Ishk Ka Qaaf Novel by Sarfraz Ahmed Rahi – Episode 2

0
عشق کا قاف از سرفراز احمد راہی – قسط نمبر 2

–**–**–

طاہر سنجیدہ ہو گیا۔ مذاق اور ایک اجنبی لڑکی سی، جواس کے نام تک سے ناواقف تھی، کافی ہو چکا تھا!وہ کتنی ہی دیر تک روتی رہی۔ سیف ناشتہ میز پر رکھ کر جا چکا تھا۔ وہ خاموش کھڑا اسے دیکھتا رہا۔
“دیکھئے۔ خدا را اب یہ رونا دھونا بند کیجئے اور ناشتہ کر لیجئے۔ “وہ معذرت خواہانہ لہجے میں بولا۔
اس نے دوپٹے کے پلو سے آنکھیں خشک کیں اور اس کی جانب دیکھا۔ ” آئیے۔ باتھ روم اس طرف ہے۔ “اس نے کمرے کے غربی گوشے کی طرف اشارہ کیا۔ وہ خاموشی سے باتھ روم کی جانب چل دی۔ کچھ دیر بعد جب وہ منہ ہاتھ دھو کر باہر نکلی تو وہ اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔ کچھ اتنی ہی نکھر آئی تھی وہ سوگوار ی میں نتھر کر۔
“چلئے۔ ناشتہ کیجئے۔ “اس نے طاہر کی جانب دیکھا اور سر جھکا کر بستر کے پاس پڑی کرسی پر بیٹھ گئی۔
“ویسے ڈاکٹر صاحب نے بستر سے نکلنے سے منع کیا ہے۔ آپ نمونئے کے اٹیک سے بال بال بچی ہیں۔ “وہ ہولے سے بولا۔
وہ اس کی جانب دیکھ کر کوئی بحث کئے بغیر خاموشی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ کچھ دیر بعد وہ بستر میں بیٹھی ناشتہ کر رہی تھی اور وہ کرسی پر بیٹھا چائے کی پیالی سے دل بہلا رہا تھا۔ اس نے بہت کم ناشتہ کیا۔ طاہر نے زیادہ پر اصرار نہیں کیا۔ سیف بابا برتن لے گیا۔ وہ پھر کسی سوچ میں کھو گئی۔ کتنی ہی دیر تک وہ اسے عجیب سی نظروں سے دیکھتا رہا۔ پھر ہولے سے کھنکارا تو وہ چونکی۔ نگاہیں ملیں۔ وہ مسکرادیا۔
“ہاں تو صاحب! مگر یہ صاحب کچھ عجیب سا لگتا ہے۔ آپ کا نام کیا ہے؟” وہ بے تکلفی سے پوچھ بیٹھا۔
“زاہدہ۔ “وہ بے ساختہ دھیرے سے کہہ گئی۔
“مس زاہدہ؟” اس نے الٹا سا سوال کر دیا مگر تیزی سے!
“جی۔۔۔ جی ہاں۔ ” وہ کہتے کہتے رکی اور شرما گئی۔
“تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے مالک۔ ” وہ سمجھ میں نہ آنے والے لہجے میں آہستہ سے بڑبڑایا۔ “اچھا۔ اب یہ بتائیے کہ آپ کون ہیں ؟ کیا ہیں ؟ رات آپ اس حال میں کیوں تھیں وغیرہ وغیرہ۔ پھر میں آپ کو اپنے بارے میں سب کچھ بتاؤں گا۔ جی۔ ویسے میرا نام طاہر ہے۔ ”
اور وہ اس باتونی، لا ابالی اور بے تکلف سے انسان کو بڑی گہری اور عجیب سی نظروں سے دیکھنے لگی۔
“کیا دیکھ رہی ہیں ؟” اس نے کچھ دیر بعد یکا یک کہا۔
“جی۔ کچھ نہیں۔۔۔ کچھ بھی تو نہیں۔ “وہ گھبرا گئی۔
“تو پھر کہئے ناں۔ ”
“کیا کہوں ؟” وہ اداس سی ہو گئی۔
“پہلے تو یہ بتایئے۔۔۔ “وہ معاملے کی نزاکت کے پیش نظر بات بدل گیا۔ ” آپ کا کوئی۔۔۔ ” وہ کہتے کہتے رک گیا۔
“نہیں ہے۔ کوئی نہیں ہے میرا۔ ” اس نے گھٹے گھٹے لہجے میں کہہ کر آنکھیں بھینچ لیں۔
“اوہ۔۔۔ مگر ۔ صبح آپ نیم بیہوشی میں اپنی امی کو۔۔۔ ”
“مرنے والے پکارنے سے لوٹ تو نہیں آیا کرتے۔ “وہ سسک پڑی۔
” معاف کیجئے گا۔ میں نے آپ کو دکھ دیا۔ “وہ افسردہ سا ہو گیا۔
وہ کتنی ہی دیر دل کی بھڑاس نکالتی رہی۔ طاہر خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔ وہ چاہتا تھا اس کے دل کا غبار پوری طرح نکل جائے۔
“تو اب آپ کا کیا ارادہ ہے؟” وہ کچھ دیر بعد سنبھلی تواس نے دھڑ کتے دل کے ساتھ سوال کیا۔
“ارادہ؟” وہ طنز سے مسکرائی۔
“میرا مطلب ہے، آپ جہاں رہتی تھیں۔ وہیں واپس جانا چاہیں تو۔۔۔ ”
“جی نہیں۔ وہاں تو اب میرے لئے صرف اور صرف نفرت باقی ہے۔ انہی کے احسان نے تو مجھے اس طوفانی رات کے حوالے کیا تھا۔”
“کیا مطلب؟” وہ حیرت زدہ رہ گیا۔
” آپ ضرور سننا چاہتے ہیں۔” اس نے درد بھری نظروں سے اسے دیکھا۔
” آپ مناسب سمجھیں تو۔۔۔ ”
“ٹھیک ہے۔ یہ کوئی نئی اور انوکھی بات بھی نہیں ہے دنیا میں کہ میں اسے دل پر بوجھ بنائے لئے لئے پھروں۔۔۔ مگر مجھے کریدیے گا نہیں۔ ”
پھر ایک لرزتی کانپتی، درد بھری آواز کے زیر و بم نے اسے جکڑ سا لیا۔ وہ کہتی رہی۔ طاہر سنتا رہا۔ بت بنا۔ ہمہ تن گوش۔
“ابو بچپن میں ہی ساتھ چھوڑ گئے۔ غربت کا دائرہ کچھ اور تنگ ہو گیا۔ میں اور امی چچا کے در پر فقیروں کی طرح پڑے رہی۔ ان کے گھر کے کام کاج، خدمت، دن رات کی گالیوں ، مار پیٹ اور جھڑکیوں کے عوض بچا کھچا کھانا پیٹ کی آگ بجھانے کو مل جاتا۔ اسی پر سجدہ شکر ادا کرتی۔ امی نے ہر مصیبت اور تنگدستی کا مقابلہ کر کے کسی نہ کسی طرح مجھے ایف اے پاس کرا دیا۔ چچا کا لڑکا اختر ہمیشہ پڑھائی میں میری مدد کرتا۔ ماں باپ کی سخت مخالفت کے باوجود میری اور امی کی ہر طرح مدد کرتا۔ اسی کی ضد کے آگے ہتھیار ڈالتے ہوئے چچا اور چچی نے مجھے کمپیوٹر کورس کی اجازت دے دی۔ امی کے دُکھوں کو سُکھ میں بدلنے کا یہی ایک طریقہ تھا کہ میں کہیں نوکری کر لیتی۔ یہی سوچ کر میں نے یہ کورس کرنے کا عزم کر لیا۔ چچا کی اولاد میں اختر سے اوپر ایک لڑکی نرگس تھی۔ وہ اعلیٰ تعلیم کی غرض سے لندن چلی گئی اور ابھی تک وہیں ہے۔ وقت گزرتا رہا۔ جوانی بڑھاپے میں ڈھل گئی۔ امی کی جگہ بھی اب مجھی کو تمام گھر کا بوجھ سنبھالنا پڑا۔ میں نے کوئی گلہ شکوہ کئے بغیر یہ کڑوے گھونٹ بھی حلق سے اتار لئے۔ اس لئے کہ اختر، میرا اختر، میرا ساتھ نبھانے، مجھے اپنانے کا وعدہ کر چکا تھا۔ صرف اس کے امتحان سے فارغ ہو کر کاروبارسنبھالنے کی دیر تھی۔ اختر کی بے پناہ محبت نے مجھے ہر ڈر اور خوف سے لا پرواہ سا کر دیا۔ مجھے نئی زندگی بخش دی۔ وہ مجھ سے شادی کرنے کو بالکل تیار بلکہ بے صبرا ہو رہا تھا مگر جب تک وہ تعلیم مکمل نہ کر لیتا، یہ ممکن نہ تھا۔ پھر ایک روز اس نے مجھے یہ خوش خبری سنائی کہ وہ بی اے کا آخری پیپر دے آیا ہے۔ اب رزلٹ نکلنے کی دیر ہے اور پھر۔۔ اور اس “پھر ” سے آگے میں سن نہ سکی۔ سہانے سپنوں میں کھو گئی۔ آنے والے کل کے سورج کی دمکتی کرنیں میرے تاریک ماضی کو تابناک مستقبل میں بدل جانے کا پیغام دے رہی تھیں۔ امی نے مجھے بہت سمجھایا۔ اونچ نیچ، قسمت اور تقدیر سے خوفزدہ کرنا چاہا مگر میں اختر پر اندھا اعتماد کئے بیٹھی تھی۔ کچھ نہ سمجھ سکی۔ کچھ نہ سوچ سکی۔ تب۔۔۔ ایک روز۔ جب اختر نے مجھے بتایا کہ چچا اور چچی نے اس کے لئے ایک امیر زادی کا رشتہ منظور کر لیا ہے تو میرے سپنوں کا تاج محل زمین بوس ہو گیا۔ زندگی نے بڑے پیار سے فریب دیا تھا۔۔۔
میں تمام رات روتی رہی۔ پلک نہ جھپکی۔ سسکیاں گونجتی رہیں۔ ہچکیاں آنسوؤں کا ساتھ دیتی رہیں۔ صبح کے قریب جب میں چند لمحوں کی نیند کی تلاش میں تھک کر اونگھتے اونگھتے ہڑ بڑا کر جاگی تو امی ہمیشہ کی نیند سو چکی تھیں۔ وہ مجھ سے زیادہ دُکھی، تھکی ہوئی اور ستم رسیدہ تھیں۔ نجات پا گئیں۔
چند روز تک گھر میں خاموشی رہی۔ مجھے کسی نے گالی نہ دی۔ جھڑکیوں سے نہ نوازا۔ تھپڑوں کے انعام سے محروم رہی۔ تب۔۔۔ اختر نے ایک بار پھر مجھے سہارا دیا۔ اس نے مجھ سے جلد ہی خفیہ طور پر شادی کر لینے کی خبر سنا کر ایک بار پھر مجھے امید کی رہگزر پر لا کھڑا کیا۔ چند لمحے پھر بہار کی تصوراتی آغوش میں گزر گئی۔ مگر بہار کے بعد خزاں بھی تو آیا کرتی ہے۔ دن کے بعد رات بھی تو آتی ہے۔
کل کی رات بڑی طوفانی تھی۔ بڑی خوفناک تھی۔ شدت سے بارش ہو رہی تھی۔ بادل پوری قوت سے دھاڑ رہے تھے۔ برق پوری تابناکی سے کوند رہی تھی۔ اختر ابھی تک گھر نہیں لوٹا تھا۔ اس کے والدین اور گھر کے ملازم گہری نیندسورہے تھی۔ وہ اکثر دیر سے لوٹتا تھا۔ میرا دل نہ جانے کیوں بیٹھا جا رہا تھا۔ گیارہ بج گئے۔ دل جیسے تڑپ کر سینے سے باہر آنے کی سعی کرنے لگا۔ میں اپنے چھوٹے سے کمرے میں بے چینی سے کروٹیں بدل رہی تھی۔ تبھی باہر دروازے پر اسی مخصوص مگر شاید بارش کی وجہ سے تیز انداز میں کی گئی دستک نے مجھے زندگی کی وادیوں میں گھسیٹ لیا۔ میں تقریباً بھاگتی ہوئی دروازے پر پہنچی۔ دروازہ کھولا۔ سامنے اختر بارش میں شرابور کھڑا تھا۔
“ارے تم۔۔۔ “وہ مجھے حیرت سے دیکھتا ہوا بولا۔
“اتنی دیر تم نے کہا ں لگا دی اختر۔ “میں نے پریشانی سے کہا۔
“ارے پگلی۔ ” اس نے کھینچ کر مجھے سینے سے لگا لیا۔ “میں جب ناصر کے گھر سے نکلا تو موسم ٹھیک تھا۔ ایک دم ہی بارش نے آ لیا۔ موٹر سائیکل پر آتے آتے یہ حال ہو گیا۔ ”
میں اس کے سینے میں سما گئی۔ دروازہ بند کر کے ہم اسی طرح ایک دوسرے سے لپٹے کمرے میں چلے آئی۔ وہ میرے بستر میں لحاف اوڑھ کر لیٹ گیا۔ میں اس کے قریب بیٹھ گئی۔
“جناب، جائیے اب جا کر گیلے کپڑے اتار دیجئے۔ کافی دیر ہو چکی ہے۔ “کتنی ہی دیر بعد میں نے اس کی بے باک نظروں سے گھبرا کر کہا۔
“زاہدہ۔۔۔ “اس نے مجھے لحاف کے اندر گھسیٹ لیا۔ میں بے خود سی ہو گئی مگر جب وہ حد سے بڑھنے لگا تو میں سنبھل گئی۔ ہوش میں آ گئی۔
“ہوش میں آؤ اختر۔ کیا کر رہے ہو؟”میں نے اس کے گستاخ ہاتھوں کو روکتے ہوئے گھبرا کر کہا۔
” آج مجھے مت روکو زاہدہ۔ دیکھو۔ یہ رات، یہ موسم، یہ تنہائی کیا کہہ رہی ہے۔ “اس نے اس زور سے مجھے لپٹایا کہ میرا انگ انگ کراہ اٹھا۔
“کیا کر رہے ہو اختر۔ کیا ہو گیا ہے تمہیں ؟” میں سہم سی گئی اور اٹھنے کی کوشش کرنے لگی مگر بہکتے جذبات اور موسم نے اختر سے ہوش و حواس چھین لئے تھے۔ وہ وحشی ہوا جا رہا تھا۔ میں نے اسے دھمکی دی، شور مچانے کی۔ مچلی، تڑپی، روئی مگر وہ بہک چکا تھا۔
پھر میں چیخ اٹھی۔ ایک بار۔ دو بار، کہ شاید کوئی مدد کو آ پہنچے اور وہی ہوا۔ کوئی راہداری میں تیز تیز قدم اٹھاتا چلا آ رہا تھا۔ اختر گھبرا گیا۔ بہکے ہوئے جذبات کا بھوت اس کے سر سے اتر گیا۔ خدا نے میری عزت بچا لی۔ میں لٹتے لٹتے رہ گئی!
“کون ہے اندر؟ دروازہ کھولو۔ دروازہ کھولو۔۔۔ “چچا جان دروازہ دھڑ دھڑا رہے تھے۔ اختر نے اِدھر اُدھر دیکھا اور کھڑکی کی طرف لپکا۔
جب میں نے دروازہ کھولا تو کھڑکی کھلی تھی اور اختر اپنے کمرے میں جا چکا تھا۔ پھر میری ایک نہ سنی گئی۔ مجھے پیٹا گیا۔ گالیاں دی گئیں۔ تہمتیں تراشی گئیں۔ الزام لگائے گئی۔ بدکار، طوائف، بد چلن اور ایسے کتنے ہی خطابات سے نوازا گیا۔ اپنے گھر کو ایک گندی مچھلی سے پاک کرنے کے لئے مجھے، ایک جوان لڑکی کو، سگی بھتیجی کو، اس طوفانی رات کے حوالے کر دیا گیا مگر اختر نہ آیا۔ شاید اپنے اصلی روپ میں ظاہر ہونے کے بعد اس کے پاس کوئی نیا لبادہ نہ رہ گیا تھا۔ اس سے بعد میں صرف اتنا ہی جانتی ہوں کہ آسمان کی عنایات سے بے دم ہو کر ایک کوٹھی کے سائبان تلے رک گئی تھی۔ پھر کیا ہوا، مجھے کچھ معلوم نہیں !”
وہ خاموش ہو گئی۔
“بڑی دردناک کہانی ہے آپ کی؟” کچھ دیر بعد وہ ایک طویل سانس لے کر آہستہ سے بولا۔ زاہدہ آنکھیں خشک کرنے لگی۔
“مگر نئی نہیں ہے۔ ” وہ دونوں ایک آواز سن کر چونک پڑے۔ دروازے کے پاس پڑے صوفے پر ڈاکٹر ہاشمی بیٹھے تھے۔ “دنیا میں ایسے ہزارو ں واقعات روزانہ پیش آتے ہیں۔ “وہ اٹھ کر ان کے قریب چلے آئے۔ “تم خوش قسمت ہو بیٹی کہ ایک وحشی کے ہاتھوں بے آبرو ہونے سے بچ گئیں ورنہ یہ بات تقریباً ناممکن ہو جایا کرتی ہے۔ “وہ بستر کے پاس پڑی کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولی۔
زاہدہ کاسر جھک گیا۔
” آپ کب آئے انکل؟” طاہر نے ان کی جانب دیکھا۔
“جب کہانی کلائمکس پر تھی۔ ” وہ بولے اور طاہر سر ہلا کر رہ گیا۔ زاہدہ سر جھکائے انگلیاں مروڑ رہی تھی۔
“چائے لیں گے آپ؟” اس نے پوچھا۔
“نہیں بھئی۔ اس وقت طلب نہیں۔ ہاں بیٹی۔ ذرا ہاتھ ادھر دو۔ “وہ اس کی نبض پر ہاتھ رکھ کر گھڑی کی طرف دیکھنے لگی۔ ” اب تو بالکل ٹھیک ہو تم۔ ” وہ انجکشن دے کر فارغ ہو گئی۔ یہی کیپسول ہر تین گھنٹے بعد لیتی رہو۔ انشاءاللہ شام تک ان سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔ “پھر وہ اٹھ گئی۔ “اچھا بھئی طاہر۔ میں اب چلوں گا۔ شام کو پھر آؤں گا۔ ”
“بہتر انکل۔ ” وہ بھی کھڑا ہو گیا اور سیف کو پکارا۔ چند لمحے بعد وہ کمرے میں تھا۔ “ڈاکٹر صاحب کو گاڑی تک چھوڑ آؤ۔ “سیف نے آگے بڑھ کر ان کا بیگ اٹھا لیا۔ ڈاکٹر ہاشمی چل دیئے۔ “اور سنو۔ سیف بابا سے دو کپ چائے کا کہہ دو۔ ”
“جی بہتر۔ “وہ سرجھکائے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
وہ پھر کرسی پر بیٹھ گیا۔ زاہدہ تکئے سے ٹیک لگائے جانے کس سوچ میں گم نیم دراز تھی۔
“ہوں۔ تو آپ صبح اسی لئے ان لوگوں کے پاس بھاگ بھاگ کر واپس جا رہی تھیں۔ ” وہ اسے چونکاتا ہوا گویا ہوا۔
“جی۔۔۔ جی نہیں۔ ” وہ افسردگی سے بولی۔ “وہ میرے لئے مر چکے ہیں۔ ”
“کیا۔۔۔ اختر بھی؟” اس نے زاہدہ کی آنکھوں میں جھانکا۔
“وہ بھی تو انہی میں سے تھا۔ “اس نے نظریں جھکا لیں۔ “اگر وہ پیٹھ نہ دکھاتا اور میری ڈھال بن جاتا تو میں اس وقت یہاں نہ ہوتی۔ ”
اوراس کے سینے سے ایک بوجھ سا ہٹ گیا۔ لبوں پر پھر زندگی سے بھرپور مسکراہٹ تیر گئی۔ “تو پھر۔۔۔ کہاں جانے کے لئے اتنا بے قرار تھیں آپ؟دیکھئے۔ وہی گھسا پٹا جواب نہ دیجئے گا کہ جہاں قسمت لے جاتی۔ “وہ لہجے کو نسوانی بناتے ہوئے بڑی افسردگی سے بولا۔ زاہدہ بے ساختہ مسکرا دی۔ “ارے ۔۔۔ آپ تو ہنستی بھی ہیں۔ “وہ بڑی حیرانی سے بولا اور اپنے جواب ندارد سوال کو بھول کر اس کے رنگیں لبوں کی مسکراہٹ میں کھو گیا جواَب کچھ اور گہری ہو گئی تھی۔ “بس یونہی مسکراتی رہئے۔ ہنستی رہئے۔ بخدا زندگی جنت بن جائے گی۔ ویسے ایک بات کہوں۔ صبح آپ پتہ ہے کیوں بھاگ رہی تھیں ؟” اس نے پھر زاہدہ کی آنکھوں میں دیکھا۔
وہ سوالیہ انداز میں اسے دیکھنے لگی۔
” آپ کا خوفزدہ ذہن مجھ سے بھی ڈر رہا تھا۔ اختر کی طرح۔ ”
اور اس نے سنجیدہ ہو کر نظریں جھکا لیں۔ شاید یہ سچ تھا۔
سیف بابا چائے لے آیا۔ کچھ دیر بعد وہ چائے سے فارغ ہو گئی۔
“اچھا مس زاہدہ۔ آپ آرام کیجئے۔ میں کچھ کام نبٹا آؤں۔ کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو بیل موجود ہے۔ “اس نے کال بیل پر انگلی رکھ دی۔ چند لمحوں بعد سیف کمرے میں تھا۔
“دیکھو سیف بابا۔ ان کی ہر ضرورت کا خیال رکھنا۔ کھانا پورے ایک بجے۔۔۔ اور رات کے کھانے پر تو میں گھر پر ہی ہوں گا۔ ”
“بہتر صاحب۔ ” وہ ادب سے بولا۔
“بس جاؤ۔ ” اور وہ واپس پلٹ گیا۔
“اب میں چلوں گا۔ گھبرائیے گا نہیں۔ اور یہاں سے جانے کا ابھی مت سوچئے گا۔ کیونکہ میری غیر موجودگی میں کوئی آپ کو یہاں سے جانے نہیں دے گا۔ شام کو لوٹوں گا تو باقی باتیں ہوں گی۔ پھر طے کریں گے کہ آپ کو آگے کیا کرنا ہے؟” وہ مسکراتا ہوا کپڑوں والی الماری کی طرف بڑھ گیا۔ “ارے ہاں۔ مجھے اپنا وعدہ تو بھول ہی گیا۔ ” اچانک واپس آ کر وہ پھر کرسی پر بیٹھ گیا۔ وہ اسے کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں دیکھنے لگی۔
“دیکھئے صاحب۔ ابو تو ہمارے بھی اللہ کے پیاروں کی فہرست میں شامل ہو چکے ہیں۔ بس ایک امی ہیں۔ اور ان کا یہ اکلوتا، کلم کلا، فرزندِ ارجمند۔ آج کل وہ زمینوں پر گئی ہوئی ہیں۔ بڑی سخت گیر ہیں۔ ملازموں کو سر نہیں چڑھاتیں۔ ان کی خبر لیتی رہتی ہیں۔ اور میں یعنی مسٹر طاہر۔ امپورٹ ایکسپورٹ کی فرم کا واحد اور بلا شرکت غیرے مالک۔ تاکہ وقت گزرتا رہے۔ بیکار بیٹھنے سے بچنے کا اک بہانہ ہے۔ بس یہ تھی ہماری مختصر سی زندگی، جس کے بارے میں مَیں نے آپ کو بتانے کا وعدہ کیا تھا۔ ” وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ لاکھ کوشش کے باوجود اپنی مسکراہٹ کو دبا نہ سکی۔
طاہر الماری سے کپڑے نکال کر باتھ روم میں گھس گیا۔ چند منٹ بعد جب وہ باہر نکلا تو کچھ دیر کو وہ بھی مبہوت رہ گئی۔ کچھ اتنا ہی سمارٹ لگ رہا تھا وہ۔
وہ ہاتھ ہلا کر مسکراتا ہوا باہر نکل گیا۔ زاہدہ پھر کسی گہری سوچ میں گم ہو گئی۔
٭
پندرہ دن ایک آنکھ مچولی کی سی کیفیت میں گزر گئی۔ اس شام وہ ڈاکٹر ہاشمی کے ہاسپٹل میں ان کے پاس موجود تھا۔
“طاہر بیٹے۔ “ڈاکٹر ہاشمی کرسی سے اٹھ کر کھڑکی کے قریب چلے گئی۔ “تم میں جلد بازی کا مادہ بہت زیادہ ہے۔ تم ہر اس شے کو حاصل کر لینا چاہتے ہو، جو تمہاری نگاہوں کو تسکین دے دی۔ تمہارے دل کوپسند آ جائے لیکن۔۔۔ ” وہ رک گئی۔ طاہر بے چینی سے پہلو بدل کر رہ گیا۔ “دوسرے کے جذبات، رستے میں آنے والی رکاوٹوں ، حقیقت اور ہر تغیر سے تم بالکل بے بہرہ ہو جاتے ہو۔ ”
“میں آپ کا مطلب نہیں سمجھا انکل۔ “وہ مضطرب سا ہو گیا۔
“جوانی دیوانی ہوتی ہے بیٹے لیکن اگر اسے سنبھل کر خرچ کیا جائے تو یہ کبھی ختم نہ ہونے والا سکون بھی بن جایا سکتی ہے۔ ”
اس نے پھر کچھ کہنا چاہا مگر ڈاکٹر ہاشمی نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا۔ اس کے ادھ کھلے ہونٹ پھر بند ہو گئی۔
“ابھی اس اجنبی لڑکی کو یہاں آئے ہوئے صرف تین دن ہوئے ہیں اور تم اسے جنم جنم کا ساتھی جان کر، شریک حیات بنانے کا بے وقوفانہ فیصلہ کر بیٹھے ہو۔ ”
“مگر اس کا اب دنیا میں ہے بھی کون انکل؟ اسے یہ بات بخوشی قبول ہو گی۔ ”
“غلط کہتے ہو۔ تم اس کے دل میں جھانک کر نہیں دیکھ سکتے۔ تمہارا کیا خیال ہے کہ اختر کی محبت اتنی جلدی اس کے دل سے حرفِ غلط کی طرح مٹ گئی ہو گی۔ ”
“اس نے خود۔۔۔ ”
“کہنے سے کیا ہوتا ہے۔ کہنے کو تو اس نے ان سب کو مردہ کہہ دیا ہے جن میں اس کا چچا، چچی اور اختر سب شامل ہیں لیکن کیا وہ حقیقتاً مر گئے ہیں۔ نہیں۔۔۔ وہ زندہ ہیں۔ جیسے میں ، تم اور وہ خود۔۔۔ ”
“لیکن۔۔۔ ”
“ابھی بیگم صاحبہ یہاں نہیں ہیں۔ چند روز میں وہ بھی لوٹ آئیں گی اور اس وقت۔۔۔ اس وقت تم ایک عجیب مصیبت میں گرفتار ہو جاؤ گے طاہر۔ تم ان کی طبیعت سے اچھی طرح واقف ہو۔ ”
“لیکن میں فیصلہ کر چکا ہوں۔۔۔ ”
“وہ فیصلے بدل دینے کی عادی ہیں۔ ”
“میں بھی انہی کی اولاد ہوں انکل۔ ”
“اور اگر۔۔۔ اس لڑکی ہی نے تمہارا فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا تو؟”
وہ سچ مچ پریشان ہو گیا۔ ڈاکٹر ہاشمی کی ہر بات اپنی جگہ اٹل تھی۔
“بات کو سمجھنے کی کوشش کرو بیٹے۔ ” وہ نرمی سے اس کا شانہ تھپکتے ہوئے بولے۔ “ابھی اس کے زخم تازہ ہیں۔ ان پر ہمدردی اور پیار کا مرہم رکھو۔ اسے حوصلہ دو۔ جلد بازی کو کچھ عرصے کے لئے خیر باد کہہ دو۔ اگر تم اس کے دل کا زخم بھرنے میں کامیاب ہو گئے تو شاید وہ سب کچھ ہو سکے جو تم سوچ رہے ہو مگر فی الحال ایسا کوئی چانس نہیں ہے۔ شیخ چلی کا خیالی پلاؤ تم جیسا انسان نہ پکائے تو اچھا ہے ورنہ حقیقت کی بھوک تمہیں ایسے فاقے پر مجبور کر دے گی جو جان لیوا بھی ہو سکتا ہے۔ ”
طاہر نے ان کی آنکھوں میں جھانکا۔ وہ مسکرادیے۔ دھیرے سے پھر اس کا شانہ تھپکا۔ اس نے سر جھکا لیا۔
“وقت آنے پر میں تمہارے ساتھ کھڑا ہوں گا۔ “وہ آہستہ سے بولے۔
اور اسے جیسے بہت بڑا سہارا مل گیا۔
“اللہ حافظ۔ “وہ مسکرا کر دروازے کی طرف بڑھ گئے۔
“اللہ حافظ۔ ” وہ ہولے سے بولا اور کسی گہری سوچ میں ڈوب گیا۔
٭
شوخیوں پر نکھار آتا چلا گیا۔ شرارتیں بڑھتی چلی گئیں۔ تکلف کی دیواریں گرنے لگیں۔ دبی دبی، پھیکی پھیکی مسکراہٹیں ، بلند بانگ اور زندگی سے بھرپور قہقہوں میں ڈھل گئیں۔
یک طرفہ محبت کی آگ کے شعلے بلندسے بلند تر ہونے لگی۔ اس کی نیندیں اڑنے لگیں۔ قرار چھن گیا۔ سکون رخصت ہو گیا۔ دفتر کا عملہ اس کی یکدم بڑھ جانے والی زندہ دلی، ظرافت اور پیار کو “کسی کے مل جانے “سے تشبیہ دینے لگا۔ اس کی سٹینو امبر نے تو کئی بار اسے ہنسی ہنسی میں یہ بات کہہ بھی دی تھی۔
دوسری طرف زاہدہ اس محبت سے بے خبر تھی۔ بالکل بے خبر۔ لگتا یہی تھا کہ وہ اپنے ماضی کو فراموش کر چکی ہے لیکن اس کے دل میں کیا تھا یہ کوئی نہ جانتا تھا۔ ہاں ، کبھی کبھی اختر کی یاد اسے بے چین کر دیتی تو وہ کچھ دیر کے لئے اداس ہو جاتی لیکن جب اسے اختر کی زیادتی کا خیال آتا تو وہ اس اداسی کو ذہن سے جھٹک دیتی۔ اس کے خیال کو دل سے نکال پھینکنے کی کوشش کرنے لگتی۔ ایسے موقع پر طاہر اس کے بہت کام آتا۔ وہ منٹوں میں اس کی اداسی کو شوخی میں بدل کر رکھ دیتا۔ اسے قہقہوں میں گم کر دیتا۔ ماضی کو فراموش کر کے وہ مستقبل سے بالکل لا پرواہ ہوئی جا رہی تھی تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ چٹان کی طرح موجود تھی کہ لاکھ کوشش کے باوجود وہ اختر کو مکمل طور پر اپنی یادوں سے کھرچ دینے میں ناکام رہی تھی۔
آج اسے طاہر کے ہاں آئے دو ماہ ہو رہے تھے۔ بیگم صاحبہ ابھی تک گاؤں سے نہیں لوٹی تھیں۔ سردیاں ختم ہونے کو تھیں۔ طاہر نے اسے کیا کچھ نہ دیا تھا۔ مسکراہٹیں ، خوشیاں ، بے فکری، آرام، آزادی۔۔۔ لیکن یہ اس کا مستقل ٹھکانہ تو نہیں تھا۔
“اے مس اداس۔۔۔ ” طاہر کی شوخی سے بھرپور آواز نے اس کے خیالات کا شیرازہ بکھیر دیا۔ اس نے نگاہیں اٹھا کر دیکھا۔ وہ اسے مسکراتی ہوئی بڑی گہری نظروں سے دیکھتا ہوا، اس کے سامنے ہی آلتی پالتی مار کر لان کی نرم نرم گھاس پر بیٹھ گیا۔
“فرمائیے۔ ” وہ بے ساختہ مسکرادی۔
“فرمانا کیا ہے ہم فقیروں نے۔ بس یہ ایک عدد خط آیا ہے امی جان کا۔ ” وہ کاغذ کھول کر اسے گھاس پر بچھاتا ہوا جیسے مشاعرے میں غزل پڑھنے لگا۔ وہ نجانے کیوں بے چین سی ہو گئی۔
” آ رہی ہیں وہ ؟”
“ہاں۔۔۔ مگر تم کیوں پریشان ہو گئیں ؟” وہ خط پڑھے بغیر تہہ کر کے جیب میں رکھتے ہوئے بولا۔
“پریشان۔۔۔ نہیں تو۔ وہ۔۔۔ ”
“اچھا چھوڑو۔ ایک بات بتاؤ۔ ”
“جی پوچھئے۔ ”
“اب تمہارا ارادہ کیا ہے؟ میرا مطلب ہے۔۔۔ ”
“میں بھی یہی سوچ رہی تھی طاہر صاحب کہ آپ نے مجھ پر کتنے احسانات۔۔۔ ”
“میں نے احسانات گننے کو نہیں کہا۔ یہ پوچھا ہے کہ اب آئندہ کا پروگرام کیا ہے؟” اس نے زاہدہ کی بات کاٹ دی۔
“پروگرام کیا ہونا ہے طاہر صاحب۔ ایک نہ ایک روز تو مجھے یہاں سے جانا ہی ہے۔ کئی بار جانا چاہا۔ کبھی آپ نے یہ کہہ کر روک لیا کہ کہاں جاؤ گی؟ اور کبھی یہ سوچ کر رک گئی کہ واقعی کہاں جاؤں گی میں ؟ لیکن آج آپ نے پوچھ ہی لیا ہے تو۔۔۔ ” وہ رک گئی۔ پھر اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ سوالیہ انداز میں اسے دیکھتا رہا۔ ” آپ ہی بتائیے۔ میں کہاں جاؤں ؟”
“ارے تو کون اُلو کا پٹھا تمہیں جانے کو کہہ رہا ہے؟ “وہ مصنوعی جھلاہٹ سے بولا اور اٹھ کر اس کے قریب چلا آیا۔
“مذاق نہیں طاہر صاحب۔ میں۔۔۔ میں آج ہی یہاں سے چلی جاؤں گی۔ “وہ اداسی سے بولی۔
“کہاں ؟”
“کہیں بھی؟” وہ نچلا ہونٹ دانتوں میں دبا کر رہ گئی۔
“پھر بھی ؟”
“جہاں۔۔۔ ”
“قسمت لے جائے۔ بس اس فلمی ڈائیلاگ سے مجھے بڑی چڑ ہے۔ “وہ اس کی بات اچک کر بولا۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی مسکرا دی۔
“سنو۔۔۔ “وہ اس کے بالکل سامنے، بالکل قریب چلا آیا۔
اس نے طاہر کی طرف دیکھا۔
“تم کہیں مت جاؤ۔ یہیں رہو۔ “وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا اس کے شانوں پر ہاتھ رکھ کر بولا۔
“نوکرانی بن کر۔۔۔ ؟”وہ دھیرے سے مسکرائی۔
“رانی بن کر۔ ” وہ اسے ہلکا سا جھٹکا دے کر بولا۔
“کیا مطلب؟” وہ حیران سی ہو گئی۔
“رانی کا مطلب نہیں سمجھتیں کیا۔ ارے وہی۔۔۔ جو ایک راجہ کی۔۔۔ “وہ شرارت سے مسکرا کر خاموش ہو گیا۔
“طاہر صاحب۔ ” وہ حیرت سے لڑکھڑا کر پیچھے ہٹ گئی۔
“کیوں۔۔۔ کیا ہوا ؟” وہ بے چینی سے بولا۔ دل بڑے زور سے دھڑکا تھا۔
“ایسا مت کہئے طاہر صاحب۔ میں اتنا بھیانک مذاق سہہ نہ سکوں گی۔ ”
“ارے واہ۔ تم زندگی بھر کے بندھن کو مذاق۔۔۔ ”
“خاموش ہو جائیے طاہر صاحب۔ خدا کے لئے۔ “وہ کانوں پر ہاتھ رکھ کر سسک پڑی۔
“زاہدہ۔۔۔ ” اس کو شانوں سے تھام کر طاہر نے اس کا رخ اپنی جانب پھیرا۔ “میں اختر نہیں ہوں زاہدہ۔ ”
“اسی لئے تو یقین نہیں آتا۔ “اس نے رخ پھیر لیا۔
“زاہدہ۔ تم۔۔۔ تم سمجھتی کیوں نہیں ؟ میں۔۔۔ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ “وہ رک رک کر کہہ گیا۔
“بس کیجئے طاہر صاحب۔ بس کیجئے۔ یہ زہر میں بجھے ہوئے تیر بہت پہلے میرے دل میں اتر چکے ہیں۔ ”
“زاہدہ۔ “وہ تڑپ اٹھا۔ “میرے خلوص کی یوں دھجیاں نہ بکھیرو۔ ”
“مجھے جانے دیجئے طاہر صاحب۔ مجھے جانے دیجئے۔ مجھ میں اب یہ فریب، یہ ستم سہنے کی تاب نہیں۔ “وہ چل دی۔
طاہر آگے بڑھا اور اس کا راستہ روک کر کھڑا ہو گیا۔ “جا سکوگی؟” اس کی نم آنکھوں میں جھانک کر وہ بڑے مان سے بولا۔
وہ لرز گئی۔ ایک چٹان کھڑی تھی اس کے راستے میں !
“میں نے زندگی میں پہلی مرتبہ کسی کے لئے بے قراری محسوس کی ہے زاہدہ۔ پہلی مرتبہ میرا دل کسی کے لئے دھڑکا ہے۔ تمہارے لئے۔ زاہدہ، صرف تمہارے لئے۔ اگر اسی کو محبت کہتے ہیں تو۔۔۔ ”
“طاہر صاحب۔ “وہ پھر سسکی۔
“ہاں زاہدہ۔ میں نے جب تمہیں پہلی مرتبہ دیکھا تھا تو نجانے کیوں تمہیں دل میں سمولینے، دھڑکنوں میں چھپا لینے کو جی چاہا۔ میں نے اپنا کوئی آئیڈیل نہیں بنایا زاہدہ مگر اب لگتا ہے تم ہی میری نامحسوس اور ان دیکھی آرزوؤں کی تصویر ہو۔ میں نے اس کٹی پھٹی تصویر میں اپنی چاہت کے رنگ بھر دیے لیکن نہیں جانتا تھا کہ یہ تصویر میری بولی سے بہت زیادہ قیمت کی ہے۔ میرے پاس تو صرف خلوص کی دولت ہے زاہدہ۔ اس ظاہری شان و شوکت، اس آن بان پر تو میں کبھی تن کر کھڑا نہیں ہوا۔ ”
وہ بت بنی اس کی صورت تکتی رہی۔ وہ پھیکے سے انداز میں مسکرا دیا۔
“جانا چاہتی ہو؟ مجھے چھوڑ کر؟”وہ اس کی پتھرائی ہوئی آنکھوں میں جھانک کر آہستہ سے بولا۔ “میں تمہیں نہیں روکوں گا۔ جاؤ۔ ” وہ بڑی درد بھری مسکراہٹ ہونٹوں پر لئے ایک طرف ہٹ گیا۔
زاہدہ نے اسے عجیب سی نظروں سے دیکھ کر دھیرے سے حرکت کی اور چل دی۔ آہستہ آہستہ، چھوٹے چھوٹے چند قدم اٹھائے۔
طاہر کی آنکھوں کے سامنے دھند سی لہرا گئی۔ پانی کی پتلی سی چادر تن گئی۔
وہ رک گئی۔
طاہر کی پلکیں بھیگ گئیں۔
وہ پلٹی۔ دھیرے سے۔
طاہر کے ہونٹوں کے گوشے لرز گئی۔
وہ رخ پھیر کر بھاگی۔
طاہر کے بازو وَا ہو گئے۔
وہ اس کے بازوؤں میں سماتی چلی گئی۔ شبنم، پھول کی پتیوں پر پھسل پڑی۔
دور برآمدے میں کھڑے ڈاکٹر ہاشمی کے لبوں پر بڑی خوبصورت مسکراہٹ ابھری۔ شاید وہ سب کچھ جان گئے تھے۔
“تو ہماری اک ذرا سی عدم موجودگی نے یہ گل کھلائے ہیں۔ ” بیگم صاحبہ نے سرجھکائے کھڑے طاہر، زاہدہ اور ڈاکٹر ہاشمی کی جانب کڑی نظروں سے دیکھا۔
“میں نے۔۔۔ ” طاہر نے کہنا چاہا۔
“کوئی جرم نہیں کیا۔ کوئی گناہ نہیں کیا۔ محبت کی ہے۔ شادی کرنا چاہتے ہیں۔ یہی فلمی ڈائیلاگ بولو گے نا تم۔ ” اس کی بات تیز لہجے میں کاٹ دی گئی۔ وہ ان کے پُر رعب، با وقار چہرے پر پھیلتی سختی کی تاب نہ لا کر سر جھکا کر رہ گیا۔
“ڈاکٹر ہاشمی۔ ”
“جی بیگم صاحبہ”۔ وہ ایک قدم آگے بڑھ آئی۔
” آپ بھی اس سازش میں برابر کے شریک ہیں۔ ” وہ سرد مہری سے بولیں۔
“جی۔۔۔ جی۔۔۔ میں۔۔۔۔ ” وہ گڑ بڑا گئے۔
“گھبرائیے نہیں ڈاکٹر ہاشمی۔ آپ ہمارے خاندانی ڈاکٹر ہیں۔ آپ میں تو اتنی ہمت، اتنی جرات ہونی چاہیے کہ آپ ہم سے بلا خوف بات کر سکیں ، یا ہمارے نمک میں یہ اثر بھی نہیں رہا۔ ”
“ایسی کوئی بات نہیں بیگم صاحبہ۔ “وہ سنبھل گئے۔
“تو پھر ؟ یہ سب کیا ہوا ؟ کیوں ہوا؟ہمیں اطلاع کیوں نہ دی گئی؟” وہ ان کی جانب دیکھتی ہوئی بولیں۔
“میں نے۔۔۔ ”
” آپ نے کچھ بھی سوچا ہو ڈاکٹر ہاشمی مگر ہمارے لئے نہیں۔ اس سر پھر ے لڑکے لئے سوچا ہو گا، جسے آپ نے گودوں کھلایا ہے۔ ہے ناں ؟”
“جی۔۔۔ جی ہاں۔ ” وہ اقرار کر گئے۔
زاہدہ سہم سی گئی مگر طاہر نے اسے نظروں ہی نظروں میں دلاسا دیا۔ تب وہ اپنے خوف کو کافی حد تک کم محسوس کرنے لگی۔
“طاہر۔ “وہ اس کی طرف پلٹیں۔
“جی امی جان۔ “وہ ادب سے بولا۔
“تمہیں ہمارا فیصلہ معلوم تھا ناں ؟”
“جی۔ ” اس کا سر جھک گیا۔
“پھر تم نے اسے بدلنے کے بارے میں سوچا کیسے؟”
“گستاخی معاف امی جان۔ میں نے تمام زندگی آپ کے ہر حکم پر سرجھکایا ہے۔ ”
“مگر اب اس لڑکی کی خاطر، اپنی پسند کی خاطر، تم ہمارے ہر اس فیصلے کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دو گے، جو ہم تم پر حکم کہہ کر لاگو کریں گے۔ “انہوں نے اس کی بات پوری کر دی۔
“جی نہیں۔ امی جان میں نے ایسا۔۔۔ ”
“تو تمہیں ہمارے ہر فیصلے سے اتفاق ہو گا؟ “وہ حاکمانہ انداز میں گویا ہوئیں۔ وہ جواب میں خاموش رہا۔ ایک بوجھ سا ان سب کے دلوں پر بیٹھتا چلا گیا۔
ڈاکٹر ہاشمی نے پُر درد نظروں سے ان دو پیار بھرے دلوں کو دیکھا، جو سہمے سہمے انداز میں دھڑکنے کی کوشش کر رہے تھے۔
“اس خاموشی سے ہم کیا مطلب لیں طاہر؟”
اور اس نے آہستہ سے زاہدہ کی جانب دیکھ کر سر اٹھایا۔ “میں آپ کے فیصلے کا منتظر ہوں امی جان۔ ”
“تو۔۔۔ ” وہ ان کی جانب گہری نظروں سے دیکھتی ہوئی بولیں۔ “ابھی۔۔۔ اسی وقت۔ اس لڑکی کو۔۔۔ “وہ رکیں۔ ان سب کو تنقیدی اور جانچنے والی نظروں سے دیکھا۔ “یہاں سے رخصت کر دو۔ ” کہہ کر انہوں نے رخ پھیر لیا۔
ایک بم پھٹا۔ ایک زلزلہ آیا۔ ایک طوفان اٹھا۔ یہ سب ان کی توقع کے مطابق ہی ہوا تھا مگر وہ پھر بھی سہہ نہ سکے۔
“میں وجہ پوچھنا چاہوں گا امی جان۔ ” ایک اور دھماکہ ہوا۔
“طاہر۔ ” وہ آپے سے باہر ہو گئیں۔ تیزی سے اس کی طرف پلٹیں۔ ” وجہ تم اچھی طرح جانتے ہو۔ “وہ غیظ و غضب سے ان دونوں کو گھورتے ہوئے پھنکاریں۔
“میں آپ کی زبان سے سننا چاہتا ہوں۔ “وہ جیسے ہر خوف، ہر ڈر سے بے بہرہ ہو گیا۔
وہ ایک لمحے کو سن ہو گئیں۔ طاہر، ان سے وجہ پوچھ رہا تھا۔ ان کے حکم کی تعمیل سے انکار کر رہا تھا۔ ان کی انا پر براہ راست حملہ اور ہو رہا تھا۔
مگردوسرے ہی لمحے وہ سنبھل گئیں۔ جوانی جوش میں تھی، انہیں ہوش کی ضرورت تھی۔ طوفان چڑھ رہا تھا۔ بند باندھنا مشکل تھا، ناممکن نہیں۔
ان کے چہرے کی سرخی، اعتدال کی سفیدی میں ڈھلتی چلی گئی۔ آنکھوں میں دہکتی ہوئی آگ، ہلکی سی چمک میں بدل گئی۔ بڑھاپا سنبھل گیا۔ جوانی کو داؤ میں لینے کا لمحہ آن پہنچا تھا۔
“یہ لڑکی کون ہے۔ جانتے ہو؟”وہ زاہدہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بولیں۔
“انسان ہے امی جان۔ “وہ ادب سے بولا۔
“اس کا خاندان، گھر بار، ٹھکانہ، ماں باپ۔ “وہ بل کھا کر ایک ہی سانس میں سب کچھ پوچھ گئیں۔
” یہ بے سہارا ہے امی جان۔ ”
” آوارہ بھی تو ہو سکتی ہے۔ ” انہوں نے اس کی بات کاٹ دی۔
“امی جان۔ “وہ احتجاجاً بولا۔
“جنگ میں زخموں کی پرواہ کرنے والے بزدل ہوتے ہیں طاہر بیٹے۔ اور تم ہمارے بیٹے ہو۔ ہمارے سامنے تن کر کھڑے ہوئے ہو تو وار سہنا بھی سیکھو۔ ” وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولیں۔
“امی جان۔ ” وہ ایک قدم آگے بڑھ آیا۔ “یہ غریب، بے سہارا، بے ٹھکانہ ہے۔ ”
“تو آج تک دارالامان میں رہی ہے۔ “وہ طنز سے بولیں۔
“اپنوں کے ستم سہتی رہی ہے۔ “وہ تیزی سے بولا۔
“پھر یہ بے گھر کیسے ہوئی؟ کیوں ہوئی؟” وہ جلال میں آ گئیں۔
“تقدیر جب سر سے آنچل کھینچ لینے کے درپے ہو گئی تو۔۔۔ ”
“تو۔۔۔ یہ تمہارے پاس چلی آئی۔ “انہوں نے اس کا فقرہ بڑے خوبصورت طنز سے پورا کر دیا۔
“میں سب بتا چکا ہوں امی جان۔ “وہ ادب ہی سے بولا۔
“مگر ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ کوئی ایسی لڑکی ہمارے بیٹے کی بیوی اور ہماری بہو کہلائے۔۔۔ ”
“جس کے پاس دولت نہیں۔ جہیز نہیں۔ معاشرے میں اونچا مقام نہیں۔ “وہ پھٹ پڑا۔
“ٹھیک سمجھے ہو۔ “وہ نرمی سے بولیں۔
“میں ایک سوال اور کروں گا امی جان۔ ”
“ہم جواب ضرور دیں گے۔ ”
“اگر یہ لڑکی۔۔۔ فرض کیجئے یہ لڑکی ڈاکٹر ہاشمی کی بیٹی ہوتی تو؟”
“تو ہم بخوشی اسے اپنی بہو بنا لیتے لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہ ڈاکٹر ہاشمی کی بیٹی نہیں ہے۔ اس لئے ہم اسے تمہاری بیوی نہیں بنا سکتے۔ “وہ وقار سے بولیں۔
“اگر شرط یہی ہے تو سمجھ لیجئے بیگم صاحبہ۔ یہ لڑکی آج سے میری بیٹی ہے۔ “ڈاکٹر ہاشمی نے آگے بڑھ کر زاہدہ کے سرپر ہاتھ رکھ دیا۔
“ڈاکٹر ہاشمی۔ ” امارت تلملا اٹھی۔
” آپ زبان دے چکی ہیں بیگم صاحبہ”۔ وہ ادب اور آہستگی سے بولی۔
“مگر یہ آپ کی سگی بیٹی نہیں ہے۔ ”
” آپ نے یہ شرط نہیں لگائی تھی امی جان۔ “وہ ان کے بالکل قریب چلا آیا۔
اور وہ اپنی بوڑھی، تجربہ کار مگر ممتا بھری نظروں سے اسے گھورتی رہ گئیں۔
“مان جائیے ناں امی جان۔ تمام زندگی مجھے حکم دیتی آئی ہیں۔ میری ضدیں پوری کرتی آئی ہیں۔ آج یہ ضد بھی مان لیجئے۔ ”
وہ پھر بھی اسے گھورتی رہیں۔ تاہم طوفان اترنے لگا تھا۔
“امی جان۔ “اس نے ان کے شانے تھام لئے۔ “بولئے ناں۔ “اس نے ان کی آنکھوں میں جھانکا۔ ممتا لرز گئی اور بال آخر بے بس ہو گئی۔
کتنی ہی دیر گزر گئی۔ پھر انہوں نے سرجھکا لیا۔ آہستہ سے بیٹے کو ایک طرف ہٹا دیا۔ دو قدم چلیں اور زاہدہ کو گھورنے لگیں۔
“ہمارے۔۔۔ قریب آؤ۔ “وہ رک رک کر کتنی ہی دیر بعد بولیں۔ وہ پلکوں پر ستارے لئے، دھیرے دھیرے، ان کے قریب چلی آئی۔
وہ چند لمحوں تک اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑے جانے کیا دیکھتی رہیں۔ جانچتی رہیں۔ تب اس کی پلکوں سے ستارے ٹوٹے اور بیگم صاحبہ کے قدموں پر نچھاور ہو گئی۔ پھر اس سے پہلے کہ وہ ان کے قدم چوم لیتی، انہوں نے اس کی پیشانی پر مہر محبت ثبت کر دی۔
فیصلہ ہو گیا۔
“ہم ہار گئے طاہر۔ “وہ زاہدہ کو سینے سے الگ کر کے آہستہ سے پلٹیں۔ “لیکن صرف اپنے اصولوں ، اپنی زبان کی خاطر۔ ”
“امی جان۔ “وہ بھاگ کر ان سے لپٹ گیا۔
“پگلی۔ ابھی تو بڑا فلسفی بنا ہوا تھا۔ “وہ اس کے سر پر بوسہ دیتی ہوئی مسکرائیں۔
“امی جان۔ ” وہ جھینپ کر بولا۔ زاہدہ نے شرما کر سرجھکا لیا۔ ڈاکٹر ہاشمی مسکرا رہے تھے۔
“ڈاکٹر ہاشمی۔ ” کچھ دیر بعد وہ ان کی طرف متوجہ ہوئیں۔
“جی بیگم صاحبہ۔ “وہ ادب سے بولی۔
“ہماری بہو کو گھر لے جائیے۔ ہم اگلے ماہ کی تین تاریخ کو یہ ستارہ، اپنے چاند کے پہلو میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ ” وہ پیار سے ان دونوں کو گھور کر بولیں۔
“جو حکم بیگم صاحبہ۔ “وہ بھی مسکرا دیئے۔
شرما کر زاہدہ نے دونوں ہاتھوں میں منہ چھپاتے ہوئے رخ پھیر لیا۔ طاہر اس کے لرزتے ہوئے وجود کو دیکھ کر نشے میں جھومتا ہوا آگے بڑھا۔
“مبارک ہو۔ ” زاہدہ کے قریب سے گزرتے ہوئے اس نے آہستہ سے کہا۔
“ہماری طرف سے بھی۔ “بیگم صاحبہ کی آواز نے اسے بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ وہ شرم سے گڑی جا رہی تھی۔
“ہمیں اب اجازت دیجئے بیگم صاحبہ۔ آپ نے وقت بہت کم دیا ہے۔ ” ڈاکٹر ہاشمی نے کہا۔
“کاش ! آپ جانتے ڈاکٹر ہاشمی کہ انتظار کس قدر تلخ شے کا نام ہے۔ “وہ ہولے سے قہقہہ لگا کر بولیں۔ ڈاکٹر ہاشمی جھینپ کر رہ گئی۔ “اچھا۔ تو جائیے۔ ” وہ ہنستے ہوئے بولیں۔ “لے جائیے ہماری امانت کو اپنے گھر چند دنوں کے لئے۔ “وہ شرمائی لجائی سی آہستہ آہستہ چلتی ہوئی ڈاکٹر ہاشمی کے ہمراہ خارجی دروازے کی طرف بڑھ گئی۔
بیگم صاحبہ کے چہرے پر ایک سکون تھا۔ تمکنت تھی۔ وقار تھا مگر دل میں ایک پھانس سی تھی۔ انہیں نجانے کیوں لگ رہا تھا کہ یہ ایک خواب ہے جو طاہر نے دیکھا ہے، اور جب اس کی آنکھ کھلے گی تو تعبیر اچھی نہیں ہو گی۔ پھر انہوں نے سر جھٹک کر اپنے واہموں سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کی تاہم دل کی بے سکونی ان کی پیشانی پر تفکر کی لکیر بن کر چھلک آئی تھی۔ شاید بڑھاپا خود کو فریب دینا چاہ رہا تھا مگر تجربے کی تیسری آنکھ وا ہو چکی تھی جو آنے والے وقت کے اندیشے کی پرچھائیاں محسوس کر کے پتھرائے جا رہی تھی۔ “لو بیٹی۔ یہ ہے تمہارا نیا مگر مختصر سے وقت کے لئے چھوٹا سا گھر۔ “ڈاکٹر ہاشمی نے اسے ساری کوٹھی کی سیر کرانے کے بعدواپس ڈرائنگ روم میں آ کر صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔ وہ خاموشی سے ان کے سامنے بیٹھ گئی۔
زندگی کی خوشیاں ، ہر نعمت، ہرمسرت پا کر بھی، اس پر نجانے کیوں ایک بے نام سی اداسی، نامحسوس سی یاسیت طاری تھی، جسے وہ چھپانے کی حتی الامکان کوشش کر رہی تھی۔
“دینو۔ او دینو۔ ” ڈاکٹر ہاشمی نے اپنے ملازم کو آواز دی۔
“جی مالک۔ “نوکر کمرے میں داخل ہوا۔
“دیکھو۔ دو کپ چائے لے آؤ مگر ذرا جلدی۔ مجھے ہاسپٹل پہنچنا ہے۔ “وہ چٹکی بجا کر بولی۔ دینو سر ہلاتا ہوا باہر نکل گیا۔
ڈاکٹر ہاشمی نے مختصراً دینو کو اتنا ہی بتایا تھا کہ زاہدہ ان کی منہ بولی بیٹی ہے اور اگلے ماہ اس کی شادی طاہر میاں سے ہو رہی ہے۔ دینو ان کا اکلوتا اور وفادار ملازم تھا۔
ڈاکٹر دلاور ہاشمی نے بیوی کے مرنے کے بعد دوسری شادی نہیں کی تھی۔ ایک ہی بیٹا تھا۔ سرمد۔ جسے وہ جی بھر کر پڑھانا چاہتے تھی۔ آج کل وہ لندن یونیورسٹی میں ایم بی اے کر رہا تھا۔ دونوں باپ بیٹا، دو ہی افراد اس خوبصورت آشیانے کے باسی تھے۔ ایک دوسرے کے دکھ درد، غم اور خوشی کے شریک۔ راز دار، دوست، سبھی کچھ تو تھے وہ۔
ثروت خانم کے دلہن بن کر آنے سے بھی پہلے سے وہ سر سلطان وجاہت کے فیملی ڈاکٹر تھے۔ معالج اور مریض کا یہ رشتہ وقت نے رفتہ رفتہ دوستی میں بدل دیا اور سر وجاہت سلطان کی وفات کے بعد بیگم صاحبہ اور طاہر سے ان کا یہ تعلق سرپرستانہ ہو گیا۔ انہیں سلطان ولا میں گھر کے ایک اہم فرد ہی کی سی عزت دی جاتی تھی۔ اس تعلق کی بنیادوں میں یہ بات اولیں اہمیت کی حامل تھی کہ انہوں نے طاہر کو واقعی کسی چچا کی طرح گود میں کھلایا تھا۔
چائے ختم ہو گئی تو وہ اٹھ گئے۔
“اچھا بیٹی۔ میں ذرا ہاسپٹل ہو آؤں۔ شام تک لوٹ آؤں گا۔ تم گھبرانا نہیں۔ دینو سے بے تکلف ہو کر جس شے کی ضرورت ہو کہہ دینا۔ شام کو شاپنگ کے لئے چلیں گے۔ ”
وہ خاموش رہی۔ ڈاکٹر ہاشمی ہنستے ہوئے اٹھے اور پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر دروازے کی جانب بڑ ھ گئے۔
وہ کتنی ہی دیر جانی پہچانی سوچوں میں گم صوفے پر بیٹھی رہی۔ آنسو اس کی پلکوں سے شبنم کے موتیوں کی طرح ڈھلک ڈھلک کر رخساروں پر پھسلتے رہے۔ ذہن الجھا رہا۔ دل مچلتا رہا اور لب کپکپا کر ایک ہی نام، ایک ہی خیال کو دہراتے رہے۔
“اختر۔ کاش اختر۔ وہ سب کچھ نہ ہوتا۔ جس نے مجھے اس مقام تک پہنچا دیا۔ مجھے سب کچھ ملا اختر مگر تم نہ ملے۔ کیوں اختر؟ تم نے ایسا کیوں کیا؟ تمام زندگی کے لئے مجھے یادوں کی چتا میں جلنے کو کیوں چھوڑ دیا؟ بولو ناں اختر۔ تم سنتے کیوں نہیں ؟کہاں ہو تم اختر۔ کہاں ہو تم؟”
وہ کتنی ہی دیر روتی رہی۔ اشک بہتے رہی۔ دل سلگتا رہا۔ یادیں آتی رہیں۔ جانے کب تک۔ پھر وہیں صوفے پر بیٹھے بیٹھے وہ نیند کی بانہوں میں سمٹ گئی۔ کسی معصوم بچی کی طرح۔
٭
شادی میں صرف دو دن باقی تھے۔ دونوں جانب تیاریاں مکمل ہو گئیں۔
ڈاکٹر ہاشمی نے اپنی چیک بک کو جی کھول کر استعمال کیا تھا۔ اب ان کی سونی سونی کوٹھی واقعی کسی ایسی لڑکی کا گھر معلوم ہونے لگی تھی، جس کی رخصتی عنقریب ہونے والی ہو۔
وہ بے حد خوش تھی۔ بھری دنیا میں ایک بیٹے اور اب اس منہ بولی، چند روزہ مہمان بیٹی کے سوا ان کا تھا بھی کون؟وہ اسے باپ بن کر ہی بیاہنا چاہتے تھے!
بیگم صاحبہ بھی وقتاً فوقتا ان کے ہاں چلی آتیں۔ انہیں اپنے ہاں بلا بھیجتیں۔ صلاح مشورے ہوتے۔ پھر آنے والے سہانے دنوں کے خواب حقیقت بن بن کر ان کی ترستی ہوئی پیاسی آنکھوں میں ابھرنے لگتے۔
رہ گیا طاہر۔ تواس کا ایک ہی کام تھا۔ دن بھر ٹیلی فون کر کر کے اسے تنگ کرنا۔ آنے والے خوبصورت دنوں کی باتیں کرنا۔ ٹھنڈی آہیں بھر کر وقت کے جلدی نہ گزرنے کی شکایتیں کرنا۔ بے قرار دل کا حالِ زار سنانا اور محبت جتانا۔ اس کا بس نہیں چلتا تھا۔ اگر ڈاکٹر ہاشمی اور بیگم صاحبہ کا نادر شاہی حکم نہ ہوتا تو وہ شاید ہر پل زاہدہ کی قربت میں گزار دیتا مگر مجبور تھا۔ ہاں ، تھوڑا سا بے شرم ہو کر وہ زاہدہ کے لئے ہر روز کوئی نہ کوئی چیز ضرور خرید لاتا۔ کبھی ساڑھی۔ کبھی نیکلس۔ کبھی کچھ۔ کبھی کچھ۔
بیگم صاحبہ سب کچھ دیکھ کر، سب کچھ جان کر بھی، ہولے سے مسکرا کر خاموش ہو رہتیں۔ اور بس۔ عجیب بات تھی کہ انہیں اب بھی اس بات پر یقین نہ آتا تھا کہ ان کے بیٹے کی شادی ہو رہی ہے۔ اب بھی ان کا وہم انہیں اندر سے ڈرائے رکھتا تھا۔
طاہر دفتر میں سارا سارا دن بچوں کی طرح ہر ایک کو چھیڑتا رہتا۔ ہر ایک کو تنگ کرتا رہتا۔ سب اس کی خوبصورت شرارتوں کو مالک کے پیار سے زیادہ ایک سچی، مخلص اور پیارے دوست کا حق سمجھ کر برداشت بھی کرتے اور موقع ملنے پر بدلہ بھی چکا دیتے۔
“امبر۔۔۔ تم بھی جلدی سے شادی کر لو۔ ایمان سے آدمی مرنے سے پہلے ہی جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ “طاہر کہتا اور وہ بیر بہوٹی بن کر رہ جاتی۔
اب تو چند دنوں کی بات تھی۔ پھر۔۔۔ اور اس” پھر “سے آگے، وہ بڑے حسین تصورات میں گم ہو جاتا۔ کھو کر رہ جاتا۔ “زاہدہ۔ “ایک نام اس کے لبوں پر آتا اور وہ مدہوش سا ہو جاتا۔
دوسری طرف زاہدہ کسی اور ہی دنیا میں تھی۔ سب کچھ، اس کی آنکھوں ، جاگتی آنکھوں کے سامنے ہو رہا تھا۔ وہ سب کچھ دیکھ رہی تھی۔ محسوس کر رہی تھی لیکن اسے یہ سب خواب معلوم ہو رہا تھا۔ ایک ایسا خواب جس میں بے چینی تھی، بے سکونی تھی، بے اطمینانی تھی۔ وہ راتوں کو بے قراری سے کروٹیں بدلتی رہتی۔ اضطراب اس پر حاوی رہتا۔ ذہن منتشر منتشر سا۔ دل مسلا مسلا سا۔ سوچیں ادھوری ادھوری سی۔ خیالات بکھرے بکھرے سے۔ وہ خود کو نامکمل سی محسوس کرتی۔ قطعی نامکمل، تشنہ اور ادھورا۔
یہ ادھورا پن، یہ تشنگی، یہ اضطراب، صرف اور صرف ماضی کی ان بے قرار یادوں کے باعث تھا جو اسے ایک پل کو چین نہ لینے دیتی تھیں۔ اس کے ہر تصور پر اختر، ہر پل، ہر لمحہ، چھایا رہتا۔ اس نے جتنا ماضی سے دامن چھڑانا چاہا، مستقبل اتنا ہی اس سے دور ہوتا چلا گیا۔ وہ یادوں کے گھور اندھیروں میں ڈوبی، اشکوں کے چراغ جلاتی رہتی مگر کوئی راستہ، کوئی منزل، کوئی راہگزر نگاہوں کے ہالے میں تیرتی نظر نہ آتی۔
محبت کھیل نہیں کہ بغیر چوٹ دیے ختم ہو جائے۔۔۔ یہ احساس اسے شدت سے ہو رہا تھا۔ پوری تندی و تیزی سے یہ طوفان اسے اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا اور وہ بے بسی سے اپنی نم آنکھوں میں چبھتے نوکیلے کانٹوں کی چبھن اپنی روح پر محسوس کرتے ہوئے آنسو آنسو ہو کر چیخ پڑتی۔ چلا اٹھتی۔
“اختر کہاں ہو تم۔ ظالم! یہ کس جہنم میں دھکیل دیا ہے تم نے مجھے۔ ایک بار۔ صرف ایک بار سامنے تو آؤ۔ مجھے یقین تو ہو جائے کہ تم وہ نہیں ہو، جو صرف ایک رات کے لئے، ایک مختصر سے وقفے کے لئے نظر آئے تھے۔ اور اگر وہی ہو، جسے میں نے صدیوں اپنے دل کے نہاں خانے میں چھپائے رکھا تو میں وہی بن جاؤں ، جو تمہارے لئے دیوی تھی۔ تمہاری داسی تھی۔ تمہاری تھی اختر۔ صرف تمہاری!”۔۔۔ مگر اس کے دل کی یہ پکار، جذبات کی صدا کوئی بھی تو نہ سن سکتا تھا۔ کوئی بھی تو نہیں۔ اختر بھی نہیں !
جوں جوں وہ یادگار دن قریب آ رہا تھا جس کی خاطر طاہر نے اسے فرش سے عرش پر لا بٹھایا تھا۔ جس کے انتظار میں اس نے ہر پل سپنے دیکھے تھے۔ خواب سجائے تھے، توں توں وہ اداسی، یاسیت اور خاموشی کی گمبھیر وادیوں میں اترتی چلی جا رہی تھی۔ اس لئے کہ خوابوں کا شہزادہ وہ نہیں تھا جسے اس نے دھڑکن کی طرح دل میں چھپا رکھا تھا۔ تعبیر وہ نہیں تھی جو اس نے اپنے تصورات کے سہارے سوچ رکھی تھی۔ پھر اسے اپنی اس جذباتی غلطی، حالات سے گھبرا کر مایوسی کی باہوں میں پناہ لے لینے کے خوفناک گناہ پر پچھتاوا ہونے لگتا۔ کتنا بھیانک تھا اس ایک لمحے کی لرزش کا انجام، جو اس نے طاہر کی محبت کے سامنے سر جھکا کر کی تھی۔ وہ آج بھی اپنے خیالات میں اختر کو بسائے ہوئے تھی۔ اختر کو بھلا دینا اس کے بس میں نہیں تھا۔
اس کی زندگی، جیسے بہارو ں بھرے گلشن میں تمام عمر کے لئے آگ میں جلنے جا رہی تھی۔ اور اسے یہ سب کچھ بہرحال سہنا تھا۔ رو کر یا ہنس کر۔
٭
” زاہدہ بیٹی۔ تم چھ بجے کے قریب ہاسپٹل چلی آنا۔ میں کار بھیج دوں گا۔ ”
“جی مگر ۔۔۔ “وہ شاید وجہ پوچھنا چاہتی تھی۔
“بیٹی۔ بیگم صاحبہ کا فون آیا تھا۔ وہ بھی آ رہی ہیں شام کو۔ وہ تمہیں اپنے ساتھ شاپنگ پر لے جانا چاہتی ہیں۔ تمہاری پسند کی کچھ چیزیں خریدیں گی۔ ” ڈاکٹر ہاشمی کا لہجہ معنی خیز ہو گیا۔
وہ نہ چاہتے ہوئے بھی پھیکے سے انداز میں مسکرادی۔ “جی بہتر۔ ”
“اللہ حافظ۔ “انہوں نے رابطہ ختم کر دیا۔ وہ کتنی ہی دیر تک بے جان، ٹوں ٹوں کرتے ریسور کو تھامے کھڑی جانے کیا سوچتی رہی۔
کلاک نے پانچ بجائے تو وہ چونک پڑی۔ آہستہ سے، ایک طویل، تھکی تھکی سانس لے کر پلٹی۔ اس کی بے چین نظریں بے اختیار اپنی کلائی پر بندھی خوبصورت سی رسٹ واچ پر جم گئیں جو اسے ڈاکٹر ہاشمی نے خرید کر دی تھی۔
پھر وہ نچلے ہونٹ کو دانتوں میں داب کر آنکھوں میں تیر جانے والے آبدار موتیوں کو روکنے کی ناکام کوشش کرتی ہوئی صوفے پر اوندھی گر پڑی۔ سسکیاں کمرے کی خاموش اور اداس فضا کے بے جان بُت پر آہوں ، دبی دبی ہچکیوں اور بے قرار جذبات کے پھول نچھاور کرنے لگیں۔ وہ کتنی ہی دیر تک بلکتی رہی۔ پھر ” ٹن” کی مخصوص آواز کے ساتھ کلاک نے وقت کے بوڑھے، متحرک، رعشہ زدہ سر پر پہلا ہتھوڑا کھینچ مارا تواسے یوں محسوس ہواجیسے یہ ضرب، یہ چوٹ اس کے دل پر لگی ہو۔ چھ بج چکے تھے۔
وہ اٹھی اور باتھ روم کی طرف بڑھ گئی۔ منہ ہاتھ دھو کر باہر آئی اور صوفے پر بیٹھ کر پھر کسی سوچ میں گم ہو گئی۔ اس کی خوبصورت، مدھ بھری آنکھیں سوجی سوجی نظر آ رہی تھیں۔
“سلام بی بی جی۔ ” کچھ دیر بعد ایک آواز سن کر وہ چونکی۔ ڈرائیور دروازے میں کھڑ تھا۔ وہ خاموشی سے اٹھی اور آہستہ آہستہ چلتی ہوئی باہر نکل آئی۔ ڈرائیور بھی اس کے پیچھے ہی باہر چلا آیا۔ ٹھیک پندرہ منٹ بعد وہ ڈاکٹر ہاشمی کے چھوٹے سے ہاسپٹل کے کار پارک میں اتری۔ ڈرائیور کار کو آگے بڑھا لے گیا اور وہ سر جھکائے اندر کو چل دی۔
” تم آ گئیں بیٹی۔ آؤ۔ بیٹھو۔ ” ڈاکٹر ہاشمی نے اسے اندر داخل ہوتے دیکھ کر کہا اور ہاتھ میں موجود ایکسرے کو روشنی کے ہالے میں لا کر غور سے دیکھنے لگی۔ قریب کھڑی نرس ان کی جانب منتظر نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
“اس میں تو کوئی گڑ بڑ نہیں ہے؟” وہ ایکسرے کو میز پر رکھتے ہوئے پرسوچ انداز میں بولی۔ “تم اس مریض کے کمرے میں چلو۔ میں آ رہا ہوں۔ ”
“یس سر۔ “نرس تیزی سے باہر نکل گئی۔
زاہدہ سر جھکائے ناخن سے میز کی سطح کرید رہی تھی۔
“کیا بات ہے بیٹی۔ تم کچھ اداس ہو؟” انہوں نے پوچھا۔
“جی۔۔۔ جی نہیں تو۔ “وہ پھیکے سے انداز میں بادل نخواستہ مسکرا دی۔
“ہوں۔ بیگم صاحبہ کے آنے میں تو ابھی کچھ دیر ہے۔ آؤ۔ تمہیں دکھائیں کہ ہم مریض کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ “وہ رسٹ واچ سے نگاہ ہٹا کر اٹھتے ہوئے مسکرائی۔ زاہدہ بے اختیار کھڑی ہو گئی۔ تنہائی میں اگر وہ پھر بے قابو ہو جاتی اور بیگم صاحبہ آ جاتیں تو؟یہی سوچ کر اس نے انکار مناسب نہ سمجھا اور ان کے پیچھے چلتی ہوئی کاریڈور میں نکل آئی۔ بایاں موڑ مڑتے ہی پہلا کمرہ ان کی منزل تھا۔ وہ ان کے پیچھے کمرے میں داخل ہوئی۔ ٹھیک اسی وقت مریض کے بستر کے قریب کھڑی نرس ڈاکٹر ہاشمی کی جانب پلٹی۔
“سر۔ اسے ہوش آ رہا ہے۔ “پرے ہٹتے ہوئے اس نے ان راستہ دیا۔
ڈاکٹر ہاشمی تیزی سے بستر کے قریب چلے گئے اور جھک کر اس کا معائنہ کرنے لگے۔ زاہدہ بے مقصد ہی ادھر ادھر دیکھنے لگی۔
“اس کی والدہ کہاں گئیں ؟”
“جی۔ وہ اپنے ہسبینڈ کو فون کرنے گئی ہیں۔”
“ہوں۔ “وہ سیدھے کھڑے ہو گئے۔
تب۔۔۔ پے درپے کئی دھماکے ہوئے۔ روشنی اور اندھیرے کے ملے جلے جھماکے، جو اس کی آنکھوں کو چکا چوند کر گئی۔ ہر شے جیسے اس کی نظروں سے اوجھل ہو گئی۔ زمین لرزی۔ آسمان کانپا اور وہ لڑکھڑا گئی۔ اس کی حیرت زدہ، پھٹی پھٹی آنکھیں ، بستر پر پڑے اختر پر جمی تھیں۔ اس کے ہونٹوں سے چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی۔
ڈاکٹر ہاشمی اس کی دگرگوں ہوتی حالت کو دیکھ کر بری طرح گھبرا گئے۔
“بیٹی۔ کیا بات ہے؟”وہ تیزی سے گرتی ہوئی زاہدہ کی جانب لپکے اور اسے باہوں میں سنبھال لیا۔ پھر ان کی بے چین آنکھوں نے زاہدہ کی حلقوں سے ابلتی، برستی آنکھوں کا محور پا لیا۔ وہ سن سے ہو گئی۔
“زا۔۔۔ ہدہ۔۔۔ “ہڈیوں کے اس پنجر کے سوکھے ہوئے خشک لب ہلے۔
“اختر۔ “جیسے کسی زخمی روح نے تڑپ کر سرگوشی کی۔
“زاہدہ۔۔۔ کہاں۔۔۔ ہو۔۔۔ تم ؟”ایک درد بھری صدا نے اس کا صبر و قرار چھین لیا۔
“اخ۔۔۔ ” آواز اس کے گلے میں گھٹ کر رہ گئی۔
“بیٹی۔ “ڈاکٹر ہاشمی جیسے ہوش میں آ گئے۔ ان کی تحیر زدہ نظروں میں اب دردسا امنڈ آیا تھا۔
زاہدہ بت بنی کھڑی، روتی ہوئی آنکھوں سے سرسوں کے اس پھول کو دیکھے جا رہی تھی، جو شاید مرجھانے جا رہا تھا۔ اس کے چہرے کے نقوش درد، اضطراب، کسک اور تڑپ کے رنگوں میں نئے نئے روپ دھار رہے تھے۔ نرس حیرت بھری نظروں سے یہ سب کچھ دیکھ رہی تھی۔ تب۔۔۔ آہستہ سے دروازہ کھلا اور کوئی اندر داخل ہوا۔ کوئی سامنے چلا آیا۔
“زاہدہ۔ ” حیرت اور یاس میں ڈوبی ایک آواز گونجی۔ چند لمحے حیرت، بے چینی اور آنکھوں کی دھندلاہٹ کی نظر ہو گئی۔ پھر کوئی تیزی سے آگے بڑھا اور اس سے ایک قدم کے فاصلے پر رک گیا۔
“تم۔۔۔ تم کہاں تھیں بیٹی؟”
وہ چونک سے پڑی۔ حواس میں آ گئی۔ سنبھل گئی۔
” آپ؟” اس کے لبوں سے مری مری آواز نکلی اور “بیٹی” کے لفظ نے اسے پھر حیرت سے گنگ کر دیا۔
“ہاں بیٹی۔ ” چچی آنکھوں سے امنڈنے والے آنسوؤں کو رخساروں پر بہنے سے نہ روک سکیں۔ “میں۔ تمہاری مجرم۔ تمہاری گناہ گار۔ ”
وہ اس کانپتی ہوئی آواز سے ڈر سی گئی۔ لڑکھڑا گئی۔ تب کسی نے اسے سہار لیا۔ ڈاکٹر ہاشمی نے رخ پھیر لیا۔
“میرا بیٹا۔۔۔ مر رہا ہے بیٹی!”ایک کراہ ابھری۔
وہ انہیں گھورتی رہی۔ اپنی بے رحم چچی کو۔
“اختر تمہارے لئے مر رہا ہے بیٹی۔ ” وہ بمشکل بولیں۔
وہ خاموش کھڑی رہی۔
“میں ہاتھ جوڑتی ہوں بیٹی۔ “انہوں نے بوڑھے مگر سنگلاخ ہاتھ جوڑ دئیے۔
وہ پتھرائی ہوئی بے نور سی آنکھوں سے انہیں دیکھتی رہی۔
” زاہدہ۔ “ایک ماں کی کانپتی ہوئی آواز نے اسے چونکا دیا۔ مرجھاتے ہوئے گلاب کو خزاں کے جھونکے نے ہلکورا دیا۔ “تمہارا اختر مر۔۔۔ “ہچکیاں نامکمل رہ گئیں۔
“زاہدہ۔۔۔ کہاں ہو تم ؟”اختر کے ہونٹ کپکپائے۔
“اختر۔ “وہ مزید نہ سہہ سکی۔ بھاگی۔ لڑکھڑائی اور جا کر اس کے سینے سے لپٹ گئی۔
“زاہدہ۔ ” آواز میں زندگی عود کر آئی۔
“اختر۔ “وہ بیقراری سے بولی۔
“تم۔۔۔ ” آواز میں درد کم ہوا۔
“میں یہاں ہوں اختر۔ تمہارے پاس۔ ” وہ سسک اٹھی۔
“زاہدہ۔ “ایک، ہچکی ابھری اور۔۔۔ گردن ڈھلک گئی۔
“اختر۔۔۔ “ایک چیخ لہرائی۔
“یہ بے ہوش ہو چکا ہے بیٹی۔ “ایک اداس سی آواز نے اسے زندگی کی نوید دی۔ “اس کا کمزور دماغ اس ناممکن حقیقت کو سہہ نہیں سکا۔ “ڈاکٹر ہاشمی کی افسردہ سی آواز ابھری۔
“اسی۔۔۔ ”
“زندگی دینے والا خدا ہے بیٹی۔ “انہوں نے زاہدہ کی بات کاٹ کر اسے بستر سے اٹھایا اور کمرے سے باہر جانے کا اشارہ کیا۔ پھر سفید لباس میں ملبوس نرسوں کے ہمراہ ڈاکٹر ہاشمی نے اختر کے بستر کو گھیرے میں لے لیا۔
“تم نے مجھے معاف کر دیا بیٹی۔ ” خود غرضی نے نیا روپ دھار لیا تھا۔
“چچی جان۔ ” وہ ان سے لپٹ گئی۔
پچیس منٹ پچیس صدیاں بن کر گزری۔ پھر ڈاکٹر ہاشمی باہر چلے آئی۔ وہ تیزی سے ان کی طرف بڑھی۔ نرسوں کا ٹولہ بھی کمرے سے نکل گیا۔
اب چچا بھی ان دونوں کے ساتھ تھے۔ نادم نادم سی۔ کھوئے کھوئے سے۔ ڈاکٹر ہاشمی نے بڑی یاس بھری نظروں سے اسے دیکھا اور دھیرے سے اثبات میں سر ہلا کر آگے بڑھ گئے۔ وہ بھاگتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔ چچی بھی اس کے پیچھے لپکی۔
“نہیں۔ “چچا نے چچی کو روک لیا اور وہ نجانے کیوں مسکرا دیں۔ مطمئن سی ہو کر۔
“اختر۔۔۔ “اندر وہ اس کے سینے پر سر رکھے روئے جا رہی تھی۔
“زاہدہ۔ “وہ اسے اپنے سینے میں سمونے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کی آنکھیں بھی جی بھر کر ارمان نکال رہی تھیں۔ وہ۔۔۔ نظریں جھکائے ڈاکٹر ہاشمی کے آفس میں داخل ہوئی۔
چچا اور چچی کے علاوہ وہاں ایک اور ایسی ہستی موجود تھی، جس کا سامنا کرنے کی اس میں ہمت نہ تھی۔ وہ رک گئی۔ چلنے کی سکت ختم ہو گئی۔
اس نے آہستہ سے نظریں اٹھائیں۔ خاموشی۔ سناٹا۔ سکوت۔ ہر چہرہ اداس۔ ہر آنکھ نم۔ ہر وجود بے حس و حرکت۔ زاہدہ کی دھڑکن رکنے لگی۔ سانس گھٹنے لگی۔ یہ خاموشی، یہ سناٹا، یہ سکوت۔ یوں لگتا تھا جیسے کوئی بہت بڑا طوفان گزر چکا ہو اور اپنے پیچھے اپنی تباہی و بربادی کے آثار چھوڑ گیا ہو۔
اس کی نظریں بیگم صاحبہ کی نظروں سے ٹکرائیں۔ کتنا درد تھا ان میں۔ ان بوڑھے چراغوں میں ، جہاں ممتا کی لاش ویرانی کا کفن اوڑھے پڑی تھی۔
وہ دبدبہ، وہ رعب، وہ کرختگی۔ کچھ بھی تو نہیں تھا وہاں۔ سب ختم ہو چکا تھا۔ سب راکھ ہو چکا تھا۔ اس نے گھبرا کر نظریں جھکا لیں۔ اس کا دل کسی انجانے بوجھ تلے دبتا چلا گیا۔
“زاہدہ۔ “ایک سرگوشی ابھری۔
اس نے پلکیں اٹھائیں۔ پتھر کے لبوں پر بڑی زخمی سی مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔
“ہمارے پاس آؤ۔ “جیسے کسی نے التجا کی ہو۔ وہ ان کی نم آنکھوں میں دیکھتی ہوئی آگے بڑھی۔ مسکراہٹ میں خون کی سرخی گہری ہو گئی۔ زخم کا منہ کچھ اور کھل گیا۔
“بیگم صاحبہ۔ “وہ بلکتی ہوئی ان کے قدموں سے لپٹ گئی۔
انہوں نے پاؤں کھینچے نہیں۔ اسے روکا نہیں۔ اس کی زلفوں میں بوڑھے ہاتھ سے کنگھی کرتی رہیں۔ وہ کتنی ہی دیر ان مشفق قدموں سے لپٹی دل کی بھڑاس نکالتی رہی۔ پھر انہوں نے آہستہ سے اسے شانوں سے تھام کر اٹھایا اور اپنے سامنے کھڑا کر لیا۔
“منزل مبارک ہو بیٹی۔ “ان کے لب کپکپائے اور آنکھیں چھلک گئیں۔ انہوں نے اسے لپٹا لیا۔ بھینچ لیا۔ کتنے ہی گرم گرم موتی ان کے رخساروں سے ٹوٹ کر زاہدہ کی سیاہ گھٹاؤں میں جذب ہو گئی۔ پھر جب انہوں نے اسے سینے سے الگ کیا تو اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس سے کوئی بہت قیمتی شے کھو گئی ہو۔
“ابو۔ “وہ پلٹ کر ڈاکٹر ہاشمی سے لپٹ گئی۔
“پگلی۔ ” وہ اس کا شانہ تھپکتے ہوئے خود بھی بے قابو سے ہو گئے۔ “میں نے کہا تھا ناں۔ تو میری چند روز کی مہمان بیٹی ہے۔ “ایک باپ دکھی ہو رہا تھا۔
“ابو۔ “وہ مزید کچھ بھی نہ کہہ سکی۔
پھر اس سسکتی کلی کو، اس کے اپنی، ماضی کے دشمنوں اور حال کے دوستوں نے باہوں میں سمیٹ لیا۔ دامن میں بھر لیا۔
“ڈاکٹر ہاشمی۔ ”
“جی بیگم صاحبہ۔ “وہ سر جھکائے آگے بڑھ آئی۔
“اختر کس حال میں ہے؟”
“یہ اسے گھر لے جا سکتے ہیں بیگم صاحبہ۔ مسیحا ان کے ساتھ ہے۔ “وہ ان کی بات کے جواب میں آہستہ سے بولی۔
بیگم صاحبہ نے اختر کے والدین کی جانب بڑی یاس بھری نظروں سے دیکھا۔ وہ سمجھ گئی۔ بڑے اداس تھے وہ بھی۔ شاید بیٹے کی حالت نے ان کا سارا زہر نکال دیا تھا۔
“ہم کس طرح آپ کا شکریہ۔۔۔ ”
“کوئی ضرورت نہیں۔ ہم بھی ایک بیٹے کی ماں ہیں۔ “بیگم صاحبہ نے بڑی دھیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ “بس ایک کرم کیجئے ہم پر۔ ”
“جی۔ آپ حکم کیجئے۔ ” چچا کی آواز میں ممنونیت کا دریا بہہ رہا تھا۔
“جتنی جلدی ہو سکے آپ یہاں سے رخصت ہو جائے۔ طاہر ادھر نکل آیا تو ہم اپنے آپ میں نہ رہ سکیں گے۔ ”
“جی۔ ” چچا اور چچی کے چہروں پر دھواں سا پھیلا جبکہ زاہدہ سرسوں کے پھول جیسی زرد ہو گئی۔
ان سب کے سر جھک گئے۔ احسان کے بوجھ سے۔ پھر وہ رخصت ہونے کے لئے دروازے کی جانب بڑھ گئی۔
“زاہدہ۔ “ایک آواز پر وہ رک گئی۔ پلٹی اور بیگم صاحبہ کی جانب دیکھنے لگی۔ آہستہ آہستہ اس کے قدم اٹھی۔ وہ ان کے قریب چلی آئی۔
“ہاتھ لاؤ۔ ”
اور بے ساختہ زاہدہ کا ہاتھ ان کے ہاتھ میں چلا گیا۔
“اس پر تمہارا ہی حق تھا۔ ” ایک ہیرا اس کی انگلی میں جڑ دیا گیا۔
اس کے ہونٹ لرزی۔ ہاتھ کی مٹھی بھنچ گئی اور پلکوں کے گوشے پھر نم ہو گئی۔
“نہیں۔ اب نہیں۔ کبھی نہیں۔ ” ان کے ہونٹوں پر پھر ایک خون رستی مسکراہٹ تیر گئی۔
وہ بے قابو سی ہو کر پلٹ کر بھاگتی ہوئی کمرے سے نکل گئی۔
وقت تھم سا گیا!
“ڈاکٹر ہاشمی۔ “ایک شعلہ لرزا۔
“جی بیگم صاحبہ۔ ” لو تھرتھرائی۔
“یہ تھا وہ خوف جو ہمیں طاہر اور زاہدہ کے ملاپ سے روکتا تھا۔ ہم جانتے تھے پہلی محبت کبھی بھی زاہدہ کے دل سے نکل نہیں سکے گی۔ اختر کا خیال اسے کبھی بھی طاہر میں پوری طرح مدغم نہ ہونے دے گا۔ اور ڈاکٹر ہاشمی۔ یہ کہنے کی ضرورت تو نہیں ہے ناں کہ شوہر اور بیوی ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہیں۔ اس لباس میں کسی اور کا پیوند لباس کو لباس نہیں رہنے دیتا، چیتھڑا بنا دیتا ہے اور طاہر چیتھڑے پہن کر زندگی گزار سکتا ہے کیا؟”
جواب میں ڈاکٹر ہاشمی صرف اثبات میں سر ہلا کر رہ گئی۔ بیگم صاحبہ کا اندیشہ کتنی جلدی حقیقت بن کر سامنے آ گیا تھا، وہ اس سوچ میں ڈوب گئی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: