Ishk Ka Qaaf Novel by Sarfraz Ahmed Rahi – Episode 3

0
عشق کا قاف از سرفراز احمد راہی – قسط نمبر 3

–**–**–

کار کا انجن آخری مرتبہ کھانسا اور بے دم ہو گیا۔ وہ ڈیش بورڈ پر پڑا گفٹ پیک سنبھالتا باہر نکل آیا۔ شام کا اندھیرا گہرا ہو چکا تھا۔ کوٹھی دلہن بنی ہوئی تھی۔ بڑی حسین اور امنگوں بھری مسکراہٹ لبوں پر لئے دھیمے سروں میں کوئی پیارا سا گیت گنگناتا وہ داخلی دروازے کی طرف بڑھا۔ دبے پاؤں اندر داخل ہوا۔
“امی آج بھی کوئی نئی خریدی ہوئی چیز آگے رکھے میرا انتظار کر رہی ہوں گی۔ ” اس نے سوچا اور بڑے دلکش خیالات میں گم اوپر جانے والی سیڑھیوں کی طرف بڑھا۔
“امی۔ آپ۔۔۔ ؟”وہ کھڑکی کے کھلے پٹ کا سہارا لئے کھڑی دور کہیں اندھیرے میں گھورتی بیگم صاحبہ کو دیکھ کر ٹھٹک گیا۔ وہ خاموش، اسی انداز میں کھڑی رہیں۔ “اس سردی میں۔ اس وقت تک آپ یہاں کیا کر رہی ہیں ؟” وہ ان کے قریب چلا آیا۔ بیگم صاحبہ بدستور چپ رہیں۔
” آپ بولتی کیوں نہیں امی؟”وہ گھبرا سا گیا۔
تب وہ آہستہ سے پلٹیں اور اس کے ذہن کو جھٹکا سا لگا۔ دل بڑے زور سے دھڑکا۔ سوجی سوجی آنکھیں ، جن میں کبھی بھوری چٹانوں کی سی سختی کے سوا کچھ دکھائی نہ دیا تھا۔ زرد رنگت جو ہمیشہ وقار اور دبدبے کے بوجھ سے ابلتے ہوئے خون کی چغلی کھاتی تھی۔ کملایا ہوا چہرہ، جس پر پہاڑوں کے عزم اور آسمانوں کی سی عظمت کے سوا کبھی کچھ نہ ابھرا تھا۔
“امی۔ “کسی انجانے حادثے کی وہ منہ بولتی تصویراس کا صبر و قرار چھین لے گئی۔ “کیا بات ہے امی ؟”وہ تڑپ اٹھا۔
وہ بڑی درد بھری نظروں سے اس کے معصوم سے خوفزدہ چہرے کو گھورتی رہیں۔
“بولئے امی۔ آپ بولتی کیوں نہیں ؟” وہ بے پناہ بے قراری سے بولا۔
انہوں نے سر جھکا کر رخ پھیرتے ہوئے قدم آگے بڑھا دئیے۔
“امی۔ “وہ تیزی سے ان کے سامنے چلا آیا۔ ” آپ کو میری قسم امی۔ ”
انہوں نے بڑے کرب سے پلکیں بھینچ لیں۔ پتھر سے چشمہ پھوٹ نکلا۔ وہ گنگ سا کھڑا ان کی طرف بڑی عجیب سی نظروں سے دیکھنے لگا۔
“زاہدہ۔۔۔ “ایک سسکی ان کے کانپتے لبوں سے آزاد ہو گئی۔
“کیا ہوا اسی؟” وہ بے چینی سے بولا۔
“چلی گئی۔ “ڈاکٹر ہاشمی کی آواز، اس کی سماعت کے لئے تو بہ شکن دھماکہ ثابت ہوئی۔ وہ لڑکھڑا گیا۔
گفٹ پیک اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر چمکدار فرش پر آ رہا۔ سنگ مر مر کا خوبصورت اور بے داغ تاج محل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ بکھر گیا۔ وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے منہ پھیرے کھڑی بیگم صاحبہ اور سرجھکائے ڈاکٹر ہاشمی کو گھورتا رہ گیا۔
کتنی ہی دیر۔۔۔ ہاں کتنی ہی دیر اس اذیت ناک خاموشی کے قبرستان میں ارمانوں کے مزار پر کھڑے گزر گئی۔ بجھتے چراغوں کا دھواں نظروں کی دھندلا ہٹ میں بدل گیا۔
“چلی گئی۔۔۔ ؟”ایک سپاٹ، جذبات سے عاری، دھیمی سی صدا ابھری۔
جھکے ہوئے سر اٹھے۔
“بیٹے۔ ” بیگم صاحبہ کا دل جیسے پھٹ گیا۔
“اور آپ اسے روک بھی نہ سکیں۔ “اس کا لہجہ درد سے پُر تھا۔ بیگم صاحبہ نے تڑ پ کر پھر رخ پھیر لیا۔
“وہ کیوں چلی گئی امی؟” وہ بچوں کی طرح سوال کر بیٹھا۔
“ڈاکٹر ہاشمی۔ “بیگم صاحبہ نے سسک کر صوفے کا سہارا لے لیا۔ “اسے بتائیے ڈاکٹر ہاشمی، وہ کیوں چلی گئی۔ “ان کی آواز بھیگ گئی۔
“میں جواب آپ سے چاہتا ہوں امی۔ “وہ جیسے کرب سے چیخ اٹھا۔ تڑپ کر ان کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ “جواب دیجئے۔ وہ کیوں چلی گئی۔ کہاں چلی گئی۔ کس کے ساتھ چلی گئی؟” وہ ان کو جھنجھوڑتا ہوا چیخ اٹھا۔
“اختر موت کے دہانے پر کھڑا تھا۔ اسے جانا پڑا۔ ”
“اختر کا گھر اس کی منزل تھا۔ وہ وہیں لوٹ گئی۔ ”
“اختر اس کی محبت ہے۔ اسی کے ساتھ چلی گئی۔ ”
“نہیں نہیں نہیں۔ ” وہ کانوں پر ہاتھ رکھ کر پوری قوت سے چیخ اٹھا۔
نہ جانے کس ضبط سے اس نے اپنے دل کا خون رخساروں پر چھلکنے سے روکا۔ اس کی آنکھیں کتنی ہی دیر بھنچی رہیں ، جیسے اسے زہر کے تلخ اور کسیلے گھونٹ حلق سے اتارنا پڑے ہوں۔ جیسے وہ زہر اس کے جسم کی ہر رگ کو کاٹ رہا ہو۔ اس کے ہاتھ مضبوطی سے کانوں پر جمے رہی۔ جیسے اب وہ کچھ سننے کی تاب نہ رکھتا ہو۔ جیسے اب اگر ایک لفظ بھی اس کے کانوں کے پردوں سے ٹکرایا تو وہ ہمیشہ کے لئے سماعت سے محروم ہو جائے گا۔ پھر وہ آہستہ سے پلٹا۔
بیگم صاحبہ دل کو دونوں ہاتھوں میں جکڑے صوفے پر بیٹھتی چلی گئیں۔ کھڑے ہونے کی سکت ہی کہاں رہ گئی تھی ان میں۔
ڈاکٹر ہاشمی نے چہرے پر ابھر آنے والے کرب کو رخ پھیر کر چھپاتے ہوئے صوفے کی پشت کا سہارا لے لیا لیکن وہ ہر ایک سے بے نیاز، دھیرے دھیرے زمین پر بیٹھتا چلا گیا۔ اس کے لرزتے ہوئے بے جان، بے سکت ہاتھ ٹوٹے ہوئے، بکھرے پڑے تاج محل کے ٹکڑوں سے ٹکرائی۔
“تو کیا تاج محل صرف چاندنی راتوں ہی میں محبت کی کہانیاں سنتا ہے۔ اندھیری راتوں میں یہ خود بھی بکھر ا رہتا ہے کیا؟”وہ مر مر کے بے جان ٹکڑوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بڑبڑایا۔
دھیرے دھیرے اس نے تمام ٹکڑوں کو دونوں ہاتھوں میں سمیٹ لیا۔ آہستہ سے اٹھا اور ہولے ہولے چلتا ہوا اوپر جانے والی سیڑھیوں کی جانب بڑھتا چلا گیا۔
“طاہر۔ “بیگم صاحبہ کی غمزدہ آواز نے اس کے قدم روک لئے لیکن وہ پلٹا نہیں۔
ایک لمحے کا وقت معنی خیز خاموشی میں بیت گیا۔
“گھبرائیے نہیں امی۔ ابھی دل دھڑک رہا ہے۔ لاشیں بے گور و کفن بھی تو پڑی رہتی ہیں۔ “وہ کہہ کر آگے بڑھ گیا۔
سائے گہرے ہوتے چلے گئے۔ شبِ پُر نم کی زلفیں کھلتی چلی گئیں۔ شبنم گرتی رہی۔ اور خزاں کا کہر ہر سو پھیلتا چلا گیا۔ پھیلتا چلا گیا۔
سمور کے کوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے دوسرے ہاتھ میں بڑا سا پیکٹ سنبھالے وہ گنگناتی ہوئی آفس میں داخل ہوئی۔ ہر سو ایک بے نام اور خلاف معمول خاموشی کا راج تھا۔ ہر شخص سرجھکائے اپنے کام میں مشغول تھا۔
اس کے خوبصورت ہونٹ ساکت ہو گئے۔ بڑی بڑی آنکھوں میں ہلکی ہلکی الجھن تیرنے لگی۔ ہر وقت قہقہوں میں ڈوبا رہنے والا آفس اداسی میں تہہ نشین تھا۔ وہ آہستہ آہستہ چل پڑی۔ رجسٹر پر جھکی نجمہ اس کے قدموں کی آہٹ پر چونکی۔
“اوہ۔ امبر۔۔۔ “وہ اس کی جانب دیکھ کر آہستہ سے مسکرائی۔
سر کے اشارے سے سب سے سلام لیتے اور دیتے ہوئے وہ اس کی میز کے قریب پہنچ گئی۔
“کیا بات ہے بھئی۔ آج گلشن اداس ہے۔ “وہ اس کی میز پر بیٹھ گئی۔
” آج باس اداس ہیں۔ “نجمہ دھیرے سے بولی۔
“اداس۔۔۔ ؟” وہ چونک پڑی۔
“ہاں۔ ”
“مگر کیوں ؟”
“کوئی نہیں جانتا۔ بس۔ صبح خاموشی سے آئی۔ کسی سے سلام لیا نہ کسی سے بات کی۔ سیدھے آفس میں چلے گئے۔ اب تک وہیں بند ہیں۔ ”
امبر کسی سوچ میں گم ہو گئی۔ نجمہ اپنا کام نبٹانے لگی۔
“اچھا۔ میں مل کر آتی ہوں۔ یہ کارڈ آ گئے ہیں۔ یہ دے آؤں۔ شاید کچھ وجہ بھی معلوم ہو جائے اس بے وقت اداسی کی۔ کل تو ان کی شادی ہے۔ ”
“ہاں۔ تم سے کچھ نہیں چھپائیں گے۔ ان کی چہیتی ہو ناں۔ ” نجمہ شرارت سے بولی۔
“تم جلا کرو۔ “وہ پیکٹ ہاتھ میں لئے مسکراتی ہوئی چل دی۔ سب کی نظریں پل بھر کو اٹھیں اور جھک گئیں۔
دروازہ آہستہ سے کھلا۔ وہ چونکا۔ اس کی سرخ سرخ آنکھیں دروازے سے اندر داخل ہوتی ہوئی امبر پر جم گئیں۔
“مارننگ سر۔ “اس نے مخصوص لہجے میں کہا اور ساتھ ہی اس کا نرم و نازک ہاتھ ماتھے پر پہنچ گیا۔
“مارننگ۔ ” وہ جیسے بڑبڑایا۔
وہ پل بھر کو ٹھٹکی۔ پھر ہولے ہولے مسکراتی ہوئی اس کی میز کے قریب چلی آئی۔
“لیجئے سر۔ آپ کے میریج کارڈ۔۔۔ “وہ پیکٹ اس کے سامنے رکھتے ہوئے میز کے کونے سے ٹک گئی۔
اس کی حالت ایک دم بدل گئی۔ چہرے پر زردی اور سرخ آنکھوں میں بے چینی سی پھیل گئی مگر پھر فوراً ہی وہ سنبھل گیا۔
“کیا بات ہے سر۔ آپ رات ٹھیک سے سوئے نہیں کیا؟”وہ گہری نظروں سے اس کی بدلتی ہوئی حالت اور سرخ سرخ آنکھوں کو پرکھتے ہوئے دھیرے سے سیدھی ہو کر کھڑی ہو گئی۔
” آں۔۔۔ نہیں تو۔ ایسی تو کوئی بات نہیں۔ ” وہ جیسے بڑے درد سے بادل نخواستہ مسکرایا۔ پھر کسی سوچ میں ڈوب گیا۔ اس نے کارڈز کا پیکٹ چھو کر بھی نہ دیکھا۔
“سر۔ “وہ ڈر سی گئی۔ اس کا معصوم دل دھڑک اٹھا۔ یہ بے چینی، یہ اضطراب، یہ کسی چیز کو پوشیدہ رکھنے کی سعی ہے۔ وہ بچی نہیں تھی۔ یہ کسی المیے ہی کی نشانی ہے۔ اس نے سوچا۔
” آں۔۔۔ ” اس نے سر جھٹک کر اس کی طرف دیکھا۔
“سر۔ مجھے لسٹ دے دیجئے۔ میں نام ٹائپ کر دوں۔ ” وہ چاہتے ہوئے بھی اس کی پریشانی کی وجہ پوچھتے پوچھتے رہ گئی۔
جواب میں اس کے ہونٹوں پر، خشک ہونٹوں پر بڑی کرب انگیز مسکراہٹ تیر گئی۔
“سر۔ آپ کچھ پریشان ہیں ؟”وہ کہتے ہوئے نہ جانے کیوں اس سے نظریں چرا گئی۔
“ہاں۔ بہت پریشان ہوں امبر۔ “وہ کھوئے کھوئے لہجے میں بولا۔
“مجھے بتائیے سر۔ شاید میں آپ کے کچھ کام آ سکوں۔ “وہ بے تابی سے بولی۔
“تم۔۔۔ ؟” وہ خالی خالی نظروں سے اس کے چہرے کو تکنے لگا۔ “ہاں۔ تم میری پریشانی کا خاتمہ کر سکتی ہو۔ “اس کا لہجہ اب بھی ویران ویران سا تھا۔
“کہئے سر۔ “وہ کچھ اور بے چین ہو گئی۔
اس کی نظریں پیکٹ میں بندھے کارڈوں پر جم گئیں۔ “امبر۔ یہ کارڈ ہیں نا۔۔۔ ” وہ ان پر ہاتھ پھیرتے ہوئے آہستہ سے بولا۔
“یس سر۔ ” وہ حیران سی ہو گئی۔
“ان کو۔۔۔ ان کو آگ لگا دو امبر۔ “وہ اسی خالی خالی سپاٹ آواز میں بولا۔
امبر پھٹی پھٹی نظروں سے اسے دیکھتی رہ گئی۔
“امبر۔ انہیں جلا کر راکھ کر دو۔ شعلوں میں پھینک دو۔ “وہ تڑپ کر کھڑا ہو گیا۔ “یہ۔۔۔ یہ مجھے راس نہیں آئے امبر۔ انہیں یہاں رہنے کا کوئی حق نہیں۔ کوئی حق نہیں امبر۔ ” وہ پیکٹ پر جھپٹ پڑا۔۔۔ چند ہی لمحوں بعد فرش پر ہر سو کارڈز کے پرزے پھیل گئی۔ امبر حیرت بھری پھٹی پھٹی نگاہوں سے سب کچھ دیکھتی رہی۔ اس کے سوچنے سمجھنے کی ہر صلاحیت دم توڑ گئی۔
“یہ کیا ہوا؟ کیوں ہوا؟” وہ سوچتی رہی۔ اور وہ فرش پر بکھرے ان بے جان پرزوں کو ویران ویران، سرخ سرخ شب بیدار آنکھوں سے تکتا رہا۔
“بیٹھ جاؤ امبر۔ کھڑی کیوں ہو؟” وہ تھکے تھکے لہجے میں بولا۔
وہ کسی بے جان مشین کی طرح کرسی پر گر گئی۔ اس کی نظریں اب بھی طاہر کے ستے ہوئے چہرے پر جمی تھیں۔
“سر۔ “کتنی ہی دیر بعد دھیرے سے اس نے کہا۔ طاہر نے اس کی جانب دیکھا۔ “یہ سب کیسے ہوا سر؟ کیوں ہوا؟”اس کی آواز بے پناہ اداسی لئے ہوئے تھی۔
“پگلی۔ ” وہ بڑے کرب سے ہنسا۔
“سر۔ وہ تو آپ کے ساتھ۔۔۔ ”
” دو دن بعد شادی کرنے والی تھی۔ “اس نے امبر کی بات کاٹ دی۔
“جی سر۔ اور پھر یہ انکار۔۔۔ ”
“وہ کسی اور سے محبت کرتی تھی امبر۔ “وہ مسکرایا۔ بڑے عجیب سے انداز میں۔
“سر۔۔۔ ”
“ہاں امبر۔ اس کا محبوب موت کی دہلیز پر کھڑا اسے پکار رہا تھا۔ وہ زندگی بن کر اس کے پاس واپس لوٹ گئی۔ ”
“اور آپ۔۔۔ ؟ “وہ بے ساختہ کہہ اٹھی۔
“ابھی تک زندہ ہوں۔ نہ جانے کیوں ؟” وہ پھر مسکرایا۔
اور نہ جانے کیوں امبر کا جی چاہا۔ وہ رو دے۔ لاکھ ضبط کے باوجود اس کی پلکوں کے گوشے نم ہو گئے۔
“اری۔۔۔ ” وہ اسے حیرت سے دیکھ کر بولا۔ اٹھ کھڑا ہوا۔ “تم رو رہی ہو۔ “وہ اس کے قریب چلا آیا۔ “پگلی۔ تم سن کر رو دیں۔ میں تو سہہ کر بھی خاموش رہا۔ ”
“سر۔ آپ ہمارے لئے کیا ہیں ؟ آپ نہیں جانتی۔ آپ کی ذرا سی خاموشی اور اداسی نے سارے آفس پر موت کا سا سناٹا طاری کر دیا ہے۔ کیوں ؟ کیوں سر؟” وہ بے چین ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
“امبر۔ ” وہ اس کی کانپتی آواز کے زیر و بم میں کھو کر رہ گیا۔
“صرف اس لئے سر کہ آپ۔۔۔ آپ اس آفس کے چپڑاسی سے لے کر مینجر تک کے لئے کسی دیوتا سے کم نہیں ہیں۔ پُر خلوص، بے لوث، بے پناہ محبت کرنے والا دیوتا۔ آپ نے اپنے آفس میں ان بیروزگاروں کو، اپنے والدین، بیوی بچوں اور بہن بھائیوں کے واحد سہاروں کواس وقت پناہ دی، جب وہ مایوسی کی باہوں میں سما جانے کا فیصلہ کر چکے تھی۔ وہ آپ کے دکھ درد، آپ کی مسرت کو آپ سے زیادہ محسوس کرتے ہیں سر۔ آپ اداس ہوں تو اس چھوٹے سے گلستاں کا ہر باسی مرجھا جاتا ہے۔ آپ خوش ہوں تو ان کی زندگی میں بہار رقصاں ہو جاتی ہے۔ یہ سب آپ کے سہاری، آپ کی مسکراہٹوں کے سہارے جیتے ہیں سر۔ آپ پر اتنا بڑا حادثہ اتنا بڑا سانحہ گزر جائے اور ہم پتھر بنی، مرجھائے ہوئے بے حس پھولوں کی طرح آپ کو تکتے رہیں۔ کیسے سر؟ ہم یہ کیسے کریں ؟”
“چپ ہو جاؤ امبر۔ چپ ہو جاؤ۔ “اس نے گھبرا کر اس کے کانپتے لبوں پر ہاتھ رکھ دیا۔ “میں۔۔۔ میں تو پاگل تھا۔ دیوانہ تھا۔ مجھے ایک فرد کی محبت نے، ایک تھوڑی سی محبت نے، اتنی ڈھیر ساری محبت، اتنے بہت سوں کے پیار سے پل بھر میں ، کتنی دور پہنچا دیا۔ میں سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ تم لوگ مجھے اتنا چاہتے ہو۔ مجھ سے اتنا پیار کرتے ہو۔ بخدا امبر۔ میں اب بالکل اداس نہیں ہوں۔ بالکل پریشان نہیں ہوں۔ میں۔۔۔ میں تو مسکرا رہا ہوں۔ ہنس رہا ہوں۔ میرے اتنے سارے اپنے ہیں۔ ایک بیگانہ چلا گیا تو کیا ہوا ؟ کیا ہوا امبر؟ کچھ بھی تو نہیں ؟ پھر میں کیوں اداس رہوں ؟ میں کیوں افسوس کروں۔ دیکھو۔ میں مسکرارہا ہوں امبر۔ میں ہنس رہا ہوں۔ ہنس رہا ہوں۔ ہا ہا۔ ہا ہا۔ میں ہنس رہا ہوں امبر۔ دیکھو۔ ہا ہاہا۔ میں ہنس رہا ہوں۔ ہا۔ ہا۔ ہا۔ ہاہا۔ “اس کی آواز بھرا گئی اور وہ پاگلوں کی طرح رقت آمیز انداز میں ہنستا چلا گیا۔ بالکل دیوانوں کی مانند۔ پھر جب مزید قہقہے لگانے کی سکت ہی نہ رہی تو اس کی آواز دھیمی ہوتے ہوتے بالکل رک گئی۔ امبر نے دیکھا۔ اس کے لب اب بھی مسکراہٹ کے انداز میں وا تھے اور آنکھوں کی نمی چھلکنے کو تھی۔
“سر۔ ” اس کی آواز تھرا گئی۔ “دکھ بھرے قہقہوں سے دل کے زخم بھرنے کی بجائے کچھ اور کھل جایا کرتے ہیں۔ “وہ پلٹ کر تیزی سے دروازہ کھول کر باہر نکل گئی۔ باہر جمع ہجوم اسے روک نہ سکا۔ وہ دوڑتی ہوئی آفس سے باہر نکل گئی۔
٭
راستہ طویل نہ تھا مگر اس میں اتنی ہمت نہ تھی کہ بے تحاشا لپک کر منزل کا دامن تھام لیتا۔
انتظار۔۔۔ ہاں اسے انتظار کرنا تھا۔
ابھی تو اسے منزل، سوئی سوئی منزل، بے خبر منزل کے بارے میں یہ بھی معلوم نہ تھا کہ وہ اسے اپنا مسافر بھی تسلیم کرتی ہے یا نہیں ؟ ابھی تو یہ سب خواب تھی۔ سراب تھی۔
اس نے کتنی ہی مرتبہ کوشش کی اور کئی باراس کی زبان پر آ کر دل کی بات رک گئی۔ وہ مضطرب سا ہو جاتا۔ پہلو بدل کر رہ جاتا۔ بے چینی اس کے رگ و پے میں بجلی بن کر سرایت کر جاتی مگر وہ کچھ بھی نہ کہہ پاتا۔ جذبات بے زبان حیوان کی طرح سرکشی پر اترتے رہی۔ احساس چوٹ کھائے ہوئے پرندے کی مانند پھڑپھڑاتا رہا۔ بہار، خزاں کے قفس میں سر ٹکراتی رہی لیکن کب تک؟ آخر وہ لمحہ بھی آیا جب یہ سب کچھ اس کی برداشت سے باہر ہو گیا۔ اذیت کی تپش اسے ہر پل، ہر گھڑی، خشک لکڑی کی طرح جلانے لگی۔ وہ کسی ویرانے میں سلگتی ہوئی اس شمع کی طرح پگھلنے لگا، جس کا کوئی پروانہ نہ تھا۔
شمع، پروانے کو جلائے بغیر خود جلتی رہی۔ پگھلتی رہی۔ یہ وہ کب گوارا کر سکتی ہے؟یہی اس کے ساتھ ہوا۔ ضبط انتہا کو پہنچ کر دم توڑ گیا۔ پیمانہ لبریز ہوا اور چھلک پڑا۔
“میں آج امبر کوسب کچھ بتا دوں گا۔۔۔ سب کچھ۔ “وہ آہستہ سے بڑبڑایا۔
“صاحب۔ ناشتے پر بیگم صاحبہ آپ کا انتظار کر رہی ہیں۔ ” سیف نے اسے چونکا دیا۔
“تم چلو۔ میں آ رہا ہوں۔ “اس نے بستر سے نکلتے ہوئے کہا۔
ٹھیک پندرہ منٹ بعد وہ ناشتے کی میز پر بیٹھا تھا۔ ناشتہ خاموشی سے کیا گیا۔ ملازم نے میز صاف کر دی۔ وہ اخبار دیکھنے لگا۔
بیگم صاحبہ کسی گہری سوچ میں گم تھیں۔ ان کا داہنا ہاتھ سامنے پڑے سفید لفافے سے کھیلنے میں مصروف تھا۔
“اوہ۔ دس بج گئے۔ “وہ اخبار رکھ کر رسٹ واچ پر نظریں دوڑاتے ہوئے جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا۔
“بیٹھ جاؤ۔ ” بیگم صاحبہ کی دھیمی سی آواز نے اسے بے ساختہ پھر بٹھا دیا۔ ان کی سوچ زدہ آنکھوں میں سنجیدگی کروٹیں لے رہی تھی۔ اس کا دل بے طرح سے دھڑک اٹھا۔ وہ پہلو بدل کر رہ گیا۔
“جی امی۔ “اس نے خاموشی کا دامن چاک کیا۔
“بیٹے۔ ” اداس سی آواز ابھری۔ “ہم چاہتے ہیں کہ زندگی کا دامن چھوڑنے سے پہلے تمہیں زندگی کی خوشیوں میں کھیلتے دیکھ لیں۔ اب ہم مزید پتھر کی یہ سل اپنے دل پر برداشت نہ کر سکیں گے۔ ”
وہ سر جھکائے ناخنوں سے میز کی سطح کریدتا رہا۔
“زندگی میں ناکامیاں بھی آتی ہیں بیٹے لیکن اس لئے نہیں کہ انسان میدان چھوڑ کر بھاگ نکلے بلکہ اس لئے کہ اگلے امتحان میں پچھلی ناکامی کی کسر بھی نکال دی۔ ایک تمنا پوری نہ ہو تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ انسان آرزو کرنا ہی چھوڑ دے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ سنبھلنے کے لئے جتنا وقت درکار ہوتا ہے، ہم اس سے بہت زیادہ وقت تمہیں دے چکے ہیں۔ ہر ماں کی طرح ہماری بھی تمنا ہے کہ ہم اپنے بیٹے کے پہلو میں چاند سی بہو دیکھیں۔ ” وہ ایک لمحے کو رکیں۔
اس کا جھکا ہوا سر تب بھی جھکا ہی رہا۔
“کئی ایک گھروں سے رشتے آئے ہیں۔ ہم نے ابھی کسی کو جواب نہیں دیا۔ صرف تمہاری خاطر۔ ”
تب اس نے دھیرے سے چہرہ اوپر اٹھایا۔ تھوڑا تھوڑا مضطرب لگ رہا تھا وہ۔
“ہم تمہیں فیصلے سے پہلے انتخاب اور پسند کا پورا پورا موقع دیں گے۔ ” انہوں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور اپنے سامنے پڑا لفافہ اس کی جانب سرکادیا۔ “اس میں کچھ تصویریں ہیں۔ زاہدہ کی چچا زاد بہن نرگس کی بھی۔ ” وہ معنی خیز لہجے میں بولیں۔
وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا۔ چہرے پر ایک رنگ آ کر گزر گیا۔ کچھ کہتے کہتے رک گیا۔
“وہ خاص طور پر اس رشتے کے خواہش مند ہیں۔ لڑکی چند ہی روز پہلے انگلینڈ سے واپس آئی ہے مگر اس پر مشرقی اقدار پوری طرح حاوی ہیں۔ ”
“مگر میں۔۔۔ ”
“شادی نہیں کرنا چاہتا۔ “تلخی سے کہہ کر وہ اٹھ کھڑی ہوئیں۔ “یہی جواب ہے ناں تمہارا۔ ”
“جی نہیں۔ میں نے یہ کب کہا۔ ”
“تو پھر ؟” وہ حیرت سے بولیں۔
“کیا ضروری ہے کہ ان ہی میں سے اور پھر خاص طور پر نرگس ہی سی۔۔۔ ”
“ہم سمجھتے ہیں بیٹے لیکن ہم نے یہ بات ایسے ہی نہیں کہی۔ نرگس واقعی گلِ نرگس ہے۔ زاہدہ اور اس لفافے میں موجود کوئی بھی لڑکی اس کے سامنے ہیچ ہے۔ ”
“لیکن۔۔۔ ”
“کہیں تم کسی اور کو تو۔۔۔ ”
“یہ بات نہیں ہے امی۔ “وہ ان کی بات کاٹتے ہوئے پھر بے چین سا ہو گیا۔
“دیکھو بیٹی۔ تم کیوں یہ چاہتے ہو کہ تم محبت کی شادی کرو۔ کیا ضروری ہے کہ جس سے تم شادی کرو وہ شادی سے پہلے تم سے محبت کرے۔ ” وہ کھل کر کہہ گئیں۔
“میں نے ایسا کب کہا امی۔ ” اس کی آواز دب سی گئی۔
“پھر کیا تم یہ چاہتے ہو کہ شادی سے پہلے تم اپنی ہونے والی بیوی کے ساتھ محبت کے چار دن ضرور گزارو۔ ”
” ایسی بھی میری کوئی شرط نہیں ہے امی۔ ”
“تو پھر تم چاہتے کیا ہو؟”ان کی آواز میں تلخی ابھر آئی۔
“امی۔ ” اس نے سر جھکائے جھکائے کہا۔ “میں نے ایک زخم کھایا ہے۔ ایسی لڑکی کو چن لیا جو پہلے ہی کسی اور سے محبت کرتی تھی۔ اب میں ایسے کسی حادثہ سے دوچار ہونے کے لئے تیار نہیں ہوں۔ میں چاہتا ہوں مجھے جو لڑکی بیوی کے روپ میں ملے وہ صرف میری ہو، ہر طرح سی۔ اس کے خیالوں پر، اس کی سوچ پر میرے سوا کسی اور کی پرچھائیں بھی نہ پڑی ہو۔ ”
” شریف گھرانوں کی لڑکیاں ایسی ہی ہوتی ہیں بیٹی۔ اور یہ سب تصویریں شرفا کی بیٹیوں ہی کی ہیں۔ ”
“زاہدہ بھی تو شریف گھرانے ہی سے تعلق رکھتی تھی امی۔ ”
“بیٹی۔ ” وہ اسے سمجھانے والے انداز میں بولیں۔ “محبت ایسا جذبہ ہے جس پر کسی کا بس نہیں چلتا۔ زاہدہ نے اگر ایسا کیا تو کوئی گناہ نہیں کیا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ تمہاری جلد بازی اور میری ممتا نے مل کر ایک ایسی غلطی کو جنم دیاجس کا خمیازہ ہم دونوں کو بھگتنا پڑا۔ ”
“یعنی۔۔۔ ؟” اس نے سوالیہ انداز میں ماں کی جانب دیکھا۔
“ہمیں پہلے زاہدہ کے بارے میں پوری چھان بین کرنی چاہئے تھی۔ وہ تو خیر ہوئی کہ وہ لڑکی دھوکے باز نہیں تھی ورنہ اگر وہ کوئی چالباز ہوتی اور واردات کی نیت سے آئی ہوتی تو ہم اس کے چکر میں پھنس کر اب تک مال اور عزت دونوں گنوا چکے ہوتے۔ ”
“تو اب آپ جس لڑکی سے بھی میری شادی کرانا چاہتی ہیں اس کے بارے میں یہ کیسے پتہ چلے گا کہ وہ مجھ سے پہلے کسی اور کے ساتھ انوالو نہیں رہی؟”
بات چیت بڑی کھل کھلا کر ہو رہی تھی۔ بیگم صاحبہ اپنے مزاج کے خلاف اس صورتحال کا بڑے حوصلے اور برداشت کے ساتھ سامنا کر رہی تھیں۔ وجہ صرف یہ تھی کہ وہ بات کو کسی منطقی انجام تک لے جانا چاہتی تھیں۔
“تم اگر چاہو تو جس لڑکی کو پسند کرو، اس کے ساتھ تمہاری ملاقات کرائی جا سکتی ہے۔ تم دونوں ایک دوسرے کو اچھی طرح جان لو، سمجھ لو۔ پھر کسی فیصلے پر پہنچ سکو، اس کا یہ بہت اچھا راستہ ہے۔ ”
“اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ وہ لڑکی ہمارے امیر گھرانے میں شادی کے لئے مجھ سے اپنا ماضی نہیں چھپائے گی۔ جھوٹ نہیں بولے گی۔ ”
“اب وہم کا علاج تو حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں تھا بیٹی۔ تم ایک ہی چوٹ کھا کر تمام طبیبوں سے بد ظن ہو گئے ہو۔ اس طرح تو زندگی نہیں گزر سکتی۔ ”
“اور پھر ایک آدھ ملاقات میں ہم ایک دوسرے کو کیسے مکمل طور پر جان لیں گے۔ ”
“تو کیا اب سالوں کے سال چاہئیں تمہیں بیوی منتخب کرنے کے لئے؟تم کھل کر کیوں نہیں کہتے، جو تمہارے دل میں ہے؟”وہ جھنجھلا گئیں۔
“میں۔۔۔ میں۔۔۔ ” اس کی پیشانی عرق آلود ہو گئی۔
“کسی کو پسند کر چکے ہو کیا؟” وہ اس کی جانب غور سے دیکھ کر بولیں۔
“جی۔۔۔ جی ہاں۔ “سرگوشی سی ابھری۔ وہ جوتے کی ٹو سے فرش کریدنے لگا۔
“ہوں۔ کون ہے وہ؟”ان کے لہجے سے کچھ بیزاری، ناگواری اور ناپسندیدگی ظاہر تھی۔
“امبر۔۔۔ “وہ اسی طرح بولا۔
“کون امبر؟”
“میری اسٹینو۔ ”
“طاہر۔۔۔ “وہ بے پناہ کڑواہٹ سے بولیں۔
“وہ بڑی اچھی لڑکی ہے امی۔ “وہ بمشکل تمام کہہ سکا۔
“زاہدہ بھی تو بری نہیں تھی۔ “وہ تلخی سے بولیں۔
“مگر امی۔۔۔ ”
“ہم جانتے ہیں۔ ڈائیلاگ تمہاری زبان پر دھرے رہتے ہیں۔ ہمیں قائل کرنے کے لئے تم ایڑی چوٹی کا زور لگا دو گے لیکن یہ سوچ لو طاہر۔ ہم بار بار ایک ہی زخم نہ کھا سکیں گی۔ “وہ تلخی سے شکست خوردگی پر اتر آئیں۔
“نہیں امی۔ آپ۔۔۔ آپ۔۔۔ ”
“جاؤ۔ اس وقت ہمیں تنہا چھوڑ دو۔ ہم ماں ہیں۔ جو ان اولاد کی خوشی پر ایک مرتبہ پھر اپنی انا قربان کر رہے ہیں لیکن یاد رکھنا طاہر۔ یہ آخری بار ہو رہا ہے۔ اس کے بعد ہم داؤ لگائیں گے نہ بساط کے مہرے کی طرح پٹنے پر تیار ہوں گے۔ ”
“شکریہ امی جان۔ میری جیت بھی تو آپ ہی کی جیت ہے۔ “وہ اپنی خوشی کو دباتے ہوئے بمشکل کہہ سکا۔
“بس جاؤ۔ ہم کل ہی اس لڑکی کے گھر جانا چاہیں گی۔ ”
“جی۔ مگر ۔ اتنی جلدی۔۔۔ ” وہ ہکلایا۔
“بکو مت۔ ہر بات میں اپنی منوانے کے عادی ہو چکے ہو۔ بس۔۔۔ کل ہم امبر کے گھر جا کر اسے دیکھنا چاہیں گے۔ ”
“جی۔۔۔ بہتر۔ “وہ خفیف سا ہو گیا۔ چند لمحے کھڑا رہا۔ بیگم صاحبہ پھر کسی خیال میں کھو گئی تھیں۔ وہ آہستہ سے پلٹا اور خارجی دروازے کی جانب بڑھتا چلا گیا۔ اس کے قدموں میں لرزش اور اضطراب نمایاں تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: