Ishk Ka Qaaf Novel by Sarfraz Ahmed Rahi – Episode 4

0
عشق کا قاف از سرفراز احمد راہی – قسط نمبر 4

–**–**–

“اوہ۔ ساڑھے گیارہ ہو گئے۔ ” وہ ٹہلتے ٹہلتے رکا اور وقت دیکھ کر بڑبڑایا۔ اس کی بے چینی میں کچھ اور اضافہ ہو گیا۔ قدموں نے پھر قالین کی سینہ کوبی شروع کر دی۔ امبر ابھی تک نہیں آئی تھی۔ اس نے کبھی اتنی دیر نہیں کی تھی۔ اور پھر بغیر اطلاع۔ اس کا دل بار بار کسی نئے اندیشے کے بوجھ تلے دب کر رہ جاتا۔
“اگر وہ آج نہ آئی تو؟”
“نہیں نہیں۔ وہ ضرور آئے گی۔ “وہ بڑبڑایا اور نظریں پھر رسٹ واچ پر پھسل پڑیں۔ “بارہ۔ “اس کے بے چین اور بے قرار خیالات کے سانس اکھڑنے لگی۔
اس کے متحرک قدم رکے۔ داہنا ہاتھ تیزی سے کال بیل کی جانب لپکا۔ دوسرے ہی لمحے نادر کمرے میں تھا۔
“یس سر۔ ”
“دیکھو۔ مس امبر ابھی تک۔۔۔ “الفاظ اس کے لبوں پر دم توڑ گئی۔ دروازے سے امبر اندر داخل ہو رہی تھی۔
“جاؤ۔ تم جاؤ۔ “وہ جلدی سے بولا اور نادر خاموشی سے باہر نکل گیا۔
“مارننگ سر۔ “وہ شوخی اور شرارت سے بھرپور آواز میں آدھے سلام کے ساتھ بولی۔
“ہوں۔۔۔ “وہ اس کے خوبصورت اور سڈول جسم کو دیکھتا ہوا اس کے گلاب ایسے کھلے ہوئے چہرے پر آ کر رک گیا۔ “یہ مارننگ ٹائم ہے۔ “وہ ہونٹ بھینچ کر بولا۔
جواب میں وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ اس کے سینے میں جیسے کسی نے ہلچل مچا دی۔
“سر۔۔۔ وہ۔۔۔ بات ہی ایسی تھی۔ “وہ شرما سی گئی۔
“بات۔۔۔ کیسی بات؟ اور یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے ؟”وہ اس کے دائیں ہاتھ کو دیکھ کر جلدی سے بولا۔
“یہ۔۔۔ یہ سر۔۔۔ “وہ گڑ بڑا سی گئی۔ قوس قزح کے حسین لہریے اس کے حسین چہرے پر پھیلتے چلے گئی۔ اس نے سر جھکا لیا۔ وہ اس کی پیشانی پر ابھرتے پسینے کے قطروں کو دیکھ کر الجھن میں پڑ گیا۔
“کیا بات ہے امبر؟” وہ دو قدم آگے بڑھ آیا۔
“سر۔۔۔ وہ۔۔۔ “وہ جیسے کہہ نہ پا رہی تھی۔
“ارے بولو نا۔ پھر مجھے بھی کچھ کہنا ہے۔ ”
“تو پہلے آپ بتائیے۔ “وہ اسے دیکھ کر بڑے پیارے انداز میں مسکرائی۔
“اوں ہوں۔ پہلے تم۔ ” وہ نفی میں سر ہلا کر بولا۔
“نو سر۔ پہلے آپ۔۔۔ انتظار آپ کر رہے تھے، میں نہیں۔ ” وہ شوخی سے بولی۔
اور اس کا دل جیسے پسلیوں کاقفس توڑ کر سینے سے باہر آ جانے کو مچلنے لگا۔ “میں تو۔۔ “وہ خود گڑ بڑا گیا۔
“ہوں۔ کوئی خاص ہی بات ہے۔ “وہ پھر شرارت پر اتر آئی۔
“امبر۔ وہ۔ میں۔۔۔ “جسم میں ابلتا ہوا لاوا جیسے سرد پڑنے لگا۔ اچھا بیٹھو تو۔ “وہ کرسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بولا۔
“جی نہیں۔ بیٹھ گئی۔ تو پھر بھاگنے میں دقت پیش آئے گی۔ ” اس نے نفی میں سر ہلایا۔
“کیا مطلب؟”
“بات ہی ایسی ہے سر۔ ” وہ پھر شرما گئی۔
“ہوں۔ ” وہ اسے بڑی عجیب اور تیز نظروں سے گھورنے لگا۔
“بتائیے نا سر۔ “وہ اس کے انداز پر کچھ جھینپ سی گئی۔
“امبر۔ “وہ کچھ دیر بعد بڑے ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولا۔ وہ اس کی جانب دیکھنے لگی۔ “امبر۔ اگر کوئی کسی کو پسند کرنے لگے تو؟”اس کی پیشانی بھیگ سی گئی۔
“تو اسے اپنا لے۔ “وہ مسکرا کر بولی۔ بڑی لاپرواہی سی۔ جیسے کوئی بات ہی نہ ہو۔
طاہر نے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔ وہ بدستور مسکراتی رہی۔
“لیکن اگر کوئی اس بات سے بے خبر ہو کہ اسے کوئی پسند کرتا ہے۔ اسے اپنانا چاہتا ہے۔ تب ؟”
“تب اسے بتا دے۔ “اس نے سیدھا سا نسخہ بتایا۔ اور وہ جھلا گیا۔
“بڑی آسان بات ہے ناں۔ “اور وہ اس کے جھنجلانے پر کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ وہ بڑے پیار سے اس کی جانب دیکھے جا رہا تھا۔
“دیکھو امبر۔ فرض کرو۔ “اس نے دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ کہنا شروع کیا۔ “فرض کرو۔ کوئی تمہیں پسند کرتا ہے۔” اس کی زبان لڑکھڑاتے لڑکھڑاتے رہ گئی۔
فقرہ ختم کر کے اس نے امبر کی جانب دیکھا۔ وہ مسکراتی ہوئی نظروں سے اس کی جانب دیکھ رہی تھی۔ گالوں پر حیا کی سرخی ضرور ابھر آئی تھی۔ اس کا حوصلہ جیسے دو چند ہو گیا۔
“تمہیں چاہتا ہے۔ تمہیں اپنانا چاہتا ہے۔ لیکن تم۔۔۔ تم اس سے بے خبر ہو۔ تمہیں کچھ بھی معلوم نہ ہو۔ ”
“لیکن ہم بے خبر نہیں ہیں سر۔ “وہ شرارت بھرے انداز میں کہہ کر بے طرح شرما گئی۔
“امبر۔ “اس کا سینہ پھٹنے لگا۔ دماغ چکرا کر رہ گیا۔ “تو کیا؟”مسرت اس کے انگ انگ میں ناچ اٹھی۔
“یس سر۔ یہ رہا اس کا ثبوت کہ ہم بے خبر نہیں تھے۔ ہم بھی کسی کو چاہتے تھے۔ “وہ پل بھر کو رکی۔ اس کا ہاتھ پشت پر سے سامنے آیاجس میں ایک سفید لفافہ دبا ہوا تھا۔ “اوراسے حاصل بھی کر سکتے ہیں۔ “اس نے لفافہ طاہر کے ہاتھ میں تھما یا اور شرم سے سرخ رُو پلٹ کر بھاگتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔
“امبر۔ “اس کے لبوں سے ایک سرگوشی ابھری اور امبر کے پیچھے فضا میں تحلیل ہو گئی۔ بہاریں ناچ اٹھیں۔ دھڑکتا ہوا دل جھوم سا گیا۔
اس نے لرزتے ہاتھوں سے لفافہ کھولا اور۔۔۔ لڑکھڑا کر رہ گیا۔ اندھیرا اور روشنی جیسے پوری قوت آپس میں سے ٹکرا گئی۔ رات اور دن ایک دوسرے پر جھپٹ پڑے۔ آسمان اور زمین نے جگہیں بدل لیں۔ ہر شے درہم برہم ہو گئی۔
وہ بے جان سے انداز میں کرسی پر بیٹھتا چلا گیا۔ اس کی پھٹی پھٹی، بے اعتبار نگاہیں ، لفافے سے نکلنے والے کارڈ پر ٹھہر سی گئیں۔
وہ امبر کی شادی کا دعوت نامہ تھا۔
اس کی امبر، اس کی اپنی امبر، کسی دوسرے کی امانت تھی، یہ تو اسے معلوم ہی نہ تھا۔ پگلا تھا ناں۔ ہر پسند آ جانے والی شے کو حاصل کر لینے کی خواہش نے اسے ایک بار پھر ناکامی اور محرومی کا داغ دیا تھا۔ پہلی بار جلد بازی نے ایساکیا تھا اور دوسری بار شاید اس نے خود دیر کر دی تھی۔
خاموشی۔ اداسی۔ سناٹا۔ اور وہ۔ کتنے ہی لمحوں تک باہم مدغم رہی۔ شاید صدیوں تک۔
“امبر۔ ” آخر ایک سسکی اس کے لبوں سے آزاد ہوئی۔ ساکت آنکھوں کے گہرے اور ہلچل زدہ سمندر نے دھندلاہٹ کے گرداب سے چند موتی پلکوں کے کناروں پر اچھال دئیے۔ موتی دعوت نامے پر چمکتے “امبر” کے لفظ پر گرے اور پھیل گئی۔ لفظ کی چمک کچھ اور بڑھ گئی۔ رنگ کچھ اور گہرا ہو گیا۔
اس کے کانپتے ہوئے ہاتھوں نے حرکت کی اور لرزتے لبوں نے پہلی اور آخری بار مہر تمنا” امبر” کے لفظ پر ثبت کر دی۔
“سیف بابا۔ طاہر ابھی تک نہیں آیا۔ “بیگم صاحبہ نے ناشتے کی میز پر اخبار بینی سے اکتا کر کہا۔
“جی۔ میں دیکھتا ہوں۔ “وہ ادب سے کہہ کر باہر نکل گیا۔ وہ اکتائی اکتائی نظریں پھر گھسی پٹی خبروں پر دوڑانے لگیں۔
“السلام علیکم امی جان۔ “وہ دھیرے سے کہہ کر اندر داخل ہوا۔
انہوں نے جواب دے کر آہستہ سے اس کی جانب دیکھا اور بے ساختہ چونک اٹھیں۔ وہ ان کی نظروں کی چبھن سے گھبرا گیا۔ نگاہیں جھکا کر اپنی سرخ سرخ آنکھوں پر پردہ ڈالتے ہوئے وہ آگے بڑھا اور کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔
وہ بغوراس کا جائزہ لیتی رہیں۔ تنا ہوا چہرہ۔ شب بیداری کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ سرخ سرخ انگارہ آنکھیں۔ جیسے بہت بڑا سیلاب روکے بیٹھی ہوں۔ تھکے تھکے قدم۔ جواری کے سب کچھ ہار جانے کا پتہ دے رہے تھے۔ “مگر کیوں ؟”وہ اس کا جواب ڈھونڈھنے میں ناکام رہیں۔
“تم نے ابھی کپڑے نہیں بدلے؟”دھڑکتے دل کے ساتھ ان کی زبان سے نکلا۔
“ناشتے کے بعد بدل لوں گا امی۔ “وہ آہستہ سے بولا اور اخبار پر نظریں جما دیں۔
“طاہر۔ “ان کا لہجہ عجیب سا ہو گیا۔
“جی۔ “وہ سنبھل گیا۔
“کیا بات ہے؟”
“کچھ بھی تو نہیں امی۔ ” وہ پہلو بدل کر رہ گیا۔
“واقعی۔۔۔ ؟” وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولیں۔
وہ نگاہیں چرا کر رہ گیا۔ “جی۔۔۔ جی ہاں امی۔ کوئی خاص بات نہیں۔ ”
“ناشتہ کرو۔ “وہ چائے دانی کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے دھیرے سے بولیں۔
“میں صرف چائے پیوں گا۔ ”
اور بیگم صاحبہ کا توس والی پلیٹ کی جانب بڑھتا ہوا ہاتھ رک گیا۔ ایک لمحے کو انہوں نے سر جھکائے بیٹھی، مضطرب اور بے چین بیٹے کی جانب دیکھا۔ پھر ہاتھ کھینچ لیا۔ انہوں نے بھی صرف چائے کے کپ پر اکتفا کیا۔ خاموشی گہری ہوتی گئی۔ خالی کپ میز پر رکھ کر وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
“ٹھہرو۔ “ایک تحکم آمیز آواز نے اسے بت بنا دیا۔
“جی۔ “وہ پلٹے بغیر بولا۔
“بیٹھ جاؤ۔ ”
اور وہ کسی بے جان شے کی طرح پھر کرسی پر گر پڑا۔
“کل ہم نے تم سے کچھ کہا تھا۔ ”
“جی۔ ” اضطراب کی حالت میں پہلو بدل کر وہ ایک نظر ان کی جانب دیکھ کر رہ گیا۔
“لیکن اب ہم نے اپنے پروگرام میں کچھ تبدیلی کر دی ہے۔ ”
“جی۔ ” وہ کچھ بھی نہ سمجھا۔
“ہم لڑکی کے گھر جانے سے پہلے اسے کہیں اور ایک نظر دیکھنا چاہتے ہیں۔ ”
“امی۔ “وہ تڑپ کر کھڑا ہو گیا۔
وہ پُرسکون انداز میں اسے دیکھتی رہیں۔ “تمہیں اعتراض ہے کیا؟”
“مجھے۔۔۔ نہیں تو امی۔ ”
“تو جلدی سے تیار ہو کر آ جاؤ۔ ہم تمہارے ساتھ آفس چلیں گے۔ “ایک ہتھوڑا سا اس کے ذہن پر برسا۔
“مگر امی۔۔۔ “اس نے کچھ کہنا چاہا۔
“ہم اسے آج۔۔۔ ابھی۔۔۔ اسی وقت دیکھنے جانا چاہتے ہیں۔ ”
“چند روز رک نہیں سکتیں آپ؟”وہ گھٹی گھٹی آواز میں بولا۔
“وجہ؟”بڑے جابرانہ انداز میں استفسار کیا گیا۔
“اسے۔۔۔ “وہ ایک پل کو رکا۔ “دلہن بنا دیکھ لیجئے گا اسے۔ ”
“ہم سمجھے نہیں۔ “وہ واقعی حیرت زدہ رہ گئیں۔
اور جواب میں طاہر کا ہاتھ گاؤن کی جیب سے باہر نکل آیا۔ اس سے کارڈ لیتے ہوئے ان کا ہاتھ نجانے کیوں کانپ گیا۔ وہ تیزی سے چلتا ہوا کمرے سے نکل گیا۔ یہ دیکھنے کی اس میں ہمت نہیں تھی کہ کارڈ دیکھ کر بوڑھی چٹان ایک مرتبہ پھر لرز کر رہ گئی تھی۔
“طاہر۔ “ماں کے لبوں پر ایک آہ مچلی اور نظروں کے سامنے دھوئیں کی دیوار بن کر پھیل گئی۔ وہ دھندلائی ہوئی آنکھوں سے اپنے لرزتے ہاتھوں میں کپکپاتے اس پروانہ مسرت کو دیکھ رہی تھیں جو ان کی ہر خوشی کے لئے زہر بن گیا تھا۔
“یہ۔۔۔ یہ سب کیا ہوا میرے بدنصیب بیٹے۔ کیا ہو رہا ہے یہ سب ؟کیوں ہو رہا ہے؟ کب تک ہوتا رہے گا؟”کتنی ہی دیر تک ایک بے جان بت کی مانند بیٹھے رہنے کے بعد وہ آہستہ سے بڑبڑائیں۔
“جب تک میری ہر دھڑکن تنہائی اور محرومی سے آشنا نہیں ہو جاتی۔ تب تک یہ ہوتا رہے گا امی۔ “وہ ان کے سامنے کھڑا تھا۔
وہ اسے دکھی دکھی نظروں سے گھورتی رہ گئیں۔ وہ مسکرا رہا تھا۔ نجانے کس طرح؟
“اللہ حافظ امی۔ “وہ دروازے کی جانب پلٹ گیا۔
وہ تب بھی پتھر کی طرح ساکت بیٹھی رہیں۔ خاموش اور بے حس و حرکت مجسمے کی مانند۔ کسی سحر زدہ معمول کی طرح۔ بالکل ایسی۔ جیسے غیر معمولی صدمے کے سحر نے ایک جاندار کو بے جان شے میں تبدیل کر دیا ہو۔
٭
“بنو۔ ان دنوں باہر نہیں نکلا کرتی۔ درخواست ہی دینا تھی تو مجھے کہہ دیا ہوتا۔ ” رضیہ نے شرارت سے امبر کے بازو پر چٹکی لیتے ہوئے کہا اور اس کے لبوں سے سسکی نکل گئی۔
“اری۔ درخواست کا تو صرف بہانہ ہے۔ اس کا گھر پر دل ہی کہاں لگتا ہے۔ غلامی سے پہلے جی بھر کر آزادی منا لینا چاہتی ہے۔ ” انجم نے اپنی بڑی بڑی آنکھیں مٹکاتے ہوئے کہا تو وہ بے بسی سے اس کی طرف دیکھ کر رہ گئی۔
“ہائی۔ یہ شب بیدار آنکھیں ضرور ہمارے دولہا بھیا کی شرارتوں کی تصویریں بناتے بناتے سرخ ہوئی ہیں۔ واللہ۔ محبت ہو توایسی ہو۔ “نجمہ نے اس کی آنکھوں کے سامنے انگلی نچاتے ہوئے کہا۔ باقی تینوں نے بھی اسی کی ہاں میں ہاں ملائی۔
“دیکھو۔ خدا کے لئے مجھے بخش دو۔ “اس نے فریادیوں کے انداز میں ہاتھ جوڑ کر ان سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کی۔
“اوں ہوں۔ بی بی۔ ہم سے تو آج کل میں پیچھا چھڑا لو گی مگر وہ جو تمام عمر تمہارے پیچھے لٹھ لئے بھاگتے پھریں گی، ان کے بارے میں کیا خیال ہے ؟”نجمہ نے کہا تو وہ شرم سے لجا کر رہ گئی۔
“ہائی۔ اب ہمارے صاحب کا کیا بنے گا؟ وہ تو دیوداس بن کر رہ جائیں گی۔ پھر یہ آفس امپورٹ ایکسپورٹ کے بجائے تان سین کا ڈیرہ بن کر رہ جائے گا۔ ” رضیہ نے دل پر ہاتھ رکھ کر بڑی ادا سے کہا۔
“بکو مت۔ ” وہ ایکدم سنجیدہ ہو گئی۔ “مذاق میں بھی ان کے بارے میں ایسی بیہودہ گفتگو مت کیا کرو۔ “اس نے جیسے اسے ڈانٹ دیا۔
“اے فلسفہ بیگم۔ “انجم نے اس کے باز پر زور سے چٹکی لی۔ “مذاق کو اتنا سیریس کیس مت بنایا کرو۔ ہم بھی جانتی ہیں کہ وہ تمہارے لئے ہی نہیں ہمارے لئے بھی دنیا میں شاید ماں باپ کے بعدسب سے زیادہ قابل احترام ہستی ہیں۔ ہم تم سے زیادہ چاہتے ہیں انہیں۔ “اور سب کی سب مسکرا دیں۔
“ارے۔ صاحب آ گئے۔ ” اچانک نجمہ نے دروازے کی جانب اشارہ کیا تو وہ چاروں سنبھل کر کھڑی ہو گئیں۔ اس وقت وہ سب امبر کے کیبن میں تھیں۔
“بی پجارن۔ دیوتا کا سواگت کرو ناں جا کر۔ ان کے چرنوں میں اپنی ایپلی کیشن کے پھول چڑھاؤ۔ انکار تو وہ کر ہی نہیں سکیں گے۔ ” رضیہ نے اسے کہنی سے ٹھوکا دے کر آہستہ سے کہا۔
“بکو مت۔ ” وہ جھینپ سی گئی۔
طاہر پل بھر کو ہال میں رکا۔ لڑکیوں کی تمام سیٹیں خالی دیکھ کر ایک لمحے کو اس نے کچھ سوچا۔ پھر اپنے آفس کی جانب بڑھتا چلا گیا۔ تمام لوگ اس کے کمرے میں جاتے ہی اپنی سیٹوں پر بیٹھ گئے۔
“چلو۔ اب اپنا اپنا کام کرو جا کر۔ میری جان بخشو۔ “وہ اپنا خوبصورت چھوٹا سا شولڈر بیگ اٹھا کر دروازے کی جانب بڑھی۔
“جی ہاں۔ اب آپ مندر جا رہی ہیں۔ “نجمہ نے شرارت سے کہا اور سب کا مشترکہ ہلکا سا قہقہہ گونج کر رہ گیا۔
“بکتی رہو۔ ” کہہ کر وہ باہر نکل گئی۔
“چلو بھئی۔ وہ تو گئی۔ اب کام شروع کریں۔ سیزن کے دن ہیں۔ بہت کام ہے۔ ” وہ سب بھی چل دیں۔
دروازہ دھیرے سے کھلا۔ “مارننگ سر۔ “وہ اندر آتے ہوئے آہستہ سے بولی۔
“او ہ۔ امبر تم۔۔۔ آؤ آؤ۔ “وہ دھیرے سے مسکرا دیا۔ امبر دھڑکتے دل کے ساتھ نظریں جھکائے آگے بڑھی اور ایک کرسی کی پشت تھام کر کھڑی ہو گئی۔
“بیٹھو۔ “وہ عجیب سی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا اور نجانے کیوں نچلا ہونٹ دانتوں میں داب لیا۔
امبر نے کچھ کہنے کے لئے چہرہ اوپر اٹھایا، لب کھولے مگر اسے اپنی طرف دیکھتا پا کر شرما گئی۔ اس کا سر پھر جھک گیا۔ پھر وہ آہستہ سے کرسی پر بیٹھ گئی۔ وہ بھی اپنی سیٹ پر چلا آیا۔ کتنی ہی دیر خاموشی چھائی رہی۔ پھر امبر کی آواز نے اسے چونکا دیا۔
“سر۔ ”
“ہوں۔ “وہ پیپرویٹ سے کھیلتے کھیلتے رک گیا۔ “کیا بات ہے؟” اس نے مسکرا کر امبر کی آنکھوں میں دیکھا۔
“جی۔۔۔ وہ۔۔۔ وہ سر۔ ” وہ ہکلا گئی۔
“کیا ہو گیا ہے تمہیں ؟”وہ ہنس دیا۔ “شادی ہر لڑکی کی ہوتی ہے۔ شرم و حیا ہر لڑکی کا زیور ہوتا ہے لیکن تم تو سب پر بازی لے گئیں۔”
وہ سر جھکائی، بیر بہوٹی بنی، ناخن سے شیشے کی ٹاپ کریدتے ہوئے، نچلا ہونٹ دانتوں سے کاٹتے ہوئے اس کی آواز کی مٹھاس میں گم ہو گئی۔
“اور پھر اپنوں سے کیا شرمانا امبر۔ ہم نے ایک عرصہ ساتھ ساتھ گزارا ہے۔ اچھے دوستوں ، اچھے ساتھیوں کی طرح۔ “وہ ایک پل کو رکا۔ “ہاں۔ اب کہو۔ لیکن شرمانا نہیں۔ ” وہ اسے تنبیہ کرتے ہوئے بولا تو وہ شرمیلی سی ہنسی ہنس دی۔
“سر۔۔۔ یہ۔۔۔ ” اس نے بیگ کھول کر ایک کاغذ نکالا اور اس کی طرف بڑھا دیا۔
“یہ کیا ہے؟” وہ اسے تھامتے ہوئے حیرت سے بولا۔
“ایپلی کیشن سر۔ ”
“کیسی ایپلی کیشن؟”
“چھٹی کی سر۔ ”
“ارے چھوڑو بھی۔ ” اس نے ایک جھٹکے سے اس کے دو اور پھر چار ٹکڑے کر کے باسکٹ میں پھینک دئیے۔
“سر۔ مگر ۔۔۔ ”
” آفس کی کارروائی مکمل کرنے کے لئے ایسے تکلفات کی ضرورت ہوتی ہے امبر۔۔۔ لیکن تم ان ملازموں میں شمار نہیں ہوتیں جن کے لئے ایسی کارروائیوں کا اہتمام لازم ہو۔ تم نے جس طرح میرے ساتھ مل کر THE PROUD جیسے پراجیکٹ کو کامیابی سے ہمکنار کیا ہے، اس کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ ہم ایسے تکلفات میں وقت ضائع کیا کریں۔ ”
“سر۔ “حیرت اور مسرت سے اس کی آواز لڑکھڑا گئی۔
“ہاں امبر۔ میں نے اس آفس کے ہر فرد کو اپنا سمجھا ہے۔ اپنا جانا ہے اور تم۔۔۔ تم تو وہ ہو، جو میری زندگی اور موت کے درمیان سینہ تان کر آ کھڑی ہوئی تھیں۔ “وہ اپنی سیٹ سے اٹھ کر کھڑکی میں جا کھڑا ہوا۔ “تم نے ایک مرتبہ مجھے دیوتا کہا تھا امبر لیکن مجھے ایسا لگتا ہے، دیوی تم ہو۔ پیار کی۔ وفا کی۔ رفاقت کی۔ تم میرے لئے ایک ایسی مخلص دوست ہو امبر، جس کے ہر پل کی رفاقت مجھ پر احسان ہے۔ اور دوستوں میں ، محبت کرنے والوں میں یہ رسمیں بڑی بور لگتی ہیں۔ لگتی ہیں نا۔ “وہ اس کے قریب چلا آیا۔ اس پر جھک سا گیا۔
“سر۔ “اس کی آنکھوں میں تشکر امڈ آیا۔
“پگلی۔ “وہ ہولے سے مسکرایا اور سیدھا ہو گیا۔ “کتنے دنوں کی چھٹی چاہیے تمہیں ؟ “وہ شریر سے لہجے میں بولا۔
اور امبر نے ناخنوں سے میز کی سطح کو کریدتے ہوئے سر جھکا لیا۔ “ایک۔۔۔ ایک ہفتے کی سر۔ ” وہ بمشکل کہہ پائی۔
“با۔۔۔۔۔ س۔ “وہ لفظ کو کھینچ کر بولا۔ ” آج دس تاریخ ہے۔ “وہ کلائی پر بندھی گھڑی میں تاریخ دیکھتے ہوئے بولا۔ “بارہ کو شادی ہے۔ دو دن یہ گئے۔ اور باقی بچے صرف پانچ دن۔ ” وہ بڑبڑاتے ہوئے رکا۔ “ارے۔ صرف پانچ دن۔ ” وہ حیرت اور بھولپن بھری شرارت سے اس کے سامنے ہاتھ کھول کر نچاتے ہوئے بولا۔
“سر۔۔۔ ” وہ جھینپ سی گئی۔ طاہر زور سے ہنس دیا۔
“تمہیں ایک ماہ کی رخصت دی جاتی ہے۔ “وہ شاہانہ انداز سے بولا۔
“مگر سر۔۔۔ ”
“کچھ نہیں۔ کوئی بات ہے بھلا۔ شادی ہو اور صرف پانچ دن بعد پھر ڈیوٹی سنبھال لی جائے۔ ”
“مگر میں کچھ اور کہہ رہی تھی سر۔ ”
“ہاں ہاں۔ کچھ اور کہو۔ بڑے شوق سے کہو۔ ”
“وہ سر۔۔۔ وہ۔۔۔ وہ نہیں چاہتے کہ میں شادی کے بعد بھی جاب کروں۔ “وہ بڑے اداس لہجے میں بولی۔
اور۔۔۔ اس کے دل کو دھچکا سا لگا۔ ایک پل کو اس کے چہرے پر جیسے خزاں کا رنگ بکھر گئے مگر دوسرے ہی لمحے وہ سنبھل گیا۔ اس کے کانپتے لبوں پر ایک کرب آلود مسکراہٹ تیر گئی۔ اس نے ہونٹوں کو زور سے بھینچ لیا اور یوں اثبات میں سر ہلایا جیسے کسی انجانی صدا پر لبیک کہہ رہا ہو۔ پھر وہ آہستہ سے نامحسوس مگر درد بھرے انداز میں ہنس دیا۔
“ٹھیک ہی تو کہتے ہیں۔ “وہ جیسے اپنے آپ سے کہہ اٹھا۔ “پھر۔۔۔ کب سے ہمارا ساتھ چھوڑ رہی ہو؟” وہ پھر مسکرادیا۔
” آپ کا ساتھ تو مرتے دم تک رہے گا سر۔ دوستوں سے ایسی باتیں نہ کیا کیجئے۔ “وہ افسردگی سے مسکرادی۔
وہ چند لمحوں تک اسے عجیب نظروں سے گھورتا رہا۔ “اس کا مطلب ہے۔ “وہ پہلو بدل کر بولا۔ “کہ تم صرف یہی مہینہ ہمارے ساتھ ہو جس کے دس دن گزر چکے ہیں۔ ”
“یس سر۔ ”
“ہوں۔ ” وہ بجھ سا گیا۔ “ٹھیک ہے امبر۔ “کچھ دیر بعد وہ ایک طویل اور سرد آہ بھر کر گویا ہوا۔ “ہم میں سے کوئی بھی تمہیں بھول نہ سکے گا۔ ”
“سر۔ “اس کی آواز تھرا گئی۔
“ارے ہاں۔ “وہ بات بدل گیا۔ “یہ تو میں نے پوچھا ہی نہیں کہ تمہارے وہ کرتے کیا ہیں ؟”
اور جذبات کے ریلے میں بہتی ہوئی امبر ساحلِحواس پر آ گری۔ “وہ کالج میں لیکچرار ہیں سر۔ “اس نے آہستہ سے کہا۔
“ہوں۔ “وہ پھر کسی خیال میں ڈوب گیا۔
” آج کی ڈاک سر۔ “نادر نے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا اور ڈاک میز پر رکھ کر واپس لوٹ گیا۔ وہ ایک طویل سانس لے کر سیدھا ہو بیٹھا۔ ڈاک ایک جانب سرکا کر اس نے امبر کی طرف دیکھا۔ دونوں کی نظریں ملیں اور جھک گئیں۔
“امبر۔ ”
“یس سر۔ ”
“میں کچھ کہوں۔ برا تو نہ مانو گی۔ ”
“کیسی باتیں کرتے ہیں آپ سر۔ ”
“امبر۔۔۔ میں۔۔۔ “وہ کہتے کہتے رکا۔ “میں تمہاری شادی میں نہ آ سکوں گا۔ ”
“کیوں سر؟” وہ تڑپ سی گئی۔
“مجھے گاؤں جانا ہے امبر۔ وہاں نجانے کتنے دن لگ جائیں۔ “اس نے بڑی ہمت کر کے جھوٹ بولا۔ “لیکن میں اس سے پہلے تمہارے اعزاز میں ایک شاندار پارٹی دینا چاہتا ہوں امبر۔ ”
“سر۔ وہ سب ٹھیک ہے۔ مگر ۔ آپ۔۔۔ ”
“مجھے احساس ہے امبر۔ لیکن یقین کرو، وہ کام اتنا ہی اہم اور وقت طلب ہے کہ میں مجبور ہو گیا ہوں۔ “وہ میز کے کونے پر بیٹھ گیا۔ “دیکھو۔ تم جس طرح چاہو، میں تم سے معذرت کرنے کو تیار ہوں لیکن خدارا، مجھ سے خفا مت ہونا۔ تم کہو تو میں اپنا کام چھوڑ کر تمہاری خوشی میں شریک ہونے کو چلا آؤں گا لیکن تم مجھ سے ناراض مت ہونا۔ “وہ اس کے شانوں پر ہاتھ رکھ کر اداس اور التجا آمیز لہجے میں بولا۔
“نہیں سر۔ میں آپ سے ناراض کیسے ہو سکتی ہوں ؟ آپ اپنا کام التوا میں مت ڈالئے لیکن اس کے لئے آپ کو میری بھی ایک بات ماننا پڑے گی۔ ”
“ہاں ہاں ، کہو۔ ”
“شادی کے بعد میں آپ کے اعزاز میں ایک پارٹی دوں گی، جس کے لئے آپ کوئی بہانہ نہ بنا سکیں گی۔ ”
وہ چند لمحوں تک اس کی پُر امید آنکھوں میں جھانکتا رہا۔ “ٹھیک ہے۔ “وہ میز سے اٹھ گیا۔ وہ کھل اٹھی۔
“لیکن۔۔۔ ”
“لیکن کیا سر؟”بے تابی سے اس نے پوچھا۔
“پارٹی یہاں ، اسی آفس میں دی جائے گی۔ تمام انتظام میرا ہو گا اور تم اور تمہارے وہ مہمان خصوصی ہوں گے۔ ”
“بالکل نہیں سر۔ “وہ مچل سی گئی۔ “پہلی بات تو ٹھیک ہے لیکن باقی دونوں باتیں غلط ہیں۔ پارٹی ہم دیں گے اور مہمان آپ ہوں گے۔ ”
“غلط۔ بالکل غلط۔ جا تم رہی ہو۔ اور الوداعی پارٹی جانے والے کے اعزاز میں دی جاتی ہے۔ لہذا میرا حق پہلے بنتا ہے۔ ”
“وہ حق تو آپ پارٹی دے کر استعمال کر ہی رہے ہیں سر۔ ”
“نہیں۔ یہ رسمی پارٹی ہے۔ بعد کی پارٹی اعزازی اور خاص ہو گی۔ ”
“سر۔ ” وہ جیسے ہارتے ہارتے جیت کی امید پر بولی۔ “سب کچھ تو آپ لے گئے سر۔ ہمارے ہاتھ کیا آیا؟” اس نے منہ بنا کر کہا۔
“تمہارے حصے میں ہماری دعائیں ، ہماری محبتیں ، ہمارے جذبات یعنی یہ کہ خدا کرے تم اور تمہارے”وہ” پھلو پھولو۔ دودھوں نہاؤ پوتوں پھلو۔ ہماری خوشیاں بھی خدا تمہیں دے دی۔ وغیرہ وغیرہ۔ ”
“سر۔ ” اس نے شرما کر دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا لیا۔ پھر کچھ دیر بعد اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ سوالیہ انداز میں اس کی طرف دیکھنے لگا۔
“اب میں چلوں گی سر۔ “وہ سر جھکا کر بولی۔
اورجیسے طاہر کے دل کو کسی نے مٹھی میں مسل ڈالا۔ کتنی ہی دیر تک وہ اسے گھورتا رہا۔ زاہدہ بھی تو یوں ہی گئی تھی۔
“جاؤ۔ ” اس کے لب کپکپا گئے۔
اس نے جھکی ہوئی نظریں اٹھائیں۔
“سر۔ ” پلکوں پر تیرتے موتی لرز گئی۔ طاہر پھیکی سی مسکراہٹ لبوں پر بکھیر کر رہ گیا۔ پھر اس کی پلکوں کے گوشے بھی نم ہو گئے۔ شاید، ضبط کا آخری بند ٹوٹنے کو تھا۔
“اللہ حافظ۔ “اس نے بے ساختہ اسے شانوں سے تھام کر کہا۔
“سر۔ “وہ بہت اداس ہو رہی تھی۔
“پگلی۔ “اس کا جی چاہا۔ اسے باہوں میں سمیٹ کر سینے میں چھپا لے۔ پوری قوت سے بھینچ لے مگر دوسرے ہی لمحے وہ اس کے ہاتھوں کی گرفت سے پھسل کر دروازے کو چل دی۔
ہارا ہوا جواری، اپنے غلط داؤ پر اس مرتبہ بھی پٹ گیا تھا اور اب شاید اس کا دامن، ہر آرزو، تمنا اور خواہش سے خالی ہو چکا تھا۔ اسی لئے تو وہ اپنی غیر متوقع ہار کا انجام دیکھ کر اتنے تلخ انداز میں مسکرایا تھا کہ اس کے جذبات پر نا امیدی کی ایک سرد تہہ جمتی چلی گئی تھی۔
وہ آفس سے نکل آیا۔ بے مقصد ادھر ادھر کار بھگائے پھر تا رہا، جو لمحہ بہ لمحہ سپیڈ پکڑتی جا رہی تھی۔ اس کی پتھرائی ہوئی آنکھیں تیزی سے پیچھے بھاگتی ہوئی سڑک پر منجمد تھیں۔ ذہن، دل، خیالات، جذبات۔ ایک جنگ تھی جو اس کی سوچ اور احساس کے مابین شدت سے جا رہی تھی۔
“تم پھر ہار گئے۔ ”
“جیت تمہاری تقدیر میں نہیں۔ ”
“تم زندگی بھر یونہی تنہائیوں میں بھٹکتے رہو گے۔ ”
“تمہارا دامن محبت سے سدا خالی رہے گا۔ ”
“تم ساری عمر تشنہ رہو گے۔ ”
“تم سراپا ہار ہو۔ اپنے لئے، اپنی ہر آرزو کے لئے، اپنی ہر تمنا کے لئے، اپنے ہر جذبے کے لئے۔ داؤ لگانا چھوڑ دو۔ تم اناڑی جواری ہو۔ تمہاری خواہشات کی تاش کا ہر پتہ بے رنگ ہے۔ بے وفا ہے۔ ”
“کوئی نہیں آئے گا جو تمہیں اپنے د ل کے نہاں خانے میں محبت کے نام پر سجا لے۔ تم دیوتا ہو۔ انسان نہیں۔ لوگ تمہارا احترام تو کرتے ہیں ، تم سے محبت نہیں کرتے۔ کسی کی محبت تمہارے مقدر میں لکھی ہی نہیں گئی۔ ”
“تم بن منزل کے لٹے پٹے مسافر ہو۔ منزل کی تلاش چھوڑ دو۔ چھوڑ دو۔ منزل کی تلاش چھوڑ دو۔ چھوڑ دو۔ چھوڑ دو۔ ”
کار کے بریک پوری قوت سے چیخے اور بھاگتی ہوئی کار الٹتے الٹتے بچی۔
گھر آ چکا تھا۔
وہ یوں ہانپ رہا تھا، جیسے میلوں دور سے بھاگتا آیا ہو۔ چہرہ پسینے میں شرابور اور سانس دھونکنی کی مانندچل رہا تھا۔ اس کے ہاتھوں کی گرفت اسٹیئرنگ پر سخت ہوتی چلی گئی۔ پھر اس نے اپنا سراسٹیئرنگ پر دے مارا۔ کتنی ہی دیر تک وہ بے حس و حرکت پڑا رہا۔ پھر آہستہ سے اس نے چہرہ اوپر اٹھایا۔ اب وہ بالکل پُرسکون تھا۔ طوفان تھم گیا تھا۔ بادل چھٹنے لگے تھے۔ اس کے ہاتھ کو حرکت دی۔ ہارن چیخ اٹھا۔
چند لمحوں بعد گیٹ کھل گیا۔ وہ کار اندر لیتا چلا گیا۔ کار کو گیراج میں بند کر کے وہ داخلی دروازے سے ہال میں رکے بغیر سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔
“صاحب۔ بیگم صا حبہ کھانے پر آپ کا انتظار کر رہی ہیں۔ “سیف بابانے کمرے میں داخل ہو کر کہا۔
“ان سے کہو، مجھے بھوک نہیں۔ وہ کھا لیں۔ “اس نے بجھے بجھے لہجے میں کہا۔
“صاحب۔ وہ تبھی سے بھوکی ہیں جس دن سے آپ نے کھانا چھوڑ رکھا ہے۔ ”
“کیا۔۔۔ ؟تمہارا مطلب ہے انہوں نے پرسوں سے کچھ نہیں کھایا۔ ”
“جی ہاں صاحب۔ ایسا ہی ہے۔ ”
وہ تیزی سے دروازے کی طرف لپکا۔ بیگم صاحبہ سرجھکائے میز پر بیٹھی جانے کیا سوچ رہی تھیں۔ اس کے آنے کی آہٹ سن کر انہوں نے سر اٹھایا۔
“امی۔۔۔ ” وہ بے تابی سے کچھ کہتے کہتے رک گیا۔ سر جھک گیا۔ آہستہ سے آگے بڑھ کر وہ کرسی پر بیٹھ گیا۔ وہ چند لمحوں تک اسے بڑی درد بھری نظروں سے گھورتی رہیں۔
“کھانا کھائیے امی۔ ” پلیٹ سیدھی کرتے ہوئے وہ ان کی نظرو ں کی چبھن سے گھبرا گیا۔
ایک طویل سانس لے کر انہوں نے پلیٹ کی طرف ہاتھ بڑھا دیا۔ دونوں نے خاموشی سے اور بہت کم کھایا۔ سیف نے میز صاف کردی۔ طاہر نے بے قراری سے پہلو بدلا۔ انہوں نے ایک طائرانہ نظر اس پر ڈالی۔
“جاؤ۔ سوجاؤ جا کر۔ رات کافی جا چکی ہے۔ ”
اس نے کچھ کہنے کو منہ کھولا مگر۔۔۔ نظریں ملتے ہی وہ خاموش ہو گیا۔ آہستہ سے اٹھ کر چل دیا۔ پھر رکا۔ ایک نظر پلٹ کر دیکھا۔ وہ اسی کی جانب دیکھ رہی تھیں۔ تب وہ نہ چاہتے ہوئے بھی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
“پگلا کہیں کا۔ “وہ دھیرے سے بڑبڑائیں اور کسی گہری سوچ میں ڈوبتی چلی گئیں۔
* * *

آج پورے سات دن بعد وہ آفس آیا تھا۔ یہ دن اس نے گھر پر اپنے کمرے میں قید رہ کر گزارے تھے۔
وہ کسی گہری سوچ میں گم بیٹھا تھا۔ نادر کب کا ڈاک دے کر جا چکا تھا مگر اس نے اس کی جانب نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھا تھا۔
“ٹر۔ ر۔ رن۔ ٹرن۔ ٹرر۔ رن۔ “ٹیلی فون کی چیختی ہوئی آواز نے اس کے سکوت کا سلسلہ درہم برہم کر دیا۔
“ہیلو۔ “ریسیور کان سے لگاتے ہوئے اس نے تھکی تھکی آواز میں کہا۔
“مارننگ سر۔ “ایک دلکش اور خوبصورت، جانی پہچانی آواز سن کر وہ چونکا۔
“امبر۔۔۔ ” اس کے لرزتے لبوں سے بے ساختہ نکلا۔ پھر دوسرے ہی لمحے وہ سنبھل گیا۔ “ہیلو امبر۔ ” اس نے پُرسکون لہجے میں کہا۔
“کیسے ہیں سر؟”وہ چہکتی ہوئی سی محسوس ہوئی۔
“ٹھیک ہوں۔ وہ مسکرایا۔ “تم کہو۔ سب کچھ ٹھیک ٹھاک رہا ناں۔ ”
” آپ کی عدم موجودگی بڑی بری طرح محسوس کی جاتی رہی سر؟”
“ہوں۔ ” وہ ہولے سے پھر مسکرا دیا۔ “میں تو وہیں تھا امبر۔ تم نے محسوس ہی نہیں کیا۔ ”
“ایسا نہ کہئے سر۔ ” وہ بات سمجھ نہ سکی اور جلدی سے بولی۔
“اور کہو۔ تمہارے “وہ” کیسے ہیں ؟” نہ چاہتے ہوئے بھی وہ شگفتگی سے بولا۔
” سر۔ ” وہ شاید شرما گئی تھی۔ طاہر نے نچلا ہونٹ دانتوں میں داب لیا۔ ” آپ فارغ ہیں آج شام کو؟” کچھ دیر بعداس کی آواز سنائی دی۔
“کیوں۔ کوئی خاص بات؟” اس کا دل دھڑکا۔
” آپ بتائیے ناں سر۔ ” وہ مچلی۔
“کوئی اہم مصروفیت تو نہیں ہے مجھے۔ ” وہ سوچ کر بولا۔
“تو بس۔ آج رات کا کھانا آپ ہمارے ہاں ، ہمارے ساتھ کھا رہے ہیں۔ ”
“مگر امبر۔ ” وہ گڑ بڑا گیا۔
“دیکھئے سر۔ انکار مت کیجئے۔ پہلے ہی آپ بہت زیادتی کر چکے ہیں۔ ”
“تمہارے “وہ” بھی ہوں گے؟”
“ان ہی کا تو حکم ہے۔ ”
“تو اس کا مطلب ہے تم مجبوراً بلا رہی ہو۔ “وہ ہنس پڑا۔ “اگر وہ نہ کہتے تو۔۔۔ ”
“کیسی باتیں کرتے ہیں سر؟” وہ بے چین سی ہو گئی۔ “وہ تو انہوں نے۔۔۔ ”
“اچھا اچھا ٹھیک ہے۔ مذاق کر رہا تھا۔ میں پہنچ جاؤں گا۔ ”
” سات بجے تک پہنچ جائیے گا۔ ”
“اور کون کون انوائٹ ہے؟” اس نے بات اڑا دی۔
” آج کی شام صرف آپ کے نام ہے سر۔ ” سن کر وہ مسکرا دیا۔
“تو پھر آپ آ رہے ہیں ناں ؟”
“حلف اٹھا لوں۔ “طاہر نے کہا تو امبر ہنس دی۔
“اچھا سر۔ شام تک اللہ حافظ۔ “اس نے اسے اپنے سسرالی مکان کا پتہ لکھوا کر کہا۔
“اللہ حافظ۔ “اس نے دھیرے سے کہا۔ امبر نے رابطہ کاٹ دیا مگر وہ کتنی ہی دیر تک ریسیور کان سے لگائے بیٹھا رہا۔
“سر۔ دستخط کر دیں۔ “کلرک نے اس کے سامنے فائل رکھتے ہوئے کہا تو طاہر نے چونک کر اس کی جانب دیکھا۔ ایک طویل سانس لے کر اس نے ریسیور کریڈل پر رکھا اور فائل پر نظریں دوڑانے لگا۔ پھر قلم اٹھایا اور دستخط کر دئیے۔ وہ فائل لئے باہر نکل گیاتواس نے دونوں ہاتھ سر کے پیچھے رکھتے ہوئے کرسی کی پشت سے ٹک کر آنکھیں موند لیں۔
سوچیں۔ لامتناہی سوچیں۔ تنہائی۔ ویران تنہائی اور وہ خود۔
یہی تو تھی اس کی مختصر اور محدود سی دنیا۔
٭
کار آہستگی سے رکی۔ وہ باہر نکلا۔ ادھر ادھر نظریں دوڑائیں۔ چھوٹی سی خوبصورت کالونی تھی۔ ایک ایک دو دو منزلہ عمارتیں بڑی ترتیب اور خوبی کے ساتھ کھڑی کی گئی تھیں۔ ٹی شرٹ اور پتلون میں وہ بیحد سمارٹ لگ رہا تھا۔ سر کے بالوں کو ہاتھ سے سنوارتے ہوئے وہ چل پڑا۔ پانچ چھ مکان چھوڑ کر وہ ایک دو منزلہ خوبصورت اور بالکل نئے مکان کے دروازے پر رک گیا۔
“پروفیسر قمر واصف۔ “اس نے نیم پلیٹ پر نظر دوڑائی اور ڈگریاں پڑھے بغیر ہی کال بیل پر انگلی رکھ دی۔ ایک منٹ سے بھی کم وقت لگا۔ کسی کے تیز تیز قدموں کی آوازیں سنائی دیں اور دروازہ کھل گیا۔
“ایوننگ سر۔ “وہی مخصوص پیارا سا انداز۔ امبر کا ہاتھ ماتھے پر تھا۔
وہ اسے گھور کر رہ گیا۔
” آئیے سر۔ ” امبر کی آنکھوں کی چمک بڑھ گئی۔ وہ چونک پڑا۔ بے ساختہ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی۔
“ایوننگ۔ “دھیرے سے کہہ کر اس نے قدم بڑھا یا۔
وہ اسے لئے ہوئے ڈرائنگ روم میں پہنچی۔ ” آپ بیٹھئے سر۔ میں ان کو خبر کرتی ہوں۔ ” وہ نظریں چرا کر باہر نکل گئی۔
وہ دل کا درد دل میں دبائے صوفے پر بیٹھ گیا۔ سرسری نظر سے سجے سجائے دیدہ زیب اور دلکش ڈرائنگ روم کا جائزہ لے کر وہ جانے کیا سوچنے لگا۔
“السلام علیکم۔ “ایک مردانہ آواز نے اسے چونکا دیا۔ دروازے سے امبر ایک مرد کے ساتھ اندر داخل ہوئی۔
اور۔۔۔ اسے ایک جھٹکا سا لگا۔ سارابدن جھنجنا اٹھا۔ اسے ہر شئے گھومتی ہوئی دکھائی دی۔ حیرت اور اضطراب کے ملے جلے جذبات سے لبریز نظریں پروفیسر قمر کے چہرے پر گڑ سی گئیں۔ وہ حواس میں آیا تو اس وقت جب پروفیسرقمر نے اس کے غیر ارادی طور پر آگے بڑھے ہوئے ہاتھ کو تھام لیا۔ بڑی گرم جوشی تھی اس کے مصافحے میں لیکن۔۔۔ اس کی حیرت زدہ نگاہیں اب بھی نوجوان گورے چٹے پروفیسر قمر کے چیچک زدہ چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔
” مجھے قمر کہتے ہیں۔ “وہ مسکرایا۔ “پروفیسر قمر۔ ”
“میں۔۔۔ طاہر۔۔۔ “۔ اس کی آواز جیسے بہت دور سے آئی۔ امبر سر جھکائے ان دونوں کے قریب کھڑی تھی۔
“بیٹھئے بیٹھئے۔ آپ کھڑے کیوں ہیں ؟”قمر خوش اخلاقی سے بولا تو وہ کچھ سنبھلا۔ سب لوگ آمنے سامنے صوفوں پر بیٹھ گئے۔
“امبر تو ہر وقت آپ ہی کی باتیں کرتی ہے۔ ”
“جی۔ “وہ غیرمحسوس انداز میں مسکرایا۔ “یہ تو اس کی محبت ہے۔ ”
“لگتا ہے آپ اپنے ہر ورکر کے دل و دماغ پر ثبت ہو چکے ہیں۔ شادی کے روز آپ کے سٹاف کے تقریباً تمام لوگ موجود تھے اور کوئی زبان ایسی نہ تھی جو آپ پر اپنی والہانہ عقیدت کے پھول نچھاور نہ کر رہی ہو۔ ”
“جی۔ بس یہ تو ان سب کا پیار ہے۔ ورنہ میں کیا اور میری شخصیت کیا؟”وہ اور کہہ بھی کیا سکتا تھا۔
پھر پروفیسر قمر ہی باتیں کرتا رہا۔ وہ ہوں ہاں کر کے اس کی باتوں سے لاتعلقی پر پردہ ڈالتا رہا اور امبر ناخن کریدتی رہی۔
” ارے بھئی امبر۔ وہ چائے وائے۔ ” کچھ دیر بعد قمر نے امبر کی طرف دیکھ کر کہا۔
“اوہ۔۔۔ میں ابھی پتہ کرتی ہوں۔ “وہ اٹھی اور طاہر کی طرف دیکھ کر باہر نکل گئی۔
“میں ابھی حاضر ہوا طاہر صاحب۔ “قمر بھی اس کے پیچھے ہی اٹھ کر باہر نکل گیا۔
اور۔۔۔ اس کا سلگتا ہوا ذہن جلتے ہوئے دل کی تپش سے بھڑک اٹھا۔ “یہ۔۔۔ یہ کیا تھا؟یہ کیا ہے ؟ کیا یہ تھی امبر کی محبت۔ امبر کی پسند۔ امبر کی زندگی کا ساتھی۔ اس کا شریک حیات۔ کیا یہ ممکن تھا؟ کیا یہ ممکن ہے ؟”اس کا دماغ پھٹنے لگا۔ رگیں تن گئیں۔
” آئیے سر۔ “امبر کمرے میں داخل ہوئی۔
وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کی جلتی ہوئی آنکھیں امبر پر چنگاریاں سی برسانے لگیں۔ “امبر۔۔۔ “اس کی آواز میں بلا کا درد تھا۔
امبر کے معصوم لبوں پر کھیلتی مسکراہٹ کچھ اور گہری ہو گئی۔ وہ اس کے قریب چلی آئی۔ “میں جانتی ہوں سر۔ سمجھتی ہوں۔ لیکن۔۔۔ “وہ ایک پل کو رکی۔ “محبت اسی کا نام ہے سر۔ کہ اسے وفا کی راہوں پر چلتے ہوئے روحوں کے سنگم پر پا لیا جائے۔ جسموں اور چہروں کی خوبصورتی اور حسن فانی چیزیں ہیں۔ اصل حسن تو خوبصورت جذبوں میں پلتا ہے اور اسے دیکھنے کے لئے من کی آنکھوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ آنکھیں تو اکثر دھوکا دے جاتی ہیں جو ہم چہروں پر سجائے پھر تے ہیں۔ جیسے آپ نے فریب کھایا۔ “وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہتی رہی۔ وہ خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔ تکتا رہا۔
“میں جانتی ہوں سر۔ آپ کے ذہن میں کتنے ہی سوال چکرا رہے ہیں۔ لیکن۔۔۔ ” وہ بڑے پُرسکون اور ٹھہرے ہوئے لہجے میں پھر گویا ہوئی۔ “لیکن یہ سوال آپ کی سوچ کے کسی گوشے میں پیدا نہیں ہونا چاہئیں سر۔ اس لئے کہ میں نے جو کچھ پایا، جو کچھ سیکھا، آپ سے پایا، آپ سے سیکھا۔ سر۔ قمر کا چہرہ داغدار ہوا تب ہمیں نئے نئے پیمان باندھے ہوئے بہت تھوڑے دن ہوئے تھے لیکن ان کے لاکھ انکار، دور ہونے کی التجا، بھول جانے کی فریاد کے باوجود میں نے ان کو سنبھال لیا۔ اس لئے کہ اگر یہی حادثہ ہماری شادی کے بعد پیش آتا تب کیا ہوتا؟ کیا اس وقت بھی میں ان کا ساتھ چھوڑ دیتی۔ ضرور چھوڑ دیتی سر۔ ضرور چھوڑ دیتی، اگر میں ان سے محبت نہ کرتی ہوتی مگر ہم نے تو ٹوٹ کر چاہا تھا ایک دوسرے کو۔ میں اگر ان کی بات مانتے ہوئے ان سے ناطہ توڑ لیتی تو جانتے ہیں کیا ہوتا؟وہ خود کشی کر لیتی۔ اس لئے کہ کسی سے دور ہونے، دور رہنے کا فیصلہ کر لینا بہت آسان ہے مگر اسے نبھانے کے لئے پتھر بن جانا پڑتا ہے سر۔ اور انسان پتھر بن جائے تو اس میں اور کسی لاش میں کوئی فرق نہیں رہتا۔ محبت کے مارے ناکام ہو جائیں یا جان بوجھ کر محرومی کو گلے لگا لیں تو بہت کم ایسے ہوں گے جو زندگی کی لاش ارمانوں کی خارزار راہوں پر گھسیٹنے پر تیار ہوں۔ جیسے آپ۔۔۔ مگر آپ تو سب سے مختلف ہیں۔ انسانوں سے مختلف ہیں۔ بلند ہیں۔ اس لئے کہ آپ دیوتا ہیں۔ خلوص کی۔ وفا کے دیوتا۔ ” وہ ایک لمحے کو رکی، پھر کہا۔ “اور یہی سوچ کر میں نے قمر کو اپنا لیا۔ قمر جو گہنا گیا تھا مگر تھا تو قمر۔ شکستہ آئینے تو ویسے بھی دل والوں کے لئے انمول ہوتے ہیں سر۔ ان میں اپنے چہرے ان کو بڑے صاف و شفاف دکھائی دیتے ہیں۔ ”
وہ خاموش ہو گئی۔
طاہر کے لبوں پر لرزتی مسکراہٹ کسی مزار پر جلتے دیے کی مانند تھرتھرا اٹھی۔
“میں نے ٹھیک کیا ناں سر؟” عجب معصومیت سے اس کے چہرے کو تکتے ہوئے امبر نے پوچھا۔
دھیرے سے طاہر نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ مسکراہٹ اور گہری ہو گئی۔
“سر۔ “وہ مسکرائی۔ ہونٹ لرزے اور اس کی پلکوں کے گوشے نم ہو گئے۔ ” میں جانتی تھی آپ میرے فیصلے پر اثبات کی مہر ثبت کرتے ہوئے ایک پل کی دیر نہیں کریں گے۔ میں ٹھیک کہتی ہوں سر۔ آپ دیوتا۔۔۔ ”
اور طاہر نے اس کا فقرہ پورا ہونے سے قبل ہی نفی میں سر ہلا دیا۔ پھر بڑے پیار سی، آہستگی سے اس نے کہا۔ “تم۔۔۔ تم دیوی ہو۔ “اس کی تھرائی ہوئی آواز ابھری۔
اور امبر نم آنکھوں کے ساتھ مسکردی۔ طاہر کا جی چاہا آگے بڑھ کر ان انمول موتیوں کو اپنے ہونٹوں سے چن لے۔ وفا کی اس دیوی کی پیشانی پر اپنی محبت کی مہر ثبت کر دے۔ وہ جو اسے دیوتا کہتی تھی خود کتنی عظیم تھی۔ اسے محبت کا مفہوم معلوم تھا۔ اسے محبت نبھانا آتا تھا۔
“چلئے سر۔ ” امبر کی آواز میں نئی زندگی تھی۔
“چلو۔ “وہ بھی اک نئے انداز سے مسکرایا۔ پُرسکون ، با وقار اور والہانہ انداز میں۔ اس کے دل کی ساری جلن شبنم میں ڈھل گئی تھی۔ امبر کو نہ پا سکنے کا کوئی پچھتاوا، کوئی دکھ، کوئی غم نہیں رہا تھا۔ ہر پچھتاوا، ہر دکھ، ہر غم اس حسرت میں ڈھل گیا تھا کہ کاش، قمر کی جگہ وہ خود ہوتا۔
وہ دونوں کمرے سے نکلے اور کاریڈور میں چل پڑی۔ کھڑکی کے پاس کھڑا قمر، گہنایا ہوا قمر، پلکوں پر ستارے سجائے مسکرا رہا تھا، فخر سے۔ پیار سے۔ ناز سے۔ جو سب کا سب امبر کے لئے تھا۔
٭
آفس کو کسی نو عروس کی طرح سجا یا گیا تھا۔
سب کے چہروں پر ایک طائرانہ نظر ڈال کر وہ مسکرایا اور اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا۔
“میرا خیال ہے۔ آپ سب لوگ بری طرح تھک چکے ہیں۔ ”
“اب بھی کوئی شک ہے سر۔ “نجمہ نے بے تکلفی سے کہا۔ اور وہ ہنس پڑا۔
“بھئی تم لوگوں کی لیڈر کو پارٹی دینا کوئی معمولی بات تو ہے نہیں۔ ”
“کتنے بجے آئیں گے وہ لوگ سر؟”کلرک اختر نے پوچھا۔
“بھئی اس وقت چار بجے ہیں۔ سات بجے کا وقت طے ہے ان سے۔ ”
“اوہ۔ ابھی تین گھنٹے باقی ہیں۔ ” انجم جیسے تڑ پ گئی۔ “انتظار کا یہ وقت کیسے کٹے گا؟”
“اچھا ایسا کرتے ہیں کسی انگلش پکچر پر چلتے ہیں۔ انٹرول کے بعد پکچر شروع ہوتی ہے اور ساڑھے چھ تک ہم با آسانی واپس آ سکتے ہیں۔ کیا خیال ہے؟”
سب نے بخوشی رضا مندی ظاہر کر دی۔ طاہر نے نادر کو دو بڑے نوٹ دے کر سینما پہنچنے کو کہا کہ وہ سب کی ٹکٹیں لے کر ان کا انتظار کرے۔ سب لوگ باری باری منہ ہاتھ دھو کر دس پندرہ منٹ میں تیار ہو کر آفس کی گاڑیوں میں لد کر چل دئیے۔
پکچر چھ بجے ختم ہو گئی۔ ان کی بوریت اور تھکن کافی حد تک دور ہو گئی کیونکہ پکچر اچھی تھی۔ سوا چھ بجے وہ واپس آفس میں موجود تھی۔
“اچھا بھئی۔ ایک خاص بات۔ ” وہ سب بیٹھ گئے تو ایک دم طاہر سنجیدہ ہو گیا۔ “تم میں سے کس کس نے قمر صاحب کو دیکھا ہے؟”
“ہم سب ہی نے دیکھا ہے سر۔ ہم آپ کا مطلب سمجھتے ہیں۔ “انجم جلدی سے بولی۔ “ہم انہیں ہرگز ایسی کوئی بات نہیں کہیں گے، جس سے معلوم ہو کہ انہوں نے چہرے پر زرہ بکتر پہن رکھی ہے۔ “اور سب کے ساتھ وہ بھی بے ساختہ ہنس دیا۔
“بس۔ “وہ ہاتھ اٹھا کر بولا۔ “میں اس بات کو ہرگز برداشت نہیں کروں گا کہ وہ کسی بھی طرح اپنی انسلٹ محسوس کریں۔ ”
اورسب نے برا منائے بغیر وعدہ کر لیا۔
پھر سات بج گئے مگر امبر اور قمر نہ پہنچے۔ ساڑھے سات ہو گئے۔ ان دونوں کا اب بھی کوئی پتہ نہ تھا۔ طاہر نے دو تین مرتبہ گھر پر فون کیا مگر کسی نے ریسیور نہ اٹھایا۔ یہ ان کے روانہ ہو جانے کی نشانی تھی۔ لیکن وہ اب تک پہنچے کیوں نہیں ؟سب کے ذہنوں میں ایک ہی سوال گردش کر رہا تھا۔
پونے آٹھ بجے باہر کسی گاڑی کے رکنے کی آواز سنائی دی۔
“سر۔ وہ آ گئے۔ “نادر کمرے میں داخل ہوا۔
سب لوگ بیتابی سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ وہ ابھی آفس کا لان پار کر رہے تھے کہ اس نے آفس کے دروازے پر ان کو ریسیو کیا۔
“معاف کیجئے گا۔ ہمیں کچھ دیر ہو گئی۔ ” قمر اس سے مصافحہ کرتے ہوئے معذرت سے بولا۔
“کوئی بات نہیں۔ یہ ان کی پرانی عادت ہے۔ “وہ کسی گڑیا کی مانند سجی امبر کی طرف دزدیدہ نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا۔
“نائٹ سر۔ ” وہی مخصوص سا ادھورے سلام کا انداز۔ اور کھلتی ہوئی مسکراہٹ۔
“نائٹ۔ ” وہ بھی مسکرادیا۔
تمام لوگوں سے قمر کا فرداً فرداً تعارف پہلے سے تھا۔ رضیہ، انجم اور نجمہ، امبر کو گھیرے کھڑی تھیں اور وہ ان کی باتوں سے کٹی جا رہی تھی۔ شرم کے مارے پانی پانی ہو رہی تھی مگر آج وہ اسے معاف کرنے کے موڈ میں نہ تھیں۔ مرد حضرات لڑکیوں سے پرے صوفوں پر جم گئے۔ دلچسپ باتوں ، قہقہوں ، مسکراہٹوں کا خوشگوار سلسلہ چھڑ گیا۔ آج وہ بے تحاشا ہنس رہا تھا۔ مسکرارہا تھا۔ قہقہے لگا رہا تھا۔ بات بے بات کھلا جا رہا تھا۔ نجانے کیوں ؟
کچھ دیر اسی حسین فضا کا تسلط رہا۔ پھر وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ ” میرا خیال ہے اب دیر کرنا مناسب نہیں۔ کیوں قمر صاحب؟”اس نے پوچھا۔
“جیسے آپ کی مرضی۔ ” وہ کچھ بھی نہ سمجھا۔
وہ مسکرا کر ایک طرف سجی سجائے بڑی سی میز کی جانب بڑھ گیا اور اس پر پڑا خوبصورت کپڑا کھینچ لیا۔ سب لوگ اس کے گرد جمع ہو گئی۔ اس نے مسکراتے ہوئے چھری اٹھائی اور پاس کھڑی امبر کی طرف بڑھا دی۔ اس نے بڑے دل نشیں انداز میں قمر کی جانب دیکھا اور بڑے سے کیک کے ٹکڑے ہونے لگی۔
تالیاں گونجیں ، چھینا جھپٹی ہوئی اور بہاریں کنگنا اٹھیں۔ کھانے کی ہر ڈش نے ان سے بے پناہ داد وصول کی۔ پھر کچھ دیر بعد چائے اور کافی وغیرہ سے شغل کیا گیا۔ تب وہ یادگار لمحہ بھی آن پہنچا، جب وہ میز کے پاس کھڑا، بڑے دلربایانہ انداز سے ان سب کو دیکھ رہا تھا، جو اس کے سامنے مسکراہٹوں کے پھول لئے کھڑے تھی۔ چند لمحے گزر گئی۔ پھر آہستہ سے اس کے لبوں کو حرکت ہوئی۔
“ساتھیو!” وہ رکا۔ اس کی نظریں امبر کی نظروں سے ٹکرائیں اور جھک گئیں۔ “مجھے صرف اتنا کہنا ہے کہ یہ تقریب جو ہم نے اپنے آفس کی روح رواں ، اپنی ایک بہترین دوست، رفیق اور ساتھی اور آج سے مکمل طور پر پرائی ہو جانے والی ہستی کے اعزاز میں منعقد کی ہے اور جسے آپ سے متعارف کرانے کی، میں ضرورت نہیں سمجھتا۔ ” وہ ذرا ٹھہرا۔ پھر بولا۔ “مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں بلکہ میں فخر سے اس بات سے آپ سب لوگوں کو آگاہ کروں گا کہ امبر۔۔۔ “اس کی نظریں امبر کے مضطرب چہرے پر پھیل گئیں۔ ” اس ادارے کی وہ ممبر ہے جس کی محبت، رفاقت، پیار اور دردمندی سے جدائی پر دل چاہتا ہے کہ میں جی بھر کر آنسو بہاؤں۔ دل کھول کر روؤں اور اس کے درخشاں مستقبل کی جھلک دیکھ کر، میرا جی چاہتا ہے کہ میں اپنی پلکوں پر چمکنے والے ہر آبدار موتی کو اس کی مسرتوں ، آنے والی خوشیوں کے قدموں پر نچھاور کر دوں۔ ” اس کے لرزتے لبوں کی مسکراہٹ کچھ اور گہری ہو گئی۔
“دوستو! غم ہر انسان کی زندگی میں آتے ہیں۔ کب، کیسے، کس شکل میں آئیں گے؟ یہ کوئی نہیں کہہ سکتا۔ ایک دکھ کا پہاڑ میرے وجود پر بھی ٹوٹا تھا۔ حسرتوں کا ایک آتش فشاں میری زندگی میں بھی پھٹا تھا اور میرا خیال ہے اس سے آپ بھی بخوبی واقف ہیں۔”
اس نے ایک طائرانہ نظر ان بتوں پر ڈالی جو سانس بھی اتنی آہستگی سے لے رہے تھے کہ سکوت خود پر بوجھ بن گیا تھا۔ پھر اس کی گمبھیر آواز نے اس بوجھ کو سرکانا شروع کیا۔
“میں اس دکھ، اس غم، اس سزائے بے جرم کو برداشت کر سکتا تھا نہ کر سکا۔ زندگی مجھ پر بوجھ بن گئی۔ ہر سانس میرے لئے دائرہ حیات تنگ کرتی چلی گئی۔ دنیا اور اس کی ہر رنگینی میرے لئے تاریک رات کی پرچھائیں بن کر رہ گئی۔ مجھے روشنی اور اندھیرے ایک ہی ناگن کے دو روپ دکھائی دینے لگی۔ میں زندہ ہوتے ہوئے بھی مُردوں کی طرح بے حس ہوتا چلا گیا۔ آپ سب نے میرے دکھ کو محسوس کیا۔ میرے غم کی شدت اور میرے زخم کی ٹیس اپنے دلوں میں محسوس کی لیکن ایک ہستی آپ میں ایسی بھی تھی جو آپ سب پر آپ سب کے احساس پر بازی لے گئی۔ جس نے مجھے دلدل میں دھنستے دھنستے، کنارے پر کھینچ لیا۔ جو مجھے گرداب سے پھر ساحل پر لے آئی۔ جس کی زبان سے نکلے ہوئے ہر لفظ نے میرے زخم پر مرہم رکھ دیا۔ جس کی دلجوئی نے میرے دکھ کی جڑیں کاٹیں۔ جس کی محبت، پیار اور عظمت نے نہ صرف مجھے دوبارہ زندگی دی بلکہ زندگی کی امانت، زندگی کو لوٹا دینے کی کامیاب کوشش کی۔ وہ۔۔۔ وہ امبر تھی۔ “بے ساختہ اس کی پلکوں کے گوشے نم ہوئے۔ تقریباً سب کا یہی حال تھا۔ کوئی دل ایسا نہ تھا جو شدت جذبات سے بوجھل نہ ہو رہا ہو۔ کوئی چہرہ ایسا نہ تھا جو فرطِ احساس سے تپ نہ رہا ہو اور امبر کے رخساروں پر تو شبنم ٹپکی پڑنے کو بیتاب تھی۔ طاہر دھندلائی ہوئی نظروں سے ان سب کو دیکھ کر اپنی کپکپاتی آواز پر حتی الامکان قابو پاتے ہوئے پھر گویا ہوا۔
” آپ سب نے امبر کے ساتھ تعاون کیا اور مجھے اپنی محبتوں کی آغوش میں چھپا لیا۔ آپ، جو بیگانے ہوتے ہوئے بھی میرے اپنے بن گئے، آپ، جو میرے اپنے ہیں لیکن آپ کی قسم۔ اگر امبر نہ ہوتی تو شاید آج میں بھی نہ ہوتا۔ ”
“سر”۔ امبر نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا اور قمر کے شانے پر سر رکھ دیا۔ اس نے پیار سے اس کا شانہ تھپکا۔ طاہر نے پل بھر کو امبر کی طرف دیکھا اور مسکرا دیا۔
“لیکن کتنی بڑی زیادتی ہے میرے ساتھ۔ کتنی بڑی نا انصافی ہے میرے ساتھ۔ “وہ بھرائے ہوئے انداز میں ہنسا۔ “کہ یہ دیوی مجھے دیوتا کہتی ہے۔ آخر کیوں ؟” اس نے پیار بھرے بھیگے بھیگے سوالیہ انداز میں ان سب کو دیکھا۔ “کیا صرف اس لئے کہ میں نے چند ضرورت مندوں کو بدحالی کے زمانے میں پناہ دی۔ ان کو کبھی ملازم نہیں سمجھا۔ اپنا جان کر ان سے پیار کیا۔ ان کی ضروریات کا پاس کرتا ہوں۔ کیا ایسے معمولی کام کرنے والے ہر انسان کو دیوتا کہا جاتا ہے ؟ کیا میرے لئے یہ نام مناسب ہے؟ ہر گز نہیں۔ قطعی نہیں۔ یہ تو آپ کی محبت ہے۔ عقیدت ہے۔ پیار ہے۔ ورنہ میں اور دیوتا؟ کوئی جوڑ بھی ہے میرا اور اس لفظ کا۔ ”
وہ طاہر کے مسکراتے ہوئے چہرے کو خاموشی سے تکتے رہے۔
“سر”۔ تب دھیرے سے امبر ایک قدم آگے بڑھ آئی۔ قمر کے لبوں پر بڑی پیاری سی مسکراہٹ کھیلنے لگی۔ طاہر اس کی جانب دیکھتے ہوئے بے ساختہ ہنس دیا۔
” آپ کی ہر بات درست۔ ہر لفظ بجا۔۔۔ لیکن مجھے بتائیے سر”۔ وہ پل بھر کو اس کی جانب دیکھ کر رکی۔ اور پھر کسی داستان کی طرح کھلتی چلی گئی۔
“ایک ماں کا جگر گوشہ، ایک مجبور لڑکی کی بہن، صرف اس لئے دلہن نہ بن سکے کہ اس کے تن پر سجا ہوا سرخ جوڑا، جہیز کی لالی سے محروم ہے۔ اس کی رخصتی صرف اس لئے نہ ہو سکے کہ اس کے ماتھے پر سونے کا جھومر اور بدن پر زرتار لباس نہیں ہے۔ وہ ساری زندگی ماں باپ کے گھر صرف اس لئے بیٹھی رہے کہ وہ سسرال جاتے وقت اپنے ساتھ ذاتی مکان کے کاغذات، نقد روپیہ اور کار نہیں لے جا سکتی۔ اس وقت آسمان سے ایک فرشتہ اترے۔ ”
“امبر۔۔ ” وہ اضطراب اور گھبراہٹ کے ملے جلے تاثرات سے گڑبڑا گیا مگر وہ اس کی پروا کئے بغیر کہتی رہی۔
“وہ انسان۔ وہ فرشتہ نما انسان اس لڑکی کو سونے میں پیلا کر دے۔ اس کے سرخ جوڑے میں جہیز کی لالی بھی بھر دے۔ وہ سسرال جائے تو اس کے ساتھ ذاتی مکان کے کاغذات بھی ہوں اور اس کا دولہا اسی کی کار میں سوار ہو تو اس معصوم اور بھولی بھالی دلہن کے بوڑھے والدین اور اس کی بہن اس انسان کو دیوتا نہ کہیں ، تو کیا کہیں سر۔ اسے دل ہی دل میں پوجیں نہیں تو کیا کریں سر۔ ”
“امبر۔ چپ ہو جاؤ”۔ وہ جیسے بھرے مجمعے میں بے ستر ہو گیا۔
“پھر کسی کا بھائی اس کی جیب سے تعلیم حاصل کرے۔ کسی کی بیوہ بہن اس کے خرچے پر زندگی گزارے۔ کسی کی بیٹی اس کے احسان کے دوش پر پرائے گھر جا کر راج کرے۔ کسی کا بیٹا اس کے زیر سایہ روزی کمائے تو ہم اسے دیوتا کیوں نہ کہیں سر؟ بولئے۔ جواب دیجئے۔ ” وہ گلو گیر آواز میں اس سے سوال کر بیٹھی۔
وہ سر جھکائے کسی مجرم کی طرف خاموش کھڑا رہا۔ جیسے اس پر لگایا جانے والا ہر الزام صحیح ہو۔ سچ ہو۔ حقیقت یہی تھی کہ امبر کی چھوٹی بہن کی شادی پر اس نے پانی کی طرح روپیہ بہایا تھا۔ آفس کے تقریباً تمام لوگوں پر کسی نہ کسی صورت میں اس کی نوازشات جاری رہتی تھیں۔ کسی کا بیٹا اس کے خرچے پر پڑھ رہا تھا کسی کی بیٹی کے لئے وہ ہر ماہ معقول رقم دیتا تھا۔ کسی کو خاموشی سے بلینک چیک تھما دیا جاتا کہ وہ اس سے اپنی بیٹی کے جہیز کا سامان خرید سکے۔ کسی کے بوڑھے والدین کی بیماری اس کی ادا کی گئی فیس سے صحت میں بدل رہی تھی۔ کسی کا بھائی اس کی سفارش پر کہیں نہ کہیں نوکری حاصل کر چکا تھا اور کسی کی بہن بیوگی کے دن اس کے وظیفے سے با آسانی کاٹ رہی تھی۔ کتنے ہی رفاہی اداروں میں وہ ماہانہ دیتا تھا۔ کتنے ہی فرضی ناموں سے کئی ادارے اس نے فلاحی کاموں کے لئے کھول رکھے تھے، جہاں ان گنت لوگ فیض یاب ہو رہے تھے۔ بیکاری کے مارے روزگار پا رہے تھے۔ ضرورت مند اپنے خالی دامن مرادوں سے بھر رہے تھے۔ یہ سلسلہ دن بدن بڑھتا جا رہا تھا۔ اور ان حقیقتوں سے اس کے علاوہ صرف امبر واقف تھی۔ اس کے اور امبر کے درمیان یہ طے تھا کہ زندگی کے آخری سانس تک، حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں ، وہ دونوں کہیں بھی رہیں ، ان رفاہی کاموں کی منتظم صرف اور صرف امبر رہے گی۔ ان نیکیوں کے لئے کروڑوں کے بینک اکاؤنٹ کو صرف وہ آپریٹ کرے گی۔ جیسے اور جہاں چاہے اس پیسے کو خرچ کرے گی۔ طاہر نے اپنے بزنس کے ایک خاص پراجیکٹ کی ساری آمدنی براہ راست THE PROUD نامی فلاحی ادارے کے لئے مختص کر رکھی تھی اور یہ آمدنی براہِراست اس ادارے کے اکاؤنٹ میں جاتی تھی، جس کے تحت یہ سب نیکیاں انجام پاتی تھیں۔ بیگم صاحبہ تک کواس نے اس کی ہوا نہ لگنے دی تھی۔۔۔ لیکن آج امبر نے علی الاعلان اس کا پول کھول دیا تھا۔ جو نہیں جانتا تھا اسے بھی علم ہو گیا تھا کہ بظاہر انسان نظر آنے ولا یہ انسان اندر سے کس مقام پر کھڑا ہے؟کتنے ہاتھ اس کے حق میں دعاؤں کے لئے اٹھتے ہیں ؟ کتنے دل اس کی زندگی اور خیر خواہی کے لئے دھڑکتے ہیں ؟ کتنی آنکھیں اس کے نام پر تشکر آمیز آنسوؤں سے لبریز ہو جاتی ہیں اور کتنی زندگیوں کی خوشیاں ، مسرتیں اور مسکراہٹیں اس کے اشاروں پر رقصاں ہیں؟
وہ منہ پھیرے، سر جھکائے میز کا سہارا لئے کھڑا تھا اور وہ سب خاموش، بے جان بت بنے اسے دیکھ رہے تھے۔۔۔ کتنی ہی دیر بعد وہ بڑی آہستگی سے ان کی طرف پلٹا۔ اس کے چہرے پر اداسی اور یاسیت کے بادل امڈے چلے آ رہے تھے۔ وہ سراپاخزاں لگ رہا تھا۔ بکھرا ہوا، مرجھایا ہوا گلاب نظر آ رہا تھا۔
“یہ تم نے کیا کیا امبر؟” وہ بڑبڑایا۔ پھر نجانے کیا ہوا کہ ایک دم بادل چھٹ گئے۔ گلاب مہک اٹھا۔ وہ مسکرا دیا تھا، بڑی معصومیت سی۔ امبر کا جی چاہا، بھاگ کر اس دیوتا کے چرنوں میں جا گرے اور یوں پگھل جائے جیسے شمع کا یہ حق صرف اسی کو حاصل ہے مگر اس کے لب صرف کپکپا کر رہ گئے، آواز نہ نکلی۔ اس کا جسم صرف لرزا، حرکت نہ کر سکا۔
“مجھے کوئی گلہ نہیں امبر کہ تم نے مجھے، اپنے دیوتا کو پھولوں کے پہاڑ تلے دفن کر کے رکھ دیا۔ کچھ اس طرح کہ اب اگر میں ان پھولوں کے بوجھ سے آزاد بھی ہونا چاہوں تو نہیں ہو سکتا۔ میں تم سے وعدہ کرتا ہوں امبر کہ ان پھولوں کی مہک کو ہمیشہ تازہ رکھوں گا۔ انہیں مرجھانے نہیں دوں گا۔ ”
بے اختیار امبر کی آنکھیں چھلک گئیں۔ “سر۔ میں نے آپ کو دیوتا کہہ کر غلطی نہیں کی۔ “وہ سب لوگوں کی طرف پلٹی۔ “کیا میں نے غلط کہا ؟”
ان سب کے سر جھک گئی۔ اقرار میں۔ اثبات میں۔ یوں لگتا تھا۔ جیسے ایک مندر میں دیوتا کے حضور ان گنت چراغ سرجھکائے کھڑے لو دے رہے ہوں۔ احسان و وفا کے مندر میں۔ پیار کے دیوتا کے حضور، محبت کے پجاری سرنگوں کھڑے تھے۔
تب قمر دھیرے دھیرے چلتا ہوا اس کے قریب چلا آیا۔ ” آپ بہت خوش قسمت ہیں طاہر۔ ” وہ اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر بولا۔
وہ جواب میں ہولے سے اثبات میں سر ہلا کر رہ گیا۔ کچھ کہہ نہ سکا۔ اس نے دیکھا، سارے ہی چہرے پُرسکون ہوتے چلے گئے۔ اب مسکراہٹوں میں پہلے کی نسبت زیادہ تازگی تھی۔ باتوں میں زیادہ شگفتگی اور نظروں میں زیادہ والہانہ پن تھا۔
پھر وہ فرقتوں کا پیامبر لمحہ بھی آن پہنچا جس کے لئے یہ سارا اہتمام کیا گیا تھا۔ چہرے ایک بار پھر اداس ہو گئی۔ جذبات افسردہ ہونے لگی۔ دل بوجھل ہوتے چلے گئے۔
“امبر۔ ” طاہر اس کی اور قمر کی جانب دیکھ کر مسکرایا۔ وہ دونوں اسے استفہامیہ انداز میں دیکھنے لگی۔ “تمہارے دوستوں نے تم لوگوں کو رخصت کرتے وقت اپنے جذبات تحفوں میں چھپا کر پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور میرا خیال ہے، اب وہ یادگار وقت آ چکا ہے جب ہمیں اپنے ان جذبوں کا اظہار کر دینا چاہئے۔ ”
اس نے دوسرے لوگوں کی طرف دیکھا اور وہ اس کا اشارہ سمجھ کر کمرے کے ایک گوشے کی جانب بڑھ گئے۔ چند لمحوں بعد وہ لوٹے تو امبر اور قمر کے سامنے گفٹ پیکس کا ڈھیر لگ گیا۔ وہ پرے کھڑا مسکراتا رہا۔ آخر میں وہ آگے بڑھا اور ایک سفید بڑا لفافہ امبر کے ہاتھ میں تھما دیا۔
“اس میں کیا ہے سر؟” وہ حیرت سے بولی۔
“اس میں۔۔۔ ” وہ دھیرے سے مسکرایا۔ ” اس میں ایک چھوٹا سا گزارش نامہ ہے امبر جس کے تحت آج سے تم THE PROUD کی تا حیات چیئر پرسن ہو۔ ”
“سر۔۔۔ ” وہ سُن ہو گئی۔
“کچھ مت کہو امبر۔ یہ تمہارا وہ حق ہے جو مجھ پر قرض تھا۔ آج کے بعد بھی تمام معاملات ویسے ہی چلتے رہیں گے جیسے اب تک چلتے آ رہے تھے۔ صرف ایک شق ختم ہو جائے گی اور وہ یہ کہ آج کے بعد کسی چیک پر، کسی دستاویز پر تمہیں میرے دستخط درکار نہیں ہوں گی۔ اب تم خود فائنل اتھارٹی ہو۔ بس ایک بات یاد رکھنا کہ ہم دونوں کے درمیان جو اس کام کو نسل در نسل جاری رکھنے کا عہد ہوا تھا اس میں کوئی دراڑ نہیں آنی چاہئے۔ کوئی تعطل نہیں آنا چاہئے۔ THE PROUDکو آسمانِ خیر پر ہمیشہ دمکتا رہنا چاہئے۔ ہم رہیں نہ رہیں ، اس عہد کو زندہ رہنا چاہئے۔ میں تمہاری شادی پر تمہیں اس ذمے داری کے تحفے کے سوا کچھ نہیں دے سکتا۔ ”
“سر۔۔۔ ” امبر نے لفافے کو چوم کر پلکوں پر رکھ لیا۔ اس کی آنکھوں سے چھلکتی شبنم نے اس عہد نامے پر پاکیزگی کی مہر ثبت کر دی۔
“قمر صاحب۔ ” طاہر نے پروفیسر قمر کی جانب دیکھا اور اس کا ہاتھ تھام لیا۔ ” میرا خیال ہے آپ کو اس پر تو کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ یہ کوئی جاب نہیں ہے۔ ”
“قطعاً نہیں طاہر صاحب۔ یہ تو ایک سعادت ہے جس میں مَیں خود امبر کا ساتھ دینا چاہوں گا۔ ” وہ بڑے جاندار انداز میں مسکرایا۔
“شکریہ۔ ” طاہر نے اس کا ہاتھ دبایا اور چھوڑ دیا۔ پھر اس نے نادر کو اشارہ کیا۔ وہ تحائف دو تین پھیروں میں باہر طاہر کی کار میں رکھ آیا۔
“امبر۔ ایک آخری بات۔ ” طاہر نے اپنی کار کی چابی اس کے ہاتھ پر رکھ دی۔ “یہ تمہاری کار کی چابی ہے۔ ”
“یہ تو آپ کی۔۔۔ ” امبر نے کہنا چاہا۔
“اب یہ کار تمہاری ہے۔ THE PROUDکی چیئر پرسن کو ادارے کی جانب سے کار اور رہائش کی سہولت دی جائے، یہ ادارے کے چارٹر میں طے ہے۔ اس سفید لفافے میں تمہاری نئی رہائش کے کاغذات بھی موجود ہیں۔ انکار مت کرنا کہ یہ تمہارا حق ہے۔”
“اوکے سر۔ ” امبر بے اختیار مسکرا دی۔ ” میں بار بار حیرت اور انکار کے چکر میں پڑ کر کیوں آپ کا دل دکھاؤں۔ آپ کا حکم سر آنکھوں پر۔ ”
“دیٹس گڈ۔ ” طاہر بھی مسکرا دیا۔
“نائٹ سر”۔ کار میں بیٹھ کر امبر نے لرزتے ہاتھ کو پیشانی تک لے جا کر اسی مخصوص انداز میں کہا اور بے ساختہ اس کی آنکھیں بھر آئیں۔
“نائٹ امبر۔ “وہ دل گرفتہ لہجے میں مسکراتے ہوئے بولا۔
پھر دعاؤں ، آنسوؤں ، محبتوں اور بے پناہ بوجھل جذبات کی چھاؤں میں وہ دونوں رخصت ہو گئے۔
ویران ویران آفس کی ہر چیز اداس تھی۔ مندر سونا ہو گیا تھا، دیوتا کے دل کی طرح۔ دیوتا کی داسی جا چکی تھی ناں۔ شاید اسی لئے !
* * *

طاہر۔ ” بیگم صاحبہ کی آواز نے سیڑھیوں کی جانب جاتے ہوئے اس کے قدم روک لئے۔
“جی امی۔ ” وہ ان کی طرف لوٹ آیا۔
“بیٹھو۔ ” انہوں نے آنکھ سے اشارہ کیا۔ وہ ان کے سامنے صوفے پر بیٹھ گیا۔ “بہت تھکے تھکے سے لگ رہے ہو۔ ” انہوں نے غور سے اس کا چہرہ دیکھا۔
“کام بہت تھا آج آفس میں۔ ” اس نے گردن پیچھے ڈال دی۔
چند لمحے خاموشی میں گزر گئی۔ “جاؤ۔ فریش ہو جاؤ۔ کھانے کی میز پر بات کریں گے۔ ” بیگم صاحبہ کی آواز میں بیحد نرمی تھی۔
“کوئی خاص بات امی؟” اس نے دھیرے سے پوچھا اور سیدھا ہو بیٹھا۔
“ایسی بھی خاص نہیں مگر ضروری ہے۔ ”
“تو ابھی کر لیجئے۔ میں بھوک محسوس نہیں کر رہا۔ ”
“تم جانتے ہو، ابھی تک ہم نے اپنی عادت نہیں بدلی۔ تم نہیں کھاؤ گے تو ہم بھی بھوکے سوجائیں گے۔ ”
“یہ زیادتی ہے امی۔ ” وہ انہیں شکوے بھری نظروں سے دیکھ کر بولا۔ ” کسی وقت مجبوری بھی ہوتی ہے، میں باہر کھانا کھا کر آؤں۔۔۔ ”
“تب ہم نے کبھی اصرار نہیں کیا طاہر۔۔۔ مگر آج تم کھا کر نہیں آئے۔ ”
“امی۔۔۔ ” وہ مسکرایا۔ ” آپ سے جیت نہیں سکتا میں۔ ” وہ اٹھ گیا۔ ” ٹھیک ہے۔ میں فریش ہو کر آتا ہوں۔ ” اس نے اپنا بریف کیس اٹھایا اور سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔
آدھ گھنٹے بعد دونوں ماں بیٹا کھانے سے فارغ ہو چکے تھے اور اب کافی کا دور چل رہا تھا۔
“جی امی۔ ” اس نے چسکی لے کر مگ میز پر رکھا۔ ” اب کہئے، کیا بات تھی؟”
“بات نئی ہے نہ بحث طلب طاہر۔ بس تمہاری طرف سے کسی پیشرفت کے منتظر ہیں ہم۔ ”
طاہر نے بے اختیار سر جھکا لیا۔ وہ سمجھ گیا کہ ان کا اشارہ کس طرف ہے۔ دونوں ہاتھ سینے پر باندھ کر اس نے آنکھیں موند لیں اور جیسے کسی گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ بیگم صاحبہ اسے خاموشی سے تکتی رہیں اور کافی کا کپ خالی کرتی رہیں۔
“جیومیٹری کا مسئلہ حل کر رہے ہو بیٹے؟” کافی دیر گزر گئی تو وہ بول اٹھیں۔
“نہیں امی۔ ” بیساختہ وہ ہنسا اور آنکھیں کھول دیں۔ ” لیکن یہ میرے لئے مسئلہ فیثا غورث سے کم بھی نہیں ہے۔ ”
“تم زندگی کو اپنے لئے اتنا مشکل کیوں بنا رہے ہو طاہر۔ ” بیگم صاحبہ نے اسے محبت سے دیکھا۔ “بیٹے۔ زندگی اللہ کی نعمت ہے۔ اسے اس طرح ضائع مت کرو کہ یہ کفران بن جائے۔ زندگی کی خوشیوں پر تمہارا جتنا حق ہے ا تنا ہی خوشیوں کا تم پر بھی حق ہے۔ اپنا حق چھوڑو نہ کسی کا حق غصب کرو، کاروبار کی طرح یہ کلیہ زندگی کے شب و روز پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ ”
“میں نے اپنی سی کر کے دیکھ لی امی۔ میں تو اپنی زندگی سے وہ مسرت کشید نہیں کر سکاجس کا خواب میں نے ہمیشہ دیکھا۔ جو کچھ ہوا آپ کے سامنے ہے۔ پھر بھی۔۔۔ ”
“تم نے آج تک جو بھی کیا، اس میں کہیں تمہاری جلد بازی کو دخل ہے اور کہیں دیر کو۔ ہم نے ایک ماں ہونے کا تمہیں بھرپور ایڈوانٹیج دیا ہے طاہر۔ ہم نے تمہارے اچھے یا برے، غلط یا صحیح، کسی بھی فیصلے کو خوشی سے یا مجبوراً بہر حال قبول کیا۔ تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم تمہاری خوشیوں میں کہیں بھی حائل ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود اگر تم نے ٹھوکر کھائی ہے تو تمہیں سنبھلنے کے لئے ہم نے وقت بھی دیا ہے اور یہ بات تو تم بھی تسلیم کرو گے کہ ہم نے تمہیں ہر بار جی بھر کے وقت دیا ہے۔۔۔ لیکن بیٹے۔ کب تک؟ کب تک تم اپنے مفروضے پر اڑے رہو گے اور ہم تمہاری ناکامیوں پر چھپ چھپ کر آنسو بہاتے رہیں گے؟” ان کی آواز ٹوٹ سی گئی۔
“امی۔ ” وہ بیتاب سا ہو گیا۔ ” میں نے اپنی طرف سے کبھی بدنیتی سے کام نہیں لیا۔ جسے بھی انتخاب کیا، پورے خلوص اور محبت سے کیا مگر میری قسمت ہی میں کسی کا پیار نہیں ہے۔ شاید مجھے تنہائی کا زہر۔۔۔ ”
“غلط کہہ رہے ہو تم طاہر۔ ” بیگم صاحبہ نے اس کی بات کاٹ دی۔ ” اپنی قسمت کو دوش مت دو۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تمہارا انتخاب نہیں ، انتخاب کا طریقہ غلط تھا۔ بحث کریں گے تو وقت بھی ضائع ہو گا اور زخموں کے منہ بھی کھل جائیں گے جبکہ اس وقت ہمارا مقصد یہ نہیں ہے۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ بہار کے وہ لمحے جو ناکامیوں کی ٹھوکر سے بکھر گئے ہیں ، انہیں خزاں آ جانے سے پہلے سمیٹ کر تمہارے دامن میں ڈال دیں۔ تمہاری تنہائی کو ایک ایسے ساتھی کی ضرورت ہے طاہر جو اپنی وفا شعاری اور رفاقت کی پلکوں سے تمہاری زندگی میں خود رو پودوں کی طرح اُگ آنے والے ساری تھکن، ساری محرومی کے کانٹے چن لے۔ ”
“امی۔۔۔ ” طاہر نے کچھ کہنے کے لئے لب کھولے مگر بیگم صاحبہ نے ہاتھ اٹھا کر اسے خاموش کرا دیا۔
” آج ایک ماں کی حیثیت سے نہیں ، ایک دوست بن کر ہم تمہیں سمجھانا چاہتے ہیں طاہر کہ تم جو چاہتے ہو شاید وہ تمہارے مقدر میں نہیں ہے یعنی کوئی ایسی ہستی جو تمہاری زوجیت میں آنے سے پہلے تمہیں ٹوٹ کر چاہے، ایسا ہونا ممکن ہے تمہارے ہاتھ کی لکیروں میں نہ لکھا ہو لیکن یہ تو ممکن ہو سکتاہے ناں کہ جو لڑکی بیوی بن کر تمہاری زندگی میں آئی، وہ تمہیں اتنی محبت دے دے کہ تمہاری ساری ناکامیاں ، ساری محرومیاں سیراب ہو جائیں۔ اور یہ اس لئے بھی ممکن ہے بیٹے کہ ہم مشرق کے لوگ ہیں۔ یہاں کی بیویاں جسے اپنے ماتھے کا جھومر بنا لیتی ہیں اسے خدا کے بعد وہ درجہ دیتی ہیں ، جسے صرف سجدے کا حق حاصل نہیں ہے، باقی تمام حقوق وہی ہیں جو خدا کے بعد صرف اور صرف ایک شوہر کو دیے گئے ہیں۔ پسند کی چیز ایک دکان سے نہ ملے تو دوسری دکان میں نہ جانا حماقت کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا طاہر۔ جو شے تمہیں درکار ہے وہ صرف اور صرف ایک بیوی کی محبت ہے اور اسے تم شادی سے پہلے ہی حاصل کرنے پر کیوں مصر ہو، یہ ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ ”
“مجھے خوف آتا ہے امی۔ “اچانک وہ میز سے اٹھ گیا اور کھڑ کی میں جا کھڑا ہوا۔
“خوف؟” بیگم صاحبہ نے حیرت سے کہا۔ “کیسا خوف اور کس سے؟”
“کیا ضروری ہے امی کہ جو لڑکی میری بیوی بن کر آئے وہ مجھ سے پہلے کسی اور سے انوالو نہ ہو؟”
“یہ بات تم پہلے بھی کہہ چکے ہو طاہر۔ آخر تم اس وہم میں کیوں مبتلا ہو؟”انہوں نے اپنا رخ اس کی جانب پھیر لیا۔
“میرا دوست جمال اسی حادثے کا شکار ہو کر موت کی آغوش میں جا سویا تھا امی جان۔ اس نے جس لڑکی سے شادی کی، وہ شادی سے پہلے کسی اور لڑکے کو چاہتی تھی۔ جمال سے شادی کے بعد بھی وہ اس لڑکے کو نہ بھول سکی اور اس سے چھپ چھپ کر ملتی رہی۔ جمال نے اس بات سے واقف ہونے کے بعد اسے طلاق دے دی مگر اپنی بیوی پروین کی جدائی اور بے وفائی برداشت نہ کر سکا۔ دو ماہ بعد اس نے خودکشی کر لی۔ ”
“کیا؟” بیگم صاحبہ کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔
“ہاں امی۔ ” طاہر کی آواز بھیگ گئی۔ “وہ میرا بچپن کا دوست تھا۔ اس کا خیال آج بھی مجھے رلا دیتا ہے۔ میں اسی خوف سے اس وہم کا شکار ہو گیا ہوں کہ کہیں ایسی ہی بیوی میرے نصیب میں بھی نہ لکھی ہو۔ اسی لئے میں چاہتا تھا امی کہ جس سے شادی کروں ، شادی سے پہلے اس سے میرا محبت کا ایسا تعلق استوار ہو چکا ہو جس میں کسی اور کے سائے کا بھی شائبہ نہ ہو۔ ”
“طاہر۔ ” بیگم صاحبہ اٹھ کر اس کے قریب چلی آئیں۔ ” بیٹے تم نے کیسا وہم پال لیا ہے دل میں۔ یہ تو ناسور بن کر تمہیں چاٹ جائے گا۔ ” انہوں نے اس کے ماتھے اور پھر بالوں میں پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ “میری جان۔ ہر لڑکی ایسی نہیں ہوتی۔ یہ تو پروین یا اس جیسی کسی بھی دوسری لڑکی کے ماں باپ کو چاہئے کہ وہ شادی سے پہلے بالکل اسی طرح بیٹی سے بھی اس کی پسند اور مرضی معلوم کریں جیسے بیٹے سے معلوم کرتے ہیں۔ میں سمجھتی ہوں اس میں قصور ایسی لڑکی کا کم اور اس کے سرپرستوں کا زیادہ ہوتا ہے جو بیٹی کو اس کی پسند بتانے کا وہ حق نہیں دیتے، جو اسے ہمارے مذہب نے دیا ہے۔ لڑکا ہو یا لڑکی، دونوں کو شادی میں اپنی پسند اور ناپسندیدگی کے اظہار کا یکساں حق حاصل ہے۔ اگر پروین کے والدین بیٹی کی مرضی سے اس کی شادی کر دیتے تو اسے طلاق ہوتی نہ جمال خودکشی کرتا۔ بہرحال تمہارے وہم کا علاج ہے میرے پاس۔ ”
“یہی ناں کہ مجھے شادی سے پہلے لڑکی سے ملاقات کا موقع دیا جائے گا اور میں اس سے ایک دو ملاقاتوں میں یہ بات صاف کرنے کی کوشش کر سکوں گا کہ وہ کسی اور سے تو۔۔۔ ”
“ہاں۔ ” بیگم صاحبہ نے اثبات میں سر ہلایا۔ ” اس کا یہی ایک حل ہے میرے پاس۔ ”
” نہیں امی۔ ” طاہر نے ان کے ہاتھ تھام کر گالوں سے لگا لئے۔ ” میں ایسانہیں چاہتا۔ ”
“تو پھر۔۔۔ ؟” وہ الجھ گئیں۔
“دو بار میں نے اپنی سی کر کے دیکھ لی۔ اب آپ کو اختیار ہے آپ جو چاہے کریں۔ مجھے آپ کا ہر فیصلہ منظور ہو گا۔ ”
“طاہر۔۔۔ ” وہ حیرت زدہ رہ گئیں۔
“ہاں امی۔ ” میں اب اندھا داؤ کھیلنا چاہتا ہوں۔ آپ جو لڑکی میرے لئے پسند کریں گی، میں اس سے شادی کر لوں گا۔ اسے شادی سے پہلے دیکھوں گا نہ اس سے ملوں گا۔ ”
“ایسا۔۔۔ ؟” بیگم صاحبہ کے چہرے پر پھلجھڑیاں سی چھوٹیں۔
“ہوں۔ ” طاہر نے آنکھیں موند کر ان کے ہاتھوں کو ہونٹوں سے لگا لیا۔
“پھر سوچ لو طاہر۔ ”
“سوچ لیا امی۔ ” وہ سرشاری سے بولا۔ “مجھے سمجھ آ رہا ہے کہ جب اپنے فیصلے ٹھیک نہ بیٹھ رہے ہوں تب کسی ایسی ہستی پر اعتماد کر لینا چاہئے جسے دل اپنا خیرخواہ مانتا ہو۔ اور ماں سے بڑھ کر کون ہو گا امی، جسے اولاد کی بھلائی عزیز ہو۔ ”
“جیتے رہو طاہر۔ ” بیگم صاحبہ کا دل گلاب کی طرح کھل گیا۔ آنکھیں چھلک نہ جائیں ، یہ چھپانے کے لئے انہوں نے طاہر کی جانب سے رخ پھیر لیا۔
“امی۔ ” طاہر پیچھے سے ان کے گلے میں باہیں ڈال کر لپٹ گیا۔
“بس کرو طاہر۔ اتنا لاڈ کرو گے تو ہم رو دیں گے۔ ” انہوں نے نچلا ہونٹ دانتوں میں داب لیا۔
“کبھی نہیں امی۔ ” طاہر نے ان کے شانے پر سر رکھ کر انہیں زور سے بھینچ لیا۔ ” میں آپ کو رونے دوں گا تب ناں۔ ”
بیگم صاحبہ نے اس کے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھ دیے اور ہولے ہولے یوں تھپکنے لگیں جیسے اس کی محرومیوں کو، اس کی ناکامیوں کو گہری نیند سلا دینا چاہتی ہوں۔
٭
بیگم صاحبہ نے بہت زور دیا مگر طاہر نے ایک ہی انکار پر کمر باندھے رکھی۔ لڑکی کی تصویر تک دیکھنے سے انکار کر دیا۔ اس کی بس ایک ہی رٹ تھی۔ “امی۔ آپ جو چاہیں ، جیسے چاہیں کریں۔ میں آپ کی بہو کو دیکھوں گا تو اسی وقت جب وہ دلہن بن کر اس گھر میں آ جائے گی۔ ”
بیگم صاحبہ کو اس کی اس بات پر محتاط ہو جانا پڑا۔ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ ان سے کوئی ایسا فیصلہ ہو جائے جو طاہر کے اس اعتماد کو لے ڈوبی۔
ڈاکٹر ہاشمی کے مشورے سے، بڑا پھونک پھونک کر سوچتے ہوئے انہوں نے ایک متوسط گھرانے کی ایسی لڑکی کا انتخاب کیا جو اپنے ماں باپ کے مرنے کے بعد اپنی بیوہ ممانی کے پاس رہ رہی تھی۔ ممانی نے اسے حتی الامکان سہولت سے پالا تھا۔ بی اے تک پڑھایا اور سلائی کڑھائی سے لے کر کچن تک، گھر کے تمام کاموں میں طاق کر دیا۔ ممانی کی اپنی دو بیٹیاں تھیں جن کی شادیاں ہو چکی تھیں اور وہ اپنے گھروں میں خوش تھیں۔ لڑکی کے ماں باپ اور پھر ماموں اتنا کچھ چھوڑ گئے تھے کہ تینوں بچیوں کی شادی کے بعد بیوہ ممانی آرام سے زندگی گزار سکتی تھی۔
طاہر کے رشتے نے با وقار، وسیلہ خاتون کو کتنے ہی دن گم صُم رکھا۔ اتنے بڑے گھرانے میں اپنی بیٹیوں یا اب صفیہ کی شادی کا تو انہوں نے خواب بھی نہ دیکھا تھا۔ وہ دمے کی مریضہ اور کئی سال سے ڈاکٹر ہاشمی کے زیرِ علاج تھیں۔ ڈاکٹر ہاشمی انہیں سالوں سے جانتے تھے۔ انہوں نے اس خاندان کے بارے میں بیگم صاحبہ کو پوری پوری ضمانت دی۔ صفیہ کو بھی وہ بہت اچھی طرح جانتے اور سمجھتے تھے۔ وہ درجنوں بار وسیلہ خاتون کے ساتھ ان کے کلینک آ چکی تھی بلکہ بی اے کے آخری سال میں تو وہ ڈاکٹر ہاشمی کے نوجوان بیٹے سرمد ہاشمی سے کئی ماہ تک پڑھائی میں مدد بھی لیتی رہی تھی۔ انہی دنوں وہ صفیہ کے بارے میں زیادہ جان پائے تھے۔ یتیم اور ہونہار صفیہ کے بارے میں کبھی کبھار سوچتے تو انہیں بہت اچھا لگتا۔ صفیہ اس لئے بھی انہیں اچھی لگتی تھی کہ ان کی کوئی بیٹی نہ تھی۔ گھر میں صرف وہ اور سرمد تھے۔ بیوی کے مرنے کے بعد انہوں نے دوسری شادی نہ کی تھی۔ بیٹے کو پالا اور ایم بی اے کے لئے لندن بھجوا دیا۔ اب وہ اپنے ہاسپٹل میں مگن رہتے تھے۔ سرمد کی واپسی میں ابھی کچھ عرصہ باقی تھا۔ ایک آدھ بار ان کے دل میں صفیہ اور سرمد کی شادی کا خیال بھی آیا مگر وہ سرمد کی تعلیم میں ایسی کسی بات سے روڑا نہ اٹکانا چاہتے تھے جو اس کا دھیان تعلیم سے ہٹا دی۔ اس لئے یہ بات اس کی واپسی پر اٹھا رکھی۔ پھر جب بیگم صاحبہ نے ان کے سامنے طاہر کی تازہ صورتحال بیان کر کے جلد از جلد کسی متوسط گھرانے کی لڑکی تلاش کرنے کو کہا تو سب سے پہلے ان کے تصور میں صفیہ کا چہرہ ابھرا۔ انہوں نے بیگم صاحبہ سے ذکر کیا۔ بیگم صاحبہ نے ان کے ہاسپٹل ہی میں آ کر ایک دن صفیہ کو بہانے سے دیکھ لیا۔ سرو قد صفیہ کی بھولی بھالی صورت، سرخ و سفید رنگ روپ اور شیریں کلامی نے ان کا دل پہلی نظر ہی میں مٹھی میں کر لیا۔ انہوں نے ڈاکٹر ہاشمی کو وسیلہ خاتون سے بات کرنے کا عندیہ دے دیا۔
تیسرے دن جب ڈاکٹر ہاشمی نے وسیلہ خاتون سے صفیہ کے لئے طاہر کے بارے میں بات کی تو ان کا منہ حیرت سے کھل گیا۔ انہوں نے سوچنے کے لئے چند دن کی مہلت مانگی، جو ڈاکٹر ہاشمی نے طاہر اور اس کی فیملی کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کرتے ہوئے انہیں دے دی۔ ساتھ ہی کہا کہ “جیسے وسیلہ خاتون کے گھرانے کی طرف سے ہر قسم کی ذمہ داری مجھ پر ہے اسی طرح بیگم صاحبہ کی طرف سے بھی ہر طرح سے میں ضامن ہوں۔ ”
یہ بہت بڑی بات تھی مگر وسیلہ خاتون زمانے کے نشیب و فراز سے ڈرتی تھیں۔ انہیں اپنی بیٹیوں سے زیادہ اپنی یتیم و یسیر بھانجی کا خیال تھا۔ اس لئے وہ کئی دن تک ڈاکٹر ہاشمی سے دوبارہ ملنے نہ آئیں۔ بال آخر ڈاکٹر ہاشمی نے انہیں فون کر کے بلایا اور کسی حتمی فیصلے پر پہنچنے کے لئے بیگم صاحبہ کے خاندان کے بارے میں چھان بین کی مکمل آزادی دی۔ ساتھ ہی کہا کہ روپے پیسے جائداد وغیرہ جیسی کوئی بھی اور کسی بھی انتہا کو چھوتی ہوئی ضمانت انہیں دی جا سکتی ہے۔
وسیلہ خاتون نے ڈاکٹر ہاشمی کی اس بات پر پھیکے سے انداز میں مسکراتے ہوئے کہا۔ “ڈاکٹر صاحب۔ اگر روپیہ پیسہ ہی بیٹیوں کے سُکھ کا ضامن ہوتا تو آج کسی کروڑ پتی کی کوئی بیٹی دُکھی نہ ہوتی، اجڑ کر میکے نہ آ بیٹھتی اور شوہر کے سلوک کی شاکی نہ ہوتی۔ بات تو ساری نصیبوں کی ہے اور نصیب میں کیا لکھا ہے، یہ کون جانے؟”
“میں آپ کی بات سے سو فیصد متفق ہوں وسیلہ خاتون۔ اور اگر آپ غور کریں تو آپ کی اس بات ہی میں آپ کے اندیشوں اور سوچوں کا حل موجود ہے۔ ”
“یعنی۔۔۔ ” ڈاکٹر ہاشمی کی جانب دیکھ کر انہوں نے استفسار کیا۔
“دیکھئے۔ جب آپ مانتی ہیں کہ ہو گا وہی جو نصیب میں لکھا ہے تو پھر خوف کیسا؟ ہم بے اختیار انسان تو صرف یہی کر سکتے ہیں کہ اپنے طور پر پورا اطمینان کر لیں کہ جو قدم ہم اٹھانے جا رہے ہیں وہ ہمیں کہیں کسی گڑھے میں تو نہیں لے جا رہا۔ اگر یہ اطمینان حاصل ہو جائے تو اس کے بعد ہم پر صرف یہ واجب ہے کہ ہم اپنے اللہ کی بارگاہ میں بیٹی کے سُکھ کی دعا کرتے ہوئے سرِتسلیم خم کر دیں۔ میں جانتا ہوں کہ بیٹی کا دُکھ کیا ہوتا ہے ؟ اس لئے کہ ساری زندگی بیٹی کے لئے ترسا ہوں۔ میرے خالق کی مرضی نہ تھی کہ مجھے بھی بیٹی کا باپ ہونے کا اعزاز ملتا وگرنہ میں ، سرمد کی ماں کے مرنے تک اس خواہش میں برابر کا شریک تھا کہ ہمارے ہاں بھی ایک بیٹی جنم لیتی۔ ہمارے گھر میں بھی اللہ کی رحمت اترتی۔ یہ ساری باتیں کرنے کا سبب یہ ہے وسیلہ خاتون کہ ایک طرف تو میں بیگم صاحبہ کی طرف سے ہر بات کا ضامن ہوں ، دوسری طرف میں نے آپ کو مکمل آزادی دی ہے کہ آپ ان کے بارے میں جیسے چاہیں چھان بین کر سکتی ہیں۔ تیسری بات یہ کہ آپ کی تسلی کے لئے بیگم صاحبہ ایسی ہر ضمانت۔۔۔ ”
“یہ بات رہنے دیں ڈاکٹر صاحب۔ ” وسیلہ خاتون نے ان کی بات کاٹ دی۔ “میری کسی بات کا یہ مطلب ہے ہی نہیں۔ ”
“تو پھر کھل کر کہئے، بات کیا ہے جو آپ گومگو کا شکار ہیں ؟”
“بات صرف سٹیٹس کی ہے ڈاکٹر صاحب۔ ” وسیلہ خاتون نے آخر کہہ ہی دیا۔ “ہم اس پائے کے لوگ نہیں ہیں جس سطح سے طاہر کا رشتہ آیا ہے۔ یہی بات میرے “ہاں “کہنے میں مانع ہے۔ ”
“بس۔۔۔ ” ڈاکٹر صاحب نے بغور وسیلہ خاتون کی جانب دیکھا۔ “اس کے علاوہ تو کوئی بات نہیں ہے؟”
“جی نہیں۔ میں چھان بین کرنے سے بھی انکاری ہوں کہ آپ جیسا زمانہ شناس اور ذمہ دار شخص درمیان میں موجود ہے۔ میری ہچکچاہٹ کا اور کوئی سبب نہیں ہے۔ ”
“تو پھر سینے میں رکے ہوئے خوف سے بوجھل سانس کو آزاد کر دیجئے وسیلہ بہن۔ اگر صفیہ کو کبھی کانٹا بھی چبھ گیا تو دوسرے جہان میں میرا گریبان ہو گا اور آپ کا ہاتھ۔۔۔ ”
“بس ڈاکٹر صاحب۔ ” وسیلہ خاتون نے ہاتھ اٹھا کر انہیں مزید کچھ کہنے سے روک دیا۔ ” آپ کی اس معاملے میں موجود گی ہی میرے لئے بہت بڑی ضمانت ہے۔ اب آپ نے بہن کہہ دیا تو میں دوسرے جہان کے بوجھ سے ابھی آپ کو بری الذمہ کرتی ہوں۔ اس لئے کہ بیٹیوں کے نصیب اچھے ہوں ، ہم صرف یہ دعا کر سکتے ہیں اس کے لئے کوئی اشٹام لکھا جا سکتا ہے نہ کوئی بوجھ ذمے لیا جا سکتا ہے۔ ”
“تو میں آپ کی طرف سے۔۔۔ ”
“جی ہاں۔ آپ بیگم صاحبہ کو میری طرف سے ہاں کہہ دیجئے۔ ” وسیلہ خاتون کی آواز بھیگ سی گئی۔ “ساتھ ہی ان سے صرف یہ عرض کر دیجئے گا کہ صفیہ میری بھانجی نہیں ، بیٹی ہے۔ ”
“میں انہیں پہلے ہی بتا چکا ہوں وسیلہ بہن کہ صفیہ آپ کے لئے اپنی بیٹیوں سے بڑھ کر ہے۔ “ڈاکٹر ہاشمی نے جلدی سے کہا۔ “تاہم ایک بات آپ سے میں بھی کہنا چاہوں گا۔ ”
“جی جی۔ ” وسیلہ خاتون نے آنکھوں کے گوشے خشک کئے۔
“کیا آپ نے صفیہ سے پوچھ لیا؟”
“لوگ عام طور پر ایسی باتوں سے گریز کرتے اور ایسا کرنا اپنی غیرت اور شان کے خلاف سمجھتے ہیں ڈاکٹر صاحب، لیکن میں نے صفیہ سے برابر پوچھ لیا ہے۔ جواب میں خاموشی اس کی رضامندی کا ثبوت ہے۔ ”
“تو میری طرف سے مبار ک قبول کیجئے۔ ” ڈاکٹر ہاشمی نے خوش ہو کر کہا۔ “میں آج دوپہر یہاں سے سیدھا بیگم صاحبہ کے ہاں جاؤں گا اور انہیں بھی یہ خوشخبری سنا دوں گا۔ بتانے کو تو یہ بات انہیں فون پر بھی بتائی جا سکتی ہے مگر میرا جی چاہتا ہے کہ میں یہ خبر انہیں خود جا کر سناؤں۔ ”
“اب جیسے آپ کی مرضی ڈاکٹر صاحب۔ مجھے اجازت دیجئے۔ ” وسیلہ خاتون اٹھ کھڑی ہوئیں۔
“ضرور ضرور۔ ” ڈاکٹر ہاشمی بھی سیٹ سے اٹھ گئے۔ “میں آج کل ہی میں اگلا پروگرام آپ کے گوش گزار کر دوں گا۔ ”
“جی۔ اللہ حافظ۔ ” وسیلہ خاتون رخصت ہو گئیں اور ڈاکٹر ہاشمی ایسے بیتاب ہوئے کہ وقت سے پہلے ہی ہاسپٹل سے نکل پڑے۔
بیگم صاحبہ نے جب ان کی زبان سے صفیہ کے بارے میں نوید سنی تو بے اختیار ان کی زبان سے “الحمد للہ” نکلا۔ ڈاکٹر ہاشمی نے انہیں وسیلہ خاتون کے تمام اندیشوں کے بارے میں کھل کر بتایا تو انہوں نے ایک عجیب فیصلہ سنا دیا۔
“ڈاکٹر صاحب۔ صفیہ کی ممانی کے اندیشے زمانے کی چال دیکھتے ہوئے بے بنیاد نہیں ہیں۔ اس لئے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اپنی میکے کی پشتینی جائداد طاہر کی دلہن کے نام کر دیں گے۔ اس گھر میں آنے پر ہماری طرف سے یہ جائداد اسے منہ دکھائی میں دی جائے گی۔ ”
“بیگم صاحبہ۔ ” ڈاکٹر ہاشمی کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ ” آپ جانتی ہیں کہ آپ نے کیا فیصلہ کیا ہے؟”
“جی ہاں ڈاکٹر صاحب۔ ” وہ بڑے اطمینان بھرے انداز سے مسکرائیں۔ “ہم خوب جانتے ہیں۔ اور یہ بہت ضروری ہے۔ ایک تو اس لئے کہ صفیہ اور اس کے میکے والوں کو زندگی بھر کا اطمینان دلانا ہے اور دوسرے اس لئے بھی کہ ہماری بہو جب اس گھر میں داخل ہو تو کروڑوں کی مالک بن چکی ہو۔ ”
اور ڈاکٹر ہاشمی کی زبان تھم گئی۔ انہوں نے مزید کچھ کہنے کا ارادہ ترک کر دیا۔ بیگم صاحبہ جو فیصلہ کر چکی تھیں اس کے پیچھے خاندانی جاہ و حشم اور وقار بول رہا تھا، جس پر وہ کوئی سمجھوتہ کرنے کو کبھی تیار نہ ہوتیں۔
اگلے دن سے شادی کی تیاریاں ایک بار پھر پورے زور شور سے شروع ہو گئیں۔ زاہدہ کے آنے پر جس کام کی ابتدا ہوئی تھی، اب اسے انجام تک پہنچانے میں بیگم صاحبہ کسی قسم کی دیر نہ چاہتی تھیں۔ اس لئے محض دو ہفتوں کے وقفے سے نکاح کی تاریخ رکھ دی گئی۔ وسیلہ خاتون کو بھی کوئی اعتراض نہ تھا کہ وہ مدت سے صفیہ کی شادی کا سامان کئے بیٹھی تھیں۔
طاہر نے پروفیسر قمر اور امبر کو بلا کر بیگم صاحبہ کے سپرد کر دیا۔ اب وہ تینوں تھے اور شادی کے ہنگامے۔ طاہر خاموشی سے ایک طرف ہو گیا۔ اسے اگر شادی کی بہت زیادہ خوشی نہ تھی تو کوئی دُکھ بھی نہ تھا۔ اس نے خود کو حالات کے سپرد کر دیا۔ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ اب مقدر اس کے ساتھ کیا کھیل کھیلتا ہے؟ اس سے قبل، وہ شادی سے پہلے کسی کی محبت پانے کے جنون میں مبتلا تھا۔ اب وہ شادی کے بعد محبت مل جانے کی امید سے دل بہلا رہا تھا۔
مگر اس کے ساتھ کیا ہونے والا تھا؟ اس سے وہ بالکل ایسے ہی بے خبر تھا جیسے ہر انسان اپنے ساتھ پیش آنے والے کسی بھی سانحے یا اچانک نکل آنے والے انعام سے لا علم ہوتا ہے۔
* * *

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: