Husna Novel by Huma Waqas – Last Episode 21

0
حسنیٰ از ہما وقاص – آخری قسط نمبر 21

–**–**–

مہرین حسنیٰ کے گلے لگی رو رہی تھی ۔ ابراہیم کی بیماری نے دونوں میاں بیوی کو بےحال کر رکھا تھا ۔ اولاد کا دکھ ایسے ہی انسان کو اندر سے توڑ پھوڑ دیتا ہے مہرین کا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا نہ کوٸ غرور نہ کو طنز سب بھلا کر وہ بس حسنیٰ کے گلے لگی روۓ جا رہی تھی۔
چند لمحے یوں ہی گزر گۓ تھے ۔ پھر مہرین گال رگڑتی شرمندہ سی اس سے الگ ہوٸ تھی ۔ حسنیٰ نے محبت سے مہرین کے گال صاف کیے ۔
اچھی اگر اس کی بھابیاں نہیں تھیں تو وہ کس دن ان سے اچھی تھی ۔ تالی ہمیشہ دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے کچھ قدم نند کو بھی بڑھانے ہوتے ہیں سب قدم بھاوج سے ہی توقع رکھنا غلط ہے ۔ اگر دونوں بھابیاں اس سے خار کھاتی تھیں تو سیدھے منہ اس نے بھی کبھی بات نہیں کی تھی ۔ یہ وہ ساری باتیں تھیں جس کا احساس حسنیٰ کو وقت نے کروا دیا تھا۔ بھابھی کوٸ بھی بری نہیں ہوتی بس دل تھوڑا بڑا کرنا پڑتا ہے اسے اپنے گھر کے ساتھ ساتھ دل میں بھی جگہ دینی پڑتی ہے ۔
حسن نعمان کو ابراہیم کی ساری کنڈیشن اور اخرجات کا بتا رہا تھا ۔ وہ بے حد پریشان لگ رہا تھا معمولی سی ملازمت کے ساتھ ابراہیم کی بیماری نے ہلا کر رکھ دیا تھا ۔
” آپ پریشان نہ ہوں آپ ایڈمیٹ کرواٸیں ابراہیم کو “
حسنیٰ نے آنسو پونچھتے ہوۓ حسن سے کہا اور مہرین کی گود سے زبردستی ابراہیم کو لے کر کاونٹر کی طرف بڑھ گٸ۔
” حسن بھاٸ مجھے دیں فاٸل “
نعمان نے حسن کی طرف ہاتھ بڑھا کر کہا ۔ جو حسنیٰ کو بازو کے اشارے سے شرمندہ سا ہو کر رکنے کے لیے کہہ رہا تھا ۔ نعمان نے حسن کی شرمندگی کو بھانپ کر خود جھک کر فاٸل اس کے ہاتھ سے پکڑ لی ۔ نعمان بھی حسنیٰ کے پیچھے فاٸل پکڑے چل پڑا تھا۔ مہرین اور حسن بھی سر جھکاۓ شرمندہ سے پیچھے چلے پڑے ۔
نعمان نے ابراہیم کے لیے وی آٸ پی روم تمام سروسز کے ساتھ لیا تھا ۔ ابراہیم کو کمرے میں ایڈمٹ کر دیا گیا تھا۔ حسن اور مہرین سے تو آنکھیں اوپر نہیں اٹھ رہی تھیں ۔ حسنیٰ تھوڑا سا پاس کیا ہوٸ حسن نے جھپٹ کر اسے سینے سے لگا لیا اور پھوٹ پھوٹ کر رو دیا ۔
سہی کہا کسی نے بھاٸیوں پر آٸ چھوٹی سی مصیبت بہنوں سے کہاں برداشت ہوتی ہے۔ یہ تو وہ پیاری سی چڑیاں ہوتی ہیں جو چوں چوں کرتی دن بھر رونق لگاتی ہیں پورے گھر کو سجاتی ہیں بھاٸیوں کو ہنساتی ہیں ہر نماز میں بھاٸ کی لمبی عمر کی دعا کرتی ہیں ۔ شادی ہو بھی جاۓ تب بھی میکے میں بھاٸ کے ہر دکھ پر دکھی اور اس کی ہر خوشی پر خوش ہوتی ہیں ۔ بہنیں بہت پیاری ہوتی ہیں ۔ پر ہوتی انسان ہی ہیں ۔ چاہتی ہیں جیسے خود بھاٸ کی ہر غلطی پر تھوڑی سی ناراضگی دکھا کر اسے معاف کر دیتی ہیں تو بھاٸ سے بھی دل ہی دل میں یہی توقع رکھتی ہیں کہ وہ اپنی اس ماں جاٸ کی غلطیوں کو معاف کر کے اس کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھ دے ۔ باپ کے بعد سایہ فگن بن جاۓ ۔
” آپ نے ڈیوز کی فکر بلکل نہیں کرنی بھاٸ وہ میرے اکاونٹ سے پے ہوتے رہیں گے “
نعمان نے حسن کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے کہا ۔ حسن نے آگے ہو کر نعمان کو گلے سے لگا لیا تھا ۔
حسنی اور مہرین نے بھی مسکراتے ہوۓ آنسو پونچھ لیے تھے ۔
********
” ایسے کیسے بھٸ نعمان بھاٸ اچھا سا پوز بناٸیں نا “
اسد نے منہ بنا کر کیمرہ نیچے کیا ۔ اور خفگی سے سامنے دیکھا ۔نعمان اور حسنیٰ تصویر بنوانے کے لیے کھڑے تھے اور اسد سامنے کیمرہ لیے ۔ لیکن اسے دونوں کا کوٸ بھی پوز اچھا نہیں لگا رہا تھا کیونکہ نعمان اس انداز کو اپناتا ہی نہیں تھا جو اسد اسے بتاتا تھا ۔
واصف ولاز کا وسیع لان قمقوں سے سجا تھا زرق برق لباس زیب تن کیے ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع تھے ۔ جو مختلف گروپ کی شکل میں کھڑے خوش گپوں میں مصروف تھے ۔واصف ٹیکسٹاٸل کا بزنس اتنا وسیع تھا کہ شہروزی نے نہ صرف حمزہ اور اسد کو بزنس میں ایڈ یجسٹ کیا تھا بلکہ ثمرین ، صبا ، اور سمیرا کے خاوند کو بھی مختلف شہروں میں موجود اٶٹ لیٹس کا مینجر بنا دیا تھا ۔ آج اسے یوں لگ رہا تھا اتنا کچھ کرنے کے بعد کہ اس نے حسن کے ساتھ کی گٸ تمام زیاتیوں کا بوجھ اتار دیا ہے ۔ سب لوگ خوش تھے تو وہ سر شار تھی ۔ حسن سے جڑے سب رشتوں کی زندگیوں کی کایا ہی پلٹ دی تھی شہروزی نے اور یہ سب حسن سے سچی محبت کا ثبوت تھا
باہر غربا اور مساکین میں کھانا تقسیم ہو رہا تھا جس کے لیے واصف ولاز کے باہر قطار در قطار لوگ کھڑے تھے ۔ اور اس سب کی ہدایات یاسمین بیگم کی طرف سے جاری ہوٸ تھیں ۔ شہروزی ہر کام ان سے پوچھ پوچھ کر کرتی تھی ۔
نعمان واصف ٹیکسٹاٸل کا اونر بن چکا تھا لوگ اسے ہاتھوں ہاتھ لے رہے تھے ۔ وہ اپنی سمجھداری اور ذہانت کا لوہا تو پہلے سے ہی ایم ڈی کی سیٹ پر رہ کر منوا چکا تھا ۔ اور اب اس کے اونر بن جانے پر تو سب لوگ عش عش کر اٹھے تھے ۔
حسنیٰ گہرے نیلے رنگ کے سلور کندن کے کام سے لیس بڑے گھیر دار فراک کو پہنے بالوں کو کرل کی صورت میں کندھوں پر بکھرا کر سلیقے سے سر پر دوپٹہ سجاۓ لان میں آٸ تو سب کی نظروں کا مرکز بن گٸ۔ اور پھر نعمان سب چھوڑ کر مسکراتا ہوا اس کے پاس آ کر اس کا ہاتھ تھامتا ہوا اسے سب کے بیچ میں لے آیا تھا ۔ ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کر جہاں بہت سے کیمرے اکٹھے ہوۓ تھے وہاں اسد بھی اپنا کیمرہ لے کر بھاگا آیا تھا ۔
” مجھے نہیں آتے تمھارے وہ اچھے سے پوز ایسے ہی بنا میں اتنی دیر اپنی بیوی کو کھڑا نہیں رکھ سکتا “
نعمان نے مصنوعی خفگی کے سے انداز میں اسد سے کہا۔ اور مسکرا کر اپنے ساتھ کھڑی حسنی کی طرف دیکھا ۔ ہیر سمیت ساتھ کھڑے سب کزن نے قہقہ لگایا تھا ۔
” اوہ ۔۔۔ ہو۔و۔و۔و۔و سن لو ان کی“
اسد نے سر کا اشارہ کرتے ہوۓ کندھے اچکاۓ ۔ انداز شرارت سے بھر پور تھا جس پر نعمان نے ہلکا سا قہقہ لگایا ۔
” بھابھی ویسے آپ بہت لکی ہیں قسم سے “
عدیلہ نے سینے پر ہاتھ رکھ کر مصنوعی انداز میں گہری سانس لی ۔ حسنیٰ کی آنکھیں چمک اٹھی تھیں لبوں پر موجود مسکراہٹ اور گہری ہوٸ ۔ محبت بھری نظروں سے اپنے ساتھ کھڑے اس شخص کو دیکھا جو چارکول تھری پیس سوٹ میں غضب ڈھاتا ساری دنیا سے زیادہ پیارا لگ رہا تھا۔ اور آج جیسے ابراہیم کے لیے اس نے بھاگ دوڑ کی حسنی کے دل میں اس کا مقام اور اونچا ہو چکا تھا ۔ آج پھر اسے دوسری بار محبت ہوٸ تھی اور یہ محبت پھر سے نعمان سے ہی ہوٸ تھی ۔
” مجھے تو نعمان بھاٸ زیادہ لکی لگتے ہیں “
اسد نے حسنیٰ کو شرارت سے آنکھ ماری جس پر وہ منہ پر ہاتھ رکھ کر بے اختیار ہنس دی ۔ جبکہ نعمان نے ایک دم سے منہ کھول کر ناک پھلا کر اسد کی طرف دیکھا ۔
” لاٸن مت مار میری مسز پر جان سے ہے مار دیتا ہوں میں “
نعمان نے نچلے لب کو دانتوں میں دبا کر مکے کی شکل میں ہاتھ اسد کی طرف کیا اور شرارت سے کہا ۔ سب لوگ اس نوک جھونک سے لطف اندوز ہوتے ہوۓ مسکرا رہے تھے ۔ حسنیٰ نے اس بات پر چونک کر نعمان کی طرف دیکھا اور پھر لبوں پر گہری مسکراہٹ آ گٸ تھی ۔ وہ نعمان کے اور قریب ہوٸ سب لوگ انھیں کیمروں میں قید کرنے میں مصروف تھے ۔
” سہی کہہ رہے ہیں جان سے ہی مار دیتے ہیں آپ “
حسنیٰ نے دھیرے سے معنی خیز انداز میں نعمان کے کان کے قریب سر گوشی کی اور نعمان کی ٹاٸ کو محبت سے درست کیا ۔ اور اس بات پر وہ مبہوت سا ہو کر اسے دیکھتا رہ گیا ۔ ہاں وہ اس کے لیے سب کر سکتا تھا ۔ کیسا جنون سا سوار ہو گیا تھا اس پر اور اس نے رحم تک نہیں کھایا تھا کسی پر بھی ۔کیونکہ ہر پل حسنیٰ ہوٹل کی ساتویں منزل سے چھلانگ لگاتی نظر آ رہی تھی ۔ اور اگر وہ اس دن وقت پر نہ پہنچ پاتا تو وہ ہمیشہ کے لیے اسے کھو دیتا ۔ اور حسنیٰ کو کھو کر جینا نعمان حسن کے لیے اس کا تصور ہی سوہان روح تھا ۔
” آٸ لو یو جندم میری “
نعمان نے کان کے قریب ہو کر سرگوشی کا جواب سرگوشی میں دیا ۔ حسنیٰ نے سرشار سا ہو کر دیکھا چھوٹی سی ناک چڑھاٸ ۔
” آٸ لو یو ٹو جندو “
حسنیٰ نے محبت سے پھر سرگوشی کی ۔ نعمان نے اس کے دیے ہوۓ لقب پر جاندار قہقہ لگایا ۔ اور زیر لب مسکراہٹ دباتے ہوۓ دہرایا ۔ یہ تمام مناظر کیمروں میں قید ہو رہے تھے ۔ان پر فلیش لاٸٹس مسلسل پڑ رہی تھیں جبکہ دونوں ان سے بے نیاز اپنی ہی سرگوشیوں میں مگن تھے ۔
شہروزی دور سے حسنیٰ کو اشارے کر رہی تھیں وہ چند عورتوں کے ساتھ کھڑی تھیں ۔ حسنیٰ مسکراتی ہوٸ ان کی طرف بڑھ گٸ اور نعمان ہاتھ کے اشارے سے کیمروں کو معزرت کرتا باہر کھانے کی تقسیم پر ایک نظر ڈالنے کی غرض سے باہر کی طرف بڑھ گیا ۔
” روکو اسے!!!“
نعمان نے گیٹ کے پاس موجود گارڈ کو اونچی آواز میں کہا اور اشارہ گیٹ کی طرف کیا جہاں سے وہ لڑکا تیزی سے منہ چھپا کر بھاگا تھا۔
” اختر پکڑو ذرا اس لڑکے کو میرے پاس لاٶ “
نعمان نے دوسرے گارڈ کو بھی کہا۔ جو فوراً کھڑا ہو کرارد گرد دیکھنے لگا ۔
” اچھا رکو تمھارے بس کا نہیں ہے یہ خبیث “
نعمان نے ہوا میں ہاتھ مارا اور خود اس کے پیچھے بھاگ پڑا تھا۔ بھاگنے والے نفوس نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور پھر اس کی رفتار مزید تیز ہو چکی تھی ۔ لیکن وہ آج تک نعمان سے کب جیتا تھا ۔ نعمان پوری قوت سے بھاگا اور اس کے قریب پہنچ کر پیچھے سے شرٹ کو زور سے پکڑ کر گھما ڈالا ۔
” رک ۔۔۔ رک ۔۔۔ سالے “
منب لڑ کھڑا ہی تو گیا تھا ۔ نعمان نے اپنی بغل میں منب کی گردن کو دبوچ لیا ۔ جو اب پھڑپھڑا رہا تھا ۔ پر نعمان نے مسکراتے ہوۓ گردن پر گرفت اور مضبوط کر دی پھر وہ تھم کر ساکن سا ہو گیا لیکن چہرہ ابھی بھی جھکا ہوا تھا جس پر بلا کی شرمندگی موجود تھی ۔
” ہممم باہر سے ہی ملے بنا طعنے دیے بنا واپس جا رہا تھا “
نعمان نے پھولی سانسوں کو بحال کرتے ہوۓ کہا ۔ اب گردن کو چھوڑ کر منب کے گرد بازو حاٸل کر چکا تھا ۔
” ابے چھوڑ یار تیرے کو دیکھنے واسطے نہیں آیا تھا“
منب نے شرمندہ سے لہجے میں کہا اور مصنوعی خفگی دکھاٸ ۔نعمان نے قہقہ لگایا ۔ اور زور کا مکا اس کے پیٹ میں مارا ۔ منب تھوڑا سا اوپر کو اچھلا ۔ نعمان اب اسے بری طرح مار رہا تھا لبوں پر مسکراہٹ تھی لیکن وہ منب کو پوری قوت سے مار رہا تھا اور وہ آرام سے اس کے گھونسے اور ٹانگیں کھا رہا تھا ۔
” جھوٹ کسی اور کے ساتھ بولنا سمجھا “
نعمان فوراً پرانے لب و لہجے پر آ گیا تھا ۔ اسے مار مار کر سانس چڑھ گیا تھا۔ محبت سے پکڑ کر زبردستی منب کا چہرہ اوپر کیا ۔ اور پھر منب کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر مسکرا دیا ۔ کھینچ کر اسے اپنے ساتھ لگایا ۔
” معاف کر دے یار میرے کو میں نے تمہیں اس دن “
منب کی آواز رونے کی وجہ سے اور بھاری ہو گٸ تھی ۔ جب سے یہ حقیقت آشکار ہوٸ تھی کہ نعمان پیداٸشی ہی مسلمان تھا ۔ اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا ۔ اسی دن سے لاہور آ گیا تھا پر نعمان کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں تھی ۔
” بس ۔۔ بس تم رہا میرے سے ناراض ہمیشہ میں کبھی نہیں رہا تم سے “
نعمان نے زور سے دونوں بازو کی گرفت مضبوط کی اور اس کے وجود کو اوپر کیا ۔ منب نعمان کے اس والہانہ پن پر مسکرا دیا تھا۔دھیرے سے اسے خود سے الگ کیا ۔
” سانس چڑھا دیا “
نعمان نے مصنوعی خفگی سے نارمل سے انداز میں کہا۔ مقصد منب کی شرمندگی ختم کرنا تھا ۔ جو ابھی بھی خجل سے انداز میں ارد گرد دیکھ رہا تھا۔
” چل اب مام تجھے دیکھ کر بہت خوش ہو جاٸیں گی “
منب کا بازو پکڑ کر ساتھ جانے کے لیےکہا ۔ منب قدم سے قدم ملا کر چل دیا تھا ۔ گہری سانس لے کر دل کے بوجھ کو ہلکا کیا ۔
” مام نے بھی اسلام قبول کر لیا ما شا اللہ “
نعمان نے مسکراتے ہوۓ کہا ۔ منب نے چونک کر حیرت سے دیکھا تو نعمان نے صرف اثبات میں سر ہلایا۔
” یہ کب ہوا ؟“
منب نے گلا صاف کیا ۔ اور مدھم سے لہجے میں کہا ۔ چہرے پر کوٸ ناگواری نہیں موجود تھی ۔
” کچھ دن پہلے اچھا سن میں تیرے پاس آنے والا تھا ولسم کے پاس جانا ہے “
اچانک یاد آ جانے پر نعمان نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے روکا۔ منب نے سوالیہ انداز میں میں دیکھا ۔
” مام کی ڈایورس پیپر پر ساٸن لینے اس سے “
نعمان نے پرسوچ انداز میں کہا ۔ منب نے لب بھینچ کر اثبات میں سر ہلایا۔۔
فاٸق رضا نے فرحین کو اپنانے کی خواہش ظاہر کی تھی جسے فرحین نے بھی قبول کر لیا تھا ۔ دونوں کا ہی دنیا میں کوٸ نہیں تھا ۔ ایک دوسے کا سہارا بن کر باقی کی زندگی گزارنا چاہتے تھے ۔ اس کے لیے نان مسلم ہونے کے باوجود فرحین کو پہلے ولسم سے اپنا رشتہ با قاعدہ طور پر ختم کرنا تھا اور پھر فاٸق سے نکاح ہو سکتا تھا ۔
********
” بھاٸ !!!!!“
حسنیٰ سر جھکاۓ شرمندہ سی عمر کے قریب ہوٸ تھی ۔ گھر کا داخلی دروازہ کھولنے والا بھی عمر ہی تھا ۔ حسن نے حسنیٰ کو گھر آنے پر اسرار کیا تھا ۔ وہ عمر سے ابھی بھی گھبراٸ ہوٸ تھی جبکہ حسن اسے بتا چکا تھا کہ وہ تو اکثر اسے یاد کر کے روتے رہتے تھے ۔ حسنیٰ کے عقب میں نعمان تھا ۔ نعمان بھی سر جھکاۓ ہوۓ تھا ۔
” حسنیٰ “
عمر نے مسکراتے ہوۓ باہیں پھیلا دی تھیں ۔ لہجہ بھیگا ہوا تھا ۔
حسن اور مہرین نے ابراہیم کے لیے کۓ گۓ اتنے بڑے احسان کے بارے میں عمر کو پہلے ہی بتا دیا تھے ۔ جس کو سنتے ہی رہی سہی دل کی ساری کدورتیں بھی ختم ہو چکی تھیں ۔ نفرت کے بادل چھٹ چکے تھے ۔
عمر نے اگے بڑھ کر حسنیٰ کو گلے سے لگایا تو وہ جیسے بکھر سی گٸ ۔ باپ نما اس بھاٸ کی محبت سے جداٸ بہت کٹھن تھی ۔ وہ بلک بلک کر بچوں کی طرح رو رہی تھی اور ہاتھ جوڑ رہی تھی عمر نے اس کے ہاتھوں کو لبوں سے لگایا اور پھر سر پر بوسہ دیا ۔کتنی دیر وہ یونہی دروازے میں ہی کھڑے رہے پھر حسن نے آ کر دونوں کو الگ کیا ۔ عمر اب شرمندہ سا آنسو صاف کرتا ہوا نعمان کی طرف بڑھا ۔
” نعمان تھنکیو ہم نے تو آپ سے تب ایسا سلوک کیا پر “
نعمان کے دونوں ہاتھوں کو گرفت میں لے کر عمر نے شرمندہ سے لہجے میں کہا۔ انداز معدبانہ تھا ۔
” بھاٸ جان کیا آپ صرف حسنیٰ کے بھاٸ ہیں ؟“
نعمان نے خفگی بھرے لہجے میں کہا۔ لبوں پر مسکراہٹ تھی لیکن آنکھیں شکوہ لیے ہوۓ تھیں ۔
”نہیں تو ۔۔“
عمر نے گھبرا کر نظریں اٹھا کر نعمان کی طرف دیکھا ۔ جو چہرے پر دلکش مسکراہٹ سجاۓ کھڑا تھا ۔
” تو پھر ایسا بلکل مت سوچیں بلکہ میں نے حسن بھاٸ اور مہرین بھابھی کا ویزہ اپلاٸ کروا دیا ہے ہم ابراہیم کو باہر لے کر جا رہے ہیں اور خرچے کی بلکل بھی فکر نہیں کرنی ہے آپ دونوں نے “
نعمان نے نارمل سا لہجہ اپنا کر عمر کی شرمندگی ختم کی ۔ عمر اور حسن نے چونک کر پر تشکر نظروں سے اپنے سامنے کھڑے اس شخص کو دیکھا جسے ڈیڑھ سال پہلے وہ اسی جگہ سے دھکے مار کر نکال رہے تھے ۔۔
” نعمان تھنکیو ۔۔۔ تھنکیو سو مچھ “
عمر نے اسکے ہاتھوں کو مضبوطی سے اپنی گرفت میں لیا ۔ اور اس سے بغل گیر ہوا ۔
” عمر بھاٸ شرمندہ مت کریں نا پلیز “
نعمان نے دھیرے سے ان کا مان بڑھاتے ہوۓ کہا ۔اور پھر سب ایک ساتھ برآمدے کی طرف بڑھ گۓ ۔ چند لمحے میں ہی برآمدے کی خاموشی کی جگہ قہقوں اور باتوں کی گونج نے لے لی تھی ۔ حبا حسنیٰ کے گلے میں باہیں ڈالے بیٹھی تھی تو شزا کچن میں مصروف تھی مہرین ہاسپٹل میں ابراہیم کے پاس تھی ۔
” حسنیٰ کھانا لگ گیا ہے لے کر آٶ نہ نعمان کو “
شزا نے کچن کے دروازے سے تھوڑا آگے آ کر کہا ۔ لہجہ مٹھاس اور محبت بھرا تھا ۔
” جی بھابھی ۔۔۔“
حسنیٰ نے معدب انداز میں کہا۔ اور پھر سب اٹھ کر کھانے کے دسترخوان پر موجود تھے ۔ خوشگوار ماحول میں کھانا ختم کرنے کے بعد حسنیٰ شزا کے ساتھ برتن سمیٹنے میں لگ گٸ تھی اور نعمان حسن اور عمر کے ساتھ باتوں میں مصروف ہو گیا ۔
” حسنیٰ مجھے معاف ۔۔۔“
شزا نے نرمی سے حسنیٰ کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر کہا ۔ سر جھکا ہوا تھا ۔ بات ابھی مکمل بھی نہ ہو پاٸ تھی کہ حسنیٰ نے بات کاٹ دی تھی ۔
” بس بھابھی کوٸ معافی نہیں مانگیں گی آپ امی کے بعد اب میرا میکہ آپ دونوں کے دم سے ہے اللہ آپ دونوں کو یوں ہی خوش رکھے اور میں اپنے بھاٸیوں سے ملتی رہوں “
حسنیٰ نے خوشدلی سے شزا کو اپنے ساتھ لگا لیا ۔شزا سسک پڑی تھی ۔
” اب چپ کریں نہ بھابھی اور سنیں مجھے کچھ اچھے اچھے گھریلو ٹوٹکے بتا دیں وٶمٹ بہت ہوتی ہے “
حسنیٰ نے مسکرا کر شزا کے آنسٶ صاف کیے اور بچوں کی طرح منہ بنا کر کہا ۔ شزا روتے روتے مسکرا دی ۔
” ارے نہیں ہونے دو بس اس کا ہونا اچھا ہوتا بے بی ہیلتھی ہو گا “
آنسٶ صاف کرتے ہوۓ محبت سے حسنیٰ کو دیکھا ۔
” نعمان تو ایسے پریشان ہو جاتے ان کو بتاٶں گی “
حسنیٰ نے پر سوچ انداز میں کہا ۔ اور پھر سے برتن اٹھانے کے لیے دسترخوان کی طرف بڑھ گٸ ۔ جبکہ شزا نے گہری سانس لی اور مسکرا کر آنسو صاف کیے ۔
”ارے بھٸ کوٸ ضرورت نہیں ولسم سے قانونی علیحدگی کی نکاح فرحین کے مسلم ہونے پر ہی فسخ ہو گیا ہے “
احمد نے ہوا میں ہاتھ اٹھا کر فاٸق اور نعمان سے کہا ۔ فاٸق نے گہری سانس لی اور صوفے کی پشت سے ٹیک لگا دی ۔
وہ لوگ واصف ولاز کے وسیع مہمان خانے میں بیٹھے تھے ۔ مرد حضرات سب ایک طرف اور باقی سب لان میں ہلا گلا کر رہے تھے آج حسنیٰ کے سب گھر والے بھی مدعو تھے ۔ واصف ولاز مہمانوں سے بھرا پڑا تھا ۔
” نہیں میں نے جس مفتی سے پوچھا انہوں نےکہا کہ اہل کتاب عورت کی باقاعدہ سابقہ شوہر سے علیحدگی ضروری ہے ورنہ دوسرا نکاح جاٸز نہیں ہو گا“
فاٸق نے دھیمے سے لہجے میں کہا ۔ احمد نے پھر سے نہیں میں سر ہلا دیا ۔ وہ اپنے ہی نقطہ پر اٹکے ہوۓ تھے ۔ وہ لوگ کافی دیر سے اس بحث میں پڑے ہوۓ تھے۔
” دلیل حدیث سے ہوتی ہے “
احمد نے ہاتھ کی دونوں انگلیوں کو جوڑ کر کہا ۔ اور ماتھے پر تھوڑے سے شکن آۓ ۔ نعمان نے دونوں کی طرف بغور دیکھا ۔ بحث طول پکڑتی جا رہی تھی ۔
” پھوپھا “
نعمان نے مسکرا کر احمد کی طرف دیکھا اور ہاتھ کا اشارہ کیا ۔ فاٸق اور احمد دونوں اب اس کی طرف متوجہ ہو چکے تھے ۔
” انکل فاٸق بحث کی ضرورت نہیں اسلام اتنے فرقوں میں بٹ چکا ہے کہ اللہ بہتر جانتا ہے کیا درست ہے بعد میں کوٸ فتویٰ نہ لگے اس لیے میں چاہتا ہوں مام کی ولسم سے باقاعدہ علیحدگی بھی ہو “
نعمان نے گہری سانس لی اور بات ہی ختم کر دی دونوں فریقین مسکرا کر رہ گۓ ۔ اور باتوں کا رخ دوسری طرف ہوا ۔ نعمان نے منب کو روک لیا تھا وہ اس کے ساتھ کراچی جانا چاہتا تھا تا کہ ولسم سے باقاعدہ خلع کے پیپر ساٸن کروا سکے ۔
********
” ڈاٸیورس پیپر پر ساٸن چاہیے “ نعمان نے پیپر ولسم کے سامنے رکھے تھے ۔ مضبوط انگلیوں والے سفید ہاتھ کے نیچے خلع کے پیپرز تھے ۔ جن کو وہ میز پر رکھے کھڑا تھا ۔ولسم نے نعمان کے ہاتھ کو دیکھا ۔ اور فورا اپنی سیٹ سے اٹھ کر کھڑا ہوا ۔ انکھیں حیرت سے پھیل گٸ تھیں ۔ چہرے پر آج کوٸ رعب نہیں تھا ۔ سامنے کھڑا شخص آج نہ تو اکیس سال کا جزباتی سا لڑکا تھا اور نہ ہی غربت کا مارا اس کے پیسوں کا محتاج ، لاوارث ۔
” روبن !!!!!“
سرگوشی نما آواز میں کہتا ہوا وہ بے یقین سا کھڑا تھا ۔ سامنے کھڑا مضبوط جسم گہری مونچھوں اور شانداز تھری پیس سوٹ میں ملبوس وہ شخص آج پاکستان کے امیر ترین شخصیات میں سے ایک تھا ۔
جیسے ہی نعمان بنک میں داخل ہوا تو وہاں کا مینجر بھاگتا ہوا آیا ۔ اور مسکراتے ہوۓ نعمان سے مصحافہ کیا۔ واصف ٹیکسٹاٸل کی کراچی میں موجود تمام اٶٹ لٹیس کے اکاٶنٹ اسی بنک میں تھے ۔ اور نعمان کو اب کون نہیں جانتا تھا ۔ وہ واصف ٹیکسٹاٸل کا اب نیا مالک تھا ۔ اور ملک انور کی طرف سے شہروزی کی اچھی خاصی جاٸیداد تھی جو سب اس کی تھی ۔ابھی تک تو وہ پاکستان کی خبروں کی سرخیاں بٹور رہا تھا ۔ ولسم نے جب نعمان کو اتنا پروٹوکول ملتے دیکھا تو وہ پہلو بدل کر رہ گیا تھا ۔لیکن جب نعمان کو اپنی طرف آتا دیکھا تو اس کا سانس سوکھ گیا ۔ سارا رعب دبدبا جھاگ کی طرح بیٹھ چکا تھا۔
” روبن نہیں نعمان “
نعمان نے کوٹ کے دونوں اطراف کو ہلکے سے جھٹکے سے درست کیا اور سامنے رکھی کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر بیٹھا ۔ ایک ہاتھ کو تھوڑا سا خم دے کر وہ اپنے لبوں اور ناک کے قریب رکھے ناگواری سے سامنے حیران سے کھڑے شخص کو دیکھ رہا تھا جس سے کبھی وہ پیار اور توجہ کا طلبگار ہوا کرتا تھا اس کے اندر موجود نفرت سے بلکل بے خبر ۔
”حرامی ہے یہ “ ” گندا خون ہےکسی کا ۔۔۔“ ولسم کے کتنے ہی الفاظ دماغ میں گونج اٹھے تھے ۔
” نعمان حسن ۔۔۔۔ “
نعمان نے دانت پیس کر جتانے کے انداز میں اپنے پورے نام پر زور دیا ۔ ولسم نے خجل سا ہو کر ارد گرد دیکھا ۔ جہاں ہر شخص اشتیاق سے بس نعمان حسن کو دیکھ رہا تھا ۔ ولسم نے گھبراہٹ کے سے انداز میں ٹاٸ کو درست کیا اور بیٹھ کر پیپر ہاتھ میں لیے ۔ ایک نظر نعمان کی طرف دیکھا جو اسے گھور کر دیکھ رہا تھا ۔ ولسم نے خاموشی سے پیپرز پر دستخط کیے ۔
کرسٹن کو اپنے نام کے ساتھ جوڑے رکھنے پر اسے روزی بھی بہت باتیں سناتی تھی ۔ وہ ویسے ہی اب چلنے پھرنے میں دشوار تھی ۔ ولسم پریشان رہتا تھا ۔ کرسٹن کو چھوڑ کر روزی کو اپنانا اس کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی ثابت ہوا تھا ۔ روزی اور کرسٹن میں تو زمین آسمان کا فرق تھا ۔ کرسٹن تو اتنے میٹھے انداز میں بولتی تھی کہ کانوں میں رس گھل جاتا تھا جبکہ روزی ایک بد زبان عورت تھی جو ہر بات پر آے دن طعنے دیتی رہتی تھی اس کی زندگی اجیرن ہو چکی تھی ۔ جب سے روزی اس کی زندگی میں آٸ تھی ایک کے بعد دوسری پریشانی میں گِھرا ہی رہتا تھا ۔ روزی کو چھوڑنا اب اس لیے ممکن نہیں تھا کہ ایک تو وہ اس کے بچے کی ماں بن چکی تھی دوسرا وہ اپنا سب کچھ اس کے نام کروا چکا تھا ۔
” اور ہاں ۔۔۔ کرسٹن بھی اب فرحین ہیں کرسٹن نہیں “
نعمان نے پیپرز میز پر سے اٹھاۓ ۔ تلخ سی مسکراہٹ چہرے پر سجاٸ
” اور ان شا اللہ بہت جلد مسز فاٸق ہوں گی “
ایک نظر ولسم کی طرف دیکھا ۔جس کا منہ کھل چکا تھا۔
نعمان نے لبوں پر مسکراہٹ سجاٸ اور وقار سے باہر کی طرف قدم بڑھاۓ جہاں بینک مینجر اس کے پیچھے پیچھے تھا ۔
اور بے قدرے لوگ ایسے ہی کھڑے ہوتے ہیں منہ لٹکا کر جیسے آج ولسم کھڑا تھا ۔ اور دل میں سوچ رہا تھا کاش اس نے روبن کو نہ چھوڑا ہوتا تو آج۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاۓ رے حسرت!!!!
*********
” نہیں آپ ادھر سے واصف ولاز سے رخصت ہو کر جاٸیں گی “
شہروزی نے محبت بھرے لہجے میں کہا ۔ اور کندھوں سے تھام کر فرحین کو دیکھا ۔ فرحین اپنے مخصوص نرم سے انداز میں مسکرا دی تھیں ۔ وہ واصف ولاز کے خوبصورت کمرے میں کھڑی تھیں جو فرحین کو دیا گیا تھا ۔ تین حیض تک کی مدت انھیں یہاں گزاری تھی اور اب شہروزی رخصت بھی یہیں سے کرنا چاہتی تھیں ۔
کرسٹن کو اس رات ایک چھوٹے سے بچے کو کوڑے کے ڈھیر سے اٹھا کر سینے سے لگانے کا اجر ملا تھا ۔ بے شک خدا جسے داٸرہ اسلام میں داخل کرنا چاہتا ہے تو سبب بناتا ہے مشکلات دکھاتا ہے ۔ اپنوں کے اصل چہرے دکھاتا ہے ۔ تنہا کرتا ہے ۔
ہاں وہی کوڑے کے ڈھیر سے اٹھایا بدبودار بچہ آج اس خوشبو سے بھرے اور روشن دین سے اسے روشناس کروانے کا سبب بنا تھا ۔
وہ دنیا کی خوش قسمت ترین عورت تھیں ۔ وہ اسلام قبول کرنے کے بعد پرسکون ہو گٸ تھیں ۔ ولسم نے دھوکا دیا تو ٹوٹ گٸ تھیں ۔ بھاٸیوں کے در پر گٸیں تو انھوں نے یہ کہہ کر دھتکار دیا کہ وہ ماں سے پہلےہی بہت کچھ لے چکی ہے ۔ سینے سے کس نے لگا کر رکھا اس کوڑے کے ڈھیر سے اٹھاۓ بچے نے ۔
دنیا میں کتنے ہی بچے ایسے ہوتے ہیں جو لے پالک ہوتے ہیں لیکن جب انھیں زندگی کے کسی موڑ پر پتا چلتا ہے کہ پالنے والی ماں پیدا کرنے والی نہیں ہے تو وہ باغی ہو جاتے ہیں گھر چھوڑ دیتے ہیں پر نعمان نے ایسا کچھ نہیں کیا تھا ۔ اس نے ایک لمحے کے لیے بھی کرسٹن کو دور نہیں کیا تھا ۔
” فرحین !!! “
شہروزی کی آنکھیں نم ہوٸ تھیں۔ ۔ سامنے کھڑی سانولے رنگ پر پر کشش نقش رکھنے والی اس عورت کو دیکھا جس کے چہرے پر نور تھا ۔
” اللہ کو پتہ نہیں میری کون سی نیکی پسند آٸ ہو گی کہ نعمان اللہ نے آپکی جھولی میں ڈال دیا تھا “
شہروزی نے مشکور سے انداز میں کہا ۔ فرحین نے ہاتھ بڑھا کر محبت سے شہروزی کے گال پر موجود آنسو صاف کیے ۔
” نعمان تو خدا کا تحفہ تھا شہروزی “
فرحین نے اپنے کندھوں سے اس کے ہاتھ دھیرے سے ہٹاۓ اور اپنے ہاتھوں میں محبت سے تھامے ۔
” وہ میرے پاس ہے بے شک لیکن وہ آپ کا بیٹا رہے گا ہمیشہ “
شہروزی نے فرحین کے ہاتھوں پر محبت سے بوسہ دیا ۔
وہ سامنے کھڑی اس عورت کے احسان کا بدلہ کیسے چکا سکتی تھی جس نے اتنے پیارے انداز میں نعمان کی پرورش کی تھی ۔ کہ کوٸ بھی رشتہ پاس نہ ہونے کے باوجود وہ ہر رشتے کی قدر کرنا جانتا تھا ۔
” ہممم بس اللہ اسے خوش رکھے ہمیشہ شاد آباد رکھے “
فرحین نے بھر پور انداز میں مسکرا کر کہا ۔اور شہروزی کو ساتھ لگایا ۔
” فاٸق بہت اچھے انسان ہیں “
شہروزی نے فرحین کے کان میں دھیرے سے کہا ۔ اور مسکراتی ہوٸ الگ ہوٸ۔
” بے شک !!!“
فرحین مسکرا دی تھیں ۔ فاٸق ہی تو وہ فرشتہ صفت انسان تھے جن کی بدولت وہ اسلام کی خوبصورتی کو دیکھ پاٸ تھیں ۔ ایک ایسا انسان جس نے اتنی مشکل زندگی گزاری ہو ۔ ساری جوانی جیل میں بےگناہ ہوتے ہوۓ کاٹ دی ہو۔ پر پھر بھی وہ ہرسانس کے ساتھ خدا کا شکر ادا کرتا ہو ۔
” مام ۔۔۔“
نعمان نے عقب سے پکارا ۔ وہ دلکش مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ کمرے کے داخلی دروازے میں کھڑا تھا ۔
” جی بیٹا !!!“
فرحین اور شہروزی نے ایک ساتھ کہا ۔ اور پھر تینوں بھر پور طریقے سے مسکرا دیے تھے ۔
نعمان نے آگے بڑھ کر دونوں کو داٸیں باٸیں بازو میں لے لیا۔
*********
” عدالت ملک انور کے ستاٸس سال پہلے کۓ گۓ جرم کو مد نظر رکھتے ہوۓ اس فیصلے پر پہنچی ہے کہ ملک اطہر فاٸق رضا اور حسن کی فیمیلی کو بھاری ہرجانہ دیں گے جس کی تفصیل ان کو دے دی گٸ ہے “
42
جج نے میز پر رکھے کاغز پر نظریں جھکا کر کہا ۔ کٹہرے میں ملک اطہر سر جھکاۓ کھڑا تھا ۔آج چار ماہ بعد ملک اطہر کو رہا کر دیا گیا تھا ۔
***********
” حسنیٰ بس کرو اب تیسرا گلاس ہے تمھارا “
نعمان نے حسنیٰ کے ہاتھ سے کوک سے بھرا گلاس پکڑتے ہوۓ خفگی سے کہا ۔
واصف ولاز کے لان میں سادگی سے فاٸق اور فرحین کی نکاح کی تقریب رکھی گٸ تھی ۔ جس میں سارے رشتہ دار اکھٹے ہوۓ تھے ۔ فرحین ہلکے سے پیازی رنگ کے جوڑے میں بہت نفیس لگ رہی تھی ۔ آج صرف قریبی رشتہ دار ہی موجود تھے۔ کھانا لگ چکا تھا ۔ عبداللہ اور منب بھاگ دوڑ میں لگے ہوۓ تھے نعمان کے ساتھ ۔نعمان انتظامات دیکھتا ہوا حسنیٰ کو دیکھنے اس طرف آیا تھا۔
حسنی پیچ رنگ کے ہلکے سے کام والے کرتا شلوار میں دمکتی کسی گڑیا سے کم نہیں لگ رہی تھی ۔ گال گلابی ہو رہے تھے ۔ اس کا چہرہ اب کافی صحت مند ہو گیا تھا۔نعمان جو اسے دیکھنے کے لیے آیا تو پھر دیکھتا ہی رہ گیا ۔ وہ دور کھڑا اسے دیکھ رہا تھا پر یہ کیا وہ خوبصورت سی گڑیا کھا کچھ نہیں رہی تھی بس کولڈ ڈرنک کے گلاس پر گلاس چڑھا رہی تھی ۔ نعمان ناک پھلا کر اس کے پاس آیا اور تیسرا گلاس بھرا ہوا اس کے ہاتھ سے لے لیا ۔
” مجھے اچھی لگ رہی ہے نعمان “
بچوں کی طرح لاڈ سے روہانسی آواز میں کہا ۔ نعمان نے اپنے لب ایک دوسرے کے ساتھ پیوست کیے اور ناک پھلا کر اسے گھور کر دیکھا ۔
” اچھی لگ رہی ہے تمہیں جندم پر بے بی کے لیے ٹھیک نہیں ہے “
نعمان نے ڈانٹنے کے انداز میں کہا اور پلیٹ کے اندر قورمہ ڈالا ۔ ہاتھ بڑھا کر روٹی کا نوالہ لیا اور محبت سے منہ پھلاۓ کھڑی حسنیٰ کی طرف بڑھایا ۔
” میں ویسے ایک بات نوٹ کر رہی ہوں چار ماہ سے “
حسنیٰ نے منہ کھول کر نوالہ منہ میں لیا اور خفا سے انداز میں کہا ۔
” کیا بات ؟“
نعمان اب دوسرا نوالہ بنا رہا تھا ۔ مصروف سے انداز میں اپنے سامنے کھڑی اپنی لاڈلی بیوی کی طرف دیکھا۔
” آپ کو اب مجھ سے کوٸ پیار نہیں ہے آپ کو بس اپنے بچے کی فکر پڑی رہتی ہے “
خفگی کے سے انداز میں منہ پھلا کر کہا ۔ نعمان نے بے ساختہ قہقہ لگایا ۔ اور گلاس میں پانی انڈیلا ۔
” تو سہی تو لگ رہا تمہیں “
مسکراہٹ دبا کر شرارت سے حسنیٰ کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا ۔
” کیا!!!!!!“
حسنیٰ کی ہلکی سی چیخ نکلی ۔ اور منہ اور پھول کر کپا ہو گیا ۔ ماتھے پر شکن ڈال کر غصے سے نعمان کو گھورا جو اب باقاعدہ دانت نکال رہا تھا اور حسنیٰ کی حالت سے محزوز ہو رہا تھا ۔
” اندر کمرے میں چلیں ذرا یہاں تو ابھی آپ کی دو دو ماٸیں موجود ہیں “
حسنیٰ نے دانت پیس کر منہ پھلا کر کہا ۔ نعمان کا ایک اور جاندار قہقہ ابھرا ۔ وہ بھی حسنیٰ کے جوڑے کے ہم رنگ کرتا اور سفید شلوار میں نکھرا نکھرا سا چہرہ لیے بال سلیقے سے کنگھی کیے ہوۓ دل کو دھڑکا دینے کے حد تک خوبرو لگ رہا تھا۔
” میں نے بھی ایک بات نوٹ کی ہے “
نعمان نے کان کھجا کر شرارت سے کہا ۔ بھنوں کو اچکا کر تھوڑا سا اور قریب ہوا۔ کلون کی مہک حسنیٰ کے اندر سمانے لگی ۔
” کیا؟ “
دل تو دھڑکنے لگے تھا پر حسنیٰ نے ہنوز خفا سے انداز میں کہا ۔
” جب سے اپنے میکے جانے لگی ہو پھر سے بدتمیز ہو گٸ ہو “
نعمان نے سرگوشی کے انداز میں کہا اور پھر سے قہقہ لگایا جبکہ وہ بے ساختہ نعمان کے کندھے پر مکا لگا چکی تھی ۔ جسے اب وہ ہنستے ہوۓ سہلا رہا تھا
” بتاٶں آپکو ؟“
حسنی نے خفا سے انداز میں غصے بھرے لہجے میں کہا ۔ چھوٹی سی ناک پھلاۓ وہ اور حسین لگ رہی تھی ۔
” کمرےمیں جا کر بتانا ٹھیک سے یہاں پبلک میں مجھے شرم آتی ہے “
نعمان نے محبت سے دیکھا اور شرارت سے کہا جس پر وہ مسکرا کر اٹھی ۔ اور وہ مسکراہٹ دبا رہا تھا۔
************
” وہ روۓ جا رہی ہے تم سے یہ نہیں بنے گا “
نعمان نے تھوڑا ڈانٹنے کے انداز میں کہا ۔ حسنیٰ کچن میں جلدی جلدی پاستہ تیار کرنے میں مصروف تھی جبکہ چار سالہ مہروش نعمان کی انگلی تھامے نخرے کرتی ہوٸ روۓ جا رہی تھی ۔ اتنے کک ہونے کے باوجود نعمان کی عجیب ہی منتک تھی اپنی لاڈلی بیٹی کے لیے کچھ بھی وہ ملازموں سے نہیں بنواتا تھا ۔ اب بھی یہی ہو رہا تھا ۔
” نعمان بنا تو رہی ہوں مشین تھوڑی نہ ہوں اگر کہا تھا زیب بنا دیتی ہے وہ آپ کو گوارہ نہیں “
حسنیٰ نے دانت پیس کر کہا ۔ جس پر نعمان گھور کر ہی رہ گیا پھر مہروش کو گود میں اٹھا کر اس کی ناک سے ناک ملاٸ۔ وہ بلکل ماں جیسی شکل کی خوبصورت بچی تھی ۔
” اے بھابھی وٹس اپ “
ہیر مصروف سے انداز میں کچن میں آٸ اور حسنیٰ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا ۔
” وہی خدمتیں باپ بیٹی کی اور کیا “
حسنیٰ نے برا سا منہ بنا کر کہا اور گھور کر نعمان کی طرف دیکھا نعمان نے دانت نکال کر محبت سے دیکھا ۔ اور کام کرنے کااشارہ کیا ۔
” اچھا سنیں میرے کمرے میں آٸیں ڈریس بتا دیں کونسا پہنوں شام کے لیے “
ہیر نے لاڈ سے کہا۔ شام کو اس کے رشتے کے لیے کچھ لوگ آ رہے تھے ۔ حسنیٰ کی چواٸس بہت اچھی لگتی تھی اسے اسی لیے اس کا مشورہ لینا چاہتی تھی ۔
” امممم ڈھنگ کا پہننا “
نعمان نے سیب کھاتے ہوۓ کہا ۔ اشارہ اس کی اونچی سی شرٹ اور پینٹ کی طرف تھا ۔
” آرام سے ذرا باہر سے آ رہا وہ اس کو ان کپڑوں سے بھی کوٸ مسٸلہ نہیں آپ سے تھوڑی شادی کر رہی میں “
ہیر نے ناک چڑھا کر ہاتھ ہوا میں اٹھا کر کہا ۔
”تو مجھ سے کر لو منع کب کیا“
نعمان نے شرارت سے آنکھ دباٸ اور چور نظر حسنیٰ پر ڈالی ۔
” آٸیڈیا ویسے اچھا ہے “
ہیر فوراً نعمان کے ساتھ مل گٸ وہ دونوں اکثر یونہی حسنیٰ کو تنگ کرتے تھے ۔ کیونکہ نعمان نے حسنیٰ کو اپنے اور ہیر کے متعلق سب کچھ بتا دیا تھا ۔
” ہیر کو تو چھوڑ دوں گی آپ کو جان سے مار دوں گی میں “
حسنیٰ نے چمچ دانت پیستے ہوۓ نعمان کی طرف مارنے کے انداز میں بڑھایا ۔
” وہ تو مار چکی ہیں پانچ سال پہلے “
نعمان نے پیار سے چمچ والا ہاتھ پکڑ کر کہا ۔ جس پر وہ مسکراہٹ دبا گٸ ۔
” حسنیٰ یہ رومینس سے جلدی فارغ ہو کر آ جانا پلیز “
ہیر نے سیب اٹھایا اور ہنستی ہوٸ باہر کی طرف بڑھی ۔ کچن سے قہقوں کی آواز کے ساتھ مہروش کی ضد بھری آواز سناٸ دے رہی تھی ۔
مما ہری اپ ۔۔۔ مما ہری اپ ۔۔۔ اٸ ام ہنگری ۔

 

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: