In Lamhon K Daman Main Novel By Mubashra Ansari – Episode 2

0

ان لمحوں کے دامن میں – قسط نمبر 2

–**–**–

ابراہیم فوڈ انڈسٹریز لندن کی جانی مانی کمپنیوںمیں سے ایک تھی…. ابراہیم صاحب نے جوانی سے لے کر اب تک کتنی محنت کی تھی اپنی اس کمپنی کو پروان چڑھانے کے لیے…. مگر اب وہ بوڑھے ہو چکے تھے…. ایک عدد ہارٹ اٹیک بھی آ چکا تھا…. اب وہ چاہتے تھے کہ ان کی اکلوتی اولاد الحان ابراہیم زندگی کے معاملے میں سنجیدگی اختیار کرکے کمپنی میں اپنی دلچسپی دکھائے…. مگر الحان ابراہیم اپنے نام کا ایک تھا…. مجال تھی جو اس پر موم یا ڈیڈ کی کسی بھی بات کا اثر ہو جاتا…. وہ تو بچپن سے ہی اپنی ضد کا غلام تھا…. حسیناﺅں کا دیوانہ…. مگر یہ تمام حسینائیں ایک مہینہ سے زیادہ اس کے دل پرراج نہیں کر سکی تھیں…. بہت مشکل قسم کا انسان تھا وہ…. اسے خود اپنی سمجھ نہ آتی کہ وہ زندگی سے کیا چاہتا ہے…. ہاں، مگر وہ اتنا ضرور جانتا تھا کہ اسے کبھی کسی سے پیار نہیں ہو سکتا…. وہ اپنی اس بات کا دعویدار تھا۔ اسے پختہ یقین تھا، تبھی تو کبیر سے شرط لگا بیٹھا تھا…. لڑکی ذات اس کے لیے محض ایک کھلونے کی حیثیت رکھتی تھی…. ایک ایسا کھلونا جس سے جب جی بھر جائے، اسے دھتکار کر دور پھینک دیاجائے…. لڑکیاں اس کی شخصیت سے بے پناہ متاثر ہوتیں، وہ تھا ہی اتنا ہینڈسم، اتنا ہینڈسم کہ ہالی ووڈ کے تمام ہیروز کو باآسانی مات دے سکتا تھا…. اسے اس بات کا احساس تھا، تبھی تواتنا اِتراتا پھرتا تھا…. اپنی ایک ہی قاتلانہ مسکراہٹ سے وہ اَن گنت لڑکیوں کے دل جیت لیا کرتا…. اپنی دولت کا بھی تو غرور تھا اسے…. اکلوتا بھی تھا…. موم کا لاڈلا بھی تھا…. ابراہیم صاحب بھی اس پر جان نچھاور کرتے تھے مگر اس کی ان بچکانہ حرکتوں سے اُکتاچکے تھے…. انہوں نے بارہا کوشش کی کہ الحان ان تمام فضولیات کو چھوڑ کرکمپنی میں دلچسپی لے…. مگر وہ آزاد پنچھی تھا…. اپنی مرضی کا مالک…. کہاں کسی کے ہاتھ آنے والا تھا…. آزاد پنچھی کہاں کسی کی قید میں آتے ہیں۔ انہیں تو صرف اپنی آزادی سے پیار ہوتا ہے….
ض……..ض……..ض
کوئی اطلاعی بیل پر ہاتھ رکھ کربھول گیا تھا…. مانہ کسمسائی، نیند سے بوجھل آنکھیں وا کیے وہ جھلائے ہوئے انداز میں اٹھ بیٹھی….
”کون بیل پر ہاتھ رکھ کر بھول گیا ہے؟“
ٹیبل پر ہاتھ مارتے ہی اس نے اپنا چشمہ اٹھایا….
’Coming!…. صبر نام کی کوئی چیز نہیں لوگوں میں….“
منہ ہی منہ میں بڑبڑاتی،بے ترتیبی سے بال چٹکی میں قید کیے وہ اٹھ کر جوتا پاﺅں میں اُڑستی، نڈھال قدموںسے چلتی بیرونی دروازے تک پہنچی۔
“Who is this?”
”ہم ٹی وی شو (ان لمحوں کے دامن میں) کی ٹیم سے ہیں میڈم! آپ کا انٹرویو ریکارڈ کرنا ہے….“
دروازے کے اس پار سے ایک بھاری مردانہ آواز اُبھری تھی، جو انگلش میں اسے اپنی آمد کی وجہ بتا رہا تھا…. مانہ پیشانی پربل ڈالے منہ ہی منہ میں بڑبڑائی….
”انٹرویو؟“
دروازہ کھولتے ہی دو انگریز، دو مسلم لڑکوں اور دو مسلم لڑکیوں پر مشتمل گروپ کی جانب دیکھتی وہ حیرانی سے گویا ہوئی….
”کیسا انٹرویو؟“
”پروموشنل انٹرویو میڈم!“
گروپ کے لیڈر ایک مسلمان لڑکے نے آگے بڑھ کر جواباً کہا….
’میں نے کل رات آپ کے شو کی پروموشنل وڈیو دیکھی تھی…. مجھے نہیں لگتا کہ میرے انٹرویو کی کچھ خاص ضرورت ہے….“
”میڈم! اس شو کے پہلے ایپی سوڈ میں ہم نے تمام پچیس لڑکیوں کو انٹروڈیوس کرانا ہے، جس کے لیے ہمیں تمام پچیس لڑکیوں کے انٹرویوز درکار ہیں…. آپ پلیز ہمیں تھوڑا ٹائم دے دیجیے….“
گروپ لیڈر نے ڈیٹیل سمجھائی…. وہ لب بھینچے کچھ سوچنے لگی تھی…. ان تمام لوگوں کو راستہ دینے کی غرض سے وہ تھوڑا پیچھے ہٹ کر کھڑی ہوئی…. تمام لوگ چھوٹے سے ڈرائنگ روم میں اپنا سیٹ اَپ لگانے میں مصروف ہو گئے…. گروپ لیڈر اس کی جانب مڑ کر بولا….
”آپ چینج کر لیجیے….“
وہ کچھ سوچتی ہوئی پیر پٹختی اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی…. کچھ ہی دیر بعد وہ چینج کیے، کیمرے کے سامنے موجود تھی….
”میڈم! آپ اپنا چشمہ اُتار دیجیے….“
گروپ لیڈر کی ریکویسٹ پر اسنے بنا کچھ کہے اپنا چشمہ اُتار کر پاس کھڑی لڑکی کی جانب بڑھا دیا…. میک اَپ گرل آگے بڑھ کر اس کا میک اَپ کرنے کو تھی کہ وہ ایک دم جھلا اٹھی….
”مجھے میک اَپ نہیں کروانا….“
گروپ لیڈر کے اشارے پر میک اَپ گرل پیچھے جا کھڑی ہوئی….
”او کے مس مانہ! آپ نے یہ شو کیوں جوائن کیا؟“
“To explore my curious side!”
”کٹ!“
گروپ لیڈر نے اونچی آوازمیں کہا اور پھر مانہ کی جانب دیکھتے ہوئے دھیمی آوازمیں بولا….
”کیا آپ اس سے بہتر جواب نہیں دے سکتیں؟“
اس قدر چکاچوندلائٹس کی بنا پر وہ ٹھیک سے کچھ دیکھ تک نہیں پا رہی تھی….
”کیا مجھے میرا چشمہ واپس مل سکتا ہے؟“
”بالکل نہیں…. کیمرہ میں چشمہ کا رزلٹ اچھانہیں آتا….“
”شو میں بھی مجھے چشمہ پہن کر ہی رکھنا ہے….“
”وہ آپ کی مرضی ہے…. انٹرویو کے دوران آپ چشمہ نہیں پہن سکتیں۔“
وہ جھلا ہی توگئی…. گروپ لیڈر کیمرہ مین کی جانب دیکھ کر بولا….”اوکے رول!“
اب کے وہ ایک بار پھر سے مانہ کی جانب دیکھتے ہوئے اسے مخاطب کیے ہوئے تھا….
”آپ ہمیں اپنے بارے میںکچھ بتائیں….“
تیز چکاچوند روشنی اس کی آنکھوں میں چبھتی محسوس ہو رہی تھی…. لمبی سانس کھینچتے ہوئے اس نے اپنا گلا کھنگارا اور ایک بار پھر سے اپنا غصہ کنٹرول کرتی وہ نہایت خشک لہجے میں گویا ہوئی….
”میرا نام مانہ ہے…. میں ایک لکھاری ہوں…. پین نیم بتانا ضروری نہیں سمجھتی…. میری عمر چوبیں سال ہے…. سنگل ہوں…. اور یقینا پاکستانی بھی ہوں…. بس؟“
ایک ہی سانس میں اپنا تعارف کرتی اب کے وہ گروپ لیڈر کی جانب دیکھنے لگی…. جو مسلسل اس کا روکھا رویہ اور بے وقوفیاں برداشت کیے اپنا غصہ کنٹرول کیے بیٹھا تھا….
”آپ ایک رائٹر ہیں؟ رائٹ؟“
وہ دانت پیستے ہوئے پوچھ رہا تھا….
”یس!“
بدستور اسی روکھے لہجے میں جواب دیا گیا….
”لیکن آپ کے لہجے اور حرکتوں سے لگتا نہیںکہ آپ ایک رائٹر ہیں….“
”کیا مطلب ہے آپ کا؟“
”آپ کو اتنا نہیں پتا کہ انٹرویو کس طرح دیا جاتا ہے؟“
”دے تو رہی ہوں انٹرویو!“
اس کی اس قدر زبان درازی پر وہ اپنا سر تھام کر رہ گیا…. شاید یہی وجہ تھی، وہ کسی سے اپنے رائٹر ہونے کی شناخت نہ کراتی…. کوئی اس پر یقین ہی نہ کرتا کہ وہ ایک رائٹر ہے اور اس قدر دلچسپ کہانیاں بھی لکھتی ہے…. سب لوگ اس کا مذاق اُڑاتے…. وہ کتنی بار دلبرداشتہ ہوئی تھی…. تبھی اس نے قسم کھائی کہ کبھی کسی کو اپنا مذاق اُڑانے کا موقع ہرگز نہ دے گی…. مگر انٹرویو میں یہ بتانا بھی ضروری تھا کہ پروفیشنلی وہ کرتی کیا ہے….
”اگر آپ رائٹرہیں بھی تو خود کو امیجین کر کے مت بولیے…. کچھ…. کچھ ایسا سوچ کر بولیے…. کچھ ایسا کہ جس سے لگے کہ آپ ایک زندہ دل لڑکی ہیں….“
چند ثانیے کی خاموشی کے بعد وہ اسے بچوں کی طرح سمجھانے لگا….
“OK!”
وہ بہت چڑچڑی سی ہو رہی تھی…. گروپ لیڈر کو جواب دیتے ہی وہ فوراً اپنے لب بھینچنے لگی….
”اوکے رول!“
کیمرہ مین کو اشارہ کرتا وہ ایک بار پھر سے اس سے مخاطب ہوا۔
”آپ اپنے بارے میںکچھ بتائیے؟“
”میرا نام مانہ ہے…. میں ایک لکھاری ہوں…. اور مجھے ایسا لگتا ہے کہ اس وقت یہاں اس چیئر پر بیٹھ کر ان تمام چبھتی لائٹس سے اپنا چہرہ جلانے کے بجائے مجھے کسی ایسی جگہ ہونا چاہیے تھاجہاں میں مکمل طور پر سکون کا سانس لے سکتی…. اور یہاں اس وقت اس چیئرپر بیٹھ کر یہ انٹرویو دیتے ہوئے مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے میں اپنی زندگی کا یہ لمحہ بیکار میں بربادکر رہی ہوں…. مجھے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہنا….“
ایک ہی سانس میں تیزی سے بولتی وہ جمپ لگائے اٹھ کھڑی ہوئی۔
”میرا چشمہ پلیز!“
لڑکی کے ہاتھوں سے اپنا چشمہ جھپٹتے ہی اس نے غصے سے اُبلتے گروپ لیڈر کی جانب دیکھا….
”اس قسم کا انٹرویو دیکھنے کے بعد لوگ اگر آپ کو بیوقوف یا فنی سمجھیں تو اس کا ذمہ آپ ہمیں ہرگز نہیں دیں گی….“
کس قدر کنٹرول کیے ہوئے تھا وہ شخص…. مانہ بدستور اپنے ہٹ دھرم اور روکھے لہجے میں جواباً بولی….
”کوئی بات نہیں….“
اس کی ہٹ دھرمی پر گروپ لیڈرکا دل چاہا کہ وہ اپنا سر پیٹ ڈالے۔ مگر ضبط کے سوا کچھ کر بھی نہ سکا….
“Let’s wrap up!QQ”
غصے سے پھنکارتا وہ اٹھا اور بجلی کی سی تیزی سے باہر نکل گیا…. باقی تمام ٹیم نے بھی جلدی سے اپنا سامان سمیٹتے ہی باہر کی راہ لی….
جاتے جاتے ایک لڑکی اپنی فائل سے ایک پیپر نکال کر مانہ کی جانب بڑھاتے ہوئے بولی….
”یہ ہمارے شو کے Bachelor کی پروفائل ہے…. آپ اپنا سامان پیک کر لیجیے…. کل صبح ہماری ٹیم کا ڈرائیور آپ کو پک کر لے گا۔“
”شیور!‘
وہ پیپر ہاتھ میں تھامتے ہی بے ساختہ بولی۔
تمام ٹیم جا چکی تھی…. مانہ نے سکون کی سانس لیتے ہوئے دروازہ اندر سے لاک کر دیا…. اب وہ دروازے سے ٹیک لگائے، آنکھیں موندے سکون کی گہری سانس لینے لگی تھی…. کچھ دیر یونہی کھڑے رہنے کے بعد وہ پیپر پر لکھی تحریر پر نظریں جمائے، اپنے قدم آگے کی جانب بڑھانے لگی۔
”الحان ابراہیم!“
پیپر کے ٹاپ پر لکھا نام منہ ہی منہ میں بڑبڑاتی وہ باقی کی تمام سطروں پر اپنی نظر دوڑاتی چلی گئی….
“The sole heir to Ibrahim Industries, the largest food enterprise in the country!”
تیوری چڑھائے وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑائے چلی جا رہی تھی….
”ایج 29، ہینڈسم پلے بوائے، مجھے ایک ایسی لڑکی کی تلاش ہے جو مجھے مکمل طور پر بدل ڈالے…. میری اچھی جیون ساتھی کی تلاش پوری دنیا کے سامنے….“
نفرت بھری آخری نگاہ پیپر پر دوڑاتی وہ زہرخند لہجے میں بولی….
”ہونہہ! بیکار، بکواس….“
رائٹر ہونے کے ناطے اسے لوگوں کو دیکھ کر انہیں پہچان لینے کی صلاحیت حاصل تھی….
”امیر لوگوں کی یہ لڑکی ذات کو ٹشو پیپر سمجھنے والی بگڑی اولادیں…. اب پوری دنیا کے سامنے، آن ایئر، لڑکی ذات کا تماشا بنائیں گی….“
زہرخند لہجے میں بولتی وہ پیپر کو مٹھی میں دبوچے، ڈسٹ بن کا نشانہ بناتی، پیر پٹختی، اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی….
ض……..ض……..ض
اگلی صبح وہ چھوٹے سے سوٹ کیس میں اپناایک جوڑا، ڈائری، پین اور ضرورت کی کچھ اشیاءرکھتی، جانے کے لیے تیار ہو بیٹھی تھی…. زرین، جو صبح صبح اسے الوداع کہنے کو آئی تھی، اس کی تیاری دیکھتے ہی منہ بسور کر بولی….
”تو تم نے اپنا فیصلہ نہیںبدلہ مانہ!“
”میں نے فیصلہ بدلنے کے لیے نہیں کیا تھا میری جان!“
وہ مصروف انداز میں جواباً بولی….
”تمہیں معلوم ہے ناں؟….“
”ہاں بابا جانتی ہوں، جانتی ہوں…. بہت اچھی طرح جانتی ہوں کہ کل آپ محترمہ کا برتھ ڈے ہے….“
مانہ نے دھیمے سے مسکراتے ہوئے اس کی ادھوری بات مکمل کر ڈالی۔
”پھربھی تم جا رہی ہو…. کتنی بُری بات ہے ناں! کیا کیا پلان بنائے تھے میں نے…. اور تم نے کتنی بے مروتی سے سب پر پانی پھیر دیا….“
زرین بدستور اپنی شکایت پر آمادہ تھی….
”زرین! تم تو ایسے ری ایکٹ کر رہی ہو جیسے میں نجانے کتنے عرصے کے لیے اس سٹوپڈ گیم شو کا حصہ بننے جا رہی ہوں….“
”اللہ جانے!…. تمہاری یہ ریسرچ صرف ایک دن کی ہے…. یا پھر….“
”بکواس نہیں کرو تم…. ایک دن کا مطلب صرف ایک ہی دن ہوتا ہے….“
”دیکھتے ہیں….“
”ڈونٹ وری! میں کل تمہارے ساتھ تمہاری برتھ ڈے سیلیبریٹ ضرور کروں گی…. پکے والا پرامس!“
”اور تمہیں یقینا آنا ہی ہو گا…. تم مجھے مایوس ہرگز نہیں کر سکتیں…. سمجھیں تم؟“
مانہ نے کچھ کہنے کو اپنے لب کھولے ہی تھے کہ گھر کی بجتی اطلاعی بیل ان دونوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا گئی…. گھڑی صبح کے آٹھ بجا رہی تھی…. گھڑی پر نظر دوڑاتی وہ لپک کر اپنے سوٹ کیس کی جانب بڑھی….
”فائن فائن…. میں کل ضرور آﺅں گی…. خوش؟…. ناﺅ شٹ اَپ، میری گاڑی آ گئی ہے…. “I have to go now.”
”اتنا چھوٹا سا سوٹ کیس لے کرجاﺅ گی؟“
زرین نے بیڈ پر رکھے اس چھوٹے سے سوٹ کیس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے حیرانگی کا اظہار کیا….
”ایک دن کے لیے یہ بھی بہت بڑا ہے….“
”ارے کیا تم اسی حلیہ میں جانے والی ہو؟“
زرین نے بیگی گرین شرٹ، ٹائٹ بلیک جینز اور بلیک سینڈل پہنے کھڑی اس عجیب و غریب لڑکی کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا….
”ہاں!…. کیوں؟“
”تم ٹی وی پر پوری دنیا کو دکھائی دینے والی ہو…. تھوڑی تو بن سنور کرجاﺅ لڑکی!“
”میں جیسی ہوں، ویسی ہی ٹھیک ہوں…. بناوٹی لوگ مجھے ہرگز پسند نہیں….“
وہ برجستہ بولی….
”جانتی ہوں…. خیر! بال تو کھول دو….“
زرین نے پونی ٹیل میں قید اس کے بالوں کی طرف اشارہ کیا….
”زرین! میرا سر مت کھاو…. اور اب پُھٹ لو اپنے گھر…. مجھے اپارٹمنٹ لاک کرنا ہے….“
”ہاں ہاں جا رہی ہوں…. نکالنے کی ضرورت نہیں….“
مانہ کھلکھلا کر مسکرا دی….
اپارٹمنٹ لاک کرتی وہ اپنے چھوٹے سے سوٹ کیس سمیت چینل کی گاڑی میں آ بیٹھی…. گھر سے ہینگر تک کا سفر اس نے بڑی خاموشی سے طے کیا…. گاڑی پارکنگ ایریا میں رُکتے ہی اسے دور سے رنگ و نور کا پھیلا سیلاب نظر آیا۔ تمام چوبیس لڑکیاں ایک سے بڑھ کر ایک برانڈڈ لباس میں ملبوس، بے پناہ خاموشی میں بھی چیخ چیخ کر کہتی دکھائی دے رہی تھیں کہ ”میں یہاں سب سے زیادہ خوبصورت ہوں۔“ ساتھ ہی ان تمام خوبصورت لڑکیوں کے ہیوج سائز سوٹ کیسز رکھے دکھائی دے رہے تھے…. ڈرائیور نے ڈگی سے اس کا چھوٹا سا سوٹ کیس باہر نکالا تھا…. تبھی وہ اسے مخاطب کرتے ہوئے پوچھنے لگی….
”ہم سب لوگ…. کہاں جانے والے ہیں؟“
”یہ تو عاشر صاحب ہی بہتر جانتے ہیں….“
ڈرائیور کے جواب پر وہ خاموش ہو رہی…. پھر ان لڑکیوں کے ہجوم کے نزدیک پہنچتے ہی اس نے ایک اچٹتی سی نگاہ ان تمام لڑکیوں کے سراپے پر دوڑائی…. کسی کے بال لمبے تھے تو کسی کے چھوٹے، کسی نے ایسٹرن ڈریسنگ کر رکھی تھی تو کسی نے ویسٹرن…. کوئی بہت پیاری تھی، اور کوئی بہت معمولی سی…. لیکن نخرے تو سبھی لڑکیوں کے آسمان کو چھوتے دکھائی دے رہے تھے…. ان انگریز، چائنیز، انڈین لڑکیوں میں دو مسلمان لڑکیاں بھی موجود تھیں…. مگر ان کا گیٹ اَپ بھی ان انگریز لڑکیوں سے کچھ کم دکھائی نہ دے رہا تھا…. سبھی لڑکیوں کے چہروں پر خوشی واضح طورپر عیاں تھی…. ان سب میں ایک مانہ ہی تھی جس کے چہرے پر خوشی کا نام و نشان تک دکھائی نہ دے رہا تھا…. وہ ان تمام لڑکیوں سے خاصے فاصلے پر جا کھڑی ہوئی…. ایک بڑے سے طیارے کے نزدیک ہی بہت سے کیمرے اور لائٹس سیٹ اَپ دکھائی دے رہے تھے….
”ویلکم لیڈیز!“
لڑکیوں پر فوکس کیمروں کے سامنے اب ایک ہینڈسم پرسنالٹی آ کھڑی ہوئی تھی….
”ویل لیڈیز! مائے نیم از خرم! اینڈ آئی ایم دی ہوسٹ آف دِز شو!“
ہوسٹ کے تعارف پر تمام لڑکیوں نے ایک ساتھ ہوٹنگ کی تھی…. مانہ کیمروں سے دور کھڑی ہر ہر فرد کا خاصی باریک بینی سے جائزہ لیتی دکھائی دے رہی تھی….
”آپ تمام حسینائیں یقینا حیران ہوں گی کہ ہم سب لوگ یہاں کیوں آئے ہیں؟“
مانہ کے سوا تمام حسینائیں ایک ساتھ اپنے سر اثبات میں ہلاتی دکھائی دی تھیں….
”ویل لیڈیز! ہم سب لوگ ہمارے Bachelor کے پرائیویٹ Island پر سٹے کرنے والے ہیں….“
“What?”
“Oh my God!”
“Wow!”
“Yes!”
“This is so exciting!”
تمام لڑکیاں الگ الگ انداز میں اپنی خوشی کا اظہار کرتی دکھائے دے رہی تھیں…. اتنی ساری آوازوں کے دھماکے سنتے ہی مانہ اپنے دونوں کان اپنے ہاتھوں سے ڈھانپ کر رہ گئی….
لڑکیوں کے خاموش ہوتے ہی خرم ایک بار پھر سے گویا ہوا تھا….
”مجھے یقینا اندازہ ہے کہ آپ تمام حسینائیں اس وقت بورڈنگ کے لیے کتنی ایکسائٹڈ ہیں…. اور اب میں آپ تمام حسیناﺅں کا مزید ٹائم ضائع کیے بغیر، ہمارے اس شو کے Bachelor الحان ابراہیم کویہاں انوائٹ کرنے جا رہا ہوں…. اینڈ دئیر ہی از!“
پُرجوش انداز میں وہ طیارے کی طرف اشارہ کرتا، تمام حسیناﺅں سمیت، الحان کے باہر آنے کا انتظار کرنے لگا…. طیارے کا دروازہ کھلتے ہی ایک دم سناٹا سا چھا گیا تھا…. اردگرد کا جائزہ لیتی مانہ بے پناہ خاموشی محسوس کرتی، ان تمام لڑکیوں کی نظروں کی ڈائریکشن کی جانب دیکھنے لگی تھی…. بلیک سوٹ بوٹ میں ملبوس وہ بربیتھ ٹیکنگ پرسنالٹی، ائیرفورس کے آفیسرز کے انداز میں طیارے کی سیڑھیاں پھلانگتا چلا جا رہا تھا…. مانہ کے علاوہ تمام لڑکیاں حسرت بھری نگاہوں سے اس خوبصورت شخصیت کے مالک الحان ابراہیم کی جانب ٹکر ٹکر تکے چلی جا رہی تھیں….
گھنے سیاہ سٹائلش کٹ بال، گرین آنکھیں، مردانہ خوبصورت ناک، خوبصورت چن، دودھیا رنگت، گلابی ہونٹ، چوڑے شانے اور لمبی ہائٹ…. ہر لحاظ سے ایک مکمل انسان تھا وہ…. لڑکیاں اسے اپنی جانب بڑھتے دیکھ کر دنگ رہ گئی تھیں…. تمام لڑکیوں کی توجہ پاتے ہی ایک شریر سی مسکراہٹ الحان کے لبوں پر آن ٹھہری تھی…. تھوڑے پراﺅڈ سے چلتا وہ ان لڑکیوں کے قریب تر چلا آ رہا تھا…. جہاں ہر لڑکی اسے پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھ رہی تھی، وہیں مانہ اس شخصیت کو نفرت بھری نگاہوں سے گھوررہی تھی….
”اوہ! تو یہ ہے وہ خودغرض انسان!“
وہ دل ہی دل میں ہمکلام ہوئی تھی….
”جو امیر پیدا ہو، اور امیر ہی اس دنیا سے رخصت ہو گا…. جو یہ سمجھتا ہے کہ اپنے پیسے کے بل پر وہ کچھ بھی کر سکتا ہے…. شادی کا اتنا ہی شوق تھا تو کوئی بھی لڑکی پسند کر کے دھوم دھام سے شادی کر سکتا تھا…. مگر نہیں…. ان امیر لوگوں کی شوبازی ہی اتنی اہم ہے…. پوری دنیا کے سامنے لائیو اپنی لائف پارٹنر چنے گا…. ہونہہ!“
وہ جیسے جیسے قریب آ رہا تھا…. ویسے ویسے مانہ کے دل میں اس کے لیے نفرت بڑھتی چلی جا رہی تھی….
”ان جیسے لوگوں کے لیے یہ پاکیزہ رشتے اہم کہاں ہوتے ہیں؟ اگر کچھ اہم ہوتا ہے تو صرف فاسٹ کارز، فائیو سٹار ہوٹلز، باڈی گارڈز، پارٹیز، خوبصورت ماڈل نما گرل فرینڈز، گولف کلبز اور پیسہ….“
وہ استہزائیہ انداز میں مسکرائی…. مانہ مایوس ہرگزنہ تھی…. آفٹرآل وہ اس شو میں الحان ابراہیم کا دل جیتنے ہرگز نہیں آئی تھی…. پھر وہ اسے دیکھ کر مایوس کیونکر ہوتی…. وہ و بس ان امیر لوگوں کے خوامخواہ کے نخروں،لاڈ بازیوں، شو آف اور خودغرضانہ حرکتوں سے تپی ہوئی تھی….
”ہیلو لیڈیز!“
وہ خرم کے برابر آ کھڑا ہوا…. خوبصورت مسکان لبوں پر سجائے وہ مسحور کن آوازمیں بولا تھا…. تمام لڑکیاں جو کھوئے کھوئے انداز میں اسے دیکھنے میں مصروف تھیں، اس کی آواز سماعت سے ٹکراتے ہی ایک دم ہوش میں آتے ہی ایک ساتھ بولیں….
”ہیلو!“
”ویل لیڈیز! فلائے کے دوران ہماری ٹیم الحان ابراہیم کو آپ تمام لیڈیز کے ریکارڈ کیے گئے تعارفی انٹرویوز دکھائے گی…. وہ تمام وڈیو کلپس دیکھنے کے بعد الحان آپ تمام لیڈیز سے الگ الگ ملاقات کریں گے…. اور پھر Island پہنچتے ہی اپنا فیصلہ سنائیں گے…. کہ آپ تمام لیڈیز میں سے وہ کون سی 15 خوش نصیب حسینائیں ہیں جو (ان لمحوں کے دامن میں) کا حصہ بنی رہیں گی اور کون سی دس حسینائیں باقی 15 حسیناﺅں اور الحان کو اس Island پر چھوڑ کر اسی Plane میں واپسی کے لیے روانہ ہو جائیں گی….“
“Awww…..”
خرم کی اطلاع پر تمام لڑکیوں نے ایک ساتھ اظہار افسوس کیا تھا۔ مانہ خرم کی ہر ہر بات اگنور کیے کیمروں کے پیچھے کھڑے تمام اسٹاف کی ہر ہر حرکت بڑی باریک بینی سے نوٹ کرتی دکھائی دے رہی تھی….
”سو لیڈیز! آل دی بیسٹ!“
الحان کے خوبصورت انداز نے ایک بارپھر سے گہرا تاثر چھوڑا تھا…. تمام لڑکیاں خوشی سے پھولی نہ سما رہی تھیں….
کیمرے آف ہوتے ہی الحان، خرم سمیت طیارے کی دوسری جانب بڑھ گیا تھا…. چینل کا اسٹاف، تمام لڑکیوں کے سوٹ کیسز اٹھائے طیارے میں لوڈ کرنے لگا تھا…. بورڈ ان کی تیاری شروع ہو چکی تھی…. مانہ نڈھال قدموں سے چلتی طیارے کے قریب جانے لگی ہی تھی کہ عقب سے اُبھرتی نسوانی آواز نے اسے چونکنے پر مجبور کر ڈالا….
”ہیلو!“
”ہیلو!“
ویسٹرن ڈریس میں ملبوس ایک خوبصورت حسینہ اسi کے پیچھے کھڑی مسکرا رہی تھی…. اپنے تراشیدہ خوبصورت بالوں کو ایک ادا سے جھٹکا دیتی وہ اپنے اسٹائلش انداز میں مخاطب ہوئی….
”میرا نام مسکان ہے…. اور آپ؟“
”مانہ!“
”نائس نیم!“
وہ تھوڑی دیر خاموش رہی اور پھر سے بولی….
”آر یو شیور؟ آپ اسی ڈریس میں شوٹ کرانے والی ہیں؟“
مسکان نے مانہ کے بے ڈھنگے لباس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پوچھا….
”یس! میں اسی ڈریس میں کمفرٹیبل ہوں….“
مانہ نے ایک سرسری سی نگاہ اپنے سراپے پر دوڑائی تھی….
”آپ کی گلاسزبہت اچھی ہیں…. آپ پر سوٹ بھی کر رہی ہیں۔“
مسکان نے مسکراتے ہوئے کہا تھا…. اب نجانے وہ واقعی اس کی تعریف کر رہی تھی یا پھر دبے لفظوں اس کا مذاق اُڑا رہی تھی….
”تھینکس!“
”آئی سائیڈ ویک ہے یا جسٹ فور فیشن؟“
”افکورس! آئی سائیڈ ویک ہے….“
”اوہ….! کیا زیادہ ویک ہے؟ آئی مین، گلاسز کے بغیر کچھ دکھائی دیتا ہے؟“
”تھوڑا بہت….“
”اوہ…. بائے دی وے…. آپ کی الحان کے بارے میں کیا رائے ہے؟“
”اچھا ہے….“
”اچھا نہیں، بہت اچھا ہے…. ہوٹ، ہینڈسم! کیا پرسنالٹی ہے۔ آئی ہوپ ٹو گیٹ تو نو ہِم مور!“
مسکان کی دیوانگی پر وہ صرف مسکرا کر رہ گئی تھی….
”سو! اپنے آڈیشن کے بارے میں کچھ بتاﺅ….“
”میں….“
اس سے پہلے کہ مانہ کچھ بھی جواباً کہتی، چینل کے سٹاف نے ہاتھ کے اشارے سے ان دونوں کو اپنی جانب مبذول کرا لیا تھا….
”میڈم! ہمارے پاس زیادہ ٹائم نہیں ہے…. آپ پلیز آ جایئے….“
اگلے چند منٹوں میں شو کی تمام ٹیم طیارے میں سوار ہو چکی تھی…. طیارے کے پرواز ہوتے ہی خرم ایک بار پھر سے پچیس لڑکیوں کے سامنے آن وارد ہوا تھا….
”سو! ہاﺅ آر یو آل فیلنگ؟“
”ایکسائیٹڈ!“
تمام لڑکیوں کی یک آواز اُبھری….
”تین گھنٹوں کی اس پرواز کے دوران الحان آپ تمام لیڈیز کے ساتھ الگ الگ پرائیویٹ ٹائم سپینڈکریں گے…. سو، آل دی بیسٹ لیڈیز!“
”تھینکس!“
خرم کے جاتے ہی تمام لڑکیاں خوفزدہ دکھائی دینے لگی تھیں۔ وہ تمام کی تمام منہ لٹکائے لب بھینچنے لگی تھیں…. مایوسی اور خوف کی اک لہر سی تھی جو ہر لڑکی کے چہرے پر صاف ناچتی دکھائی دے رہی تھی….
”یہ لڑکیاں تو اس طرح ری ایکٹ کر رہی ہیں جیسے انہیں معلوم ہی نہ تھا کہ آج ہی ایلیمنیشن بھی ہونے والی ہے….“
مانہ نے تعجب سے سوچتے ہوئے سیٹ کی پشت سے ٹیک لگاتے ہی پُرسکون انداز میں آنکھیں موند لیں….
ض……..ض……..ض
“You ready?”
خرم نے الحان کے پرائیویٹ روم میں داخل ہوتے ہی پوچھا…. ایک کیمرہ مین کیمرہ تھامے خرم کے ساتھ ہی الحان کے پرائیویٹ روم میں داخل ہوا تھا…. وہ جو، اب سوٹ بوٹ چینج کیے، بلیک پولو شرٹ اور خاکی پینٹ میں ملبوس لیدر صوفہ پر ابھی ابھی براجمان ہوا تھا، خرم کی جانب دیکھتے ہوئے اپنی قاتلانہ مسکراہٹ لبوںپر سجائے اپنے ہی اندازمیںجواباً بولا….
“I guess so…..!”
” OK تمام لیڈیز کی انٹروڈکٹو وڈیو کلپس دکھانے سے پہلے…. “Let me ask you 1 question!”
“Sure!”
الحان اب کے اپنے دونوں بازو فولڈ کیے لیدر صوفہ کی پشت سے ٹیک لگا بیٹھا تھا….
”ان لمحوں کے دامن میں“ آنے کا فیصلہ کیسے کیا آپ نے؟“
”ویل!…. میں نے اپنی زندگی میں بہت فن کیا ہے…. اور اس فن کے لیے گمراہ بھی رہا ہوں….“
خرم، الحان کے جواب پر دھیمے سے مسکرا دیا…. الحان نے بھی مسکراتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی….
”…. I don’t know کیسے، مگر ایک دن اچانک سے خیال آیا کہ بس یار بہت ہوا…. اب بس…. “So, here I’m!
”Ok!، آپ کو کیا لگتا ہے کہ باہر بیٹھی تمام لیڈیز میں سے کوئی ایک لیڈی ایسی ہے؟…. جو آپ کے معیار پر پوری اتر کر آپ کی جیون ساتھی بن سکے؟“
خرم نے دوسرا سوال پوچھا….
”میں یقینا چاہتا ہوں کہ ان تمام لیڈیز میں سے کوئی ایک لیڈی ایسی لازمی ہو جو مجھے میرے گھٹنوں پر گرنے پر مجبور کر دے!“
وہ اپنے ہی دئیے گئے جواب پر، پاگلوں کی طرح ہنسنے کو بے چین تھا…. مگر وہ چاہ کر بھی ایسی کوئی حرکت کر نہیں سکتا تھا…. کیونکہ وہ جانتا تھا کہ شوٹنگ کے دوران کسی بھی قسم کی کوئی بھی کوتاہی،اس کے لیے کس قدر نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے….
”Ok، یہ رہا ریموٹ، جسٹ پلے…. ہم چاہتے ہیں کہ تمام لیڈیز سے ملاقات سے پہلے آپ ان کے بارے میں تھوڑا سا جان لیں…. Enjoy and good luck!“
“Thanks Man!”
خرم کے واپس باہر جاتے ہی الحان نے ریموٹ آگے بڑھا کر پلے کا بٹن دبا دیا…. کیمرہ مین اپنی جگہ کھڑا، شوٹ کرنے میں مصروف تھا…. بلیک ٹی وی سکرین پر اب تمام پچیس لیڈیز کے فیسز نمودار ہو چکے تھے…. فیسز کے ساتھ ہی ان کے نام اور ایجز بھی مکمل دکھائی دے رہی تھیں….وڈیو کلپس اپنے آپ پلے ہونے لگے تھے…. پہلی وڈیو، ایک بہت ہی خوبصورت ماڈل ٹائپ لڑکی کی تھی۔ خوبصورت، گھنے، لمبے، سلکی بال، بلیو آنکھیں، ستواںناک، لمبی ہائٹ، دمکتی رنگت کی وہ انگریز لڑکی بالکل الحان کے ٹائپ کی ہی تھی۔
”Hi!، میرا نام آشلے ہے، آئی ایم 23، حال ہی میں ماڈلنگ سے اپنا کیرئیر سٹارٹ کیا ہے…. میں اس شو میں اس لیے آئی ہوں کیونکہ م مجھے سچے پیار کی تلاش ہے…. اینڈ آئی لَو فن، فن اینڈ مور فن!“
اس لڑکی نے انگلش میں اپنا تعارف کرایا تھا…. الحان، جو پہلی ہی نظر میںاس کا دیوانہ دکھائی دے رہا تھا…. دل ہی دل میں ہمکلام ہوا….
”فن! یس…. I love fun too!….“
دوسری وڈیو سٹارٹ ہوتے ہی ایک اور برٹش حسینہ سکرین پر نمودار ہوئی تھی….
”میرا نام سحر ہے…. آئی ایم 28…. ایڈ ایجنسی میں کام کرتی ہوں…. یقینا ایک اچھی جیون ساتھی ثابت ہوں گی….“
وہ دبے ہونٹوں اندرہی اندر ہنس دیا….
”لگتا ہے…. کافی مزہ آنے والا ہے اس شو میں….“
اس نے دل ہی دل میں سوچا….
ایک کے بعد ایک…. تمام وڈیو کلپس پلے ہوتے چلے گئے….
کچھ لڑکیاں یقینا اسی کے ٹائپ کی تھیں…. کچھ بس ٹھیک ہی تھیں اور کچھ نہایت ہی بے وقوف….
”یار! ان سب کے نام کیسے یاد رکھوں گا؟“
وہ من ہی من میں خود سے ہمکلام ہوا تھا….
لگاتار پلے ہوتی 24 وڈیوز کے بعد سکرین بلیک ہوتے ہی ایک عجیب و غریب وڈیو، سکرین پر نمودار ہوئی….
وہ لڑکی بلائنڈلی، سکرین کی جانب گھورے چلی جا رہی تھی…. الحان خاصا حیران ہوا تھا…. کیونکہ وہ اچھی طرح سے جانتا تھا کہ عورت ذات اور میک اَپ کا رشتہ کس قدر گہرا ہوتا ہے…. مگر سکرین پر نظر آتی اس عجیب و غریب لڑکی نے تو میک اَپ کو غالباً چھونا بھی گوارہ نہ سمجھا تھا….
”اوکے مس مانہ! آپ نے یہ شو کیوں جوائن کیا؟“
مردانہ آواز سنائی دی تھی…. الحان ایک بار پھر سے چونکا…. اب تک کی تمام وڈیوز میں تمام لیڈیز ڈائریکٹ اپناانٹرویو دیتی دکھائی دی تھیں…. یعنی ان تمام لیڈیز کی وڈیوز ایڈٹ کی گئی تھیں….
…. مگر اس لڑکی کی وڈیو کسی نے ایڈٹ کرنا ضروری ہی نہ سمجھی تھی….
“To explore my curious side!”
اس لڑکی نے خشک مزاجی سے جواب دیا تھا…. اس کے جواب پر الحان حیران کن نگاہوں سے کیمرہ مین کی جانب دیکھنے لگا، جو کہ خود حیرانگی کا مجسمہ بنا سکرین پر اپنی نظریں گاڑھے کھڑا تھا….
”میرا نام مانہ ہے…. میں ایک لکھاری ہوں…. پین نیم بتانا ضروری نہیں سمجھتی…. میری عمر چوبیں سال ہے…. سنگل ہوں…. اور یقینا پاکستانی بھی ہوں…. بس؟“
سکرین ایک دم سے بلینک ہو گئی…. الحان کا دل چاہا کہ ہاتھ میں پکڑا ریموٹ کھینچ کر ٹی وی سکرین پر دے مارے…. کس قدر بکواس انٹرویو ریکارڈ کرایا گیا تھا….
”یہ وڈیو ایڈٹ….“
اس سے پہلے کہ وہ اپنی بات مکمل کرتا…. وہ لڑکی ایک بار پھر سے ٹی وی سکرین پر آن وارد ہوئی تھی….
”میرا نام مانہ ہے…. میں ایک لکھاری ہوں…. اور مجھے ایسا لگتا ہے کہ اس وقت یہاں اس چیئر پر بیٹھ کر ان تمام چبھتی لائٹس سے اپنا چہرہ جلانے کے بجائے مجھے کسی ایسی جگہ ہونا چاہیے تھا…. جہاں میں مکمل طور پر سکون کا سانس لے سکتی…. اور یہاں اس وقت اس چیئر پر بیٹھ کر یہ انٹرویو دیتے ہوئے مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے میں اپنی زندگی کا یہ لمحہ بیکار میں برباد کر رہی ہوں…. مجھے اس کے علاوہ کچھ نہیں کہنا….“
سکرین ایک بار پھر سے بلینک ہوچکی تھی…. الحان چند ثانیے خاموش بیٹھا بلینک سکرین کی جانب تکتا رہا…. اگلے ہی پل، شو کے بلنک ہوتے لوگو نے واضح طورپر لاسٹ وڈیو کلپ کے اختتام کا اعلان کر ڈالا تھا…. لوگو بلنک ہوتے ہی خرم بجلی کی سی تیزی سے روم میں داخل ہوا تھا….
”So ، کیسا رہا؟“
خرم نے آتے ہی پوچھا…. الحان مسلسل حیرانگی کا شکار تھا….
”یہ …. لاسٹ وڈیو کے ساتھ کیا مسئلہ تھا یار؟“
”وہ…. رائٹر والی وڈیو؟“
الحان نے جواباً اثبات میں سرہلا دیا….
”وہ وڈیو بہت ہی افراتفری میں بنی تھی…. ایڈٹ کرنے کا ٹائم نہیں تھا…. خیر! یو ڈونٹ وری…. شو کے آن ایئر جانے پر وہ وڈیو ایڈٹ کر دی جائے گی…. فلحال میرے دوست تمہیں یہ فیصلہ لینا ہے کہ ان تمام پچیس حسیناﺅں میں سے وہ کون سی حسینائیں ہیں جو تمہارا دل جیتنے میں کامیاب ہوئی ہیں….“
خرم نے ہاتھ میں پکڑا ایک سفید پیپر الحان کی جانب بڑھایا تھا….
”یہ ان تمام حسیناﺅں کی نیم لسٹ ہے…. جو ابھی One by one آ کر تم سے چٹ چیٹ کریں گی…. یہ لسٹ اس لیے بنوائی کیونکہ آئی ایم شیور دوست کہ ایک ساتھ اتنی ساری حسیناﺅں کے نام یاد رکھنا بہت مشکل کام ہے….“
خرم کے ساتھ ساتھ الحان نے بھی قہقہہ لگایا تھا….
”تھینکس یار!“
الحان نے پیپر ہاتھ میں تھامتے ہی اک سرسری سی نگاہ اس پر دوڑائی تھی….
”تمہیں آفٹر چٹ چیٹ، اس نیم لسٹ میں موجود پندرہ لڑکیوں کو ٹاپ 15 کے لیے سلیکٹ اور دس لڑکیوں کو آج ہی واپس ان کے گھروں کی روانگی کے لیے ریجیکٹ کرنا ہے….‘
خرم کی ڈیٹیل بتانے پر اس نے ایک بار پھر سے اثبات میں سر ہلا دیا….
”کافی مشکل کام ہے یار!“
اس نے ایک لمبی سانس کھینچی تھی…. خرم دھیمے سے مسکرا دیا تھا۔
”مشکل تو ہے…. پر کرنا تو ہے….“
”یس….!“
”آل دی بیسٹ….“
“Yup!”
خرم واپس جا چکا تھا…. جبکہ الحان نیم لسٹ پر نظر دوڑاتے ہوئے صوفے کی پشت سے ٹیک لگا بیٹھاتھا…. کیمرہ مین مسلسل اس کے سر پر وارد، اس کا یہاں بیتایا ہر اک پل اپنے کیمرے میں قید کیے چلا جا رہا تھا…. الحان نے گہری لمبی سانس کھینچی….
”آشلے…. آئی لائیک ہر…. اسے شو کے اینڈ تک ایلمنیٹ نہیں کروں گا….“
اس نے دل ہی دل میں فیصلہ کر ڈالا تھا….
ایک کے بعد ایک تمام لڑکیوں کے ناموں پر نظر دوڑاتے ہوئے آخر میں اس کی نگاہیں پچیسویں نمبر والی لڑکی کے نام پر آ ٹکی تھی….
”مانہ!“
اس بار وہ زیر لب بڑبڑایا تھا….
ض……..ض……..ض
اپنا نام پکارے جانے پر آشلے، اِتراتی، بل کھاتی، الحان کے پرائیویٹ روم میں داخل ہوئی تھی…. جبکہ بقیہ تمام لڑکیاں تفکرانہ انداز میں اپنے اپنے بیگز ٹٹول کر میک اَپ درست کرتی دکھائی دے رہی تھیں….
”کیا تم مجھے میرانام پکارے جانے پر جگا دو گی؟“
مانہ سیٹ کی پشت سے ٹیک لگائے بڑے اطمینان سے پوچھ رہی تھی….
“OK!”
مسکان نے اپنا میک اَپ درست کرتے ہوئے مصروف انداز میں جواباً کہا تھا….اور پھر مانہ سیٹ کی پشت سے ٹیک لگائے، آنکھیں موندے، دنیا جہان سے بے خبر، نیند کی وادیوں میں گم تھی کہ اچانک اسے ایک جھٹکے کااحساس ہوا وہ ہڑبڑاتی ہوئی سیدھی ہو بیٹھی….
”اٹھ جاﺅ یار! تمہارا نمبر ہے…. اوہ مائے گاڈ! کیا پرسنالٹی ہے الحان ابراہیم۔ “You are going to love him”.
مسکان خاصی ایکسائیٹڈ دکھائی دے رہی تھی….
مانہ نیند سے بوجھل پلکیں جھپکاتی، اردگرد کا جائزہ لینے لگی تھی۔ آس پاس بیٹھی تمام لڑکیوں کی گھورتی نگاہوں میں اس نے خود کے لیے ناپسندیدگی واضح طور پر محسوس کر لی تھی۔
”مانہ! آپ میرے ساتھ آ جائیے….“
ایک چالیس سالہ سوبر سی خاتون، جو اپنے گلے میں نیم ٹیگ پہنے،مسکان کے پیچھے پیچھے چلی آئی تھی۔مانہ کو مخاطب کرتے ہوئے نہایت دھیمے لہجے میں بولی…. مانہ جواباً اثبات میں سر ہلاتی اٹھ کھڑی ہوئی….
’تمہارے بال خراب ہو رہے ہیں….“
مسکان نے اس کے بکھرے بالوں کی جانب اشارہ کیا تھا….
”کوئی بات نہیں….“
وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑاتی،ان خاتون (فاطمہ) کے تعاقب میں چلتی، الحان کے پرائیویٹ روم کے دروازے تک آن پہنچی…. فاطمہ نے دروازے تک پہنچتے ہی ہاتھ کے اشارے سے اسے اندر جانے کو کہا تھا…. وہ اک سرسری سی نگاہ فاطمہ پر دوڑاتی، بنا دستک دئیے، دروازے کا ہینڈل گھماتی، اندر داخل ہو گئی….
”ہیلو مانہ!“
الحان نے اسے اندر داخل ہوتے دیکھ کر لبوں پر خوبصورت مسکان سجائے، شیریں لہجے میں اسے مخاطب کیا تھا….
مانہ بنا جواب دئیے، کیمرہ مین پر نگاہیں دوڑاتی، اب کے لیدر صوفہ پر بڑے غرور سے براجمان، پولو بلیک شرٹ سلیو کوہنیوں تک اوپر کیے، اپنی ہی جانب گھورتے اس شخص کی جانب دیکھنے لگی تھی….
”میں کہاں بیٹھوں؟“
چھوٹے سے خوبصورت روم میں نظریں دوڑاتی وہ نہایت ہی روکھے لہجے میں گویا ہوئی تھی….
”اوہ آئی ایم سوری! پلیز بیٹھیے….“
الحان نے معذرت طلب نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے اپنے سامنے رکھی چھوٹی سی کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا….
اجازت ملتے ہی وہ جھٹ سامنے پڑی کرسی پر براجمان ہو گئی…. صوفہ کی پشت سے ٹیک لگاتا وہ اپنے سامنے بیٹھی اس نمونہ لڑکی کا سرتا پا،جائزہ لینے لگا….
”مجھے نہیں معلوم تھا کہ آپ نظر کا چشمہ لگاتی ہیں….“
”نظر کا چشمہ پہننا کوئی گناہ تو نہیں….“
وہ اپنے ہٹیلے اندازمیںجواباً بولی…. الحان ایک دم مسکرا دیا….
”نہیں نہیں…. میرا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا…. میں نے صرف اس لیے پوچھا…. کیونکہ انٹرویو وڈیو میں آپ نے یہ چشمہ نہیں پہن رکھا تھا۔“
وہ پوچھتے ہوئے ایک دم سیدھا ہو بیٹھا….
”کیونکہ ٹیم نے مجھ سے میرا چشمہ چھین لیا تھا….“
روکھے انداز میں جواب دیتی وہ نظریں گھما کر پورے کمرے کا جائزہ لینے لگی…. الحان ایک بار پھر سے صوفہ کی پشت سے ٹیک لگا بیٹھا تھا…. مانہ ایک ہی نظر میں پورے کمرے کا جائزہ لے لینا چاہتی تھی…. آخرکار اسے اس کمرے کی ڈیٹیل اپنے ناول میں جو لکھنی تھی….
”اس نمونے کے ساتھ آخر مسئلہ کیا ہے؟…. ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے یہ محترمہ اس شو میں رہنے کے لیے انٹرسٹڈ ہی نہیں….“
بغور اس کا جائزہ لیتا، وہ دل ہی دل میں ہمکلام ہوا تھا…. سچ ہی تو سوچا تھا اس نے…. وہ کہاں رہنا چاہتی تھی اس شو میں…. اسے تو واپس گھر لوٹنے کی جلدی تھی….
الحان اک لمحہ کے لیے لاجواب ہو بیٹھا تھا…. یہ زندگی میں پہلی بارتھا کہ وہ کسی لڑکی سے بات کرتے ہوئے جھجک رہا تھا…. چند ثانیے کی خاموشی کے بعد بالآخر وہ گلہ کھنگارتے ہوئے اس کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرنے لگا…. اگلے ہی پل مانہ اس کی جانب دیکھنے لگی….کس قدر خوبصورت آنکھیں تھیں اس کی…. الحان نے محسوس کیا…. لیکن وہ موٹے شیشوں والا کالا چشمہ کس قدر بدنما لگ رہا تھا…. الحان کا دل چاہا کہ وہ اس کا چشمہ کھینچ کر اپنے ہاتھوں میں جکڑ کر توڑ ڈالے اور پھر براہ راست اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے اس سے بات کرے….اسے ایسا محسوس ہوا جیسے اس کی خوبصورت آنکھیں باہر بیٹھی تمام لڑکیوں سے بالکل مختلف اور نہایت ہی خوبصورت تھیں…. لیکن باہر بیٹھی تمام لڑکیوں کی طرح اس کی آنکھوں میں الحان کے لیے پسندیدگی ہر گز نہ تھی…. اسے تعجب ہوا….
“So?”
الحان نے ایک بار پھر سے گلا کھنگارا….
”جی؟“
”آپ لکھاری ہیں…. رائٹر؟“
”یس!“
”کیا لکھتی ہیں آپ؟“
”ناولز!“
”کیئر ٹو شیئر؟“
”نو!“
نہایت ہی بے رُخی سے جواب دیا گیا…. الحان اک لمحہ کو حیران ہوا اور اگلے ہی پل دھیمے سے مسکرا دیا….
”ہوں…. ویل!کوئی بات نہیں….“
اس نے لمبی سانس کھینچی اور ایک بار پھر سے مخاطب ہوا….
”ہمارے پاس کافی ٹائم ہے…. اک دوجے کو جاننے کے لیے ….“
”کیا مطلب؟“
وہ چونکی….
”یہ شو کب تک چلنے والا ہے؟…. دو سے تین ماہ تک؟…. رائٹ؟…. سو…. ہمارے پاس کافی ٹائم ہے…. انفیکٹ میرے پاس کافی ٹائم ہے آپ کے اس سیکریٹ کام کے بارے میں جاننے کے لیے….“
”آپ مجھے ٹاپ 15 میں رکھنے کا ارادہ نہیں رکھتے…. رائٹ؟“
نجانے وہ پوچھ رہی تھی یا باور کرا رہی تھی…. وہ سمجھا نہیں…. دھیمے سے مسکرایا اور اپنے اندازمیں پوچھنے لگا….
”کیوں نہیں؟…. آپ کی پرسنالٹی کافی انٹرسٹنگ ہے….“
اس کے جواب پر وہ ششدر رہ گئی…. اور الحان کا دل چاہا کہ وہ دل کھول کرابھی اسی وقت اک زوردار قہقہہ لگا دے…. بمشکل اس نے خود کو اپنی اس حرکت سے باز رکھا…. مانہ کے چہرے کے تاثرات واضح طور پر بدلتے دکھائی دئیے تھے…. الحان تیوری چڑھا کر رہ گیا…. اسی پل مانہ نے کیمرہ مین کی جانب دیکھتے ہی اپنا سر تھوڑا آگے بڑھایا اور اشارے سے اسے بھی تھوڑا آگے جھکنے کو کہا…. تجسس کے عالم میں وہ اسکی جانب دیکھتا تھوڑا آگے جھک بیٹھا….اتنا کہ ان دونوں کے سروں کے درمیان صرف ایک انچ کا فاصلہ رہ گیا….

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Mohabbat Ki Paidaish Drama by Sadat Hassan Manto – Read Online – Episode 2

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: