In Lamhon K Daman Main Novel By Mubashra Ansari – Episode 7

0

ان لمحوں کے دامن میں – قسط نمبر 7

–**–**–

”اچھا یہ بتاﺅ…. تمہیں ہوا کیا تھا؟“
مسکان کے پوچھنے پر وہ اس کی جانب دیکھنے لگی…. مسکان بول رہی تھی….
”میں جب چینج کرنے کمرے میں آئی تو تم دروازے کے پاس ہی زمین پر سو رہی تھیں…. پہلے تو میں گھبرا گئی…. مجھے لگا شاید تم بیہوش ہو گئی ہو…. میں نے جلدی سے مس فاطمہ کو بلایا…. پھر انہوں نے تسلی دی کہ آپ محترمہ گہری نیند سو رہی ہیں…. پھر ہم دونوں نے مل کر تمہارے کپڑے چینج کیے اور تمہیں بیڈ تک پہنچایا….“
”تم نے میرے کپڑے چینج کیوں کیے…. میں خود کر لیتی….“
وہ نادم دکھائی دے رہی تھی، مسکان شرارت سے مسکرا دی….
”ارے بابا ڈونٹ وری…. ہم نے تمہارے حسن کو نہیں دیکھا…. آنکھیں بند کرکے کپڑے چینج کیے…. قسم سے…. ویسے ایک بات بتاﺅ…. چند قدم پر رکھے بیڈ کے بجائے آپ جناب زمین پر ہی کیوں سو گئیں؟“
”پتا نہیں…. مجھے کچھ یاد نہیں….“
وہ ابھی بھی ہلکے سے جھول رہی تھی…. نشہ شاید ابھی تک اُترا نہیں تھا….
”دوا کھانے کے بعد سے عجیب سی طبیعت ہو گئی…. سب کچھ دھندلا سا ہو گیا…. بمشکل کمرے تک پہنچی اور پھر اس کے بعد کچھ یاد نہیں….“
وہ منتشر نگاہوں سے مسکان کی جانب دیکھنے لگی….
”اوکے…. چلو چل کر سو جاتے ہیں…. مجھے بھی اب بہت زوروں کی نیند آ رہی ہے….“
”نہیں…. تم سو جاﺅ…. میں تھوڑی دیر باہر واک کرنا چاہتی ہوں….“
”اس حالت میں؟“
مسکان نے آنکھیں دکھائیں….
”ہاں،کیوں کیا ہوا مجھے؟“
”اپنی آنکھیں دیکھو میڈم…. نیند سے لال بھبھوکا ہو رہی ہیں…. اور نیند کی بدولت آپ محترمہ ہلکے سے جھول بھی رہی ہیں جس کا اندازہ شاید آپ کی خود کی ذات کو محسوس نہیں ہو رہا ہے….“
وہ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی….
”اندر میرا دم گھٹ رہا ہے مسکان!…. تھوڑی دیر واک کر کے واپس آ جاﺅں گی….“
”آر یو شیور؟“
”ہاں ناں….!“
”اوکے….! ویسے دو تین لڑکیاں ابھی بھی باہر ٹہل رہی ہیں…. ان کے جاتے یا ان سے پہلے ہی کمرے میں واپس آ جانا….“
مسکان گہری متانت سے گویا تھی….مانہ اثبات میں سر ہلا کر رہ گئی…. مسکان کمرے کی جانب بڑھ چکی تھی…. مانہ دھیرے دھیرے سیڑھیوں کی گرل تھامے زینہ بہ زینہ نیچے اُترنے لگی…. چوب محل کے دروازے سے باہر نکلتے ہی یخ ٹھنڈی ہوا اس کے جسم میں سرایت کرتی چلی گئی…. مانہ ایک لمحے کو کپکپا کر رہ گئی…. دور اسے چندلڑکیاں ایک گروپ بنائے ٹہلتی ہوئی دکھائی دی تھیں…. باہر دھندلکے کا سماں تھا…. وہ دھیرے دھیرے قدم بڑھاتی اپنے من پسند درخت کی جانب بڑھنے لگی….
ض……..ض……..ض
الحان سٹیم شاور لینے کے بعد نائٹ ڈریس میں ملبوس واش روم سے باہر نکلا تھا…. پیشانی پر بکھری گیلی لٹوں کو انگلیوں کی مدد سے سنوارتا وہ سگریٹ سلگانے لگا …. ایک لمبا کش لینے کے بعد ٹی وی کا ریموٹ تھامتا وہ راکنگ چیئر پر براجمان ہوا …. ہلکے سے جھولتا، ٹی وی پر نظریں جمائے، سگریٹ کے لمبے لمبے کش لیتاوہ ایک بار پھر سے اسی ذات کے بارے میں سوچنے لگا تھا….
”آخر ہو کیا گیا ہے اسے؟…. ایک ہی رات میں اتنا بدلاﺅ؟….“
وہ من ہی من میں خود سے مخاطب تھا…. غیردلچسپی سے ٹی وی کے چینلز چینج کرتا وہ کش پر کش لگائے چلا جا رہاتھا…. تھک ہار کرآدھ جلی سگریٹ، بری طرح سے ایش ٹرے میں مسلنے کے بعد وہ اٹھ کھڑاہوا…. بالوں میں انگلیاں پھنسائے، لب بھینچے وہ اردگرد گرداننے لگا…. سوچ سوچ کر اس کے اوسان خطا ہوا چاہتے تھے….
”کیا بکواس ہے یار! کیوں ہے اتنی بے چینی؟“
وہ اُکتا چکا تھا…. آئینہ میںاپنا عکس دیکھتا وہ خود سے مخاطب تھا….
”کیوں میں ایک معمولی سی لڑکی کے لیے اس قدر بے چین ہو رہا ہوں؟…. کیوں؟….“
اس کے پاس اس کیوں کا جواب نہ تھا…. ہاتھوں کو مٹھی کے اندازمیں دبوچتا وہ سرد ہوا کے باعث ایک جھرجھری سی لے کر رہ گیا…. ٹیرس کے دروازے کا پٹ ہلکا سا کھلا تھا…. جس کے ذریعے سرد سرد ہوا کمرے کے اندر بہ آسانی داخل ہو رہی تھی…. وہ چلتا ہوا دروازے تک پہنچا…. ہاتھ بڑھا کر دروازہ بند کرتے کرتے وہ رُک سا گیا…. اس کے دماغ سے ایک گرم گرم سی لہر اٹھی…. اور اس کے ساتھ ہی جسم میں گھوم سی گئی…. اس نے محسوس کیا کہ اس کے چہرے سے اس کے جسم سے آگ نکلنے لگی ہے…. وہ اپنے آپ پر قابو پانے کی کوشش کرنے لگا…. باہر دھندلکے کے بیچ و بیچ درخت کی جانب بڑھتی ذات اسے کسی بھٹکی روح سے کم دکھائی نہ دے رہی تھی….
”مانو!“
وہ بغور اس کی جانب دیکھتا، پھرتی کی سی تیزی سے کمرے کا مین دروازہ کھولتا، سیڑھیاں پھلانگتا، کیبن کے مین دروازے سے باہر نکل آیا…. اس نے اردگرد نگاہ دوڑائی…. وہاں اس کے سوا اور کوئی نہ تھا…. وہ تیزی سے آگے بڑھا کہ اسی پل دھندلکے سے ایک نسوانی آواز اُبھری….
”مانہ! ہم سب لوگ اندر جا رہی ہیں…. رات کافی ہو گئی ہے…. تم بھی اندر آ جاﺅ…. اس سے پہلے کہ مسکان اور جینی کی طرح تم بھی کھو کر ہم سب لوگوں کا سارا مزہ کرکرا کر دو…. گو ٹو یور روم ناﺅ!“
لہجے میں بے رُخی واضح طور پر محسوس کی جا سکتی تھی…. الحان نے غور سے دیکھا…. دھندلکے دھیرے دھیرے پیچھے کی جانب بڑھنے لگے…. وہاں سحر کھڑی مانہ کو حقارت بھری نگاہوں سے گھورتی دکھائی دی تھی…. اسے دیکھتے ہی الحان مٹھیاں دبوچے اپنے دانت پیس کر رہ گیا تھا….
”سحر!…. یور آر آﺅٹ آف دز گیم…. اس بار کی ایلیمنیشن میں سب سے پہلا نام سحر کا ہی لینے والا ہوں…. فور شیور!“
وہ گھورتی نگاہوں سے اس کی جانب دیکھتا زیرلب بڑبڑایا تھا….
مانہ اپنا چشمہ درست کرتی اثبات میں سر ہلانے لگی تھی….
”آتی ہوں…. تم لوگ جاﺅ….“
سحر واپس پلٹ چکی تھی…. مانہ درخت کے سائے تلے بیٹھتے ہی لمبا سانس کھینچتی آسمان پر نگاہیں دوڑانے لگی…. الحان قدم بہ قدم چلتا اس کے قریب آن کھڑا ہوا….
”مانو! مجھے تم سے بات کرنی ہے….“
وہ سرگوشی میں گویا ہوا…. مانہ اس کی بات سنی اَن سنی کیے وسیع آسمان کی جانب تکتی رہی…. الحان ٹکٹکی باندھے اس کے خوبصورت وجود کا طواف کرنے لگا تھا…. وہ اس وقت چاند کی مدھم نیلی روشنی میں ازحد خوبصورت دکھائی دے رہی تھیں…. لیکن ان خوبصورت آنکھوں کو پردہ دئیے چشمہ الحان کو بے حد زہر دکھائی دے رہا تھا…. اگلے ہی پل وہ نظروں کا زاویہ گھمائے سر تا پا الحان کے وجود کی جانب دیکھنے لگی….
”الحان ابراہیم!“
اس کا نام پکارتے ہی وہ دھیمے سے مسکرا دی…. الحان خاموشی سے اس کی جانب دیکھتا رہا…. وہ دھیمے لہجے میں پھر سے گویا ہوئی….
”میں سو رہی تھی…. مجھے یوں لگا کہ…. کوئی مجھے دور سے پکار رہا ہے…. میں اٹھنے لگی تو نیند نے غلبہ کیا…. اور میری آنکھیں بند ہو گئیں…. مگر سو نہیں سکی…. پکارنے کی آواز مسلسل آتی چلی گئی…. قریب ہوتی گئی…. اتنی قریب ہو گئی کہ جیسے کوئی کان کے ساتھ منہ لگائے دھیرے سے میرا نام لے رہا ہو…. میں جاگی…. آواز آتی رہی…. میں اٹھی تو بھی آواز آتی رہی…. میں بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی…. آواز مجھ سے لپٹنے لگی…. میں آواز کی سمت چلنے لگی…. پھر یکایک آواز میری طرف بڑھنے لگی…. اس آواز میں اب پکار کی کیفیت نہ تھی…. بلکہ کسی کے آہستہ آہستہ چلنے کی چاپ تھی…. چاپ قریب آتی گئی…. اور پھر…. میرے سامنے آ کر رُک گئی….“
وہ حیران کھڑے الحان کی جانب دیکھتی اٹھ کھڑی ہوئی….
”ایک دم ٹھنڈی ہوا نے مجھے چاروں طرف سے گھیر لیا…. چاپ ایک بار پھر سے میری جانب بڑھنے لگی…. میں سر اٹھا کر دیکھنا چاہتی تھی…. میں پوچھنا چاہتی تھی کہ کون؟…. مگر آواز حلق میں ہی کہیں گم ہو گئی…. پھر…. آپ میرے سامنے آ گئے…. میں اس سارے واقعے سے بالکل حیران ہوں…. مجھے لگا کہ چاند کی مدھم روشنی نے میرے واہمہ کو جسم دے دیا ہے…. میں نے چاند کی روشنی کو بالکل اگنورکر دیا…. مگر…. مجھے آپ کی سانسیں صاف سائی دیتی ہیں…. مجھے یقین ہے کہ میں اگر ہاتھ بڑھاﺅں تو آپ کو چھو سکتی ہوں….“
اس نے ہاتھ بڑھا کر الحان کو چھونا چاہا…. اسے چھوتے ہی اس کا سارا بدن درد سے جھنجھنا اٹھا…. اس کے سارے بدن میں شدید درد تھا…. وہ اس احساس سے کراہی…. الحان حواس باختہ کھڑا اس کے نئے روپ کی جانب تکتا چلا گیا….
”آپ واقعی موجود ہیں…. وہ آواز واہمہ نہ تھی…. آپ کی صورت واہمہ نہ تھی….“
مانہ سرگوشی کرتی اس کی جانب دیکھنے لگی…. براہ راست اس کی آنکھوں میں جھانکنے لگی…. اس کے بدن میں درد بڑھتا چلا گیا…. ناقابل برداشت ہو گیا…. اس پر قابو پانے کی ہر کوشش ناکام ہو گئی…. اس کا دل چاہا کہ وہ دھاڑیں مار مار کر رو دے…. کہ کسی صورت اس کا یہ درد کم ہو جائے…. اس کے پیٹ سے ایک مروڑ اٹھا اور اس کے حلق کو چیرتا ہوا اس کے لبوں پر آ رُکا…. اس کے لب کھلے اور اس نے سنا…. اپنی ہی آواز اسے کوسوں دور سے آتی سنائی دی تھی….
”آپ کے آنے سے پہلے میں سکھی تو نہ تھی، مگر میں اپنے دکھ سے مطمئن تھی…. میرے ناولز میرا دکھ بٹاتے تھے…. جو میں کہہ نہیں سکتی تھی…. وہ ناول کی صورت لکھ چھوڑتی…. زرین گھر آتی تھی تو میں سب دکھ بھول جایا کرتی تھی…. پھر جب میں یہاں آئی، بلکہ زبردستی لائی گئی….“
وہ پُرنم نگاہوں سے خوبصورت مسکراہٹ لبوں پر سجائے بولی….
”یہاں کی ہر شے مجھ سے بیگانی تھی…. یہاں کی ہوا، یہاں کے چاند ستارے، یہاں کے پھول، یہاں کے درخت، یہاں کے پرندوں کی چہچہاہٹ،یہاں کے دن رات، سب کے سب اب آپ کے قدموں کی چاپ میں گم ہو گئے ہیں…. جہاں آپ کی چاپ سنائی دیتی ہے وہاں سب کچھ خوشنما ہوتا نظر آتا ہے…. مجھے اس سب نے بالکل پریشان کر دیا ہے الحان!“
وہ براہ راست اس کی نظروں میں جھانک رہی تھی…. الحان کچھ دیر ساکت کھڑا اضطراب کے عالم میں اس کی جانب دیکھتا رہا…. پھر دھیمے لہجے میں گویا ہوا….
”پریشان تو تم نے بھی مجھے بہت کر دیا ہے…. تم یہاں کیوں آئی ہو؟…. مجھے اتنا بے چین کر کے رکھ دیا تم نے…. کیوں؟…. اب اگر تم چلی جاﺅ گی تو ہر شے پر تمہاری ملاقات کے نشانات موجود رہیں گے…. سورج تمہی کو ایک اُفق سے دوسرے اُفق تک ڈھونڈتا پھرے گا…. یہ چاند، یہ چاندنی…. صرف تمہارے لیے ہی رقصاں ہو گی…. پرندوں کی چہچہاہٹ تم کو ہی رجھانے کو ہو گی…. یہ ہوا صرف تم ہی کو پکارتی پھرے گی…. تم چلی جاﺅ گی تو سب کچھ بدل سا جائے گا…. میرا سکھ چین سب کچھ لوٹ لیا ہے تم نے….“
”میں نے کچھ نہیں لوٹا…. میں نے کسی سے کچھ نہیں چھینا…. بلکہ میرے پاس جو کچھ بھی تھا…. وہ یہاں لٹ گیا ہے…. میرے پاس اب کچھ بھی نہیں….“
”میں نے کہا تھا ناں کہ تم بھی مجھے پسند کرتی ہو…. مگر تم نہیں مانیں…. اور پھر تمہارے بدلے تیور…. تمہارے بدلے رویے نے مجھے بالکل پریشان کر کے رکھ دیا…. کیوں کیا تم نے ایسا …. بولو…. جواب دو مجھے….“
وہ اسے دونوں ہاتھوں سے تھامے اس کے چہرے کا طواف کرتا پوچھ رہا تھا…. سرخ ہوتی نگاہیں الحان کے چہرے پر گاڑھے وہ سرگوشی میں گویا ہوئی….
”یہ سب کرنے کے لیے آپ ہی نے مجھے مجبور کیا….“
”میں نے؟“
وہ اچنبھے سے اس کی جانب دیکھنے لگا….
”ہاں….آپ نے…. آپ مجھے پسند کرتے ہیں…. میں اپنے لیے آپ کی پسندیدگی کو غلط ثابت کرنا چاہتی تھی…. اور آپ کا یقین کہ میں بھی آپ کو پسند کرتی ہوں، کو جھٹلانا چاہتی تھی….“
نشہ ایک بار پھر سے زور پکڑنے لگا تھا…. اس کی آنکھیں اپنے آپ بوجھل ہوتی دکھائی دی تھیں…. الحان بہت غور سے اس کا جائزہ لیتا دکھائی دیا تھا….
”تم…. تم…. تم نشے میں ہو مانو؟…. تم نے نشہ کیا ہے؟ تم ایسا کیسے کر سکتی ہو؟….“
وہ پوچھ رہا تھا، مگر مانہ اسے اَن سنا کیے اپنی ہی کہے چلی جا رہی تھی….
”اس Island پر موجود تمام لڑکیوں سے الگ لگتی تھی آپ کو…. میں نے سوچا کیوں نہ میں بھی ان جیسی بن جاﺅں…. اسی بہانے آپ کو میں الگ نہیں لگوں گی…. انہی جیسی لگوں گی….“
اس کی آنکھیں بند ہونے لگی تھیں….
”تم نے یہ سب اس لیے کیا…. تاکہ میں تم سے دور رہوں؟“
وہ خاصا حیران دکھائی دےنے لگا تھا…. مانہ اثبات میں سر ہلاتی پھر سے سرگوشی کرنے لگی….
”ہاں…. تاکہ آپ مجھ سے دور رہیں….“
جواباً الحان اپنی آنکھیں میچ کر رہ گیا….
”اُف…. میرا سر پھٹ رہا ہے….“
اس نے دیکھا…. وہ اپنا سر تھامے تکلیف سے کراہ رہی تھی….
”تم نے نشہ بھی اس لیے کیا تاکہ میں تمہیں ان سب جیسا سمجھ کر تم سے دور ہو جاﺅں…. تمہیں نوٹس نہیں کروں؟…. تمہیں اگنور کروں…. تم سے دور رہوں؟….“
وہ اب غصے میں پھنکارنے لگا تھا….
”اوں ہوں….“
وہ دھیمے سے مسکراتی بمشکل آنکھیں کھولے اس کی جانب دیکھنے لگی….
”لیکن مجھے لگتا ہے کہ میں یہ سب کچھ غلط کر رہی ہوں…. دیکھیں ناں…. اتنی محنت کے باوجود آپ میرے سامنے موجود ہیں….“
الحان تحمل کا مظاہرہ کرتا، آنکھیں میچے خود پر کنٹرول کرنے لگا….
”تو یہ سب کچھ مجھے دور کرنے کے لیے کیا گیا….“
وہ اس کے چہرے کی جانب دیکھتا دل ہی دل میں ہمکلام تھا….
”مگر کیوں؟…. پسند تو یہ بھی مجھے کرتی ہے…. میں پہلے سے ہی جانتا تھا…. مگر اَنا پرست لڑکی منہ سے کچھ بولے گی نہیں کبھی…. آج جو کچھ بھی اس نے مجھ سے کہا…. شاید صبح تک بھول چکی ہو…. مگر اچھا ہے…. اسے کچھ یاد نہیں رہے…. یہ جانا چاہتی ہے تو میں اسے جانے دوں گا…. اس کی یہی خواہش ہے تو یہی سہی….“
وہ من ہی من میں فیصلہ کر چکا….
”اگر تم اسے اتنی آسانی سے واپس جانے کی اجازت دے دو گے تو سوچ لو الحان ابراہیم…. شاید یہ تمہاری زندگی کی پہلی اور آخری لڑکی ہو…. جسے بھولنے میں تمہاری عمر گزرجائے…. جسے ڈھونڈنے کی چاہ میں تم پاگل دیوانے بن بیٹھو…. مت جانے دو…. یہی وہ لڑکی ہے…. مت جانے دو….“
اپنی ہی آواز خود کی سماعت سے ٹکراتے ہی وہ یکایک چونک اٹھا…. اردگرد نگاہ دوڑاتا وہ ایک بار پھر سے جھولتی مانہ کی جانب دیکھنے لگا…. کچھ دیراسے تکنے کے بعد وہ ایک بار پھر سے گویا ہوا….
”تم اس وقت اپنے ہوش میں نہیں مانو!…. بہتر یہی ہے کہ تم اپنے روم میں چلی جاﺅ….“
”لیکن!“
”اپنے روم میں جاﺅ….ورنہ میں اپنا پرامس توڑ دوں گا جو میں نے تم سے کیا تھا…. ٹاپ (4) والا پرامس!“
اس نے یاد دلانے کی کوشش کی…. مانہ دھیمے سے مسکرا دی…. الحان اسے سہارا دیے چوب محل کے مین دروازے تک آیا تھا…. سیڑھیوں تک پہنچتے ہی وہ بری طرح سے لڑکھڑا گئی تھی…. الحان تیزی سے اس کی جانب لپکا اور اسے سہارا دئیے سیڑھیاں چڑھنے لگا…. کمرے کے دروازے تک پہنچتے ہی مانہ مسکراتے ہوئے اس کی جانب دیکھنے لگی….
”تھینک یُو!“
وہ اس وقت بے انتہا خوبصورت دکھائی دے رہی تھی…. الحان اس کے چہرے کی جانب دیکھتا اس کے مزید قریب ہو کھڑا ہوا…. مانہ بوجھل ہوتی نگاہوں سے اس کی جانب دیکھ رہی تھی…. الحان نے دھیرے سے اس کا ہاتھ تھامااور جھک کراس کے ہاتھ پر اپنے گلابی ہونٹ پیسوت کرتے ہی بوسہ دے ڈالا…. مانہ حیرانگی سے اس کی جانب دیکھنے لگی…. الحان ایک بار پھر سے سیدھا ہو کھڑا ہوا تھا….
”گڈ نائٹ مانو!“
سرگوشی کرتا وہ ہینڈل گھما کر اس کی جانب دیکھنے لگا…. مانہ دبے قدموں اندر داخل ہو گئی…. دروازہ بند کرتا وہ تیزی سے چلتا، چوب محل سے نکل کر کیبن میں گھستے ہی اپنے کمرے میں داخل ہوگیا تھا…. کمرے میں ایک کونے سے دوسرے کونے تک چکرکاٹتا وہ لب بھینچے مسلسل کچھ سوچے چلا جا رہا تھا….
”ہم دونوں آل ریڈی ڈیل کر چکے تھے…. اس کے باوجود مانو نے ایسا کیوں کیا؟…. لیکن مجھے خوشی ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی میں مانو کے دل و دماغ پر سوار ہوں….“
سوچتے سوچتے وہ ایک دم مسکرا دیا…. وہ کمرے کے بیچ و بیچ رُک کھڑا ہوا…. لبوں پر خوبصورت مسکراہٹ سجی تھی….
”مانو کو صبح تک کچھ یاد نہیں رہے گا کہ وہ اپنا تمام پلان مجھ سے شیئر کر چکی ہے…. اب میں پلان کروں گا کہ مجھے کیا کرنا ہے…. مانو! اب آئے گا کھیل کا اصلی مزہ….“
دل ہی دل میں پلان کرتا وہ بیڈ پر لیٹتے ہی ایک بار پھر سے مسکرا دیا….
ض……..ض……..ض
جزیرے میں اونچے اونچے درختوں کے درمیان گلزار کھلے تھے…. چوب محل ڈوبتے سورج کی کرنوں سے دمک رہا تھا…. الحان اپنے بیڈ پر دنیا جہاں سے بے خبر گہری نیند سو رہا تھا…. ٹیرس کے بند دروازے کی سائیڈز سے سورج کی کرنیں اندر داخل ہو رہی تھیں…. ایک شوخ کرن دوڑ کر الحان کے بیڈ پر چڑھ گئی…. اور الحان کی پلکوں میں گدگدی کرنے لگی…. الحان نے پہلو بدلا اور آنکھیں کھول دیں…. کچھ دیر اٹھ کر یونہی بیٹھا رہا جیسے کسی آواز پر کان دھرے ہو…. پھر جیسے کوئی آوازنہ سن کر گھبرا کر اٹھ کھڑا ہوا…. اس نے ٹیرس سے باہر جھانکا…. سبز نیلے پانیوں پر دور ایک بادبان دکھائی دیا…. اور پھر نظر سے اوجھل ہو گیا….
الحان مڑا اور کمرے سے باہر بھاگا…. چوب محل میں گھستے ہی متلاشی نگاہیں ادھر اُدھر دوڑاتا سیڑھیاں پھلانگتا ہر ہر کمرے کی تلاشی لینے لگا…. تمام کمرے خالی تھے…. وہاں کوئی بھی نہ تھا…. متلاشی نظریں ادھر اُدھر دوڑاتا وہ محل سے باہر گلزار میں نکل آیاڈاس کے خوبصورت پھولوں کو دیکھ کر وہ سب کچھ بھول گیا…. اور پھران پھولوں کو دیکھتا دیکھتا ایک کنج میں جا نکلا…. اس کنج میں ایک چشمہ اُبل رہا تھا…. چشمے کا پانی…. پھولوں سے لدے پھندے پودوں کے درمیان نہر کی صورت میں بہہ رہا تھا…. اس نہر کے ایک موڑ پر پھولوں کے سائے میں کوئی سو رہا تھا وہ اس سونے والے کی طرف بڑھا مگر سورج ڈوب گیا…. اور ہر طرف اندھیرا چھا گیا…. وہ اندھیرے میں سونے والے کی سمت بڑھتا رہا…. دھیرے دھیرے…. دبے دبے قدموں…. راستہ ہر قدم کے ساتھ لمبا ہوتا رہا…. وہ تھک کر رُک گیا…. یکایک اس کے سامنے سے پورا چاند نکل آیا…. اس کی روشنی میں اس نے دور تک نگاہ کی مگر وہاں نہ وہ پودا تھا نہ ہی کوئی سونے والا…. وہ وہیں حیران کھڑا چاند کی جانب تکتا رہا…. اگلے ہی پل ایک دم اس کے پیچھے سے گھٹی ہوئی چیخ فضا میں پھڑپھڑائی…. وہ مڑا…. اس کے پیچھے اس کے سائے میں پھولوں کے درمیان ایک خوفزدہ دوشیزہ منہ پر ہاتھ رکھے بیٹھی تھی…. اس کے مڑتے ہی اس دوشیزہ نے سسکی بھری…. وہ چاندنی کی راہ سے ہٹ گیا…. اب چاندنی اس دوشیزہ کے بدن پر تھی، الحان کے منہ پر بھی تھی…. وہ اس کی جانب بڑھا اور پوچھنے لگا….
”کون ہو تم؟….“
دوشیزہ آواز سنتے ہی سر اٹھا کر بولی….
”تم آ گئے الحان!…. تم نہ آتے تو نجانے کتنی صدیاں سوتی رہتی میں….“
الحان چونکا…. یہ آواز مانہ کی تھی…. وہ اس کی جانب بڑھا…. اس کی جانب بڑھتے بڑھتے وہ یکایک چونک کر اٹھ بیٹھا…. وہ حیران تھا….
”یہ کس قسم کے خواب آ رہے ہیں آج کل مجھے؟“
وہ زیرلب بڑبڑایا…. پھر کچھ سوچتے سوچتے دھیمے سے مسکرا دیا….اس نے انگڑائی لی…. اور ساتھ ہی لحاف بھی اُتار دیا…. سلیپر پہنتے ہی وہ اٹھ کھڑا ہوا….
”چلو مانو میڈم!…. آج ہماری باری….“
شریر مسکراہٹ لبوں پر بکھیرے وہ واش روم میں داخل ہو گیا….
ض……..ض……..ض
پہلو بدلتے ہی وہ کسمساتی ہوئی اٹھ بیٹھی…. اس کے سر میں شدید درد تھا…. سر دونوں ہاتھوں میں تھامے وہ کراہ کر رہ گئی….
”اُٹھ گئیں میڈم!“
مسکان ہاتھوں پر لوشن سے مساج کرتی آئنہ میں سے ہی اس کی جانب دیکھتے ہوئے بولی…. مانہ نے سر اٹھا کر اسکی جانب دیکھا…. اس کا چہرہ اسے دھندلا سا دکھائی دیا….
”سر میں شدید درد ہے….“
مانہ انکھیں میچتے ہوئے بولی….
”کیا ہوا؟“
”پتا نہیں….“
”کل رات کافی دیر تک تم کمرے سے باہر رہی…. شاید ٹھنڈ لگ گئی ہو گی…. میں نے تو تمہیں منع بھی کیا تھا، پر تم نے میری ایک نہیں سنی….“
وہ مصروف انداز میں گویا تھی…. مانہ اچنبھے سے اس کی جانب دیکھنے لگی….
”میں؟…. میں تو تم سب سے پہلے ہی کمرے میں آ گئی تھی….“
”ہاں…. اس کے بعد آپ دوبارہ کمرے سے باہر تازہ ہوا کے لیے گارڈن ایریا میں گئی تھیں….“
”نہیں تو….“
وہ منتشر دکھائی دینے لگی….
”ارے….“
مسکان پلٹ کر اس کے قریب آ کھڑی ہوئی…. وہ بول رہی تھی….
”تم تھوڑی دیر کا کہہ کر گئی…. لیکن کافی دیر تک واپس نہیں آئی تو میں بھی پریشان ہونے لگی…. مجھے لگا شاید اس بار تم کہیں کھو جاﺅ گی اور پھر مجھ میں تو ہرگز ہمت نہیں کہ میں جنگل میں جا کر تمہیں ڈھونڈتی…. شکر ہے تم واپس آ گئیں…. لیکن جب تم واپس آئی تھیں تب تم مسکرا رہی تھیں…. میں نے مسکرانے کی وجہ پوچھی تو تم بیڈ پر گرتے ہی نیند کی وادیوں میں گم ہو گئیں….“
اسے اچنبھہ ہوا کہ وہ ایسا کیسے کر سکتی ہے…. اگلے ہی پل وہ دھیمے سے مسکرا دی….
”مجھے واقعی کچھ نہیں معلوم…. کچھ بھی نہیں معلوم…. کل کی رات بہت عجیب تھی یار….! پتہ نہیں کیا ہو گیا تھا اچانک مجھے….“
”ہوں…. کل رات بھی تمہارے سر میں درد کی شکایت تھی….“
مسکان پریشانی سے گویا ہوئی….
”ہاں…. اور ابھی بھی شدید درد ہے…. ایسے لگ رہا ہے جیسے ابھی بلاسٹ ہو جائے گا….“
”اوکے…. تم ریسٹ کرو…. میں تمہارے لیے ناشتہ اور دوا بھجواتی ہوں….“
”نہیں نہیں…. میں نیچے ہی آ رہی ہوں…. خود کو بیمار فِیل کروں گی تو بیمار ہی پڑی رہوں گی…. مجھے اس سب کی عادت نہیں…. تم چلو میں آتی ہوں….“
”اوکے!“
مسکان کمرے سے باہر نکل گئی جبکہ مانہ کچھ دیر یونہی بیٹھی اپنا سر دباتی رہی…. پھر اٹھی سلیپر پہنتی واش روم میں داخل ہو گئی….
ض……..ض……..ض
الحان بہت خوش تھا…. نک سک سا تیار ہوا، گنگناتا وہ اپنے کیبن سے باہر نکلا…. کیبن سے باہر قدم جماتے ہی، سامنے نظر اٹھاتا وہ ایک دم ساکت سا ہو کھڑا ہوا…. مانہ ازحد خوشگوار موڈ میں عاشرزمان کے ساتھ ساحل پر بیٹھی دکھائی دی تھی…. الحان تیوری چڑھائے لب بھینچے قدم بہ قدم ان دونوں کی جانب بڑھنے لگا….
”سو!…. تمہیں الحان پسند ہے؟“
”افکورس نوٹ…. ہرگز نہیں….“
عاشر بغور اس کے مسکراتے چہرے کا جائزہ لینے لگا تھا….
”تمہیں معلوم ہے…. کہ کریو (Crew) تم دونوں کے بارے میں کیا کیا باتیں کر رہا ہے؟“
عاشر اثبات میں سر ہلاتے ہی متانت سے گویا ہوا تھا…. مانہ اچنبھے سے اس کی جانب دیکھنے لگی…. وہ بول رہا تھا….
”الحان جس طرح کی اٹینشن تمہیں دیتا آیا ہے اور دے رہا ہے…. میں اچھے سے سمجھ سکتا ہوں….“
”ہوں…. مجھے نہیں معلوم الحان کا کیا مسئلہ ہے…. لیکن میری طرف سے ایسا کچھ بھی نہیں ہے عاشر!“
عاشر اثبات میں سر ہلاتا اٹھ کھڑا ہوا….
”اوکے…. مجھے بس کنفرم کرنا تھا…. انجوائے یور ڈے!“
”ہوں….“
عاشر واپسی کی جانب مڑ چکا تھا جبکہ مانہ کچھ سوچتی سمندر کی لہروں پر نظریں جما بیٹھی تھی…. اگلے ہی پل بلا ارادہ وہ سر گھما کر ادھر اُدھر دیکھنے لگی تھی کہ اس کی نظر الحان اور عاشر دونوں پر جا رُکی…. وہ دونوں اسی کی جانب دیکھتے نجانے کیا باتیں کر رہے تھے…. وہ حیران ہوئی پھر عاشر کے آگے بڑھتے ہی الحان کو اپنی جانب بڑھتا دیکھ وہ ایک بار پھر سے سمندر پر نظریں جما بیٹھی….
”گڈ مارننگ لیڈی!“
وہ اس کے نزدیک پہنچتے ہی اپنے مخصوص انداز میں گویا ہوا…. جواباً مانہ بمشکل مسکراتے ہوئے گویا ہوئی….
”گڈ مارننگ!“
جینز اوپر کی جانب کھینچتا وہ وہیں اس کے ساتھ ہی برابر میں بیٹھ گیا….
”عاشر کے ساتھ کیا باتیں چل رہی تھیں؟….“
سمندر کی لہروں کو محور بنائے وہ متانت سے گویا ہوا….
”کچھ خاص نہیں…. بس ویسے ہی ادھر اُدھر کی بات….“
اس نے کندھے اُچکائے….
”پھر بھی…. کیا باتیں؟“
وہ براہ راست اس کی جانب دیکھتا گہری سنجیدگی سے گویا تھا….
”کچھ بھی نہیں….“
”تم…. عاشر کو پرسنلی جانتی ہو؟“
”کیا مطلب ہوا اس سوال کا…. افکورس میں جانتی ہوں عاشر کو…. میں نے آپ کو بتایا تھا کہ ہم دونوں کے بیچ ایک کانٹریکٹ ہوا ہے اس سٹوپڈ شو کو لے کر…. آپ بھول گئے؟“
وہ بے ساختہ بولی….
”لیکن میں پوچھ رہا ہوں کہ کیا تم عاشر کو پرسنلی جانتی ہو….؟ اس شو سے ہٹ کر؟“
مانہ تیوری چڑھائے اس کی جانب دیکھنے لگی…. وہ ازحد سنجیدہ دکھائی دے رہا تھا….
”الحان! میں اپنا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتی…. آپ کے ان تمام اسٹوپڈ سوالوں کے جواب دے کر…. اس لیے پلیز….“
وہ کہتے ہی اٹھ کھڑی ہوئی….
”اور پلیز…. ڈونٹ ٹچ می!“
الحان کا اس کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش پر وہ بھڑک اٹھی…. الحان گہری سانس کھینچتا اٹھ کھڑا ہوا….
”اوکے…. آئی ایم سوری…. لیکن میں خوش ہو ںکہ مجھے میری پرانی والی مانو واپس مل گئی….“
”پتا نہیں کیا بولتے رہتے ہیں…. میری سمجھ سے تو باہر ہیں آپ….“
وہ قدم بہ قدم آگے کی جانب بڑھنے لگی…. الحان اس کے تعاقب میں تھا….
”مطلب یہ کہ تمہیں کچھ بھی یاد نہیں؟…. کہ کل رات تم مجھے اپنے پلان کے بارے میں سب کچھ صاف صاف بتا چکی ہو…. کہ یہ سب کچھ تم نے کیوں کیا…. اور تو اور، تم اتنے نشے میں تھیں کہ….“
”نشہ…. میں نے زندگی میں کبھی نشہ نہیں کیا…. لاحول ولا قوة…. حد ہوتی ہے جھوٹ بولنے کی الحان!“
وہ اس کے مقابل کھڑی غصہ سے پھنکارنے لگی…. الحان اپنی مخصوص مسکراہٹ لبوںپر بکھیرے براہ راست اس کی جانب دیکھنے لگا….
”بہت اچھا لگتا ہے…. تمہارے منہ سے میرا نام سننا….“
وہ آنکھیں نکالے اسے گھورنے لگی….
”اور یہ تمہارا غصہ…. بات بات پر روٹھنا…. قسم سے بہت مِس کیا میں نے تمہیں مانو!“
وہ نظروں کا زاویہ گھماتی ایک بار پھر سے آگے کی جانب بڑھنے لگی….
”اور بائے دی وے…. میں جھوٹ نہیں بول رہا…. تم کل رات نشہ میں تھیں اور تمہی نے مجھے بتایا کہ تم ایکٹنگ کر رہی تھیں صرف اس لیے تاکہ میں تم سے دور رہوں…. اور سنو میری بات! تم اپنی ایکٹنگ میں فیل ہو گئیں…. تم نے مجھ سے اپنی میرے لیے پسندیدگی کا اظہار بھی کیا….اور تو اور، تم نے مجھے کِس (Kiss) بھی کیا….
وہ اس کے تعاقب میں چلتا کل رات کی سچائی بیان کرتے کرتے ساتھ میں ایک جھوٹ بھی گاڑھ گیا…. تیزی سے اٹھتے آگے کی جانب بڑھتے قدم ایک جھٹکے سے رُکے…. وہ حواس باختہ آنکھیں پھیلائے الحان کی جانب دیکھنے لگی….
”کیا….؟“
”یس….!“
وہ معنی خیز مسکراہٹ سجا کھڑا ہوا….مانہ رونے کو آئی تھی، اس کے ہاتھ پیر پھولنے لگے تھے
”اوکے اوکے …. تم نے مجھے کِس نہیں کیا…. پلیز رونا نہیں…. لیکن میں جھوٹ نہیں بول رہا…. کل رات تم نے اپنی محبت کا اظہار کیا تھا اور مجھے صاف لفظوں میں بتایا کہ تم مجھے خود سے دور کرنے کے لیے ایکٹنگ کر رہی تھیں…. بولو…. یہ سب سچ ہے یا نہیں؟“
وہ براہ راست اس کی آنکھوںمیں جھانکنے لگا…. مانہ کو کچھ یاد نہ آ رہا تھا…. لیکن وہ سچ بول رہا تھا…. کچھ تو ہوا تھا کل رات جس کا لمحہ بھر اس کے اوسان سے ٹکراتا دکھائی نے دے رہا تھا…. وہ نادم دکھائی دینے لگی…. الحان مسکراتا ہوا الٹے قدموں واپس جاتے راستے کی جانب بڑھنے لگا….
”ویلکم بیک مانو!“
اپنے اندازمیں بولتا وہ واپس پلٹ گیا…. جبکہ مانہ وہیں کھڑی پیچ و تاپ کھاتی لب بھینچ کر رہ گئی….
ض……..ض……..ض
”Hi الحان!“
سحر نے الحان کو چوب محل کے دروازے سے اندر داخل ہوتے دیکھ، میگزین فولڈ کرتے ہی شیریں لہجے میں مخاطب کیا…. الحان اس کی جانب دیکھتے ہی بے ساختہ اثبات میں سر ہلانے لگا…. اسے یاد آ گیا تھا کہ کل رات، سحر کس قدر حقات بھری نگاہوں سے مانہ کی جانب دیکھ رہی تھی اور اس کا لہجہ بھی اس کے ساتھ کس قدر تلخ تھا…. اسے اگنور کرتا وہ کاﺅچ پر سے کشن اٹھاتا دھڑام سے کاﺅچ پر براجمان ہو گیا۔
“I have a news, ladies!”
الحان کی مسحور کن بارعب آواز سماعت سے ٹکراتے ہی وہاں پر موجود تمام لڑکیاں ایک ساتھ سر اٹھائے اور موڑے، چہرے پر خوشگوار مسکراہٹ سجائے الحان کی جانب متوجہ ہوئی تھیں….
ض……..ض……..ض
”فائنلی!…. آشلے کو الحان کے ساتھ پرسنل ڈیٹ کا موقع مل ہی گیا….“
تیکھے نین نقش کی مالکہ صاحبہ (برٹش مسلم) اپنی بڑی بڑی آنکھیں جھپکاتی، لمبے سلکی تراشیدہ بالوں کو جھٹکا دیتی ایک انداز سے گویا ہوئی تھی….
اس کا نام تشہیر ہونے کے بعد وہ پھولے نہیں سما رہی تھی…. خوشی کے مارے پاگل ہوئی چلی جا رہی تھی….
اس بار مسکان نے لقمہ دیا…. مانہ دلچسپی سے ان دونوں کی باتیں سنتی، اپنا لنچ بنانے میں مصروف رہی….
”تم نے اس کا ڈریس دیکھا تھا؟…. یار!…. کس قدر شاندار ڈریس تھا…. اتنی تیاری کے ساتھ ڈیٹ پر گئی ہیں میڈم کہ بس….!“
مسکان بات مکمل کرتے ہی لمبی ٹھنڈی سانس کھینچ کر رہ گئی….
”اچھا….! کہاں پر ہے ڈیٹ؟“
غیردلچسپی کا مظاہرہ کرتی مانہ متانت بھرے انداز میں پوچھنے لگی….
”سمندر کے بیچ و بیچ،یاٹ پر ڈیٹ ہے ان دونوں کی…. اور جس طرح سے وہ میڈم تیار ہو کر گئی ہیں…. آئی بیٹ…. الحان آج فل فدا ہونے والا ہے آشلے پر….“
بسکٹ کا مزہ لیتی (برٹش مسلم) فارا بھی اب کے میدان میں کود پڑی تھی۔ مانہ خاموشی سے اثبات میں سر ہلانے لگی…. اسے ان سب کی پرواہ نہ تھی کہ الحان کس کے ساتھ ڈیٹ پر جاتا ہے اور کس پر فدا ہوتا ہے…. وہ ان سب کی باتیں اگنورکرتی اپنے کام میں مصروف رہی….
ض……..ض……..ض
”اس دن پارٹی کے بعد میں نے تمہیں کانٹیکٹ کرنے کی بہت کوشش کی الحان!…. لیکن تم تک پہنچنا، تم سے رابطہ کر پانا کوئی آسان کام تو نہ تھا…. میری بیڈ لک چلتی رہی…. پھر جب مجھے معلوم ہوا کہ تم اس رئیلٹی شو کے Bachelor ہو تو یقین جانو…. میںایک دم خوشی سے اُچھل پڑی…. اور پہلی فرصت میں عاشرزمان کے آفس پہنچ گئی…. مجھے اس شو میں آنا تھا…. صرف تمہارے لیے…. قسمت نے میرا ساتھ دیا…. اور آج دیکھو…. ہم تم دونوں ایک ساتھ ہیں….“
یاٹ پر آمنے سامنے رکھی گئی کرسیوں پر وہ دونوں براجمان تھے…. آشلے اپنے کرل کیے گئے بالوں کی لٹوں سے کھیلتی مسحور کن انداز میں محو گفتگو تھی…. الحان لبوں پر ہاتھ رکھے بغور اس کی جانب دیکھتا اس کی گفتگو پر دھیمے سے مسکرا دیا تھا….
موسم بہت خوشگوار تھا…. ابر کا سا سامان تھا…. بادل اُمڈ اُمڈ کر گھرے چلے آ رہے تھے…. خنک ہوا بھی ادھر سے اُدھر کھیلتی پھر رہی تھی…. یاٹ فل سپیڈ سے سمندر کا سینہ چیرتی نجانے کون سی منزل کی طرف رواں دواں تھی…. آشلے میرون سلک میکسی میں ملبوس، لائٹ سا میک اَپ اور بالوں کو کرل کیے بے انتہا خوبصورت لگ رہی تھی…. الحان بغور دلچسپی سے اس کا جائزہ لیتا دکھائی دیا تھا….
آشلے واقعی بے انتہا خوبصورت تھی لیکن اس کے پاس مانہ جیسی آنکھیں نہ تھیں، مانہ جیسی خوبصورت مسکراہٹ نہ تھی…. مانہ جیسی پرسنیلٹی نہ تھی اور نہ ہی وہ مانہ جیسی سوچ کی مالکہ تھی…. الحان نے ہر انداز سے آشلے کو مانہ کے ساتھ تشبیہہ دینے کی کوشش کی تھی…. نتیجتاً مانہ اسے ہر انداز ہر زاویہ سے بالکل مختلف، بالکل الگ اور بارعب دکھائی دی تھی….
”لڑکی کمال کی ہے…. لیکن مانو سے بڑھ کر نہیں…. اس کی آنکھیں بھی خوبصورت ہیں…. مگر مانو کی آنکھوں کی بات ہی الگ ہے…. اس کی آنکھوں میں ڈوب جانے کو دل چاہتا ہے….“
وہ اپنی ہی سوچ پر دھیمے سے مسکرا دیا…. اگلے ہی پل وہ اپنے ذہن میں اُبھرتی تمام سوچوں کو جھٹکتا، مکمل طور پر آشلے کی جانب متوجہ ہو بیٹھا تھا…. وہ دونوں تقریبا ایک آدھ گھنٹے تک یونہی بیٹھے باتیں کرتے رہے….
”میں شو کے پہلے دن سے انتظار میں تھی…. اور میری خواہش تھی کہ ہم تم کسی ایسی ہی ڈیٹ پر جائیں…. سہانا موسم ہو، میرے اور تمہارے سوا دور دور تک اور کوئی نہ ہو….“
وہ مسحورکن انداز میں بولتی اٹھ کھڑی ہوئی…. اور دھیرے دھیرے چلتی یاٹ کی گرل تھامے موجوں پر نظر دوڑاتی وسیع خوبصورت آسمان کی جانب دیکھنے لگی…. الحان بھی اس کے تعاقب میں چلتا، اس کے برابر میںجا کھڑاہوا…. الحان کی نظروں کا محور وسیع خوبصورت آسمان تھا…. آشلے نظریں گھما کر دلکش نگاہوں سے الحان کی جانب دیکھتی، اپنے بازو الحان کے بازوﺅں میں پھنساتی اس کے شولڈر پر اپنا سر ٹکا کھڑی ہوئی…. الحان اس کی اس اچانک حرکت پر یکایک چونک اٹھا….
”کیمرے لگے ہیں میڈم!…. بے کیئر فل!“
وہ اسے محتاط کرنے لگا….
”جانتی ہوں…. لیکن مجھے کسی کی پرواہ نہیں….“
وہ اپنے انگلش لہجہ میں مسحور انداز میںبولتی آنکھیں موندے اس کے لمس کو محسوس کرنے لگی….
”دیکھو آشلے! میں تمہاری فیلنگز سمجھ سکتا ہوں…. لیکن پلیز ٹرائے ٹو انڈرسٹینڈ…. فی الحال ہم دونوں کا اتنا بے تکلف ہونا ٹھیک بات نہیں…. پوری دنیا دیکھے گی یہ شو…. آئی ہوپ یو انڈرسٹینڈ!“
وہ تحمل بھرے اندازمیں، بڑی مہارت سے اسے خود سے جدا کرتے ہوئے بولا…. آشلے اب براہ راست اس کی آنکھوں میں جھانکنے لگی….
”تمہیں واقعی پوری دنیا کی پرواہ ہے…. یا مانہ کی؟“
”مطلب؟“
مانہ کے نام پر وہ اچنبھے سے اس کی جانب دیکھنے لگا….
”تمہیں معلوم ہے؟…. جزیرہ پر موجود تمام لوگ ایک ہی افواہ پھیلائے چلے جا رہے ہیں….“
وہ دونوں متانت بھرے اندازمیں اک دوجے کی جانب دیکھ رہے تھے….
”کیسی افواہ؟“
الحان نے پوچھا….
”یہی…. کہ تم ہم سب لڑکیوں میں مانہ کو زیادہ اہمیت دیتے ہو….“
وہ جیلسی کا مظاہرہ کرتی اپنی آنکھیں گھما کر رہ گئی…. الحان کو اس کا انداز پسند نہ آیا تھا…. تبھی وہ تیوری چڑھائے اس کی جانب دیکھتا زیرلب بڑبڑایا….
”مانو؟“
”اوہ…. تو اس کے لیے سپیشل نام بھی منتخب کیا ہوا ہے آپ جناب نے….“
وہ جل بھُن کر رہ گئی…. الحان جواباً کچھ نہ بولا….
”تم اسے پسند کرتے ہو؟“
جیلسی اس کے لہجے اور چہرے سے ٹپکتی دکھائی دی تھی….
”مجھے تمہارے سمیت جزیرے پر موجود تمام لڑکیاں پسند ہیں….“
وہ برجستہ بولا….
”تمہیں مانو پسند نہیں؟“
وہ بغور اس کی آنکھوں میں جھانکتا پوچھ رہا تھا…. آشلے نخوت سے ناک چڑھا کر رہ گئی….
”وہ بہت عجیب لڑکی ہے….“
”ہاں…. عجیب تو ہے وہ….“
وہ سوچتے ہوئے دھیمے سے مسکرا دیا….
”اور مجھے ایسا لگتا ہے کہ جیسے وہ اس شو میں رہنا بھی نہیں چاہتی….“
”ہوں….“
وہ اس سے زیادہ کچھ کہہ بھی نہ پایا….
”مجھے لگتا ہے…. یہ سب اس کا پلان ہے….“
وہ اپنے نیلز کا جائزہ لیتی متانت سے گویا ہوئی….
”پلان؟“
وہ سوالیہ نگاہوں سے اس کی جانب دیکھنے لگا….
”تمہاری مکمل توجہ حاصل کرنے کے لیے اس نے خود کو ہم سب سے الگ اور مختلف ظاہر کیا…. تاکہ تم اسے نوٹس کر سکو….“
”میری توجہ تم سب پر ہے…. میں تم سب کو نوٹس کرتاہوں….“
وہ چلتا ہواواپس ٹیبل کے پاس آ کھڑاہوا….
”خیر….! چھوڑو ان سب باتوں کو…. یہ ہماری ڈیٹ ہے اور ہمیں صرف اپنے ہی بارے میںبات کرنا چاہیے….“
گلاس میں جوس انڈیلتا وہ خوشگوارلہجے میں گویا ہوا…. آشلے مسکرا دی…. اور ایک بارپھر سے اپنے بارے میں باتیں کرنے لگی…. الحان چہرے پر مسکراہٹ سجائے اس کی گفتگو سنتا رہا…. لیکن اندر ہی اندر وہ مانہ کے لیے خاصہ پریشان ہونے لگا تھا….
”مانو صرف مجھے ہی نہیں…. بلکہ اس جزیرہ پر موجود ان تمام لڑکیوں کے تلخ رویوں کو بھی برداشت کر رہی ہے۔“
من ہی من میں سوچتا وہ لب بھینچ کر رہ گیا….
ض……..ض……..ض
”ہم عجب لوگ ہیں…. موقع ضائع کر دیتے ہیں…. پھر ان کی تلاش شروع کر دیتے ہیں…. جانے کے بعد کون واپس آتا ہے؟…. موقع تو کبھی واپس نہیں آیا…. جو گیا…. وہ واپس نہیں آیا…. اور جو واپس آیا…. وہ، وہ نہیں تھا جو گیا تھا…. وہ کچھ اور ہی تھا…. دھاگہ ٹوٹ جائے تو اسے جوڑا جا سکتا ہے…. لیکن! گرہ ضرور لگ جاتی ہے…. ہم ہمیشہ حسرت میں رہتے ہیں…. کیونکہ! وقت سے پیچھے رہتے ہیں…. اور کبھی کبھی ہم خوابوں میں رہتے ہیں…. کیونکہ وقت سے آگے نکل جاتے ہیں…. ہم وقت کے ساتھ کیوں نہیں چلتے؟…. ہم کیا کرتے ہیں؟….“
مانہ تمام لڑکیوں سے دور…. اپنے من پسند درخت کے سائے تلے بیٹھی، ڈائری تھامے، خوبصورت پین کی سیاہی کے ذریعہ لفظوں کی برسات کیے چلی جا رہی تھی…. کہ یکایک پیچھے سے آتی یاٹ کے پمپ کی آواز پر چونکتی پلٹ کر یاٹ کی جانب دیکھنے لگی….
الحان اور آشلے کسی بات پر کھلکھلا کر مسکراتے، یاٹ سے نیچے اُترتے دکھائی دئیے تھے…. ایک اُچٹتی سی نگاہ ان دونوں پر دوڑاتی وہ ایک بار پھر سے اپنے کام میں جت سی گئی…. قدم بہ قدم آگے بڑھتی آشلے کے قہقہے بڑھتے ہی چلے جا رہے تھے…. جس کی بدولت مانہ کی، اپنے ناول کی طرف مبذول توجہ، کرکری ہو کر رہ گئی تھی…. وہ تحمل کا مظاہرہ کرتی، لمبی سانس کھینچتی، ان دونوں کے نزدیک پہنچنے سے پہلے ہی ایک جھٹکے سے اٹھی اور آناً فاناً چوب محل کی جانب بڑھنے لگی…. مین دروازے پر پہنچتے ہی، خرم سمیت تمام لڑکیوں کو لاﺅنج میں اکٹھا دیکھ، وہ سٹپٹا کر رہ گئی…. ان سب کو نظروں کا محور بنائے وہ دھیرے دھیرے چلتی مسکان کے قریب جا کھڑی ہوئی….
”کیا چل رہا ہے؟“
اس نے سرگوشی کی….
”تم کہاں تھیں؟…. میں کب سے تمہیں ڈھونڈ رہی تھی…. خرم نے کچھ ضروری اناﺅنسمنٹ کرنا تھی…. اب معلوم نہیں کہ یہ کون سا ضروری اعلان ہے….“
مسکان کی ڈیٹیل پر وہ خاموش ہو رہی…. اتنے میں چوب محل کا دروازہ ایک بار پھر سے کھلا…. آشلے قہقہہ لگاتی اندر داخل ہوئی…. الحان اس کے تعاقب میںتھا….
”کیسی رہی تم دونوں کی ڈیٹ؟“
خرم نے چھوٹتے ہی پوچھا….
”گریٹ!“
آشلے خاصی شاداں دکھائی دے رہی تھی….
”اچھی رہی…. یہاں پر کیا چل رہا ہے؟“
الحان سب کی جانب اچنبھے سے دیکھتا، خرم سے پوچھنے لگا….
”ایک اہم اعلان کرنا ہے….“
خرم آشلے کی جانب دیکھتا شیریں لہجے میں گویا تھا…. آشلے اس کی آنکھوں کا اشارہ سمجھتی ایک بار پھر سے قہقہہ لگاتی تمام لڑکیوں کے نزدیک جا کھڑی ہوئی…. جاتے جاتے وہ الحان کو فلائنگ کِس دیتی گئی تھی مانہ اس کی بے باکی پر تیوری چڑھا کر رہ گئی…. الحان مکمل طورپر خرم کی جانب متوجہ ہو کھڑا ہوا تھا….
”سو…. لیڈیز! اپنے اپنے دل تھام لیجیے…. کیونکہ سرپرائز ایلیمنیشن کی گھڑی آن پہنچی ہے….“
خرم کا اعلان سنتے ہی مانہ کے سوا تمام لڑکیوں کے چہروں پر اک خوف کی لہر دوڑتی دکھائی دی تھی…. وہ تمام کی تمام ہکابکا کھڑی اک دوجے کو دیکھنے کے بعد عالم مضطرب میں اب خرم کی جانب دیکھتی چلی جا رہی تھیں…. الحان بھی اس اچانک کی ایلیمنیشن پر خاصا حیران ہوا تھا….
”سرپرائز؟“
خرم معنی خیز نگاہوں سے مسکراتا ہاتھ کے اشارے سے روز ٹیبل منگوانے لگا…. مِس فاطمہ روز ٹیبل سمیت الحان کے پاس آ کھڑی ہوئی تھیں…. ہر طرف گہری خاموشی چھائی تھی…. ٹیبل الحان کے قریب ٹھہراتیں مس فاطمہ واپسی کے لیے مڑ چکی تھیں….
”الحان! ایک خوشگوار ڈیٹ کے بعد تمہیں اب اس مشکل ٹاسک کو پورا کرنا ہے…. پچھلی ایلیمنیشن سے لے کر اب تک…. تم تمام لڑکیوں کو کافی اچھی طرح سے جان چکے ہو…. رائٹ؟“
خرم کے پوچھنے پر الحان اثبات میں سر ہلا کر رہ گیا….
”اگر الحان کو میرے پلان کی کان و کان خبر نہیں ہوتی…. تو آج میں واپس گھر جا سکتی تھی…. آہ…. میری بیڈ لک….“
مانہ اپنا چشمہ اُتارے اسے اپنی شرگ کے دامن سے صاف کرتی دل ہی دل میں کڑھ کر رہ گئی تھی….
”اور کل رات کی گروپ ڈیٹ ہم نے اسی لیے ارینج کی تھی تاکہ الحان آپ تمام لیڈیز کو مزید جان سکے….“
خرم لیڈیز سے مخاطب ہوتااب اپنے برابر میں کھڑا الحان کی جانب دیکھنے لگا جو سپاٹ نگاہوں سے ٹیبل پر رکھے گلابوں کی جانب دیکھ رہا تھا….
”الحان! مجھے معلوم ہے کہ تمہیں ان تمام لیڈیز کو مزیدجاننے کی ضرورت باقی ہے…. لیکن…. یہ اس شو کا حصہ ہے…. تمہیں آج دس لیڈیز کو یہ گلاب دے کر سلیکٹ کرنا ہے…. اور سلیکٹ نہ کی جانے والی پانچ لیڈیز کو ابی اسی وقت گھر واپسی کے لیے ایلیمنیٹ کرنا ہے…. سو…. آر یو ریڈی؟“
”آئی گیس سو!“
الحان دھیمے لہجے میں بولتا اپنی مخصوص مسکراہٹ مسکرا دیا تھا….
”آل دی بیسٹ!“
خرم واپس جا چکا تھا…. خوفزدہ کھڑی تمام لیڈیز پر نظر دوڑاتا الحان، ایک لمبی سانس کھینچتا، ٹیبل پر سے گلاب اٹھا کھڑا ہوا….
”مانہ!“
وہ سپاٹ لہجے میں گویا ہوا…. مانہ کو مانو کہہ کر پکارنے کا فیصلہ کرنے کے بعد آج اس نے پہلی بار اسے اس کے پورے نام سے پکارا تھا…. سب سے پہلے اپنا نام سماعت سے ٹکراتے ہی وہ آنکھیں میچتی، عجلت سے چلتی، گلاب تھامے الحان کے سامنے جا کھڑی ہوئی…. ہکابکاکھڑی تمام لیڈیز، مانہ کا نام سب سے پہلے پکارے جانے پر نفرت بھری نگاہوں سے اسے گھورتی دکھائی دی تھیں…. آشلے زہرخند انداز میں مانہ کی جانب گھورتی پھنکار کر رہ گئی….
”کیا آپ مزید ایک ہفتہ یہاں رہ کرمجھے برداشت کرنا پسند کریں گی؟“
وہ سرگوشی کرنے لگا…. چہرے پر شریر مسکراہٹ کھیل رہی تھی…. مانہ اسے گھورتی، گلاب پکڑتی، لڑکیوں کی قطارکے بالکل سامنے جا کھڑی ہوئی….
دوسراپکارا جانے والا نام آشلے کا تھا…. وہ خوشگوار انداز میں گلاب تھامتی، مانہ سے کچھ فاصلے پر آ کھڑی ہوئی…. تیسرا نام مسکان کا تھا…. گلاب اسے تھماتے ہی وہ شریر مسکراہٹ لبوںپر سجائے ایک بار پھر سے سرگوشی کرنے لگا….
”اس ہفتے کہیں کھونا نہیں….؟“
مسکان خوشگوار مسکراہٹ لبوں پر سجاتی اثبات میںسر ہلاتی آشلے کے برابر میں جا کھڑی ہوئی…. ایک کے بعد ایک گلاب کا سلسلہ چلتا رہا…. منتخب کی جانے والی دس لڑکیاں مکمل ہوتے ہی ایلیمنیٹ کی گئی پانچ لڑکیاں افسردگی سے منہ لٹکائے منتخب کی گئی لڑکیوں سے گلے مل کر، اپنا اپنا سامان پیک کرنے کی غرض سے اپنے اپنے رومز کی جانب بڑھنے لگیں…. ایلیمنیٹ کی جانے والی پانچ لڑکیوں میں سرفہرست سحر تھی،جو بے یقینی کے عالم میں اپنی جگہ کھڑی آنسو بہاتی الحان کو گھور رہی تھی…. آشلے ، سحر کے ایلیمنیٹ ہونے پر خاصی افسردہ دکھائی دی تھی…. سحر کے ساتھ ساتھ ایلیمنیٹ کی جانے والی لڑکیوں میں ایک بیوقوف کورئین جوڑی، غیوری، میراں…. برٹش مسلم فارا اور ایک انڈین لڑکی پوجاشامل تھیں….
تمام ایلیمنیٹ کی جانے والی لڑکیوں سے بغلگیر ہونے کے بعد مانہ کی نگاہ اچانک الحان پر جا کی…. جو سب کی موجودگی کے باوجود ٹکٹکی باندھے شریر مسکراہٹ لبوں پر سجائے اسی کی جانب دیکھتا دکھائی دیا تھا…. مانہ جلدی سے نظروں کا زاویہ بدلتی، لب بھینچتی، لمبی سانس کھینچ کر رہ گئی….
”سارا پلان چوپٹ ہو کر رہ گیا…. اب پھر سے وہی سب برداشت کرنا ہو گا….“
ض……..ض……..ض
پل لمحوں میں، لمحے منٹوں میں، منٹ گھنٹوں میں، گھنٹے دن رات میں، دن رات، چوبیس گھنٹوں میں اور چوبیس گھنٹے دنوں میںبدلتے چلے گئے….
مانہ، الحان کو اپنے قریب بھٹکنے کا موقع تک نہ دے رہی تھی…. الحان مکمل طور پر بیزار ہو کر رہ گیا تھا….
”میں نے سوچا تھاکہ اپنے اس Island پر ڈھیروں خوبصورت لڑکیوں کی موجودگی میں بے انتہا مز کرنے والا ہوں میں…. لیکن …. آئی واز رونگ!“
وہ بن پانی مچھلی کی طرح اپنے کمرے میں ایک کونے سے دوسرے کونے تک چکر کاٹتا پھر رہا تھا….
”نہیں چاہیے ان سب کی موجودگی مجھے…. اور جس کی موجودگی کا میںطلبگار ہوں…. وہ محترمہ گھاس تک نہیں ڈالتیں مجھے…. اپنے دل کا دروازہ ہی نہیں کھول رہی میڈم!…. چلو دروازہ نہ سہی…. کھڑکی ہی کھول دے…. لیکن نہیں…. اَناپرست لڑکی…. ہونہہ….!“
وہ اپنے بالوں کومٹھیوں میں دبوچے لمبی سانس کھینچ کر رہ گیا….
”سوچ سوچ کر پاگل ہو جاﺅں گا میں….“
وہ پھر سے اردگرد گرداننے لگا….
”اوکے!“
فیصلہ کن انداز میں آئینہ میں اپنا عکس دیکھتا وہ کمرے سے باہر کی جانب بڑھ گیا…. تیز تیزقدم سمندر کی جانب بڑھاتا وہ غصے کے عالم میں اپنی شرٹ کے بٹن کھولتا، قدم بہ قدم سمندر کی لہروں کی جانب بڑھتا رہا….موسم ہمیشہ کی طرح بے حد خوشگوار تھا…. نیلے وسیع آسمان پر کالے کالے بادل گھر گھر کر بھاگے چلے آ رہے تھے…. اس وقت چوب محل کے باہر کوئی بھی نہ تھا…. شاید تمام لڑکیاں ابھی تک اپنی اپنی خواب گاہ سے باہر نہ نکلی تھیں…. یا پھر شاید ناشتہ کا دور اپنے عروج پر تھا…. الحان چوب محل پر نظر دوڑاتا، اپنی شرٹ کھینچ اُتار ریتلی زمین پر اُچھالتا، اٹھلاتی، کھلکھلاتی لہروں کے بیچ و بیچ غوطہ لگانے لگا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: