In Lamhon K Daman Main Novel By Mubashra Ansari – Episode 6

0

ان لمحوں کے دامن میں – قسط نمبر 6

–**–**–

چکاچوند روشنی میںیکایک قدموں کی چاپ گونجنے لگی…. خوبصورت مخملی پیر نظر آنے لگے….ننگے تنہا پیر، خوبصورت سی پائل میں قید اجنبی راستے کی جانب سے دوڑتے اسے اپنی جانب بڑھتے دکھائی دینے لگے…. وہ پیروں سے اوپر نظر اٹھانے لگا کہ کسی نے اس کو جھنجھوڑ کر چونکا دیا…. اس کے کانوںنے سنا….
”الحان…. الحان…. تم ٹھیک ہو؟…. الحان!“
اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا، چہرے پر بے پناہ پریشانی سجائے بیٹھی مانہ اسی کی جانب دیکھ رہی تہی…. اس کے گلابی ہونٹ کانپ رہے تھے…. اسے لگا کہ شاید وہ کسی خواب میں گم ہے…. الحان نے اپنی آنکھیں پھر سے بند کر لیں…. پھر کھولیں اور منہ پھیر کر مانہ کے بیگ کی جانب دیکھنے لگا…. وہ حیرانگی سے اس کے بیگ کی جانب تکنے لگا…. پھر اس نے نظریں لوٹائیں اور مانہ کے پریشان چہرے پر گاڑھ دیں….
”آر یُو اوکے؟“
بنا جواب دئیے وہ خاموشی سے اس کے چہرے کی جانب دیکھتا رہا…. مانہ اس کی نظروں کی تاب نہ لا سکی…. اس کی آنکھیں جھپک جھپک گئیں….
”یس! آئی ایم فائن!“
اس کی آواز میں کپکپی واضح طور پر عیاں تھی…. اگلے ہی پل اس نے مانہ کی نازک، نرم اور مخملی سی ہتھیلی اپنی پیشانی پر محسوس کی تھی….
”کتنا جھوٹ بولتے ہیں آپ…. بخار میںتپ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ٹھیک ہیں؟“
”آپ؟“
وہ بیماری کی حالت میں بھی اپنی حرکتوں سے باز نہیں آ رہا تھا….
”عزت راس نہیں شاید آپ کو!“
وہ پھر سے بھڑکنے لگی…. الحان اس کے بھڑکنے پرایک دم مسکرا دیا….
”کبھی اتنی عزت دیتی ہو…. کبھی ذلیل کر کے رکھ دیتی ہو…. بہت عجیب سی مخلوق ہو تم….“
”بس ایسی ہی ہوں….“
”ایسی ہی ہو…. جانتا ہوں…. اس لیے تو اس قدر پسندہو….“
”اچھا بس…. پھر سے ڈرامہ شروع کرنے کی ضرورت نہیں….“
”میں سچ کہہ رہا ہوں….“
”اوکے فائن!….“
وہ اس کی باتوں کو مکمل طور پر نظرانداز کرتی اپنے شولڈرز کے گرد پھیلی ویلوٹ کی خوبصورت بلیک شال اُتارنے لگی….
”اس کی ضرورت نہیں ہے مانو!…. میں ٹھیک ہو جاﺅں گا….“
وہ اک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا تھا…. مانہ نے وہ شال اس کے گرد لپیٹ دی تھی….
”بالکل خاموش بیٹھے رہیں گے آپ، سمجھے…. بخار سے تپ رہے ہیں جناب اور مزید ڈرامے سوجھ رہے ہیں انہیں…. میرے بیگ میں دوا ہے….“
وہ بیگ اٹھاکر ٹٹولنے لگی…. اگلے ہی پل وہ ایک ہاتھ میں ٹیبلیٹ اور دوسرے ہاتھ میںپانی کی بوتل پکڑے اس کی جانب بڑھاتی حکمرانہ انداز میں بولی….
”اسے کھائیں….“
الحان خاموشی سے اس کے حکم کی تعمیل کرنے لگا…. وہ خود حیران تھا کہ ایک دم سے بیمار کیسے پڑ گیا….
”بہت شوق تھا ناں بیمار ہونے کا…. دیکھ لیا…. اسے کہتے ہیں کارمہ….“
وہ ٹونٹ کر رہی تھی….
”ویل!…. اس بار سچ میں بیمار ہوں….“
وہ دھیمے سے بولتا مسکرا دیا….
”کارمہ بولتے ہیں اسے الحان ابراہیم صاحب!“
وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتی گھورتی نگاہوں سے اس کی جانب دیکھنے لگی…. الحان اس کی خشک مزاجی پر خاموش ہو رہا….
”خیر!…. اب آپ آرام کیجیے….“
”تم چاہو تو میرے ساتھ یہ شال شیئر کر سکتی ہو….“
چاندکی مدھم نیلی روشنی میں مانہ کا تپتا چہرہ اور شعلہ بھڑکاتی نگاہیں دیکھتے ہی وہ اگلے پل سرزنش کرتے ہوئے بولا….
”اوکے…. میں ریسٹ کرتا ہوں….“
وہ جلدی سے لیٹ گیا….
ض……..ض……..ض
دوا نے اپنا کام کر دکھایا تھا…. الحان گہری پُرسکون نیند سو رہا تھا…. مانہ، الحان کی پیشانی اپنی نرم و نازک ہتھیلی سے چیک کرنے لگی تھی…. بخار پہلے کی بہ نسبت قدرے کم ہوتا محسوس ہوا تھا…. مانہ سکون کا سانس لیتی الحان کے بغل میں اپنے بیگ کے قریب سیدھی لیٹ گئی تھی…. چہرہ وسیع آسمان کی جانب کیے وہ خوبصورت آسمان پر اُمڈتے ٹمٹماتے تاروں کی بارات کی جانب دیکھنے لگی…. چاند کی نیلی مدھم روشنی ان دونوں کے چہروں کو منور کیے دے رہی تھی….
”ہر انسان ہر دوسرے انسان سے متاثر ہوتا رہتا ہے…. ایک انسان دوسرے کے پاس سے خاموشی سے گزر جائے تو بھی اپنی تاثیر چھوڑ جاتا ہے…. انسان دوسرے انسان کے لیے محبت، نفرت اور خوف پیدا کرتے ہی رہتے ہیں….“
لمبی سانس کھینچتی وہ ہنوز وسیع آسمان کا نظارہ کرتی دل ہی دل میں محو گفتگو تھی….
”ایسا بھی تو ہوتا ہے…. کہ انسان صرف نظر ملا کے دوسرے انسان کے مسائل حل کر دے…. اسے باشعور کر دے…. اپنے قریب آنے والے، پاس سے گزرنے والے اور نگاہوں میں رہنے والے انسانوں سے انسان بہت کچھ حاصل کرتا ہے…. مگر خاموشی کے ساتھ….“
اگلے ہی پل وہ دھیرے سے کروٹ لیتی اپنے بغل میں دنیا جہاں سے بے خبر سوئے الحان کی جانب دیکھنے لگی….
”آرزو کا پیدا ہونا فطری بات ہے….“
وہ سوچتے سوچتے بغوراس کے چہرے کا جائزہ لینے لگی تھی….
”اور انسانوں میں آرزوئیںپیدا ہوتی ہی رہتی ہیں…. کوئی آرزو،شکستِ آرزو تک کا سفر کرتی ہے…. کوئی آرزو انسان کو بے نیاز آرزو کر دیتی ہے، کوئی آرزو اسے بکو پھراتی ہے…. کوئی آرزو اس کو اپنی ذات کے روبرو لاتی ہے اور کبھی کوئی آرزو اسے خوش قسمتی سے سرخرو کر دیتی ہے….“
وہ ایک لمحہ کو اپنی سوچوں کو بریک لگاتی لب بھینچتی پھر سے آسمان کی جانب چہرہ کیے سیدھی ہو لیٹی تھی…. نظروں کا محور اس بار بھی ننھے منے سے ٹمٹماتے تارے تھے….
”کون سی آرزو کیا کرتی ہے….اس کا علم انسان کو اچھی طرح سے ہونا بہت ضروری ہے…. ورنہ آرزو، جگر کا لہو بن کر خون کے آنسو بن جایا کرتی ہے….“
بالوںکو بینڈ سے آزاد کرتی وہ اپنے لمبے گھنے بال بائی جانب کے شولڈر پر بکھیرتی،ہنوز دور اُفق کی جانب تکتی پُرسوچ انداز میں لب بھینچنے لگی….
”ٹاپ (4)….“
وہ اپنی نرم و نازک انگلیاں اپنے گھنے بالوں میں پھنسائے فیصلہ کن اندازمیں زیرلب بڑبڑائی….
”ٹاپ (4) بہت دور ہے…. تب تک میںاس کی نوٹنکیاں کیسے برداشت کروں گی؟…. مجھے کچھ نہ کچھ ایسا ضرور کرنا ہو گا کہ جس کی بنا پر یہ نواب صاحب مجھ سے تنگ آ کر مجھے میری جاب سمیت واپس گھر کے لیے روانہ کر دے….“
وہ نظریں گھما کر بے خبر سوئے الحان کی جانب دیکھتی ایک بار پھر سے دور اُفق کی جانب تکنے لگی…. چند ثانیے یونہی دور اُفق کی جانب تکتے رہنے کے بعد ایک ٹھوس اور پُراثر آئیڈیا ذہن کی دیواروں سے ٹکراتے ہی وہ کھلکھلا کر مسکرا اٹھی….
”یس!…. یہی بیسٹ آئیڈیا ہے….“
مسکراتے ہوئے لب دانتوں تلے بھینچتی وہ کروٹ بدلے الحان کی جانب دیکھنے لگی….
ض……..ض……..ض
قدآور درختوں پر اور ان کے درمیان کی زمین پر دھندلکے ابھی محوخواب تھے…. سورج کی کرنوں کی چاپ نے انہیں جگا دیا…. انہوں نے انگڑائی لی…. ان کے چہرے تمتمائے…. انہوں نے کرنوں کے مقابلے میں قدم جمانے کی بہت کوشش کی…. مگر فرارکے سوا اور کوئی چارہ نہ تھا…. کرنوں نے دھندلکوں کو مغرب کی طرف دھکیلنا شروع کیا…. اس دھکم پیل میں دھندلکوںنے دم توڑ دیا…. اب مشرق سے مغرب تک، شمال سے جنوب تک، زمین کی سطحوں سے آکاش کی بلندیوں تک روشنی ہی روشنی تھی…. اس روشنی میں دور کے مناظر بھی واضح ہو رہے تھے…. ہوا میں خنکی ابھی بھی شامل تھی…. فضا میں پرندوں کی آواز تھرکنے لگی تھی…. جنگل اور دور اُفق کے درمیان کی فضاجاگ اٹھی تھی…. ہوا جاگ پڑی تھی…. ہر سوئی ہوئی راہ جاگ اٹھی تھی…. مگر ان دونوں پر ابھی تک نیندکے آثار چھائے تھے…. وہ دونوں صبح کے وجود سے انکار کرنےکی کوشش میں سرگرداں تھے…. ہوا ان دونوں کے گرد پھونک پھونک کر قدم رکھ رہی تھی کہ وہ دونوں اناپرست جاگ نہ اٹھیں سورج کی کرنیں درختوں کی اوٹ میں چھپی سوچ رہی تھیں کہ آگے بڑھیں کہ نہ بڑھیں….
سورج کی ایک شرارتی کرن اٹھلاتی بل کھاتی دبے قدموں آگے بڑھتی الحان کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلنے لگی…. دھیرے دھیرے تانتا سا بندھ گیا…. صبح کے وجودسے بے خبر سویا الحان، کھلکھلاتی سورج کی کرن سے کسمساتا آنکھیں دھیرے سے وا کیے اجنبی نگاہوں سے دور اُفق کا دیدار کرنے لگا۔ اس نے دونوں بازو اٹھا کر انگڑائی لینی چاہی لیکن اگلے ہی پل اسے اپنی دائیں بازو پر انجانے سے وزن کا احساس ہوا…. گردن گھمائے وہ اپنی دائیں جانب دیکھنے لگا…. اک وجود بکھرے بالوں سمیت اس کے ازحد قریب، اس کے بازوﺅں پر سرٹکائے نیند کی وادیوں میں گم تھا…. وہ پُرسوچ نگاہوں سے اس وجود کی جانب دیکھنے لگا…. اسے کچھ بھی یادنہ آ رہا تھا…. اگلے ہی پل مانہ کسمساتی ہوئی اس کے بازووں سے سر ہٹاتی سیدھی ہولیٹی تھی…. بکھرے بالوں کی لٹیں اس کے آدھے چہرے کو ڈھانپے ہوئے تھیں…. الحان یکایک چونک اٹھا…. شاید اس کا ذہن بیدار ہو چکا تھا….
”مانو!“
مانہ کسمساتی دھیرے سے آنکھیں کھولتی اجنبی نگاہوں سے اپنے سامنے بیٹھے اس اجنبی شخص کی جانب دیکھنے لگی…. خود کی جانب دیکھتی، نیند سے بوجھل نگاہیں اسے اپنے دل میں اُترتی محسوس ہوئی تھیں….وہ مسحورکن انداز میں مانہ کے چہرے کی جانب تکتا چلا گیا…. اگلے ہی پل مانہ کے لبوں پر بکھرتی خوبصورت مسکراہٹ نے اسے یکایک چونکنے پر مجبور کر ڈالا…. وہ اپنی جگہ ساکت بیٹھا حیران کن نگاہوں سے مانہ کی جانب دیکھنے لگا….
”یہ مجھے دیکھ کرمسکرائی؟‘
”گڈ مارننگ!“
وہ ابھی ایک جھٹکے سے نہ نکلا تھا کہ مانہ کی نیند سے بوجھل میٹھی سریلی آواز نے اس کے ذہن کی وادی میں اک اور دھماکہ کر ڈالا….
”آر یُو آل رائٹ؟…. تم مجھے ٹھیک نہیں لگ رہی ہو…. میرے بخار کا اثر تم پر تو نہیں ہو گیا مانو!“
الحان گہری تیوری چڑھائے ہاتھ بڑھا کر مانہ کی پیشانی چیک کرنے کو ہی تھا کہ مانہ اپنی نازک کلائیوںپر تھوڑا زو دیتی اٹھ بیٹھی….
”نہیں…. میں ٹھیک ہوں…. انفیکٹ…. میں بہت فریش فیل کر رہی ہوں….“
وہ شگفتہ اندازمیں بولتی مسلسل مسکرائے چلی جا رہی تھی…. الحان ایک محتلف کیفیت میں آن گھرا تھا…. مانہ کا خوشگوار رویہ اور چہرے پر سجی مستقل مسکراہٹ اسے سوچوں کی دنیا میں غرق کیے دے رہی تھی….
”میں یقینا کوئی خواب دیکھ رہا ہوں…. کون ہے یہ لڑکی؟ یہ میری مانو نہیں ہے….“
مانہ کی جانب دیکھتا وہ دل ہی دل میں ہمکلام ہوا تھا….
”ہمیں اب اس جگہ سے نکلنا چاہیے الحان!“
وہ اپنے اندازمیں بولتی بیگ کی جانب بڑھنے لگی…. الحان حیران کن نگاہوں سے اس کی جانب تکنے لگا تھا…. مانہ اپنا بیگ اٹھا کر پلٹی تھی….
“What?”
اسے ٹکرٹکر اپنی جانب گھورتے دیکھ کر وہ کندھے اُچکا کر بولی…. حیرانگی سے اس کی جانب دیکھتا وہ بنا جنبش کےے بالکل ساکت ہوا کھڑا ہوا….
”ایسے کیا دیکھ رہے ہیں آپ؟…. لیٹس گو…. میں مزید آپ کے ساتھ اس جنگل میں قید ہرگز نہیں رہ سکتی!“
”مانو! تم…. ٹھیک ہو ناں؟“
”افکورس میںٹھیک ہوں…. مجھے کھجلی ہو رہی ہے!“
وہ منہ بناتے ہوئے بولی…. الحان ایک جھٹکے سے دور ہو کھڑا ہوا…. مانہ اچانک سے Island پر موجود ان پانچ بیوقوف لڑکیوں جیسا بی ہیو کرنے لگی تھی…. الحان اب کے عجیب نگاہوں سے اس کی جانب گھورنے لگا تھا….
”تمہیں آخر ہو کیا گیا ہے؟ بہت عجیب سا بی ہیو کر رہی ہو “You don’t act like yourself!
”یہ میں ہی ہوں…. Look!…. مجھے معلوم ہے کہ میں نے آپ کے ساتھ بہت Bad بی ہیو کیا ہے…. جومجھے ہرگز نہیں کرنا چاہیے تھا…. مجھے اس بات کا اچھے سے اندازہ ہو گیا کل رات…. میں وہ سب کچھ جان بوجھ کرکر رہی تھی…. کل رات میں نے بہت سوچا اس بارے میں…. بس…. اب مجھ سے اور ایکٹنگ نہیں ہوتی الحان…. بس اب میں نے فیصلہ کر لیا ہے…. میں جو ہوں…. وہ میںہوں…. انسان کچھ کر لے مگر اپنی اصلی پہچان زیادہ دیر تک چھپا کر نہیں رکھ سکتا…. بہت مشکل سے کنٹرول کیے ہوئے تھی اب تک…. بٹ ناﺅ فائنلی…. مجھے کسی بات کا ڈر نہیں…. یہ میرااصل ہے جو اس وقت آپ کے سامنے موجودہے الحان!“
مانہ منہ لٹکائے اس کی جانب دیکھنے لگی تھی…. الحان ازحد خاموش کھڑا گہری نگاہوں سے اس کے چہرے کا جائزہ لیتا دکھائی دیا تھا….
”یہ مانو نہیں ہے….“
وہ ایک بار پھر سے دل ہی دل میں ہمکلام تھا….
”چلیں؟“
وہ پوچھ رہی تھی….
الحان لبوں کو قفس لگائے اثبات میں سر ہلاتا، سر تا پا اس کاجائزہ لیتے ہوئے نڈھال قدموں سے زمین کو پیچھے کی طرف دھکیلتا آگے کی جانب بڑھنے لگا تھا….
مانہ، الحان کی کیفیت پر ایک زوردار قہقہہ لگانے کو بیقرار تھی…. یہ گیم اتنی آسان نہ تھی جتنی اسے کل رات پلاننگ کرتے وقت لگ رہی تھی…. آنکھوں کے کارنر سے الحان کو اپنے پیچھے پیچھے چلتے اور خود ہی کی جانب گھورتے دیکھ کر وہ لبوں پر مسکان سجائے دل ہی دل میں ہمکلام ہوئی تھی….
”پلان بُرا نہیں تھا میرا…. لیکن یہ جوکیریکٹر اس وقت میں پلے کر رہی ہوں…. یہ مجھے بالکل پسند نہیں…. مگر ان نواب صاحب سے جان چھڑانے ے لیے اس کیریکٹر سے بہتراور کوئی راہ فرار نہیں….یہی کیریکٹر مجھے اس چپکو سے نجات دلائے گا…. ایسا ہی ہوتاہے اکثر…. کہ جس چیز سے ہمیں بے پناہ نفرت ہو…. وہی چیزہمارے لیے راہ فرار کا ذریعہ بن جایا کرتی ہے….“
من ہی من میں باتیں کرتی وہ یکایک اپنا پیٹ پکڑے زور سے چلّا اٹھی….
”آ آ آ…. میرے پیٹ میں بہت تکلیف ہو رہی ہے…. اور اور عجیب عجیب سی آوازیں بھی آ رہی ہیں….“
وہ بڑھا چڑھا کر بولے چلی جا رہی تھی….
”تمہیںبھوک لگ رہی ہے؟“
الحان درہم برہم دکھائی دے رہا تھا….
”یقینا!“
چہرے پر زبردستی کی مسکان سجائے وہ اسی کی جانب دیکھنے لگی تھی….
”میںاس راستے سے واقف ہوں…. مجھے یقین ہے کہ ہمارا کیمپ یہیں کہیں آس پاس ہی موجود ہے…. میرے بیگ میں کچھ ڈرائے فروٹ اور چپس وغیرہ موجود ہیں…. بس تھوڑا اور صبر کر لو….“
”لعنت ہے….“
“What?”
”اس راستے پر…. ختم ہی نہیں ہوتا….“
”مانو! تم بہت عجیب بی ہیو کر رہی ہو…. بہت عجیب باتیں بول رہی ہو….“
”الحان! میں ایسی ہی ہوں…. میں ایسی ہی باتیں کرتی ہوں…. اٹس می!“
وہ قہقہہ لگاتے ہوئے بولی….
”نہیں مانو!…. یہ تم نہیں ہو….“
وہ برجستہ بول اٹھا….
”الحان ابراہیم صاحب! کیا آپ مجھے مجھ سے زیادہ بہتر جانتے ہیں؟“
وہ آئی برو اُچکائے بغور اس کی جانب دیکھنے لگی….
”اوکے…. میں اس وقت کسی قسم کی بحث کے موڈ میں ہرگز نہیں….“
وہ اُکھڑے لہجے میں بولتا آگے کی جانب بڑھنے لگا….
”لیٹس گو!“
مانہ معنی خیز نگاہوں سے اس کی پیٹھ کی جانب دیکھتی اس کے تعاقب میں چلنے لگی تھی….
ض……..ض……..ض
جنگل کا سینہ چیرتے وہ دونوں کچھ ہی دیر بعد واقعی اپنے کیمپ کے سامنے موجود تھے…. الحان نے جلدی سے اپنا بیگ ٹٹول کر، چپس، ڈرائی فروٹ اور چاکلیٹ کے کچھ پیکٹس باہر نکالے تھے….
”یہ سب کچھ فل آف فیٹ ہے…. آپ نے کچھ شوگر فری یا لو فیٹ چیز کیوں نہیں ڈالی اپنے بیگ میں؟“
وہ زمین پر آلتی پالتی مارے بیٹھی ان سب چیزوں کو دیکھتی منہ بنائے گلہ کرنے لگی تھی…. الحان پر یقینی طور پر ایک اور بلاسٹ ہو چکا تھا…. تبھی وہ منہ کھولے تعجب بھری نگاہوں سے مانہ کے منہ لٹکائے چہرے کی جانب دیکھنے لگا تھا….
”تم کب سے لو فیٹ اور شوگر فری چیزیں کھانے لگی ہو؟“
”کب سے کیا مطلب؟…. میں کھاتی ہی لو فیٹ اینڈ شوگر فری….“
”اوہ رئیلی؟“
الحان نے اس کی بات کاٹتے ہی زور دیتے ہوئے کہا….
”جی ہاں…. بالکل….یقینا….“
وہ ہار ماننے والی نہ تھی….
”ہاں تبھی آپ محترمہ…. اس دن کوسٹا کافی….دب دب کر ویلوٹ کیک نوش فرما رہی تھیں….“
اس نے یاد دلانے کی کوشش میں ہی ٹونٹ کر ڈالا….
”وہ کیک بھی لو فیٹ اور شوگر فری تھا….“
”اوہ اچھا اچھا…. لو فیٹ اینڈ شوگر فری….“
وہ گھورتی نگاہوں سے اس کی جانب گھورتا اسی کے الفاظ دہرا رہا تھا….
”جی ہاں….“
وہ اپنے کہے پر برقرار تھی…. الحان چند ثانیے ہنوز اس کے چہرے کا جائزہ لیتا رہا….
”اینی ویز! مجھے نہیں معلوم تھا کہ آپ محترمہ پرایک دم سے شوگر فری اور لو فیٹ کا بھوت سوار ہو جائے گا…. اگر معلوم ہوتا تو یقینا اپنا پورا بیگ لو فیٹ اور شوگر فری چیزوں سے بھر لاتا…. اب جو سامنے موجود ہے…. وہی کھاﺅ چپ چاپ….“
”نہیں کھاﺅں گی…. میں ڈائٹ پر ہوں….“
”کیا؟…. کس پر ہو؟“
وہ اچنبھے سے اس کی جانب دیکھنے لگا….
”میں نے کہا…. میں ڈائٹ پر ہوں…. آپ پلیز جلدی سے مجھے واپس Island لے چلیں…. وہاں کچن میں بہت اچھے اچھے اینڈ لذیذ سیلڈ موجود ہیں…. مجھے سچ میں بہت بھوک لگ رہی ہے….“
”تم اپنی فرینڈ کو نہیں ڈھونڈناچاہتیں؟“
الحان بے اعتمادی کے عالم میں اس کے چہرے کی جانب دیکھ رہا تھا….
”الحان!…. میں بہت تھک چکی ہوں…. ہم ان دونوں کو ڈھونڈنے کے چکر میں کل رات خود ہی کھو چکے تھے…. باقی تمام ٹیمز میں سے کوئی نہ کوئی یقینا ان دونوں کو ڈھونڈ نکالے گی….“
وہ اپنی ہی موج مستی میں بولے چلی جا رہی تھی…. الحان اسے اگنور کرتا،ریڈیو اٹھائے اپنے منہ کے قریب کر بیٹھا تھا….
“Base! This is Nano Team. Over—”
وہ ازحد سنجیدگی سے گویا ہوا تھا….
اگلے ہی پل ریڈیو سپیکرمیں سے مس فاطمہ کی آواز اُبھرنے لگی تھی….
”الحان! مسکان اور جینی مل چکی ہیں….تم لوگ واپس آ جاﺅ….“
”شکر الحمدللہ! اللہ کا لاکھ لاکھ شکر…. اب ہم فائنلی واپس جا سکتے ہیں….“
الحان کے برابر میں بیٹھی مانہ ایک لمبی سانس کھینچتی پُرسکون انداز میں گویا ہوئی تھی….
”کب اور کہاں پر ملیں وہ دونوں؟“
الحان اب ڈیٹیل پوچھ رہا تھا….
”کل رات ہی مل گئی تھیں…. الحان! تم یقین نہیں کرو گے…. وہ دونوں نشے کی حالت میںیاٹ میں سو رہی تھیں….“
مس فاطمہ کی اواز اُبھری…. الحان اپنا سر تھام کر رہ گا….
”تو آپ لوگوں نے یاٹ پہلے چیک نہیں کی تھی؟“
”تم تو جانتے ہو الحان! ہم سب لوگ کس قدر گھبرا گئے تھے…. یاٹ چیک کی تھی مگر ان دونوں پر نگاہ نہیں پڑی…. فوٹیج میںبھی یاٹ کی جانب جاتی دکھائی نہیں دی تھیں…. نجانے یہ سب کیوں اور کیسے ہو گیا…. خیر…. تم لوگ کہاں ہو اس وقت؟“
”ہم لوگ بس نکلنے لگے ہیں….“
”اوکے!“
ریڈیو جینز کی پاکٹ میں گھساتا وہ جلدی سے ٹینٹ پیک کرنے لگا تھا…. ٹینٹ پیک کرتے ہی وہ دونوں واپسی کے لیے روانہ ہو چکے تھے…
” مجھے تو یقین ہی نہیں ہو رہا ہے کہ مسکان اور جینی اس قدر بےوقوف ہو سکتی ہیں….“
بغل میں چلتی مانہ کی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی تھی…. الحان اسے مکمل طور پر نظرانداز کیے واپسی کے راستے پر قدم بہ قدم آگے کی جانب بڑھتا چلا جا رہا تھا….
ض……..ض……..ض
ایک دوجے کے تعاقب میں چلتے چلتے، گھنٹوں کا طویل سفر طے کرنے کے بعد وہ دونوں بالآخر جزیرے کی زمین کو سلام کر چکے تھے…. شام گہری ہو گئی تھی…. مگر ابھی مغرب کے آخری اُفق پر شفق کے آثار نمایاں تھے…. ہلکی ہلکی خنک ہوا چلنے لگی تھی…. چوب محل کے گرداگرد عالم مضطرب میں گردانتا عاشرزمان، سامنے سے ان دونوں کو آتا دیکھ کر لپک کر ان دونوں کی جانب بڑھا تھا….
”الحان! کہاں رہ گئے تھے تم دونوں؟…. کل رات ہم لوگوں نے کتنی کوشش کی تمہیں کونٹیکٹ کرنے کی مگر تمہاری طرف سے کوئی جواب ہی نہیں ملا….“
عاشرزمان کے چہرے اور لہجے سے ٹپکتی پریشانی واضح طورپر عیاں تھی….
”ایکچوئلی عاشر! ان دونوں کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے ہم خود ہی کھو چکے تھے….“
بے باکی سے قہقہہ لگاتی وہ بڑے مزے سے عاشر کو اپنے کھو جانے کی خبر بتانے لگی تھی…. الحان کو شروع دن سے بے باکی سے قہقہہ لگاتی لڑکیاں ایکدم زہر لگتی تھیں۔ تبھی وہ مانہ کے قہقہہ لگانے پر تیوری چڑھائے لمبی سانس کھینچ کر رہ گیا تھا…. عاشرزمان بھی مانہ کے بدلے رویے پر اچنبھے سے اس کی جانب دیکھتا دکھائی دیا تھا…. عاشر کو اس طرح اپنی جانب گھورتے دیکھ کر اس کا دل چاہا کہ کسی طرح زمین پھٹے اور وہ اس میں سماجائے…. لیکن وہ مجبور تھی…. اسے ہر حال میں الحان اور اس رئیلٹی شو سے نجات چاہیے تھی۔ اسے اپنی جاب بھی عزیز تھی…. اس کے پاس اور آپشن نہ تھی….
”اوکے…. میں چلتی ہوں…. بہت تھکاوٹ ہو رہی ہے۔“
تیوری چڑھائے الحان اور ہکا بکا کھڑے عاشر کو ہاتھ کے اشارے سے بائے بولتی وہ ہاتھ ہلاتی چوب محل کے مین دروازے کی جانب بڑھتی چلی گئی تھی…. لاﺅنج میں داخل ہوتے ہی اس نے سکون کی سانس لی تھی…. مسکان کے سوا تمام لڑکیاں اسے لاﺅنج میں ہی چلتی پھرتیں،باتیںکرتی دکھائی دی تھیں…. وہ سب کی سب اسے دیکھتے ہوئے بھی اَن دیکھا کر چکی تھیں…. مانہ کو ان سب کی پرواہ بھی نہ تھی…. جلدی سے سیڑھیاں پھلانگتی وہ تیزی سے اپنے روم کی جانب بڑھی تھی…. ہینڈل گھما کر دروازہ کھولتے ہی اسے سامنے بیٹھی مسکان کا دیدار ہوا تھا….
”مسکان؟“
مانہ کی آواز سماعت سے ٹکراتے ہی اپنے بیڈ پر نیم دراز آنکھیں موندی مسکان جلدی سے سیدھی ہو بیٹھی تھی….
”مانہ!…. اوہ مائے گاڈ…. آئی ایم سو سوری…. ہم دو سٹوپڈ لڑکیوں کی وجہ سے تم سب لوگوں کو کس قدر پریشانی ہوئی ناں…. رئیلی سوری یار!“
مانہ اپنا بیگ اپنے بیڈ پر پھینکتی، مسکان سے بغلگیر ہوتی اسی کے بیڈ پر اس کے عین سامنے آبیٹھی….
”میں تمہارے لیے بہت پریشان تھی مسکان!“
وہ تکان بھرے لہجے میںبولی….
”میں بھی تمہارے لیے بہت پریشان تھی مانہ!…. پتہ ہے کل رات عاشرزمان نے تم دونوں کو کانٹیکٹ کرنے کی بہت کوشش کی…. مگر تم دونوں تھے کہ کانٹیکٹ میں ہی نہیں آ رہے تھے….“
”اچھا اب پریشان ہونے کی ضرورت نہیں…. اب سب ٹھیک ہے…. جینی کیسی ہے؟“
مانہ دھیمے سے مسکرائی ….
”وہ بھی ٹھیک ہے…. ایکچوئلی اس رات آشلے نے شرارت میں ہم سب لڑکیوں کو تھوڑی تھوڑی پلا دی تھی…. اور پھر پتا ہی نہیں چلا کہ کب اور کیسے میں اور جینی باتیں کرتی کرتی یاٹ میں سوار ہوگئیں…. اوہ گاڈ…. تمہیں پتا ہے…. عاشرزمان نے کس قدر ڈانٹ پلائی ہم سب لڑکیوں کو…. اور پھر جب تم دونوں آﺅٹ آف کانٹیکٹ ہوئے تو ایک بار پھر سے ہم سب لڑکیوں کی کلاس لگی…. رئیلی سوری…. ہماری وجہ سے تم سب کو اس قدر پریشانی اٹھانا پڑی….“
مسکان ازحد نادم دکھائی دے رہی تھی….
”اب سب کچھ ٹھیک ہو چکا ہے مسکان! …. پریشان ہو کر خود کو ہلکان نہیں کرو….“
مانہ شائستہ لہجے میں بولتی اٹھ کھڑی ہوئی….
”اچھامجھے بہت بھوک لگ رہی ہے…. تم نے کچھ کھایا؟“
”نہیں…. تمہارے آنے کا انتظار کر رہی تھی…. میری وجہ سے تمہیں اتنی تکلیف اٹھانا پڑی…. مجھے اچھا فیل نہیں ہو رہا تھا سوچا کہ تم آ جاﺅ…. تو ساتھ میں کھائیں گے….“
”اوکے! تو پھر چلویار…. میرے پیٹ میں تو چوہوں نے کل رات سے ڈانس پارٹی شروع کی ہوئی ہے…. ناچ ناچ کر بُرا حال کر دیا ہے….“
اپنی ہی کہی گئی بات پر وہ کھلکھلا کرمسکرا دی تھی…. مسکان نے بھی اس بار مسکرانے میں مانہ کا بھرپور ساتھ دیا تھا….
”چلو ناں!“
اگلے ہی لمحے مسکان جمپ لگاتی بیڈ سے نیچے اُتر آئی ….
ض……..ض……..ض
جلدی سے وہ اپنا من پسند چکن اسٹیک بناتی مسکان اور جینی سمیت ڈائننگ ٹیبل پر آ بیٹھی تھی…. اڑتالیس گھنٹوں کی بھوکی، وہ ایک کے بعد ایک یکایک چکن اسٹیک کی بائٹس لیتی چلی گئی…. مسکان اور جینی سینڈوچ اور سلاد نوش فرمانے میں مصروف تھیں…. وہ تینوں کھانے سمیت گاہے بگاہے اپنی اپنی داستان بھی سنائے چلی جا رہی تھیں…. جب وہ تینوں کھانے اور باتوں سے فارغ ہو چکیں تو اپنی اپنی پلیٹس سمیت کچن میں چلی آئیں….
”چلو…. جو ہوا…. سو ہوا….اب آگے خیال رکھنا…. میں کسی کے بارے میں کچھ غلط کہنا نہیں چاہتی…. بس اتنا کہنا چاہوں گی کہ آشلے بہت ہی چالاک لڑکی ہے…. وہ اس شو میں ٹکنے اور تم سب کو جلد از جلد ایلیمنیٹ کروانے کے لیے بہت سی چالیں چل سکتی ہے…. سو، بی کیئر فل گرلز!“
وہ اپنے حصے کی پلیٹ دھوتی ایک سائیڈ پر ہو کھڑی تھی….
”یو آر رائٹ! شی از ویری کلیور!“
مسکان اپنی پلیٹ دھوتی مصروف انداز میں آئی برو اُچکاتی گویا ہوئی…. وہ تینوں اپنی اپنی پلیٹس دھو چکنے کے بعد لاﺅنج کے ایک صوفہ پر براجمان ہوئی تھیں جہاں سب لڑکیاں پہلے سے موجود خوش گپیوں میں مصروف تھیں….
”لیڈیز! لیڈیز! لیڈیز!….“
چوب محل کے مین دروازئے سے داخل ہوتا خرم اپنی بارعب بھاری آواز میں بولتا لیڈیز کے قریب آن کھڑا ہوا تھا…. اس کے اندر داخل ہوتے ہی تمام لیڈیز بھرپور توجہ سمیت اس کی جانب دیکھنے لگی تھیں…. وہ بول رہا تھا….
”آج رات آپ تمام لیڈیز کی، الحان ابراہیم کے ساتھ ایک گروپ ڈیٹ ہے…. سو ڈریس ٹو امپریس!“
وہ اپنے ہی انداز میں اطلاع دیتا، شریر سی مسکراہٹ لبوں پر سجا کھڑا ہوا تھا….
“What time?”
آشلے کافی ایکسائیٹڈ دکھائی دے رہی تھی….
“Where?”
سحرنے بھی اپنی خوشی کا اظہار کیا تھا….
”گروپ ڈیٹ؟“
آشلے اور سحر کے گروپ کی تیسری چالاک اور سیلفش لڑکی برینڈا منہ بسور کررہ گئی….
”یہ گروپ ڈیٹ آج رات سات بجے، اس چوب محل کے باہر، گارڈن ایریا میں ارینج کی جائے گی…. آپ لیڈیز کے پاس ایک گھنٹہ ہے…. سو لیڈیز! آل دی ویری بیسٹ!“
وہ خوشگوار انداز میں ان تمام لیڈیز کو گڈ لک کا سائن دیتا اسی رفتار سے واپس باہر نکل گیا تھا جس رفتار سے اندر داخل ہوا تھا…. اس کے جاتے ہی یکایک بھگدڑ سی مچ گئی….
”آج یہ گروپ ڈیٹ رکھنا ضروری تھی کیا؟…. میں بہت تھکی ہوئی ہوں…. مجھے آرام کرناہے…. مجھے سونا ہے….“
مان تکان بھرے لہجے میں بولتی رونے کو آئی تھی….
”ہم لوگوں کی وجہ سے پہلے ہی دو دن ضائع ہو گئے ہیں…. اس شو کی ایک قسط آن ایئر جا چکی ہے…. سنا ہے عاشرزمان نے پہلی ہی قسط کل بھی رپیٹ ٹیلی کاسٹ کروائی تھی جس کی وجہ سے اسے کافی نقصان بھی ہوا ہے…. اور آج کی قسط شاید لائیو ٹیلی کاسٹ ہونے والی ہے….“
مسکان نے اُڑتی اُڑتی خبر اس کے گوش گزار کی …. مانہ کچھ سوچتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی ….
”اوکے….لیٹس گو…. ڈریس ٹو امپریس!“
وہ چڑچڑے انداز میں بولتی سیڑھیاں پھلانگنے لگی…. مسکان اس کے تعاقب میں چلتی کمرے تک آئی تھی…. اس دن الحان کے ساتھ کی گئی شاپنگ کے بیگز ٹٹولتی وہ منہ بسورے پوچھ رہی تھی….
”ان میں سے کیا پہنوں میں؟“
تمام بیگی شرٹس، شرگز، گاﺅنز اور ٹی شرٹس ٹٹولتی وہ مسکان کی جانب دیکھنے لگی….
”یہ سب چھوڑو….میں تمہیں اپنا ایک ڈریس دیتی ہوں…. تم وہ پہنو…. ایک منٹ!“
اپنے بالوں کو اکٹھا کرتے ہی چٹکی میں قید کرتی مسکان اپنے وارڈ روب کی جانب بڑھی …. اگلے ہی پل وہ خوبصورت شفون اور نیٹ کی بنی بلیک میکسی ہینگر سے اُتارتی مانہ کی جانب بڑھاتے ہوئے شائستہ لہجے میں گویا ہوئی….
”تم یہ پہنو مانہ! آئی پرامس…. تم اس میں قیامت لگو گی…. اور ہاں…. ساتھ میں میرے بلیک ہائی ہیلز بھی ہیں…. اور سب سے پہلے تو تم اپنی یہ بھدی گلاسز اُتارو ناں!“
اس نے جلدی سے ہاتھ بڑھا کر مانہ کی گلاسز کھینچ اُتاریں….
”ارے….“
”کانٹیکٹ لینز لیے تھے ناںاس دن الحان نے تمہارے لیے…. تم جلدی سے چینج کر کے آﺅ…. میں تمہیں لینز بھی لگاتی ہوں…. اور تمہارا اچھے سے میک اَپ بھی کر دوں گی…. چلو چلو شاباش!“
مانہ اپنے دفاع میں کچھ کہنے کو ہی تھی کہ مسکان اسے میکسی سمیت دھکیلتی واش روم تک چھوڑ آئی….
”مسکان! میں یہ نہیں پہن سکتی یار! میں نے زندگی میں ایسے کپڑے کبھی نہیں پہنے….“
وہ واش روم کے اندر سے چلاّئی….
”تو اب پہن لو ناں میری جان!“
مسکان ایک بار پھر سے وارڈ روب میں گھسی اپنے لیے کپڑے منتخب کرنے لگی….
”لیکن!“
مانہ میکسی کو غور سے دیکھتی لب بھینچ کر رہ گئی….
”مانہ! جلدی کرو…. ہمارے پاس زیادہ ٹائم نہیں ہے….“
اپنے لیے منتخب کیا گیا جوڑا ہینگر سے اُتارتی وہ مصروف انداز میں گویا ہوئی….
ض……..ض……..ض
الحان، برٹش ایکپنسو برانڈ بینسن (Benson) کی سگریٹ لبوں میں دبائے، اپنے کمرے کے باہر نپے تُلے قدموں سے چلتا، ادھر سے اُدھر گردانتا پھر رہا تھا…. سوچوں کا محور وہی ایک ذات تھی، جس کا بدلا رویہ اندر ہی اندر اسے کھٹکا لگائے دے رہا تھا….
”الحان! ڈنر سٹارٹ ہونے والا ہے…. تم ریڈی ہو؟“
وہ جو سگریٹ کے لمبے لمبے کش لگاتا اپنی ہی سوچوں میں گم تھا، خرم کی آواز سماعت سے ٹکراتے ہی یکایک چونک اٹھا….
”اوکے…. یس…. ایم ریڈی!“
آدھ بچی سگریٹ زمین پر پھینکتے ہی اپنے دائیں پیر سے سگریٹ کو کچلتا وہ خرم سمیت چوب محل کی جانب بڑھ گیا تھا…. چوب محل کے مین دروازے کے سامنے ہی ڈنر کا انتظام کیا گیا تھا…. خرم چلتا ہوا کیمرے کے پیچھے کی ٹیم کے پاس جا کھڑا ہوا ، جبکہ الحان ایک بڑی سی اکیلی ٹیبل جس پر بچھایا گیا سفید کپڑا جو رات کی ٹھنڈی ہوا سے دھیرے دھیرے مسرور انداز میں ناچنے لگا تھا، کو نگاہوں کا محور بناتا اس کے قریب جا کھڑا ہوا…. ٹیبل پر طرح طرح کے لذیذ کھانے اور فروٹس سجائے گئے تھے….
”الحان! آپ یہاں بیٹھ جاﺅ!“
ٹیبل کے پاس کھڑی مس فاطمہ، ٹیبل کے سر کے پاس رکھی گئی اہم، بالخصوص کرسی کی طرف اشارہ کرتی شیریں لہجہ میں گویا ہوئیں….
الحان اثبات میں سر ہلاتا، بتائی گئی کرسی پر براجمان ہو گیا….
عاشر زمان کیمرہ کے پیچھے ایک چھوٹے سے ٹی وی پر نظریں جمائے خاصا مصروف دکھائی دے رہا تھا…. اگلے چند لمحوں میں چوب محل کا دروازہ کھلتے ہی تمام پندرہ لڑکیاں چمک دمک سے بھرپور ڈریسز میں ملبوس، اُجلا روشن چہرہ لیے ایک کے بعد ایک چوب محل کے دروازے سے نکلتی ٹیبل کی جانب بڑھنے لگی تھیں….
سب سے آگے آشلے اور اس کے ساتھ سحر اور برینڈا تھیں…. وہ تینوں سفید خوبصورت، چمکیلے برانڈڈ ڈریسز میں ملبوس ایک ادا سے چلتیں، چہروں پر مسکان سجائے الحان کی جانب دیکھنے لگی تھیں۔ لڑکیوں کو چوب محل سے نکلتے دیکھ الحان فوراً اٹھ کھڑا ہوا تھا….
وہ شخصیت جس کی اسے تلاش تھی…. لائن کے سب سے اینڈ میں اسے چوب محل سے باہر نکلتی دکھائی دی تھی…. بلیک ٹائٹ میکسی میں ملبوس، اپنے لمبے گھنے بالوں کو اکٹھا کر کے رائٹ شولڈر پرپھینکے، دو نادان لٹوں کو اپنے خوبصورت چہرے پر آوارہ چھوڑے، لائٹ پنک میک اَپ اور آنکھوںمیں لگے گرے کانٹیکٹ لینزز میں وہ نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت دکھائی دےرہی تھی…. مانہ پر نظر پڑتے ہی الحان لمحے بھر کو اپنی پلکیں جھپکانا بھول گیا تھا…. دل کی دھڑکنوں کے ساتھ ساتھ سانسوں کی رفتار میں بھی تیزی آتی محسوس ہوئی تھی…. کانوںمیں ہوا کی سرسراہٹ، سائیں سائیں کے سوا کچھ بھی سنائی نہ دے رہا تھا…. مانہ مقناطیس کی سی صورت اس کے دل میں اُترتی چلی جا رہی تھی…. وہ اسے دیکھنے میں محو تھا، لیکن حیران بھی تھا…. وہ پہلی بار ایک ایسے لباس میں ملبوس تھی جس کا شاید الحان نے کبھی اندازہ بھی نہ لگایا تھا…. وہ پہلی بار میک اَپ کیے، اپنے بھدے چشمے کی جگہ اسی کے دئیے گئے لینزز لگائے اسے اپنی جانب بڑھتی دکھائی دے رہی تھی…. لباس اس قدر ٹائٹ تھا کہ اس کے بدن کے ڈیل ڈول کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا تھا…. اس کے پاس سے گزرتی لبوں پر خوبصورت مسکراہٹ سجائے وہ براہ راست الحان کی نگاہوں میں جھانکتی، آگے بڑھتی چلی گئی …. الحان اسے دیکھ کر مسکرایا ہرگز نہ تھا…. وہ یقینا بہت خوبصورت لگ رہی تھی، مگر الحان اسے اس حلیے میں دیکھ کر خوش ہونے کے بجائے مایوس ہوتا دکھائی دیا تھا…. وہ خود بھی اس لباس، ہائی ہیلز اور کانٹیکٹ لینزز میں بہت اَن کمفرٹیبل فیل کر رہی تھی، لیکن اسے یہ سب کرنا تھا…. الحان اور اس شو سے نجات کا یہی ایک واحد ذریعہ تھا…. جسے وہ بخوبی نبھا کر اپنے مقصد کی تکمیل کی طرف بڑھتی چلی جا رہی تھی….
تمام لیڈیز اپنی اپنی کرسی سنبھال بیٹھی تھیں…. الحان کے دائیں اور بائیں جانب آشلے اور سحر بیٹھی تھیں…. جبکہ مانہ، مسکان کے ہمراہ ٹیبل کے آخری سرے پر براجمان ہوئی تھی…. سب کے براجمان ہوتے ہی باتوں کے ساتھ ساتھ ڈنر بھی شروع ہو چکا تھا…. مانہ ڈنر کرتے دوران گاہے بگاہے اپنے بائیں جانب بیٹھی کورئین لڑکی غیوری جو کہ پہلے ہی دن سے اپنی باتوں اور حرکتوں سے خود کو بے انتہا بیوقوف ثابت کر چکی تھی،کے ساتھ باتیںکرتی بات بات پر قہقہہ لگائے دے رہی تھی…. الحان کی جانب براہ راست نہ دیکھتے ہوئے وہ گاہے بگاہے اس کی جانب اٹھتیں الحان کی نگاہیں بخوبی محسوس کر رہی تھی….
”مانہ!“
پاس بیٹھی مسکان اچنبھے سے اس کی جانب دیکھنے لگی تھی….
”ہاں،کیا ہوا؟“
وہ مسکراتے ہوئے اب مسکان سے مخاطب تھی….
”تم ٹھیک ہو؟“
وہ پوچھ رہی تھی….
”ہاں…. میں بالکل ٹھیک ہوں….کیوں، کیا ہوا؟“
وہ انجان بن بیٹھی….
”تم عجیب بی ہیو کر رہی ہو…. آج سے پہلے میں نے تمہیں کبھی ایسے نہیں دیکھا….“
”نہیں تو….“
”دیکھو تمہارے عجیب بی ہیوئیر کی وجہ سے سب کی نگاہیں بار بار تم ہی پر اُٹھ رہی ہیں….“
”یار مسکان! ہنسنا گناہ ہے؟…. جب میں خاموش رہتی تھی تب تمہی کہتی تھیں کہ ہنسا بولا کرو…. اب میں ہنس بول رہی ہوں…. انجوائے کر رہی ہوں…. تو اب بھی تم ہی ٹوک رہی ہو….“
وہ بلاوجہ خفا ہونے لگی تھی….
”ہاں کہا تھا…. مگر….“
”اگر مگر کچھ نہیں…. کیا معلوم اگلی ایلیمنیشن میں میرانمبر بھی آ جائے…. اور پھر میںاس خوبصورت جگہ اور یہاں پر ہوتی تمام انجوائے منٹ سے ہمیشہ کے لیے محروم ہوجاﺅں…. اس لیے پلیز انجوائے کرنے دو…. اور خود بھی انجوائے کرو….“
شائستہ لہجے میں بولتی وہ خوبصورت مسکراہٹ چہرے پر سجائے اپنی پلیٹ پر جھک بیٹھی تھی…. مسکان بھی مسکرا دی تھی…. جبکہ الحان کے اندر کی بے چینی اسے چین سے بیٹھنے نہ دے رہی تھی…. اور پھر آس پاس بیٹھی آشلے اور سحر مسلسل اسے امپریس کرنے کے چکروں میںاپنی ادائیں اور جلوے الگ الگ انداز میں مفصل کیے دے رہی تھیں…. الحان اس سے بات کرنے کو بے چین تھا، اس سے ان تمام بے وقوفیوں کی وجہ پوچھنے کو بے چین تھا…. اس کا بدلا رویہ اندر ہی اندر اسے کچوکے لگائے چلا جا رہا تھا…. جبکہ مانہ Island پر موجود سب سے بیوقوف لڑکی غیوری کا کردار اپنائے مسلسل قہقہوں پر قہقہے لگائے چلی جا رہی تھی…. عاشرزمان خاصہ مضطرب بیٹھا سکرین سے نظریں ہٹائے مانہ کی جانب گھورتا دکھائی دیا…. اور وہ ان سب کی نظروں کو اگنور کیے بس اپنے ہی مقصد کی کامیابی پر تُلی بیٹھی تھی…. تقریباً ایک گھنٹے تک یہ سلسلہ چلتا رہا…. ڈنر کے اختتام پر الحان سمیت سبھی لڑکیاں اٹھ کھڑی ہوئیں…. باہر رکھے کیمرے بند کیے جا چکے تھے…. اڑتالیس گھنٹوں کی تکان اور پھر اردگرد گونجتی تمام لڑکیوں سمیت (Crew) کی آوازیں اسے اپنے دماغ میں ڈھول بجاتی محسوس ہو رہی تھی….
”مسکان! میں سونے جا رہی ہوں…. میرا سر درد سے پھٹ رہا ہے….“
”میڈیسن لے لو پھر سونے چلی جانا….“
”میڈیسن!“
”ہاں…. وہیں کچن میں رکھی ہیں….“
”اوکے!….“
مانہ وہاںموجود تمام لوگوں کو پیچھے چھوڑتی سہج سہج کر قدم رکھتی چوب محل کی جانب بڑھنے لگی تھی…. لڑکیوں میں گھرا کھڑاالحان بے کل نگاہوں سے اسے چوب محل کی جانب بڑھتے دیکھ رہا تھا…. وہ چاہ کر بھی اسے روک نہیں پایا تھا…. مانہ کے چوب محل میں داخل ہوتے ہی وہ تحمل بھرے انداز میں لمبی سانس کھینچ کررہ گیا ….
ٹک ٹک کرتی ہائی ہیل سے چلتی وہ کچن میں داخل ہوئی تھی کہ اچانک کچن سے باہر نکلتی آشلے کے ہاتھ میں پکڑی کولڈ ڈرنک بُرے طریقے سے ان دونوں کے کپڑوں کا حال پوچھ بیٹھی تھی…. آشلے اپنے مہنگے برانڈڈ کپڑوں پر نگاہ دوڑاتی کھا جانے والی نظروں سے مانہ کی جانب گھورنے لگی تھی….
”دکھائی نہیں دیتا ہے؟“
وہ انگلش میں اس پر برسنے لگی تھی….
”دکھائی تو تمہیں بھی نہیں دیتا ہے…. میں تو باہر سے آ رہی تھی…. تم اچانک سے باہر نکل آئیں….“
مانہ بھی اسی کے لہجے، اسی کے انداز میں اس پر برسنے لگی ….
”مجھے تم سے بحث کرنے کا ہرگز شوق نہیں…. منہ مت لگو میرے….“
انگلش لہجے میںبولتی وہ واپس کچن میں پلٹ گئی….
”چڑیل!“
مانہ منہ ہی منہ میں بڑبڑاتی، کپڑے جھاڑتی گلاس اٹھائے اس میں پانی انڈیلنے لگی…. متلاشی نگاہیں ادھر اُدھر دوڑاتی وہ پلٹ کر کیبن کھول کر میڈیسن ڈھونڈنے لگی تھی…. ترچھی نگاہوں سے مانہ کو گھورتی آشلے موقع سے فائدہ اٹھاتی، اردگرد کا جائزہ لینے کے بعد مانہ سے نظر بچاتی اپنا کلچ کھول کر ایک پاﺅڈر کی پُڑیا جلدی سے پانی میں انڈیلتی واپس اپنا ڈریس صاف کرنے میں مصروف ہو کھڑی تھی…. مانہ میڈیسن اٹھائے واپس گلاس کے پاس آن کھڑی ہوئی…. جلدی سے دوٹیبلیٹس منہ میں ڈالتی وہ پورا پانی کا گلاس غٹاغٹ پیتی چلی گئی…. گلاس واپس ٹیبل پر رکھتی وہ تیزی سے پلٹتی کچن سے باہر نکل آئی سیڑھیوں تک پہنچتے ہی وہ بُری طرح سے لڑکھڑا گئی…. اردگرد کی تمام اشیاءتمام لوگ اسے دھندلے ہوتے دکھائی دئیے تھے…. اپنا سر تھامتی،آنکھیں میچتی وہ پلکیں جھپکا جھپکا کر سیڑھیوں کی جانب دیکھنے لگی تھی….
”یااللہ!“
اپنا سر تھامے، لب بھینچے وہ سیڑھیوں کی گرل تھام کر رہ گئی…. خشک ہوتے لبوں کو زبان سے تر کرتی وہ نظریں گھما کر اردگرد چکراتی تمام اشیاءکو آنکھیں میچ میچ کر دیکھنے لگی تھی…. اسے اس پل یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے آس پاس رکھی تمام اشیاءتیزی سے گردانتی اس کے وجود سے آن ٹکرائیں گی…. لمبی سانس کھینچتی، سیڑھیوں کی گرل تھامتی وہ جلدی سے ایک زینہ پر ٹک بیٹھی …. ہائی ہیل میں قید اپنے خوبصورت پیروں کو آزاد کراتی، ہائی ہیلز ہاتھ میں پکڑتی وہ گرل مضبوطی سے تھامے ایک بارپھر سے لڑکھڑاتی ہوئی کھڑی ہو چکی تھی…. گرل کو مضبوطی سے تھامے وہ خود پر کنٹرول کرتی دھیرے دھیرے زینہ بہ زینہ اوپر کی جانب بڑھنے لگی…. بمشکل آخری سیڑھی تک پہنچتے ہی وہ ایک بار پھر سے لڑکھڑا گئی…. دونوں ہاتھوں سے گرل تھامے وہ تیزی سے چکراتے کمروں کی جانب دیکھنے لگی….
”کیا ہو رہا ہے مجھے؟“
زیرلب بڑبڑاتی وہ دیوار کا سہارا لیے دھیرے دھیرے چلتی اپنے کمرے کی جانب بڑھنے لگی….
”اوہ گاڈ! سر بلاسٹ ہو جائے گا میرا….“
کھینچ کھینچ کر سانس لیتی وہ بالآخر اپنے کمرے تک پہنچ چکی تھی…. دروازے کا ہینڈل گھماتے ہی جلدی سے دروازہ کھولتی وہ ایک جھٹکے سے لڑکھڑاتی کمرے میں داخل ہو گئی…. بوجھل ہوتے آنکھوں کے پپوٹے زبردستی وا کیے وہ کمرے کی چھت کو گھورنے لگی…. کمرے کی چھت اسے اپنے اوپر گرتی محسوس ہوئی تھی اگلے ہی پل جب اس کے اوسان مکمل طور پر خطا ہو چکے، تو اپنا سر تھامے وہ وہیں زمین پر بیٹھتی چلی گئی….
ض……..ض……..ض
اندھیرے اور خاموشی کی یلغار لحظہ بہ لحظہ بڑھتی چلی جا رہی تھی…. اس کے دل میں جلتے ہوئے دئیے کی لَو تھرتھرانے لگی…. اس لَو کو اس یلغار سے بچانے کی کوئی صورت نظر نہ آتی تھی…. اس کے پپوٹے اندھیرے کے بوجھ سے بند ہونے لگے تھے…. اس کے اوسان سے اندھیرے کے ریلے سے سب خیال بہہ گئے تھے…. اب وہاں کچھ بھی نہ تھا…. ہر طرف اندھیرے کا سمندر ٹھاٹھیں مارتا تھا…. اس کا دم گھٹنے لگا…. سانس لینا اس کے لیے تکلیف دہ ہونے لگا…. عذاب بننے لگا…. یہ عذاب اس کی برداشت کی حدود کو توڑنے لگا…. اس کی سب کوششیں ناکام ہوا چاہتی تھیں…. کہ اس نے آخری کوشش کرتے ہوئے اپنی منتشر ہوتی قوت کو اکٹھا کیا اور اندھیرے کے بڑھتے طوفان کو،عذاب کی پھیلتی ہوئی آگ کو روکنے کے لیے آخری حملہ کیا…. طوفان کا ریلہ، پھیلتی ہوئی آگ اک لمحہ کو رُکے مگر اس کی قوت پسپا ہونے لگی….منتشر ہونے لگی…. بالآخر وہ اندھیرے کے ریلے اور آگ کے درمیان پِس کر رہ گئی….
اندھیرے اور آگ کے تصادم سے اس کے آفاق روشن ہونے لگے۔ روشنی ہر طرف سے اک مرکز کی طرف بڑھنے لگی…. جوں جوں روشنی قریب آتی گئی…. آفاق پر تاریکی چھاتی گئی…. یکایک آگ بلندیوں کی طرف لپک گئی…. اور پھر پستیوں پر اندھیرا ہی اندھیرا باقی رہ گیا…. آگ بلندیوں میں ایک نکتہ بن گئی…. نکتہ پھیلنے لگا…. قریب آنے لگا…. قریب سے قریب تر آتا ہی چلا گیا…. سورج بن گیا…. سورج نیچے اُترنے لگا اور اندھیرا کٹنے لگا…. سورج اب بہت ہی قریب آگیا…. اندھیرا مٹ گیا…. پستی کی سطح پر سبزہ اُگنے لگا…. سبزے میں پھول کھلے…. پھولوں سے گلزار بنا….گلزار میں روشیں بنیں…. روشیں گلزار سے نکل کر میدان میں چل نکلیں….میدان میں راہوں کا جال بن گیا…. ان راہوں پر راہی چلنے پھرنے لگے…. سورج سے ہر شے روشن منورتھی…. سورج نصف النہار تھا….
مانہ نے جھٹ سے آنکھیں کھول دیں…. اس کے سینے پر بوجھ نہ تھا…. اس کو سانس لینا عذاب نہ تھا…. کمرے میں بالکل اندھیرا تھا…. ہر طرف خاموشی ہی خاموشی تھی…. اس کے دل کے دھڑکنے کی آواز اس کے کانوںتک پہنچ رہی تھی…. آواز کا لحن اس کے کانوں کو بھلا لگنے لگا…. وہ لحن میں کھو گئی اب لحن کے سوا کچھ نہ تھا…. لہن کی وادیوں میں وہ تنہا تھی…. انہی وادیوں میںکسی نے اس کو پکارا….اس نے کوشش کی کہ آواز کی سمت متعین کر سکے، مگر آواز ہر سمت سے آتی محسوس ہوتی تھی…. وہ کبھی اس طرف اور کبھی اس طرف بھاگنے لگی…. آوازواضح ہو رہی تھی…. قریب ہو رہی تھی…. اس کی آوازمیں پیار چھپا تھا…. وہ بھاگتے بھاگتے تھک گئی…. وہ تھک کر ہار کر بیٹھ گئی…. آواز اب بالکل اس کے قریب تھی…. اس کے کانوں کے بالکل ہی قریب…. اس نے کان لگاکر سنا…. اس کے اپنے ہی سینے سے آواز آ رہی تھی…. اس کے دل کی ہی آواز تھی….
”مانہ! اس دنیا میں تو تنہا ہے…. بالکل تنہا…. سمندر کا وہ پانی جو سمندر سے باہر ہو اسے دریا، جھیل، بادل، آنسو، شبنم کچھ بھی کہہ دو…. لیکن پانی کا وہ حصہ جو سمندرمیں شامل ہو جائے، وہ سمندر ہی کہلاتا ہے…. یہ تیری دنیا نہیں ہے، تو اس سمندر کی نہیں ہے…. الحان ابراہیم ایک گہرا سمندر ہے…. وسیع سمندر…. یہاں پر موجود ہر لڑکی اس سمندر میں ڈوب مرنے کو تیار ہے…. اور یہ سمندر…. یہ سمندر تجھے اپنے اندر ڈبونے کو بیقرار…. تمام لڑکیاں الحان کو چاہتی ہیں اور الحان تجھے چاہتا ہے…. تو کس کو چاہتی ہے؟…. الحان کو؟…. کیا واقعی الحان تجھے چاہتا ہے؟ یاپھر تُو اس کی ضد ہے؟…. یا پھر تم دونوں واقعی ایک دوسرے کے لیے بنے ہو؟…. یا پھر یہ سب ان لمحوں کے دامن میں ٹھہرا ہوا سا اک پل ہے؟…. کیا الحان ابراہیم صرف ایک پل ہے؟ نہیں بالکل نہیں…. تو پھر وہ تم کو کیوں نہیں پکارتا؟…. وہ تمہاری پکار کیوں نہیں سنتا؟…. نہیں…. اس نے پکارا ہے…. تمہی نے اس کی پکار نہیں سنی…. کیا تم نے کبھی اس کو پکارا؟…. نہیں…. کبھی نہیں…. لیکن کیوں نہیں؟….“
مانہ کو کیوں کا جواب نہ ملا…. وہ سوچنے لگی کہ آخر اس نے الحان کو کیوں نہیں پکارا؟…. اس نے چاہا کہ وہ اس گھپ اندھیرے میں اسے پکارے…. مگر اس کے پکارنے کی صلاحیت اس کے اندر کہیں چھپی سو رہی تھی…. وہ اس کو ڈھونڈتی رہی…. مگر پا نہ سکی…. اگلے ہی پل وہ گھبرا گئی، گھبرا کر اٹھ بیٹھی…. وہ اس وقت کہاں پر تھی؟…. اپنے بیڈ پر…. ہاں وہ اپنے بیڈ پر ہی موجود تھی…. مگر کیسے؟…. وہ اپنے بیڈ تک کیسے پہنچی تھی، اسے کچھ یاد نہ آ رہا تھا…. اس نے ہاتھ بڑھا کر دونوں بیڈز کے بیچ میں رکھی ہوئی میز پر رکھے ٹیبل لیمپ کو جلایا…. لیمپ کی روشنی اس کی ٹانگوں اور گود میںرکھے ہوئے خوبصورت مخملی ہاتھوں پر پڑ رہی تھی…. اس نے اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھا…. وہ سو رہے تھے…. اس نے اپنے پاﺅں کی جانب دیکھا…. اس کے پاﺅں اس کی طرف سوالیہ انداز میں تک رہے تھے…. وہ ان کی نظروں کی تاب نہ لا سکی اور جلدی سے اُچھل کر انہیں اپنی جوتی میں ڈال دیا…. اب جوتی کے سنہرے نقش اس کو گھورنے لگے…. وہ اس وقت نائٹ ڈریس میں ملبوس تھی…. مگر وہ نائٹ ڈریس میں کیسے ملبوس ہو گئی تھی…. وہ میکسی نائٹ ڈریس میں کیسے بدل گئی تھی…. وہ اچنبھے سے سوچنے لگی…. اسے کچھ یاد نہ آ رہا تھا…. سامنے مسکان کا بیڈ خالی تھا…. وہ آج پھر غائب تھی…. مانہ گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی…. اس کے کندھوں میں سردی سرایت کرنے لگی…. وہ ہلکے سے جھولتی محسوس ہوئی تھی…. خود پر کنٹرول کرتی وہ دروازے کے پاس رکھی کرسی پر سے گرم شال اٹھاتی اپنے کندھوں پر پھیلانے لگی…. مگر سردی برابر اس کے کندھوں سے سرایت کرتی رہی…. وہ ٹہلنے لگی…. پھر ٹہلتے ٹہلتے کمرے کے دروازے کے سامنے جا رُکی…. اس کا ہاتھ دروازے کے ہینڈل پر جم سا گیا…. ہینڈل گھماتے ہی دروازے کے کھلنے کی آواز نے اسے چونکا دیا…. وہ اتنی رات گئے کہاں جانا چاہتی تھی؟…. مسکان کو ڈھونڈنے…. اس کے دل نے جواب دیا…. ہاں…. لیکن اسے تازہ ہوا کی بھی ضرورت تھی…. اس بندکمرے میںاس کا دم گھٹنے لگا تھا…. اس کے ہاتھوں نے جلدی سے دروازہ کھول دیا…. اس کے قدم کمرے کی دہلیز سے پار ہو گئے…. کاریڈور میں قدم رکھتے ہی اس کے جسم پر سرد سرد ہوا جھپٹی…. وہ سردی سے کپک

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: