Ishk Ka Qaaf Novel by Sarfraz Ahmed Rahi – Episode 10

0
عشق کا قاف از سرفراز احمد راہی – قسط نمبر 10

–**–**–

طاہر، ایک ایسی این جی او کی سربراہ کی دعوت پر دہلی پہنچا تھا، جو انٹر نیشنل ایمنسٹی سے ربط رکھتی تھی۔ اس نے طاہر کی سرمد کے بارے میں بات سن کر اسے انڈیا آنے کو کہا اور اپنی طرف سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ انسانی حقوق کی حامی مس مانیا نے طاہر کا بڑی گرمجوشی سے استقبال کیا۔ طاہر اسے ایک بار پہلے ایک انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کانفرنس میں مل چکا تھا۔ وہ تبھی سے اس کی شیدائی تھی۔
اٹھائیس سالہ مانیا حسن کا شاہکار تھی۔ ابھی تک کنواری تھی اور بائیس تئیس سے زیادہ کی نظر نہ آتی تھی۔ اس کی نظروں میں طاہر کے لئے ایک خاص قسم کا والہانہ پن تھا۔
ہوٹل آگرہ ویو میں مانیا نے طاہر کے قیام کا انتظام و انصرام اپنی این جی او کی طرف سے کیا تھا۔ اپنے سوٹ میں پہنچ کر طاہر نے وقت ضائع کیے بغیر مانیا کے سامنے اپنا مسئلہ دوبارہ دہرایا۔ مانیا نے ساری بات سنی۔ چند لمحے غور کیا۔ پھر اپنی ساڑھی کا پلو درست کرتے ہوئے طاہر کی جانب دیکھا۔
“مسٹر طاہر۔ اس کے بارے میں مکمل معلومات کے لئے مجھے تھوڑا وقت درکار ہو گا۔ ” وہ بولی تو جلترنگ سے بج اٹھی۔
“کتنا وقت؟” طاہر نے سوالیہ انداز میں اسے دیکھا۔
“دو سے تین دن۔ کام اس سے بہت کم وقت میں بھی ہو سکتا ہے مسٹر طاہر۔ ” اس نے سنجیدگی سے کہا۔ “مگر میں کم وقت کے ٹارگٹ کا رسک نہیں لینا چاہتی۔ ”
“تو ٹھیک ہے۔ آپ کم سے کم وقت میں ریحا اور سرمد کے بارے میں ممکنہ معلومات حاصل کر کے مجھے بتائیے۔ “طاہر نے نرمی سے کہا۔ “میں آپ کا احسان مند رہوں گا۔ ”
“میں یہ کام آؤٹ آف دی وے جا کر کروں گی مسٹر طاہر اور صرف اس لئے کہ آپ مجھے اپنے خاص دوستوں کی فہرست میں شامل کر لیں۔ ” اس نے عجیب سی نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔ “ورنہ تو یہ کام انڈین ایجنسیوں کے لئے بڑی دلچسپی کا حامل ہے کہ وہ اسے اپنا ٹارگٹ بنا کر معاملے کو سیاسی اور فوجی رنگ دے دیں۔ ”
“میں سمجھتا ہوں۔ ” طاہر نے مسکرا کر اس کی جانب دیکھا۔ ” اور میں دوستی کے ناطے ہی آپ سے یہ درخواست کر رہا ہوں۔ ”
“تو پھر احسان مندی کیسی مسٹر طاہر۔ ” وہ ہنسی۔ “دوستی میں صرف حکم دیا اور مانا جاتا ہے۔ کیا نہیں ؟” اس نے طاہر کی نظروں میں جذب ہونے کی کوشش کی۔
” آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں مس مانیا۔ تو اس حکم کو مان کر آپ مجھے اپنی دوستی سے نوازئیے۔ یہ تو ٹھیک ہے؟” وہ مسکرایا۔
“بالکل۔ یہ بالکل ٹھیک ہے۔ ” وہ کھل کر ہنسی۔ ” تو اب مجھے اجازت دیجئے۔ میں ابھی سے یہ کام شروع کر رہی ہوں۔ ہاں۔ ” وہ کھڑی ہو کر بولی۔ “مسٹر سرمد کا کوئی فوٹو ہے آپ کے پاس، تو مجھے دے دیں۔ ”
جواب میں طاہر نے اپنے پرس سے پاسپورٹ سائز کا سرمد کا ایک فوٹو نکال کر اس کی طرف بڑھا دیا۔
“کیا میں امید رکھوں کہ معاملات مکمل راز داری میں رہیں گے مس مانیا؟”طاہر نے مانیا کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھا۔
“یہ کہنے کی نہیں ، آزمانے کی بات ہے مسٹر طاہر۔ اور مجھے آزمایا جانا اچھا لگتا ہے۔ ” وہ فوٹو تھام کر مسکرائی۔ پھر ہاتھ ہلاتی ہوئی دروازے کی جانب بڑھ گئی۔ “اپنا سیٹ آن رکھئے گا۔ ہمارا رابطہ صرف موبائل پر رہے گا۔ ” وہ کہہ باہر نکل گئی۔
٭
کرنل رائے چھاؤنی نمبر سینتالیس کی تباہی کی رپورٹ پر یوں آگ بگولہ ہو رہا تھا جیسے کسی نے اسے دہکتے کوئلوں کی انگیٹھی پر بٹھا دیا ہو۔
گٹھے ہوئے بدن، قابل رشک صحت اور سرخ و سفید رنگت کا مالک ناٹے قد کا کرنل رائے یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ چھاؤنی جو ان کے ایک مضبوط قلعے کی حیثیت رکھتی تھی، یوں بربادی کے گھاٹ اترے گی کہ وہاں موجود بارہ ہزار میں سے صرف نو سو چھپن فوجی زندہ بچیں گے۔ ایمونیشن ڈپو کی تباہی اس پر مستزاد تھی۔ انکوائری کمیشن بٹھا دیا گیا تھا اور وہ جانتا تھا کہ اس کی رپورٹ بھی ٹائیں ٹائیں فش کا راگ الاپتی نظر آئے گی۔
وہ سگار دانتوں میں دبائے اپنے نجی آفس کا قالین روند رہا تھا۔ بار بار اس کی نظر میز پر پڑے ٹیلیفون سیٹ سے ٹکراتی اور مایوس ہو کر لوٹ آتی۔ اسے انتظار تھا ایک فون کا۔ بے چینی جب انتہائی حدوں کو چھونے لگی تو رک کر بجھے ہوئے سگار کو دوبارہ سلگایا۔ لائٹر جیب میں ڈال کر اس نے دو تین گہرے کش لئے اور پھر ٹہلنے لگا۔
اچانک فون کی بیل نے اسے چونکا دیا۔ لپک کر وہ میز کے قریب پہنچا اور تیزی سے ریسیور اٹھایا۔
“ہیلو۔ کرنل رائے اسپیکنگ۔ ” کٹکھنے کتے کی طرح وہ غرایا۔
“سر۔ میں کیپٹن آدیش بول رہا ہوں۔ جنرل نائر کا بھیجا ہوا آتنک وادی سیل میں پہنچ گیا ہے سر؟”
“میں آ رہا ہوں۔ ” اس نے کہا اور ریسیور کریڈل پر پٹخ کر اضطراب کے عالم میں کمرے سے نکل گیا۔
اس نے اپنی ہی کوٹھی کے تہہ خانے میں تفتیشی سیل بنا رکھا تھا۔ خطرناک مجرموں اور دہشت گردوں کی زبان کھلوانے کے لئے اس کا ٹارچر سیل پوری فوج میں مشہور تھا۔ سب جانتے تھے کہ اس سیل کو فوجی سرپرستی حاصل ہے۔ یہاں ٹارچر کے ساتھ ساتھ علاج کے لئے بھی چار کمروں کا مختصر سا جدید ترین منی ہاسپٹل موجود تھا جہاں ان زخمیوں کی بہترین دیکھ ریکھ ہوتی تھی جنہیں مزید کچھ دیر زندہ رکھا جانا مقصود ہوتا تھا۔ یہاں قائم کسی ایک شعبے کا دوسرے سے براہ راست کوئی تعلق تھا۔ ہر کارکن کرنل رائے کے بعد کیپٹن آدیش کو جواب دہ تھا جو وہاں کا انچارج آفیسر تھا۔
اس سیل میں حسین ترجسمانی رشوت سے لے کر اذیت دینے کے جدید ترین طریقوں سے کھل کھلا کر کام لیا جاتا تھا اور کہیں نہ کہیں مجرم ضرور اپنا آپ ہار دیتا تھا لیکن یہ تجربہ بھی اسے ہو چکا تھا کہ کچھ دیوانے ایسے بھی ان کے ہاتھ لگتے تھے جو جان دے دیتے تھے مگر زبان کھولتے تھے نہ ہار مانتے تھے۔ ایسے لوگوں کو وہ بال آخر ہاتھ پاؤں باندھ کر تیزاب کے ٹب میں ڈبو دینے پر مجبور ہو جاتا تھا مگر تب بھی ان کے لبوں سے اللہ اکبر کے نعروں اور کلمہ طیبہ کے سوا کچھ ادا نہ ہوتا تھا۔ اس وقت اس کا جی چاہتا کہ اپنے سر پر موجود گنے چُنے بال بھی نوچ ڈالے۔ اس کی بے بسی اس کے ماتحتوں کو منہ چھپا کر ہنسنے پر مجبور کر دیتی، جس کا غصہ وہ گالیاں بک کر نکالتا۔
اپنے دماغ میں خیالاتی کھچڑی پکاتا وہ کوٹھی کی انیکسی کے ساتھ تہہ خانے میں قائم سنٹرلی ساؤنڈ پروف ٹارچر سیل کے دروازے پر پہنچا۔ دیوار میں دائیں ہاتھ ایک خانے میں لگی چمکدار میٹل پلیٹ پر انگوٹھا رکھ کر دبایا۔ اس کے انگوٹھے کی لکیریں شناخت میں آتے ہی دروازہ بے آواز کھل گیا۔ وہ تیزی سے سیڑھیاں اترا۔ اس کے پیچھے خود کار سسٹم کے تحت دروازہ بند ہو گیا۔ تین جگہ کھڑے گن مینوں نے اسے زوردار سیلوٹ کیا جنہیں نظر انداز کرتا ہوا وہ کاریڈور کا موڑ گھوم گیا۔ سامنے شیشے کی دیوار کے پار نیم اندھیرے کمرے کے عین درمیان کرسی کے بازوؤں اور پایوں کے ساتھ بندھا وہ آتنک وادی خون میں نہایا نظر آ رہا تھا جس کا سینے پر جھکا سر بتاتا تھا کہ وہ بیہوش ہے۔ اس کے عین اوپر چھت سے لٹکتا بے پناہ تیز روشنی دیتا مرکری بلب اپنے شیڈ سمیت ہولے ہولے آگے پیچھے ہل رہا تھا۔
“سر۔ ” وہ کمرے میں داخل ہوا تو کیپٹن آدیش کے ساتھ موجود تین فوجی سپاہیوں کی ایڑیاں بھی بج اٹھیں۔ ان کے سیلوٹ کا جواب سر کی ہلکی سی جنبش سے دیتا ہوا وہ آتنک وادی کے بالکل سامنے جا کھڑا ہوا۔
“اس نے کچھ بتایا؟” وہ نفرت سے چنچنایا۔
“نو سر۔ ” کیپٹن آدیش نے کھٹ سے کہا۔ “ہم نے اسے اسی حالت میں وصول کیا ہے۔ جنرل نائر نے اس پر تشدد کی انتہا کر دی ہے مگر یہ تو جیسے گونگا ہے۔ ”
“یہاں گونگے بھی بول اٹھتے ہیں ، تم جانتے ہو۔ ” نخوت سے کرنل رائے نے کہا۔ “اسے ہوش میں لاؤ۔ ”
فوراً ہی ایک فوجی نے کونے میں رکھی میز سے جگ اٹھایا اور پانی آتنک وادی کے سر پر دور ہی سے اچھال دیا۔
لرز کر سرمد نے حرکت کی اور ورم آلود پپوٹوں کو زور لگا کر کھولنے کی کوشش کی۔ ایک کراہ اس کے پھٹے ہوئے خون آلود ہونٹوں سے خارج ہوئی اور سر اٹھتے اٹھتے پھر ڈھلک گیا۔ تاہم اب وہ ہوش میں تھا۔
اسی وقت کیپٹن آدیش نے آگے بڑھ کر اس کے سر کے بال مٹھی میں جکڑ کر ایک جھٹکے سے چہرہ اوپر اٹھایا اور بلب کی برمے جیسی تیز روشنی اس کی آنکھوں میں گھستی چلی گئی۔
“کیا نام ہے تمہارا؟” کرنل رائے اس کے سامنے آ گیا۔
جواب میں سرمد نے کراہتے ہوئے سر کے بال چھڑانے کی ناکام کوشش کی مگر کیپٹن آدیش نے اسے سختی سے قابو کئے رکھا۔
“جواب دو۔ کیا نام ہے تمہارا؟” جنرل کی آواز میں غراہٹ ابھری۔ ساتھ ہی اس کا دایاں ہاتھ گھوم گیا۔ تھپڑ اس قدر زوردار تھا کہ سرمد کے خون آلود ہونٹوں کے زخم پوری طرح کھل گئی۔ “بولو۔ ” اب کے جنرل کا بایاں ہاتھ حرکت میں آیا۔ پھر وہ مسلسل اس پر تھپڑ، گھونسے اور لاتیں برسانے لگا۔ بالکل پاگلوں کے انداز میں وہ اس پر پل پڑا تھا۔
“یہ بیہوش ہو چکا ہے سر۔ ” منہ سے کتوں کی طرح کف چھوڑتے اور ہانپتے جنرل کو جب کیپٹن آدیش نے بتایا تو وہ ہوش میں آ گیا۔
“جنرل نائر نے کچھ بتا بھیجا ہے اس کے بارے میں ؟” ایک طرف ہٹ کر اپنے خون آلود ہاتھ ٹشو پیپر سے صاف کرتے ہوئے اس نے پوچھا۔
“یہ فارم ساتھ آیا ہے سر۔ ” کیپٹن آدیش نے جیب سے ایک کاغذ نکال کر اس کی طرف بڑھا دیا۔
جنرل نے اس کاغذ پر نظر دوڑائی۔ نام سے لے کر پتے تک کے آگے “نامعلوم” کا لفظ اس کا منہ چڑا رہا تھا۔ غصے سے اس نے کاغذ کے پرزے اڑا دئیے۔ پھر کیپٹن کی طرف دیکھا۔
“اسے ہوش میں لاؤ۔ خوب پیٹ بھر کر کھلاؤ اور سونے مت دو۔ سمجھے۔ ” کرنل نے سرمد کے بیہوش سراپے پر نفرت آلود نگاہ ڈالی اور واپسی کے لئے مڑ گیا۔ “میں اپنے آفس میں موجود ہوں۔ پل پل کی خبر دیتے رہنا۔ ”
“یس سر۔ ” کیپٹن آدیش نے فوجی انداز میں کہا اور سیلوٹ کے لئے اس کے ساتھ باقی تینوں فوجیوں نے بھی ہاتھ اٹھا دئیے۔
٭
دوسرے دن شام تک طاہر نے اپنے طور پر فون پر کچھ لوگوں سے رابطہ کر کے معلومات حاصل کرنا چاہیں مگر کوئی امید افزا بات سامنے نہ آئی۔ وہ ہوٹل کا فون قطعاً استعمال نہ کر رہا تھا۔ اس کی پوزیشن بڑی نازک تھی۔ بار بار سوچتا کہ ایک دم مانیا پر اعتماد کر لینے کا اقدام کہیں اسے کسی مشکل میں نہ ڈال دے مگر طاہر کے پاس رسک لینے کے سوا کوئی چارہ بھی تو نہ تھا۔ تاہم اس کی چھٹی حس اسے بتا رہی تھی کہ اس نے مانیا کے بارے میں جو اندازہ لگا کر اس پر اعتماد کیا ہے، وہ غلط نہیں ہے۔
اس وقت وہ ٹی وی پر ایک نیوز چینل دیکھ رہا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔
“یس۔ ” طاہر نے ریموٹ سے ٹی وی کی آواز بند کر دی اور دروازے کی جانب دیکھا، جو اندر سے لاک نہیں تھا۔ “کم ان۔ ”
دروازہ کھلا اور ہنستی مسکراتی مانیا اندر داخل ہوئی۔
“گڈ ایوننگ مسٹر طاہر۔ ”
“گڈ ایوننگ مس مانیا۔ ” طاہر نے خوش اخلاقی سے جواب دیا اور بیڈ سے اٹھ گیا۔ اس نے طاہر کا ہاتھ جو تھاما تو خود طاہر ہی کو واپس کھینچنا پڑا۔ “بیٹھئے۔ ” طاہر اس کے ساتھ صوفے تک چلا آیا۔
” آپ نے تو رابطہ نہ کرنے کی قسم کھا لی شاید۔ میں انتظار کرتی رہی کہ آپ کنٹیکٹ کریں گے۔ ” وہ مسکرا کر بولی۔
“اعتماد کرنا آتا ہے مجھے مس مانیا۔ آپ جب تک رابطہ نہ کرتیں میں اسی اعتبار کے سہارے ٹیک لگا کر وقت گزارتا رہتا کہ آپ میرے کام میں مصروف ہیں۔ ” طاہر نے مانیا کو مکھن میں غوطہ دیا۔
“اوہ نو۔ ” وہ حیرت سے آنکھیں پٹ پٹا کر بولی۔ “اتنی بلندی سے مت نوازیے مسٹر طاہر کہ میں نیچے دیکھنا ہی بھول جاؤں۔ ”
“ایسی کوئی بات نہیں مس مانیا۔ بہر حال اب میں آپ کی طرف سے کسی اچھی خبر کے لئے بیتاب ہوں۔ “اس نے انٹر کام پر لوازمات کا آرڈر دیا اور مانیا کے سامنے آ بیٹھا۔
” خبر نہیں۔ خبریں مسٹر طاہر۔ اب وہ اچھی ہیں یا نہیں اس کا فیصلہ آپ کو خود کرنا ہو گا۔ ” مانیا نے اپنے کندھے سے بڑا نازک سا شولڈر بیگ اتارا۔ کھولا اور اس میں سے ایک تہہ کیا ہوا کاغذ نکال کر اپنے سامنے پڑی میز پر پھیلا لیا۔ “میں ترتیب سے بتاتی ہوں۔ ”
طاہر کے جسم میں خون کی گردش تیز ہو گئی۔ وہ اضطراب آلود نگاہوں سے مانیا کو دیکھنے لگا جس نے سسپنس سے پرہیز کرتے ہوئے کہنا شروع کیا۔
“بیس جنوری کو سرمد سعودی عرب سے دہلی پہنچا۔ اس نے اپنے قریبی پولیس سٹیشن میں اپنی آمد کا کوئی اندراج نہیں کرایا۔ وہ کہاں گیا؟ کہاں ٹھہرا؟ کس سے ملا؟ کسی کو کچھ معلوم نہیں۔ ہاں۔ اس کے حلئے کا ایک آدمی اکیس جنوری کو ٹاٹا بس سروس سے سرینگر کے لئے روانہ ہوا۔ سرینگر سے وہ کہاں گیا ؟ یہ کوئی نہیں جانتا۔ ”
سانس لینے کے لئے مانیا رکی اور اس پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جو ہمہ تن گوش ہو کر اسے سن رہا تھا۔
“ریحا لندن سے واپس آئی۔ واپسی کے تقریباً تین ہفتے بعد وہ ایک دن کے لئے دوبارہ لندن گئی۔ سرمد کے فلیٹ سے اس کے ڈاکومنٹس لے کر پاکستان پارسل کئے اور اگلے دن انڈیا لوٹ آئی۔ اس کی لندن جانے کی ڈیٹ تئیس جنوری اور واپس لوٹنے کی چوبیس جنوری ہے۔ اس کے بعد سے اب تک وہ سرینگر میں اپنے گھر پر موجود ہے۔ اس نے باہر آنا جانا بہت کم کر دیا ہے۔ ہر وقت ہنسنے کھیلنے والی ریحا اب چُپ چُپ رہتی ہے۔ سہیلیوں سے بھی کم کم ملتی ہے۔ ینگسٹرز کلب کی رکن ہے مگر وہاں جانا بھی تقریباً چھوڑ چکی ہے۔ اس کے والدین اس کی اداسی سے پریشان ہیں مگر وہ اس کی کوئی وجہ نہیں بتاتی۔ ہاں۔ ایک معمول بنا لیا ہے اس نے کہ ہر شام سیتا مندر جا کر دیا جلاتی ہے جو اس کے گھر سے ایک فرلانگ کے فاصلے پر ہے۔ ”
“حیرت انگیز۔ ” طاہر نے تحسین آمیز نظروں سے مانیا کی طرف دیکھا تو وہ کھل اٹھی۔ “اتنے کم وقت میں ایسی امید افزا معلومات حاصل کر لینا آپ ہی کا کام ہے مس مانیا۔ ”
“تھینکس مسٹر طاہر۔ ” وہ مسکرا کر بولی۔ اس کی نظروں میں جلتے دیپ طاہر کے چہرے پر لو دے رہے تھے۔
“لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ان معلومات سے ہمارا مسئلہ تو حل نہیں ہوا۔ ” طاہر نے اپنا خیال ظاہر کیا۔
“بالکل درست۔ ” مانیا نے اس کی جانب دیکھا۔ ” آپ غلط نہیں کہہ رہے مسٹر طاہر۔ تاہم میں ایک راستے کی نشاندہی کر سکتی ہوں جس پر چل کر ہم سرمد کے بارے میں مزید کچھ معلوم کر سکتے ہیں۔ ”
“وہ کون سا راستہ ہے مس مانیا؟” طاہر نے اس کی جانب بغور دیکھا۔
“ہمیں سرینگر جانا پڑے گا۔ ریحا سے ملنا ہمارے لئے مفید ہو سکتا ہے۔ ”
“ہاں۔ یہ خیال تو میرے ذہن میں بھی آ رہا تھا۔ ” طاہر نے پُر خیال لہجے میں کہا۔
“بس۔ تو وہاں چلتے ہیں۔ اگر میں واقعات اور صورتحال کے ڈانڈے ملانے بیٹھوں تو نجانے کیوں مجھے سرمد اور ریحا میں ایک انجانا سا تعلق محسوس ہوتا ہے۔ شاید ریحا سے مل کر ہمیں کوئی سِرا ہاتھ آ جائے۔ ”
“مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے مس مانیا۔ ” طاہر نے اس کی تائید کی۔
“تو پھر طے رہا کہ کل صبح ہم سرینگر چل رہے ہیں۔ ” مانیا نے جیسے فیصلہ سنایا۔ ” آپ اپنا پاسپورٹ مجھے دے دیں۔ تاکہ میں ضروری کاغذی کارروائی مکمل کرا لوں۔ ”
طاہر نے اپنا پاسپورٹ مانیا کے حوالے کر دیا جسے اس نے اپنے شولڈر بیگ میں ڈال لیا۔ اسی وقت دونوں کی نظریں ملیں۔ طاہر کی نگاہوں میں نجانے کیا تھا کہ مانیا کا دل یکبارگی زور سے دھڑک اٹھا۔ طاہر بڑی بے باکی سے اسے گھور رہا تھا اور ایک بار جب اس کی نظریں مانیا کی نرم و نازک گردن سے نیچے اتریں تو وہ خشک ہوتے ہونٹوں پر زبان پھیر کر رہ گئی۔
“مس مانیا۔” طاہر نے جیسے ماحول کا تناؤ کم کرنا چاہا۔ “ہمیں ریحا سے ملنے میں کس قسم کی دشواری ہو سکتی ہے؟ اس پر بھی غور کر لینا چاہئے۔ ”
“کوئی دشواری نہیں ہو گی مسٹر طاہر۔ ” وہ بھی سنبھل گئی۔ “ایک بات جس کا میں نے پہلے آپ سے ذکر نہیں کیا، یہ ہے کہ جب آپ نے مجھے ریحا کا ایڈریس دیا تھا میں تبھی ایک حد تک مطمئن ہو گئی تھی اور مجھے لگا تھا کہ ہمیں سرینگر جانا پڑے گا۔ ”
“وہ کیوں ؟” طاہر چونکا۔
“اس لئے کہ میں تھوڑا بہت ریحا کے باپ کو جانتی ہوں۔ ”
“شیام رائے کو؟” طاہر حیران ہوا۔
“شیام رائے نہیں۔ کرنل شیام رائے کو۔ ریحا کرنل رائے کی اکلوتی بیٹی ہے۔ ”
“کیا؟”طاہر اچھل پڑا۔ پھر اپنی حیرت پر قابو پاتے ہوئے اس نے سنبھالا لیا۔ “میرا مطلب ہے آپ کس طرح اسے جانتی ہیں ؟” اس کے دماغ میں خطرے کی گھنٹی بج اٹھی۔
“کرنل شیام رائے کے نجی سیل میں میرا ایک دور کا کزن ملازم ہے۔ اب تک کی معلومات میں اسی سے حاصل کر پائی ہوں۔ “مانیا نے بتایا۔
“اوہ۔۔۔ ” طاہر بظاہر مطمئن سا ہو گیا۔
“اور میں چاہوں گی کہ اس سے ملاقات ہم کرنل رائے کی لا علمی میں کریں۔ یہی ہمارے لئے بہتر ہو گا۔ وہ فوجی آدمی ہے اور آپ مسلمان۔ شاید وہ اسے پسند نہ کرے۔ بات کوئی اور رنگ اختیار نہ کر جائے، اس لئے ہمیں محتاط رہنا پڑے گا۔ ”
“مس مانیا۔ آپ میرے لئے خطرہ مول لے رہی ہیں۔ ” طاہر نے اسے عجیب سی نظروں سے دیکھا۔
“جی نہیں۔ ” اس نے طاہر کی جانب نظر اٹھائی۔ ” میں صرف آپ کی دوستی جیتنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ ”
“وہ تو آپ جیت چکیں مس مانیا۔ ” طاہر کی نظروں میں ا س کے لئے کوئی پیغام تھا۔
“تو میں اس کا ثبوت چاہوں گی مسٹر طاہر۔ “اس نے نگاہوں کی کمند طاہر کی جانب اچھالے رکھی۔
” ثبوت آپ کو سرینگر سے واپسی پر مل جائے گا مس مانیا۔ ”
“شرط ہے کیا؟” وہ بڑے دل آویز انداز میں مسکرائی۔
“بالکل نہیں۔ ” طاہر نے دھیرے سے کہا۔ “ذہنی فراغت چاہتا ہوں اور بس۔ ”
“میں انتظار کروں گی اس پل کا مسٹر طاہر جب۔۔۔ ”
اسی وقت ویٹر نے دروازے پر دستک دی اور مانیا کی بات ادھوری رہ گئی۔ مگر نہیں ، اس کی ادھوری بات طاہر کی نظروں میں ابھرتی اس چمک نے پوری کر دی تھی جو ایک بار پھر اس کے نیم برہنہ گداز شانوں سے ٹکرا کر پیدا ہوئی تھی۔
* * *

اذیتوں کا سلسلہ دراز ہوتا جا رہا تھا۔
سرمد کو زبردستی حلق تک مرغن غذا کھلا کر بٹھا دیا جاتا۔ جونہی اسے غنودگی ہونے لگتی، نیند کی زیادتی اس کی پلکوں پر بوجھ ڈالتی تو سر کے بال کھینچ کھینچ کر، تھپڑوں اور گھونسوں سے اسے جاگنے پر مجبور کیا جاتا۔ کبھی اسے فاقے کی دلدل میں دھکیل دیا جاتا۔ مسلسل فاقہ اسے ضعف کے مارے ہلنے جلنے سے معذور کر دیتا مگر اسے کھانے کے نام پر ایک کھیل اور پینے کے لئے پانی کا ایک قطرہ نہ دیا جاتا۔ کئی بار کرنل رائے نے فضلے سے بھرا ڈبہ اس کی ناک کے عین نیچے لٹکا کر کئی کئی گھنٹے تک غیر انسانی حالت میں رکھا۔ اس کے جسم کا کوئی حصہ ایسا نہ تھا جہاں زخم نہ لگایا گیا ہو۔ ان زخموں میں نمک چھڑکا جاتا۔ مرچیں بھر دی جاتیں۔ زخموں پر بھوری چیونٹیاں چھوڑ دی جاتیں جو اس کا گوشت نوچتیں تو اس کی چیخیں ٹارچر سیل میں پورا پورا دن گونجتی رہتیں۔ کراہیں رات رات بھر اس کے لبوں سے خارج ہوتی رہتیں۔ سگریٹ سے اس کا سارا جسم داغ دیا گیا۔ پیروں کے ناخن کھینچ دیے گئے۔ تپتے لوہے کی پلیٹوں پر پہروں کھڑا رکھا گیا۔ برف کی سلوں پر گھنٹوں لٹایا گیا۔ جسم کے نازک حصوں پر الیکٹرک شاک دیا گیا۔ اور ان سب اذیتوں سے چھٹکارے کا لالچ دے کر اس سے پوچھا جاتا۔
“تمہارا نام کیا ہے؟”
“تمہارا ٹھکانہ کہاں ہے؟”
“اپنے ساتھیوں کے نام اور پتے بتاؤ۔ ”
“اپنے گروپ کا نام بتاؤ۔ ”
کرنل رائے کے ہر سوال کے جواب میں سرمد کے لبوں پر ایک مسکراہٹ ابھرتی اور وہ اپنے ورم آلود ہونٹوں کو بمشکل حرکت دیتے ہوئے کہتا۔
“میرا نام غلام ہے۔ میں اپنے آقا کا غلام ہوں۔ میرا ٹھکانہ میرے اللہ کی رضا اور محبت ہے۔ میرے ساتھی اللہ اور اس کا رسول ہیں۔ میرے گروپ کا نام عشقِ رسول ہے۔ ”
یہ جواب کرنل رائے کے تن بدن میں آگ لگا دیتی۔ اب تک اس کا واسطہ بڑے بڑے سخت جان مجاہدین سے پڑا تھا مگر جس قسم کی باتیں سرمد کرتا تھا وہ اسے سر تا پا شعلہ بنا دیتیں۔ پھر وہ جتنا بھی ضبط کرنا چاہتا، سب بیسود ثابت ہوتا۔ نتیجہ یہ کہ سرمد پر دن بدن اس کے ستم بڑھتے ہی جا رہے تھے۔ اس کی سمجھ میں نہ آ رہا تھا کہ اس سخت جان آتنک وادی کا کیا حال کرے کہ اس کی زبان مطلوبہ معلومات کے لئے کھل جائے۔
کوئی اور ہوتا تو اب تک جان سے گزر گیا ہوتا مگر سرمد تھا کہ جیسے اس کے جسم میں ہر روز ایک نئی طاقت عود کر آتی تھی۔ کیپٹن آدیش نے اکثر محسوس کیا تھا کہ ہوش میں ہو یا نہ ہو، سرمد کے نیم متحرک ہونٹوں سے کچھ پڑھنے کا احساس ہوتا ہے۔ ایک روز اس نے کان لگا کر سنا اور جو الفاظ اس کے کانوں میں اترے ان کے اثر سے اس کے جسم میں جیسے کرنٹ دوڑ گیا۔ اس کا رنگ فق ہو گیا۔ دل کی دھڑکن بے قابو ہو گئی۔ اسے لگا جیسے وہ اپنے پیروں پر کھڑا نہ رہ سکے گا۔ اس کے سارے جسم پر جو لرزا طاری ہوا تو حالت سنبھلتے سنبھلتے کئی منٹ لگ گئی۔ وہ لڑکھڑا کر پرے پڑی کرسی پر گر سا پڑا اور گہرے گہرے سانس لینے لگا۔ اب بھی اس کے کانوں میں سرمد کی مستی میں ڈوبی ہلکی ہلکی آواز خوشبو انڈیل رہی تھی۔
“صلی اللہ علیہ وسلم۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ ”
سرمد کے ہونٹ یہی دہرا رہے تھے۔
یہ کیسے الفاظ تھے؟ کیا یہ اس مسلمان کا کوئی مذہبی اشلوک تھا؟ کوئی منتر تھا؟ وہ کچھ بھی سمجھ نہ پایا مگر اس دن سے اس میں ایک تبدیلی آ گئی۔ اس دن کے بعد اس کا ہاتھ سرمد پر نہ اٹھا۔ اس کا جی ہی نہ چاہتا تھا کہ اسے اذیت دے۔ اسے تکلیف پہنچانے کا خیال ہی کیپٹن آدیش کو لرزہ بر اندام کر دیتا۔ اب اس کی کوشش ہوتی کہ سرمد پر دوسرے فوجیوں کے بجائے اسی کی ڈیوٹی لگی رہے تاکہ وہ اسے عقوبت سے بچائے رکھے۔ دن میں کئی بار اس کا جی چاہتا کہ وہ سرمد کے لبوں سے وہی طلسمی الفاظ پھر سنے جنہوں نے اس کی کایا کلپ کر دی تھی۔ ایسا وہ اس وقت کرتا جب سرمد بیہوش ہوتا اور اس کے آس پاس دوسرا کوئی نہ ہوتا۔ تب وہ چوری چوری اس کے لبوں سے کان لگا دیتا اور ان الفاظ کی مہک اپنی سماعت میں اتارنے لگتا۔ اس کا جی نہ بھرتا مگر اسے اپنے ارد گرد والوں کا خوف زیادہ دیر یہ مزہ لینے نہ دیتا۔ کئی بار اسے خیال آیا کہ یہ کوئی جادوئی الفاظ ہیں جنہوں نے اس کا دل سرمد کی طرف سے موم کر دیا ہے۔ مگر پھر اسے اپنی سوچ پر خود ہی یقین نہ آیا۔ اس نے سر جھٹک کر اس خیال کو دور پھینک دیا۔ اگر یہ جادو ہوتا تو اب تک یہ آتنک وادی وہاں سے اڑنچھو ہو چکا ہوتا۔ اس کے ذہن میں اپنے دھرم کے حوالے سے جادو کا ایسا ہی تصور تھا۔
اس دن ٹارچر سیل کا فوٹو گرافر سرمد کی تصویریں ڈیویلپ کر کے لایا اور ایک لفافے میں بند کر کے کیپٹن آدیش کے حوالے کر گیا۔ یہ تصویریں کرنل رائے کو پاس کرنا تھیں۔ پھر انہیں آرمی ہیڈ کوارٹر دہلی بھجوایا جاتا۔ تاکہ ان تصویروں کی خاص خاص مقامات پر تشہیر و ترسیل کے ذریعے سرمد کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکتیں۔
کیپٹن آدیش نے لفافہ کھول کر دیکھا۔ اس میں کل آٹھ تصاویر تھیں۔ چار میں تو اس ٹارچر سیل کی درندگی اور بربریت عروج پر تھی اور چار تصویریں ایسے اینگل سے لی گئی تھیں کہ سرمد کا چہرہ بڑھے ہوئے شیو کے باوجود پہچانا جاتا تھا۔ تشدد کے آثار ان میں کم سے کم نمایاں تھی۔
اس نے تصویریں لفافے میں ڈالیں اور فرش پر بیڑیوں میں جکڑے پڑے بیہوش سرمد کی جانب دیکھا۔ وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر نجانے کس عالم میں سانس لے رہا تھا۔ ہونٹ اب بھی ہل رہے تھے اور کیپٹن آدیش جانتا تھا کہ سرمد اب بھی انہی کیف اور الفاظ کا ورد کر رہا ہے جو اسے تبدیلی کی جانب کھینچے لئے جا رہے تھے۔
“پرسو رام۔ ” اس نے دروازے کے باہر کھڑے سگریٹ پیتے فوجی کو آواز دی۔
“یس سر۔ ” وہ سگریٹ مسل کر باسکٹ میں پھینکتا ہوا اندر چلا آیا۔
“میں یہ تصویریں جنرل صاحب کو دینے جا رہا ہوں۔ ڈیوٹی آنکھیں کھول کر دینا۔ ” کہہ کر وہ لفافہ ہاتھ میں لئے باہر چلا آیا۔
کرنل رائے کی کوٹھی کے رہائشی حصے کی جانب جاتے ہوئے اس کے من میں سرور لہریں لے رہا تھا۔ ریحا کو دیکھنے کا خیال ہی اس کے لئے مستی بھرا تھا۔ وہ جب سے ٹارچر سیل میں ڈیوٹی پر آیا تھا، تب سے ریحا کے عشق میں مبتلا تھا۔ چونکہ جانتا تھا کہ یہ انگور کھٹے ہیں اس لئے دل ہی دل میں ریحا کی پوجا کیا کرتا۔ اسے کسی کسی دن ایک نظر دیکھ لینا ہی اس کے لئے کافی تھا۔
اس وقت بھی جب وہ کرنل رائے کے آفس کی طرف جا رہا تھا، اس کی نظریں ریحا کی تلاش میں ادھر ادھر بھٹک رہی تھیں۔ پھر وہ اسے دیکھ لینے میں کامیاب ہو گیا۔ ریحا باغیچے میں ایک درخت کے نیچے کرسی ڈالے بیٹھی تھی۔ سرخ میکسی پر نیلی شال اوڑھے وہ نجانے کیا سوچ رہی تھی کہ روش سے گزرتے کیپٹن آدیش کے بھاری فوجی بوٹوں کی آہٹ سے بھی بے خبر رہی۔ وہ باغیچے کے باہر رک گیا۔ چند لمحے نظروں کی پیاس بجھاتا رہا۔ پھر بھی جب ریحا اس کی طرف متوجہ نہ ہوئی تو مایوس ہو کر چل پڑا۔ اس کا ریحا کی طرف یوں مائل ہونا اگر کسی کے علم میں آ جاتا تو اس کے لئے مصیبت ہو جاتی۔ کنکھیوں سے اپنے خیالوں میں گم ریحا کو دیکھتا اور یہ سوچتا ہوا وہ چلتا گیا کہ ریحا کس الجھن میں ہے جو اس کی مسکراہٹیں اور قہقہے کہیں گم ہو گئی۔ اس کے علم میں تھا کہ کچھ ہفتوں سے وہ ہر شام قریبی سیتا مندر دیا جلانے جاتی ہے اور باقی دلچسپیوں سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ خیالی گھوڑے دوڑاتا وہ کرنل رائے کے آفس تک پہنچ گیا جہاں دروازے پر دائیں بائیں دو گن مین مستعد کھڑے تھے۔ اسے سیلوٹ کر کے انہوں نے دروازہ کھول دیا۔
“کرنل صاحب آپ کے منتظر ہیں سر۔ ” ایک گن مین نے کڑک دار آواز میں کہا، جبکہ دوسرا بُت بنا کھڑا رہا۔ وہ سر ہلاتا ہوا اندر داخل ہوا۔
کرنل رائے نے تصویروں کا لفافہ لے کر اسے واپسی کی اجازت دے دی اور خود تصویریں نکال کر شیشے کی ٹاپ والی میز پر پھیلا کر انہیں غور سے دیکھنے لگا۔ سگار اس وقت بھی اس کے ہونٹوں میں دبا ہوا تھا۔ تصویریں چھ ضرب آٹھ کے سائز میں تھیں اور خاصی واضح تھیں۔ وہ اپنی نشست پر بیٹھ کر انہیں دیکھتا ہوا کچھ سوچ رہا تھا کہ کمرے کا وہ دروازہ کھلا جو اندرونی رہائشی حصے میں کھلتا تھا۔
“ارے ریحا بیٹی۔ آؤ آؤ۔ ” ریحا کو اندر آتے دیکھ کر وہ مسکرا پڑا۔
“پاپا۔ میں مندر جا رہی ہوں۔ ” ریحا نے کمرے میں قدم رکھا۔
“جلدی لوٹ آنا بیٹی۔ شام ہونے کو ہے۔ ویر سنگھ کو ساتھ لے جاؤ۔ ” وہ سگار منہ سے نکال کر بولا۔
“نہیں پاپا۔ میں گاڑی میں جا رہی ہوں۔ کسی کو ساتھ لے جانا مجھے اچھا نہیں لگتا۔ ” ریحا نے کہا۔ اس کی جانب دیکھا پھر مڑتے مڑتے اچانک اس کی نظر میز پر بکھری تصویروں پر پڑ گئی۔ ایک دم اس کے قدم تھم گئی۔ آہستہ سے گردن گھما کر اس نے دوبارہ تصویروں کی جانب دیکھا اور اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ آنکھوں میں خوف سا اترا اور دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔ وہ لپک کر میز کے قریب آ گئی۔
“کیا بات ہے بیٹی؟” کرنل رائے نے چونک کر اس کی جانب دیکھا جو سرمد کی تصویروں کو الٹ پلٹ کر دیکھ رہی تھی۔
“پاپا۔۔۔ یہ۔۔۔ یہ کون ہے پاپا؟” وہ بیتابی سے بولی۔
“ایک آتنک وادی ہے بیٹی۔ ” کرنل رائے نے اس کے چہرے کا بغور جائزہ لیتے ہوئے کہا اور اپنی سیٹ سے اٹھ گیا۔
“یہ۔۔۔ یہ۔۔۔ آتنک وادی۔۔۔ نہیں پاپا۔ آپ کو کچھ دھوکا ہوا ہے۔ ” ریحا کے لہجے میں چھپی بے قراری نے کرنل رائے کے کان کھڑے کر دئیے۔
“تم کہنا کیا چاہتی ہو ریحا۔ ” جنرل اس کے سامنے آن کھڑا ہوا۔ “کیا تم اسے جانتی ہو؟”
“میں۔۔۔ میں۔۔۔ ” ریحا ہکلا کر رہ گئی۔ پھر جیسے اس نے زبان کو گانٹھ دے لی۔ “نہیں پاپا۔ میں اسے نہیں جانتی مگر اس کا چہرہ مہرہ آتنک وادیوں جیسا نہیں لگتا۔ ”
“نظریں نہ چراؤ ریحا۔ ” کرنل نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھ دیا۔ ” آتنک وادیوں کے چہرے ہم تم جیسے ہی ہوتے ہیں ، جن سے ہم فریب کھا جاتے ہیں مگر مجھے لگتا ہے تم مجھ سے کچھ چھپا رہی ہو۔ ”
“میں۔۔۔ میں آپ سے کیا چھپاؤں گی پاپا۔ ” ریحا نے نظریں جھکائے جھکائے جواب دیا، جن کا ہدف اب بھی سرمد کی ایک تصویر تھا۔ کرنل کا ہاتھ شانے سے ہٹانا چاہا۔ اس کا کانپتا ہوا لہجہ اس کے جھوٹ کی چغلی کھا رہا تھا اور کرنل نے بال دھوپ میں تو سفید نہیں کئے تھے جو اس کی بات پر یقین کر لیتا۔
“ریحا۔۔۔ ” کرنل نے اس کی ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھ کر چہرہ اوپر اٹھایا اور جب اس نے کرنل سے نظر ملانے سے گریز کیا تو اسے اپنے شک پر یقین کے سائے لہراتے نظر آنے لگی۔ “مجھ سے نظر ملا کر بات کرو ریحا۔ ” کرنل کا لہجہ سخت ہو گیا۔
“کیا بات کروں پاپا؟” ایک دم وہ سسک پڑی۔
“ریحا۔ ” بھک سے کرنل کے دماغ کا فیوز اڑ گیا۔ آواز میں حیرت اور کپکپاہٹ ایک ساتھ ابھرے۔ پھر اس نے روتی ہوئی ریحا کو سینے سے لگا لیا۔ “کیا بات ہے میری جان۔ صاف صاف کہو۔ روؤ مت۔ تم جانتی ہو تمہارے آنسو مجھ سے برداشت نہیں ہوں گے۔ ”
“پاپا۔۔۔ پاپا۔۔۔ ” ریحا بلک رہی تھی۔ “یہ وہی تو ہے جس کا میں نے آپ سے ذکر کیا تھا۔ اسی کے لئے تو میں روز سیتا مندر میں دیا جلانے جاتی ہوں۔ پاپا۔ یہ آتنک وادی کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ تو کسی بچے کی طرح معصوم ہے پاپا۔ ”
ریحا کہتی رہی اور حیرت زدہ کرنل اس کی کمر پر ہاتھ رکھے سنتا رہا۔ اس کے دل و دماغ میں بھونچال سا آیا ہوا تھا۔ اسے ریحا نے یہ تو بتایا تھا کہ وہ لندن یونیورسٹی میں ایم بی اے کے کورس کے دوران کسی لڑکے میں انٹرسٹڈ ہو گئی تھی اور جب تک اس کی طرف سے “ہاں نہ ” کا صاف صاف اظہار نہ ہو جائے، اسے شادی کے فیصلے کے لئے وقت دیا جائے۔ تب کرنل اور اس کی پتنی سوجل نے اس معاملے کو مسئلہ نہ بنایا۔ بلکہ ریحا کو کچھ عرصے کے لئے اس کی مرضی پر چھوڑ دیا۔ وہ لڑکا کون ہے؟یہ ریحا نے نہ بتایا۔ اور وہ کس مذہب سے ہے؟ اس بارے میں ان کے ذہن میں کوئی سوال پیدا ہی نہ ہوا۔ ان کے وہم میں بھی نہ تھا کہ وہ لڑکا مسلمان ہو گا۔
کرنل کے سینے سے لگ کر ریحا نے کھل کر آنسو بہا لئے تو اس کا من ہلکا ہو گیا جبکہ کرنل رائے کے لئے سوچ اور الجھن کی کتنی ہی نئی راہیں کھل گئیں۔ بیٹی کے آنسو پونچھ کر اس نے اسے کرسی پر بٹھایا اور خود اس کے سامنے میز کے کونے پر ٹک گیا۔ پھر اسے سرمد کے بارے میں اب تک کی ساری معلومہ باتیں بتائیں۔ مگر ریحا کے چہرے پر اول تا آخر بے اعتباری کے رنگ چھائے رہی۔
“اب تم بتاؤ بیٹی۔ میں تمہاری بات پر یقین کروں یا اس ساری صورتحال پر جس میں یہ لڑکا ہمارے ہاتھ لگا۔ ہاں۔۔۔ کیا نام بتایا تم نے اس کا؟” اچانک کرنل رائے نے ریحا کی جانب انگلی اٹھائی۔
“ابھی تک تو میں نے اس کا نام نہیں بتایا۔ ” ریحا جیسے باپ کی چال سمجھ گئی۔ “اور معاف کیجئے گا پاپا۔ فی الحال میں آپ کو اس کا نام بتاؤں گی بھی نہیں۔ ”
“یہ کوئی مشکل نہیں ہے ریحا۔ ” اچانک کرنل رائے کے اندر کا ہندو فوجی باہر آ گیا۔ “میں چاہوں تو دس منٹ کے اندر اندر لندن یونیورسٹی سے اس لڑکے کے بارے میں مکمل معلومات منگوا سکتا ہوں مگر ۔۔۔ ” وہ رک گیا۔ “میں چاہتا ہوں مجھے ایسا نہ کرنا پڑے۔”
ریحا کو ایک دم اپنی حماقت کا اب احساس ہوا کہ اس نے سرمد کے حوالے سے اپنے ہاتھ کاٹ کر باپ کے ہاتھ میں دے دیے ہیں۔
“تم نے میری پوزیشن بڑی نازک کر دی ہے ریحا۔ ” جنرل اٹھا اور ہاتھ پشت پر باندھے کمرے میں ٹہلنے لگا۔ “میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ اس صورت حال میں مجھے کیا کرنا چاہئے؟”
“پاپا۔ ” ریحا نے باپ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ “کچھ بھی ہو۔ اسے کچھ نہیں ہونا چاہئے۔ آپ نے اپنے سیل میں اس کا جو حشر کیا ہے، میں اسے سہہ نہیں پا رہی ہوں۔ ”
“وہ اپنی جگہ ضروری تھا ریحا۔ ” کرنل نے خشک لہجے میں کہا۔ “میں بتا چکا ہوں کہ وہ ہمیں چھاؤنی نمبر سینتالیس پر اٹیک کے دوران ملا۔ ”
“ہو سکتا ہے آپ کی معلومات درست ہوں پاپا لیکن مجھے وہ چاہئے۔ زندہ سلامت اور بس۔۔۔ ” ریحا کھڑی ہو گئی۔
“پاگل ہو گئی ہو تم۔ ” کرنل رائے کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ “یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ وہ بھارت ماتا کا دشمن ہے اور۔۔۔”
“سب کچھ ہو سکتا ہے پاپا۔ ” ریحا کے لبوں پر بڑی جاندار مسکراہٹ ابھری۔ “کیا میں نہیں جانتی کہ آپ کے ٹارچر سیل میں کیا کچھ ہوتا ہے؟ اگر کاکا ابراہیم کو پچیس لاکھ کے عوض جہادی تنظیم کے حوالے کیا جا سکتا ہے تو آپ کی بیٹی کی پسند اسے کیوں نہیں مل سکتی؟”
” آہستہ بولو۔۔۔ آہستہ۔ ” کرنل رائے نے آگے بڑھ کر اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیا۔ اس کی آواز میں خوف سمٹا ہوا تھا۔ “تم یہ سب جانتی ہو تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم شور مچا دینے کی دھمکی دے کر مجھے بلیک میل کرو۔ ”
“دھمکی۔۔۔ ” ریحا نے باپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں۔ “یہ دھمکی نہیں ہے پاپا۔ سودا ہے۔ میرے اور آپ کے بیچ۔ میں اپنی پسند حاصل کرنے کے لئے کچھ بھی کر سکتی ہوں۔ کسی حد تک بھی جا سکتی ہوں۔ اگر آپ ایک اچھے پاپا بنے رہے تو میں دنیا کی سب سے لاڈلی بیٹی ہوں اور اگر آپ کا سوتیلا پن جاگا تو میں اپنی ماما کی بیٹی بننے پر مجبور ہو جاؤں گی۔ ”
کرنل رائے کا منہ حیرت سے کھلے کا کھلا رہ گیا۔ وہ بات جسے وہ وقت کی تہہ میں دفن کر چکا تھا، ریحا نے ایک ہی ٹھوکر سے اسے ماضی کی قبر سے باہر نکال لیا تھا۔ ریحا اس کی پتنی سوجل کے پہلے پتی راکیش سے تھی جس کے مرنے کے بعد کرنل رائے نے سوجل سے شادی کر لی تھی۔ سوجل کو آج بھی شبہ تھا کہ اس کے پتی راکیش کو کرنل رائے نے قتل کروایا تھا مگر ثبوت نہ ہونے کے باعث وہ خاموشی سے دن گزار رہی تھی۔ اگر اس سکینڈل کو اچھال دیا جاتا تو کرنل رائے کہاں ہوتا، اسی کی طرف اشارہ کر کے ریحا نے اسے خوف کی دلدل میں پھینک دیا تھا۔
کتنی ہی دیر وہ خالی خالی نظروں سے اس دروازے کو تکتا رہا جس سے نکل کر ریحا جا چکی تھی۔ پھر اس کی نظریں میز پر بکھری سرمد کی تصویروں پر جا پڑیں۔ اسے ہوش سا آ گیا۔ تھکے تھکے قدموں سے آگے بڑھ کر اس نے تصویریں سمیٹیں۔ لفافے میں ڈالیں اور لفافہ میز کے خفیہ خانے میں سرکا دیا۔
* * *

“مس ریحا۔ ” مندر میں پرارتھنا کر کے نکلتی، سوچوں کے بھنور میں چکراتے دماغ کے ساتھ ریحا اپنی گاڑی کی طرف چلی کہ ایک نسوانی آواز نے اسے چونکا دیا۔ پلٹ کر دیکھا تو مندر کے سامنے چھوٹے سے پارک کے گیٹ پر سرخ کار کے پاس کھڑی ایک خوبصورت لڑکی کو دیکھ کر اس کے قدم رک گئی۔ وہ ریحا کے لئے بالکل اجنبی تھی، اس لئے حیرت زدہ نظروں سے اسے دیکھنا ایک قدرتی امر تھا۔
’میں نے آپ ہی کو پکارا ہے مس ریحا۔ ” وہ اس کی طرف چل پڑی۔
ریحا نے ادھر ادھر دیکھا۔ نزدیک یا دور کوئی ایسی سرگرمی نہ دکھائی دی جس سے وہ شبے میں مبتلا ہوتی، اس لئے وہ اپنی گاڑی کے پاس رکی رہی۔ لڑکی اس کے قریب پہنچی۔ وہ بڑی قیمتی ساڑھی میں ملبوس تھی۔ کندھوں پر زرتار کشمیری شال اس کے سٹیٹس کا اعلان کر رہی تھی۔
“میرا نام مانیا ہے۔ مانیا سکسینہ۔ میں دہلی سے آئی ہوں آپ سے ملنے۔ ” اس نے ہاتھ آگے بڑھایا۔
“مجھ سے ملنے؟” ریحا اور حیران ہوئی تاہم اس نے مانیا کا بڑھا ہوا ہاتھ تھام لیا۔
“جی ہاں۔ ایک مہمان بھی ہے میرے ساتھ۔ ” اس نے پلٹ کر اپنی گاڑی کی طرف دیکھا جس کے کھلے شیشوں سے لگتا تھا کہ گاڑی میں کوئی اور بھی موجود ہے۔ ایک لمحے کو اسے خطرے کا احساس ہوا۔
“گھبرائیے نہیں مس ریحا۔ اور کسی غلط سوچ کو بھی ذہن میں جگہ مت دیجئے۔ ” مانیا نے اترتی شام کے سائے میں اس کے چہرے پر ابھرتے شکوک کو بھانپ لیا۔ “اگر آپ چند منٹ ہمارے لئے نکال سکیں تو ہم دوستانہ ماحول میں بات کرنا چاہیں گے۔ ”
” آپ لوگ کون ہیں اور مجھے کیسے جانتے ہیں ؟” ریحا کا ذہن ابھی اس کی طرف سے صاف نہیں ہوا تھا۔
” آئیے۔ پارک میں بیٹھتے ہیں۔ ” مانیا نے اس کا ہاتھ بڑی نرمی سے کھینچا۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے ساتھ چل پڑی۔ پار ک میں داخل ہوتے ہوئے ریحا نے دیکھا کہ گاڑی کے دروازے کھلے اور اس میں سے ایک بڑا وجیہہ مرد نکل کر ان کے پیچھے پارک کی طرف چل پڑا۔ اس کا جی چاہا، فوراً پلٹ کر دوڑ لگا دے مگر مانیا نے اس کا ہاتھ نہ چھوڑا اور اسے لئے ہوئے پارک میں ایک درخت کے نیچے بچھے ایک ایسے لمبے بنچ پر جا بیٹھی، جو پارک میں موجود دوسرے لوگوں سے کافی ہٹ کر تھا۔ ان کے بیٹھنے کے چند لمحوں بعد ہی وہ مرد بھی ان تک آن پہنچا۔
“گڈ ایوننگ ینگ لیڈی۔ ” مرد نے بڑے تہذیب یافتہ لہجے میں کہا اور بنچ پر مانیا سے ذرا ہٹ کر بیٹھ گیا۔ پارک کی مدھم لائٹس میں ریحا کو ان دونوں کے چہروں اور حرکات کا جائزہ لینے میں کوئی دشواری نہ ہوئی اور اس کے دل نے اسے یقین دلایا کہ وہ برے لوگ نہیں ہیں۔ ان کے نرم، شرافت میں گندھے ہوئے چہرے کسی لحاظ سے اسے فریبی نہ لگے۔
“جی۔ کہئے۔ آپ لوگ مجھے کیسے جانتے ہیں اور مجھے کیوں روکا؟” ریحا نے ان تینوں کے چہروں پر ایک بار پھر نظر دوڑائی۔
“ہم آپ کو کیسے جانتے ہیں ، اسے فی الحال رہنے دیجئے مس ریحا۔ ” مانیا نے نرمی سے کہا۔ ” آپ کے لئے اتنا جان لینا لازم ہے کہ میں دہلی سے اور مسٹر طاہر پاکستان سے ایک شخص کے سلسلے میں آپ سے ملنے آئے ہیں۔ آج شام جب آپ اپنے گھر سے نکلیں تو ہم آپ کے پیچھے پیچھے سیتا مندر تک آئی۔ آپ پوجا کر کے باہر نکلیں تب میں نے آپ کو آواز دی۔ ”
ریحا کا دل سینے میں زور سے دھڑکا۔ اس نے مانیا کے خاموش ہوتے ہی طاہر کی جانب بیتابی سے دیکھا۔
“کس کے سلسلے میں ملنے آئے ہیں آپ مجھ سے؟”اس کی آواز میں تھرتھراہٹ چھلک رہی تھی۔
“مس ریحا۔ ” طاہر نے ذرا آگے جھک کر اس کی نظروں کا احاطہ کر لیا۔ “لندن یونیورسٹی میں ایک لڑکا آپ کے ساتھ پڑھتا تھا۔ سرمد۔۔۔ ”
اور ریحا کا خوف چہرے پر ابل پڑا۔ وہی ہوا جو اس کے دل میں تھا۔ طاہر کے نام نے اسے وہ سب یاد دلا دیا، جو سرمد نے اپنی داستانِ غم سناتے ہوئے اس پر ظاہر کیا تھا۔ ایک نام اور تھا صفیہ۔ اس کا جی چاہا کاش وہ بھی ان کے ساتھ ہوتی۔ وہ بھی اس بہار کا دیدار کر لیتی جس نے سرمد کو خزاں خزاں کر دیا تھا مگر اس کی جگہ امبر کا نام سن کر وہ مایوس سی ہو گئی۔ اس کی ایک دم دگرگوں ہوتی کیفیت نے ان دونوں کو ہوشیار کر دیا۔
“سرمد۔۔۔ ” سرسراتے لہجے میں ریحا نے کہا اور ڈری ڈری نگاہوں سے ان کی طرف دیکھا۔
“جی ہاں مس ریحا۔ ” طاہر نے پہلے جیسی نرمی ہی سے کہا۔ ” سرمد۔ جس کے ڈاکومنٹس آپ نے لندن سے اس کے پتے پر پاکستان پارسل کئے تھے۔ وہ عمرے کے بعد انڈیا آیا اور غائب ہو گیا۔ اس کے بارے میں کوئی نہیں جانتا کہ وہ کہاں ہے؟ کس حال میں ہے؟ ہم یہ سوچ کر آپ کے پاس آئے ہیں کہ یقیناً آپ اس کے بارے میں کچھ ایسا بتا سکیں گی جو ہمیں اس تک رسائی دلا سکے۔ ”
ریحا آنکھیں بند کئے گہرے گہرے سانس لے رہی تھی۔ ان سب کے دل شدت سے دھڑک رہے تھے۔ ریحا سرمد کے بارے میں جانتی تھی۔ انہیں بتا سکتی تھی، مگر کیا؟ اس سوالیہ نشان کے پنجے ان کے دل و دماغ میں پوری شدت کے ساتھ اترتے جا رہے تھے۔
چند لمحے خاموشی کے گھاٹ اتر گئے۔ امید و بیم نے انہیں جکڑے رکھا۔ آخر مانیا نے آہستگی سے ریحا کا ہاتھ تھام کر اسے خودفراموشی کی کیفیت سے باہر نکالا۔
“مس ریحا۔ ” ہولے سے اس نے کہا تو ریحا نے آنکھیں کھول کر اس کی جانب دیکھا۔ خشک ہونٹوں کو زبان پھیر کر تر کیا۔
“کیا جاننا چاہتے ہیں آپ لوگ سرمد کے بارے میں ؟” اس کی آواز جیسے کسی کھائی سے ابھری۔
“سب کچھ۔۔۔ وہ سب کچھ جو آپ اس کے بارے میں جانتی ہیں۔ ”
“مگر اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ آپ لوگ سرمد کے دوست ہیں۔ “وہ انہیں نظروں میں تولتے ہوئے بولی۔
جواب میں مانیا نے طاہر کا پاسپورٹ اسے تھما دیا۔ اس نے اسے کھول کر دیکھا۔ ایک حد تک اسے اطمینان ہو گیا۔ پاسپورٹ واپس کرتے ہوئے اس نے سوالیہ نظروں سے مانیا کی طرف دیکھا۔ مانیا اس کا مطلب سمجھ گئی اور پرس سے اپنا وزیٹنگ کارڈ نکال کر اسے دیا۔ ریحا نے اس کا جائزہ لیا اور خاصی حد تک مطمئن نظر آنے لگی۔
“کیا میں پوچھ سکتی ہوں آپ کے ساتھ سرمد کا کیا رشتہ ہے؟”اس نے طاہر سے پوچھا جو خیالوں کے غبار میں گھرا بڑی باریک بینی سے ریحا کی پوچھ گچھ کو جانچ رہا تھا۔ اسے سمجھ نہ آ رہی تھی کہ وہ سرمد کے بارے میں اس قدر محتاط کیوں ہو رہی ہے۔
“جی مس ریحا۔ ” طاہر نے ناپ تول کر الفاظ کا انتخاب کیا۔ “میں اس کا کزن ہوں۔ ”
“ہوں۔۔۔ ” ریحا ایک بار پھر کسی سوچ میں ڈوب گئی۔ لگتا تھا وہ زبان کھولنے سے پہلے ان کی باتوں کا جائزہ لے رہی ہے۔ ان پر اعتماد کرنے یا نہ کرنے کی کیفیت سے دوچار ہے۔ آخر ان کا صبر رنگ لایا اور ریحا نے فیصلہ کر لیا۔
“میں جو کہنے جا رہی ہوں ، اسے بڑے حوصلے اور دھیان سے سنئے گا۔ ” اس نے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے کہا اور طاہر کی جانب دیکھا۔ ” آپ یہ تو جان ہی چکے ہیں کہ میں کرنل رائے کی اکلوتی بیٹی ہوں۔ ”
“جی جی۔ ” طاہر اس کے رکنے پر بے چین سا ہو گیا۔ ” رکئے مت مس ریحا۔ ”
“لندن میں میری سرمد سے آخری ملاقات ہوئی تو میں نے اس پر اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔ جواب میں اس نے مجھے جو کہانی سنائی، اس نے اس کے دُکھ اور زندگی سے گریز کا پردہ فاش کیا۔ ” آہستہ سے اس نے طاہر کی جانب نظر اٹھائی، جو اسے گھبرائی ہوئی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ اس کے ماتھے پر آئے ہوئے پسینے نے ریحا کے دل میں رشک سا جگا دیا۔ اس نے صفیہ کا نام لینے سے پرہیز کرتے ہوئے کہا۔ “وہ کسی لڑکی کے عشق میں دنیا سے کٹ گیا تھا۔ میں اسے ہر قیمت پر حاصل کرنا چاہتی تھی مگر اس نے میری حوصلہ افزائی کی نہ کوئی وعدہ کیا۔ میں نے اپنے طور پراس کا انتظار کرنے کا فیصلہ کر لیا اور اسے اپنے اس عزم سے آگاہ کر کے انڈیا چلی آئی۔ ” وہ رکی تو طاہر نے رومال سے ماتھا خشک کیا۔ اس کی نظروں میں ریحا کے لئے تشکر کے جذبات تھی۔ ریحا نے اس بات کو محسوس کیا اور پھر کہنا شروع کیا۔
“کچھ عرصے بعداس نے سعودیہ سے مجھے کال کی کہ میں لندن جا کر اس کے ڈاکومنٹس پاکستان اس کے پاپا کے پتے پر ارسال کر دوں۔ میں نے ایسا ہی کیا اور واپس آ کر اس کے انتظار کا جھولا جھولنے لگی۔ مجھے نجانے کیوں یقین تھا کہ ایک نہ ایک دن میرے سرمد سے ملاقات ضرور ہو گی۔ سیتا ماں مجھے اور اسے ضرور ملا دے گی۔ میں روزانہ اس کے نام کا دیپ جلانے اس مندر میں آتی ہوں۔ ”
وہ خاموش ہو گئی۔
“تو اس کا مطلب ہے کہ اس کے بعد آپ کو اس کے بارے میں کوئی خبر نہیں ملی؟” مایوسی سے طاہر نے پوچھا۔
“یہ میں نے کب کہا؟” وہ اضطراب سے ہونٹ کاٹنے لگی۔ اس کی بھرائی ہوئی آواز نے ان دونوں کو چونکا دیا۔
“تو پھر۔۔۔ ؟” مانیا نے طاہر کے ہونٹوں کے الفاظ چھین لئے۔
” آج شام۔۔۔ یہاں آنے سے پہلے۔۔۔ مجھے اس کے بارے میں خبر ملی۔ ” اس کی آواز حلق میں پھنسنے لگی۔ ر کے رکے الفاظ بھیگتے چلے گئی۔ ” وہ۔۔۔ وہ۔۔۔ ” اس نے بے چینی کے عالم میں اپنے ہاتھ رانوں تلے دبا لئے اور سر جھکا کر بلک پڑی۔ ” وہ میرے پاپا کے ٹارچر سیل میں قید ہے۔ ”
“کیا۔۔۔ ؟” طاہر اور مانیا اگر اچھل نہ پڑتے تو حیرانی کو خود پر حیرت ہوتی۔ “یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ مس ریحا؟” طاہر بے قراری سے اٹھ کھڑا ہوا۔
’میں ٹھیک کہہ رہی ہوں مسٹر طاہر۔ ” وہ روئے جا رہی تھی۔ “میرا سرمد ایک آتنک وادی کے روپ میں میرے پاپا کے ہاتھ لگا اور اب وہ اسے ٹارچر کر رہے ہیں۔ ” آنسوؤں میں بھیگی آواز میں ریحا نے انہیں ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں اس ساری بات سے آگاہ کیا جو کرنل رائے سے اس تک پہنچی تھی۔
“یہ کیسے ہو سکتا ہے؟” طاہر بے چینی سے ٹہل رہا تھا۔ “وہ دہشت گرد نہیں ہو سکتا۔ وہ تو ایک بچے کی طرح معصوم ہے۔ ”
“مگر پاپا اسے نہیں مانتی۔ ” مانیا کی باہوں میں پڑی ریحا ہچکیاں لے رہی تھی۔
“یہاں مجاہدوں کو دہشت گرد ہی کہا جاتا ہے۔ ” مانیا نے اس کی طرف دیکھ کر کہا۔
“میں سمجھتا ہوں مس مانیا مگر سرمد کسی جہادی تحریک میں شامل ہوا تو کیسی؟ یہ بات میری سمجھ میں نہیں آ رہی۔ وہ تو اس راہ کا مسافر ہی نہیں تھا۔ “طاہر بے بسی سے بولا۔
شام، رات میں ڈھل رہی تھی۔ مانیا نے ریحا کو بڑی مشکل سے نارمل کیا۔ وہ اس کی حالت سے خاصی متاثر لگ رہی تھی۔
“مس ریحا۔ ” اچانک طاہر اس کے قریب آ کر رکا اور گھٹنوں کے بل گھاس پر بیٹھ گیا۔ “یہ ٹارچر سیل کہاں ہے؟”
“ہماری رہائش گاہ میں انیکسی کے بالکل ساتھ بیسمنٹ میں۔ “ریحا نے آہستہ سے جواب دیا۔
” آپ سرمد کو وہاں سے نکالنے میں ہماری کیا مدد کر سکتی ہیں ؟”
“جان دے سکتی ہوں۔ ” اس نے سوچے سمجھے بغیر کہا۔ ” آج سے پہلے میں بھی نہیں جانتی تھی کہ میں سرمد کو اس شدت سے چاہنے لگی ہوں مگر اب لگتا ہے اس کے بغیر سانس لینا مشکل ہے۔ ”
“میرا خیال ہے ہمیں اس ملاقات کو یہیں روک دینا چاہئے۔ مسٹر طاہر، اٹھ جائے۔ لوگوں کی نظریں آپ پر مرکوز ہیں۔ ”
طاہر کو اپنی حالت کا احساس ہوا تو وہ فوراً کھڑا ہو گیا۔ “سوری مس مانیا۔ ” ہولے سے اس نے کہا۔
“اٹس او کے۔ میں سمجھ رہی ہوں۔ ” مانیا نے اس کی جانب دیکھا۔ “میرا مشورہ یہ ہے کہ کل صبح مس ریحا سے میٹنگ رکھی جائے۔ اس وقت لائحہ عمل طے کیا جائے کہ ہم اس سلسلے میں کیا اور کیسے کر سکتے ہیں۔ یہ وقت ایسی تفصیل کے لئے مناسب ہے نہ کافی۔ ”
اس کی بات درست تھی۔ ریحا نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے مانیا کے دیے ہوئے ٹشو پیپر سے آنکھیں اور رخسار خشک کئے۔ پھر طاہر کی جانب دیکھا۔
” آپ کہاں ٹھہرے ہیں ؟”
“ہوٹل کشمیر پوائنٹ میں۔ روم نمبر دو سو ایک اور دو سو دو۔ ” طاہر نے بتایا۔
“میں کل صبح نو بجے آپ کے پاس ہوں گی۔ رات بھر میں مزید جو بھی معلوم ہو سکا، میں اس کے لئے پوری کوشش کروں گی۔ ”
“ٹھیک ہے۔ ” طاہر نے اس سے اتفاق کیا۔ “وقت کا خیال رکھئے گا مس ریحا۔ آپ سمجھ سکتی ہیں کہ یہ رات ہم پر کیسی بھاری گزرے گی۔ ”
“بتانے کی ضرورت نہیں مسٹر طاہر۔ ” وہ اسے اداسی سے دیکھتے ہوئے بولی۔ ” میں سانسوں میں کانٹوں کی چبھن سے آشنا ہو چکی ہوں۔ ”
“تو یہ طے رہا کہ کل صبح نو بجے ہوٹل میں مس ریحا ہم سے آن ملیں گی۔ ” مانیا جیسے اب وہاں سے رخصت ہو جانا چاہتی تھی۔ پھر جیسے اسے کچھ یاد آ گیا۔
“ہاں مس ریحا۔ جنرل صاحب کے سیل میں ایک شخص ہے کیپٹن آدیش۔ ”
“جی ہاں۔ ” وہ چونکی۔ ” آپ اسے کیسے جانتی ہیں ؟”
“وہ میرا کزن ہے۔ اسی نے مجھے آپ کے بارے میں بتایا تھا۔ آپ اسے میرا ایک میسج دے سکیں گی؟”
“ضرور۔ مگر کیا اس پر بھروسہ کرنا مناسب ہو گا مس مانیا؟” ریحا نے پوچھا۔
“یہی تو مجھے جاننا ہے۔ ” مانیا نے پُر خیال لہجے میں کہا۔ ” اور اس سے ملے بغیر میں کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکتی۔ آپ اسے کہئے گا مجھے آج رات ہوٹل میں آ کر ملے۔ ”
“ٹھیک ہے۔ میں اسے آپ کا میسج دے دوں گی۔ ” ریحا نے دھیرے سے کہا۔ “ویسے وہ آدمی اتنا برا نہیں ہے۔ مجھ سے اس کا دو چار بار سابقہ پڑ چکا ہے۔ ”
“تو آپ اسے میرا پیغام ضرور دیجئے گا۔ باقی جو بھگوان کرے۔ ” مانیا نے کہا اور وہ سب پارک سے باہر جانے کے لئے چل پڑے۔
* * *

کرنل رائے کسی زخمی درندے کی طرح فرش کی سینہ کوبی کر رہا تھا۔ اس کے دل و دماغ میں آتش فشاں دہک رہا تھا۔ رہ رہ کر اسے ریحا کی باتیں یاد آتیں اور وہ اس سوکھی لکڑی کی طرح چٹخ اٹھتاجسے آگ کے الاؤ میں پھینک دیا جائے۔
اسے کوئی ایسا راستہ نہ سمجھ آ رہا تھا کہ وہ ریحا کی بلیک میلنگ سے بچ سکی۔ اگر ایک بار وہ اس کی بات مان لیتا تو پھر بار بار اس کے ہاتھوں ذلیل ہونے سے اسے کون بچاتا؟ وہ جب چاہتی اس کی شہ رگ پر انگوٹھا رکھ کر اپنی منوا لیتی اور یہ بات اسے کسی حال میں بھی منظور نہ تھی۔ ایک تو وہ اونچے عہدے کا فوجی تھا اوپرسے ہندو۔ منصب اور خباثت نے مل کر اس کی شخصیت میں جو حرامی پن انڈیل دیا تھا، اس کا تقاضا تھا کہ وہ ریحا کو ایسا سبق سکھائے کہ آئندہ کے لئے وہ اس کے سامنے دم نہ مار سکے۔ اور اس کے لئے وہ کسی بھی انتہا تک جا سکتا تھا کیونکہ ریحا کون سی اس کی سگی بیٹی تھی؟ بلکہ اب تو وہ اسے اپنے رقیب کی نشانی ہونے کے ناطے دشمن لگنے لگی تھی۔ اگر سوجل اور ریحا مل کر اس کے خلاف محاذ کھڑا کر لیتیں تو اس کی عزت بھی خاک میں مل جاتی اور کورٹ مارشل کی تلوار الگ سر پر لٹکنے لگتی۔ اس نے راکیش کا کیس اپنے اثر و رسوخ سے دبا دیا تھا، ورنہ اگر کوئی ذرا سی بھی کوشش کرتا تو اس کے لئے اس کیس کا مصیبت بن جانا کوئی مشکل نہ تھا۔
آٹھ بجے تو اس کے قدم رک گئے۔ ٹارچر سیل میں سٹاف کی تبدیلی کا یہی وقت تھا۔ اس نے تیزی سے آگے بڑھ کر انٹر کام کا بٹن دبایا۔
“یس سر۔ ” دوسری جانب سے کیپٹن آدیش الرٹ آواز میں بولا۔
” آدیش۔ ڈیوٹی آف کر کے مجھ سے مل کر جانا۔ ”
“یس سر۔ ” آدیش نے ادب سے جواب دیا۔
اس نے انٹر کام سے رابطہ ختم کر دیا۔ بجھے ہوئے سگار کو سلگایا اور پھر ٹہلنے لگا۔ اسی وقت ریحا نے کمرے میں قدم رکھا۔ وہ چونک کر رکا اور اس کی جانب بڑی سرد نگاہوں سے دیکھنے لگا۔
“لگتا ہے پاپا۔ آپ ابھی تک مجھ سے ناراض ہیں۔ ” وہ اس کے قریب چلی آئی۔
“کیا خوش ہونا چاہئے مجھے؟” وہ عجیب سے لہجے میں بولا۔
“نہیں۔ ” ریحا اس کے سامنے سر جھکا کر کھڑی ہو گئی۔ “میری صبح کی باتیں واقعی آپ کو خفا کرنے والی تھیں مگر پاپا۔ مجھے اب تک آپ نے جس انداز میں پالا ہے۔ میرے جتنے لاڈ دیکھے ہیں۔ کیا ان کا اثر یہ نہیں ہونا چاہئے کہ میں اپنی بات منوانے کے لئے بدتمیز ہو جاؤں ؟”
“ریحا۔ ” کرنل رائے نے اسے بے اختیار گلے لگا لیا۔ “میری بچی۔ تم نہیں جانتیں تم نے مجھے کس مشکل میں ڈال دیا ہے۔ میرا آرام حرام ہو گیا ہے۔ نیند اڑ گئی ہے۔ چین کی بانسری بجانے والا کرنل رائے کیا اس وقت بیچارہ نہیں لگتا تمہیں ؟”
“پاپا۔ ” ریحا اس کے سینے سے لگے لگے بولی۔ “ایسی فرمائش تو نہیں کر دی میں نے کہ آپ پوری نہ کر سکیں۔ ”
“یہ تو تم کہتی ہو ناں بیٹی۔ ” اس نے ریحا کو الگ کیا اور میز کے کونے پر ٹک گیا۔ “مگر میرے لئے یہ کام اتنا آسان نہیں ہے۔ ”
” آسان نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے مشکل ہے، ناممکن نہیں۔ ہے ناں پاپا؟” وہ اس کی جانب شوخی سے دیکھ کر بولی۔
” لفظوں سے کھیلنا آ گیا ہے تمہیں۔ ” وہ پھیکے سے انداز میں مسکرایا۔
“تو پھر میں کیا سمجھوں پاپا؟” وہ مرضی کا جواب سننے کے لئے بیتاب تھی۔
“مجھے تھوڑا وقت دو ریحا۔ ” جنرل نے کھڑے ہو کر کہا۔ “ایک تو وہ آتنک وادی ہے دوسرے مسلمان۔ تیسرے اسے جنرل نائر نے میری طرف ریفر کیا ہے جو بال کی کھال نکالنے میں مشہور ہے۔ ”
“کچھ بھی ہو پاپا۔ اب اسے ٹارچر نہیں کیا جانا چاہئے۔ ” ریحا نے ضدسے کہا۔
“اس کے لئے تو میں منع کر چکا ہوں مگر مجھے اس الجھن کو سلجھانے کے لئے دم لینے کی فرصت تو دو بیٹی۔ ”
“ٹھیک ہے پاپا۔ مگر فیصلہ میرے حق میں ہونا چاہئے۔ ” وہ خوش ہو گئی۔
“اگر ایسا نہ کرنا ہوتا تو میں تم سے مہلت کیوں مانگتا پگلی۔ کوئی راستہ نکالنے کے لئے ہی تو وقت چاہتا ہوں۔ ”
“پاپا۔ ” اچانک اس نے نظر جھکا کر کہا اور خاموش ہو گئی۔ کرنل رائے نے اس کی جانب دیکھا۔ جان لیا کہ وہ کچھ کہنا چاہتی ہے۔
“کہو ریحا۔ کیا کہنا چاہتی ہو بیٹی؟” کرنل نے رسٹ واچ پر نظر ڈالی۔
“پاپا۔ کیا میں۔۔۔ کیا میں اس سے مل سکتی ہوں ؟” اس نے جھجکتے ہوئے کہا۔
“ہرگز نہیں۔ ” کرنل رائے کے لہجے میں درشتی اتر آئی۔
“پاپا۔ میں اسے دور سے دیکھ۔۔۔ ” تڑپ کر ریحا نے کہنا چاہا۔
“میں اس کی بھی اجازت نہیں دے سکتا ریحا۔ ” کرنل نے حتمی اور بڑے کڑوے لہجے میں کہا۔ “میں نہیں چاہتا کہ کوئی ایسا سکینڈل کھڑا ہو، جو میری ساکھ اور میرے خاندان کے لئے تباہی کا باعث بنے۔ یہ کوئی معمولی معاملہ نہیں ہے۔ میں نے کہا ناں کہ میں جلد ہی کچھ کرتا ہوں۔ تب تک تم اپنے آپ پر قابو رکھو اور ایک بات ذہن میں بٹھا لو۔ تمہیں اس سے ملنے کی اجازت میں کسی صورت نہیں دے سکتا اس کی وجہ اس کے سوا کوئی نہیں ہے کہ تم اسے دیکھ کر خود پر کنٹرول نہ رکھ سکو گی اور بات جس کے علم میں نہیں ہے، وہ بھی جان جائے گا۔ تب تم اپنے ساتھ مجھے بھی لے ڈوبو گی۔۔۔ ”
اسی وقت بیرونی دروازے پر دستک ہوئی اور ایک آواز ابھری۔
“مے آئی کم ان سر؟”
“یس آدیش۔ کم ان” جنرل نے جواب دیا اور ریحا کو جانے کا اشارہ کیا۔ ریحا نے بڑی اداس نظروں سے اسے دیکھا اور پلٹ کر کمرے سے نکل گئی۔ آدیش نے کمرے میں داخل ہو کر کرنل رائے کو سیلوٹ کیا۔
“بیٹھو کیپٹن۔ ” جنرل نے اسے اپنے سامنے والی کرسی آفر کی اور دونوں بیٹھ گئے تو جنرل تھوڑا سا اس کی جانب جھکا۔ “کیا حال ہے اس آتنک وادی کا؟ اس نے زبان کھولی یا نہیں ؟”
“نو سر۔ ” کیپٹن آدیش نے نفی میں سر ہلایا۔ “اب تو اس کی حالت بہت خراب ہے۔ ”
“اسی لئے میں نے تمہیں اس پر مزید ٹارچر سے منع کر دیا تھا۔ اور اب میں چاہتا ہوں کہ اس کے لئے کوئی اور راستہ اختیار کیا جائے۔ ”
کیپٹن آدیش نے اس کی جانب سوالیہ انداز میں دیکھا۔
“اور ہاں۔ تم نے اسے نہلا دھلا کر کپڑے چینج کرائے یا نہیں ؟” بڑی نرمی سے کرنل رائے نے پوچھا۔
“یس سر۔ اس کی شیو کرا دی گئی ہے۔ کپڑے چینج کرا دیے گئے ہیں۔ البتہ نہلایا نہیں گیا۔ ” آدیش نے سپاٹ لہجے میں کہا۔
“وہ کیوں ؟” کرنل کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔
“زخموں پر پانی پڑنے سے خرابی کا اندیشہ ہے سر۔ ”
“اوہ۔ ” مطمئن انداز میں کرنل نے سر ہلایا۔ ” ٹھیک ہے ٹھیک ہے۔ اب ایک خاص بات دھیان سے سن لو۔ ”
“وہ کیا سر؟” آدیش الرٹ ہو گیا۔
“کل رات ٹارچر سیل میں صرف تمہاری ڈیوٹی ہو گی۔ باقی سب کو چھٹی دے دینا۔ میں اب یہ قصہ ختم کر دینا چاہتا ہوں۔ لگتا ہے یہ لڑکا آتنک وادی نہیں ہے۔ جنرل نائر کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ دھیان رہے کہ کل وہاں جو کچھ ہو گا وہ میرے اور تمہارے درمیان رہے گا اور تمہاری اس راز داری کی قدر کی جائے گی۔ ”
کیپٹن آدیش نے کچھ کہنے کے لئے لب کھولی۔ اسے کرنل رائے کے الفاظ پر حیرت ہوئی تھی مگر جب اس کی نظریں کرنل سے ملیں تو نجانے اسے وہاں کیا دکھائی دیا کہ وہ محض “یس سر” کہہ کر رہ گیا۔
“بس۔ اب تم جا سکتے ہو۔ ” کرنل نے کہا تو وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
“سر۔ میں دو گھنٹے کے لئے شہر جانا چاہتا ہوں۔ ”
“تو جاؤ بھئی۔ منع کس نے کیا ہے۔ ” کرنل نے معنی خیز لہجے میں کہا۔ “ویسے تمہیں اب شادی کر لینی چاہئے۔ روز روز شہر جا کر بازاری دودھ پینے سے بہتر ہے گھر پر بھینس باندھ لو۔ ”
“سر۔۔۔ ” کیپٹن آدیش جھینپ گیا۔
“او کے او کے۔ جاؤ۔ عیش کرو۔ ” کرنل رائے نے ہنس کر کہا اور کیپٹن آدیش سیلوٹ کر کے کمرے سے نکل گیا۔
کرنل رائے نے کنکھیوں سے اندرونی دروازے کی طرف دیکھا، جس کے باہر بائیں طرف دیوار سے لگی کھڑی ریحا ان کی باتیں سن رہی تھی۔
٭

سرمد پر پچھلے کچھ گھنٹوں سے تشدد روک دیا گیا تھا۔
اسے حیرت ہوئی۔ پھر اس نے سوچا کہ شاید وہ لوگ اسے کچھ وقت دینا چاہتے ہیں تاکہ اس کاجسم دوبارہ ٹارچر برداشت کرنے کے قابل ہو جائے۔ یقیناً یہی بات ہے۔ اس نے دل میں سوچا اور فرش پر پڑے پڑے گھسٹ کر دیوار کے قریب ہو گیا۔ پھر بڑی مشکل سے سیدھا ہو کر دیوار سے ٹیک لگائی اور نیم دراز ہونے کی کوشش میں ، ٹانگیں پسار کر بیٹھ گیا۔ اس کا رواں رواں درد سے کانپ رہا تھا۔ اس نے سر دیوار سے ٹکا دیا اور سوچوں میں گم ہو گیا۔
اب تک اس نے اپنی زبان نہیں کھولی تھی اور اس کا امکان بھی نہیں تھا کہ اس کے لبوں سی” عشاق “کے بارے میں کچھ نکل جاتا۔ حمزہ کی شہادت تو اسے یاد تھی۔ داؤد اور حسین کا کیا بنا؟ اس کا خیال آیا تو اسے یقین ہو گیا کہ وہ بھی شہادت کا جام پی چکے ہیں۔ اگر وہ زندہ ہوتے تو اس کے ساتھ یہیں ہوتی۔ تاہم اس بات کا امکان بھی تھا کہ انہیں کسی اور جگہ رکھا گیا ہو۔
سوچ کا دھارا بہنا شروع ہوا تو کمانڈر کی شبیہ ذہن کے پردے پر ابھری۔ خانم کا چہرہ یاد آیا اور اپنے عہد کے الفاظ صدا بن کر کانوں میں گونجی:
“میں اپنے معبودِ واحد اللہ کو حاضر و ناظر جان کر اپنے سارے جذبے آج سے اللہ اور اپنے آقا و مولا کے نام کرتا ہوں۔ اب میرا جینا اللہ کے لئے اور مرنا اللہ کے لئے ہے۔
اب میری زندگی جہاد اور موت شہادت کی امانت ہے۔ میری سانسوں پر وحدانیت اور رسالت کے سوا کسی کا حق نہیں۔
“عشاق “کا نام میرے سینے میں دھڑکن کی طرح محفوظ رہے گا۔ میری زبان پر کبھی اس کے حوالے سے کوئی ایسا لفظ نہیں آئے گاجو دشمنوں کے لئے فائدہ مند ثابت ہو۔
اب میری ایک ہی شناخت اور زادِ راہ ہے۔ اشھد ان لا الٰہ الا اللہ و اشھد ان محمد الرسول اللہ۔ ”
سوچ کا سورج یہاں تک چمکا تو اجالے کی لپک سے اس کی آنکھوں میں نمی سی چھا گئی۔ اسے بے طرح اپنے والد ڈاکٹر ہاشمی یاد آ گئی۔ وہ ان سے وعدہ کر کے آیا تھا کہ بہت جلد پاکستان چلا آئے گا مگر ۔۔۔ باپ کی محبت، والہانہ پن، پیار، سب کے سب خیال اس کے آنسوؤں میں ڈھلتے چلے گئے۔ وہ اسے تلاش کرنے کے لئے کہاں کہاں نہ پہنچے ہوں گے؟ کیا کیا جتن نہ کئے ہوں گے؟ اور یہ سب کس کے سبب ہوا؟ اس کے سارے جسم میں پھیلی درد کی اذیت، ایک لذت میں سمٹ گئی۔ ایک چہرہ۔ ایک خوبصورت چہرہ۔ جس پر کشش کی قوس قزح نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ جو اس کے لئے آج بھی اتنا ہی محترم تھا جتنا پہلے دن۔ اسے لگا، ساری تکلیف، سارا دُکھ ایک مستی میں بدل گیا ہے۔ وہ ایک سرور کے دامن میں جا پڑا۔ ایک کیف کے سینے سے جا لگا۔ اس نے بے اختیار پلکیں موند لیں۔ وہ اس کیفیت کو دل میں اتار لینا چاہتا تھا۔ جذب کر لینا چاہتا تھا۔۔۔ مگر ۔۔۔ یہ کیا ہوا؟اشکوں کے موتی رخساروں پر ٹوٹ بہی۔ پلکوں کا در بند ہوا اور سکون کا منبع سامنے آ گیا۔ شادابی نے اس پر سایہ کر دیا۔ اس کا اندر ایک دم سرسبز ہو گیا۔ اس کے آقا و مولا کا مسکن۔ اس کے ربِ واحد و اکبر کی رحمتوں اور محبتوں کا محور و مرکز۔ گنبدِ خضریٰ۔۔۔ اس کی بصارت سے ہوتا ہوا بصیرت کی چوٹی پر جھلملانے لگا۔ عشقِ مجازی نے عشقِ حقیقی کا لبادہ اوڑھ لیا۔ وہ جو خود اپنے حبیب پر ہر دم درود و سلام بھیجتا ہے، اس کا حکم ہے کہ اس کے بندے بھی اپنے آقا پر درود و سلام بھیجیں۔ بے اختیار اس کے لبوں پر اپنے معبود کی سنت جاری ہو گئی:
“صلی اللہ علیہ وسلم۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ ”
ٹارچر سیل میں پھیلا اندھیرا دمک اٹھا۔ لو دے اٹھا۔ خوشبوؤں کے جھونکے یوں کمرے میں چکرانے لگے جیسے اس ورد کو پلکوں پر اٹھائے اٹھائے پھر رہے ہوں۔ جیسے انہیں اس مقدس امانت کو سنبھال رکھنے کے لئے کوئی پاکیزہ تر جگہ نہ مل رہی ہو۔ پھر ان پر ادراک کا در کھلا اور خوشبو ہلکورے لیتی ہوئی سرمد کے رگ و پے میں اترتی چلی گئی۔ اسے لوریاں دیتی مہک کے لئے سرمد کے دل سے زیادہ متبرک جگہ اور کون سی ہوتی جہاں وہ اس ورد کو چوم کر دھڑکنوں کے سپرد کر دیتی۔
کیپٹن آدیش ڈیوٹی ختم کر کے کرنل رائے کے بلاوے پر اس کے آفس میں جا رہا تھا کہ رک گیا۔ ایک عجیب سی مہک کے احساس سے اس کے قدم کاریڈور میں رک گئی۔ ذرا غور کرنے کے بعد وہ سرمد والے کمرے میں چلا آیا۔ اندر داخل ہونے کی دیر تھی کہ وہ خوشبو سے لبالب ہو گیا۔ حیرت زدہ نظروں سے وہ دیوار سے ٹیک لگائے، پلکیں موندے نیم دراز سرمد کی جانب تکے جا رہا تھا۔ پھر وہ دبے پاؤں آگے بڑھا۔ جھکا اور کان سرمد کے ہونٹوں کے قریب کر دیا، جس کے ہونٹوں پر وہی ورد تھا، جو کیپٹن آدیش کے جسم میں کرنٹ دوڑا دیتا تھا۔ مگر یہ خوشبو۔ یہ مہک۔ یہ نئی چیز تھی جس نے اس کے حواس پر نشہ سا طاری کر دیا۔ اس کے لئے سرمد کے آنسوؤں سے تر چہرے پر نگاہ جمانا مشکل ہو گیا۔ اس کا دل سینے میں کسی زخمی پنچھی کی طرح پھڑکا تو گھبرا کر وہ الٹے پاؤں کمرے سے نکلا اور دروازہ بند کر دیا۔ شیشے کی دیوار کے پار سرمد اب بھی اسی طرح بیٹھا تھا۔ چند لمحے وہ اسے دیکھتا رہا پھر خاموشی سے چل پڑا۔ اس کا دل قابو میں نہ تھا۔ سارا جسم لرز رہا تھا اور پاؤں کہیں کے کہیں پڑ رہے تھے۔
کاریڈور کے موڑ پر رک کر اس نے ایک بار پھر گردن گھما کر سرمد کی طرف نگاہ ڈالی۔ اس کی حالت میں کوئی تبدیلی نہ آئی تھی اور خوشبو تھی کہ اب بھی کیپٹن آدیش کے سر پر چکرا رہی تھی۔ وہ بے خودی کے عالم میں سیل سے نکل آیا۔
باہر نکلتے ہی سرشاری کی اس کیفیت نے دم سادھ لیا۔ خودکار دروازے کے بند ہونے پر وہ چند لمحے کھڑا رہ کر لمبے لمبے سانس لیتا رہا۔ پھر کرنل رائے کے آفس کی جانب چل پڑا۔ اب اس کے ذہن میں تقریباً ایک گھنٹہ قبل ریحا کے فون پر کہے ہوئے الفاظ چکرا رہے تھے:
“کیپٹن۔ ہوٹل کشمیر پوائنٹ کے کمرہ نمبر دو سو ایک میں تمہاری کزن مس مانیا تم سے آج ہی رات ملنا چاہتی ہیں۔ ”
* *
آدیش۔۔۔ ” مانیا نے اس کا بڑی گرمجوشی سے استقبال کیا۔ دونوں گلے ملے۔ پھر وہ اسے لئے ہوئے صوفے پر آ بیٹھی۔ “میرا پیغام مل گیا تھا؟”کہتے ہوئے مانیا نے غیر محسوس انداز میں اپنے اور طاہر کے کمرے کے مشترکہ دروازے کی طرف دیکھا، جس پر پردہ پڑا ہوا تھا۔
“ہاں۔ ” وہ پھیل گیا۔ “مس ریحا نے بتایا تھا مگر ۔۔۔ ایک بات میری سمجھ میں نہیں آئی۔ ” وہ گدی پر ہاتھ باندھتے ہوئے بولا۔
“وہ کیا؟ مگر پہلے یہ بتاؤ کیا چلے گا؟”
“ابھی کچھ نہیں۔ ذرا دیر بعد۔۔۔ ” آدیش نے اسے روک دیا۔
“او کے۔ ” مانیا مسکرائی۔ “ہاں اب پوچھو۔ کیا کہہ رہے تھے تم؟”
“یہ پوچھنا چاہتا تھا کہ مس ریحا کے ساتھ کیا تعلق ہے تمہارا؟چند دن پہلے تم نے فون پر اس کے بارے میں مجھ سے پوچھا اور آج اس کے ہاتھ مجھے تمہارا پیغام ملا۔ آخر چکر کیا ہے یہ؟”
“میں جانتی تھی تم یہ سب جاننے کے لئے بے چین ہو گی۔ ” مانیا نے ایک طویل سانس لے کر اس کی طرف دیکھا۔ “میں تمہیں سب کچھ بتا سکتی ہوں آدیش۔ مگر پہلے مجھے یہ معلوم ہونا چاہئے کہ میں تم پر کس حد تک اعتماد کر سکتی ہوں ؟”
“میں سمجھا نہیں۔ ” وہ اسے گہری نظروں سے دیکھنے لگا۔ “کس معاملے میں اور کیسا اعتماد چاہتی ہو تم؟”
” آدیش۔ ” مانیا کے لہجے میں سنجیدگی اتر آئی۔ “بات بہت نازک ہے اور ایسی بھی کہ جس کا اظہار شاید میرے لئے نقصان دہ ہو جائے۔ ”
“میں سیدھا سادہ فوجی ہوں۔ سسپنس میرے اعصاب پر بوجھ بن جاتا ہے۔ جو کہنا ہے کھل کر کہو۔ ”
“اچھا یہ بتاؤ آدیش۔ اگر تمہیں یہ پتہ چلے کہ میں کسی ایسے کام میں تمہاری مدد چاہتی ہوں جو تمہاری جاب کے حوالے سے، تمہارے محکمے کے حوالے سے تمہیں مناسب نہ لگے تو۔۔۔ ”
اور ایک دم آدیش سیدھا ہو بیٹھا۔ اس نے مانیا کو بڑی ناپ تول بھری نظروں سے دیکھا جیسے اس کی بات کی گہرائی میں جانا چاہتا ہو۔ پھر سرسرایا۔
“غداری؟”
“نہیں۔ ” مانیا نے ایک دم ہاتھ اٹھا کر کہا۔ “میں اسے غداری نہیں کہہ سکتی۔ ”
“اور میں بات سنے بغیر کوئی رائے نہیں دے سکتا۔ نہ تمہاری بات کے بارے میں نہ اپنے تعاون کے حوالے سے۔ ” اس نے صاف صاف کہا۔
“مگر اس بات کی گارنٹی تو دے سکتے ہو کہ اگر تم مجھ سے متفق نہ ہوئے تو یہ بات اسی کمرے میں دفن ہو جائے گی۔ ہمیشہ کے لئے۔ ”
“اس پر بھی مجھے سوچنا پڑے گا۔ ”
“تب میں مجبور ہوں آدیش۔ ” مانیا نے حتمی لہجے میں کہا۔ “میں اپنے ہاتھ کاٹ کر تمہیں نہیں دے سکتی۔ ویری سوری کہ میں نے تمہارا وقت برباد کیا۔ ”
“مطلب یہ کہ میں جا سکتا ہوں ؟” عجیب سے لہجے میں آدیش نے کہا۔
“اب میں اس قدر بد اخلاق بھی نہیں ہوں کہ تمہیں چائے کافی نہ پوچھوں۔ ” پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ انٹر کام تک جانے کے لئے اس نے اٹھنا چاہا۔
“رہنے دو۔ ” آدیش ایک دم اٹھا اور اس کے قدموں میں جا بیٹھا۔ پھر رخ پھیرا۔ نیچے سرک کر اپنا سر مانیا کی گود میں رکھا اور آنکھیں بند کر لیں۔ یوں لگا جیسے ابھی وہ کہے گا۔ “ذرا میرے سر میں تیل کی مالش کر دو۔ ” مگر اس کے بجائے اس کے لبوں سے جو نکلا، اس نے مانیا کو بیحد جذباتی کر دیا۔
“دیدی بنتی ہو۔ ہر سال راکھی باندھتی ہو میری کلائی پر اور حکم دینے کے بجائے مجھ سے گارنٹیاں مانگتی ہو۔ کہتی ہو آدیش۔ کیا میں تم پر اعتماد کر سکتی ہوں ؟ یہ کیوں نہیں پوچھتیں کہ آدیش۔ کیا میں تمہارے سینے میں خنجر اتار سکتی ہوں ؟”
“بکو مت۔ ” مانیا نے اس کا سر باہوں کے حلقے میں لے کر سینے میں چھپا لیا۔ “تھپڑ مار دوں گی۔ ” اس کی آواز بھرا گئی۔
“گولی مار دو تو زیادہ اچھا ہے۔ ” آدیش نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔ ” آج اس جسم پر یہ وردی کس کی دین ہے ؟ جانتی ہو ناں۔ میں سماج میں سر اٹھا کر چل سکتا ہوں تو کس کی وجہ سے؟ یہ بھی تمہیں علم ہے۔ مجھے اپنے باپ کے نام کا پتہ نہیں۔ ماں کون تھی، یہ بھی نہیں جانتا۔ صرف یہ جانتا ہوں کہ اگر تم مجھے ریل کی پٹڑی سے کھینچ کر زندگی کی پگڈنڈی پر گامزن نہ کر دیتیں تو میں کبھی کا ٹکڑوں میں بٹ کر اس دنیا سے ناپید ہو چکا ہوتا۔ اپنے ماں باپ کا نام دے کر تم نے مجھے حرامی ہونے کے الزام سے بچا لیا۔ اور آج۔۔۔ آج تم جاننا چاہتی ہو کہ تم مجھ پر اعتماد کر سکتی ہو یا نہیں ؟”
” آدیش۔۔۔ مجھے معاف کر دو۔ ” مانیا نے اس کے بالوں پر پے در پے کتنے ہی بوسے دے ڈالے۔ اس کا سر اب بھی مانیا کی باہوں میں بھنچا ہوا تھا۔
“معاف کر دوں۔ کیوں معاف کر دوں ؟” وہ سسک کر بچوں کی سی ضد کے ساتھ بولا۔ “جاؤ۔ نہ میں تمہیں معاف کروں گا نہ تم سے بات کروں گا۔ ”
” آدیش۔۔۔ ” مانیا اس کے روٹھنے کے انداز پر قربان سی ہو گئی۔ “اب بھی نہیں۔ ”
اس نے بازو کھولے اور اس کے چہرے کے سامنے ہاتھ جوڑ دئیے۔
آدیش نے تڑپ کر اس کے ہاتھ تھامے۔ پاگلوں کی طرح بار بار انہیں چوما اور پھر وہ ہاتھ اپنے رخساروں پر رکھ لئے۔
“اب بس بھی کرو بے وقوف۔ کیا رلا رلا کر مار دو گے مجھے؟”
“ہاں۔ ” آدیش نے اس کے بازو اپنے گرد حمائل کر لئے۔ “دوبارہ ایسی بات کی ناں ، تو میں اپنی اور تمہاری جان ایک کر دوں گا۔ “مانیا نے اس کے شانے پر ماتھا رکھ کر اپنی نم آنکھیں بند کر لیں۔ “بس یہ یاد رکھنا دیدی۔ اس ملک، اس دنیا، اس دھرم سے بھی اونچا اگر کوئی ہے تو میرے لئے تم ہو۔ صرف تم۔ ”
“جانتی ہوں۔ غلطی ہو گئی بابا۔ اب ختم بھی کر دو۔ ” مانیا نے پیار سے کہا اور اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے اٹھا کر اپنے ساتھ بٹھا لیا۔ پھر اپنی ساڑھی کے پلو سے اس کا آنسوؤں سے تر چہرہ خشک کیا۔
“اب ذرا سنبھل کر بیٹھو۔ چہرے پر جو بارہ بج رہے ہیں ، انہیں سوا نو کی مسکراہٹ میں بدلو۔ میں تم سے ایک خاص شخص کو ملوانے جا رہی ہوں۔ ”
“کہاں ہے وہ؟” آدیش نے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا۔
“یہیں ہے۔ ” مانیا نے پردے کی جانب رخ کر کے کہا۔ ” آ جائیے مسٹر طاہر۔ ”
دوسرے ہی لمحے پردہ ہٹا اور طاہر کمرے میں داخل ہوا۔ اس کا چہرہ اس بات کی غمازی کر رہا تھا کہ وہ گزشتہ کافی گھنٹوں سے نہیں سویا مگر وہ یہ اندازہ نہ لگا سکا کہ اس کیفیت میں اس کے اور مانیا کے درمیان ہونے والی چند لمحے قبل کی گفتگو کا بھی بہت ہاتھ تھا، جس کا اس نے ایک ایک لفظ سنا تھا۔
آدیش اور مانیا کھڑے ہو گئے۔
“مسٹر طاہر۔ یہ میرا بھائی ہے کیپٹن آدیش۔ اور آدیش یہ ہیں مسٹر طاہر۔ “مانیا نے تعارف کرایا۔
طاہر اور آدیش نے گرمجوشی سے ہاتھ ملایا۔ سب لوگ بیٹھ گئے تو مانیا نے انٹر کام پر کافی اور دوسرے لوازمات کا آرڈر دینا چاہا۔ طاہر نے اسے روک دیا۔ “ایسا نہ کیجئے۔ اس طرح کیپٹن آدیش کے ساتھ میرا آپ کے کمرے میں پایا جانا اچھا تاثر نہ دے گا۔ ”
بات سب کی سمجھ میں آ گئی اس لئے کھانے پینے کا پروگرام ترک کر دیا گیا۔ پھر مانیا نے آدیش کی جانب دیکھا۔
” آدیش۔ بات گھما پھر ا کر بتانے کی میں ضرورت نہیں سمجھتی۔ ذرا اس تصویر کو دیکھو۔ ” اس نے پرس سے ایک پاسپورٹ سائز فوٹو نکال کر اس کے ہاتھ میں تھما دی۔
“یہ۔۔۔ ” آدیش اچھل پڑا۔ “یہ تو۔۔۔ یہ تو۔۔ ” وہ ہکلا کر رہ گیا۔
“یہ تمہارے سیل میں ہے۔ اتنا تو میں جانتی ہوں۔ اب اس سے پہلے کی بات سن لو۔ ” مانیا نے اسے ریلیکس ہونے کا اشارہ کیا اور سرمد اور ریحا کا نام لئے بغیر طاہر کی فراہم کردہ معلومات اس کے گوش گزار کر دیں۔
“یہ شخص۔۔۔ ” آدیش نے اس کی تصویر سامنے پڑی میز پر ڈال دی۔ ” جنرل نائر کی چھاؤنی پر اٹیک کے دوران اس کے ہاتھ لگا۔ اس کے سارے ساتھی مارے گئے۔ صرف یہ زندہ بچا۔ ہم اس کے بارے میں کچھ بھی جاننے میں اب تک کامیاب نہیں ہو سکے۔۔۔ لیکن۔۔۔ ” ایک دم ذہن میں جنم لینے والے کسی سوال نے اسے چونکا دیا۔ اس نے طاہر کی جانب دیکھا۔ پھر اس کی نظر مانیا پر جم گئی۔ ” آپ لوگ کیسے جانتے ہیں کہ یہ کرنل رائے کے سیل میں ہے؟”
“سب سے پہلے پوچھا جانے والا سوال تم اب پوچھ رہے ہو۔ ” مانیا نے کہا۔ “بہرحال اس کا جواب یہ ہے کہ ہمیں اس کے بارے میں ریحا نے بتایا ہے۔ ”
“مس ریحا نے؟” آدیش اس بار اور بری طرح چونکا۔ ” اس کا اس شخص سے کیا تعلق؟”
“وہی۔۔۔ جو سانس کا جسم سے، خوشبو کا صبا سے اور بہار کا گلاب سے ہوتا ہے آدیش۔ ” مانیا نے شاعری کر ڈالی۔
“یعنی۔۔۔ ” آدیش کے ذہن کو جھٹکا سا لگا۔
“ہاں۔ ” مانیا نے اس کی نظروں میں ابھرتی حیرت پڑھ لی۔ ” وہ سرمد کو اپنی جان سے زیادہ چاہتی ہے۔ ”
اور آدیش کا سارا جسم سُن ہو گیا۔ دماغ سرد ہوتا چلا گیا۔ رگ و پے میں خون کی جگہ درد کی لہریں دوڑنے لگیں۔ وہ بے اختیار پیچھے ہٹا اور صوفے کی پشت سے ٹیک لگا کر گہرے گہرے سانس لینے لگا۔ مانیا نے اس کی کیفیت کو اچانک انکشافات سے تعبیر کیا مگر طاہر۔۔۔ وہ بات کی تہہ تک پہنچ گیا۔ وہ ایسی وارداتوں سے ایک سے زیادہ بار دو چار ہو چکا تھا۔ اس نے زبان کو خاموش رکھا مگر سوچ کے لبوں سے پہرے ہٹا لئے۔ اس کا دماغ کسی فیصلے پر پہنچنے کے لئے پر تولنے لگا۔
“کیا ہوا؟” مانیا نے اسے فکرمند نظروں سے دیکھا۔
“کچھ نہیں دیدی۔ ” آدیش نے سرخ ہوتی ہوئی آنکھیں کھولیں۔ “بس۔ حیرت سے یہ حال ہو گیا ہے۔ ”
“محبت کرنے والے جھوٹ بولیں تو فوراً پکڑ ے جاتے ہیں کیپٹن آدیش۔ ” آہستہ سے طاہر نے کہا تو آدیش کے ایک دم اتر جانے والے چہرے پر زردی گہری ہو گئی۔
“کیا مطلب؟” مانیا نے حیرت سے طاہر اور پھر آدیش کی جانب دیکھا۔
“کیپٹن آدیش۔۔۔ ” طاہر نے نگاہوں کا محور مانیا کو بنایا۔ “شاید نہیں ، یقیناً مس ریحا سے محبت کرتے ہیں مس مانیا۔ ”
“کیا واقعی؟” اس کے لہجے میں حیرت ہی حیرت تھی۔ ” آدیش۔۔۔ ؟” مانیا نے نظر اس کے چہرے پر جما دی۔
“پیار پر بس تو نہیں ہے میرا لیکن۔۔۔ ” آدیش نے مصرع ادھورا چھوڑ دیا۔ “مسٹر طاہر ٹھیک کہہ رہے ہیں دیدی۔ مجھ پر اس انکشاف سے جو اثر ہوا وہ قدرتی ہے مگر ظالم وقت نے مجھے بڑا حقیقت پسند بنا دیا ہے۔ میں جانتا تھا کہ مس ریحا کا میرا ہو جانا ایک ایسا خواب ہے جسے دیکھنا بھی میرے لئے جرم ہے۔ اسی لئے میں انہیں دل ہی دل میں پوجتا رہا اور شاید زندگی کے آخری سانس تک پوجتا رہوں گا لیکن آج یہ جان کر کہ مس ریحا کسی اور کو چاہتی ہیں مجھے ایک عجیب سے دُکھ کی لذت نے گھیر لیا ہے۔ اب میں چاہتا ہی نہیں کہ مس ریحا میری ہو جائے۔ میں اسے حاصل کر لوں۔ بلکہ ایک انوکھی سی کسک دل میں آنکھ کھولے میرے ہونٹوں سے یہ سننا چاہتی ہے کہ تم مجھے یہ بتاؤ، میں مس ریحا اور سرمد کے کس کام آ سکتا ہوں ؟”
“کیپٹن آدیش۔۔۔ ” طاہر نے اس کا ہاتھ بڑی گرمجوشی سے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔ حیرت سے منہ پھاڑے مانیا سب کچھ سن رہی تھی۔ دیکھ رہی تھی۔ صورتحال ذرا نارمل ہوئی تو طاہر نے مانیا کی اجازت سے آدیش سے بات چیت شروع کی۔
“کیپٹن آدیش۔ سرمد اس وقت کس حال میں ہے؟”
“اچھے حال میں نہیں ہے۔ ” آدیش نے صاف گوئی سے کہا۔ ” سب جانتے ہیں کہ ٹارچر سیلز میں کسی بھی ملزم سے کیا سلوک ہوتا ہے۔ مگر وہ شخص عجیب مٹی سے بنا ہوا ہے۔ اس کی زبان سے آج تک اپنے یا اپنے گروپ کے بارے میں ایک لفظ ادا نہیں ہوا۔ ہاں۔ ایک خاص بات، جو یہاں آنے سے پہلے مجھ سے کرنل رائے نے کی، وہ سن لیں شاید وہ ہمیں کسی پلان کے لئے مدد دے سکی۔ ” اس کے بعد کیپٹن آدیش نے انہیں اپنی اور کرنل رائے کی تقریباً دو گھنٹے قبل کی گفتگو سے آگاہ کیا۔
“اس کا مطلب ہے کہ کل کی رات سرمد کے سلسلے میں بہت اہم ہے۔ ”
“جی ہاں۔ ” آدیش نے طاہر کی بات کے جواب میں کہا۔ “میں یہ تو اندازہ نہیں لگا سکا کہ کل رات کرنل رائے کیا کرنا چاہتا ہے اور اس کے کسی بھی اقدام کے بارے میں کوئی بھی پہلے سے کچھ نہیں کہہ سکتا تاہم یہ بتا سکتا ہوں کہ کل سرمد کا قصہ آر یا پار۔ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ”
“ہوں۔ ” مانیا، اس کی بات پر کسی سوچ میں ڈوب گئی۔ طاہر اور آدیش کی نظر ملی اور جھک گئی۔ صورتحال ان کے لئے خاصی گمبھیر تھی۔ یہ بڑا سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے کی گھڑی تھی۔
“اچھا مسٹر طاہر۔ ایک بات تو بتائیے۔ ” اچانک آدیش نے پُر خیال لہجے میں کہا۔ پھر جیسے اس نے ارادہ بدل دیا۔ “مگر نہیں۔ پہلے میں آپ کو بتاتا ہوں۔ پھر آپ میرے بیان کی روشنی میں وضاحت کیجئے گا۔ ”
“جی جی۔ ” طاہر پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہو گیا۔ مانیا نے بھی ان دونوں کی طرف کان لگا دئیے۔
“مسٹر طاہر۔ ” آدیش نے بڑے خوابناک انداز میں کہنا شروع کیا۔ “چند دن پہلے تک میں کرنل رائے کے ساتھ سرمد پر تشدد میں پوری طرح شامل تھا مگر ایک دن عجیب بات ہوئی۔ سرمد غشی کے عالم میں فرش پر پڑا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ اس کے ہونٹ آہستہ آہستہ ہل رہے ہیں۔ یہ سوچ کر میں نے کان اس کے ہونٹوں سے لگا دیا کہ شاید اس کے بارے میں کسی ایسی بات کا علم ہو جائے جو ہم پر اس کا نام، پتہ یا کسی آتنک وادی تنظیم سے تعلق آشکار کر دے مگر اس کے لبوں سے نکلتے الفاظ نے میرے سارے جسم میں کرنٹ سا دوڑا دیا۔ میں اچھل کر پیچھے ہٹ گیا۔ میری حالت ایسی ہو گئی جیسے کسی جادو نے مجھے اپنی گرفت میں لے لیا ہو۔ میرا دل پسلیاں توڑ کر سینے سے نکل جانے کو تھا۔ اور شاید ایسا ہی ہوتا اگر میں سرمد سے پرے نہ ہو جاتا۔ اس دن سے آج تک میں اس پر ہاتھ نہیں اٹھا سکا۔ میرا دل ہی نہیں چاہا کہ میں اسے اذیت دوں۔ بلکہ نجانے کس جذبے کے تحت میں نے اپنی ڈیوٹی مسلسل اس پر لگوائے رکھی تاکہ میری جگہ کوئی دوسرا آ کر اسے تشدد کا نشانہ نہ بنائے۔ اس دن کے بعدسے آج تک یہ میرا معمول ہے کہ جب وہ آنکھیں بند کئے دنیا و مافیہا سے بے خبر پڑا ہو، روزانہ ایک دو بار میں اس کے ہونٹوں کے ساتھ کان لگا کر وہ خوبصورت الفاظ ضرور سنتا ہوں۔ میرا جی چاہتا تھا میں اس کے زخموں پر مرہم لگاؤں۔ اسے آرام پہنچاؤں مگر میں ایسا کر نہ سکا۔ میں ایسا کرتا تو غدار کہلاتا اور عتاب کا شکار ہو جاتا۔ اس پر کئے ہوئے اپنے تشدد کے لمحات یاد آتے تو میں خود پر شرمندگی محسوس کرتا۔۔۔ اور آج۔۔۔ ” اس نے بات روک دی۔ آنکھیں بند کر کے سر اوپر اٹھایا اور فضا میں کچھ سونگھنا چاہا۔ محسوس کرنا چاہا۔ پھر جب اس نے آنکھیں کھولیں تو وہ تینوں یہ دیکھ کر چونک پڑے کہ اس کی آنکھوں میں نیند کی سی کیفیت انگڑائیاں لے رہی تھی۔ ا س کا لہجہ بھاری ہو گیا۔ یوں جیسے وہ بولنا چاہتا ہو اور بول نہ پا رہا ہو۔ اس کی آواز میں شبنم سی گرنے لگی۔ اس کے لہجے کو بھگونے لگی۔ غسل دینے لگی۔
” آج۔۔۔ آج وہ ہوا جس کے سبب میں ابھی تک ایک سرشاری کے سفر میں ہوں۔ میں اپنی ڈیوٹی ختم کر کے کرنل رائے کے آفس میں جا رہا تھا کہ مجھے رک جانا پڑا۔ سرمد کمرے میں دیوار سے ٹیک لگائے آنکھیں بند کئے نیم دراز ہے۔ اس کا چہرہ آنسوؤں میں تر ہے اور ہونٹ ہولے ہولے ہل رہے ہیں۔ میں رکا تو محسوس ہوا کہ ایک عجیب سی مست کر دینے والی خوشبو وہاں چکرا رہی ہے۔ میں حیرت زدہ سا اندر داخل ہوا اور اس کے قریب چلا گیا۔ کان اس کے ہونٹوں سے لگا دئیے۔ وہ اپنا مخصوص ورد کر رہا تھا۔ میں نے صاف محسوس کیا کہ وہ خوشبو، وہ مہک جس نے سرمد کے گرد حصارسا باندھ رکھا ہے، مجھ پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ میرے حواس نشے میں ڈوبتے چلے گئے۔ دل کو بے قراری نے جکڑ لیا۔ جب میں اس کیفیت کو برداشت نہ کر سکا تو خوشبو میں نہایا ہوا کمرے سے نکل آیا۔ کسی مے نوش کی طرح لڑکھڑاتا ہوا سیل سے باہر پہنچا۔ یخ بستہ فضا میں چند گہرے گہرے سانس لئے تو ہوش کا دامن ہاتھ آیا۔ یہاں آنے تک میری حالت دگرگوں ہی رہی۔ دیدی اور آپ لوگوں سے ملا۔ گفتگو کی تو حالت سنبھلی مگر میرا دل سینے ہی میں ہے، اس میں اب بھی مجھے کسی کسی لمحے شک ہوتا ہے۔ لگتا ہے میں اب بھی وہیں ہوں۔ سرمد کے پاس۔ وہ خوشبو اب بھی میری دھڑکنوں اور آتما میں چکرا رہی ہے۔ وہ الفاظ اب بھی مجھے لوریاں دے رہے ہیں۔ مجھے اپنی جانب کھینچ رہے ہیں۔ مجھے کچھ سمجھا رہے ہیں۔ مگر کیا ؟ یہ میں نہیں جانتا”۔
کیپٹن آدیش خاموش ہو گیا اور سر جھکا لیا۔ وہ تینوں بُت بنے اس کا چہرہ دیکھ رہے تھے جس پر ایک عجیب سی معصومیت چھائی ہوئی تھی۔
“کیپٹن آدیش۔۔۔ ” آہستہ سے طاہر نے اسے پکارا تو وہ چونکا۔ مانیا نے جھرجھری لے کر اسے متوحش نظروں سے دیکھا۔
“یس مسٹر طاہر۔ ” وہ تھکے تھکے سے لہجے میں بولا۔
“کیا آپ کو۔۔۔ وہ الفاظ یاد ہیں۔۔۔ جو سرمد کا ورد ہیں ؟” طاہر نے ٹھہر ٹھہر کر، رک رک کر جما جما کر الفاظ ادا کئے۔
“وہ الفاظ۔۔۔ ” کیپٹن آدیش یوں مسکرایا جیسے طاہر نے اس سے کوئی بچگانہ بات پوچھ لی ہو۔ “وہ تو میری آتما پر ثبت ہو گئے ہیں مسٹر طاہر۔ میں چلتے پھر تے ان الفاظ کو اپنے لہو کے ساتھ جسم میں گردش کرتے محسوس کرتا ہوں۔ ”
“کیا آپ انہیں ہمارے سامنے دہرائیں گے کیپٹن آدیش؟پلیز۔ ” طاہر نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ اس کے لہجے میں التجا سی تھی۔
“ضرور۔ ” آدیش نے کہا۔ پھر وہ کہتے کہتے رک گیا۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا۔ میز پر پڑا جگ اٹھایا۔ گلاس میں پانی ڈالا۔ گھونٹ بھرا اور اٹھ گیا۔ باتھ روم کا دروازہ کھول کر اس نے کلی کی اور رومال سے ہونٹ صاف کرتے ہوئے لوٹ آیا۔ وہ تینوں اس کی حرکات کو حیرت سے دیکھ رہے تھے۔
“مسٹر طاہر۔ پتہ نہیں کیوں میرا جی نہیں چاہا کہ میں کلی کئے بغیر وہ الفاظ زبان سے نکالوں۔ ظاہر ہے اگر وہ الفاظ آپ کے مذہب سے متعلق ہیں تو آپ کے عقیدے کے مطابق پاکیزہ ہی ہوں گے مگر میرے دل میں ان کا احترام جس وجہ سے ہے، میں وہ بیان نہیں کر سکتا۔ بس میرا جی چاہتا ہے کہ میں ان الفاظ کو اپنی زبان پاک کر کے ادا کروں۔ ”
“اب دیر نہ کیجئے کیپٹن آدیش۔ ” طاہر بیتاب ہو گیا۔ رہ گئی مانیا تو وہ سانس روکے کسی ایسے انکشاف کی منتظر تھی جو اسے حیرت کے کسی نئے جہاں میں اتار دیتا۔
صوفے پر بیٹھ کر کیپٹن آدیش نے ایک نظر ان تینوں کو مسکرا کر دیکھا۔ پھر اس کی نظر طاہر کے چہرے پر آ جمی۔
“وہ الفاظ جو سرمد کا ہمہ وقت ورد ہیں مسٹر طاہر۔ وہ ہیں۔ “دھیرے سے اس نے آنکھیں بند کیں اور کہا:
“صلی اللہ علیہ وسلم۔ ”
ایک دم جیسے کمرے میں ہوا ناچ اٹھی۔ فضا جھوم اٹھی۔ لمحات وجد میں آ گئی۔ گھڑیاں رقصاں ہو گئیں۔ خوشبو نے پر پھیلا دئیے۔ مہک ان کے بوسے لینے لگی۔ ان کے دل دھڑکنا بھول گئے۔ پلکوں نے جھپکنا چھوڑ دیا۔ ہوش و حواس ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ہلکورے لینے لگے۔
کیپٹن آدیش خاموش ہو چکا تھا مگر اس کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کی بازگشت کمرے میں پھڑپھڑا رہی تھی۔ اجالوں سے گلے مل رہی تھی۔ اندھیروں کا نصیب بدل رہی تھی۔ مانیا بُت بنی بیٹھی تھی اور طاہر۔۔۔ وہ ایسی نظروں سے کیپٹن آدیش کو دیکھ رہا تھا، جن میں رشک تھا تو عروج پر۔ عقیدت تھی تو انتہا پر۔ اور پیار تھا تو اوج پر۔
کتنے ہی لمحے سکوت کے عالم میں دبے پاؤں گزر گئے۔ پھر مانیا نے ایک طویل اور گہرا سانس لیا تو سب لوگ آہستگی سے چونکی۔ کیپٹن آدیش نے سر اٹھایا اور مانیا کے بعد طاہر کی جانب دیکھا، جو اسے بڑی عجیب سی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
“کیا دیکھ رہے ہیں مسٹر طاہر؟” آدیش مسکرایا۔
“دیکھ نہیں سوچ رہا ہوں کیپٹن آدیش۔ ” طاہر نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا۔ “تم کتنے خوش قسمت ہو کہ سرمد کے اتنا قریب رہتے ہو۔ ”
” اب کیا آپ میری ایک بات کا جواب دینا پسند کریں گے؟”
“ضرور۔ ” طاہر نے بڑے خلوص سے کہا۔
“یہ الفاظ کیا ہیں جن کے اثر نے مجھے پتھر سے موم بنا دیا۔ ”
“یہ الفاظ۔۔۔ ” طاہر کے لہجے میں ادب در آیا۔ “کیپٹن آدیش۔ یہ ہمارے دین کی اساس ہیں۔ یہ درود شریف ہے۔ ہمارے اللہ، ہمارے معبودِ برحق کی آخری کتاب میں اس کا فرمان ہے کہ ’ میں اور میرے فرشتے اللہ کے حبیب، رحمت للعالمین، ہمارے آقا و مولا، آخری نبی اور رسول جناب محمد مصطفی پر درود و سلام بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو۔ تم بھی اپنے آقا پر درود پڑھو اور سلام بھیجا کرو،۔۔۔ درود شریف پڑھنا اللہ کی سنت ہے اور سرمد اس سنت کی ادائیگی میں ہمہ وقت مصروف رہتا ہے، ایسا تم نے بتایا۔ ”
“اسی لئے۔۔۔ اسی لئے۔ ” آدیش کہہ اٹھا۔ “یہ الفاظ مجھ پر عجب جادو سا کر دیتے ہیں مسٹر طاہر۔ میں اپنے آپ میں نہیں رہتا۔ ”
“اگر آپ کو اور مس مانیا کو برا نہ لگے تو میں کہوں گا کیپٹن آدیش۔۔۔ کہ آپ بہت جلد ہم سے آ ملیں گے۔ میں ایسے ہی آثار دیکھ رہا ہوں۔ آپ پر درود شریف کا یہ اثر کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ ” طاہر نے بڑے محتاط الفاظ استعمال کئے۔
” آپ کا مطلب ہے آدیش مسلمان ہو جائے گا؟” مانیا نے دھیرے سے کہا۔
“شاید۔ ” طاہر نے آہستگی سے جواب دیا۔ “لیکن اس میں کوئی زبردستی نہیں ہے مس مانیا۔ ہمارے دین میں جبر ہے نہ اکراہ۔ دائرہ اسلام میں آتا وہی ہے جس کے نصیب میں ہدایت لکھی ہے۔ جسے کائنات کا وہ مالک و خالق منتخب کر لے۔ ”
“چلیں۔ “مانیا مسکرائی۔ “اس معاملے کو آنے والے وقت پر چھوڑ دیجئے۔ اس وقت ہم جس مسئلے کا شکار ہیں اس پر سوچئے۔ ”
“کیپٹن آدیش۔ کل رات سیل میں کون کون ہو گا؟” طاہر اس کی طرف متوجہ ہوا۔
“جیسا کہ میں بتا چکا ہوں ، کل کے لئے کرنل رائے کا حکم ہے کہ صرف میں اور وہ وہاں سرمد کے پاس ہوں گے۔ باقی سب لوگوں کو چھٹی دے دی جائے گی۔ ” آدیش نے بتایا۔
“اور یہ کتنے بجے رات کا وقت ہو گا؟”
“سوا آٹھ بجے تک سیل خالی ہو جائے گا۔ ”
“کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ کل رات سرمد کو وہاں سے نکال لیا جائے ؟”
“بہت مشکل ہے۔ ” آدیش سوچتے ہوئے بولا۔ “ایک تو کرنل رائے کی کوٹھی آبادی سے ہٹ کر ہے۔ دوسرے آپ دیکھ چکے ہیں کہ اس کے گرد حفاظتی باڑھ ہے، جس کے چاروں طرف دن رات آٹھ فوجی پہرہ دیتے ہیں۔ تیسرے یہ کہ کوٹھی کے گیٹ پر باقاعدہ دو فوجیوں کا کیبن ہے جو اندر کوٹھی اور سیل تک پہنچنے والے کے لئے پہلے سخت چیکنگ کرتے ہیں۔ اس کے بعد سیل کے دروازے پر کمپیوٹرائزڈ سسٹم چوبیس گھنٹے آن رہتا ہے۔ اگر آپ پہلے سے وہاں آنے جانے والے ہیں یا وہاں سے متعلق فرد ہیں تو آپ کے فنگر پرنٹس آلریڈی کمپیوٹر میں فیڈ ہوں گے اور آپ کا سیل میں جانا ممکن ہو گا۔ اور اگر آپ پہلی بار وہاں آئے ہیں تو میں یا کرنل رائے آپ کو کلیر کریں گی، تب آپ وہاں داخل ہو پائیں گے۔ ”
“ہوں۔” طاہر نے آدیش کی ایک ایک بات غور سے سنی۔ کچھ دیر سوچتا رہا پھر کہا۔ “اگر ہم ذرا سی کوشش کریں تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے کیپٹن آدیش۔ ”
” وہ کیسی؟” اس نے اچنبھے سے پوچھا۔ مانیا صرف سن رہی تھی۔ اس نے ابھی تک کسی بات پر رائے زنی نہ کی تھی۔
“کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ میرے فنگرپرنٹس کسی طرح کمپیوٹر سسٹم میں فیڈ کر دیں۔ ”
“جی نہیں۔ ” کیپٹن آدیش نے نفی میں سر ہلایا۔ ” یہ کسی طرح بھی ممکن نہیں۔ ”
“دوسری صورت یہ ہے کہ آپ مجھے کسی قسم کا انٹری پاس بنا دیں۔۔۔ ”
“ہاں۔ یہ ہو سکتا ہے۔ ” ایک دم آدیش نے اس کی بات اچک لی۔ ” یہ آسان بھی ہے۔ ”
“بس تو آپ ایسا کر دیں۔ ” طاہر نے پُر جوش لہجے میں کہا۔ “میں چاہتا ہوں کہ کل کرنل رائے جب سیل میں سرمد کے پاس آئے تو میں وہاں موجود ہوں۔ ”
“یہ تو ہو جائے گا۔ سوچنے والی بات صرف یہ ہے کہ آپ کو کس خانے میں فٹ کیا جائے کہ کرنل رائے کو آپ کی آمد مشکوک لگے نہ ناگوار گزری۔ اگر آپ پہلے سے وہاں موجود ہوئے تو یہ بات اسے ہضم نہیں ہو گی۔ ”
“کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ اگر خطرے کی کوئی بات ہو تو آپ مجھے فوراً مطلع کر سکیں ؟”
“اس کا ایک ہی طریقہ ہے۔ ” آدیش نے جواب دیا۔ “اور وہ یہ کہ ایسا کوئی بھی لمحہ آتے ہی میں موبائل پر آپ کو بیل کر دوں۔ تب آپ وقت ضائع کئے بغیر کوٹھی میں انٹر ہو جائیں۔ ”
“مگر میں سیل میں کیسے داخل ہو سکوں گا؟”
“وہ آپ مجھ پر چھوڑ دیں۔ میں سیل کا خودکار سسٹم آف کر دوں گا۔ آپ کو صرف یہ کرنا ہو گا کہ سیل کے دروازے پر پہنچ کر دروازے پر ہاتھ کا دباؤ ڈالیں۔ وہ کھل جائے گا۔ اور اب آپ مجھ سے وہاں کا نقشہ سمجھ لیں۔ ”
آدیش نے مانیا کی طرف دیکھا۔ اس نے جلدی سے اپنا ہینڈ بیگ کھولا۔ پیڈ اور قلم نکالا اور آدیش کی جانب بڑھا دیا۔ پیڈ آدیش نے میز پر رکھا۔ طاہر اور مانیا آگے کو جھک آئے۔ آدیش نے بڑی مہارت سے کوٹھی کی انٹرنس سے لے کر رہائشی حصے اور سیل تک کا نقشہ بنا کر یوں سمجھایا کہ طاہر کے ساتھ ساتھ مانیا کو بھی ازبر ہو گیا۔
“بس تو یہ طے ہو گیا کہ کل رات آٹھ بجے ہم کرنل رائے کی کوٹھی سے ایک فرلانگ دور سیتا مندر کے بالمقابل پارک میں موجود رہیں گے اور سگنل موصول ہوتے ہی آپ کی طرف چل پڑیں گے۔ “طاہر نے نقشے پر نظر دوڑاتے ہوئے تہہ کر کے اسے جیب میں ڈال لیا۔ “مگر ہم اندر کیسے داخل ہوں گے کیپٹن آدیش؟”
“یہ لیجئے۔ ” آدیش نے ایک پیڈ کے ایک کاغذ پر اپنے سائن کر کے مخصوص کوڈ میں کچھ لکھا اور طاہر کی طرف بڑھا دیا۔ “یہ آپ دونوں کے لئے انٹری پاس کا کام دے گا۔ بیرونی گیٹ پر آپ کو روکا جائے گا۔ انہیں یہ پاس دکھا دیجئے گا۔ میں انہیں آپ کے بارے میں زبانی بھی انسٹرکشن دے دوں گا۔ ”
سارا مسئلہ ہی حل ہو گیا۔ طاہر کے رگ و پے میں سکون کی ایک لہر سی تیر گئی۔ اس نے ممنونیت سے آدیش کی جانب دیکھا۔
“کچھ مت کہئے مسٹر طاہر۔ میں جس کے لئے یہ سب کر رہا ہوں ، اس سے مجھے کسی شکریے کی طلب نہیں۔ بس یہ خیال رہے کہ مس ریحا کے بارے میں میرے جذبات کبھی آپ میں سے کسی کے لبوں پر نہ آئیں۔ یہی میرا شکریہ ہے آپ کی طرف سے۔ ” آدیش نے پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا تو طاہر کی نگاہ مانیا کی جانب اٹھ گئی جو بڑی محبت سے آدیش کو تک رہی تھی۔
“یہ ٹھیک کہہ رہا ہے مسٹر طاہر۔ ” آخر وہ بولی۔ “لیکن کیا سب محبت کرنے والے ایسے ہی ہوتے ہیں ؟” اس نے طاہر کی جانب عجیب سی نظروں سے دیکھا۔
“کیا اب بھی پوچھنے کی ضرورت باقی ہے مس مانیا؟” طاہر ہولے سے ہنسا۔ جواب میں مانیا خاموش ہو گئی۔
پھر آدیش جانے کے لئے اٹھ گیا۔ طاہر نے اس سے بڑی گرمجوشی سے ہاتھ ملایا۔ مانیا نے اسے گلے لگایا اور ماتھا چوم لیا۔
“دھرم پر میرا وشواس کبھی بھی نہیں رہا آدیش۔ تم ضد کر کے مجھ سے ہر سال راکھی بندھواتے رہے۔ آج تم نے پانچ روپے کی اس راکھی کو انمول کر دیا۔ ”
“دیدی۔ تم خوش تو وہ خوش۔ ” اس نے اوپر دیکھا۔ ” اس کے علاوہ مجھے کسی بات کی پرواہ نہیں۔ ” وہ رخصت ہو گیا۔
دروازہ بند کر کے لوٹے تو مانیا کو طاہر کمرے کے بیچوں بیچ کھڑا ملا۔ دونوں کی نظریں ملیں اور مانیا کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
“بیٹھئے مسٹر طاہر۔ ” وہ صوفے پر ٹک گئی۔ طاہر بھی اس کے سامنے آ بیٹھا۔ ” آپ نے میری نظریں پڑھ لیں تھیں کیا؟”
“جی ہاں۔ ” طاہر تناؤ کے شکار اعصاب پر قابو پاتے ہوئے مسکرایا۔ ” یہ فن بھی آ ہی گیا ہے۔ میں نے جانا کہ آپ مجھ سے کچھ کہنا چاہتی ہیں۔ ”
“جی ہاں۔ مگر کیا کہنا چاہتی ہوں ، کیا یہ نہیں سمجھے آپ؟”
” آپ جب تک بتائیں گی نہیں میں کیسے جان پاؤں گا مس مانیا۔ ” طاہر بیحد محتاط ہو رہا تھا۔
“اب آپ اتنے نادان بھی نہیں ہیں مسٹر طاہر کہ میری نظر کو تو پڑھ لیں اور بات کو نہ سمجھ سکیں۔ ” وہ ہنسی۔ “ہم جس صورتحال سے یہاں آ کر دوچار ہو گئے ہیں اس کے حوالے سے اگلا کوئی بھی لمحہ کچھ بھی گل کھلا سکتا ہے۔ آپ خوب جانتے ہیں کہ میں صرف آپ کے لئے اپنے ملک سے غداری کر رہی ہوں اور آدیش ایک طرف اپنی محبت سے مجبور ہو کر اور دوسری طرف میری وجہ سے ایسا کر رہا ہے۔ پھر انجان بننے کا فائدہ؟”مانیا نے جیسے کھیل کے پتے بانٹے۔
” آپ کہنا کیا چاہتی ہیں مس مانیا؟ کھل جائے۔ ” طاہر نے پتے اٹھا لئے۔
” آپ کی دوستی کا ثبوت۔ ” مانیا نے شانے اچکائے اور ریلیکس ہو کر بیٹھ گئی۔
“کیسے پیش کروں ؟” اس نے پہلا پتہ الٹ دیا۔ حکم کا نہلا تھا۔
“کیا مجھے زبان سے کہنا ہو گا؟” ساڑھی کا پلو ڈھلک گیا۔ مانیا کے ہاتھ میں پان کی بیگم تھی۔
“کوئی اور راستہ نہیں ؟” دوسرا پتہ حکم کا غلام نکلا۔
“ہی۔ ” اینٹ کی دکی سامنے آ گئی۔
“مجھے دوسرا کوئی بھی راستہ منظور ہے۔ ” تیسرا پتہ جوکر تھا۔ اس نے پتے پھینک دئیے۔
“صرف ایک سوال کا جواب۔ ” اس نے طاہر کے چہرے پر نظریں مرکوز کر دیں۔ “یہ صفیہ وہی ہے ناں ، جس کے طاہر آپ ہیں؟”
ایک دم سے کیا جانے والا یہ سوال طاہر کے لئے حواس شکن ثابت ہوا۔ اس نے بری طرح چونک کر مانیا کی طرف دیکھا جو اسے بڑی گہری نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
“جھوٹ نہیں مسٹر طاہر۔ ” اس نے شہادت کی انگلی کھڑی کی۔ “اب تک سارا معاملہ سچ ہی پر چلتا آ رہا ہے۔ اگر آپ سچ بولیں گے تو میں بھی اپنے جھوٹ کا پردہ فاش کر دوں گی، یہ میرا آپ سے وعدہ ہے۔ ”
” آپ کا جھوٹ؟” طاہر سرسرایا۔ اب وہ اسے غور سے دیکھ رہا تھا۔
“وہ بعد میں۔ پہلے میرے سوال کا جواب۔ ” وہ مسکرائی۔
“ہوں۔ ” طاہر جیسے مجبور ہو گیا۔ اس نے ہاتھ دونوں گھٹنوں میں دبا لئے اور نظریں جھکا لیں۔ ” آپ کا کہنا ٹھیک ہے مگر ۔۔۔”
“بس۔۔۔ ” مانیا نے اسے کچھ بھی کہنے سے ہاتھ اٹھا کر روک دیا۔ “کچھ مت کہئے مسٹر طاہر۔ پہلے مجھے اس سچ کا مزہ لینے دیجئے۔ ” اس نے آنکھیں بند کر کے سسکاری لی۔ “ایسی لذت کہاں ہو گی کسی جھوٹ میں۔ جب سے ریحا گئی، میں آپ سے اسی ایک سوال کا جواب لینے کے لئے بیتاب تھی۔ شکر ہے کہ اس وقت آپ نے میری نگاہ کی چوری پکڑ لی۔ اب میں رات کو الجھے بغیر نیند لے سکوں گی۔ ”
“مگر میں یہ کہنا چاہتا تھا مس مانیا۔۔۔ ”
“کسی کو کبھی خبر نہ ہو گی مسٹر طاہر۔ ” اس نے آنکھیں کھول دیں۔ “یہ مہک تو دل میں چھپانے کی چیز ہے۔ دھڑکن کی طرح۔ آپ اس بارے میں بے فکر ہو جائیں۔ اور اب میری بات۔۔۔ ” وہ بڑے پُراسرار انداز میں مسکرائی۔ پھر اس نے ساڑھی شانے پر درست کر لی۔ “میں پہلی ملاقات سے آپ کی اسیر ہوں مسٹر طاہر۔ آج سے پیشتر تک میں اپنے جھوٹ میں خوش تھی۔ چاہتی تھی کہ آپ کو حاصل کر لوں ، چاہے ایک رات ہی کے لئے۔ مگر سرمد اور صفیہ کے ساتھ جب آپ کا نام سنا تو چونکی۔ ہوش آیا۔ پھر آدیش نے اور بھی عجب کھیل رچا ڈالا۔ محبت کیا ہوتی ہے؟ ایثار کس شے کا نام ہے؟ بغیر کسی غرض کے انسان کسی کیلئے جان دے دینے کی حد تک کیوں چلا جاتا ہے؟جب آپ نے کوئی بھی دوسری شرط سنے بغیر مان لی تو میرا جھوٹ ہار گیا۔ آپ ایک پُر شباب جسم سے پہلے دن سے بھاگ رہے ہیں ، یہ میں جانتی ہوں۔ میں آپکی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر بھی آپ کو پا لینا چاہتی تھی۔۔۔ مگر آج جب کچھ اَن چھوئی حقیقتیں مجھ پر آشکار ہوئیں تو میں فریب کے جال سے نکل آئی۔ میں آپ کو اپنی شرط سے مُکت کرتی ہوں مسٹر طاہر۔ آپ آزاد ہیں۔ میں آپکی دوستی جیتنا چاہتی تھی مگر محسوس ہوا ہے کہ میں تو آپکی دوستی کے لائق ہی نہیں ہوں۔ ہوس اور دوستی کا کیسا ساتھ مسٹر طاہر۔ ” اس کی آواز بھرا گئی۔ نظر جھک گئی اور اضطراب کے عالم میں وہ ہونٹ کاٹنے لگی۔
“بس یا کچھ اور کہنا ہے آپ کو؟” طاہر نے چند لمحے انتظار کے بعد بڑے پُرسکون لہجے میں پوچھا۔
“اور کیا کہوں گی میں ؟” وہ ہاتھوں سے آنکھیں مسلتی ہوئی بولی۔ شاید نمی میں پوشیدہ شرمندگی طاہر سے چھپا نا چاہتی تھی۔ “سوائے اس کے کہ اب مجھ پر شک نہ کیجئے گا۔ میں آخر دم تک آپ کے ساتھ ہوں۔ ”
“اور دوستی کسے کہتے ہیں مس مانیا؟” طاہر نے مسکرا کر کہا۔ “دوستی کے جس معیار پراس وقت آپ ہیں ، اس کے لئے تو لوگ ترستے ترستے مر جاتے ہیں۔ ”
“یعنی۔۔۔ ؟” اس نے ہاتھ ہٹا کر اسے حیرت سے دیکھا۔
“یہ شبنم بتاتی ہے کہ پھول کیسا پاکیزہ ہے۔ ” طاہر کا اشارہ اس کے آنسوؤں کی طرف تھا۔
“جھوٹ۔۔۔ جھوٹ بول رہے ہیں آپ۔ ” بے اعتباری سے اسنے طاہر کی جانب دیکھا اور ہنس پڑی۔ ساتھ ہی اس کے رکے ہوئے آنسوچھلک پڑی۔ دھوپ چھاؤں کا یہ امتزاج اس کے حسین چہرے پر عجب بہار دے رہا تھا۔
“جھوٹ بول کر میں آپ کی توہین نہیں کرنا چاہتا مس مانیا۔ ” طاہر اب بھی مسکرا رہا تھا۔ “اپنے دل سے پوچھئے جس میں اس وقت اطمینان ہی اطمینان دھڑک رہا ہو گا۔ ”
اور مانیا نے آہستہ سے پلکیں موند لیں۔ طاہرسچ کہہ رہا تھا۔
* * *

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: