھت پر چلا جاتا ہے ۔۔۔ منب نے بھنویں اچکا کر روبن کی طرف دیکھا جو چھت کے زینے پر قدم دھرے اس کی آواز پر رکا تھا ۔۔۔ لیکن پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ۔۔۔
انھیں لاہور آۓ اور روبن کے یہ قید کاٹتے مہینہ ہو چلا تھا منب تو اس دوران کراچی کا ایک چکر لگا چکا تھا ۔۔۔ اور میر پور سے کرسٹن کی بھی خبر لے کر لوٹا تھا لیکن روبن اس گھر کے اندر ہی رہتا تھا ۔۔۔
سگریٹ پینے ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔تھکی سی کھردری آواز بے زاری سے بھری
اور تو باہر بھی جا سکتا میں باہر نہیں جا سکتا اس لیے چھت پر چلا جاتا ہوں ۔۔۔ روبن نے تھکی سی آواز میں کہا ۔۔۔
بال اور شیو دونوں بڑھ چکی تھیں سارا سارا دن منہ نہ دھونے کی وجہ سے گال پر اور ماتھے پر دانے بنے ہوۓ تھے ۔۔۔ نہ کبھی کنگھی کرتا تھا اور کٸ کٸ دن ایک ہی پینٹ پر بنیان پہن کر گھر میں گھومتا رہتا تھا سویا رہتا تھا ۔۔۔ سگریٹ پیتا رہتا تھا ۔۔۔
آجا تو بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تھکی سی بے زار آواز ۔۔۔۔
میں آتا ہوں تو چل ۔۔۔ تو نے کونسا کوٸ بات کرنی مجھ سے خاموش ہی رہے گا ۔۔۔۔۔۔۔ منب نے ہوا میں ہاتھ مارا ۔۔۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: